Baaghi TV

Tag: ڈرامہ

  • حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

    حکومت سندھ نے موویز، ڈرامہ اور ڈاکیومینٹریز کے فروغ کے لئے کوششیں تیز کردیں

    کراچی: حکومت سندھ نے صوبے میں آرٹس، سینما اور تخلیقی صنعتوں کے فروغ کے لئے اپنی کوششوں کو تیز کر دیا ہے۔ اس ضمن میں حکومت سندھ نے عوامی آگہی بڑھانے، مقامی ٹیلنٹ کو پروان چڑھانے اور دہشتگردی و انتہا پسندی کے خلاف بیانیہ سازی کرنے کے لئے سینئر آرٹسٹوں، ڈرامہ نگاروں اور فلم سازوں کی حوصلہ افزائی کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے سندھ کے سینئر وزیرِ اطلاعات، شرجیل انعام میمن کی زیرِ صدارت کراچی میں کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں سندھ حکومت کے مختلف اعلیٰ افسران اور بورڈ ممبران نے شرکت کی۔شرجیل انعام میمن نے اجلاس میں کہا کہ حکومت سندھ نے صوبے میں جمہوری اقدار کے فروغ اور صحت مند معاشرتی ترقی کے لئے ڈراموں، فلموں اور دیگر تخلیقی کاموں کو فروغ دینے کی پالیسی اپنائی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کا قیام معاشرتی نشونما کے لیے کیا گیا ہے اور اس کا مقصد مقامی تخلیقی ٹیلنٹ کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔اجلاس میں انہوں نے ہدایت دی کہ نئے فلم نویسوں اور ڈرامہ نویسوں کو خصوصی طور پر حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ وہ اپنی تخلیقات کو حقیقت کا روپ دے سکیں۔ مزید برآں، بورڈ کی طرف سے تخلیقی کام کو مکمل کرنے کے لئے ضروری مالی معاونت فراہم کی جائے گی تاکہ یہ کام باقاعدہ اور معیاری طریقے سے مکمل ہو سکے۔

    اجلاس میں سندھ کے سیکریٹری اطلاعات، ندیم الرحمٰن میمن، ڈائریکٹر جنرل پی آر، سلیم خان، ڈائریکٹر فلمز، حزب اللہ میمن اور دیگر حکومتی نمائندے بھی موجود تھے۔ بورڈ کے ممبران میں قاضی اسد عابد، وردہ سلیم، نمرہ ملک، اذان سمیع خان اور حسن اصغر نقوی بھی شریک ہوئے۔

    ڈی جی پی آر سندھ سلیم خان نے اجلاس میں کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کی تشکیل کے مقاصد اور پالیسی گائیڈ لائنز سے متعلق تفصیلات فراہم کیں۔ قاضی اسد عابد نے بورڈ کی فوری تشکیل اور اس کے فعال ہونے کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بورڈ نئے ٹیلنٹ کو اہمیت دے گا اور ان کی تخلیقات کو بہتر مواقع فراہم کرے گا۔

    اجلاس کے دوران، بورڈ کے ممبران نے کانٹینٹ اینڈ پروڈکشن اوور سائٹ بورڈ کو موثر بنانے کے لئے اپنی تجاویز پیش کیں اور آئندہ ہفتے تک پروڈکشن ہاؤسز سے ان کے کام کا بنیادی خاکہ طلب کرنے پر زور دیا تاکہ آئندہ اجلاس میں ان کے کام کا جائزہ لیا جا سکے۔

    حکومت سندھ کی یہ کوششیں صوبے کی تخلیقی صنعت کو نئی جہت دینے اور مقامی سطح پر ثقافتی ترقی کو فروغ دینے کے لیے اہم قدم ثابت ہو سکتی ہیں۔

    راولپنڈی: ناجائز تجاوزات کے خلاف آپریشن جاری رہے گا، اے سی سٹی ملک حاکم خان

    مفتی قوی کو کوئی حق نہیں….وینا ملک پھٹ پڑیں

  • محکمہ اطلاعات  سندھ کا فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی معاونت کا فیصلہ

    محکمہ اطلاعات سندھ کا فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی معاونت کا فیصلہ

    کراچی: محکمہ اطلاعات حکومت سندھ نے فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی معاونت کے لئے ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے "فلم اور ڈرامہ پراڈکشن بورڈ” کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔ اس بورڈ کا مقصد سندھ کے ثقافتی ورثے کو اجاگر کرنے اور اس شعبے سے جڑے افراد کی معاونت کرنا ہے۔

    سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد اس فیصلے کا اعلان سندھ کے سینئر وزیر اور محکمہ اطلاعات کے وزیر شرجیل انعام میمن کی زیر صدارت ہونے والے ایک اہم اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں محکمہ اطلاعات کے دیگر حکام اور شعبہ تعلقات عامہ کے نمائندگان نے بھی شرکت کی۔شرجیل انعام میمن نے اجلاس کے دوران اس بات پر زور دیا کہ "فلم اور ڈرامہ پراڈکشن بورڈ” کا قیام سندھ کی ثقافتی نمائندگی اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت سندھ کا مقصد صوبے کے گوناگوں کلچر اور تاریخی تہذیب کو اجاگر کرنا ہے تاکہ دنیا بھر میں سندھ کی مثبت شناخت کو فروغ دیا جا سکے۔

    شرجیل انعام میمن نے مزید کہا کہ "فلم اور ڈرامہ کے توسط سے ہمیں معاشرتی برائیوں کے بارے میں شعور اجاگر کرنا ہے اور ان کے منفی اثرات کو ختم کرنے کے لئے سول سوسائٹی، آرٹسٹوں اور دیگر مکتبہ فکر کے افراد کو ایک ساتھ کام کرنا ہوگا۔” ان کا کہنا تھا کہ اس بورڈ کے قیام سے نہ صرف نئے ٹیلنٹ کو فروغ ملے گا بلکہ اس سے سماجی مسائل پر بھی روشنی ڈالی جا سکے گی۔وزیر اطلاعات نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت سندھ کا ارادہ ہے کہ وہ سندھ کے مختلف ثقافتی پہلوؤں کو دنیا کے سامنے لائے، جس کے ذریعے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی سندھ کی تخلیقی صلاحیتوں کو تسلیم کیا جائے۔ "سندھ کا ثقافتی ورثہ بے شمار رنگوں اور قسموں میں بٹا ہوا ہے اور اس کی منظر کشی عالمی سطح پر اہمیت رکھتی ہے”، شرجیل انعام میمن نے کہا۔ بورڈ کی تشکیل کا مقصد فلم اور ڈرامہ انڈسٹری سے وابستہ افراد کی حمایت کرنا اور ان کے لئے مالی اور تخلیقی معاونت فراہم کرنا ہے۔ اس بورڈ کی مدد سے نئے پروجیکٹس کی معاونت اور ان کی مارکیٹنگ کی جائے گی تاکہ سندھ کے تخلیقی شعبے کو مزید ترقی مل سکے۔

    شرجیل انعام میمن نے میڈیا انڈسٹری کو درپیش موجودہ چیلنجز کی جانب بھی اشارہ کیا اور کہا کہ میڈیا انڈسٹری کو مزید معاونت کی ضرورت ہے تاکہ وہ نہ صرف اپنے داخلی مسائل کو حل کر سکے بلکہ معاشرتی سطح پر مثبت تبدیلیاں بھی لا سکے۔اس اجلاس میں سیکریٹری اطلاعات ندیم الرحمان میمن، ڈائریکٹر ایڈورٹائزمنٹ محمد یوسف کابورو اور دیگر حکام نے بھی شرکت کی۔ ان تمام افراد نے محکمہ اطلاعات کی جانب سے اس اقدام کی بھرپور حمایت کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ اس بورڈ کے قیام سے سندھ کی فلم اور ڈرامہ انڈسٹری میں نئی زندگی کا آغاز ہوگا۔

    محکمہ اطلاعات حکومت سندھ کا یہ فیصلہ سندھ کی ثقافت اور تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے کے لئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔ اس بورڈ کی تشکیل سے نہ صرف مقامی فنکاروں اور تخلیقی افراد کو مدد ملے گی بلکہ عالمی سطح پر سندھ کے حوالے سے ایک مثبت تاثر بھی قائم ہو گا۔

    خیبر پختونخوا حکومت اداروں سے لڑنے کی بجائے دہشتگردوں سے لڑے،شرجیل میمن

    سندھ سرمایہ کاروں کو مکمل تحفظ فراہم کرے گا، شرجیل میمن

    پاکستان سرمایہ کاری کے لحاظ سے دنیا کا بہترین ملک ہے ،شرجیل میمن

    کراچی سے سکھر تک بلٹ ٹرین چلانے کامنصوبہ ہے،شرجیل میمن

  • خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نادیہ افگن نے ایک انٹرویو میں اپنے کیریئر اور ذاتی زندگی کے بارے میں کئی اہم انکشافات کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ معروف ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کرنا چاہتیں۔

    نادیہ افگن نے انٹرویو میں اپنی ذاتی زندگی اور شوبز کی دنیا کے حوالے سے کھل کر بات کی۔ میزبان نے اُن سے سوال کیا کہ وہ پاکستانی شوبز انڈسٹری میں کس شخصیت کے ساتھ کام نہیں کرنا چاہتیں؟ اس پر نادیہ افگن نے فوری طور پر جواب دیا کہ "میرے جواب میں خلیل الرحمان قمر صاحب ہیں۔”وہ خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کرنا چاہتیں، اور نہ ہی مستقبل میں ایسا کوئی ارادہ رکھتے ہیں۔ نادیہ افگن نے مزید کہا کہ انہوں نے کبھی خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کام نہیں کیا اور نہ ہی ایسا کچھ کرنے کا ارادہ ہے۔ مجھے وہ اچھے انسان نہیں لگتے، نہ وہ اچھی بات کرتے ہیں نہ کسی کے لئے اچھے الفاظ نکالتے ہیں، انہیں ہر ایک سے مسئلہ ہے، میری ایک بار ملاقات ہوئی انہوں نے صوفے پر پاؤں رکھا تھا، بیس پچیس سال پرانی بات تھی، میں نے السلام علیکم کہا تو انہوں نے مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھا اور پوچھا کہ "کون ہو تم لڑکی ایکٹر ہو” .

    میزبان نے نادیہ افگن سے ان کی زندگی کے سب سے مشکل ترین فیصلے کے بارے میں بھی سوال کیا۔ اس پر اداکارہ نے کہا کہ "بچے پیدا نہ کرنا میری زندگی کا سب سے مشکل فیصلہ تھا۔” نادیہ نے بتایا کہ انہیں طبی پیچیدگیوں کا سامنا رہا اور دو بار ان کا حمل ضائع ہو چکا تھا۔انہوں نے کہا کہ وہ مسلسل علاج کرواتی رہیں، لیکن بدقسمتی سے علاج کامیاب نہ ہو سکا۔ اس دوران ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر شدید اثرات مرتب ہوئے، مگر انہوں نے اور ان کے شوہر نے اللہ کی رضا سمجھتے ہوئے اولاد کے بغیر زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا۔نادیہ افگن نے اپنے شوہر کی حمایت کا بھی ذکر کیا، جنہوں نے اس مشکل وقت میں ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شوہر ہمیشہ ان کے فیصلوں کی حمایت کرتے رہے اور ہر قدم پر ان کے ساتھ کھڑے رہے۔

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت 12 ملزمان پر فردجرم عائد

    خلیل الرحمان قمر کیس، ملزم کی ضمانت درخواست پر سماعت ملتوی

    خلیل الرحمان قمر کیس، آمنہ عروج سمیت ملزمان کے ریمانڈ میں توسیع

    آمنہ عروج کو "معاف” نہیں کروں گا، خلیل الرحمان قمر

    خلیل الرحمان قمر کیس،آمنہ سے 50 ہزار روپے ریکورکر لئے

  • ہاتھ پاؤں بندھی خاتون کا ایک اور جھوٹ،جنسی زیادتی ثابت نہ ہوسکی

    ہاتھ پاؤں بندھی خاتون کا ایک اور جھوٹ،جنسی زیادتی ثابت نہ ہوسکی

    بیلجیئم کی جعلی خاتون کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہو گیا، خاتون پاکستانی نکلی تو وہیں خاتون کے ساتھ زیادتی بھی ثابت نہیں ہوئی

    واقعہ اسلام آباد کا ہے،تھانہ آبپارہ کی حدود سے ہاتھ پاؤں بندھی خاتون ملی تھی جس نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ غیر ملکی شہری ہے اور اسکے ساتھ پانچ روز تک جنسی زیادتی کی گئی ہے تا ہم اسلام آباد پولیس کو اب خاتون کی میڈیکل رپورٹ ملی ہے جس کے مطابق خاتون کے ساتھ جنسی زیادتی نہیں ہوئی،خاتون کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہو گیا، خاتون نے خود کو غیر ملکی شہری کہا تھا لیکن وہ پاکستانی نکلی، خاتون راولپنڈی کی رہائشی ہے جس کا شوہر بیلجیئم میں ہے، خاتون کی شادی 5 برس پہلے ہوئی تھی، خاتون ذہنی مریضہ ہے اور اسے ایدھی سنٹر منتقل کر دیا گیا ہے،پولیس ذرائع نے بتایا ہے کہ گرفتار ملزم کے گھر سے کوئی شواہد نہیں ملے ہیں،خاتون نے جس شخص پر زیادتی کا الزام لگایا تھا اس نے پولیس کو اپنے بیان میں کہا تھا کہ یہ خاتون ہر روز میرے گھر آ جاتی تھی جس کی وجہ سے میں نے تنگ آ کر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ کر باہر چھوڑ آیا تھا.

    پولیس ذرائع کے مطابق، خاتون پوٹھوہاری زبان بولتی ہے، میڈیکل رپورٹ میں خاتون پر جنسی تشدد کے کوئی شواہد نہیں ملے بیلجیئم سفارت خانے نے بھی خاتون کے بیلیجیئم کی شہری ہونے کی تردید کی،سفارت خانے نے جواب دیا کہ ان تفصیلات سے مماثلت رکھنے والے کسی بھی بیلجیئم شہری نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا، خاتون اردو اور پنجابی میں روانی رکھتی ہے، تاہم اب تحقیقات کے بعد سامنے آیا کہ خاتون پاکستانی نکلی، زیادتی کا الزام لگا دیا اور خود کو غیر ملکی شہری کہا،فیشیل ریکوگنیشن (چہرے کی پہچان) کے ساتھ نادرا نے فراڈ خاتون کا سراغ لگا لیا، خاتون کا اصل نام فروا کیانی ہے اور راولپنڈی کی رہائشی ہے،خاتون کی نیشنلٹی پاکستانی ہے.

    پیدائشی سماعت سے محروم بچوں کے کامیاب آپریشن کے بعد”پاکستان زندہ باد” کے نعرے

  • خلیل الرحمان قمر کیس،نو ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دس روز کی توسیع

    خلیل الرحمان قمر کیس،نو ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دس روز کی توسیع

    لاہور انسداد دہشت گردی عدالت: ڈرامہ نگار خلیل الرحمان قمر کیس میں اہم پیشرفت سامنے آئی ہے

    عدالت نے نو ملزمان کے جسمانی ریمانڈ میں دس روز کی توسیع کا حکم دے دیا ،آمنہ عروج کے 9 شریک ملزمان کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ مکمل ہونے پر عدالت پیش کیا گیا ،پولیس نے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی،جج خالد ارشد نے کہا کہ تفتیشی افسر ملزمان کے حوالے تفتیشی رپورٹ پیش کریں ، جو ملزم بے گناہ ہے اسکو چھوڑنا ہے اور جو گنہگار ہے اسکے خلاف ثبوت دیں ،وکیل خلیل الرحمان قمر نے کہا کہ جو ملزمان بے گناہ تھے انکو کلئیر کر دیا گیا ہے ،پولیس نے کہا کہ ملزمان آمنہ عروج کے شریک جرم ساتھی ہیں ملزمان نے خلیل الرحمان قمر کو اغوا کرکے ایک کروڑ تاوان کا مطالبہ ہے ،

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو پر عفت عمر بولیں،”ان کا جسم،ان کی مرضی”

    خلیل الرحمان قمر کو 15 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، ملزمان کے خلاف 21 جولائی کو تھانہ سندر میں مقدمہ درج کیا گیا تھا،پولیس کے مطابق کیس کے مرکزی ملزم حسن شاہ سمیت 12 ملزمان پولیس کی تحویل میں ہیں،حسن شاہ 28 جولائی کو پشاور سے اپنے دوست کے ہمراہ گرفتار ہوا تھا اور اسی دن ہی خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو وائرل ہوئی تھی،پولیس نے گینگ کا سابقہ مجرمانہ ریکارڈ نکال لیا ہے، ملزم حسن شاہ کے خلاف ننکانہ صاحب میں اغواء ، تشدد ، بجلی چوری کے 2 مقدمات درج ہیں ،ملزم کے ساتھی رفیق عرف فیکو قتل سمیت سنگین جرائم میں ملوث رہا ہے،مرکزی ملزم حسن شاہ اور رفیق کو پولیس نے پشاور سے گرفتار کیا ہے،پولیس ریکارڈ کے مطابق رفیق عرف فیکو کے خلاف قتل ، اقدام قتل ، تشدد کے 6 مقدمات شیخوپورہ میں درج ہیں،ملزم رفیق لاہور میں بھی قتل کے مقدمہ کا اشتہاری ہے،ملزم رفیق مرکزی ملزم حسن شاہ کے شوٹر کے طور پر آپریٹ کرتا ہے، ملزم حسن شاہ منشیات کا عادی ہے،افیون سمیت پکڑا گیا ہے

    خلیل الرحمان قمر کو تھپڑ کس نے مارا،خاتون اینکر سے غیر اخلاقی حرکت

    میں نے خلیل الرحمان قمر کو ہنی ٹریپ نہیں کیا،آمنہ کی درخواست ضمانت دائر

    خلیل الرحما ن قمر کیس،آمنہ عروج کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد، جیل بھجوا دیا گیا

    نازیبا ویڈیو”لیک” ہونے سے میری ساکھ کو نقصان پہنچا،خلیل الرحمان قمر کا دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر کو زنا کے جرم میں کیوں نہیں پکڑا جارہا؟صارفین برہم

    خلیل الرحمان قمر کی ایک اور "ویڈیو "آنے والی ہے

    تھانے میں آمنہ کو کرنٹ لگایا گیا،خلیل سے معافی مانگو

    خلیل قمر اور آمنہ کی انتہائی شرمناک ویڈیو،اس رات ہوا کیا تھا؟

    میری ویڈیو وائرل ہو گئی،دل کرتا ہے عدالت کے باہر خود کشی کر لوں،آمنہ عروج

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد کرنیوالے ریکارڈ یافتہ ملزم نکلے

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو لیک ہو گئیں

    خلیل الرحمان قمر کیس،مرکزی ملزم حسن شاہ گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کی کہانی،مکمل حقائق،ڈرامہ نگاری سے ڈرامائی بیان

    خلیل الرحمان قمر کے اغوا کے پیچھے کون؟

    خلیل الرحمان قمر پر تشدد میں ملوث خاتون سمیت 12 ملزمان گرفتار

    خلیل الرحمان قمر کی برابری کی خواہش آمنہ نے پوری کر دی

    خلیل الرحمان قمر کی نازیبا ویڈیو،تصاویر بھی خاتون کے پاس موجود ہیں،دعویٰ

    خلیل الرحمان قمر سے فون پر چیٹ،تصاویر کا تبادلہ،پھر اس نے ملنے کا کہا،ملزمہ کا بیان

    خواتین آدھے کپڑے پہن کر مردوں‌کو ہراساں کررہی ہیں خلیل الرحمان قمر

    سونیا کی جرائت کیسے ہوئی وہ کہے کہ اس نے میرے پاس تم ہو رد کیا خلیل الرحمان قمر

    اچھی بیوی کون ہوتی ہے خلیل الرحمان قمر نے بتا دیا

    خلیل الرحمان قمر نے پہلا لو لیٹر کس کو اور کس عمر میں لکھا

    خلیل الرحمان قمر کو اپنے حسن کی اداؤں سے لوٹنے والی آمنہ کی تصاویر

    خلیل الرحمان قمر اور آمنہ کی نازیبا ویڈیوز؟ ڈاکٹر عمر عادل کی نس بندی ہونی چاہئے

    ہمارے پاس ویڈیوز،خلیل الرحمان قمر آمنہ سے فزیکل ہونا چاہتا تھا،حسن شاہ کا دعوٰی

  • کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    کھاریاں پھاٹک پر منو بھائی سے ٹاکرہ،تحریر:حسین ثاقب

    یہ آج سے لگ بھگ چالیس سال پہلے کا ذکر ہے۔ لاہور ٹیلی ویژن نے ایک ڈرامہ سیریل "منزل” کے نام سے شروع کیا تھا جو اپنے دور کے صاحب طرز ادیب عنایت اللہ کے ناول "طاہرہ” پر مبنی تھا۔ طاہرہ ایک ایسی پڑھی لکھی لڑکی کی کہانی ہے جس نے مشرقی پنجاب کے کسی قصبے میں تحریک پاکستان میں کام کیا اور قیام پاکستان کے بعد لٹتی لٹاتی لاہور والٹن کے مہاجر کیمپ میں پہنچ گئی۔ کہانی کے مطابق اس کی ساری زندگی دوسروں کے لئے قربانیوں سے عبارت تھی۔ بعد میں اس ناول کا سیکئول "خاکی وردی لال لہو” کے نام سے شائع ہوا۔

    ٹی وی ڈرامہ منزل کا سکرپٹ محترم منو بھائی تحریر کر رہے تھے۔ ابھی اس ڈرامے کی چند قسطیں ہی چلی تھیں کہ معلوم ہوا منو بھائی نے مزید سکرپٹ لکھنے سے انکار کر دیا ہے۔ عنایت اللہ صاحب کو بتایا گیا کہ اب اس ڈرامے کا سکرپٹ کوئی جمیل ملک صاحب لکھیں گے۔ عنایت صاحب کے استفسار کے باوجود پتہ نہ چل سکا کہ منو بھائی نے ایسا کیوں کیا۔ صرف اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ انہوں نے کسی اصولی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔ بعد کی قسطوں سےصاف لگ رہا تھا کہ ناول کے اہم واقعات کو ڈرامے سے حذف کیا جارہا ہے۔

    عنایت صاحب نے مجھ سے کہا کہ منو بھائی سے پوچھو انہوں نے ایسا کیوں کیا۔ وہ خود مزاج کے لحاظ سے کم آمیز تھے اور یہ کمی بسا اوقات مجھے پوری کرنی پڑتی تھی۔

    کئی دن تک میں منو بھائی سے ملاقات نہ کرسکا حالانکہ مجھے معلوم تھا وہ ریواز گارڈن میں رہتے ہیں لیکن میرا ان سے بے تکلفی کا نہیں عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس لئے گھر پر جا دھمکنے کی جرات نہ کر سکا۔

    ایک دن کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ اچانک منو بھائی سے غیر متوقع ٹاکرہ ہو گیا۔ کھاریاں پھاٹک کے ساتھ فلائنگ کوچ ریسٹورنٹ تھا جو اب اوورہیڈ برج بننے کے بعد ویران ہوگیا ہے۔ اتفاق سے ہماری گاڑیاں ایک ہی وقت میں رکیں اور میں موقع غنیمت جان کر ان کی ٹیبل پر پہنچ گیا۔ ان کی آنکھوں میں شناسائی کی ہلکی سی چمک پیدا ہوئی اور بولے۔

    "اوئے توں اوہو ای ناں جنے روشن آراء دے ناول تے نیشنل سنٹر وچہ مضمون پڑھیا سی تے مینوں وی جگت ماری سی”۔یہ کوئی تین چار مہینے پہلے کا واقعہ تھا جو خوش قسمتی سے انہیں یاد تھا۔ میرے چہرے پر شرمندگی کے آثار دیکھے تو کہنے لگے، چل کوئی نئیں۔ بہہ جا، چاء پینے آں۔

    پھر میں نے ان سے تفصیلی تعارف کے بعد سوال پوچھا تو گھڑی دیکھ کر بولے، میں مختصر جواب دیاں گا توں عنایت صاحب نوں حرف بحرف سنا دئیں۔

    انہوں نے بتایا کہ ان کے ڈرامہ چھوڑنے کی وجوہات سادہ تھیں۔ ایک تو یہ کہ شاید ٹی وی پر یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں قیام پاکستان کے لئے جدوجہد، ہجرت اور بے بہا قربانیوں کا کریڈٹ مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو دیا گیا تھا۔ ٹی وی انتظامیہ پر قابض ایک طاقتور لابی اس بات سے خوش نہیں تھی۔ انہوں نے ٹیلیویژن کی پالیسی کے نام پر مطالبہ کیا کہ کہانی میں سے مشرقی پنجاب والوں کی جدوجہد نکال کر اور ہجرت کی خون آشام داستانیں حذف کر کے صرف طاہرہ کے رومان پر توجہ دی جائے اور اس کے کرداروں کی ہندو دشمنی کو ذرا کم کردیا جائے۔

    "میں کسے دے کہن تے بھانویں اوہ کانا دجال ہی کیوں نہ ہووے ( وہ ضیاءالحق کا زمانہ تھا) تاریخ مسخ نئیں کر سکدا۔ میں کیہا جائے جہنم وچہ تہاڈی پالیسی وی تے تسی وی۔ کسے ہور کولوں بھڑوا گیری کروالو۔”

    جہنم کا لفظ میں نے اپنی طرف سے ڈالا ہے ورنہ انہوں نے ٹیلیویژن کے ارباب بست و کشاد کو جس جگہ جانے کا مشورہ دیا تھا وہ ناقابل تحریر ہے۔

    حکایت اللہ.ازقلم، حسین ثاقب

    ہم شرمندہ ہیں!! (سانحہ جڑانوالہ) ،ازقلم:حسین ثاقب

    علامہ اقبال کا پاکستان کیوں نہ بن سکا؟ تحریر:حسین ثاقب

    آج پروین شاکر کا 29 واں یوم وفات ہے۔

    hussain saqib

  • الحمراء میں فیسٹیول لہور لہوراے جاری،”کیہہ جانا میں کون“  ڈارمہ پیش

    الحمراء میں فیسٹیول لہور لہوراے جاری،”کیہہ جانا میں کون“ ڈارمہ پیش

    الحمراء میں فیسٹیول لہور لہوراے جاری ہے۔
    فیسٹیول میں آزاد تھیٹر نے اپنا ڈرامہ ”کیہہ جانا میں کون“ پیش کیا۔
    ڈرامہ میں عالمی شہرہ آفاق صوفی شاعر بابا بلھے شاہؒ کی سوچ وفکر کو اُجاگر کیا گیا ہے۔
    ڈرامہ میں دیکھنے والوں کو بابابلھے شاہ ؒ کی شاعری میں موجود آفاقی پیغام بارے بتا یا گیا۔

    بابا بلھے شاہؒ کی شاعری پیار و محبت، امن وسلامتی اور رواداری کے پیغام پر مبنی ہے۔ سربراہ الحمراء طارق محمود چوہدری ڈرامہ ڈاکٹر ریاض بابر نے تحریر کیا جبکہ ملک اسلم ڈرامہ کے ہدایت کار تھے۔  آرٹس کونسل الحمراء میں بسلسلہ فیسٹیول لہور لہور میں لازوال کہانیوں پر مبنی تھیٹر ڈرامے عوامی توجہ کو مرکز بنے ہوئے ہیں۔ گزشتہ روز آزاد تھیٹر گروپ نے اپنا شہکار ڈرامہ ”کیہہ جانا میں کون“ پیش کیا۔ڈرامہ میں عالمی شہرہ آفاق صوفی شاعر بابا بلھے شاہؒ کی سوچ وفکر کو اُجاگر کیا گیا ہے۔ڈرامہ میں دیکھنے والوں کو بابابلھے شاہ ؒ کی شاعری میں موجود آفاقی پیغام بارے بتا یا گیا۔

    ایگزیکٹوڈائریکٹر لاہور آرٹس کونسل الحمراء طارق محمود چوہدری نے اس حوالے سے اپنے تاثرات میں کہا کہ بابا بلھے شاہؒ کی شاعری پیار و محبت، امن وسلامتی اور رواداری کے پیغام پر مبنی ہے، الحمراء صوفیاء کرام کے فن و شخصیت سے نوجوان نسل کو روشناس کروا رہا ہے۔ڈرامہ”کیہہ جانا میں ڈاکٹر ریاض بابر نے تحریر کیا جبکہ ملک اسلم ڈرامہ کے ہدایت کار تھے۔

    حوثی باغیوں کے حملے، امریکا کا جنگی بحری جہاز اور لڑاکا طیارے یو اے ای بھجوانے کا اعلان

    ہیلی کاپٹر حادثہ، امریکی ڈرون کے چرچے،جعلی ٹویٹ،سازشی پکڑے گئے

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

  • میرے پاس تم ہو کے سکرپٹ کو کتابی شکل دینے پر خلیل الرحمان کے مداح خوش

    میرے پاس تم ہو کے سکرپٹ کو کتابی شکل دینے پر خلیل الرحمان کے مداح خوش

    ڈرامہ سیریل میرے پاس تم ہو نے ملک گیر شہرت حاصل کی ، اس ڈرامے کے ڈائیلاگز اور ہمایوں سعید ، عدنان سعید اور آئزہ خان کی اداکاری نے شائقین کے دل موہ لئے. ڈرامے کی کہانی انتہائی خوبصورت انداز میں لکھی گئی آئزہ خان نے ایک ایسی عورت کا کردار نبھایا جو پیسے کی خاطر اپنا گھر اپنے ہی ہاتھوں سے برباد کر بیٹھتی ہے. دوسری طرف ہمایوں سعید کو باوفا شوہر دکھایا گیا ہے جو مرنا تو قبول کر لیتا ہے لیکن کسی اور کا نہیں ہوتا. اسی طرح سے ڈرامے کے ہر کردار نے اپنی جگہ مقبولیت حاصل کی . خلیل الرحمان قمر کے ڈائیلاگز نے شائقین کو دیوانہ بنا دیا . ڈرامہ بڑے پیمانے ہر ہٹ ہوا تو اسکی آخری قسط سینما میں‌دکھائی گئی . ڈرامہ ختم ہوئے چار سال کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن اس کا کریز ختم

    نہیں ہوا. اسی کریز کو دیکھتے ہوئے ڈرامے کے مصنف خلیل الرحمان قمر نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس کو کتابی شکل دیں گے ، ڈرامہ شائقین اس اعلان سے بہت خوش ہیں لیکن ان کا کہنا ہے ڈرامے کے وڈیو کلپس بھی اس میں شامل کئے جائیں . خلیل الرحمان قمر نے اس میں جو ڈائیلاگز لکھے وہ آج تک مقبول ہیں اور زبان زد عام ہیں. خلیل الرحمان قمر کا کہنا ہےکہ وہ اس ڈرامے کو کتابی شکل دیں گے تو شائقین پڑھ کر مزید لطف اندوز ہوں گے.

  • کیا منشا پاشا پنجابی فلم کریں گی

    کیا منشا پاشا پنجابی فلم کریں گی

    خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ منشا پاشا نے حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں جب بھی کوئی کام کرتی ہوں مجھے میرے مداح بہت زیادہ پذیرائی دیتے ہیں. انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں ہے کہ مجھے فلموں میں‌کام کرنے کا شوق نہیں مجھے بالکل کام کرنا ہے فلموں میں‌ لیکن کوئی اچھی فلم آفر ہو تو کروں نا. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ ایسا بھی نہیں ہے کہ میں صرف اردو فلمیں کروں گی مجھے پنجابی فلمیں آفر ہوئیں تو میں‌پنجابی فلمیں بھی کروں گی اور اس کےلئے میں خاص طور پر پنجابی سیکھوں گی . انہوں نے کہا کہ اب جو

    فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں وہ کورونا سے پہلے تیار ہوئی تھیں اور ریلیز کی منتظر تھیں . اچھی بات یہ ہے کہ فلمیں ریلیز ہو رہی ہیں اور شائقین سینما گھروں تک آرہے ہیں. مولا جٹ نے پاکستانی سینما کی تاریخ میں سب سے زیادہ بزنس کیا ہے جو کہ یقینا پاکستانی سینما کے لئے ایک اچھی پیش رفت ہے. یاد رہے کہ منشا پاشا آج کل ڈرامہ سیریل حاصل لا حاصل کی لاہور میں شوٹنگ کررہی ہیں اور اس میں وہ ایک اہم کردار نبھا رہی ہیں. منشا پشا کے ساتھ اس ڈرامے میں عباس اشرف اور آغا علی مرکزی کردار نبھا رہے ہیں.

  • کیا سارا خان فلم کریں گی ؟

    کیا سارا خان فلم کریں گی ؟

    اداکارہ سارا خان سے انکے حالیہ انٹرویو میں جب سوال ہوا کہ کیا وہ فلم میں کام کریں گے تو انہوں نے کہا کہ کون سا ایسا آرٹسٹ ہے جو فلم نہیں‌ کرنا چاہے گا؟ ہر فنکار کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خود کو بڑی سکرین پر دیکھے اور سراہا جا ئے. میری بھی خواہش ہے کہ میں بڑی سکرین پر نظر آئوں لیکن میں فلم اپنی شرائط پر کروں گی کیونکہ بہت ساری چیزیں ایسی ہیں جو میں نہیں‌ کرتی ، میں جو ہوں اور جس طرح کی ہوں اگر اسی طرح کا کردار ملے تو یقینا میں کروں گی. اور اگر میں نے ابھی تک کوئی فلم نہیں کی تو اسکی وجہ ہی یہی ہے کہ مجھے کوئی ایسی کوئی کہانی

    سمجھ میں نہیں آئی کہ میں کرسکوں ،باقی آفرز تو آتی رہتی ہیں. سارا خان نے ایک سوال کے جواب میں‌ کہا کہ میں آئٹم سانگ کے حق یا خلاف نہیں‌ ہوں‌لیکن زبردستی کسی چیز کو فلم میں ڈالنا اس کے ضرور خلاف ہوں. ہمیشہ جو چیز دکھائی جا رہی ہواسکا کوئی جواز ہونا چاہیے. لاجک کے بغیر جو بھی کام کریں گے اس پر یقینا تنقید آتی ہے. سارا خان نے مزید کہا کہ اگر مجھے کوئی کمال کی کہانی اور میرے مزاج کے مطابق اس میں کردار مل گیا تو آپکو میں فلم میں دکھائی دوں گی ورنہ ٹی وی تو کررہی رہی ہوں.