Baaghi TV

Tag: ڈبلیو ایم او

  • گلیشیئر پگھلنے سے ڈیڑھ ارب سے زائد لوگوں کے ذریعہ معاش کےتحفظ کو خطرہ

    گلیشیئر پگھلنے سے ڈیڑھ ارب سے زائد لوگوں کے ذریعہ معاش کےتحفظ کو خطرہ

    ایشین ڈیولپمنٹ بینک (اے ڈی بی) نے خبردار کردیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث گلیشیئر پگھلنے سے ایک ارب 60 کروڑ سے زائد لوگوں کے ذریعہ معاش کا تحفظ خطرے میں آ گیا ہے۔

    باغی ٹی وی: اے ڈی بی کی منیجنگ ڈائریکٹرجنرل ووچونگ امز نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوکش اورہمالیہ ریجن میں گلیشیئر تیزی سے پگھل رہے ہیں، ہمارے نئے اقدامات سے بھوٹان اور نیپال نئی اطلاعات تک رسائی حاصل کرسکیں گے، اس آگاہی سے یہ ممالک موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کیلئے مؤثر سرمایہ کاری کرسکیں گے۔

    قبل ازیں اقوام متحدہ نے موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے رپورٹ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ’گلیشیئروں کے پگھلنے اور سطح سمندر میں اضافے کا عمل ہزاروں سال تک جاری رہے گا جو 2022 میں دوبارہ ریکارڈ سطح پر جا پہنچا تھا ڈبلیو ایم او کا مزید کہنا ہے کہ ”بحر منجمد جنوبی میں برف کی تہہ میں تاریخی کمی آئی اور یورپ میں بعض گلیشیئروں کا پگھلنا واقعتاً غیرمتوقع تھا گرین لینڈ اور انٹارکٹکا میں گلیشیئروں اور برفانی تہہ کے پگھلنے کے علاوہ گرمی کے سبب سمندری حجم بڑھنے سے بھی سطح سمندر میں اضافہ ہوا جس سے ساحلی علاقوں اور بعض صورتوں میں پورے ممالک کے وجود کو خطرات لاحق ہیں۔

    رپورٹ میں شدید موسمی حالات کے بہت سے سماجی۔معاشی اثرات کا جائزہ بھی لیا گیا تھا جس نے دنیا بھر میں غیرمحفوظ ترین لوگوں کی زندگیوں کو غارت کر دیا ہے۔ مشرقی افریقہ میں مسلسل پانچ سالہ خشک سالی اور مسلح تنازعات جیسے دیگر عوامل کے سبب خطے بھر میں 20 ملین لوگ تباہ کن غذائی عدم تحفظ کا شکار ہیں۔

    گزشتہ برس جولائی اور اگست کے دوران پاکستان میں آنے والے بہت بڑے سیلاب میں 1,700 سے زیادہ لوگ ہلاک ہو گئے جبکہ اس آفت نے مجموعی طور پر 33 ملین لوگوں کو متاثر کیا۔ ڈبلیو ایم او نے واضح کیا ہے کہ اس سیلاب سے مجموعی طو رپر 30 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا اور اکتوبر 2022 تک 8 ملین لوگ اندرون ملک بے گھر ہو چکے تھے۔

    رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا تھا کہ سال بھر خطرناک موسمی حالات نے بہت بڑی تعداد میں لوگوں کو نقل مکانی پر مجبور کرنے کے علاوہ پہلے ہی بے گھری کی زندگی گزارنے والے 95 ملین لوگوں میں سے بڑی تعداد کے لیے حالات بدترین بنا دئیے-

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے ‘ارتھ ڈے’ پر اپنے پیغام میں خبردار کیا تھا کہ ”حیاتیاتی تنوع کا خاتمہ ہو رہا ہے اور دس لاکھ انواع معدومیت کے دھانے پر ہیں۔ انہوں ںے دنیا سے کہا کہ ”فطرت کے خلاف یہ مسلسل اور غیرمعقول جنگ” بند کی جائے۔= ان کا کہنا تھا کہ ”ہمارے پاس موسمیاتی تبدیلی پر قابو پانے کے ذرائع، علم اور طریقہ ہائے کار موجود ہیں۔”

    انتونیو گوئتریس نے گزشتہ مہینے اقوام متحدہ کے اعلیٰ حکام، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کے رہنماؤں پر مشتمل ایک مشاورتی پینل کا اجلاس منعقد کیا جس کا مقصد 2027 تک تمام ممالک کو شدید موسمی واقعات سے بروقت آگاہی کے نظام کے ذریعے تحفظ دینے کی غرض سے ایک عالمگیر اقدام کی رفتار تیز کرنا تھا۔

    اس موقع پر ابتداً 30 ایسے ممالک میں ایک تیزرفتار مربوط اقدام کا اعلان کیا گیا جو شدید موسم کے مقابل خاص طور پر غیرمحفوظ ہیں۔ ان میں چھوٹے جزائر پر مشتمل ترقی پذیر ممالک اور کم ترین ترقی یافتہ ملک شامل ہیں۔

  • موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

    موسمیاتی تبدیلیاں،ماہرین نے یو اے ای کو انتباہ جاری کر دیا

    ماہرین نے موسمیاتی تبدیلیوں کے پیش نظر متحدہ عرب امارات کیلئے انتباہ جاری کیا ہے-

    باغی ٹی وی : "العربیہ” کے مطابق عالمی موسمیاتی تنظیم (ڈبلیو ایم او) نے مئی میں ایک خبردار کیا تھا کہ اگلے پانچ سال میں عالمی درجہ حرارت ریکارڈ سطح پر پہنچنے کا امکان ہے، جس کی وجہ گرین ہاؤس گیسوں میں اضافہ اور ایل نینو رجحان کی متوقع واپسی ہے مشرقی بحرالکاہل میں سطح آب کے غیر معمولی درجہ حرارت گرین ہاؤس گیسیں گلیشیئرز کے پگھلنے اور سمندر کی سطح میں اضافے کے ساتھ گرم سمندروں کا باعث بھی بن رہی ہیں جس سے موسم مزید شدید ہو جائے گا اور متحدہ عرب امارات ان سے متاثر ہو گا-

    بھارت نے دریائے ستلج میں ہزاروں کیوسک پانی چھوڑ دیا

    متحدہ عرب امارات کے قومی مرکز برائے موسمیات کے تحت بارش میں اضافے کے پروگرام کے حصے کے طور پر کام کرنے والے یوسف وہبی کے مطابق شدید گرمی اور شدید بارشوں سے روز مرہ کی زندگی سب سےزیادہ متاثر ہوگی یورپی یونین کی کوپرنیکس کلائمیٹ چینج سروس کے مطابق جولائی کو تاریخ کا گرم ترین مہینہ قراردیا گیا ہے جبکہ ناسا کے ایک سائنس دان کا کہنا ہے کہ یہ مہینہ ممکنہ طور پر’’ہزاروں نہیں تو سیکڑوں سال میں دنیا کا گرم ترین مہینہ‘‘ ہوگا۔

    بیٹی نے بوڑھے ماں باپ کو قتل کرنے کے بعد لاشوں کے ٹکڑے کر ڈالے

    متحدہ عرب امارات میں گذشتہ سال جولائی میں شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث 7 افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ ڈاکٹروں نے رواں سال جولائی میں خبردار کیا تھا کہ درجہ حرارت 50 ڈگری سینٹی گریڈ کی حد سے تجاوز کرنے کے بعد لُو لگنے سے متعلق بیماریوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

  • جولائی 2023 انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ

    جولائی 2023 انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ

    ایران میں گرمی کی غیر معمولی شدت کے باعث 2 روز کی عام تعطیل کا اعلان کر دیا گیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کےمطابق ایران کے شمالی علاقے ان دنوں غیر معمولی گرمی کی لپیٹ میں ہیں، گرمی کے باعث اسپتالوں میں ہائی الرٹ کر دیا گیا ہےایرانی حکام کا کہنا ہےکہ گرمی کی شدت کےباعث ملک بھر میں بدھ اورجمعرات کوعام تعطیل ہوگی، بینک، اسکولز اورحکومتی دفاتر سب بند ہوں گے رواں ہفتے ایرانی شہراہوازمیں درجہ حرارت 51 ڈگری تک جا پہنچا تھا، تہران میں بدھ کو درجہ حرارت 39 ڈگری تک جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے معمر اور بیمار افراد کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

    واضح رہے کہ دنیا کے مختلف حصوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات دیکھنےمیں آرہےہیں، یورپ، امریکا اور ایشیا میں ہیٹ ویوز، کینیڈا اور یونان میں جنگلات کی آگ جبکہ فلوریڈا میں سمندری پانی کےریکارڈ درجہ حرارت جیسےواقعات سامنے آئے درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ عالمی سمندری سطح کے اوسط درجہ حرارت میں اضافے سے منسلک قرار دیا جا رہا ہے۔

    جولائی 2023 کو ماہرین نے اسے انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار دیا تھا اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے (ڈبلیو ایم او) نے کہا تھا کہ جولائی ممکنہ طور پر 19 ویں صدی سے اب تک ریکارڈ ہونے والا گرم ترین مہینہ ثابت ہو سکتا ہےاسی طرح اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری نتونیو گوتریس نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں اضافے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں ایسا عہد شروع ہو رہا ہے جس میں ہماری زمین شدید گرمی کے باعث ابلنے جیسے تجربے کا سامنا کرے گی، شمالی نصف کرے میں بڑھتا درجہ حرارت دہشت زدہ کر دینے والا ہے’گلوبل وارمنگ کا عہد ختم ہورہا ہے اور گلوبل بوائلنگ کا عہد شروع ہو رہا ہے-

    ڈبلیو ایم او کی جانب سے جولائی کے اولین 3 ہفتوں کو موسمیاتی ریکارڈ کے گرم ترین 3 ہفتے قرار دیا گیا ہے اور ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ مہینہ سابقہ تمام ریکارڈ توڑ دے گا دنیا کے مختلف حصوں میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات دیکھنے میں آرہے ہیں، یورپ، امریکا اور ایشیا میں ہیٹ ویوز، کینیڈا اور یونان میں جنگلات کی آگ جبکہ فلوریڈا میں سمندری پانی کے ریکارڈ درجہ حرارت جیسے واقعات سامنے آئے در جہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ عالمی سمندری سطح کے اوسط درجہ حرارت میں اضافے سے منسلک قرار دیا جا رہا ہے۔

    ڈبلیو ایم او کے سیکرٹری جنرل پروفیسر Petteri Taalas نے بتایا تھا کہ اس طرح کی موسمیاتی شدت نے کروڑوں افراد کو متاثر کیا جو کہ بدقسمتی سے موسمیاتی تبدیلیوں کی ایک تلخ حقیقت ہے اور اس سے مستقبل کی پیشگوئی ہوتی ہے گزشتہ دنوں سائنسدانوں کے ایک تجزیے میں بتایا گیا کہ دنیا کے مختلف خطوں میں ہیٹ ویوز کی ریکارڈ شدت موسمیاتی تبدیلیوں کا نتیجہ ہیں۔

    پروفیسر Petteri Taalas نے بتایا کہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کی اس سے زیادہ ضرورت پہلے کبھی نہیں تھی، موسمیاتی اقدامات اب لازمی ہو گئے ہیں دوسری جانب یورپ کے موسمیاتی ادارے Copernicus Climate Change Service کی جانب سے بتایا گیا کہ درجہ حرارت میں حالیہ ریکارڈ اضافہ عالمی درجہ حرارت میں ڈرامائی اضافے کے رجحان کا حصہ ہے۔

    ادارے کے مطابق زہریلی گیسوں کا اخراج درجہ حرارت میں اضافےکی بنیادی وجہ ہےڈبلیو ایم او نے گزشتہ دنوں انکشاف کیا تھا کہ 1850 کی دہائی کے بعد سے (جب سے موسمیاتی ریکارڈ مرتب ہونا شروع ہوا) زمین کو اس طرح کے موسم کا کبھی سامنا نہیں ہوا ڈبلیو ایم او کے موسمیاتی سروسز کے سربراہ پروفیسر کرسٹوفر ہیوٹ نے بتایا تھا کہ ہم ایک نامعلوم مقام پر پہنچ چکے ہیں اور یہ ہمارے سیارے کے لیے فکر مند کر دینے والی خبر ہے ہیٹ ویوز کے ساتھ ساتھ بحر الکاہل میں ایل نینو نامی موسمیاتی رجحان کے آغاز کا اثر بھی پوری دنیا میں محسوس کیا جا رہا ہے۔

    خیال رہے کہ ایل نینو ایک ایسا موسمیاتی رجحان ہے جس کے نتیجے میں بحرالکاہل کے پانی کا بڑا حصہ معمول سے کہیں زیادہ گرم ہوجاتا ہے اور زمین کے مجموعی درجہ حرارت میں بھی اضافہ ہوتا ہے اس کے مقابلے میں لانینا کے دوران بحر الکاہل کا درجہ حرارت کم ہوتا ہے متعدد سائنسدانوں کی جانب سے انتباہ کیا گیا ہے کہ اس سال یا 2024 میں صنعتی عہد سے پہلے کے مقابلے میں درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ اضافے کا منفی سنگ میل عبور ہونے کا امکان ہے۔

    خیال رہے کہ 2015 کے پیرس معاہدے میں طے کیا گیا تھا کہ عالمی درجہ حرارت کو 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز نہیں کرنے دیا جائے گا سائنسدانوں کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہیٹ ویوز زیادہ جان لیوا ثابت ہوں گی جو پہلے ہی ہزاروں ہلاکتوں کا باعث بن رہی ہیں، 2022 میں صرف یورپ میں ہی 61 ہزار سے زائد ہلاکتیں درجہ حرارت میں اضافے کے باعث ہوئیں۔

  • 2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دورریکارڈ ہوگا،اقوم متحدہ

    ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (ڈبلیو ایم او) نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 98 فیصد امکان ہے کہ آنے والے پانچ سال انسانی تاریخ کے گرم ترین دن ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق اقوام متحدہ کی طرف سے یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ 2023 سے 2027 تک کا عرصہ دنیا کی تاریخ کا گرم ترین دور ریکارڈ ہوگا درجہ حرارت میں اس درجہ اضافے کی وجہ بحر الکاہل کو گرم کرنے والے موسمیاتی رجحان ایل نینو اور گرین ہاوس گیسوں کا مشترکہ اثر ہوگا اس حوالے سے سائنسدانوں نے 66 فیصد امکان ظاہر کیا ہے کہ ممکن ہے آنے والے سالوں میں زمین کا درجہ حرارت 1.5 ڈگری کی حد سے تجاوز کرجائے درجہ حرارت اس حد تک تجاوز کرنے کا مطلب یہ ہے کہ دنیا 19 ویں صدی کے دوسرے نصف کے مقابلے زیادہ گرم ہوگی۔

    حال ہی میں ڈبلیو ایم او کی رپورٹ کے مطابق رواں سال جولائی کے پہلے ہفتے میں جون کے گرم ترین مہینے کا ریکارڈ ٹوٹ گیا۔ دنیا بھر میں جولائی کے آغاز میں درجہ حرارت گرم ترین ریکارڈ کیا گیا،جولائی کے پہلے ہفتے میں عالمی درجہ حرارت سب سے زیادہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ابتدائی تحقیق میں بتایا گیا کہ اس سے قبل موسمیاتی تبدیلی کے باعث ابتدائی مراحل میں جون کا مہینہ گرم ترین ریکارڈ کیا گیا تھا۔

    ایل نینو کے اثرات: رواں ماہ کا آغاز انسانی تاریخ کا گرم ترین ہفتہ قرار

    برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سائنسدانوں نے وارننگ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرین ہاؤس گیسوں سے کُرہ ارض کے درجہ حرارت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے نے عالمی درجہ حرارت کے حوالے سے جو حد سوچ رکھی ہے اگر وہ تجاوز کرگئی تو ممکنہ طور پر یہ صورتحال عارضی ہوگی اگر ایسی صورتحال سامنے آئی تو عالمی سطح پر صحت، خوراک، پانی اور ماحول کے انتظام میں مشکلات آسکتی ہیں۔ ایسی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے۔

    برطانیہ کے امپیریل کالج لندن میں گرانتھم انسٹی ٹیوٹ برائے موسمیاتی تبدیلی اور ماحولیات کے موسمیاتی سائنس دان فریڈریک اوٹو نے کہا کہ یہ ایک سنگ میل نہیں ہے جسے ہمیں منانا چاہیےسائنس دانوں نے کہا کہ ابھرتے ہوئے ال نینو پیٹرن کے ساتھ مل کر موسمیاتی تبدیلیاں اس کا ذمہ دار ہیں۔

    یونان کشتی حادثہ؛ تحقیقات میں کوسٹ گارڈ کی غفلت کا انکشاف

    برکلے ارتھ کے سائنسدان زیکے ہاس فادر نے ایک بیان میں کہا کہ بدقسمتی سے، یہ وعدہ کرتا ہے کہ اس سال کے نئے ریکارڈوں کی سیریز میں یہ صرف پہلا ہوگا کیونکہ (کاربن ڈائی آکسائیڈ) اور گرین ہاؤس گیسوں کے بڑھتے ہوئے اخراج کے ساتھ ساتھ ال نینو کے بڑھتے ہوئے واقعات درجہ حرارت کو نئی بلندیوں پر لے جاتے ہیں-