Baaghi TV

Tag: ڈونلڈ‌ٹرمپ

  • وزیراعظم کا ڈونلڈ ٹرمپ کو خط ،امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکبا د

    وزیراعظم کا ڈونلڈ ٹرمپ کو خط ،امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکبا د

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکبا دی ہے۔

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خط لکھ دیا، جس میں انہوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کا عہدہ سنبھالنے پر مبارکبا دی ہےاس سے قبل پیر کو نو منتخب امریکی صدر کی جانب سے حلف اٹھائے جانے کے بعد وزیر اعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک ٹویٹ میں تہنیتی پیغام میں صدارتی عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی تھی۔

    وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے ’ایکس‘ پر اپنے پیغام میں لکھا تھا کہ وہ نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ مل کرامریکا اور پاکستان کی دیرینہ شراکت داری کو مزید مستحکم کرنے کےمتمنی ہیں، یہ 2 عظیم ملک برسوں سے اپنے لوگوں کے لیے خطے میں امن اور خوشحالی کے لیے مل کر کام کررہے ہیں اور ہم یہ تعاون مستقبل میں بھی جاری رکھیں گے۔

    پاک بحریہ نے گیارہویں بار ٹاسک فورس 151 کی قیادت سنبھال لی

    جمعرات کو دفتر خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف نے 20 جنوری کو نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد کا باضابطہ خط بھیجا اور اس کے ساتھ ساتھ نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بھی نئے امریکی سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو مبارکباد کا پیغام پہنچایا۔

    ژوب میں دراندازی کی کوشش کرنے والے 6 خوارج ہلاک

    واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20جنوری کو امریکا کے 47 ویں صدر کے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، حلف برداری کی تقریب سے خطاب میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی خارجہ پالیسی پر بہت کم بات کی تاہم انہوں نے امریکا کو اندرونی طور پر مستحکم کرنے کے لیے بے شمار سخت اقدامات اٹھانے کی بات کی تھی۔

    جتنی آزادی صحافت ہوگی اتنا سوشل میڈیا پر فیک نیوز کا کلچر ختم ہوگا ، شرجیل انعام میمن

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ تمام 42 ایگزیکٹو حکمناموں کی فہرست جاری

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ تمام 42 ایگزیکٹو حکمناموں کی فہرست جاری

    واشنگٹن:نومنتخب امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکا کے 47ویں صدر کی حیثیت سے حلف اٹھانے کے فوراً بعد امیگریشن، ماحولیات اور ٹک ٹاک سے لے کر متعدد شعبوں سے متعلق ایگزیکٹو حکمنامے اور ہدایت نامے جاری کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : وائٹ ہاؤس میں منتقل ہوتے ہی ٹرمپ نے اپنے نئے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے بہت سی ایگزیکٹو سمریوں، صدارتی یادداشتوں اور پالیسی ترجیحات سے متعلق درجنوں حکمناموں پر دستخط کیے ہیں اگرچہ جاری ہونے والے اِن صدارتی ایگزیکٹو آرڈرز کی قانونی حیثیت بھی ہوتی ہے تاہم ان حکامات کو بعد میں عدالتیں یا آنے والے نئے صدور ختم کر سکتے ہیں۔

    قبل ازیں صدارت کا عہدے سنبھالتے ہی ڈونلڈ ٹرمپ نے سابق امریکی صدر جو بائڈن کے دور اقتدار میں جاری کردہ 78 صدارتی حکمناموں کو منسوخ بھی کیا ہے،جس میں اظہار رائے کی آزادی اور سنسر شپ ختم کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر پر بھی شامل ہے علاوہ ازیں، کیپٹل ہل حملے میں ملوث 15 سو افراد کو معافی دینے کے آرڈرز پر بھی دستخط کردیے گئے۔

    پنجاب میں اسکول ٹیچر انٹرنز بھرتی کرنے کا شیڈول جاری

    امریکہ میں کسی بھی نئے صدر کی جانب سے عہدہ سنبھالتے ہی ایگزیکٹو حکمناموں پر دستخط کرنا عام سی بات ہے لیکن امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں اپنے پہلے ہی دن 200 سے زیادہ حکمناموں پر دستخط کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، اور اگر ایسا ہی ہوتا ہے تو یہ کسی بھی امریکی صدر کی جانب سے منصب صدارت سنبھالنے کے پہلے ہی روز جاری کردہ حکمناموں کی سب سے بڑی تعداد ہو گی۔

    وائٹ ہاؤس میں دوسری دفعہ امریکی صدارت کا حلف اٹھانے کے بعد اپنے خطاب کے آغاز میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آج سے امریکا کا نیا اور سنہرا دور شروع ہورہا ہے، ہم دنیا بھر میں امریکا کو نیا مقام اور عزت دلوائیں گے، ہم کسی بھی ملک کو اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارا فائدہ اٹھائیں، ٹرمپ انتظامیہ میں ہر ایک دن میں ’امریکا سب سے پہلے‘ کے نظریے پر کار بند رہیں گے۔

    پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ زندہ ہوگیا،عملے کی دوڑیں

    ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ قانون کی بالادستی اور ملک کا تحفظ یقینی بنائیں گے، مزید کہا کہ ہماری ’اولین ترجیح‘ ایک آزاد، قابل فخر اور خوشحال قوم بنانا ہے، امریکا جلد ہی پہلے سے زیادہ طاقتور، مضبوط اور غیر معمولی ہو جائے گا پر امید ایوان صدر میں واپس آئے ہیں کہ ہم قومی کامیابی کے ایک سنسنی خیز نئے دور کے آغاز پر ہیں، مزید کہنا تھا کہ ملک میں تبدیلی کی لہر پھیل رہی ہے، امریکا کے پاس پوری دنیا میں فائدہ اٹھانے کا موقع ہے، جو پہلے کبھی نہیں تھا۔

    اپنے اوپر قاتلانہ حملے کی بابت بات کرتے ہوئے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ہماری حکومت کو اعتماد کے بحران کا سامنا ہے، کئی برسوں سے ایک بنیاد پرست اور بدعنوان اسٹیبلشمنٹ نے ہمارے شہریوں سے طاقت اور دولت چھین لی ہے جبکہ ہمارے معاشرے کے ستون ٹوٹ چکے ہیں اور بظاہر مکمل طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔

    اسرائیل کے آرمی چیف نے استعفیٰ دے دیا

    انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومتیں امریکی شہریوں کی حفاظت کرنے میں ناکام رہیں، اور خطرناک مجرموں کو پناہ اور تحفظ فراہم کیا ہے، جو دنیا بھر سے ہمارے ملک میں غیرقانونی طریقے سے داخل ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے تباہی کے وقت ڈیلیور نہ کرنے اور تعلیمی نظام کے ساتھ ساتھ وسائل استعمال کرنے پر امریکی صحت عامہ کے نظام پر بھی تنقید کی۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ آج سب چیزوں کی تبدیلی شروع کرنے کا دن ہے ڈونلڈ ٹرمپ نے عہد کیا کہ اس لمحے سے امریکا کا زوال ختم ہو گیا ہے، گزشتہ 8 برسوں سے 250 سالہ تاریخ میں کسی بھی صدر سے زیادہ مجھے آزمایا اور چیلنج کیا گیا، اور میں نے اس سب سے بہت کچھ سیکھا ہے۔

    نو مئی مقدمات ،6پی ٹی آئی رہنمائوں کی ضمانت کی توثیق

    پینسلوینیا میں قاتلانہ حملے کا ذکر کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ ’مجھے خدا نے بچایا تاکہ میں امریکا کو دوبارہ عظیم بناسکوں، جس پر حاضرین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں،محب وطن امریکیوں کی ہر ’نسل، مذہب، رنگ‘ کے شہریوں کے لیے امید، خوشحالی اور تحفظ لائے گی، انہوں نے اعلان کیا کہ 20 جنوری 2025 آزادی کا دن ہے، قومی اتحاد اب امریکا واپس لوٹ رہا ہے۔

    ڈونلڈ ٹرمپ نے جنوبی سرحدوں پر ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے غیر قانونی تارکین کو واپس بھیجنے کا بھی اعلان کیا اور کہا کہ اس معاملے میں ہماری میکسیکو والی پالیسی ہے۔ ہم اپنے لوگوں کو انصاف، صحت کی سہولیات اور گھر کی دہلیز پر انصاف فراہم کریں گے،میں اپنے عوام کے ساتھ کھڑا ہوں اور اُن کے لیے لڑوں گا، اس لڑائی میں انہیں فتح دلواؤں گا۔

    پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس 24 جنوری کو طلب

    صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دستخط شدہ تمام 42 ایگزیکٹو آرڈرز، میمورنڈا اور اعلانات کی فہرست سامنے آ گئی ہے-

    1. جنوبی سرحد پر قومی ایمرجنسی کا اعلان کرنا

    2. میکسیکن ڈرگ کارٹلز کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کرنا

    3. ‘میکسیکو میں رہیں’ پالیسی کو بحال کرنا

    4. غیر قانونی تارکین وطن کے بچوں کے لیے پیدائشی حق شہریت کا خاتمہ

    5. صنفی نظریاتی انتہا پسندی سے خواتین کا دفاع

    6. وفاقی ایجنسیوں میں تنوع، مساوات، اور شمولیت (DEI) پروگراموں کو ختم کرنا

    7. پیرس موسمیاتی معاہدے سے دستبرداری

    8. قومی توانائی کی ایمرجنسی کا اعلان کرنا

    الیکٹرک وہیکل مینڈیٹ کو تبدیل کرنا

    10. وفاقی ملازمین کے لیے ‘شیڈول F’ کو نافذ کرنا

    11. یو ایس اسپیس کمانڈ ہیڈ کوارٹر کو الاباما منتقل کرنا

    12. 6 جنوری کے واقعات کے سلسلے میں سزا یافتہ افراد کو معاف کرنا

    13. اسقاط حمل کی خدمات کے لیے وفاقی فنڈنگ ​​کو روکنا

    14. ہنٹر بائیڈن اسکینڈل سے منسلک اہلکاروں کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس معطل کرنا

    15. فیڈرل بٹ کوائن ریزرو کا قیام

    16. JFK، RFK، اور MLK کے قتل کے بارے میں خفیہ دستاویزات جاری کرنا

    17. اے آئی ریگولیشن پالیسیوں کو تبدیل کرنا

    18۔چین، میکسیکو اور کینیڈا سے درآمدات پر محصولات عائد کرنا

    19. ٹرانسجینڈر ملٹری سروس پر پابندی کو بحال کرنا

    20. ٹرانس جینڈر خواتین کو خواتین کے کھیلوں میں حصہ لینے سے روکنا

    21. سرکاری آف شور ونڈ لیز کو روکنا

    22. خلیج میکسیکو کا نام بدل کر خلیج امریکہ رکھنا

    23. ماؤنٹ ڈینالی کو ماؤنٹ میک کینلے پر واپس لانا

    24. فیڈرل ورک فورس کی بھرتی کو منجمد کرنا

    25. تیل اور گیس کی پیداوار سے متعلق ضوابط کو نرم کرنا

    26. امریکی خریدار کی تلاش کے لیے کانگریس کے TikTok پابندی کو روکنا

    27. بائیڈن دور کی امیگریشن پالیسیوں کو تبدیل کرنا

    28.عالمی صحت سے باہر نکالنا
    تنظیمیں

    29. DEI پروگراموں کے لیے وفاقی فنڈنگ ​​کو ختم کرنا

    30.محکمہ حکومتی کارکردگی (DOGE) کا قیام

    31. مسلم پابندی کو بحال کرنا

    32. پیدائشی حق شہریت کا خاتمہ

    33. فوجداری انصاف کے نظام کی اصلاح

    34. وفاقی ایجنسیوں میں کریٹیکل ریس تھیوری پر پابندی لگانا

    35. نیٹو کے تعاون میں اضافہ کا مطالبہ

    36. تجارتی طریقوں پر چین کا مقابلہ کرنا

    37. یوکرین میں جنگ کا خاتمہ

    38. قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حمایت کرنا

    39. اسکول کے انتخاب کو فروغ دینا

    40. پناہ گزینوں کے داخلے کو محدود کرنا

    41. Fentanyl اسمگلنگ پر وفاقی توجہ کو بڑھانا

    42.ایک قومی انفراسٹرکچر پلان کا آغاز

  • ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری کامقام تبدیل

    ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری کامقام تبدیل

    20 جنوری ہونے والی امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کی حلف برداری امریکی دارالحکومت واشنگٹن کے کیپیٹل روٹونڈا میں ہوں گی کیونکہ 20 جنوری کو موسم کے مزید سرد ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔

    غیر ملکی خبررساں ادارے کےمطابق صدر منتخب ہونے والے ڈونلڈ ٹرمپ کی حلف برداری کی تقریب اور دیگر تقاریر اب امریکی کیپیٹل کے اندرونی حصے (روٹونڈا) میں ہوں گی، اگلے ہفتے واشنگٹن ڈی سی میں درجہ حرارت خطرناک حد تک کم ہونے کی توقع ہے، جس کے باعث تقریب کا مقام تبدیل کیا گیا ہے۔اناؤگرل پریڈ اور تینوں اناؤگرل بالز بھی واشنگٹن کے کیپیٹل ون ایرینا میں اندر منعقد ہوں گے، آخری سرد موسم کی وجہ سے 1985 میں رونالڈ ریگن کی تقریب بھی باہر کی بجائے اندرونی حصہ میں ہوئی تھی۔

    امریکی صدر صدرٹرمپ نے اپنے Truth Social پلیٹ فارم پر ایک بیان میں کہا: "میں نہیں چاہتا کہ کوئی زخمی یا متاثر ہو۔” یہ "خطرناک حالات” ہیں نہ صرف ہزاروں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں، فرسٹ رسپانڈرز، اور پولیس بلکہ "لاکھوں” حامیوں کے لیے بھی۔لوگوں کو مشورہ دیتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ "اگر آپ آنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو گرم لباس پہنیں۔”کیپیٹل ون ایرینا تقریب کو لائیو دیکھنے کے لیے کھلا ہوگا.خطرناک سرد موسم کی وجہ سے تقریب کو محفوظ بنانے کے لیے اندرونی مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے، اور ٹرمپ نے عوام کی حفاظت کو اولین ترجیح قرار دیا ہے۔

    پنجاب میں اسکول ٹیچرز انٹرن کی بھرتیوں کیلئے پالیسی جاری

    بشریٰ بی بی کی چوری کی وجہ سے بانی رنگے ہاتھوں پکڑے گئے، مصطفی کمال

    عمرہ ویزےکی آڑمیں انسانی اسمگلنگ کا بڑا منصوبہ ناکام

    پاک بحریہ کے سربراہ ، سیکرٹری دفاع سے بنگلہ دیشی جنرل کی ملاقاتیں

    چیمپئنز ٹرافی 2025 کے لیے بھارتی اسکواڈ کا اعلان

  • ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کو  ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کر دیا

    ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کو ایف بی آئی کا سربراہ نامزد کر دیا

    واشنگٹن: امریکا کے نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارتی نژاد شہری کشیپ کاش پٹیل کو وفاقی تفتیشی ادارے ایف بی آئی کا سربراہ منتخب کردیا۔

    باغی ٹی وی: عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن کے سربراہ جیسی اہم اور حساس ذمہ داری کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کی نگاہِ انتخاب اپنے وفادار اور اسٹیبلشمنٹ کے ناقد پر ٹھہری ہے،کاش پٹیل بھارتی نژاد شہری ہیں جو پیشے کے اعتبار سے وکیل اور تفتیش کار ہیں، ٹرمپ نے ان کے نام کا اعلان کرتے ہوئے کاش پٹیل کو ’’ امریکا فرسٹ فائٹر‘‘ قرار دیا، کاش پٹیل ایک شاندار وکیل، اور تفتیش کار ہیں جنھوں نے اپنا کیریئر کرپشن کو بے نقاب اور امریکیوں کی حفاظت میں صرف کیا ہے۔

    44 سالہ کشیپ کاش پٹیل متعدد بار اپنےآبائی وطن بھارت کےساتھ گہرے تعلق کا اظہار کرتے آئے ہیں،کشیپ کاش پٹیل نیویا ر ک میں گجراتی والدین کے ہاں پیدا ہوئے تھے جن کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ مشرقی افریقہ میں پلے بڑھے ہیں۔

    کشیپ کاش پٹیل نے یونیورسٹی آف رچمنڈ سے گریجویشن اور لندن کی یونیورسٹی کالج سے انٹرنیشنل لا میں قانون کی ڈگری حاصل کی،وہ قائم مقام سیکرٹری دفاع کرسٹوفر ملر کے سابق چیف آف اسٹاف کے طور پر خدمات انجام دیں، علاوہ ازیں ٹرمپ کے پہلے دور میں صدر کے نائب معاون اور قومی سلامتی کونسل (NSC) میں انسداد دہشت گردی (CT) کے سینئر ڈائریکٹر کے طور پر کام کرچکے ہیں۔

    کشیپ پٹیل نے اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کئی اولین ترجیحات پر عملدرآمد کی نگرانی کی، جس میں داعش اور القاعدہ کی قیادت کا خاتمہ سمیت متعدد امریکی یرغمالیوں کی محفوظ وطن واپسی شامل تھی،انھوں نے ٹرمپ کی 2016 کی انتخابی مہم اور روس کے درمیان رابطوں کے بارے میں ہاؤس ریپبلکنز کی تحقیقات میں ہاؤس انٹیلیجنس کمیٹی کے سابق سربراہ ڈیوین نونس کے معاون طور پر بھی اہم کردار ادا کیا تھاکشیپ پٹیل کی ٹرمپ کے ساتھ قربت اور اعتماد کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے دور حکومت ختم ہونے کے بعد مصائب میں گھیرے ٹرمپ نے انہیں اپنے صدارتی ریکارڈ تک رسائی کے لیے نمائندہ نامزد کیا تھا۔