Baaghi TV

Tag: ڈوڈل

  • نئے سال کی آمد:گوگل کی خصوصی ڈوڈل کیساتھ مبارکباد

    نئے سال کی آمد:گوگل کی خصوصی ڈوڈل کیساتھ مبارکباد

    دنیا بھر میں نئے سال 2026 کے کی آمد پر گوگل نے اپنی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے خصوصی نیو ایئر ڈوڈل جاری کردیا ہے۔

    2025 کی اختتامی شام کے موقع پر متعارف کرائےت گئے گوگل کے اس تازہ ڈوڈل میں 2026 کے ہندسے رنگ برنگے غبارو ں، دلکش سجاوٹ اور کنفیٹی کے ساتھ نمایاں کیے گئے ہیں، جو خوشی، امید اور جشن کے احساس کو اجاگر کرتے ہیں انٹرایکٹو انداز میں تیار کیا گیا یہ ڈیزائن نہ صرف دیکھنے میں خوشنما ہے بلکہ نئے سال کی آمد کے پرجوش ماحول کی بھی بھرپور عکاسی کرتا ہے۔

    یہ خصوصی گوگل ڈوڈل دنیا کے مختلف خطّوں میں سرچ انجن کے ہوم پیج پر نمایاں کیا گیا ہے، جس کے ذریعے صارفین کو یاد دلایا جا رہا ہے کہ ایک نیا سال شروع ہونے کو ہے اور پرانا سال اپنے اختتام کے قریب پہنچ چکا ہے، گوگل کا یہ تخلیقی اظہار ہر سال کی طرح اس بار بھی نئے سال کی خوشیوں میں اضافہ کرتا دکھائی دیتا ہے۔

    واضح رہے کہ گوگل دنیا بھر میں ہونے والے اہم واقعات، تعطیلات اور اہم شخصیات کو یاد کرتے ہوئے ان کے اعزاز میں ڈوڈل پو سٹ کرنے ایک منفرد انداز ہے، جس کے تحت گوگل اپنے ہوم پیج پر ایک مخصوص لوگو کے ذریعہ تہنیتی پیغام دیتا ہے۔

  • گوگل کے ڈوڈل  پر موجود "احمد” کون ہے؟

    گوگل کے ڈوڈل پر موجود "احمد” کون ہے؟

    گوگل نے اپنا ڈوڈل ’احمد‘ نامی ہاتھی کے نام کیا ہے-

    باغی ٹی وی : گوگل نے کہا کہآج کا ڈوڈل "احمد آف مارسابٹ کا جشن مناتا ہے، ایک افسانوی ہاتھی جس میں دیوہیکل دانت ہیں جو افریقی بیابان میں گھومتا تھا۔ احمد کو صدارتی فرمان کے ذریعے ان کی زندگی کے دوران قومی خزانہ اور زندہ یادگار قرار دیا گیا تھا۔

    گوگل کے مطابق احمد ہاتھی کی ابتدائی زندگی کے بارے میں بہت کم معلوم ہے، لیکن اس نے 1960 کی دہائی میں شمالی کینیا کے پہاڑوں میں پیدل سفر کرنے والوں کی طرف سے دیکھے جانے کے بعد شہرت حاصل کی۔ "مارسابٹ کا بادشاہ” کے نام سے جانا جاتا ہے، سپاٹوں نے دعوی کیا کہ احمد کے دانت اتنے بڑے تھے کہ انہوں نے زمین کو کھرچ دیا۔ لیجنڈ نے پورے کینیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

    پی ٹی آئی انٹرا پارٹی انتخابات،درخواستیں ابتدائی سماعت کیلئے مقرر

    احمد ہاتھی کینیا کے مارسابٹ نیشنل ریزرو میں رہتا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ اس جانور کے افریقہ میں سب سے لمبے اور سب سے بھاری دانت تھےجس کی بناء پر اسے قومی خزانہ قرار دیا گیا تھا اور وہ تاریخ میں واحد ہاتھی ہے جنہیں صدارتی حکم نامے کے ذریعے تحفظ حاصل ہے۔

    احمد 1919 میں کینیا کے جنگل میں ماؤنٹ مارسابٹ میں پیدا ہوئے تھے وہ 1960 کی دہائی میں شمالی کینیا کے پہاڑوں میں پیدل سفر کرنے والوں کی طرف سے دیکھے جانے کے بعد لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا اس دریافت کے بعد دنیا نے احمد کی پہچان اس کے بڑے دانت بنا لی اور وہ ’مارسابیٹ کے بادشاہ‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

    آسٹریلوی نیوز سروس اے بی سی نے سنہ 1970 میں ایک سیریز اور ایک دستاویزی فلم بنائی تھی جب پیدل سفر کرنے والے نے دعویٰ کیا تھا کہ احمد کے دانت اتنے بڑے تھے کہ زمین سے لگتے تھے۔

    ہمارا ایجنڈا صرف سڑکوں، تعلیم اور صحت تک محدود نہیں ہوگا ،نواز شریف

    اس کے عروج نے اسکول کے بچوں کو شکاریوں سے احمد کے تحفظ کے لیے مہم چلانے کی ترغیب دی۔ کینیا کے پہلے صدر مزی جومو کینیاٹا کو خط بھیجنے کے بعد، اس نے احمد کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے اپنے تحفظ میں رکھا ،دو سیکورٹی گارڈ اس کی جان بچانے کے لیے دن رات اس کی نگرانی کرتے رہے۔ احمد کی 55 سال کی عمر میں قدرتی وجوہات کی وجہ سے موت کے بعد بعد اس کی وراثت کا جشن منایا۔ صدر کینیاٹا نے ماہر پر زور دیا کہ وہ احمد کی لاش کو نیروبی کے نیشنل میوزیم میں آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کرنے کے انتظامات کریں جہاں احمد کی لاش کو انتہائی احتیاط سے محفوظ کیا گیا ہے۔

    زائد بل بھجوانےکامعاملہ، پاورڈویژن نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی

  • 76 ویں یوم آزادی پرگوگل کی پاکستان کو مبارکباد

    76 ویں یوم آزادی پرگوگل کی پاکستان کو مبارکباد

    گوگل دنیا کے مختلف ممالک کے اہم ثقافتی اور قومی دنوں کی مناسبت سے ڈوڈلز پیش کرتا ہےپاکستان کے 76 ویں یوم آزادی پر دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے پاکستان کے لیے اپنا نیا ڈوڈل پیش کردیا۔

    باغی ٹی وی :گوگل کی جانب سے پیش کئے گئے ڈوڈل میں دریائے سندھ کی’بلائنڈ ڈولفن‘ کو دکھایا گیا ہے، ڈوڈل کے نچلے حصے پر سبز رنگ کی پٹی میں گوگل لکھا ہے ڈوڈل پر کلک کریں تو اسکرین پر آتش بازی ہوتی دکھائی دیتی ہے، اور پاکستان کا جھنڈا بھی بنتا ہے۔
    youm e azadi
    گوگل نے ڈوڈل تبدیل کرنے کے ساتھ اپنے پاکستانی صارفین کو یوم آزادی کی مبارکباد دیتے ہوئے لکھا ہے کہ یوم آزادی مبارک ہو پاکستان، آج کے سالانہ ڈوڈل آرٹ ورک میں دانتوں والی ویل کی انواع کو دکھایا گیا ہے جو پاکستان کے دریائے سندھ کی مقامی ڈولفن ہے۔

    گوگل نے لکھا کہ آج کے دن 1947 میں، پاکستان نے اپنی آزادی حاصل کی اور تقریباً 200 سال برطانوی تسلط کے بعد ایک خودمختار ملک بن گیا,1947 میں ہندوستانی آزادی ایکٹ کے بعد، مسلمان ہندوستانی اپنی خود مختار قومی ریاست چاہتے تھے اور پاکستان کی تحریک شروع کی۔ اس تحریک کی قیادت آل انڈیا مسلم لیگ نے کی، جس کی قیادت محمد علی جناح نے کی۔

    آج کے ڈوڈل آرٹ ورک میں دانتوں والی وہیل کی انواع کو دکھایا گیا ہے جو پاکستان کے لیے مقامی ہے دریائے سندھ کی ڈولفن۔ یہ خطرے سے دوچار نسل جسے اردو اور سندھی میں بھولن بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کے ساحلوں پر خاص طور پر دیکھنے کو ملتی ہے یوم آزادی مبارک ہو، پاکستان!

  • گوگل نے پاکستان میں انتخابات کی حمایت میں اپنا ڈوڈل تبدیل کر دیا

    گوگل نے پاکستان میں انتخابات کی حمایت میں اپنا ڈوڈل تبدیل کر دیا

    سرچ انجن گوگل نے پاکستان میں انتخابات کی حمایت میں اپنا ڈوڈل تبدیل کر دیا۔

    باغی ٹی وی: گوگل نے پاکستان کے انتخابات میں تاخیر پر اپنا ڈوڈل تبدیل کر دیا اور بتایا کہ پاکستان میں عام انتخابات کب ہونے ہیں گوگل اپنا ڈوڈل تبدیل کر کے یاد دہانی کروارہا ہے کہ 13 اگست 2023 کو قومی اسمبلی کی مدت ختم ہو رہی ہے اور اس کے بعد 60 دنوں میں انتخابات کروانے ہیں اس کا مطلب پاکستان میں عام انتخابات 14 اکتوبر 2023 سے پہلے نہیں ہوں گے-

    کرکٹ ٹیم کی تشکیل ،سعودی ولی عہد نے پاکستان کا انتخاب کر لیا

    گوگل نے اپنے ڈوڈل میں پاکستان کا جھنڈا اور بیلٹ بکس شامل کرتے ہوئے عام انتخابات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے تین بڑی جماعتیں عمران خان کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)، موجودہ وزیر اعظم شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان مسلم لیگ (ن) (پی ایم ایل این) اور موجودہ وزیر خارجہ بلاول کی قیادت میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) میدان میں اتریں گی-

    گوجرہ : شہر میں ڈاکو راج،3 وارداتیں،لاکھو ں روپے نقدی وموبائل فون چھین لئے گئے

  • گاما پہلوان کے 144 ویں یوم پیدائش پرگوگل کا خراج تحسین

    گاما پہلوان کے 144 ویں یوم پیدائش پرگوگل کا خراج تحسین

    52 برس ناقابل شکست رہنے والے گاما پہلوان کے 144 ویں یوم پیدائش پر گوگل نے ڈوڈل کے ذریعے انہیں خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : غلام حسین المعروف گاما پہلوان کے 144 ویں یوم پیدائش پر گوگل نے انھیں ڈوڈل کا حصہ بنایا ہے، وہ 22 مئی 1878 کو بھارتی شہر امرتسر میں پیدا ہوئے، صرف 10 برس کی عمر میں نامی گرامی پہلوانوں کو چت کر کے ہندوستان بھر میں شہرت کے جھنڈے گاڑے انہیں “رستمِ زماں” بھی کہا جاتا ہے، وہ قدیم فنِ پہلوانی کے بانیوں میں سے تھے۔

    15 اکتوبر، 1910ء کو انہیں جنوب ایشیائی سطح پر ورلڈ ہیوی ویٹ چیمپئن شپ کے اعزاز سے نوازا گیا تھا، پہلوانی کی پوری تاریخ میں وہ واحد پہلوان ہیں جنہیں 50 سال سے زیادہ عرصہ پر محیط کیریئرمیں ایک بار بھی شکست کا سامنا نہیں کرنا پڑا، گاما پہلوان کا تعلق کشمیری بٹ خاندان سے تھا، غیر منقسم ہندوستان میں “دتیا” کی شاہی ریاست کے حکمران بھوانی سنگھ نے نوجوان پہلوان گاما اور ان کے بھائی امام بخش کی سرپرستی کی تھی-

    گاما پہلوان کو اصل شہرت اس وقت ملی جب انہوں نے 19 سال کی عمر میں انڈین ریسلنگ چیمپئن رحیم بخش سلطانی والا کو چیلنج کر دیا جو خود بھی گوجانوالہ کےکشمیری بٹ خاندان سےتھےتوقع یہ تھی کہ تقریباً 7 فٹ قد کےرحیم بخش 5 فٹ 7 انچ قامت والےگاماکو سیکنڈوں میں چت کر دیں گے لیکن ادھیڑ عمری ان کے آڑے آئی اور وہ نوجوان گاما کو شکست نہ دے سکے، یوں یہ مقابلہ برابر رہا۔

    1910ء تک سوائے رحیم بخش کے وہ ہندوستان کے تمام نامی گرامی پہلوانوں کو شکست دے چکے تھے، بعد ازاں مغربی پہلوانوں کا مقابلہ کرنے وہ اپنےبھائی کےساتھ بحری جہازمیں انگلستان پہنچے ان کا پہلا مقابلہ امریکی پہلوان بنجامین رولر عرف “ڈوک” سے ہوا جسے پہلی بار ایک منٹ 20 سیکنڈ اوردوسری بار 9 منٹ 10 سیکنڈ میں زیر کیا-

    دوسرا مقابلہ اسٹینی سیلس زبسکو سے 17 ستمبر، 1910ء کو ہوا، جسے شکست دے کر 250 پاؤنڈ کی انعامی رقم اور “جون بُل بیلٹ” جیت لی، (یہ بیلٹ ہر ورلڈ چیمپین حاصل نہیں کر سکتا،صرف مستند چیمپئنز کو دی جاتی ہے) ان کا یہ اعزاز 109 برس گزر جانے کے باوجود آج بھی قائم ہےجس کے بعد انہیں “رستمِ زماں” یا ورلڈ چیمپئن کا خطاب دیا گیا، انگلستان کے دورے میں انہوں نے یورپی چیمپئن سوئٹزرلینڈ کے جویان لیم، عالمی چیمپئن سوئیڈن کے جیس پیٹرسن اور فرانس کے مورس ڈیریاز کو بھی شکست دی۔

    گاما پہلوان کی خوراک میں روزانہ 15 لیٹردودھ، 3 کلومکھن، بکرے کا گوشت، 20 پاﺅنڈ بادام اورپھلوں کی3 ٹوکریاں شامل ہواکرتی تھیں،ان کا سارا خرچہ مہاراجہ پٹیالہ خود برداشت کرتے تھے۔ 40 پہلوانوں کے ساتھ کشتی کی تربیت ، 5 ہزار بیٹھک اور 3 ہزار ڈنڈ لگانا ان کا روز کا معمول تھا۔

    قیامِ پاکستان کےبعد وہ لاہور منتقل ہو گئےجہاں انہوں نے اپنے بھائی امام بخش اوربھتیجوں بھولو برادران کےساتھ بقیہ زندگی گزاری، زندگی کے آخری ایام میں بیمار ہوئے لیکن حکومت نے ان کے علاج میں خاص دلچسپی ظاہر نہ کی اور فن پہلوانی کا یہ روشن ستارہ82 برس کی عمر میں23 مئی 1960 کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ڈوب گیا-

    گاما پہلوان دنیائے پہلوانی کا ایک ایسا بادشاہ تھے جس کی جگہ آج تک کوئی نہیں لے سکاپاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز رشتے میں گاما پہلوان کی نواسی بتائی جاتی ہیں۔

  • عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل

    عالمی یوم خواتین پر گوگل کا ڈوڈل تبدیل

    دنیا کا سب سے بڑا سرچ انجن گوگل ہر عالمی دن اور خصوصی مواقع پر ڈوڈل جاری کرتا ہے اور ہر سال کی طرح اس سال بھی گوگل نے عالمی یوم خواتین کے موقع پر ڈوڈل جاری کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : دنیا بھر میں خواتین کا دن آج منایا جارہا ہے آج کے دن کی مناسبت سے سرچ انجن گوگل نے بھی ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے والی خواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

    عورت مارچ نا منظور،مردان میں "مرد مارچ” کے نعرے

    عالمی یوم خواتین ہر سال 8 مارچ کو دنیا بھر میں بیک وقت منایا جاتا ہے اور اس دن کو منانے کے لیے مارچ کے آغاز سے ہی تقریبات کا آغاز ہوجاتا ہے۔

    پاکستان سمیت دنیا بھر میں عالمی یوم خواتین کے موقع پر خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے اداروں کی جانب سے خصوصی تقاریب کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

    امریکا سے لے کر یورپ، ایشیا سے لے کر افریقہ تک عالمی یوم خواتین کے دن پر کئی ممالک میں خواتین سڑکوں پر نکل کر نہ صرف ریلیاں نکالتی ہیں بلکہ رقص کرتی بھی دکھائی دیتی ہیں۔

    عورت مارچ کو فول پروف سیکیورٹی دینے کی ہدایات

    جنگ زدہ ممالک سمیت شورش زدہ اور غربت کے مارے ممالک میں بھی خواتین عالمی دن کے موقع پر ریلیاں اور تقاریب منعقد کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

    پاکستان کے شہر لاہور میں عورت مارچ آج دوپہر 2 بجے لاہور پریس کلب سے ایجرٹن روڈ تک ہوگا جس کے انتظامات مکمل کرلئے گئے ہیں لاہور کی ضلعی انتظامیہ نے مارچ کو فول پروف سیکیورٹی دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔

    عالمی یوم خواتین کا آغاز سوا ایک صدی قبل 1909 سے ہوا تھا، اس دن کو منانے کا آغاز 1908 سے قبل امریکی فیکٹریوں میں کام کرنے والی مزدور خواتین کی جانب سے اپنی تنخواہ مرد حضرات کے برابر کرنے کے لیے کیے گئے احتجاجوں کے بعد ہوا۔

    خواتین کے احتجاج کے بعد ہی وویمن نیشنل کمیشن بنایا گیا، جس کے ذریعے خواتین کے حقوق کی تحریک چلائی گئی اور پہلی بار فروری 1909 میں عالمی یوم خواتین منایا گیا لیکن بعد ازاں اس دن کو 8 مارچ کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

    اقوام متحدہ (یو این) نے بھی 1977 میں ہر سال 8 مارچ کو عالمی یوم خواتین منانے کی منظوری دی اور تب سے اس دن کو دنیا بھر میں بڑے پیمانے پر منایا جانے لگا ہے۔

    خواتین کا کاز اور پاکستان پیپلز پارٹی کا کاز ایک ہے ،بلاول نے عورت مارچ کی حمایت کر دی

  • گوگل کا معین اختر کی سالگرہ پر خراج تحسین

    گوگل کا معین اختر کی سالگرہ پر خراج تحسین

    پاکستان کے عالمی شہرت یافتہ فنکار، میزبان اور مزاحیہ اداکار معین اختر کی 72 ویں سالگرہ پر گوگل نے اپنے ڈوڈل سے انہیں ایک شاندار خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

    باغی ٹی وی :آج رات رات 12:00 بجتے ہی گوگل کے اسکرین پر معین اختر کا ڈوڈل نمایاں ہوگیا گوگل نے کئی ماڈلوں کے ٹی وی پر اپنا نام اور معین اختر کے کرداروں والی تصاویر دکھائی ہیں۔

    معین اختر 24 دسمبر 1950 کو کراچی میں پیدا ہوئے اور انہوں نے فنی کیرئیر کا آغاز 6ستمبر 1966ء کو پاکستان کے پہلے یوم دفاع کی تقاریب کے لیے کیے گئے پروگرام سے کیا موین اختر نے 14 برس کی عمر سے ہی تھیئٹر پر کام شروع کردیا تھا۔ انہوں نے شیکسپیئر کے ڈراموں میں اپنی شاندار اداکاری کی۔ پی ٹی وی پر انتظار فرمائیے میں معین اخترکا کردار بہت پسند کیا گیا۔

    معین اختر اپنے زبردست مشاہدے ٹائمنگ، ذہانت اور برجستہ اداکار کی باعث نہ صرف پاک وہند بلکہ دنیا بھر میں عالمی شہرت رکھتے تھے انہوں نے لاتعداد ڈراموں، اسٹیج شو، فلموں اور دیگر پلیٹ فارم پر اپنے فن کا جادو جگایا انور مقصود کے لکھے ہوئے شاندار پروگرام لوز ٹاک میں انہوں ںے سینکڑوں کردار ادا کئے جو ایک سے بڑھ کر ایک تھے اور امر ہوگئے۔

    لیجنڈ اداکارمعین اخترنے ریڈیو ٹی وی اور فلم میں ادا کاری کے کئی یادگار جوہر دکھائے، 44 سال تک کامیڈی اداکاری گلوکاری اور پروڈکشن سمیت شوبز کے تقریباً ہرشعبے میں ہی کام کیا معین اختر نے طنز و مزاح سے بھرپور جملوں میں تہذیب کا ایک نیا پہلو متعارف کروایا، فنکارانہ خدمات کے اعتراف میں معین اختر کو صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا۔

    معین اختر کے معروف ٹی وی ڈراموں اور پروگرام میں روزی، انتظار فرمائیے، بندر روڈ سے کیماڑی، آنگن ٹیڑھا، اسٹوڈیو ڈھائی، اسٹوڈیو پونے تین، یس سر نوسر، عید ٹرین،مرزا اور حمیدہ، ہاف پلیٹ ،بکرا قسطوں پہ، کچھ کچھ سچ مچ، اور کئی مشہور اسٹیج ڈرامے آج بھی لوگوں کے ذہنوں پر نقش ہیں۔

    معین اختر نے 1974 میں فلم، تم سا نہیں دیکھا، مسٹر کے ٹو اور مسٹر تابعدار میں بھی اپنے کام سے شائقین کو خوب لطف اندوز کیا جس پر انھیں پرائڈ آف پرفارمنس اور ستارہ امتیاز سے بھی نوازاگیا۔

    فن کی دنیا میں مزاح سے لیکر پیروڈی تک اسٹیج سے ٹیلی ویژن تک معین اختروہ نام ہے جس کے بغیر پاکستان ٹیلی ویژن کی تاریخ نامکمل رہے گی۔

    شو بز کے ہر شعبے میں نظر آنے والے فنکار معین اختر 22 اپریل سن 2011ء کوکراچی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئے تھے لیکن ان کی یادیں آج بھی مداحوں کے چہروں پر موجود مسکراہٹوں میں زندہ ہیں۔