Baaghi TV

Tag: ڈرون

  • اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی

    دبئی :اسرائیلی صدرکی عرب امارات پرحوثیوں کے ڈرون حملوں کی مذمت:جدید دفاعی نظام کی پیشکش بھی کردی،اطلاعات کے مطابق ابو ظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی سپریم کمانڈر شیخ محمد بن زاید النہیان کو ریاست اسرائیل کے صدر اسحاق ہرزوگ نے فون کیا ہے ، جس میں عرب امارات پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے دہشت گردانہ حملوں کی شدید مذمت کی گئی۔

    عرب امارات کے ڈپٹی سپریم کمانڈرشیخ محمد بن زاید النہیان سے گفتگو کرتے ہوئے حوثیوں کے حملوں کوبزدلی قرار دیتے ہوئے اسے ایک مجرمانہ فعل قراردای ، اور متحدہ عرب امارات پر اپنی سلامتی اور خودمختاری کے دفاع کے لیے کیے جانے والے تمام اقدامات کی حمایت پر زور دیا۔

    اسرائیلی صدر نے ان مجرمانہ حملوں کے متاثرین کے لیے شیخ محمد سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔جس کے جواب میں شیخ محمد نے صدر ہرزوگ کا یو اے ای اور اس کے عوام کے تئیں ان کے موقف اور مخلصانہ جذبات کا شکریہ ادا کیا۔

    ادھر ابوظبی میں ہونے والے حوثی باغیوں کے حملے کے بعد اسرائیلی نے متحدہ عرب امارات کو سیکیورٹی انٹیلیجنس میں معاونت کی پیش کش کردی۔

    عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ نے ابوظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید کو تعزیتی خط لکھا جس میں انہوں نے ایک روز قبل ابوظبی میں ہونے والے حملے کی شدید مذمت کی۔

    انہوں نے حوثی باغیوں کے راکٹ حملے میں تین شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ساتھ چلنے اور انتہا پسند تنظیموں کو شکست دینے کی پیش کش کی۔

    اپنے خط میں اسرائیلی وزیراعظم نے لکھا کہ ’اسرائیل خطے میں جنگ اور انتہا پسندی کے خلاف ہے، ہم اپنے اتحاد سے مشترکہ دشمن کو باآسانی شکست دے سکتے ہیں‘۔ نفتالی نے لکھا کہ ’اسرائیل اس جنگ میں ابوظبی کے شانہ بشانہ ہے اور ہم ہر قسم کے تعاون کو بھی تیار ہیں‘۔

    انہوں نے لکھا کہ ’اگر یو اے ای چاہیے تو عوام کی حفاظت اور اس طرح کے حملوں کو ناکام بنانے کے لیے اسرائیل کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ متحدہ عرب امارات کو کسی بھی حملے کی صورت میں پیشگی اطلاع اور جوابی کارروائی کی معاونت فراہم کرسکتی ہے‘۔

    واضح رہے کہ متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظبی میں منگل کے روز تین پیٹرولیم ٹینکرز پر ڈرون راکٹ حملے ہوئے، جس میں پاکستانی سمیت تین افراد جاں بحق جبکہ 6 زخمی ہوئے۔

    راکٹ حملے کے بعد ابوظبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب نئی تعمیر ہونے والی عمارت میں خوفناک آتشزدگی ہوئی تھی۔

    یمن کے حوثی باغیوں نے میزائل حملے کی ذمہ داری قبول کی اور اس کارروائی کو اپنے خلاف جاری آپریشن کا ردعمل قرار دیا ہے۔ متحدہ عرب امارات کے وزیرخارجہ عبداللہ بن زاید نے کہا کہ ہم ان دہشت گردانہ حملوں کا بھرپور جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔

  • ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    ابوظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی عرب کا یمن پر فضائی حملہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق حوثیوں کی جانب سے ابو ظہبی پر ڈرون حملوں کے بعد سعودی اتحاد نے یمن پر حملہ کیا ہے

    صنعا کے اللیبیہ ضلع پر سعودی جنگی طیاروں کے فضائی حملوں میں کم از کم 12 شہری ہلاک ہو گئے ہیں سعودی اتحاد نے ان حملوں کو ابوظہبی ہوائی اڈے اور المصافہ کے علاقے میں کل کی انصار اللہ کی کارروائی کا ردعمل قرار دیا۔ان حملوں کے نتیجے میں پانچ رہائشی مکانات تباہ ہو گئے۔ نیز صنعاء کے اسپتالوں کے تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق اب تک 12 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہوچکے ہیں۔

    حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات کے دارالحکومت ابوظہبی میں دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ،اسکائی نیوز عربیہ نے منگل کی صبح رپورٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد کی افواج نے متحدہ عرب امارات میں حوثیوں کے حملوں کے جواب میں یمنی دارالحکومت صنعا پر بمباری شروع کردی ہے اتحادی فوج کے ایک بیان کے مطابق، ’’یہ فضائی حملے دھمکیوں اور فوجی ضروریات کے جواب میں شروع کیے گئے تھے۔اتحادی فضائیہ صنعا کے آسمان پر چوبیس گھنٹے آپریشن کر رہی ہے۔ ہم شہریوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے فوجی کیمپوں اور حوثیوں کے اجتماعات سے دور رہیں

    میڈیا رپورٹ کے مطابق فضائی حملے میں سابق فوجی عہدیدار کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہے، حوثیوں نے دعوی کیا ہے کہ سعودی حملے میں تقریبا 20 افراد ہلاک اور متعددزخمی ہوئے ہیں، حملےمیں متعدد گھر بھی تباہ ہوئے ہیں۔

    دوسری جانب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے یو اے ای کے ہم منصب سے فون پر بات کرتے ہوئے متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کے حملے کی مذمت کی ہے سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے اپنے ہم منصب شیخ محمد بن زاید کو فون کیا، جس کے دوران انہوں نے حوثی ملیشیا کے یو اے ای پر حملے کی مذمت کی۔دونوں رہنماؤں نے اس بات کا عزم کیا کہ یہ دہشت گردانہ کارروائیاں جنہوں نے مملکت اور متحدہ عرب امارات کو نشانہ بنایا، دونوں ممالک کے "عزم اور ان جارحانہ طرز عمل کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کے عزم” میں اضافہ کریں گے، جو حوثی ملیشیا کی طرف سے انجام دیے گئے ہیں، جنہوں نے یمن میں تباہی مچا رکھی ہے، یمنی شہریوں کو ہلاک کیا ہے۔ عوام اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو غیر مستحکم کرنے کے مقصد سے "افراتفری پھیلانے کی مذموم اور ناکام کوششیں” جاری رکھیں۔

    سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان میں کہا گیا کہ ولی عہد شہزادوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کی ان صریح خلاف ورزیوں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں اور ان دہشت گردانہ جرائم کو مسترد اور مذمت کریں جو علاقائی اور بین الاقوامی امن و سلامتی کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

    سعودی ولی عہد نے جاں بحق افراد کے لیے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی۔
    شیخ محمد بن زاہد نے مخلصانہ جذبات کے لیے شہزادہ محمد بن سلمان کا شکریہ ادا کیا،گفتگو کے دوران، انہوں نے علاقائی امور اور مشترکہ دلچسپی کے امور پر بھی تبادلہ خیال کیا۔

    سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے ٹویٹر پر کہا کہ آج مملکت اور متحدہ عرب امارات کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملے خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔ حملے اس بات کی بھی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ ملیشیا علاقائی اور بین الاقوامی سلامتی اور استحکام کے لیے خطرات کا ایک بڑا ذریعہ بن چکی ہے۔”اس کے ساتھ ہی، ہم حوثیوں کی مداخلت سے نمٹنے اور مملکت اور اپنے خطے کی سلامتی کے دفاع کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

    حملے کے کچھ دیر بعد، یو اے ای کے وزیر خارجہ عبداللہ بن زاید نے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن سے کہا کہ وہ حوثیوں کی ایک دہشت گرد تنظیم کی حیثیت کو بحال کریں۔ امریکی صدر جو بائیڈن، جنہوں نے گزشتہ سال اس تحریک کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کی امریکی فہرست سے نکال دیا، دلیل دی کہ اس تقرری سے یمن کو انسانی امداد کی فراہمی میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے کیونکہ یہ ملک دنیا کے بدترین انسانی بحران کا شکار ہے۔

    متحدہ عرب امارات میں حوثیوں کے حملوں کے پیچھے کیا ہے؟ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق ڈرون حملے کا دعویٰ یمن کے حوثیوں نے متحدہ عرب امارات پر کیا، جس کے نتیجے میں ابوظہبی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر کم از کم تین افراد ہلاک ہوئے، متحدہ عرب امارات ، جو حوثیوں کے خلاف لڑنے والے سعودی زیرقیادت اتحاد کا رکن ہے، اور مارچ 2015 سے یمن کی حکومت کی باضابطہ حمایت کر رہا ہے – نے بڑی حد تک حوثیوں پر فائرنگ سے گریز کیا ہے۔ سعودی عرب نے یمن سے بھیجے گئے میزائل اور ڈرون حملوں کا خمیازہ برداشت کیا ہے اور متحدہ عرب امارات پر حوثیوں کا آخری حملہ 2018 میں ہوا تھا۔

    متحدہ عرب امارات یمن سے آگے ہے، اور یمن کے ساتھ سعودی عرب کی طویل سرحد کے برعکس، اس ملک کے ساتھ کوئی سرحد نہیں ہے۔ لیکن حوثیوں کی جانب سے متحدہ عرب امارات کو نشانہ نہ بنانے کی طویل عرصے سے ایک فعال حکمت عملی بھی دکھائی دیتی ہے،پچھلے کچھ سالوں سے، متحدہ عرب امارات نے یمن میں اپنی براہ راست فوجی مداخلت کو کم کیا ہے۔

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

  • بریکنگ، ابوظہبی  ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

    بریکنگ، ابوظہبی ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے ابوظہبی میں ڈرون حملے پر اظہار افسوس کیا ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے سینئر صحافی مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ ابوظہبی ایئرپورٹ پر بزدلانہ حملے کے بارے میں سن کر بہت دکھ ہوا۔ دنیا کا سب سے پرامن شہر حملوں کا مستحق نہیں ،

    ابوظہبی میں ڈرون حملہ،ایک پاکستانی اور 2 بھارتی شہری مارے گئے ،گلف نیوز نے تین شہریوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے اور کہا ہے کہ مارے جانیوالوں میں ایک پاکستانی اور دو بھارتی شہری شامل ہین، پولیس کا کہنا ہے کہ ابوظہبی کے صنعتی علاقے میں ایندھن لے جانے والے 3 ٹینکر پھٹ گئے، ابوظہبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعمیراتی مقام پر آگ بھڑک اٹھی یمنی حوثی باغیوں نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی، واقعہ میں چھ افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے،

    عرب میڈیا کے مطابق یہ حملے یمنی فورسز نے کروائے، جبکہ یمنی اور ایرانی میڈیا کے مطابق ایک مرتبہ پھر سیٹیلائٹ ووڈیو نشر کی گئی جس میں ڈرون چلانے کی بیس کو اس مقام پر دکھایا گیا، جہاں نیٹو افواج کا پڑاو ہے۔ خطہ میں ہنگامی حالت سمیت غیر ملکیوں بشمول یمنی لبنانی ایرانی شہریوں کی گرفتاریاں شروع ہو چکی ہیں

    متحدہ عرب امارات پر حوثیوں نے ڈرون حملہ کیا ہے ،خبر رساں ادارے کے مطابق ڈرون حملے کے بعد ابوظہبی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر تعمیراتی مقام پر آگ بھڑک اٹھی،ابوظہبی پولیس نے ہوائی اڈے پر لگنے والی آگ کو "معمولی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی ہوائی اڈے میں اس مقام پر لگی جہاں توسیع ہو رہی تھی،ابوظہبی کی سرکاری آئل کمپنی کے اسٹوریج کے قریب تین پٹرولیم ٹرانسپورٹ ٹینکرز پر ایک الگ دھماکے کی اطلاع بھی ہے ابوظہبی پولیس کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ متعدد ڈرونز نے المصفا صنعتی علاقے کے ساتھ ساتھ شہر کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے مقامات پر فیول کے ٹینکوں پر بم گرائے۔

    یمنی فریق نے کہا کہ انہوں نے اماراتی حکام کو آخری وارننگ عمانی فریق کے ذریعے دی تھی، جس میں ملک سے یمنی عوام کے خلاف جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا ،یمن کے حوثی باغیوں نے متحدہ عرب امارات پر حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ابوظہبی نے واقعات کی تفصیلات پیش کیے بغیر کہا کہ واقعات سے کوئی خاص نقصان نہیں ہوا۔

    یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جنوبی کوریا کے صدر متحدہ عرب امارات کے دورے پر ہیں۔ اتوار کو اماراتی وزیر اعظم اور دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم کے ساتھ جنوبی کوریا کے صدرمون جائی ان نے ملاقات کی، دونوں ممالک درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی فروخت کے لیے تقریباً 3.5 بلین ڈالرکا معاہدہ کر رہے ہین

    حوثی فوج کے ترجمان یحیی سرئی کا کہنا ہے کہ گروپ نے متحدہ عرب امارات میں حملہ کیا۔ انہوں نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں اور کہا کہ جلد ہی ایک بیان جاری کیا جائے گا۔حوثیوں نے ابوظہبی کے ہوائی اڈے کے ساتھ ساتھ امارات کے براکہ نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملوں کا دعویٰ کیا ہے – اس دعوے کی اماراتی حکام ماضی میں تردید کر چکے ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے تاحال کسی کو حملے کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ واقعے کی تحقیقات کے لیے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی گئی ہے جو ڈرون حملے کو پیشگی نہ روک پانے پر تفتیش کرے گی

    کرونا میں مرد کو ہمبستری سے روکنا گناہ یا ثواب

    فیس بک، ٹویٹر پاکستان کو جواب کیوں نہیں دیتے؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم نے بریفنگ میں کیا انکشاف

    ٹویٹر پر جعلی اکاؤنٹ، قائمہ کمیٹی اجلاس میں اراکین برہم،بھارت نے کتنے سائبر حملے کئے؟

    بیس ہزار کے عوض خاتون نے ایک ماہ کی بیٹی کو فروخت کیا تو اس کے ساتھ کیا ہوا؟

    بھارت ، سال کے ابتدائی چار ماہ میں کی 808 کسانوں نے خودکشی

    سال 2020 کا پہلا چائلڈ پورنوگرافی کیس رجسٹرڈ،ملزم لڑکی کی آواز میں لڑکیوں سے کرتا تھا بات

    سائبر کرائم ونگ کی کاروائی، چائلڈ پورنوگرافی میں ملوث تین ملزمان گرفتار

    سائبر کرائم کا شکار ہونے والی خواتین خودکشی کی طرف مائل ہو جاتی ہیں،انکشاف

    پاکستانی اداروں پر سائبر حملوں میں اضافہ، بھارت سمیت کئی ممالک ملوث

  • ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا

    واشنگٹن:ناقص معلومات پرہزاروں بے گناہ مسلمانوں کی ہلاکت کا امریکہ نے اعتراف کرلیا،اطلاعات کے مطابق امریکا کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں ناقص انٹیلی جنس معلومات پر فضائی کاروائیوں میں ہزاروں بے گناہ لوگوں کے قتل کا انکشاف ہوا ہے۔

    غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگون کی خفیہ دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مشرقی وسطیٰ میں امریکا کی فضائی کاروائیاں ناقص انٹیلی جنس معلومات سے بھرپوررہیں۔

    شام میں امریکی فورسز کی فضائی کارروائی، 18 اتحادی جنگجو ہلاک امریکی اخبارکی رپورٹ کے مطابق غلط اطلاعات کی بنیاد پرکاروائیوں میں بچوں سمیت ہزاروں عام شہری قتل کر دیےگئے لیکن کسی بھی مقام پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی نظر نہیں آئی۔

    دوسری جانب رپورٹ منظرعام پر آنےکے بعد ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ کیپٹن بل اربن نے اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ بے قصور شہریوں کی ہلاکت پر شرمندہ ہیں اور غلطیوں سے سیکھنےکی کوشش کر رہےہیں۔

    یاد رہے کہ دوسری طرف چند دن پہلے امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ فوجی انخلا سے چند دن قبل کابل میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں دس معصوم شہری ہلاک ہوئے تھے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ 29 اگست کو کابل میں ہونے والے ڈرون حملے میں ایک امدادی کارکن سمیت اس کے خاندان کے نو افراد ہلاک ہوئے تھے جن میں سات بچے بھی شامل تھے۔

    اس حملے میں ہلاک ہونے والی سب سے کم سن بچی دو سال کی سمعیہ تھی۔

    پینٹاگان کا کہنا ہے کہ امریکی انٹیلیجنس نے اس شخص کی کار کی آٹھ گھنٹوں تک نگرانی کی تھی اور ان کا خیال تھا کہ اس کا تعلق افغانستان میں شدت پسند تنظیم نام نہاد دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے تھا۔

    یہ جان لیوا حملے افغانستان میں امریکہ کی 20 سال تک جاری رہنے والی جنگ سے قبل آخری کارروائیوں میں سے ایک تھا۔

    جنرل کینتھ مکینزی نے اس حملے کو ایک افسوسناک غلطی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں کہ یہ خاندان شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ خراسانی گروپ سے منسلک ہو یا امریکی افواج کے لیے خطرہ ہو۔

    ان کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک غلطی تھی اور میں اس پر تہہ دل سے معذرت خواہ ہوں۔‘

  • جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان

    جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان

    بیجنگ: جب تک افغان عوام کے قاتل امریکی فوجیوں کو سزا نہیں ملے گی:مطالبہ کرتے رہیں گے:چین کا اعلان ،اطلاعات کے مطابق چینی وزارت خارجہ نے امریکہ کی مشرقی ایشیا اور ایشیا پیسیفک علاقے میں تفرقہ ڈالنے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے افغان عوام کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجیوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

    چائنا ڈیلی کے مطابق، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وانگ ون بین نے افغان عوام کے قتل عام میں ملوث امریکی فوجیوں کو سزا نہ ملنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پنٹاگون کے کابل میں ڈرون کے ذریعے‏عام لوگوں پر حملے میں ملوث اپنے فوجیوں کے سزا نہ دینے کے فیصلے پر خاموش نہیں بیٹھا رہا جا سکتا۔

    وانگ نے کہا کہ جس وجہہ سے زیادہ غم و غصہ ہے وہ یہ کہ امریکہ اس قتل عام کے ذمہ داروں کو عدالتی تحفظ دے کر انکی جرأتیں بڑھا رہا ہے۔ چین نے کابل قتل عام کے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

    واضح رہے کہ واشنگٹن پوسٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ پنٹاگون نے ان امریکی دہشتگردوں کے خلاف کسی بھی طرح کی قانونی کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو 29 اکتوبر کو کابل میں ڈرون حملے میں ملوث تھے۔

    امریکہ کے اس دہشتگردانہ حملے میں 10 بے گناہ افراد جاں بحق ہو گئے تھے جن میں اکثر بچے بتائے جاتے ہیں۔

  • خبردار : ڈرائیور غلطی نہ کریں ورنہ ڈرون پکڑلیں گے ، نئی ٹیکنالوجی نے تہلکہ مچادیا

    خبردار : ڈرائیور غلطی نہ کریں ورنہ ڈرون پکڑلیں گے ، نئی ٹیکنالوجی نے تہلکہ مچادیا

    سپین : خبردار غلطی نہ کرنا ورنہ ڈرائیورز کو ڈرون پکڑلیں گے اور پھر ہوا بھی ایسے ، اطلاعات کے مطابق یورپی ملک سپین میں دورانِ ڈرائیونگ قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیورز کو پکڑنے کے لیے ڈرون میدان میں آ گئے۔

    غیر ملکی میڈیا کے مطابق یورپی ملک سپین کے جزیرے کینری میں پولیس کی جانب سے ڈرون کا استعمال شرع کر دیا گیا ہے جو ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں پرنظر رکھیں گے اور ساتھ ساتھ اوور ٹیکنگ اور گاڑیوں کے درمیان کم فاصلہ رکھنے جیسی غلطیاں کرنے والے ڈرائیورز کو قانون کی پکڑ میں لائیں گے۔

    خبر رساں ادارے کا مزید کہنا ہے کہ ٹریفک کنٹرول کے نئے طریقہ کار میں پولیس اہلکار کیساتھ ایک ساتھی ہوگا جو ڈرون کو چلانے کے اپنے فرائض انجام دیگا۔ ڈرون سے حاصل کی گئی تصاویر کو دیکھ کر تمام معلومات موٹر سائیکل ٹریفک پولیس کو دیگا جو خلاف ورزی کرنے والے ڈرائیور کو روک سکے گا۔

    یاد رہے کہ اسپین میں شروع ہونے والے اس نئے طریقہ کار کے ذریعے اب تک کئی ڈرائیورز کو پکڑا گیا ہے جبکہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں سے چالان بھی وصول کیا گیا ہے