Baaghi TV

Tag: ڈپریشن

  • بلال پاشا،سی ایس ایس سے موت تک کا سفر

    بلال پاشا،سی ایس ایس سے موت تک کا سفر

    سی ای او کنٹونمنٹ بورڈ بنوں بلال پاشا نے خود کو گولی مار کر خود کشی کر لی

    ڈی ایس پی کینٹ عظمت خان کے مطابق بلال پاشا کئی دنوں‌سے ذہنی دباؤ کا شکارتھے، انہوں نے خود کشی کی، بلال پاشا کی لاش انکے گھر سے ملی جہاں انہوں نے خود کو گولی ماری،لاش کو پوسٹ مارٹم اور ضابطے کی کاروائی کے لئے ڈی ایچ کیو بنوں منتقل کیا گیا،جہاں سے لاش کو نماز جنازہ کی ادائیگی کے بعد انکے آبائی علاقے خانیوال روانہ کر دیا گیا

    ڈی پی او بنوں اسماعیل خان کا کہنا ہےکہ بلال پاشا کی موت کا خود ہر پہلو سے جائزہ لیا یہ واقعہ خودکشی کا ہی ہے تفتیش کے مطابق بلال پاشا کا بنوں سے راولپنڈی تبادلہ ہو گیا تھا،تاہم پولیس نے تحقیقات جاری رکھی ہوئی ہیں کہ بلال پاشا کی موت قتل ہے یا خود کشی، بلال پاشا کے سر پر گولی لگی ہوئی تھی

    بلال پاشا کی موت بارے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر گزشتہ روز سے بحث جاری ہے، صارفین کے مطابق بلال پاشا ڈپریشن کا شکار تھے،ایک صارف نے لکھا کہ بلال پاشا جنوبی پنجاب کے ایک پسماندہ علاقہ میں پیدا ہوا۔ والد دیہاڑی دار مزدور تھے۔ مالی حالات اچھے نہ ہونے کی وجہ سے مسجد میں ہی قائم مکتب سے پرائمری پاس کی۔ جنوبی پنجاب کی پسماندگی کا عالم سب پر عیاں ہے لہذا بلال پاشا نے بھی چھٹی جماعت سے اے بی سی پڑھنا شروع کی۔ انٹر میڈیٹ ایمرسن کالج ملتان اور بیچلر زرعی یو یونیورسٹی فیصل آباد سے کیا۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مسجد سے پانچ جماعتیں کرنے والا بچہ کل کو مقابلے کا امتحان پاس کرکے سی ایس پی بن جائے گا۔

    بلال پاشا نے کیریئر کا آغاز ایک پرائیویٹ نوکری سے کیا۔ لیکن والد کی خواہش پر گورنمنٹ سروس میں آیا اور پولیس میں سب انسپکٹر بھرتی ہوگیا۔ بعد ازاں مختلف سرکاری اداروں میں سولہویں اور سترہویں سکیل کی ملازمت کرتے ہوئے 2018 ء میں سی ایس ایس کا امتحان پاس کرنے میں کامیاب ہوا۔

    بلال پاشا نے اپنے بیک گرائونڈ کو چھپانے کی بجائے اپنے سفید داڑھی والے مزدور باپ کے ساتھ کھڑے ہوکر انٹرویو دیا اور پاکستان کے ان نوجوانوں میں امید کی شمع جلائی جو سی ایس ایس پاس کرنے کو صرف ایلیٹ کلاس سے منسوب کرتے تھے۔ سلسلہ چل نکلا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہزاروں نوجوان سی ایس ایس کے خواب آنکھوں میں سجائے اس سفر پر گامزن ہونے لگے۔

    لیکن عرفان خان نے کیا زبردست جملہ بولا تھا کہ "جب ہم جیسوں کےدن آتے ہیں موت بیچ میں ٹپک پڑتی ہے”۔ بلال پاشا کی زندگی کی شروعات ہوئی تھی اور موت نے آن دبوچ لیا۔ بلال کی موت کی وجہ بس ایک ہی تھی۔۔ سول سروس میں ملنے والا ڈپریشن۔ وہ جس سے بھی بات کرتا یہی کہتا کہ وہ یا تو نوکری چھوڑ دے گا یا خودکشی کرلے گا۔ (سکرین شاٹ کمنٹ میں)۔

    بلال کی موت سے دو باتیں عیاں ہیں، ایک، ڈپریشن جان لیوا بیماری ہے۔ یہ ارب پتی باپ طارق جمیل کے ارب پتی بیٹے کو بھی دبوچ لیتی ہے اور یہ ایک مزدور باپ کے افسر بیٹے بلال پاشا کو بھی نہیں چھوڑتی۔ دوسرا۔۔ ہمیں اپنے خوابوں کے پیچھے اتنا بھی نہیں بھاگنا چاہیے کہ وہ ہمارے لئے Pyrrhic Victory ثابت ہو ( فرانس کا نپولین بوناپارٹ روس کو شکست دینے کے لئے اپنی چھ لاکھ فوجوں کے ساتھ آگے بڑھتا گیا۔ وہ جنگ تو جیت گیا لیکن سرد موسم کی وجہ سے صرف دس ہزار فوجیوں کو بچا کر واپس آیا اور تب تک پیرس کا بھی محاصرہ ہوچکا تھا) ۔ بلال سترہویں سکیل کی عام نوکری پہ رہتا تو شاید کبھی اس Pyrrhic Victory کا شکار نہ ہوتا۔

    کسی نے کیا خوب کہا ہے ” جس کی طلب میں تڑپ رہے ہو، وہ مل بھی بھی گیا تو کیا کرو گے”۔ یا پھر چارلس بکوسکی سے نے کہا تھا ” ڈھونڈو اسے جس سے تم محبت کرتے ہو تاکہ وہ تمہیں مارسکے”۔ بلال کو بھی سی ایس ایس کرنے نے مار دیا۔ لہذا سی ایس ایس ایسی چیز نہیں ہے جس کی خاطر جان سے بھی ہاتھ دھویا جائے۔ ہر سال 17 فیصد بیوروکریٹ اپنی نیلی بتی اور سبز نمبر پلیٹ کو اللہ حافظ کہتے ہوئے استعفے دے دیتے ہیں۔ بلال بھی یہی کہتا تھا ” یہ لوگ بتی اور سبز نمبر پلیٹ دیکھتے ہیں لیکن میرے اندر نہیں دیکھتے”۔ (سکرین شاٹ کمنٹ میں) اب قیامت گزر چکی ہے۔

    آج کی رات بلال کے باریش والد کے لئے بہت بھاری ہے۔ آج وہ اپنے ناتواں ہاتھوں سے اپنے لخت جگر کے سونے جیسے جسم کو سپرد خاک کرے گا۔ آج کی رات بہت طویل ہے۔۔ بہت کٹھن۔۔ ہر طرف چیخ و پکار ہوگی۔۔ بلال کی میت کو روکا جائے گا۔۔ لیکن جانے والے کو کوئی روک پایا ہے؟ آج رات تو ہوگی لیکن اس کی سحر نہیں ہوگی۔ جب صبح کا سورج طلوع ہوگا تو اس کا باریش باپ گلیوں گلیوں صدائیں لگاتا ہوا اسی مسجد کے صحن میں جا پہنچے گا جہاں سے بلال نے اپنی زندگی کا آغاز کیا تھا۔ لیکن۔۔۔ اب کی بار وہ میسر نہیں ہوگا۔ اب کی بار مسجد کے درودیوار سے بس آہ و بکا سنائی دے گی۔۔ وحشت نظر آئے گی۔۔ لیکن بلال کہیں نظر نہیں آئے گا۔۔۔ وہ اس نیلی بتی۔۔۔ سبز نمبر پلیٹ ۔۔۔ اور اس سماج کے خودساختہ معیار سے بہت دور جاچکا ہوگا۔ اب کی بار وہ لوٹ کے نہیں آئے گا۔
    ۔۔۔۔۔۔اللہ حافظ بلال۔۔۔۔۔

    سحر شنواری نے لکھا کہ بلال پاشا کی طبعی موت پر قومی سوگ منانے والوں کو بتاتی چلوں کے اس ملک میں روز کئی غریب نوجوان غیر طبعی موت مار دیئے جاتے ہیں۔ اس پر رونے کے بجائے ان نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں سوچو۔

  • ورزش..ایک بہترین علاج

    ورزش..ایک بہترین علاج

    ورزش چاہے کسی بھی شکل میں ہو، ڈپریشن کو ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ تناؤ کو دور کرنے، اضطراب کو کم کرنے اور دماغ میں اہم کیمیائی تبدیلیاں شروع کرنے کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتی ہے۔ورزش کے دوران نیورو ٹرانسمیٹر جیسے تناؤ کے ہارمونز اور اینڈورفنز پر اثرات زیادہ مثبت ذہنی حالت میں معاون ہوتے ہیں۔ ورزش نئے تجربات میں مشغول ہونے کے مواقع پیش کرتے ہوئے منفی خیالات سےبھی بچاتی ہے.

    بہت سے افراد مختلف قسم کی ورزشوں یوگا، مراقبہ، جم،واکنگ کے ذریعے افسردگی سے نجات پاتے ہیں،ورزش کے ہر طریقے کے اپنے فائدے ہیں، ذاتی طور پر، مجھے ہمیشہ پیدل چلنا پسند تھا۔ تازہ ہوا، فطرت سے قربت، بدلتے موسموں کے رنگوں کو دیکھتے ہوئے ، زمین پر بکھرے پتے، بہار میں پھولوں کا کھلنا، رنگوں کی قسمیں جو قدرت کی طرف سے ہیں، ٹھنڈے موسم میں ٹھنڈی ہوا آپ کے گال کو چھو رہی ہو اور جب آپ احساس سے لطف اندوز ہونے کے لیے اپنا چہرہ اٹھا رہے ہیں تو گرم ہوا آپ کے گالوں کو چوم رہی ہے۔ دھواں، ٹریک کے معیاری پانچ چکر کے بعد، پارک میں ایک پرسکون جگہ،امن، خاموشی دنیا کو جاتے دیکھ رہے ہیں۔

    مراقبہ دوسرے نمبر پر آتا ہے۔ اپنے پیروں کے نیچے تازہ گھاس کھرچتے ہوئے ایک چٹائی نکالنا، ایک درخت کے نیچے بیٹھا، تمام خیالات سے خالی دماغ، صرف ہلکی ہوا کے جھونکے کی آواز اور باغ کی ہلکی ہلکی جھنکار! پرندے پھڑا پھڑا رہے ہیں، ویسے آنکھیں بند کر لیں، سانس لیں، گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر ہتھیلیاں اوپر کریں اور آہستہ آہستہ دوبارہ کریں،مکمل سکون کا احساس آپ کو چُرا لیتا ہے۔ اتنا مکمل کہ آنکھوں میں آنسو آجائیں،

    ان طریقوں کو اپنے معمولات میں شامل کرکے، ہم ذہنی تندرستی کو فروغ دے سکتے ہیں اور اندرونی سکون کا گہرا احساس پیدا کرنے کے لیے ورزش کی علاج کی طاقت کو بروئے کار لا سکتے ہیں۔

    آئے روز وزیراعظم کو اتار دیا جائےتو پھر ملک کیسے چلے گا ،نواز شریف

    قصے،کہانیاں سن رہے ہیں،یہ کردار تھا ان لوگوں کا،نواز شریف کا عمران خان پر طنز

    خاور مانیکا کے انٹرویو پر نواز شریف کا ردعمل

    سات منٹ پورے نہیں ہوئے اور میاں صاحب کو ریلیف مل گیا،شہلا رضا کی تنقید

    پینا فلیکس پر نواز شریف کی تصویر پھاڑنے،منہ کالا کرنے پر مقدمہ درج

    نواز شریف کے خصوصی طیارے میں جھگڑا،سامان غائب ہونے کی بھی اطلاعات

    میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ میرے دل کے اندر کبھی کوئی انتقام کا جذبہ نہ لے کر آنا، نواز شریف

    نواز شریف ،عوامی جذبات سے کھیل گئے

     نوازشریف کی ضبط شدہ پراپرٹی واپس کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری

  • مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    مضافاتی علاقوں میں زندگی گزارنےوالے لوگ ڈپریشن میں مبتلا ہو سکتے ہیں

    وہ لوگ جو پھیلتے مضافاتی علاقوں میں زندگی گزار رہے ہیں ان کو ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے شدید خطرات لاحق ہیں-

    باغی ٹی وی: وہ لوگ جو شہر کی شور شرابے والی اور اعصاب شکن زندگی سے اکتا چکے ہیں، انہیں لگتا ہے مضافاتی علاقوں میں جا کر بس جانا اس مسئلے کا ایک مثالی حل ہے لیکن ایک تحقیق کے مطابق ایسا کرنا زندگی میں سکون کا ضامن نہیں ہو سکتا اس کی بنیادی وجہ اطراف میں تھوڑے لوگوں کے ہونےکےسبب معاشرتی سرگرمیوں میں حصہ لینے میں کمی اور اجتماعیت کا عدم احساس ہےجو ذہنی صحت کو بہتر کرنے کا سبب ہوتے ہیں۔

    ترکیہ کا شمالی کوسووو میں اپنی ایک کمانڈو بٹالین بھیجنے کا اعلان

    امریکا کی ییل یونیورسٹی اور ڈنمارک کی آرہس یونیورسٹی کے محققین نے ڈنمارک میں 30 برس کے عرصے میں بننے والے علاقوں کی سیٹلائیٹ تصاویر اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے نقشہ سازی کی محققین نے دیکھا کہ تقریباً 75 ہزار کی آبادی والے علاقے کے افراد میں ڈپریشن کی تشخیض ہوئی جبکہ اس دورانیے میں ساڑھے 7 لاکھ سے زائد آبادی والے علاقے میں لوگوں میں یہ کیفیت نہیں پائی گئی۔

    ترکیہ زلزے کی پیشگوئی کرنیوالےسیسمولوجسٹ کی جون میں خوفناک زلزلے کی پیشگوئی

    مطالعے سے نتیجہ اخذ کیا گیا کہ وہ شخص جو مضافاتی علاقے میں زندگی گزاررہا ہوتا ہے اس کے شہر میں رہنے والوں کی نسبت ڈپریشن میں مبتلا ہونے کے خطرات 10 سے 15 فی صد زیادہ ہوتےہیں تحقیق میں یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ بلند عمارتوں اورکم کثافت والے گھروں کے مجموعے کا تعلق شہر میں رہنے والوں کو لاحق کم خطرے سے تھا۔

    ایران کا پاکستان سمیت خلیجی ریاستوں کے ساتھ بحری اتحاد بنانے کا منصوبہ

  • میڈیکل کی طالبہ نے اسپتال کی چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی

    میڈیکل کی طالبہ نے اسپتال کی چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی

    بھارت میں میڈیکل کی طالبہ نے اسپتال کی چھت سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی میڈیا کے مطابق 21 سالہ طالبہ سرکاری سطح پر چلنے والے بی جے میڈیکل کالج میں زیر تعلیم تھی جس نے مبینہ طور پر بدھ کی صبح سوژان جنرل اسپتال کی چھت سے چھلانگ لگا کر اپنی زندگی ختم کر لی –

    آفس میں کرسی پر بحث،ملازم نے اپنے ہی کولیگ کو گولی ماردی

    پولیس کے مطابق یہ افسوسناک واقعہ بدھ کی صبح 10:30 بجے پیش آیا،ایک خاتون کو یہ طالبہ پول کے پاس خون میں لت پت پڑی ملی وہ اسے علاج کیلئے اسپتال لے گئی جہاں وہ دوران علاج وفات پا گئی-

    میڈیا رپورٹس کے مطابق پولیس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ میڈیکل فرسٹ ایئر کی طالبہ تھی گزشتہ کچھ دنوں سے پڑھائی اور امتحان کی وجہ سے ذہنی تناؤ کا شکار تھی اور پچھلے تین چار دنوں سے وہ اکثر روتی رہتی تھی-

    امریکا میں دو بلیک ہاک ہیلی کاپٹر گر کر تباہ

    ڈپٹی کمشنر پٹیل نے بتایا کہ والدین کی جانب سے طالبہ کو امتحان میں شرکت کرنے پر زور دیا گیا تھا چاہے تیاری بھی نہ کی ہو اور ذہنی تناؤ کی وجہ سے والدین کی جانب سے طالبہ کو ماہرین نفسیات کے پاس بھی لے جایا گیا تھا-

    پولیس کے مطابق دوران تفتیش طالبہ کے پاس سے خودکشی کرنے کے حوالے سے کوئی تحریری نوٹ بھی نہیں ملا تاہم واقعے کی ہر پہلو سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

    جمیل فاروقی کی اوریا مقبول جان بارے تہلکہ خیز آڈیو لیک

  • ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    ڈپریشن ہمیشہ بُرا ہی نہیں مفید بھی ہوتا ہے،امریکی ماہر نفسیات

    ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ پریشانی ہمیشہ بُری نہیں ہوتی جیسا کہ زیادہ تر لوگ سوچتے ہیں، بلکہ اس کے ایسے فائدے ہیں جو کم لوگ جانتے ہیں انسان اپنی عام زندگی میں اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ڈاکٹراورماہر نفسیات اور امریکن ہارورڈ یونیورسٹی کے پروفیسر ڈیوڈ روزمارین کا ایک مضمون "بی سائیکولوجی ٹوڈے” پر شائع کیا گیا مصنف نے کہا کہ کسی شخص کو متاثر کرنے والی پریشانی اس کے جذباتی تعلقات کو مضبوط اور بہتر بنانے اور محبت کے رشتے کو بحال کرنے کا باعث بن سکتی ہے جسے وہ دوسروں کے ساتھ قائم کرتا ہے۔

    اسمارٹ فون بند کر کے سونا حاملہ خواتین میں ذیابیطس کے خطرات کو کم کر …

    ماہرنفسیات روزمارین نے بے چینی کا علاج تلاش کرنے کی طبی کوششوں کو خواہ وہ جدید طبی علاج ہو یا روایتی علاج جیسا کہ ورزش اور دیگر اس بات کی طرف اشارہ کرتےہوئےکہا کہ ایک شخص اضطراب کے احساسات سےمکمل طور پربچ نہیں سکتاکیونکہ یہ عالمگیر انسانی تجربے کا حصہ ہے۔

    ماہر نفسیات نے لکھا کہ ایک بار جب اس حقیقت کو تسلیم کر لیا جاتا ہے تو اضطراب کا حل واضح ہو جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بے چینی ایک لعنت نہیں ہے بلکہ ایک طاقت ہے پریشانی کا سامنا کرنا جذباتی رجحانات اور حالتوں کے ساتھ اپنی ہم آہنگی کو بہتر بناتے ہوئے اپنے پیاروں سے تعلق بڑھا سکتا ہے اور تعلقات میں مدد کر سکتا ہے-

    انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے لوگوں کے جذبات کو سمجھنا، ان کا مقابلہ کرنا اور ان کا نظم کرنا جو کہ تعلقات بنانے کے لیے ضروری مہارتیں ہیں، بے چینی کے ساتھ ہمارے اپنے تجربے سے بہت زیادہ اضافہ کیا جا سکتا ہے وہ لوگ جن کی مصیبت یا صدمے کی تاریخ ہے وہ عام طور پر دوسروں کے لیے زیادہ ہمدردی محسوس کرتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہم اپنے لیے فکر مند ہوتے ہیں تو ہمیں اس بات کا زیادہ بدیہی احساس ہوتا ہے کہ دوسروں کو کس چیزکی ضرورت ہے-

    پھل اور سبزیاں ذیابیطس کے مریضوں کو امراض سے بچا سکتے ہیں،تحقیق

    مصنف نے لکھا کہ اضطراب کے بارے میں ایک اور عام حقیقت یہ ہے کہ جب ہم اپنی پریشانی کو دوسرے لوگوں کے احساسات کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں تو یہ ہمیں اپنے اضطراب کے احساسات کو سنبھالنے اور اس پر ایکٹ کرنے میں مدد کرتا ہے۔”

    پروفیسر و ماہر نفسیات ڈاکٹر روز مارین نے نتیجہ اخذ کیا کہ آپ خود سے باہر نکل کر دوسروں کی ضروریات کو دیکھیں، پھر ان کا جواب دے کر اپنی پریشانی کو کم کر سکتے ہیں دُکھ دوسروں کے لیےہمدردی کو فروغ دیتا ہے، کیونکہ سب سے زیادہ ہمدرد لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنی زندگی میں بڑی مشکلات سے گذرے ہوں۔ میں یہاں تک کہوں گا کہ میرے بہت سے مریض ان سب سے زیادہ فکر مند اور ہمدرد لوگوں میں سے ہیں جنہیں میں جانتا ہوں۔

    ڈاکٹر روز مارین کے مطابق اضطراب، ڈپریشن، یا دماغی صحت کےدیگرچیلنجز کا سامنا کرنا ہمیں دوسروں کےاحساسات سے زیادہ باخبر رہنے کا باعث بن سکتا ہے۔ زیادہ اضطراب والے لوگ اکثر اپنی پریشانی کی وجہ سے قابل قدر باہمی مہارتیں سیکھتے ہیں زیادہ ہمدرد ہوتے ہیں اور زیادہ وسائل والے ہوتے ہیں۔ ہم زیادہ خیال رکھنے والوں اور دوسروں اور ان کے تجربات کے بارے میں زیادہ آگاہ ہیں۔ بے چینی ہمیں دوسرے لوگوں کے احساسات اور تجربات کا خیال رکھنے میں مدد کر سکتی ہے-

    کیا عقل داڑھ کا عقل سے کوئی تعلق ہے؟اور یہ اتنی تاخیر سےکیوں نکلتی ہیں

  • ضرورت سے زائد سختی بچوں میں شدید ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہے،تحقیق

    ضرورت سے زائد سختی بچوں میں شدید ڈپریشن کا سبب بن سکتی ہے،تحقیق

    ماہرین نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ اگر بچوں پر ضرورت سے زائد سختی کی جائے تو ان کا ڈی این اے متاثر ہوتا ہے جس سے وہ لڑکپن اور جوانی میں ڈپریشن کے شکار بھی ہوسکتے ہیں۔

    باغی ٹی وی :یہ تحقیق اب جرمنی کی یونیورسٹی آف میونسٹر کی پروفیسر ایولِن وان ایشے نے کی ہے جو تحقیق کے وقت بیلجیئم کی جامعہ لیوون سے وابستہ تھیں اس کی تفصیل یورپی کالج آف نیوروسائیکولوجی فارماکولوجی کی کانفرنس میں پیش کی گئی ہیں۔

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    پروفیسر ایولِن وان ایشے نے کہا کہ بچوں کو مارنے اور ان پر چیخنے چلانے کا عمل جین پڑھنے کے قدرتی عمل کو متاثر کرسکتا ہے اور یوں بچے کی مجموعی نشوونما متاثر ہوتی ہے۔

    مطالعے میں 21 نوعمر لڑکے اور لڑکیوں کو لیا گیا جنہیں والدین نے بہترین ماحول میں پروان چڑھایا تھا اور نرمی سے تربیت کی تھی پھر 23 لڑکے لڑکیوں سےان کا موازنہ کیا گیاجو اسی عمر کے تھے اور بچپن میں والدین کی پٹائی، سختی اور بے رخی جھیل چکے تھے۔ ان کی اوسط عمر 12 سے 16 برس تھی۔

    وزن کم کرنے میں شام کی ورش زیادہ مؤثر. تحقیق

    پھرماہرین نے شامل تمام افراد کا ڈی این اے پرکھا جس میں ڈی این اے کےساڑھے چار لاکھ مقامات پر میتھائیلیشن کا جائزہ لیا گیا میتھائلیشن ایک قدرتی عمل ہے جس میں کیمیائی اجزا کےچھوٹے ٹکڑے ڈی این اے سے منسلک ہوجاتے ہیں اوران کی ہدایات پر اثراندازہوتے ہیں اگر یہ عمل بڑھ جائے تو انسان ڈپریشن کا شکار ہوسکتا ہے۔

    اب جن بچوں کی تربیت سخت ترین ماحول میں ہوئی تھی ان کے ڈی این اے میں تبدیلی کی شرح بلند تھی اور جائزے کے بعد اس کے آثار ان کی نفسیات میں بھی دیکھے گئے۔

    تحقیق میں بتایا کہ والدین کی سختی اور ڈانٹ ڈپٹ سے بچوں میں ایپی جنیٹکس تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں اورحیاتیاتی طور پر ان میں ذہنی تناؤ اور ڈپریشن کا خدشہ بڑھ جاتا ہےالبتہ اس کے اثرات بلوغت میں ہی نمودارہوناشروع ہوجاتے ہیں۔ اس کا منفی اثرختم کرنےکےلیے ضروری ہے کہ وہ بچوں کی تربیت احساسِ تحفظ اور محبت کے ساتھ کی جائے تاکہ ان کی شخصیت متوازن ہوسکے۔

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

  • ڈپریشن  کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا

    ماہرین نے اپنی نئی تحقیق میں ڈپریشن کے مریضوں کے لیے مشروم کو کو علاج قرار دے دیا۔

    باغی ٹی وی : ڈپریشن کا علاج اب مشروم کے ذریعے کیا جا سکے گا،برطانوی ماہرین کے مطابق میجک مشرومز میں موجود سائلوسائبن ڈپریشن کو دور کرسکتا ہے اب تک کے سب سے بڑے کلینیکل ٹرائل کے اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ جادوئی کھمبیوں میں پایا جانے والا اہم نفسیاتی جزو ڈپریشن کی علامات کو نمایاں طور پر کم کر سکتا ہے جس کا علاج مشکل نہیں ہے-

    کینسرکی بروقت تشخیص اور بہتر علاج کا زیادہ مؤثر طریقہ دریافت

    لندن میں مقیم اور نیس ڈیک میں درج COMPASS پاتھ ویز کے ذریعے کیے گئے درمیانی مرحلے کے مطالعے میں ماہرین کی جانب سے ایک ایم جی، دس ایم جی اور پچیس ایم جی خوراکوں کو یورپ اور شمالی امریکہ کے 10 ممالک کے کل 233 افراد پر آزمایا گیا ، جس میں پچیس ایم جی کی دوا نے بہترین نتائج دیئے۔

    ان میں سے زیادہ تر گذ شتہ ایک سال سے زیادہ عرصے سے شدید ذہنی دباؤ کا شکار تھے اور ان کی عمریں 40 سال کے لگ بھگ تھیں، ماہرین کا کہنا ہے کہ حالیہ مطالعات امید افزا ہیں لیکن ان کے دیرپا اثرات کا اندازہ لگانے کے لیے ابھی یہ تجربات ناکافی ہیں۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈپریشن ایک دیرپا مسئلہ ہے جس پر 12 ہفتوں سے کہیں زیادہ فالو اپ پیریڈ استعمال کرنا چاہیے، اس لیے مزید تحقیق کے لیے جلد ہی ایک بڑا تجربہ شروع کیا جائے گا کہ ڈپپریشن کو روکنے کے لیے کتنی خوراکوں کی ضرورت ہے۔

    محققین کا کہنا ہے کہ دوا کے منظور ہونے میں تین سال لگ سکتے ہیں مشروم کو اس کی خصوصیات کی بنا پر ’میجک مشرومز‘ بھی کہا جاتا ہے۔ قانونی منظوری کے بعد امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں تک اس کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

    اگر قانونی منظوری مل گئی تو امید ظاہر کی جارہی ہے کہ آئندہ چند سالوں تک اس کی دوا مارکیٹ میں دستیاب ہو جائے گی۔

    کنگز کالج لندن کے کنسلٹنٹ سائیکاٹرسٹ اور سینئر کلینیکل لیکچرر، جیمز روکر، جو اس تحقیق میں شامل تھے، نے کہا کہ COMPASS کا کمپاؤنڈ دماغ کے ان ٹکڑوں کو نشانہ بناتا ہے جو جذبات کی پروسیسنگ میں گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

    ایک بار انتظام کرنے کے بعد، مریض "جاگتے ہوئے خواب جیسی” حالت میں داخل ہو جاتے ہیں جو چار سے چھ گھنٹے تک جاری رہتی ہے روکر نے کہا کہ لوگ صبح آئے، ان کا نفسیاتی تجربہ ہوا اور وہ دوپہر یا شام کو اپنی بنیادی حالت پر چلے گئے۔

    ایک طبی جریدے میں شائع ہونے والے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ جن مریضوں کو سائلو سائیبن کی 25 ملی گرام کی خوراک دی گئی تھی ان میں علاج کے تین ہفتے بعد افسردگی کی علامات میں شماریاتی طور پر نمایاں طور پر کم خوراک لینے والے افراد کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم تھی۔

    یونیورسٹی کالج لندن انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ کے ایسوسی ایٹ پروفیسر روی داس نے خبردار کیا کہ ٹرائل کے نتائج مثبت ہیں لیکن شاندار نہیں ہیں۔

    حاملہ خواتین کو اینیستھیزیا دیئے جانے سے بچے کی نشو نما متاثر نہیں ہوتی،تحقیق

    "ہر گروپ میں شدید افسردہ مریضوں کی غیر مساوی تعداد تھی؛ ظاہری ‘مؤثر’ (25mg) خوراک والے گروپ میں نمایاں طور پر کم شدید افسردہ افراد کے ساتھ۔ کاغذ میں اس کا اعتراف نہیں ہوتا۔”

    اگرچہ مریضوں کو صرف اس صورت میں اندراج کیا گیا تھا جب وہ خودکشی کے طبی لحاظ سے اہم خطرے میں نہیں سمجھے جاتے تھے، لیکن 25 ملی گرام گروپ کے تین شرکاء نے علاج کے 12 ہفتوں کے اندر خودکشی کے رویے کا مظاہرہ کیا۔

    COMPASS پاتھ ویز کے چیف میڈیکل آفیسر گائے گڈون نے کہا کہ ڈپریشن کا مطالعہ کرنے سے، خود کشی بیماری کے کورس کی ایک خصوصیت بننے والی ہے۔

    "ہمارا مفروضہ یہ ہے کہ اختلافات اتفاقی طور پر ہوتے ہیں لیکن ہم اسے مزید تجربات کرکے ہی حل کر سکتے ہیں۔”

    انہوں نے کہا کہ کمپاؤنڈ کی جانچ کرنے والے دو آخری مرحلے کے مطالعے سے ڈیٹا، جسے پی ٹی ایس ڈی اور اینوریکسیا نرووسا کے علاج کے طور پر بھی آزمایا جا رہا ہے، جلد از جلد 2024 کے آخر تک منظر عام پر لایا جا سکتا ہے۔

    بلڈ پریشر کا کم ہونا ڈیمینشیا کے خطرات کو کم کرسکتا ہے،تحقیق

  • نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا خواتین کی تعداد میں اضافہ، تحریر: صوفیہ صدیقی

    کیا آپ جانتے ہیں کہ 14 ملین پاکستانی تھوڑے سے درمیانے درجے کی نفسیاتی بیماریوں میں مبتلا ہیں؟ تاہم، اس طرح کی تعداد اس وسیع آبادی کا سایہ بنی ہوئی ہے جو اس ذہنی پریشانی کی اطلاع دینے یا اسے تسلیم کرنے سے بھی انکار کرتی ہے جس کا وہ سامنا کر رہے ہیں۔ اس آبادی کا ایک وسیع حصہ خواتین پر مشتمل ہے۔

    گلوبل ہیومن رائٹس ڈیفنس کی 2015 میں کی گئی تحقیق کے مطابق پاکستان کی 10 سے 16 فیصد آبادی نفسیاتی پریشانی یا الجھنوں کا شکار ہے۔ جس میں ڈپریشن، شیزوفرینیا اور مرگی جیسے امراض شامل ہیں۔

    حال ہی میں میری ایک ایسی لڑکی سے ہوئی جو کہ اسلام آباد میں ایک یونیورسٹی میں ایم ایس پروگرام میں زیر تعلیم ہے۔ لڑکی کی عمر لگ بھگ اٹھائیس سے تیس سال ہے اور معاشرتی رویوں نے اسے شدید دباؤ کا شکار کر رکھا ہے۔ عاصمہ نے مجھے بتایا کہ کس قدر مشکلوں کے بعد وہ اپنے آبائی علاقے ایبٹ آباد سے اسلام آباد پہنچی ہے۔ گھر میں تعلیم حاصل کرنے سے لے کر ایک بے جوڑ شادی اس کے ذہنی دباؤ میں اضافہ کر رہے تھے۔ اس لڑکی کو لگتا ہے کہ اسے با اختیار ہونا چاہیئے ، وہ اپنی تعلیمی قابلیت کو معاشرے میں بہتری کے لیے استعمال کرنا چاہتی ہے۔ لیکن اس کے خوابوں کے رستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اس کے والدین ہیں ، جو اس سے پیار کرنے کے دعویدار تو ہیں لیکن اپنی اولاد کو بہت سے رشتے داروں کے تعنوں سے بچنے، اور رشتے داروں کے روٹھنے خوف سے، ان کی مرضی کے بنا ہی شادی کرنے لیے آمادہ ہیں۔

    ابھی کل ہی کی بات ہے ، ایک سہیلی کے ریفرنس سے طیبہ سے ملاقات ہوئی، جو کہ آج کل فری لانسر ہے۔ بیس منٹ کی ملاقات میں طیبہ کے مسائل سننا اور اس سے اس کی جنگ میرے لیے اب شاید روز کی بات ہے ۔

    طیبہ، نے اس مختصر سی ملاقات میں کافی کے ساتھ دو سگریٹ سلگائے ۔ اس کی شادی انیس سال کی عمر میں ایک وکیل سے ہوئی تھی، تقریباً پینتیس سالہ، طیبہ کے تین بچےہیں، جن کی کفالت کی وہ اکیلی ذمہ دار ہے۔ کیونکہ شادی کے آٹھ سال بعد اس نے خلاء لے لی۔ طیبہ کے مطابق، گھریلو ضروریات نہ پوری کرنے کے ساتھ ساتھ اسکا سابق خاوند مذہبی انتہا پسندی ، شک اور تشدد پسند بھی تھا۔ وہ کہتی یے کہ اسکا شوہر اکثر شہر سے باہر رہتا میں نے سسرال اور میکے والوں کو بہت بار کہا کہ اس کو نفسیات کے کسی ڈاکٹر کو دکھائیں شاید زندگی میں کچھ بہتری آجائے۔ لیکن! ہم سب اپنا علاج کرنے کی بجائے دوسروں کو پاگل بنانے کو ترجیح دیتےہیں۔ طیبہ کہتی ہے کہ وہ شدید کرب، لاچاری اور ذہنی اذیت سے دوچار ہو کر علحیدہ ہوئی تو اس کے بچوں کو وراثت سے آک کر دیا گیا۔ کئی مہینے ماں باپ کے گھر میں خود کو قید کر لیا۔ اور پھر اپنی ایک کلاس فیلو کے تعاون سے اس نے اپنے آپ سے لڑنا چھوڑا اور اپنی ذمہ داریوں کو اٹھانے کا فیصلہ کیا۔

    کچھ منٹ ہم سب خاموش رہے ، طیبہ اٹھ کر جا رہی تھی اور میں یہ سوچ رہی تھی کہ ٹاسک ریلیشن کتنی بڑی اذیت ہیں۔پاکستان میں ناجانے کتنی خواتین روزآنہ ایسے ذہنی دباؤ میں مبتلا ہوتی ہوں گی۔ نہ صرف خواتین بلکہ مرد بھی جس دباؤ سے گزرتے ہیں اس کا اظہار ایک ٹیبو ہے۔ جہاں وہ خاموشی سے اپنے مسائل سے لڑتے ہی رہتے ہیں۔ان سارے سوچوں کے ساتھ میں اپنے ایک جاننے والی پروفیسر کے پاس پہنچی جو کہ آٹھ سال تک ذہنی امراض کے ایک کلینک میں کام کرتی رہیں ہیں اور اب نمس یورنیورسٹی میں شعبہ نفسیات میں پڑھا رہیں ہیں۔ ڈاکٹر عظمی نے بتایا کہ ذہنی صحت کے حوالے سے ہماری کمیونٹیز کی ذہنیت مریضوں کی صحت کو کس طرح نمایاں طور پر متاثر کر سکتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہا کہ پرانی نسل کی اقدار کو برقرار رکھنے والے والدین ، اکثر اپنے بچوں کے لیے اضطراب کا باعث بنتے ہیں۔ جس سے ان کی اولاد میں خود اعتمادی کی کمی پیدا ہوتی ہے۔ یہاں تک کہ اگر وہ (پاکستانی والدین) اس طرح کی بیماریوں کے بارے میں حساس اور آگاہ بھی ہیں کو نہیں سمجھتے ۔

    10 سالہ بچے کے ساتھ مسجد کے حجرے میں برہنہ حالت میں امام مسجد گرفتار

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    ہم میں سے اکثر والدین پدرانہ نظام کا حصہ رہے ہیں جس میں خواتین کے جذبات بمشکل ہی بحث کا موضوع ہوتے ہیں۔ خواتین کے جذبات، احساسات اکثر معاشرے میں نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ کیونکہ خاندان اور رشتے داروں کے نزدیک وہ قابل ذکر نہیں ہوتے، کم عمری میں شادی ، بے جوڑ رشتے اور بعض اوقات لوگوں کے مطابق ایک عمر تک شادی نہ ہونے یا کرنے کی صورت میں خواتین کو اکثر طعنے سننا پڑتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ یہاں تک کہ انھیں مجبوریوں کا واسطہ دے کر ایک اور تکلیف میں مبتلا کر دیا جاتاہے ۔

    وہ کہہ رہیں تھی کہ صرف ہم نہیں بلکہ سارا ملک ہی ایسے بہت سے کرب میں مبتلا ہے، بے سکونی، نیند نہ آنا، غربت و افلاس، تعلیم اور شعور کی کمی اور مذہبی و معاشرتی جنون ہم سب کے لیے ایک بڑا المیہ ہیں ۔ ہم نفسیاتی کے متعلق بیماریوں کو جاننا یا حل تلاش کرنے کو پاگل پن سمجھتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ دماغی صحت کا مسئلہ پاکستان باقی رہے گا اگر پاکستانی نوجوان اپنے بزرگوں سے مختلف ذہنیت کو ترجیح دینے میں ڈٹے رہے تو ذہنی بیماریوں کی شناخت نہ صرف آسان ہوجائے گی بلکہ نوجوانوں خاص طور پر خواتین کی پر اعتمادی میں اضافہ ہوگا ۔

    حال ہی میں جاری ہونے والی ورلڈ بینک کی ایک نئی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو صحت کی دیکھ بھال کے ایک جامع نقطہ نظر کی ضرورت یے یہ ان کی تولید صحت کے لیے بھی ضروری ہے۔ جو ملک میں خواتین کی صحت کی بہترین پر کام کرے گا وہاں زیادہ ترقی ہو گی۔ پاکستان میں خواتین کی صحت کی سطح دنیا میں سب سے کم ہے اور اس کا موازنہ ہمسایہ جنوبی ایشیائی ممالک کی خواتین کے مقابلے میں کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر 38 میں سے ایک عورت حمل سے متعلق وجوہات کی وجہ سے موت کے منہ میں جاتی ہے جبکہ سری لنکا میں یہ شرح 230 میں سے ایک ہے۔

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    کمسن بچوں کے ساتھ گھناؤنا کام کرنیوالا سفاک ملزم اہل محلہ نے پکڑ لیا،فحش ویڈیوز بھی برآمد

    شہر قائد کراچی کی منی بسوں میں فحش ڈانس کی ویڈیوز چلنے لگی

    ماضی کی رپورٹس بھی کچھ ایسا ہی احوال پیش کرتی ہیں۔کراچی کی آغا خان یونیورسٹی/ہسپتال میں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات میں ایک اور 5 سالہ سروے (1992-1996) یہ ظاہر کرتا ہے کہ سائیکو تھراپی حاصل کرنے والے 212 مریضوں میں سے 65% خواتین تھیں، جن میں سے 72% شادی شدہ تھیں۔ مشورے کے محرک میاں بیوی اور سسرال والوں کے ساتھ تنازعات تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان میں سے 50% خواتین میں کوئی نفسیاتی تشخیص نہیں تھی اور انہیں ‘پریشان خواتین’ کا لیبل لگایا گیا تھا۔ 28 فیصد خواتین ڈپریشن یا اضطراب کا شکار تھیں، 5-7 فیصد شخصیت یا ایڈجسٹمنٹ کی خرابی تھی اور سترہ فیصد کو دیگر امراض تھے۔

    تحقیقات سے یہ بھی پتا چلتا یے کہ پاکستان میں بیس سے چالیس سال کی عمر زیادہ ذہنی امراض کا شکار ہے۔ گویا پالیسی بنانے والوں کو اس عمر کی خواتین کو اپنی ترجیحات میں شامل کرنا ہوگا تاکہ ان کی ذہنی اور تولیدی صحت کس کم سے کم متاثر کیا جائے اور ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو۔

  • ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    ڈپریشن کے علاج کے لیے دماغ کی پہلی کامیاب سرجری

    مدینہ منورہ کے شاہ سلمان میڈیکل سٹی میں نیورو سرجری اور سائیکاٹرسٹ میں ماہر طبی ٹیموں نے ایک مریض کو دائمی ڈپریشن سے نجات دلانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی خبررساں ادارے کے مطابق سعودی عرب میں ہونے والی اس سرجری میں ڈیپریشن کی پچیس سال پرانی بیماری کا خاتمہ ہوا اور یہ سعودی عرب میں اپنی نوعیت کی پہلی سرجری ہے۔

    امریکی سائنسدانوں نے کرونا وائرس کا ایک نیا مہلک اور انتہائی خطرناک وائرس ایجاد کر لیا

    ماہر نفسیات اور نیورو سرجن پر مشتمل ایک میڈیکل ٹیم اس کیس پر بات کرنے اور اس سے وابستہ ڈپریشن اور اضطراب کی شدید علامات کو دور کرنے کے لیے سرجیکل مداخلت کی منظوری کے لیے تشکیل دی گئی۔

    رپورٹ کے مطابق ٹیم نے مکمل اینستھیزیا کے تحت "دو طرفہ اینٹیریئر گائرس ریسیکشن” کیا جو بغیر کسی پیچیدگی کے کامیاب رہا۔ مریض کے مزاج اور نفسیاتی حالت میں بہتری آئی، سونے کے اوقات معمول پر آگئے اور وہ مستقل اداسی اور موت کے بارے میں ضرورت سے زیادہ سوچنے سے بچ گیا۔

    محققین نے ذیابیطس، کینسر اور اموات کی وجہ بننے والی پروٹین دریافت کر لی

    قابل ذکر ہے کہ مدینہ منورہ میں کنگ سلمان میڈیکل سٹی ڈپریشن کے مریضوں کے لیے نیورو سرجری کی سروس فراہم کرتا ہے۔ نیورو سرجری میں ایک میڈیکل ٹیم کے ذریعے دماغ میں جراحی کے ذریعے ذہنی دباؤ کی علامات کو دور کرنے کے لیے جدید اور درست سرجیکل تکنیک کا استعمال کیا جاتا ہے اور یہ مشرق وسطیٰ میں اپنی نوعیت کی پہلی سرجری ہے۔

    108 یوکرینی خواتین سمیت 218 قیدیوں کا تبادلہ

  • سبزی کھانے والے افراد میں  ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    سبزی کھانے والے افراد میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے،تحقیق

    برازیل: ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ سبزی کھانے والے افراد میں گوشت خوروں کے مقابلے میں ڈپریشن کا خطرہ دو گنا زیادہ ہوتا ہے۔

    باغی ٹی وی :جرنل آف Affective Disorders میں شائع ایک نئی طبی تحقیق میں یہ دعویٰ کیا گیا ہےکہ سبزی کھانےوالے افراد کو گوشت خوروں سے زیادہ ڈپریشن کے خطرات لاحق ہوتے ہیں اور وہ تیزی سے ڈپریشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    مذکورہ تحقیق میں برازیل سےتعلق رکھنےوالے35 سے 74 سال کی عمرکے14 ہزارسے زائد افراد کی غذائی عادات کا جائزہ لیا گیا ان افراد سے سوالنامے بھروائے گئے تاکہ معلوم ہوسکے کہ وہ گوشت کھانا پسند کرتے ہیں یا صرف سبزیوں تک محدود رہتے ہیں۔

    اس کے بعد کلینیکل انٹرویو شیڈول ری وائزڈ (سی آئی ایس آر) نامی ٹول کو استعمال کرکےلوگوں میں ڈپریشن کا تعین کیا گیا جس سے معلوم ہوا کہ جو افراد سبزی کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں ان میں گوشت خوروں کے مقابلے ڈپریشن کا امکان دو گنا زیادہ ہے۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

    تحقیق کار اس کی کوئی مستند وجہ تو دریافت نہیں کر سکے مگر ان کا کہنا تھا کہ مختلف عناصر جیسے گوشت میں پائے جانے والے اجزا کی جسم میں کمی اس کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے-

    محققین کا کہنا ہے کہ گوشت میں پروٹین، آئرن، وٹامن بی اور زنک جیسے اجزا موجود ہوتے ہیں جو دماغی افعال کے لیے اہم ہوتے ہیں اور ممکنہ طورپرڈپریشن سےتحفظ فراہم کرتے ہیں گوشت کا استعمال کم یا نہ کرنے کی وجہ سے اجزا کی جسم میں کمی ڈپریشن کی ممکنہ وجہ ہوسکتی ہے۔

    ماہرین کےمطابق جب کسی فرد کو مختلف غذائی اجزا کی کمی کا سامنا ہو تو اس سے مزاج پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جبکہ انزائٹی اور تناؤ کا خطرہ بڑھتا ہے اگر غذائی اجزا کی کمی ڈپریشن کا باعث بنتی ہے تو اس ضمن میں تصدیق کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط…