Baaghi TV

Tag: ڈاکٹر عزیر سرویا

  • آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی؟؟؟ — ڈاکٹر عزیر سرویا

    علیزے فرام لَمز کہتی ہے کہ آرٹ کو بَین کرنا انتہائی بری بات ہے اور آزادی اظہار کی نفی ہے۔ اس کا مزید کہنا ہے کہ اس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آ رہی کہ آرٹ کے مخالف دقیانوسی مولوی لوگوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ ان کے عقائد یا اقدار ایک آرٹ فلم سے خطرے میں پڑتے ہیں۔ علیزے فرام لَمز یہ بھی کہتی ہے کہ جس نے آرٹ کا جو نمونہ دیکھنا ہو وہ اس کی مرضی ہونی چاہیے، کسی فرد یا ریاست کو پابندی لگانے کا کوئی حق نہیں۔

    اب مسئلہ یہ ہے کہ لَمز والی علیزے کی یہ روشن خیالی سے بھرپور باتیں جناب بارُود خان نے سوشل میڈیا پر سُن لی ہیں۔ اتفاق سے وہ ایک ریاست مخالف اور عسکریت پسند گروہ کے میڈیا مینیجر بھی ہیں۔ ان کی پراپیگنڈا ویڈیوز گروہ کے لیے نئے رنگرُوٹ لانے کے لیے مشہور ہیں۔ لیکن حکومت سے وہ نالاں ہیں کہ سوشل میڈیا پر اُن کی خواہ مخواہ سرکوبی کرتی رہتی ہے۔ اب انہوں نے علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائر ہو کے اپنی بارودی ویڈیوز کو دوبارہ ریلیز کرنے کا سوچا ہے اور اس بار وہ اسے “آرٹ” کہہ کر مارکیٹ میں لائیں گے تاکہ علیزے اور اس کے تمام فرینڈز ممکنہ پابندیاں لگنے پر میدان میں بارود خان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔ آخر پراپیگنڈا “آرٹ” سے کسی کے عقائد یا اقدار خطرے میں کیسے پڑ سکتے ہیں؟ ریاست کو کیا لگے، جس نے بھی “آرٹ” کا جو نمونہ دیکھنا ہے وہ دیکھے!

    بارود خان کے ساتھ قصور کے رہائشی مونی بَٹ نے بھی علیزے فرام لَمز کی باتوں سے انسپائریشن پکڑ لی ہے۔ وہ بچوں کے پورن کے دھندے میں ہے اور حکومت کی سینسر شپ سے پریشان ہے۔ اب اس نے سوچا ہے کہ اپنی فوٹیج کو اینیمیٹ کروا کے اسے “آرٹ” کہہ کے مارکیٹ میں پھینکنے کی تیاری کرے۔

    جس طرح فیمنسٹ بہنوں نے ٹرانس حقوق کی وکالت کرتے کرتے معاملات یہاں تک پہنچا دیے ہیں کہ اب ناکام مرد اتھلیٹ آپریشن سے عورت بن کے عورتوں کو ہی گیمز میں ہرانے کی بنیاد ڈال چکے ہیں، اسی برح بارود خان اور مونی بٹ بھی علیزے فرام لَمز اور اس کے لبرل دوستوں کو انہی کی گیم میں گُھس کر بِیٹ کرنے والے ہیں۔

    پس تحریر: دنیا کا ہر ذی شعور انسان جانتا ہے کہ تحریر و تصویر سے لے کر آڈیو ویڈیو تک کوئی بھی میڈیئم ہو، وہ سماج پر اثر انداز ہونے کی کتنی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہر زندہ سماج میڈیا پر اپنے اقدار کے حساب سے پابندیاں عائد کرتا ہے۔ جیسے دہشت گردی یا چائلڈ پورن معاشرے کا ناسور ہیں ویسے ہی یہ ل-ج-ب-ٹ بھی سماج کے لیے تباہی ہے۔ اور اس کی تشہیر و حوصلہ افزائی کرتے مواد پر پابندی لگانا اسلامی نہیں بلکہ بنیادی منطق کا تقاضا ہے کیونکہ اسلام سے بڑھ کر یہ انسانیت کی بقاء کے لیے بھی خطرناک ہے۔ اس کے حامی بس یہ فرض کر لیں کہ اگر ان کی والدہ یا والد اس عادت کا شکار ہوتے تو وہ اس آزادی کا پرچار کرتے آج دنیا میں موجود ہی نہ ہوتے۔

  • جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں!!! — ڈاکٹر عزیر سرویا

    اٹھائیس سالہ ایم فِل سوشیالوجی کی طالبہ نازیہ نے نہاتے ہوئے محسوس کیا کہ چھاتی میں ایک اُبھار سا بنا ہوا ہے۔ ہاتھ لگانے پر کچھ گُھٹلی جیسا احساس ہوتا تھا۔ لیکن کوئی خاص درد تکلیف وغیرہ نہ تھی۔ اس نے سوچا والدہ سے ڈسکس کر لے گی۔ چند ہفتے یونہی بےدھیانی میں یاد نہ رہا۔ ایک دن دوبارہ نہاتے ہوئے اس طرف دھیان گیا تو ماں سے اس بارے مشورہ کر ہی لیا۔ ماں نے کہا کوئی درد یا تکلیف ہے تو دکھا لیتے ہیں ڈاکٹر کو، ساتھ مشورہ دیا کہ زیادہ مسئلہ نہیں لگ رہا تو پیاز باندھ لو اور ساتھ وظیفہ پڑھ لو یہ آپ ہی “گُھل” جائے گی۔ چند ہفتے وظیفہ پڑھا، اور پیاز بھی باندھا اور ساتھ ساتھ زیتون کے تیل سے ہلکے ہاتھ مالش بھی کی۔ گویا نازیہ نے نفسیاتی طور پر اپنے آپ کو یقین دلا دیا کہ ٹوٹکوں سے ابھار کا سائز کچھ کم ہو گیا ہے۔ وہ مطمئن ہو گئی۔ ابھار اپنی جگہ موجود رہا۔ خاموش۔ کسی تکلیف یا درد کے بغیر۔ جیسے طوفان سے پہلے سمندر ہوتا ہے۔

    چھے مہینے ایسے ہی گزر گئے۔ نازیہ کو بھول گیا کہ ایک چھاتی میں ابھار ہے۔ اب کے نازیہ کو عجیب سا درد دائیں بازو میں اٹھا، جیسے اس کی ہڈی میں کوئی سوراخ سا کرنے کی کوشش کر رہا ہو۔ درد کی دوا لی چند دن، اور درد کو آرام آ گیا۔ لیکن دوا چھوڑتے ہی درد نے پھر زور پکڑا۔ آخرکار قریبی ڈاکٹر سے مشورہ ہوا۔ اس نے کہا جوان لڑکی ہے اسے کیا ہونا ہے۔ کیلشیئم اور وٹامن ڈی تجویز کیا، ساتھ ایک تگڑا سا پین کِلر انجیکشن ٹھوکا اور گولیاں دے کر چلتا کیا۔ پھر سے عارضی آرام آ گیا۔ لیکن دوا کا کورس ختم ہوتے ہی پھر وہی تنگی شروع!

    اب نازیہ کو پریشانی ہوئی کہ یہ موئی درد جان کیوں نہیں چھوڑ رہی۔ اس نے اپنی ڈاکٹر دوست کو کہہ کر سرکاری ہسپتال سے ایکسرے کروایا۔ ایکسرے کروا کے ہڈی والے ڈاکٹر کے پاس لے گئی۔ اس نے ایکسرے دیکھ کر کہا کہ اس میں کچھ گڑبڑ لگ رہی ہے، آپ اس کو ذرا کینسر آوٹ ڈور میں دکھا کر آئیں۔ اور یوں میری نازیہ سے پہلی ملاقات کا بندوبست ہوا۔۔۔۔

    نازیہ نے مجھے سلام کر کے ایکسرے پکڑاتے ہوئے کہا کہ اسے بازو کی ہڈی میں درد کی شکایت ہے۔ میں نے ایکسرے دیکھتے ہی ہڈی کا پوچھنے کی بجائے اس سے پوچھا “آپ کو جسم میں کہیں کوئی گِلٹی محسوس ہوتی ہے”، جس کے جواب میں اس نے کہا کہ ہاں بس چھاتی میں ابھار سا تھا لیکن وہ وظیفے اور مالش سے بہتر ہو گیا، لیکن “تھوڑا سا” ابھی بھی ہے۔ وہ “تھوڑا سا” ابھار چیک کرتے ہی الارم بجنے لگے۔ میں نے نازیہ کو بائیاپسی، ہڈیوں کا اسکین اور سی ٹی اسکین لکھ کر دیے۔ رپورٹ میں چوتھی اسٹیج کا انتہائی اگریسیو بریسٹ کینسر تھا، جس کی جڑیں ہڈیوں میں ہی نہیں بلکہ جگر، پھیپھڑوں اور ایڈرینل گلینڈ میں بھی پہنچ چکی تھیں۔۔۔۔

    نازیہ کے علاج کا دورانیہ لگ بھگ اٹھارہ ماہ کا تھا۔ زندگی کے آخری چار ماہ اس نے بہت تکلیف میں گزارے۔ بستر پر معذوری کے عالم میں وہ کبھی کبھار اپنے دل کی باتیں کیاکرتی تھی۔ وہ شادی کرنا چاہتی تھی۔ ڈگری مکمل کرنا چاہتی تھی۔ ماں بننا چاہتی تھی۔ کچھ اور جینا چاہتی تھی۔ لیکن مقدر کا فیصلہ کچھ اور ہی تھا۔۔۔

    شاید ہمارے ارد گرد بہت سی نازیہ موجود ہوں۔ کیونکہ ہر نو میں سے ایک خاتون اپنی زندگی میں اس کا شکار ہوتی ہے۔ خواتین کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ چھاتی میں تبدیلیاں ہوں تو ڈاکٹر سے مشورے میں تاخیر نہ کریں۔ پہلی اسٹیجز میں اگر ہم اس بیماری کو پکڑ لیں تو اللہ کی مہربانی سے اسے جڑ سے اکھاڑنے کے اچھے چانسز ہوتے ہیں۔ اگر آپ خاتون ہیں اور تصویر میں دکھائی گئی کوئی علامات آپ میں ہیں تو فوراً کسی ڈھنگ کے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔ اگر آپ مرد ہیں تو اپنی خواتین کو آگہی دیں کہ جھجک، اور خواہ مخواہ کی شرم کو زندگی اور صحت سے قیمتی نہ جانیں۔

  • بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    بریسٹ کینسر بھی قدرتی آفات سے کم نہیں — ڈاکٹر عزیر سرویا

    آج سے بیس سال پہلے تک بریسٹ (چھاتی) کا کینسر پچاس سالہ یا اس سے اوپر کی خواتین میں زیادہ دیکھتے تھے۔ اس وقت ہمارے (کینسر کے ڈاکٹروں کے) پاس آنے والی بریسٹ کینسر سے متاثرہ خواتین میں سے لگ بھگ آدھی چالیس سال سے کم ہیں۔ بہت سی تو بیس کے پیٹے میں ہیں یعنی بالکل جوان بچیاں۔

    آخر کیا وجہ ہے کہ جو بوڑھوں کی بیماری سمجھی جاتی تھی وہ اب جوانی میں حملہ آور ہونے لگی ہے؟ پاکستان کی ہر نو میں سے ایک خاتون بریسٹ کینسر کا شکار ہو گی، موجودہ اعداد و شمار ایسا کہتے ہیں۔ لیکن مجھے لگتا ہے یہ جس تیزی سے پھیل رہا ہے یہ نمبر نو سے کم ہو کر سات ہو جائے گا۔

    وجوہات پر اسٹدیز کم ہیں اور جو ہیں ان کے نتائج بھی متنازعہ سے ہیں۔ جینیات، آلودگی، ورزش نہ ہونا، ناقص غذا (ماڈرن جَنک فُوڈ)، یہاں تک کہ بہت سے سوچتے ہیں کہ موبائل ریڈی ایشن بھی ممکنہ وجوہات ہو سکتی ہیں کیسز بڑھنے کی۔ اس پر پاکستان میں ماہرین کو سر جوڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ اسی شرح سے کیسز میں اضافہ ہوتا رہا تو ہمارا سسٹم اس سے نبرد آزما ہونے کی اہلیت نہیں رکھتا۔

    پہلی اسٹیجز میں یہ مرض بالکل قابل علاج ہے۔ لیکن ہمارے پاس خواتین کیس خراب ہو چکنے کے بعد آتی ہیں۔ جو بروقت آ بھی جائیں ان کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہوتے۔ کارڈ شارڈ اس وقت جتنے موجود ہیں وہ زیادہ کومپنی کی مشہوری ہی ہیں ان سے کینسر کے مریضوں کو عملی فوائد کم ہی ہو رہے ہیں (مریضوں کی شرح اموات اس کا ثبوت ہے، اگر کوئی نمبر گیم میں جانا چاہے تو خوشی سے جائے)۔

    اپنے ارد گرد خواتین کو کانفیڈینس دلائیے کہ اگر چھاتی میں کوئی منفی تبدیلی محسوس کریں تو چیک اپ سے نہ جھجکیں۔ حکومت و ریاست سے نا امید رہیے اور اپنی سی کوشش کر کے کسی بھی آزمائش کے لیے رقم اور ہمت جوڑ کر رکھیے۔ سب سے ضروری بات یہ ہے کہ دعا کرتے رہیے کیونکہ یہ چیز بھی زلزلے یا قدرتی آفت ہی کی طرح بغیر وارننگ کے آ پکڑتی ہے۔