Baaghi TV

Tag: ڈنمارک

  • ڈنمارک میں ایک ہفتے کے دوران تیسری بار قرآن پاک کی بے حرمتی

    ڈنمارک میں ایک ہفتے کے دوران تیسری بار قرآن پاک کی بے حرمتی

    کوپن ہیگن: ڈنمارک کے دارالحکومت میں عراق کے بعد مصر کے سفارت خانے کے سامنے بھی ہونے والے مظاہرے میں دو انتہا پسندوں نے قرآن پاک کے نسخے کو جلانے کی ناپاک جسارت کی۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈنمارک میں ایک ہفتے کے دوران قرآن کی بے حرمتی کا یہ تیسرا واقعہ ہے جب کہ اس قبل سویڈن میں بھی رواں ماہ تین بار قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی مکروہ حرکت کی گئی۔

    ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں منگل کے روز ایک مرتبہ پھر قرآن مجید کی بے حرمتی کی گئی ہے اور اسلام مخالف مٹھی بھر کارکنوں نے مصر اور ترکیہ کے سفارت خانوں کے سامنے قرآن مجید کے نسخے نذرآتش کیے ہیں۔ڈنمارک میں ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے توقیری کے یہ نئے واقعات ہیں۔

    بھارت نے زہرآلود کھانسی کے شربت پر ایک اور دوا ساز کمپنی کا لائسنس معطل …

    ڈنمارک کے دارالحکومت کوپن ہیگن میں مصر کے سفارت خانے کے باہر قرآن پاک کو جلانے کی ناپاک جسارت ‘ڈینش پیٹریاٹس’ نامی انتہاپسند جماعت نے کی جب کہ اس سے قبل دو بار عراق کے سفارت خانے کے باہر بھی یہی گھناؤنی حرکت کی گئی تھی۔

    ڈنمارک اور سویڈن نے قرآن مجید کو جلانے کے عمل کو شرم ناک اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی لیکن آزادیِ اظہار کے قوانین کے تحت اسے روک نہیں سکتے۔ان دونوں ملکوں میں تین مرتبہ قرآن مجید کی انتہائی بے توقیری کی گئی ہے۔

    قرآن کی تیسری بار بے توقیری پر ڈنمارک کی طرح سویڈن نے بھی روایتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ مسلمانوں کی مقدس کتاب کو جلانے کی مذمت کرتے ہیں لیکن آزادیِٔ اظہارِ رائے کے قوانین کے باعث اسے روک نہیں سکتے۔

    آئی سی سی ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کے ری شیڈول ہونے کا امکان

    یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے قانون کے پروفیسر ٹرائن بومباخ نے کہا کہ اظہار رائے کی وسیع آزادی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے صرف نعرے نہیں بلکہ مختلف طریقوں جیسے اشیاء کو جلانے کے ذریعے بھی احتجاج کرسکتے ہیں۔

    قرآن پاک کی بے حرمتی کے مسلسل واقعات سے مسلم ممالک میں غم وغصے کی لہر دوڑ گئی۔ عراق میں گزشتہ ہفتے مظاہرین نے سویڈن کے سفارت خانے کو آگ لگادی تھی اور سفیر کو ملک کو بدر کردیا گیا تھااو آئی سی نے بھی سویڈن کی خصوصی ایلچی کی حیثیت ختم کرتے ہوئے ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات اُٹھانے کا مطالبہ کیا تھا۔

    پاکستان میں حکام سمیت تمام اسٹیک ہولڈرز سے پریس کی آزادی کا کہتے ہیں،امریکا

    ترکیہ نے بھی قرآن کی بے حرمتی کی شدید مذمت کرتے ہوئے ڈنمارک سے مقدس کتاب کی گستاخی کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاعراق کی وزارتِ خارجہ نے یورپی یونین سے اظہارِ رائے کی نام نہاد آزادی اور مظاہرے کے حق کے نام پر قرآن مجید کی بے حرمتی کے مسلسل واقعات پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا تھا۔

  • ڈنمارک میں قرآن مجید کی بےحرمتی، وزیراعظم شہباز شریف کا سخت ردعمل

    ڈنمارک میں قرآن مجید کی بےحرمتی، وزیراعظم شہباز شریف کا سخت ردعمل

    وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ڈنمارک میں عراقی سفارتخانے کے سامنے قرآن پاک کی بے حرمتی کے حالیہ واقعے نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس واقعہ سے پاکستان کے عوام گہر ے دکھ اور صدمے میں ہیں ایسے مکروہ اور شیطانی واقعات باربار رونما ہونا بین المذاہب تعلقات، امن اور ہم آہنگی کو نقصان پہنچانے،مذاہب کے درمیان نفرت اور اسلام مخالف جذبات بھڑکانے کی گھناونی سازش ہے ،وزیراعظم شہباز شریف نے خصوصا حکومتوں اور مذہبی رہنماوں پر زور دیا کہ وہ ایسے گھناونے عمل کو ختم کرائیں

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم مٹھی بھر گمراہ او ر شرپسند عناصر کو اربوں کے جذبات ہرگز کھیلنے نہیں دیں گے ایسے عناصر کو اپنا مذموم ایجنڈے مسلط کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے

    بد قسمتی سے اربوں مسلمانوں کی دل آزاری روز کا معمو ل بن رہا ہے،علیم خان
    دوسری جانب استحکام پاکستان پارٹی کے‌صدر عبدالعلیم خان نے ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسی قبیح حرکت سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے مغرب مسلمانوں کو اشتعال دلا کر عالمی سطح پر نفرت میں اضافہ کر رہا ہے عالمی برادری نوٹس لے، ایسے فعل سے بین المذاہب ہم آہنگی کو دھچکا لگے گا ، مسلم ممالک کو باہم مل کر ایسے واقعات کی روک تھام کرنا ہوگی مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے کھیلنے کو کسی طور ترقی یافتہ قرار نہیں دیا جا سکتا ،بد قسمتی سے اربوں مسلمانوں کی دل آزاری روز کا معمو ل بن رہا ہے ، وقت آ گیا ہے کہ ہر قیمت پر ایسی گھناؤنی حرکتوں کا راستہ روکا جائے ،کوئی مذہب یا معاشرہ کسی مذہبی کتاب یا شخصیت کی بے حرمتی کی اجازت نہیں دیتا ،

    واضح رہے کہ ڈنمارک کے دارالحکومت میں عراقی سفارت خانے کے سامنے دو اسلام مخالف مظاہرین نے قرآن پاک کے ایک نسخے کی بے حرمتی کی ہے، قرآن پاک جلانے والے دونوں افراد کا تعلق ایک ایسے گروپ سے ہے جو خود کو ”ڈینش پیٹریاٹس“ کہتا ہے

    ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.39 فیصد تنزلی ریکارڈ
    اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپو رمیں منشیات کی مبینہ خرید و فروخت،انکوائری کمیٹی تشکیل
    عمران خان کی بہنوں سمیت تحریک انصاف کے رہنما اشتہاری قرار

    عراق نے ڈنمارک میں اپنے سفارت خانے کے سامنے قرآن مجید کی بار بار بے حرمتی کے واقعات کی مذمت کی

  • مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    وہ لوگ جو پھیلتے مضافاتی علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں-

    باغی ٹی وی: وہ لوگ جو شہر کی شور شرابے والی اور اعصاب شکن زندگی سے اکتا چکے ہیں، انہیں لگتا ہے مضافاتی علاقوں میں جا کر بس جانا اس مسئلے کا ایک مثالی حل ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق ایسا کرنا زندگی میں سکون کا ضامن نہیں ہو سکتا اس کی بنیادی وجہ اطراف میں تھوڑے لوگوں کے ہونےکےسبب معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں کمی اور اجتماعیت کا عدم احساس ہےجو ذہنی صحت کو بہتر کرنے کا سبب ہوتے ہیں۔

    ترکیہ کا شمالی کوسووو میں اپنی ایک کمانڈو بٹالین بھیجنے کا اعلان

    امریکا کی ییل یونیورسٹی اور ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کے محققین نے ڈنمارک میں 30 برس کے عرصے میں بننے والے علاقوں کی سیٹلائیٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقشہ سازی کی محققین نے دیکھا کہ تقریباً 75 ہزار کی آبادی والے علاقے کے افراد میں ڈپریشن کی تشخیض ہوئی جبکہ اس دورانیے میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے میں لوگوں میں یہ کیفیت نہیں پائی گئی۔

    ترکیہ زلزے کی پیشگوئی کرنیوالےسیسمولوجسٹ کی جون میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ شخص جو مضافاتی علاقے میں زندگی گزاررہا ہوتا ہے اس کے شہر میں رہنے والوں کی نسبت ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے خطرات 10 سے 15 فی صد زیادہ ہوتےہیں تحقیق میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بلند عمارتوں اورکم کثافت والے گھروں کے مجموعے کا تعلق شہر میں رہنے والوں کو لاحق کم خطرے سے تھا۔

    ایران کا پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کا منصوبہ

  • پاکستان،سعودی عرب، امارات ،ترکیےاور دیگر ممالک کی ڈنمارک میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی مذمت

    پاکستان،سعودی عرب، امارات ،ترکیےاور دیگر ممالک کی ڈنمارک میں قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی مذمت

    اسلام آباد: پاکستان ،متحدہ امارات ، سعودی عرب اور کئی دیگر مسلم ممالک نے کوپن ہیگن میں ترک سفارت خانے کے سامنے ڈنمارک میں قرآن مجید کو نذر آتش کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    باغی ٹی وی : ترجمان دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ ایسے واقعات کا بار بار ہو نا اس قانون کی افادیت پر سوال اٹھاتا ہے جس کے پیچھے اسلام مخالف چھپتے ہیں تمام ریاستوں سے کہتے ہیں کہ ایسے کیسز سے بچنے کے لیے قانونی دفاع تیار کیا جائے ۔

    سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر پاکستان کا شدید اظہار مذمت

    سعودی وزارتِ خارجہ نے ٹویٹر پر جاری بیان میں کہا ہے کہ وہ کوپن ہیگن میں ترک سفارت خانے کے سامنے انتہا پسند گروپ کی جانب سے قرآن پاک کو نذر آتش کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتی ہےسعودی عرب مکالمے، رواداری اور احترام کی اقدار کو مستحکم کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے اور نفرت، انتہا پسندی اور تقسیم کرنے والی ہر چیز کو مسترد کرتا ہے۔

    متحدہ عرب امارات نے بھی اس مکروہ فعل کی شدید مذمت کی ہے امارات نیوزایجنسی وام کے مطابق وزارت خارجہ اور بین الاقوامی تعاون (ایم او ایف اے آئی سی)نے کہا کہ یواے ای انسانی اوراخلاقی اقدار اور اصولوں کے منافی عالمی امن وسلامتی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والے تمام طریقوں کو مستقل طور پر مسترد کرتا ہے۔

    وزارت نے کہا کہ مذہبی شعائر اور علامتوں کا احترام کرنے اور اشتعال انگیزی اور تقسیم سے بچنا چاہیئے دنیا کو رواداری اور پُرامن بقائے باہمی کی اقدار کو پھیلانے اور نفرت اور انتہا پسندی کو مسترد کرنے کے لیے مل جل کر کام کرنا ہوگا۔

    محمد رضوان کی سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی کی مذمت

    ترک وزارت خارجہ کی جانب سے بھی اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم آزادی اظہار کی آڑ میں ایسے نفرت انگیز جرم کو کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔ ڈنمارک حکام کو ایسے اشتعال انگیز واقعات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کے ساتھ مجرموں کے خلاف کاروائی کرنی چاہئے ۔


    ترک پارلیمانی اسپیکر مصطفی شان توپ قرآن کریم اور ترک پرچم کی بے حرمتی کرنے کی مذمت کی ہے۔پنی ٹویٹ پر ایک بیان میں ان واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ڈنمارک میں ترک سفارت خانے کے سامنے قرآن کریم اور ترک پرچم کی بے حرمتی کا واقعہ ناقابل قبول ہے اور اس کی اجازت دینے والوں کی مذمت کی جاتی ہے۔ میرا ڈینش حکام اور قانون کے عالمی اداروں سے مطالبہ ہے کہ وہ دین اسلام کے عقائد اور مسلمانوں کی تضحیک کرنے کے خلاف اپنی ذمے داریاں پوری کرے۔

    نائب صدر فواد اوکتے نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ ڈنمارک میں قرآن کریم اور ترک پرچم کی بے حرمتی کی اجازت دینے والے ڈینش حکام قابل مذمت ہیں-

    بحرین، مراکش، قطر اور اردن نے بھی اس واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے بڑھتے ہوئے اسلاموفوبیا کے بارے میں خبردارکیا ہے اور مغربی ممالک سے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کا مطالبہ کیا ہے۔

    سویڈن میں قرآن پاک کی بےحرمتی پرمسلم دنیا کا شدید احتجاج،عالمی برادری سےنوٹس لینےکامطالبہ

    واضح رہے کہ ڈنمارک اوراس کے پڑوسی سویڈن میں حالیہ مہینوں میں اظہاررائے کی آزادی کے نام پرمتعدد اسلام مخالف کارروائیاں ہو چکی ہیں۔اس سے پہلے بھی بعض انتہاپسندوں نے اسلام کی مقدس کتاب قرآن مجید کے نسخے جلائے تھے یہ اسی سلسلے کا تازہ ترین واقعہ ہے۔

  • وفاقی وزیر برائے بجلی سے سعودی عرب اورڈنمارک کے سفیروں کی ملاقات،اہم معاملات پرگفتگو

    وفاقی وزیر برائے بجلی سے سعودی عرب اورڈنمارک کے سفیروں کی ملاقات،اہم معاملات پرگفتگو

    اسلام آباد:پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر نواف بن سعید المالکی نے وفاقی وزیر بجلی خرم دستگیر خان سے ملاقات کی۔
    وزیر توانائی نے دونوں ممالک کے درمیان گہرے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو سراہا۔ خرم دستگیر خان نے کہا کہ موجودہ حکومت کا شمسی توانائی سے بجلی کی تیاری کا اقدام سعودی سرمایہ کاری کے لیے بہت بڑا موقع ہے، اس سلسلے میں سعودی کمپنیوں کا خیرمقدم کرتے ہیں

    سعودی عرب نے خارجہ امور سمیت ہر محاذ پر پاکستان کا ساتھ دیا: وزیراعظم

    سعودی سفیر نے کہا کہ پاکستان میں بے پناہ صلاحیت ہے اور اسے عالمی سطح پر دوبارہ برانڈ کیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی کاروباری برادری کو سعودی مارکیٹ کو تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ سعودی حکومت توانائی کے شعبے میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کے لیے پرعزم ہے اور پاکستان کے ساتھ اپنی شراکت داری کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

    روسی حملوں سے یوکرین میں بجلی کا نظام تباہ،ملک اندھیروں میں ڈوب گیا

    ادھر ذرائع کے مطابق وفاقی وزیر برائے بجلی انجینئر خرم دستگیر خان سے پاکستان میں ڈنمارک کے سفیر جیکب لینولف کی سربراہی میں ڈنمارک کے وفد نے ملاقات کی۔ملاقات میں ڈینش انرجی ٹرانزیشن انیشی ایٹو ( ڈی ای ٹی آئی ) پر تبادلہ خیال کیا گیا،

    یاد رہے کہ ڈی ای ٹی آئی پاکستان میں ڈنمارک کا ایک منصوبہ ہے جو ایک سال سے جاری ہے۔ اس سلسلے میں استعدادسازی کے لیے ڈنمارک پاکستان میں تکنیکی ورکشاپس کا انعقاد کرائے گا۔ ڈنمارک نے کامیابی کے سا تھ فوسل فیول سے قابل تجدید ذرائع کی طرف منتقلی کی ہے اور اس شعبے میں اسے بڑی مہارت حاصل ہے۔ ڈنمارک کے سفیر نے کہا کہ وہ اس علم کو اس شراکت داری میں شامل کرنا چاہیں گے۔

    وزیرتوانائی نے ڈنمارک اس کے اقدام کو سراہا۔ انرجی مکس میں تبدیلی لانا اور قابل تجدید ذرائع پر انحصار بڑھانا وقت کی ضرورت اور مستقبل کا راستہ ہے۔ ڈنمارک کے تجربے سے پاکستان کو بہت فائدہ ہوگا۔ وزیر نے فضلے کو توانائی میں تبدیل کرنے میں ڈنمارک کی دلچسپی کا بھی خیر مقدم کیا۔

    انجینئر خرم دستگیر نے وفد کو شمسی توانائی اقدام اور حکومت کے فوسل فیول پلانٹس کو شمسی توانائی سے تبدیل کرنے کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔وفد میں ڈینش انرجی ایجنسی کے عالمی تعاون کے ڈائریکٹر ایورسبوش اولریک ، ماریا اینا، قونصلر برائے گرین گروتھ اور پائیداری شامل تھیں۔

  • ’بائیو نارڈوک‘ نےمنکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی

    ’بائیو نارڈوک‘ نےمنکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی

    یورپی ملک ڈنمارک کی بائیوٹیکنالوجی کمپنی ’بائیو نارڈوک‘ نے تیزی سے پھیلنے والی بیماری منکی پاکس کی خصوصی ویکسین تیار کرلی، جسے یورپین یونین (ای یو) نے استعمال کرنے کی اجازت بھی دے دی۔

    خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق ’بائیو نارڈوک‘ نے کچھ عرصہ قبل ہی (Imvanex) ’اموانیکس‘ نامی ویکسین تیار کی تھی، جسے ابتدائی طور پر امریکا اور کینیڈا کی حکومتوں نے استعمال کی اجازت دی تھی۔

    امریکی ممالک کے بعد یورپین یونین کی ہیلتھ ایجنسی نے بھی اسے استعمال کرنے کی اجازت دی تھی، جس کے بعد 26 جولائی کو یورپین یونین نے اس کے ہنگامی استعمال کی اجازت دی۔

    کمپنی نے تصدیق کی ہے کہ یونین کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد ویکسین کے ڈوز تمام یورپی ممالک کو فراہم کیے جائیں گے جب کہ پہلے ہی امریکا اور کینیڈا کو اس کے ڈوز فراہم کیے جا چکے ہیں۔

    یورپین یونین کی جانب سے منظوری سے قبل ہی مذکورہ ویکسین کو متعدد یورپی ممالک میں تقسیم کیا گیا تھا اور اسے منکی پاکس سمیت سمال پاکس کے مریضوں پر استعمال کیا جا رہا تھا۔

    یورپین یونین نے مذکورہ ویکسین کو استعمال کی اجازت ایک ایسے وقت میں دی ہے جب کہ حال ہی میں عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے منکی پاکس کے پیش نظر عالمی سطح پر صحت کی ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا ہے۔

    عالمی ادارہ صحت نے 24 جولائی کو ہنگامی صورت حال کا اعلان کیا تھا اور یورپین یونین نے 26 جولائی کو ویکسین کے استعمال کی اجازت دی۔

    ’اموانیکس‘ اب تک کی واحد ویکسین ہے، جسے خصوصی طور پر منکی پاکس اور اس سے ملتی جلتی بیماریوں کے لیے تیار کیا گیا ہے، تاہم اس سے قبل بھی اس بیماری کے لیے دیگر ویکسینز استعمال کی جا رہی تھیں۔

    منکی پاکس کے علاج کے لیے اب تک ماہرین خارش سمیت چکن پاکس کے علاج میں استعمال ہونے والی ویکسین کا استعمال کر رہے تھے۔

    ماہرین کے مطابق عام طور پر منکی پاکس کے مریض 4 سے 6 ہفتوں میں صحت یاب ہوجاتے ہیں، تاہم بعض مریضوں میں بیماری کئی ماہ تک چل سکتی ہے۔

    مذکورہ بیماری اگرچہ براعظم افریقہ میں عام وبا کی صورت میں پائی جاتی تھی، تاہم رواں برس مئی سے یورپ اور امریکا سمیت ایشیائی ممالک میں پائی جانے والی بیماری مختلف ہے، جو صرف قریبی جسمانی روابط یا پھر مریض کے استعمال شدہ کپڑوں پر لگے خون اور دیگر گندگی سے دوسرے شخص کو متاثر کر سکتی ہے۔

  • یکم فروری سے ڈنمارک میں تمام کورونا پابندیاں ختم کردیں گے:وزیراعظم کا اعلان

    یکم فروری سے ڈنمارک میں تمام کورونا پابندیاں ختم کردیں گے:وزیراعظم کا اعلان

    ڈنمارک :یکم فروری سے ڈنمارک میں تمام کورونا پابندیاں ختم کردیں گے:وزیراعظم کا اعلان،اطلاعات کے مطابق ڈنمارک کی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ بہت جلد اسی ہفتے کے اختتام تک ملک کو ہر قسم کی کورونا پابندیوں سے آزاد کردیں گے اور اس کے بعد تمام شہری بھی معمول کی زندگی کی طرف لوٹ آئیں گے

    اس حوالے سے ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹ فریڈرکسن نے وبائی کمیشن کی سفارشات کے بعد اور تمام اہم سیاسی جماعتوں کی حمایت کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا۔ آخری پابندیاں یکم فروری کو ہٹا دی جائیں گی۔

    یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب Omicron کا ایک نیا ذیلی قسم، BA.2، ڈنمارک میں قدم جما رہا ہے اور بدھ کو 46,000 نئے COVID-19 کیسز کے ساتھ انفیکشنز کو بڑھا رہا ہے۔

    فریڈرکسن نے کہا، "حالیہ ہفتوں میں انفیکشن کی شرح بہت زیادہ دیکھی گئی ہے، حقیقت میں پوری وبائی بیماری میں سب سے زیادہ ہے۔” "لہذا، یہ عجیب اور متضاد معلوم ہوسکتا ہے کہ اب ہم پابندیوں کو چھوڑنے کے لیے تیار ہیں۔”

    وزیر صحت میگنس ہیونیک نے مزید کہا: "ڈنمارک کی صورتحال یہ ہے کہ ہمارے پاس انفیکشنز اور انتہائی نگہداشت کے مریضوں کے درمیان یہ فرق ہے، اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہےکہ حکومت کے پاس کورونا سے نمٹنے کے لیے زبردست حفاظتی انتظآمات موجود ہیں‌

    ڈینش ہیلتھ اینڈ میڈیسن اتھارٹی کے مطابق، ڈنمارک کی تقریباً 82 فیصد آبادی کو مکمل طور پر دو خوراکوں سے ٹیکہ لگایا گیا ہے، جن میں سے 50 فیصد کو تیسری خوراک بھی دی جارہی ہے