Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر عدنان نیازی

  • گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    گھر میں چوری سے کیسے بچا جائے!!! —- ڈاکٹر عدنان نیازی

    دو سال قبل گھر میں چوری ہوئی تھی۔ اللہ کا کرم ہوا کہ جلد ہی چور بھی پکڑ لیے اور سامان بھی برآمد کر لیا۔ اس دوران چوروں سےپوچھ گچھ کے دوران، پولیس والوں سے اور دوسرے لوگوں سے بہت کچھ سیکھا۔ جن کی بنیاد پر کچھ پوسٹس تیار کی ہیں کہ چوری سے کیسے بچا جا سکتا ہے، اگر خدانخواستہ گھر میں چوری ہو جائے تو کیا کرنا چاہیے۔

    1) کہیں جائیں تو باہر والے دروازے کو باہر سے تالا ہرگز نہ لگائیں۔ سب سے زیادہ اسی بات سے چوروں کو معلوم ہوتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔ اگر گھر کے ایک سے زیادہ دروازے ہیں تو کسی ایک دروازے کو باہر سے ہمیشہ تالا لگا کر رکھیں تاکہ کہیں جانا پڑے تو وہی تالاباہر سے لگا کر چلے جائیں۔ اس طرح معلوم نہیں ہو پائے گا کہ آپ گھر پر نہیں ہیں کیونکہ وہ تالا تو ہمیشہ ہی باہر سے لگا رہتا ہو گا چاہے آپ گھر پر ہوں یا نہ ہوں۔

    2) آج کل ایسی لائیٹس مل جاتی ہیں جو کہ اندھیرا ہونے پر خود جل پڑتی ہیں۔ تھوڑی بجلی کھانے والی ایسی دو تین لائٹس گھر میں ضرور لگائیں۔ لیکن اگر یہ نہ ہوں تو پھر کوئی لائٹ آن چھوڑ کر نہ جائیں کہ جو لائٹ دن رات چلتی رہے اس سے بھی پتہ چلتا ہے کہ گھر میں کوئی نہیں ہے۔

    3) اگر زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تو کسی نہ کسی جاننے والے کو باہر والے دروازے کی چابی دے کر جائیں کہ وہ روزانہ ایک بار گھر میں ضرور چکر لگا لیا کرے۔

    4) چائنہ والا کوئی بھی تالا نہ لگائیں۔ ان کو کھولنا بہت ہی آسان ہوتا ہے۔ اس کی بجائے دیسی تالے لگائیں جن کی چابی بڑی مشکل سے بنتی ہے۔

    5) بیرونی دروازے لکڑی کے ہرگز نہ لگوائیں۔ بیرونی دروازے لوہے کے ہونے چاہیے، ایک تو انھیں توڑنا مشکل ہوتا ہے دوسرا توڑنے کی کوشش کی جائے تو آواز بہت آتی ہے جس کی وجہ سے کوئی چور انھیں ہاتھ نہیں ڈالتا۔

    6) اگر تین چار گھنٹے سے زیادہ وقت کے لیے گھر سے باہر جا رہے ہوں تو جتنے بھی دروازے ہوں سب کو تالے لگا کر جائیں۔ ان کمروں کو بھی جن میں کچھ بھی خاص نہ پڑا ہو۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ خدانخواستہ کوئی چور آ بھی جائے تو زیادہ وقت اس کا تالے توڑنے میں ہی گزر جائے۔ چور کے پاس وقت بہت کم ہوتا ہے اور اس کی کوشش ہوتی ہے کہ جلد سے جلد چیزیں سمیٹ کر چلتا بنے۔ پھر جس کمرے کو جتنا بڑا تالا ہو چور سمجھتا ہے کہ اس میں ضرور کوئی قیمتی چیز ہو گی۔

    7) سونے چاندی اور کیش کو کم سے کم مقدار میں گھر پر رکھیں۔ اگر کبھی مجبوری کی وجہ سے گھر پر ہو تو جاتے ہوئے ساتھ لے جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو تو کسی جاننے والے کے پاس رکھوا جائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہو یا کم وقت کے لیے کہیں جا رہے ہوں تو پھر کسی ایسی جگہ رکھ کر جائیں جہاں چوروں کا خیال بھی نہ جائے جیسے واشنگ مشین میں، دھونے والے کپڑوں میں، کسی برتن میں وغیرہ وغیرہ

    8) گھر میں کام کرنے والی عورتوں یا مردوں، دودھ والے یا کسی بھی دوسرے شخص کو یہ نہ بتائیں کہ واپسی کب ہے۔ بلکہ یوں کہیں کہ کل نہیں آنا، جب آپ کو بلانا ہوا کال کر دیں گے۔ ایک دن کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں، زیادہ دنوں کے لیے جانا ہو تب بھی یہی کہیں۔

    9) گھر میں سیکیورٹی کیمرے ضرور لگوائیں۔ خاص طور پر ایسے کہ جن کی ویڈیو موبائل پر دیکھی جا سکے اور جن میں Motion Detection کا فیچر لازمی ہے۔ آج کل یہ بیس تیس ہزار میں لگوائے جا سکتے ہیں۔ اگر کیمرے لگوانا ممکن نہ ہو تو پھر بازار سے ڈمی کیمرے ملتے ہیں وہ لگوا لیں دو چار سو روپے میں۔ کیمرے کے ڈر کی وجہ سے ہی بہت سے چور گھر میں نہیں گھستے۔

    10) اگر گھر میں کام کرنے والی رکھنا ناگزیر ہوتو پھر اس کا لازمی طور پر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر فری میں اندراج کروائیں،اس کے شناختی کارڈ کی کاپی لازمی رکھیں، اس کا گھر بھی دیکھ لیں اور یہ بھی معلوم کر لیں کہ گھر اپنا ہے یا کرائے کا۔ ان کو ترجیح دیں جن کا گھر اپنا ہو۔

    اگر خدانخواستہ چوری ہو جائے تو پھر کیا کرنا چاہیے کہ چور پکڑے جائیں۔

    1) آپ کہیں باہر سے آئیں اور معلوم ہو کہ خدانخواستہ گھر میں چوری ہو گئی ہے تو سب سے پہلے 15 پر کال کریں اور ساتھ یہ بھی کہیں کہ فرینزک والی ٹیم کو لازمی بھیجیے گا جو فنگر پرنٹس لے سکے۔ یاد رکھیں کہ مقامی تھانے میں ہرگز کال نہ کریں نہ ہی وہاں جائیں۔ وہاں جانے کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہونا۔ 15 پر کی گئی کال ریکارڈ ہوتی ہے اور اس پر لازمی ایکشن لیا جاتا ہے۔ 15 پر کی گئی کال کی وجہ سے پولیس فوراً آپ کے گھر آئے گی۔

    2) جس گھر میں چوری ہوئی ہو یا گھر کے جس حصے میں چوری ہوئی ہو اس میں کسی کو بھی نہ جانے دیں، خود بھی نہ جائیں جب تک کہ فرینزک والے فنگر پرنٹس نہ لے لیں۔

    3) فنگر پرنٹس لیتے وقت پولیس کے ساتھ رہیں اور اگر کوئی چیز ایسی نظر آئے جس پر کوئی نشانات ہوں تو اس کی نشاندہی ضرور کریں۔ فنگر پرنٹس شیشے اور صاف پلاسٹک والی چیزوں پر بہت اچھے آتے ہیں۔ اگر کسی چیز پر پینٹ ہوا ہو تو اس پر بھی۔ بعد میں پولیس سے پوچھتے بھی رہیں کہ کیا فنگر پرنٹس نادرا بھجوا دیے ہیں یا نہیں۔ اور اگر بھجوا دیے ہوں تو ان کا کیا بنا۔ اگر میچ نہ ہوں تو جن پر شک ہو ان کے فنگر پرنٹس لے کر بھجوائیں۔ آج کل فنگر پرنٹس سے بہت سے چور پکڑے جا رہے ہیں۔

    4) ایک دفعہ پولیس اپنی کاروائی پوری کر لے تو پھر تھانے میں فرنٹ ڈیسک پر اپنی شکایت درج کروائیں اور اس کا حوالہ نمبر حاصل کریں۔ یاد رکھیں کہ یہ ایف آئی آر نہیں ہے۔

    5) اگلے دن آفس کی ٹائمنگ میں جا کر ایف آئی آر درج کروانے کی کوشش کریں۔ یہ اتنی آسانی سے نہیں ہوگی مگر جتنے بھی ممکن تعلقات ہوں سب کو بروئے کار لا کر ہر حال میں ایف آئی آر درج کروائیں۔ تعلقات سے بھی نہ درج ہو تو 8787 پر کال کر کے بتائیں کہ یہ مسئلہ ہے اور ایف آئی آر درج نہیں کر رہے۔

    6) ایف آئی آر میں کم سے کم دو گواہوں کے نام ضرور لکھوائیں اور اگر کوئی موبائل وغیرہ بھی چوری ہوئے ہوں تو ان کے IMEI نمبر ضرور لکھوائیں۔ اور ان کو لازمی طور پر ٹریکنگ پر لگوائیں اور ان کا پتہ بھی کرتے رہیں سی ڈی یو برانچ سے۔

    7) ایک دفعہ ایف آئی آر درج ہو جائے تو پھر خود سے بھی کوشش کرتے رہیں اور پولیس پر بھی مختلف طریقے سے دباؤ ڈلواتے رہیں کہ وہ چوروں کو گرفتا ر کرے۔ پولیس کو معلوم ہوتا ہے کہ چوری کس نے کی ہے۔ آپ کوئی تگڑی سفارش لے آئیں تو فوراً گرفتار کر لیتی ہے۔

    8) یاد رکھیں کہ چوری والے معاملے میں کبھی بھی کسی بھی حال میں پولیس والوں کو پیسے نہ دیں ورنہ اتنے کی چوری نہیں ہو گی جتنے آپ پیسے لگا بیٹھیں گے اور ہاتھ بھی کچھ نہیں آنا۔ کچھ دن بعد آپ نے تنگ آ کر خود ہی جانا چھوڑ دینا ہے۔ اگر پیسے نہیں دیں گے تو آپ کئی بار چکر لگا سکتے ہیں پولیس سٹیشن کے۔

    9) اگر آپ خوش قسمت ہوں اور چور پکڑے جائیں تو پھر لازمی طور پر لسٹ بناتے جائیں کہ کس چور سے کیا برآمد ہوا ہے اور پولیس کو کہیں کہ جس سے جو بھی برآمد ہوا ہے وہ اس پر ڈالیں۔ پولیس اکثر چوروں پر نہیں ڈالتی جس سے وہ سزا سے بچ جاتے ہیں۔

    10) یاد رکھیں کہ مجرموں سے سامان پولیس نے ہی برآمد کروا کر دینا ہے عدالت نے نہیں۔ اس لیے پولیس کو کہیں کہ ریمانڈ لے اور چالان نہ کرے مجرموں کا۔ ایک دفعہ جیل چلے گئے تو آپ کو کچھ نہیں ملنا۔

    11) اگر مجرموں کی طرف سے کوئی آپ سے مذاکرات کرنا چاہے تو اس سے بات چیت لازمی کریں تاکہ آپ کو آپ کا سامان مل سکے۔ اور اگر کوئی مجرم پکڑا جائے تو اسے ہرگز تھانے سے باہر نہ آنے دیں جب تک کہ آپ کو سامان نہ مل جائے۔

    12) اس کے بعد کوئی وکیل کر کے مجرموں کو سزا دلوانے کی بھی پوری کوشش کریں۔

  • دسمبری شاعری — ڈاکٹر عدنان نیازی

    دسمبری شاعری — ڈاکٹر عدنان نیازی

    میرا ایک دسمبری شاعر دوست ہے جو باقی گیارہ مہینے انسان رہتا ہے لیکن دسمبر کے مہینے میں شاعر بن جاتا ہے۔ دسمبر کے مہینے میں خود پر سوگ کی کیفیت طاری کر لیتا ہے اور دسمبری دکھی شاعری سنا سنا کر سارے دوستوں کا جینا حرام کر دیتا ہے۔

    کل جمعہ کے بعد نازل ہو گیا۔ آتے ہی تین چار غزلیں میرے متھے ماریں جن میں ان فقروں کی تکرار تھی کہ

    اسے کہنا دسمبر آگیا ہے.

    اسے کہنا دسمبر کی سرد شامیں اسے بلاتی ہیں.

    وغیرہ وغیرہ

    پہلے تو میں نے سوچا کہ صاف کہہ دوں کہ مجھے اسکا وٹس ایپ نمبر دو میں کہہ دیتا ہوں لیکن پھر خاموش رہا کہ شاعر نازک دل والے ہوتے ہیں کہیں پھڑک ہی نہ جائے۔

    لیکن مزید شاعری سننے کی ہمت نہیں تھی اس لیے کہا کہ صرف شاعری ہی کرتے ہو یا اس کے واپس آنے کی تمنا بھی ہے؟
    کہتا بالکل یہ تو دلی خواہش ہے۔

    میں نے کہا کہ صرف تمنا ہے یا امید اور یقین بھی ہے؟

    کہتا تمنا بھی ہے اور امید اور یقین بھی ہے۔

    میں کہا کہ اس کے آنے کی کیا تیاری کی؟

    کہتا تیاری؟ کیسی تیاری؟

    میں نے کہا کہ بھائی وہ واقعہ تو سنا ہی ہوگا کہ قحط کی ماری کسی بستی کے لوگ کھلے میدان میں بارش کے لیے نمازِ استسقاء ادا کرنے گئے تو صرف ایک بچہ تھا جو چھتری بھی ساتھ لے کر گیا کیوں کہ اسے یقین تھا کہ اللہ دعا سنے گا اور بارش آئے گی۔ اور پھر اس کی ہی دعا قبول ہوئی اور بارش بھی ہوئی۔

    کہتا ہاں ہاں سنا ہے۔

    میں کہا کہ پھر اس کے لوٹ آنے کی امید صدقِ دل سے رکھو اور تیاری کرو۔

    کہتا کہ تیاری کیسے کروں۔

    میں نے کہا کہ بھائی گھر کو سجاؤ، خود کو تیار کرو۔

    کہتا ہاں یار۔ پھر شہد بھی دے دو۔ کل میں نے خاص چھوٹی مکھی کے جنگلی بیری والے شہد والی پوسٹ آپ کی وال پر دیکھی تھی، جس کا ذائقہ بھی کمال اور جس کی خوشبو بھی کمال ہے مگر دل اداس تھا تو ایسے ہی گزر گیا۔ اب وہی خاص شہد مجھے بھی دے دو۔
    میں نے اسے دیا اور ساتھ کہا کہ صرف اپنے لیے لو گے؟ اس کے آنے پر اسے شہد گفٹ نہیں کرو گے؟

    کہتا ہاں یار یہ بھی خوب یاد دلایا۔یہ شہد تو خوب ہے جیسے کل آپ نے پوسٹ میں کہا تھا لیکن اس کی پیکنگ کالے رنگ میں ہے۔ مجھے تو کالا رنگ بہت پسند ہے اور یہ شہد بھی لیکن اسے سبز رنگ پسند ہے تو اس کے لیے سبز رنگ کی پیکنگ والا (ایکسپورٹ کوالٹی بیری والا) دے دیں۔ ویسے بھی وہ تھوڑا مہنگا ہے اور اسے مہنگی چیزیں پسند ہیں۔

    دونوں کا ایک ایک کلو دیا۔ یہ ملاقات اسے پانچ ہزار چار سو پچاس میں پڑی ہے۔

    اب امید ہے کہ دسمبر اس کا سکون میں گزر جائے گا اور میرا بھی کیونکہ اتنی جلدی وہ پھر میرے پاس نہیں آنے والا۔

    ہور کوئی ساڈے لائق؟