Baaghi TV

Tag: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ

  • علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا کالعدم قرار

    علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا کالعدم قرار

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اسلام آباد نے وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا ٹرائل کورٹ کا حکم کالعدم قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں علی امین گنڈاپور کی اپیل پر سماعت کی جج شاہ رخ ارجمند نے سماعت کی، درخواست گزار وکیل راجہ ظہور الحسن اور پراسیکیوٹر محمد سلمان خان عدالت میں پیش ہوئےعلی امین گنڈاپور کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کی گئی جو عدالت نے منظور کرلی، وکیل نے استدعا کی کہ سرکاری شیڈول کے باعث علی امین گنڈا پور عدالت پیش نہیں ہو سکتے لہٰذا
    استثنیٰ دیا جائے۔

    وکلا کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دینے کا حکم کالعدم قرار دیا،عدالت نے حکمنامے میں کہا کہ پراسس سرور نے نوٹسز تعمیل نہیں کرائے اور ملزم کو موصول نہ ہوسکے اس لیے ملزم کے خلاف دفعہ 87 اور 88 کی کارروائی ختم کی جاتی ہے، درخواست گزار 50 ہزار روپے کے مچلکے اور ایک مقامی ضامن دے، عدالت نے کیس واپس ٹرائل کورٹ کو بھجواتے ہوئے سماعت14 مارچ تک ملتوی کر دی۔

    پاکستان کا غزہ میں رمضان المبارک میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ

    واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف تھانہ بہارہ کہو میں اسلحہ اور شراب برآمدگی کا کیس درج ہے، جوڈیشل مجسٹریٹ نے مسلسل عدم پیشی پر علی امین گنڈاپور کو اشتہاری قرار دیا تھا۔

    اعظم سواتی کے خلاف مقدمات کی رپورٹ عدالت میں جمع

    بیوی کے جہاز میں نہ پہنچنے پر فلائٹ کو بم سے اڑانے کی دھمکی دینے …

  • عمران خان کیخلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار،نوٹس جاری

    عمران خان کیخلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار،نوٹس جاری

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس اسلام آباد،چیرمین پی ٹی آئی کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت ہونے کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا گیا،سول جج قدرت اللہ نے 9 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    تفصیلی فیصلہ میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار کے مطابق بشریٰ بی بی کا دوران عدت چیئرمین پی ٹی آئی سے نکاح ہوا،
    نکاح خواں مفتی سعید کے مطابق انہوں نے چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کا دو مرتبہ نکاح پڑھایا،نکاح خواں کے مطابق پہلا نکاح 1 جنوری 2018 کو پڑھایا گیا،نکاح خواں کے مطابق دوسرا نکاح فروری میں پڑھایا گیا، جنوری میں نکاح کے بعد بتایا گیا کہ بشریٰ بی بی عدت میں ہیں،نکاح خواں کو عدت والی بات گواہ عون چوہدری کی موجودگی میں بتائی گئی،
    درخواست گزار کے مطابق پہلا نکاح لاہور جبکہ دوسرا نکاح اسلام آباد میں ہوا، پہلے نکاح کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے ایک ساتھ بنی گالا میں رہنا شروع کردیا تھا،عدت میں نکاح مبینہ طور پر جرم کا ارتکاب ہے،ایک ساتھ بطور میاں بیوی رہنا مبینہ غیر قانونی نکاح کا نتیجہ ہے،معاملہ عدالتی دائرہ اختیار میں آتا ہے کیونکہ بنی گالا اسلام آباد کی حدود میں ہے،چیئرمین پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو 20 جولائی کو پیشی کیلئے نوٹس جاری کیے جائیں،

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کے خلاف غیر شرعی نکاح کیس قابل سماعت قرار دے دیا۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے جج قدرت اللہ نےگزشتہ روز محفوظ کیا گیا فیصلہ سنا دیا عدالت نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو 20 جولائی کے لیے نوٹس جاری کردیا-وکیل درخواست گزار کا کہنا تھا کہ چیئرمین پی ٹی آئی سے نکاح کے وقت بشریٰ بی بی کی عدت مکمل نہیں ہوئی تھی، چیئرمین پی ٹی آئی کا نکاح لاہور میں ہوا لیکن دونوں بنی گالا میں رہ رہے تھے،دونوں نے پہلے نکاح کے بعد کافی وقت بنی گالا میں گزارا۔

    وکیل درخواست گزاررضوان عباسی نے دوران دلائل مخلتف عدالتوں کےفیصلوں کا حوالہ بھی دیا تھا سول جج قدرت اللہ نے وکیل درخواست گزار رضوان عباسی کے دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا –

    کینیڈا میں ہوٹل کی خاتون ملازمہ سے نازیبا حرکت پرپی آئی اے کا فضائی میزبان …

    واضح رہے کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور بشریٰ بی بی کے خلاف عدت کے دوران نکاح کے الزام کے کیس میں نکاح خوان مفتی محمد سعید کا عدالت میں جمع کروایاگیا تھا،نکاح خوان مفتی محمد سعید نے نکاح سے متعلق بیان 18جنوری 2023 کو دیاتھا اپنے بیان میں مفتی سعید نے کہا تھا کہ جنوری 2018 میں لاہور ڈیفنس میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کا نکاح پڑھایا، عون چوہدری اور ذلفی بخاری بطور دو گواہان نکاح کی تقریب میں شریک ہوئے۔

    آج رات سے مون سون بارشوں کا نیا سلسلہ جاری

    مفتی سعید نے بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے نکاح سے قبل دریافت کیا کہ بشرٰی بی بی شرعی طور پر نکاح کے قابل ہیں یا نہیں، بشرٰی بی بی کے ہمراہ موجود خواتین کا جواب ملنے کے بعد ان کا نکاح عمران خان سے پڑھادیا بعد میں مختلف ذرائع سے معلوم ہوا کہ بشرٰی بی بی نے سابقہ شوہر سے طلاق کے بعد عدت پوری نہیں کی-

    پاکستان کرکٹ ٹیم اگلے سال نیوزی لینڈ سے اضافی ٹی ٹوئنٹی میچزکی سیریز کھیلے گی

  • عمران خان کیخلاف غیر شرعی نکاح کا کیس،عون چوہدری کا بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست منظور

    عمران خان کیخلاف غیر شرعی نکاح کا کیس،عون چوہدری کا بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست منظور

    اسلام آباد: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے عمران خان کے خلاف غیر شرعی نکاح کے کیس میں عون چوہدری کا بیان ریکارڈ کروانے کی درخواست منظور کر لی۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کے خلاف غیر شرعی نکاح کے کیس کی سماعت ہوائی سول جج نصرمِن اللّٰہ نے کیس کی سماعت کی دوران سماعت جج نصرمِن اللّٰہ نے عون چوہدری کا بیان قلمبند کرنے کی اجازت دے دی عون چوہدری آئندہ سماعت پر اپنا بیان عدالت میں قلم بند کروائیں گے۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں پیشی،عمران خان کچھ دیر بعد زمان پارک لاہور سے روانہ ہوں …

    واضح رہے کہ 27 اپریل کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے خلاف غیر شرعی نکاح کے کیس میں درخواست گزار کی عون چوہدری کا بیان قلمبند کرانے کی درخواست پرسول جج نصرمِن اللّٰہ کے رخصت پر ہونے کے باعث محفوظ فیصلہ مؤخر کر دیا تھا۔

    چئیرمین پی ٹی آئی عمران خان کا اسلام آباد عدالت پیشی سے قبل ویڈیو پیغام

  • توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    توشہ خانہ کیس: عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

    اسلام آباد کی سیشن عدالت نے توشہ خانہ کیس میں عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

    باغی ٹی وی : اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹس کے ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس کی سماعت کی عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری نے عدالت میں آج حاضری سےاستثنیٰ کی درخواست دائر کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ آج بھی اسلام آباد بار کی ہڑتال ہے اور 3 روز سے ہڑتال چل رہی ہے۔

    اس پر وکیل امجد پرویز نے کہا کہ وکلا کی ہڑتال میں عمران خان تو شامل نہیں، اگروکیل ملزم ہڑتال پر ہوتے تو عمران خان کو کمرہ عدالت میں ہونا چاہیے تھا، ٹرائل کی اسٹیج پر ملزم کی کمرہ عدالت میں حاضری لازم ہوتی ہے، عمران خان کو آنا چاہیے اگر ان کے وکیل ہڑتال پر جانا چاہتے ہیں۔

    عمران خان کی جان کو خطرہ ہے، حکومت نے ان سے سیکیورٹی واپس لے لی ہے، چیف جسٹس اسلام آباد نے چیئرمین پی ٹی آئی کی سیکیورٹی واپس لینے پر رپورٹ طلب کرلی ہے، سیکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان سیشن عدالت میں موجود نہیں، وہ تو ویڈیو لنک کے ذریعے بھی عدالت میں پیش ہوسکتے ہیں، توشہ خانہ کیس میں کیا جلدی ہے، معمول کے مطابق ڈیل کیا جائے، سپریم کورٹ نے کہا کریمنل کیسز کو جلد نمٹایا جائے، لہٰذا عمران خان کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کی جائے تاہم دیگر عدالتی کارروائی جاری رکھیں گے۔

    وکلا کے دلائل پر جج نے استفسار کیا کہ مشترکہ مشاورت سے عدالتی سماعت سے متعلق بتا دیں، اس پر وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ رمضان کے بعد توشہ خانہ کی سماعت رکھ لیں، کیا جلدی ہے؟جج نے فریقین کو ہدایت کی کہ آپ مشاورت کرلیں، عدالت تو ساڑھے 8 بجے بیٹھ گئی ہے۔

    خواجہ حارث نے سماعت دو ہفتوں تک ملتوی کرنے کی تجویز دی جس پر عدالت نے مزید سماعت 29 اپریل تک ملتوی کرتے ہوئے عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی۔

    علاوہ ازیں عمران خان کے وکلا کی جانب سے کیس قابل سماعت ہونے کی درخواست بھی دائر کی گئی ہے اور آئندہ سماعت پر توشہ خانہ کیس کے قابلِ سماعت ہونے پر دلائل دیے جائیں گے۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لئے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمران جماعت کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف کو فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ڈکلیئر نہیں کیا۔

    آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے موقف اپنایا تھا کہ 62 ون ایف کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے جب کہ سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

    واضح رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کو بھی آئین کی اسی شق کے تحت اسی نوعیت کے معاملے میں تاحیات نااہلی قرار دیا گیا تھا، ان پر اپنے بیٹے سے متوقع طور پر وصول نہ ہونے والی سزا گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کا الزام تھا۔

  • جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم

    جوڈیشل کمپلیکس سانحہ: امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم

    اسلام آباد کی مقامی عدالت نے عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس پیشی پر ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار 59 پی ٹی آئی کارکنوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد کے ڈیوٹی مجسٹریٹ ملک امان نے سماعت کی۔ پولیس کی جانب سے 60 ملزمان کا ریکارڈ عدالت میں پیش کیا گیا جبکہ پی ٹی آئی وکلا بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

    عمران خان سمیت دیگر پی ٹی آئی رہنماؤں پر ایک اور مقدمہ درج

    ضلع کچہری کی عدالت میں پیش ملزمان میں پی ٹی آئی کے سابق رکن قومی اسمبلی امجد خان نیازی بھی شامل ہیں، عدالت نے زخمی ملزمان کا طبی معائنہ کرانے کا حکم بھی دیا ہے۔

    پی ٹی آئی وکلا کی جانب سے ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر بھیجنے کی استدعا کی گئی جبکہ وکلا نے سابق ایم این اے امجد خان نیازی کا میڈیکل کروانے کی بھی استدعا کی عدالت نے آئی او کو حکم دیا کہ تمام ملزمان کو ایک ایک کر کے لائیں-

    وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ ملزم افضل کا 24 مارچ کا قطر کا ویزہ لگا ہوا تھا، ملزم افضل بائیکیا پر اپنے گھر جا رہا تھا جسے پولیس نے راستے سے گرفتار کر لیا، پولیس نے ہوٹلوں سے دکانوں سے جاکر لوگوں کو اٹھایا ہے۔

    آسٹریلیا :دریا میں اچانک لاکھوں مردہ مچھلیاں پانی کی سطح پر تیرنے لگیں

    پی ٹی آئی وکلا نے ملزم افضل کو کیس سے ڈسچارج کرنے کی استدعا کی اور کہا کہ ملزم کا مستقبل خراب ہو جائے اس کیس سے اس کا کوئی تعلق نہیں عمران خان کے آنے سے قبل پولیس نے گرفتاریاں کیں اور پولیس نے تمام گرفتار کارکنوں کو دہشتگردی کے مقدمے میں نامزد کر دیا۔

    عدالت نے ریمارکس دیئے کہ میرا اختیار نہیں کہ اس کیس میں کسی کو بری کر سکوں کیونکہ اس میں دہشتگردی کی دفعہ لگی ہے،صرف اس لیےکیس سن رہاہوں کہ یہ گرفتار ہیں، پولیس 24 گھنٹے سے زیادہ انہیں اپنے پاس رکھ نہیں سکتی عدالت میں زخمی ملزمان کی جانب سے زخم بھی دکھائےگئے-

    انشا آفریدی ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ پر کیوں؟

    پی ٹی آئی وکلا نے کہا کہ ملزم محمد افضل ایک گھر میں کام کرتا تھا جو اب باہر جا رہا ہے، ملزم محمد افضل بائیکیا پر اپنے گھر جارہا تھا کہ پولیس نے اس کو اور بائیکیا ڈارئیور کو ماراعدالت نے ریمارکس دیئے کہ ایسے مقامات پر جانے سے گریز کرنا چاہیے، ٹی وی پر دیکھا کہ پولیس نے کہا کہ جی 11 والی طرف جانے سے گریز کریں۔ زخمی ملزمان کی جانب سے عدالت میں زخم دکھائے گئے۔

    پی ٹی آئی وکلا کا کہنا تھا کہ ایسا رویہ کیسے چلےگا؟ بچوں کو بھی تشدد کا نشانہ بنایا گیا، اس پر عدالت نے کہا کہ میڈیا پر دو طرفہ صورتحال دیکھ رہے تھے، ایس ایچ او رمنا نے عدالت کو دکھایا وہ بھی زخمی ہوئے۔

    پولیس کی درخواست پر عدالت نے پی ٹی آئی رہنما امجد نیازی سمیت تمام ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیجنےکا حکم دے دیا عدالت نے پولیس کو شدید زخمی افراد کا پمز سے میڈیکل کروانےکا حکم بھی دیا۔

    غنڈہ نہیں ہوں مگرسلمان خان کو مارنے میں غنڈہ بن جاؤں گا، لارنس بشنوئی

  • اقدام قتل اور توشہ خانی کیس:عمران خان کی عدالت کے مقام کی منتقلی کی درخواست مسترد

    اقدام قتل اور توشہ خانی کیس:عمران خان کی عدالت کے مقام کی منتقلی کی درخواست مسترد

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے اقدام قتل اور توشہ خانہ کیس کی سماعت کے لیے عمران خان کی عدالت کے مقام کی منتقلی کی درخواست مسترد کردی۔

    باغی ٹی وی: چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے خلاف اقدام قتل کی دفعہ کے تحت تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمےکےکیس کی سماعت ضلع کچہری اسلام آباد میں ہوئی۔

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بابر اعوان نے سکیورٹی خدشات کے پیش نظر دونوں مقدمات کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کی درخواست دائر کی جسے عدالت نے مسترد کردیا۔

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئےکہا کہ دفعہ 109 کی حد تک مجھے تفتیش چاہیے،10 بجے تک لا کر دیں، عمران خان کی درخواستوں پر بھی 10 بجے فیصلہ کروں گا۔

    عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کی درخواست اور تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمے کی ضمانت پر فیصلہ کل تک مؤخر کرنے کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

    مدعی وکیل کی عمران خان کی ضمانت خارج اورپمز سے طبی معائنہ کروانے کی درخواست پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    وقفےکے بعد سماعت شروع ہوئی تو جج نے استفسارکیا کہ مقدمےکا تفتیشی افسر کہاں ہے؟ تفتیشی افسرکوبلائیں، جج نے حکم دیا کہ تفتیشی افسر جہاں بھی ہے اسے عدالت میں پیش ہونےکا کہیں۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حاضری معافی کی درخواستیں مسلسل آرہی ہیں، عمران خان کا بیان حلفی دیں کہ عمران خان کل میری عدالت میں پیش ہوں گے، آج تک عدالتی تاریخ میں نہیں ہوا کہ میں کسی اور عدالت میں جا کربیٹھ جاؤں، میں ساتھ والی عدالت میں بھی جا کر نہیں بیٹھ سکتا۔

    بابراعوان نےکل عمران خان کی عدالت پیشی کی یقین دہانی کرواتے ہوئےکہا کہ تھانہ سیکرٹریٹ کے کیس میں عمران خان کل عدالت پیش ہوں گے۔

    عدالت نے درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے مدعی وکیل کی ضمانت خارج اور پمزسے عمران خان کے طبی معائنے کی درخواست مسترد کردی جب کہ عمران خان کی آج حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور کرلی گئی۔

    عدالت نے عمران خان کی عدالت منتقلی کی درخواست بھی مستردکردی۔

    ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ نے عدالت میں پیش ہو کر بتایا کہ الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج عمران خان کےکہنے پر ہوا عدالت نے سوال کیا کہ کیا مدعی نے عمران خان کے خلاف کوئی ثبوت دیا ہے؟ اس پر ایس ایچ او تھانہ سیکرٹریٹ نے جواب دیا کہ یو ایس بی موجود تھی-

    اس پر عدالت نےکہا کہ یو ایس بی کا ذکر نہ کریں، اس میں عمران خان موجود نہیں، کوئی ثبوت عمران خان کےخلاف ہے تو بتائیں ؟ عمران خان کیس میں انصاف کے ساتھ تفتیش کرنی ہے، عمران خان گنہگار ہیں تو گنہگار کہنا ہے،انصاف کرنا ہے۔

    عدالت نے ایس ایچ او کو ہدایت کی کہ انصاف کےساتھ تفتیش کرنی ہے، آپ نے ڈرنا نہیں۔

    عدالت نے عمران خان کےخلاف تھانہ سیکرٹریٹ میں درج کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

    عدالت کا کہنا تھا کہ عمران خان کی حاضری معافی کی درخواستیں مسلسل آرہی ہیں، عمران خان کا بیان حلفی دیں کہ عمران خان کل میری عدالت میں پیش ہوں گے، آج تک عدالتی تاریخ میں نہیں ہوا کہ میں کسی اور عدالت میں جا کربیٹھ جاؤں، میں ساتھ والی عدالت میں بھی جا کر نہیں بیٹھ سکتا۔

    بابراعوان نےکل عمران خان کی عدالت پیشی کی یقین دہانی کرواتے ہوئےکہا کہ تھانہ سیکرٹریٹ کے کیس میں عمران خان کل عدالت پیش ہوں گے۔

  • اقدام قتل کا مقدمہ: عمران خان کی دو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ،سماعت کل تک ملتوی

    اقدام قتل کا مقدمہ: عمران خان کی دو درخواستوں پر فیصلہ محفوظ،سماعت کل تک ملتوی

    چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے اقدام قتل کی دفعہ کے تحت تھانہ سیکرٹریٹ مقدمہ میں ضمانت کی درخواست پر سماعت کل تک ملتوی کر دی-

    باغی ٹی وی: ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں عمران خان کی جانب سے ان کے وکیل بابر اعوان نے سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر درخواست دائرکی۔

    درخواست میں کہا گیا کہ ایجنسیوں کی رپورٹس کےتحت کچہری میں سکیورٹی الرٹ جاری ہے، پہلے بھی دہشت گردی کے واقعات ہوچکے ہیں، عمران خان کے ساتھ عام شہریوں کو بھی ضلعی کچہری میں خطرہ ہے۔

    وکیل بابر اعوان کا کہنا تھا کہ عمران خان کل اسلام آباد کی عدالتوں میں آئیں گےدو کیسزجوڈیشل کمپلیکس اورایک ضلع کچہری میں ہے،کل توشہ خانہ کیس میں آپ کی عدالت میں عمران خان نے پیش ہونا ہے، وزیراعظم، چیف کمشنر، وزیرداخلہ اور آئی جی اسلام آباد سے ضلعی کچہری میں سکیورٹی کی گارنٹی لیں۔

    جج نے ریمارکس دیئےکہ عدالت کو منتقل کرنےکا دائرہ اختیار میرے پاس بھی نہیں۔

    بابر اعوان نے استدعا کی کہ تھانہ سیکرٹریٹ اور توشہ خانہ کیسز کی سماعت جوڈیشل کمپلیکس میں کرلیں، تھانہ سیکرٹریٹ میں آج ضمانت میں توسیع کا فیصلہ بھی کل تک مؤخرکرلیں۔

    جج نے سوال کیا کہ کیا عمران خان نےکل آنا ہے میری عدالت میں؟ اس پر وکیل بابر اعوان نےکہا کہ عمران خان نے آپ کی عدالت میں آنا ہے، عمران خان تھانہ سیکرٹریٹ کے مقدمے میں حاضری دینا چاہتے ہیں۔

    دوران سماعت جج نے عمران خان کی درخواست درست کرنےکی ہدایت کردی، جج نے ریمارکس کیےکہ درخواست میں عمران خان نے لاہور جانا ہے لکھا ہے۔

    وکیل مدعی نےکہا کہ عمران خان کل آرہے ہیں تو آج بھی آسکتے تھے۔

    عدالت کے استفسار پر تفتیشی افسر نے بتایا کہ یو ایس بی نادرا کو بھجوائی ہے،کچھ بھی نہیں نکلا، ویڈیو کلپس میں عمران خان نہیں ہیں، وہ موقع پر موجود ہی نہیں۔

    ایڈیشنل سیشن جج ظفر اقبال نے تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئےکہا کہ دفعہ 109 کی حد تک مجھے تفتیش چاہیے،10 بجے تک لا کر دیں، عمران خان کی درخواستوں پر بھی 10 بجے فیصلہ کروں گا۔

    عمران خان کیس میں گنہگار ہیں یا نہیں؟ عدالت نے تفتیشی افسرکو 10 بجے تک رپورٹ دینے کا حکم دے دیا۔

    ایس ایچ او تھانہ سیکریٹریٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے باہر احتجاج عمران خان کی ایماء پر ہوا،جج ظفر اقبال نے استفسار کیا کہ کیا مدعی مقدمہ نے عمران خان کے خلاف کوئی ثبوت دیا ہے؟ –

    ایس ایچ او سیکریٹریٹ نے کہا کہ ہمارے پاس یو ایس بی میں ویڈیوز شواہد کے طور پر موجود ہیں-

    عدالت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کچہری سے جوڈیشل کمپلیکس منتقل کرنے کی درخواست اور تھانہ سیکرٹریٹ میں درج مقدمے کی ضمانت پر فیصلہ کل تک مؤخر کرنے کی درخواست پرفیصلہ محفوظ کرلیا۔

    مدعی وکیل کی عمران خان کی ضمانت خارج اورپمز سے طبی معائنہ کروانے کی درخواست پر بھی فیصلہ محفوظ کرلیا۔

    وقفےکے بعد سماعت شروع ہوئی تو جج نے استفسارکیا کہ مقدمےکا تفتیشی افسر کہاں ہے؟ تفتیشی افسرکوبلائیں۔

  • چائلڈ پورنو گرافی ثابت ہونے پرمجرم کو 21 لاکھ روپےجرمانہ اور29 سال قید سزا

    چائلڈ پورنو گرافی ثابت ہونے پرمجرم کو 21 لاکھ روپےجرمانہ اور29 سال قید سزا

    اسلام آباد کی عدالت نے چائلڈ پورنو گرافی کے مقدمہ میں جرم ثابت ہونے پر اسحاق نامی شخص کو 29 سال قید کی سزا سنا دی۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے مجرم محمد اسحاق پر مجموعی طور پر 29 سال قید کی سزا اور21 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا-

    سائبرکرائم سندھ کی کاروائی،خواتین کوہراساں کرنےاورچائلڈ پورنوگرافی کےالزام میں…

    مجرم محمد اسحاق کو بدفعلی پر 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ چائلڈ پورنو گرافی پر 14 سال قید اور 10 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی گئی۔

    مجرم محمد اسحاق نے 4 بچوں کے ساتھ زیادتی کے بعد ان کی ویڈیوز بنائی تھیں، غیر اخلاقی ویڈیو دکھانے پر مجرم کو ایک سال قید اور ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا۔

    قبل ازیں وفاقی تحقیقات ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم ونگ نے سوشل میڈیا پر خواتین کو جعلی ویڈیوز کے ذریعے ہراساں کرنے پر بنوں اور کرک سے 2 ملزمان کو گرفتار کیا تھا ملزمان وسیم خان اور محمد اشفاق خان پر الزام تھا کہ انہوں نے خواتین کی جعلی و نازیبا ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کی تھیں ملزمان کوگرفتارکرکے ڈی آئی خان میں پیکا ایکٹ کی سیکشن 21، 24 اور پی پی سی سیکشن 509 کے تحت مقدمات درج کرلیے گئے جبکہ ملزمان کے قبضے سے لیے گئے ڈیوائسز کو فرانزک تجزیہ کے لیے کے لیے لیبارٹری بھیجوا دیا گیا تھا-

    سوشل میڈیا پر خواتین کو جعلی ویڈیوز کے ذریعے ہراساں کرنے پر2 ملزمان گرفتار

    قبل ازیں فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) سندھ کے سائبرکرائم ونگ کی کاروائی ،خواتین کو ہراساں کرنے اور چائلڈ پورنوگرافی کےالزام میں 6 ملزمان کوگرفتارکیا تھاایف آئی اے سندھ کی جانب سےجاری اعلامیہ میں کہا گیا تھا کہ کراچی، حیدرآباد، سکھر اور گھوٹکی سے خواتین کو ہراساں کرنے چائلڈ پورنوگرافی کے الزام میں دو مشتبہ افراد ماجد محبوب اور محسن علی کو کراچی سے گرفتار کر کے ان کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا-

    زیرحراست ملزمان ماڈلنگ کے شعبہ میں جدوجہد کرنے والی لڑکیوں کی ویڈیو بنا کر انہیں بلیک میل اور ہراساں کرتے تھےمرکزی ملزم نے ایک متاثرہ کی فحش ویڈیو بنائی اور اپنے دوست کے ساتھ شیئر کی جسے اس نے مختلف واٹس ایپ گروپس میں شیئر کیا مرکزی ملزم سے 20 مختلف لڑکیوں کی فحش ویڈیوز برآمد ہوئی تھیں-

    دوست کے ساتھ جانے والی لڑکی اجتماعی زیادتی کے بعد قتل