Baaghi TV

Tag: ڈپٹی سپیکر

  • ہماری آفر پرویز الہیٰ نے مانی،دعا خیر کی پھر عمران کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئے،خواجہ آصف

    ہماری آفر پرویز الہیٰ نے مانی،دعا خیر کی پھر عمران کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئے،خواجہ آصف

    ہماری آفر پرویز الہیٰ نے مانی،دعا خیر کی پھر عمران کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو گئے،خواجہ آصف

    ن لیگی رہنما خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ہم نے پرویز الہیٰ کو آفر کی تھی

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ھم نے پرویز الہی صاحب کو گھر جا کر پنجاب کی وزارت اعلی آفر کی جو مانی گئی دعا خیر بھی ھوئی .اگلےھی روز عمران خان کی چوکھٹ پہ سجدہ ریز ھو گۓ.اب کھجل ھو رہے ھیں. اپنے گھرانے اور بزرگوں کی عزت کو بھی پامال کر رہے ہیں.آج پنجاب اسمبلی میں غنڈہ گردی پرویز الٰہی کی سیاست کا نکتہ عرج ھے

    صحافی حامد میر نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ آج ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو ایک ایسے ایوان میں مارا پیٹا گیا جہاں علامہ اقبال بھی کبھی رکن تھے افسوس کہ سیاسی اختلاف کو ذاتی دشمنی بنا دیا گیا ہے آج کے واقعے پر ردعمل کی بجائے صبروتحمل کا مظاہرہ کیا جانا جاہئیے اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہئیے

    اے این پی کی شاہینہ کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ انتہائی افسوسناک و غیر جمہوری عمل ہے پی ٹی آئی اقتدار کی لالچ میں ملک میں انتشار عوام کو دست و گریباں کرنے کی کوشش کررہی ہے ان ارکان ہمیشہ کیلئے نااہل قرار دینا چاہیے۔

    عابد شیر علی کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں پی ٹی آئی گردی نامنظور۔ نیازی ازم نہیں چلے گا۔ اقتدار سے محرومی کے بعد تحریک انصاف پارلیمان کے ہر مقدس ایوان یرغمال بنانے کی راہ پر چل نکلی ہے۔ غنڈہ گردی نہیں چلنے دیں گے۔

    واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف اور ق لیگ کے ارکان نے ڈپٹی سپیکر پر حملہ کر دیا۔ ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر حکومتی اراکین نے حملہ کر دیا ،حکومتی اراکین کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے بال نوچے گئے، اراکین کی جانب سے ڈپٹی سپیکر کو تھپڑ بھی مارے گئے،ڈپٹی سپیکر کو لوٹے مارے گئے پنجاب اسمبلی کی پولیس ڈپٹی سپیکر کو حفاظت کے لیے اٹھا کے دوبارہ اندر لے گئی ھے

    جعلی ادویات بنانے اور فروخت کرنے والوں کو سزائے موت ہونی چاہیے، چیف جسٹس

    وزیراعظم کی رہائشگاہ بنی گالہ کے قریب کسی بھی وقت بڑے خونی تصادم کا خطرہ

    مارگلہ کے پہاڑوں پر قبضہ،درختوں کی کٹائی جاری ،ادارے بنے خاموش تماشائی

    سپریم کورٹ کا مارگلہ ہلز میں مونال ریسٹورنٹ کے حوالہ سے بڑا حکم

    مارگلہ ہلز ، درختوں کی غیرقانونی کٹائی ،وزارت موسمیاتی تبدیلی کا بھی ایکشن

    حکومت دیگر ممالک سے ملنے والے تحائف نہ بتا کر کیوں شرمندہ ہورہی؟ اسلام آباد ہائیکورٹ

    وفاقی حکومت نے تیسری مرتبہ توشہ خانہ تحائف کیس میں مہلت مانگ لی

    پیسہ حقداروں تک پہنچنا چاہئے، حکومت نے یہ کام نہ کیا تو توہین عدالت لگے گی، سپریم کورٹ

    مبینہ طور پر کرپٹ لوگوں کو مشیر رکھا گیا، از خود نوٹس کیس، چیف جسٹس برہم، ظفر مرزا کی کارکردگی پر پھر اٹھایا سوال

    ماسک سمگلنگ کے الزامات، ڈاکٹر ظفر مرزا خود میدان میں آ گئے ،بڑا اعلان کر دیا

    تین دفعہ شریفوں نے وعدے لئے جو کبھی پورے نہ ہوئے،پرویز الہیٰ پھٹ پڑے

  • راجہ پرویز اشرف نے سپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھا لیا

    راجہ پرویز اشرف نے سپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھا لیا

    راجہ پرویز اشرف نے سپیکر قومی اسمبلی کا حلف اٹھا لیا
    راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے

    ساتھی ارکان نے راجہ پرویز اشرف کو سپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد بھی دی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی ، انہوں نے کہا کہ راجہ پرویز اشرف سپیکر کے عہدے کیلئے اکلوتے امیدوار تھے لہذا وہ سپیکر منتخب ہو چکے ہیں سردار ایاز صادق نے راجہ پرویز اشرف سے ان کے عہدے کا حلف لیا

    حلف اٹھانے کے بعد راجہ پرویز اشرف نے بطور اسپیکر فرائض سنبھال لیے ،راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ میں اپنے قائد اور مرد حر آصف زرداری ذوالفقار بھٹو اور بے نظیر بھٹواور شہیدوں کے وارث بلاول بھٹو کا شکر گزار ہوں شہباز شریف، پارلیمانی زعما اور ایوان کے ایک ایک رکن کا شکر گزار ہوںکہ مجھے 15 ویں اسمبلی کے 22 ویں اسپیکر کے طور پر بلا مقابلہ منتخب کیا یہ ہماری ملکی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ایک سابق وزیر اعظم کو اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدے کے لیے اہل جانا گی

    وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسپیکر کو اعلیٰ منصب پر منتخب ہونے پر مبارکباد دیتا ہوں، خواجہ آصف نے کہا کہ اسپیکر کی نظرمیں سب لوگ برابرہونےچاہئیں،پارلیمان آئین اورقانون کی طاقت کامرکزہے،چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے راجہ پرویز اشرف کو اسپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ راجہ پرویزاشرف کواسپیکر بننے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں

    بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ عوام محسوس کررہےہیں،امید کی کرن نظرآئی ہے ادارے متنازعہ بننے کےبجائے آئینی بنیں آئین کے ساتھ جس طرح کھیلا گیا اس سے جگ ہنسائی ہوئی

    بلقیس ایدھی کے انتقال پر اظہار افسوس کی قرارداد قومی اسمبلی میں منظور کر لی گئی قرارداد چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے پیش کی اور کہا کہ بلقیس ایدھی کی انسانیت کے لیے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا،قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ بلقیس ایدھی کو قومی اعزاز سے نوازا جائے،

    مولانا اسعد محمود نے کہا کہ کروڑوں لوگوں نے ہم پر اعتماد کیا ہے،پی ٹی آئی استعفے دے چکی ہے،یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ایک شخص پوری پارٹی کے استعفے قبول کرلے،ہم پنجاب اسمبلی میں بھی جیتیں گے،عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے بعد مدارس اور مساجد پر حملے کیے گئےتوشہ خانہ کے تحفوں کی تفصیلات ایوان میں پیش کی جائیں،

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی پر تشدد کے خلاف مزمتی قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کر دی گئ،قرارداد ن لیگی رکن شزا خواجہ فاطمہ نے پیش کی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا

    وزیراعظم شہباز شریف قومی اسمبلی پہنچ گئے ،صحافی نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ توشہ خانہ ، عمران خان کے خلاف کارروائی ہوگی ،جس کے جواب میں شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہر کا م قانون کے مطابق ہوگا

    وزیراعظم شہباز شریف سے مولانا فضل الرحمان کی ملاقات ہوئی ہے وزیراعظم نے مولانا فضل الرحمان کا خیر مقدم کیا مولانا فضل الرحمان نے شہبازشریف کو وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالنے پر مبارک باد دی،وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قوم کو آپ کی قیادت میں اجتماعی دانش اور کاوش نے مشکل سے نکالا ہے مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم کے عوامی خدمت کے جذبے کو سراہا،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ آپ نے آتے ہی قوم کو دکھایا ہے کہ ان کا خادم کام کیسے کرتا ہے، قوم کی بھلائی کے لیے تعاون اور مدد آپ کے ساتھ ہے اور رہے گی،

    سابق صدر آصف علی زرداری قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے پارلیمنٹ پہنچ گئے، صحافی نے آصف زرداری سے سوال کیا کہ اپوزیشن کا جو گلدستہ بنا ہے یہ اتحاد کتنی دیر تک چلنے والا ہے؟ آصف زرداری نے جواب دیا کہ اچھی اچھی باتیں کیوں نہیں کرتے ہو،

    بلاول بھٹو قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کےلیے پارلیمنٹ پہنچ گئے ،بلاول بھٹو نے صحافیوں سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ اپنی آزادی کو انجوائے کررہے ہیں، میڈیا کو سب سے زیادہ خوش ہونا چاہیے،سلیکٹڈ راج ختم ہوچکا ہے،

    اختر مینگل کا کہنا تھا کہ کچھ عرصہ سے ڈپٹی اسپیکر رکاوٹ بنے ہوئے تھے آج پہلا ایجنڈا ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا تھا،ڈپٹی اسپیکر کا استعفی ٰدینے کے بعد یہ ایجنڈا بھی طے پا گیا

    ن لیگی رہنما رانا حیات کا کہنا تھا کہ عمران خان کوجمہوری طریقے سے ہٹایاگیا ،پی ٹی آئی انتخابات میں ن لیگ کا مقابلہ نہیں کرسکتی،مقابلے پرعمران خان کو بری شکست ہوگی ،عمران خان کانوں کوہاتھ لگا کرسیاست چھوڑیں گے،

    قومی اسمبلی کا اجلاس اراکین پارلیمنٹ ہاوس پہنچنا شروع ہو گئے ہیں منحرف رکن نور عالم خان،راجہ ریاض اور نواب شیروسیر قومی اسمبلی ہال میں پہنچ گئے نامزد اسپیکر راجہ پرویز اشرف کی اسپیکر چمبر آمد ہوئی ہے راجہ پرویز اشرف سے نور عالم خان،راجہ ریاض اور نواب شیر وسیر کی ملاقات ہوئی ہے ،اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا کہنا تھا کہ آصف زرداری ، بلاول بھٹو اور شہباز شریف کا شکرگزار ہوں،باوقار منصب پر فائز ہونے پر اللہ تعالیٰ کا انتہائی شکر گزار ہوں

    تحریک انصاف کے رہنما فرح حبیب کا کہنا تھا کہ اسپیکر رینٹل پاور میں کرپشن کرنے والے کو بنایا گیا قائد ایوان مقصود چپڑاسی کے نام پر کرپشن کرنے والے کو بنایا گیا ،شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ لوگ ایک آزاد، خودمختار پاکستان کے لیے سڑکوں پر آتے رہیں گے ہمیں سنسر کر سکتے ہیں،پابندی لگا سکتے ہیں ہمیں بلیک آؤٹ کر سکتے ہیں لیکن اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، فواد چودھری نے کہا کہ آدھی اسمبلی استعفیٰ دے چکی ہے،آدھے ارکان کی عدم موجودگی میں اسپیکر کا انتخاب سمیت سب کچھ غیر قانونی ہے،ڈرامہ جلد از جلد ختم ہو کر نئے انتخابات کرائے جائیں، پورا ملک مسترد کر چکا ہے

    فرخ حبیب کا کہنا تھا کہ ڈپٹی ا سپیکر پی ٹی آئی ٹکٹ پر جیتے اور ن لیگ نے اسے خرید لیا،ضمیر فروشی اور سینا زوری نہیں چلے گی، نیب ، سپریم کورٹ ، ججز اور انکے خاندان کو دھمکیاں دینا ن لیگ نے یہ کلچر متعارف کروایا، خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی کا واقعہ افسوسناک ہے ہم نے تشدد کے کلچر کو ختم کرناہوگا ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، آئین او رقانون کا احترام ہونا چاہیے پی ٹی آئی کو جب اپنی شکست یقینی نظر آئی تو ایسا کیا گیا،عمران خان نے ہر قانون کی دھجیاں بکھیر دیں،پنجاب میں بھی اقتدارکی منتقلی پرامن ہونی چاہیے،یہ لوگ غیرقانونی طریقے سے کرسی سے چمٹنا چاہتے ہیں،

    پی ٹی آئی کارکنان کا مسجد میں گھس کر امام مسجد پر حملہ، ویڈیو وائرل

    پی ٹی آئی کے منحرف رکن اسمبلی کے گھر پر حملہ،فائرنگ،قاتلانہ حملہ کیا گیا، بیٹے کا دعویٰ

    اللہ خیر کرے گا،دعا کریں پاکستان کی خیر ہو ،شہباز شریف پارلیمنٹ ہاؤس پہنچ گئے

    خان کا اسمبلیوں سے استعفے دینے کا اعلان، مراد سعید پھر بازی لے گئے

    استعفوں کے بعد اگلا لائحہ عمل، شیخ رشید نے بڑا اعلان کر دیا

    پی ٹی آئی کا بھی لانگ مارچ کا اعلان،کب ہو سکتا ہے،تاریخ بھی سامنے آ گئی

    قومی اسمبلی کی طرف سے مراسلہ سپریم کورٹ کو بھیج رہے ہیں،ڈپٹی سپیکر

    اسپیکر قومی اسمبلی کی خالی عہدے پر انتخاب کے لیے شیڈول جاری

    پریشان کن معاشی اعشاریوں پر وزیرِ اعظم نے کیا تشویش کا اظہار

    امپورٹڈ حکمران پارلیمان کی توہین،قوم غدار گٹھ جوڑ کیخلاف کھڑی ہوچکی ہے،عمران خان

    جمعیت علما اسلام شیرانی گروپ کے سربراہ کی عمران خان سے ملاقات

    حکومت اپوزیشن اور اپوزیشن حکومت بن گئی،یہ ہے تبدیلی؟ سراج الحق

  • ڈپٹی سپیکرقاسم سوری نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    ڈپٹی سپیکرقاسم سوری نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا

    ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے قبل عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے ۔

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا استعفیٰ سیکریٹری قومی اسمبلی کے دفتر کو موصل ہو گیاہے، یاد رہے کہ آج قومی اسمبلی میں ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کے خلاف ووٹنگ ہونا تھی ۔

    قومی اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری کے خلاف عدم اعتماد پرووٹنگ آج ہو گی

    قاسم سوری کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی سےاستعفیٰ پارٹی کے وژن کے مطابق دیا ،پاکستان کی خودمختاری اورسالمیت پرکبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے،ملکی مفادات اورآزادی کیلئے لڑیں گے،ملک کی آزادی کی تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے-

    سابق وفاقی وزیر فواد چودھری کا کہنا تھا کہ قاسم سوری نے آج استعفیٰ دے دیا ہے بحیثیت ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری نےبیرونی سازش کا مقابلہ کیا ، قاسم سوری نے ایوان میں جو دلیرانہ فیصلہ دیا وہ تاریخ کا حصہ ہے،تاریخ قاسم سوری کو دلیر اور وفادار کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی بحیثیت کارکن تحریک انصاف کو قاسم سوری پر فخر ہے

    واضح رہے کہ متحدہ اپوزیشن نے قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکرقاسم سوری کے خلاف بھی تحریک عدم اعتماد جمع کروائی تھی قاسم سوری کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق ڈپٹی سپیکر مرتضیٰ جاوید عباسی نے جمع کروائی تھی-

    تحریک عدم اعتماد کے متن میں کہا گیا تھا کہ ڈپٹی سپیکر نے 3 اپریل کو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ دی ، ان کی رولنگ کو سپریم کورٹ نے غیر آئینی و غیر قانونی قرار دیا، انہوں نے دانستہ طور پر آئین کو سبوتاژ کیا۔

    متن میں مزید کہا گیا تھا کہ قاسم سوری نے ایوان چلاتے ہوئے بدترین مثال قائم کی، انہوں نے آئینی شقوں کی خلاف ورزی کی اور حکومت کی حمایت میں متعصبانہ رویہ اپنایا۔

  • پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب،محکمہ داخلہ بھی متحرک

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب،محکمہ داخلہ بھی متحرک

    پنجاب اسمبلی کا اجلاس طلب،محکمہ داخلہ بھی متحرک
    وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کا معاملہ عدالت نے 16 اپریل کو ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کو اجلاس کی صدارت کی اجازت دے دی

    چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ نےتحریری فیصلہ جاری کردیا پنجاب اسمبلی کا اجلاس ہفتہ 16 اپریل دن گیارہ بجے طلب کیا گیا ہے،

    دوسری جانب وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے لیے محکمہ داخلہ پنجاب کے اقدامات ،اقدامات وزیر اعلی پنجاب کے انتخاب کے دوران امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے اٹھائے گئے ہیں.اسمبلی سیشن کے دوران پولیس کے ہمراہ پنجاب رینجرز کے جوان بھی ڈیوٹی پر موجود ہوں گے.پنجاب اسمبلی کے اردگرد پانچ سو میٹر تک دفعہ 144 لگا دی گئی ہے.کسی بھی سیاسی جماعت کے ورکرز پنجاب اسمبلی کے پانچ سو میٹر کی حدود میں اکٹھے نہیں ہو سکتے.چار سے زائد افراد کے اکٹھا ہونے پر بھی پابندی ہے.مال روڑ یا دیگر کوئی راستہ بند کرنے پر سخت کارروائی کی جائے گی.کسی بھی سیاسی پارٹی کے ورکرز اسمبلی کے راستے میں اجتماع کی اجازت نہ ہوگی

    قبل ازیں ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات کی بحالی کیخلاف پرویز الہٰی اور ق لیگ کی درخواستوں پرسماعت ہوئی ،ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری لاہور ہائیکورٹ پہنچ گئے سیکریٹری اسمبلی محمد خان بھٹی عدالت پہنچ گئے چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب لاہورہائیکورٹ پہنچ گئے، ڈپٹی سپیکر دوست مزاری نے کہا کہ پنجاب اسمبلی کو نو گو ایریا بنا دیا گیا سپریم کورٹ میں انڈر ٹیکنگ دی گئی اس لیے اجلاس بلایا ،وکیل ق لیگ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کوئی انڈر ٹیکنگ نہیں دی گئی ،دوست مزاری نے کہا کہ اسپیکر نے غیر قانونی طور پر اختیارات واپس لیے تھے تمام کام قانون اور آئین کے مطابق ہی کیے ،وکیل ق لیگ نے کہا کہ سپریم کورٹ میں معاملہ صرف قومی اسمبلی کا تھا سپریم کورٹ میں اعتراض اٹھایا تھا کہ قومی اسمبلی کا معاملہ ہی دیکھاجائے ڈپٹی اسپیکر بضد ہیں کہ اجلاس کی صدارت وہ ہی کریں گے ڈپٹی اسپیکر اب جانبدار نہیں رہے وہ اپنا جھکاؤ امیدوار کی طرف کر چکے ہیں ،

    وکیل ق لیگ نے کہا کہ میری اور دیگر وکلا کی خواہش تھی کہ الیکشن ہو،ایک بڑا صوبہ بغیر وزیر اعلیٰ کے نہیں رہنا چاہیے پینل چیئرمین پہلے سے بنائے گئے ہیں،جس میں اپوزیشن کے ممبران شامل ہیں،ڈپٹی اسپیکر نے خود کو پہلے ہی متنازعہ کر لیا ہے ،عدالت نے کہا کہ کیا وجہ تھی کہ حمزہ شہباز کی پٹیشن کے بعد آپ نے بھی درخواست دائر کر دی؟ ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ درخواست دائر کی کہ میں نے پنجاب اسمبلی کا سیشن 6 اپریل کو طلب کیا،میرے آرڈر کو ختم کیا گیا، ایڈووکیٹ جنرل کے بیان کے بعد میں نے تاریخ تبدیل کی،اسمبلی سیکریٹریٹ نے جاری کردہ نوٹیفکیشن پر عمل نہیں کیا، اسمبلی کی تاریخ میں آمریت کی کوئی مثال نہیں ملتی،ایڈوکیٹ جنرل پنجاب نے کہا کہ صرف اتنا کہا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 6اپریل کو ہو رہا ہے،میں نے سپریم کورٹ میں کوئی انڈر ٹیکنگ نہیں دی،ق لیگی وکیل نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے بتایا کہ پنجاب کے حالات خراب ہیں،ایڈووکیٹ جنرل نے صرف الیکشن قانون کے مطابق کرانے کی یقین دہانی کرائی تھی ڈپٹی اسپیکر متنازعہ ہو چکے ہیں وہ اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے،

    اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ سپریم کور ٹ میں ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے فیصلے کے خلاف سماعت ہو رہی تھی،سپریم کورٹ نے اسپیکر اور ڈپٹی ا سپیکر کو کسی قسم کا فیصلہ کرنے سے روک دیا تھا، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے یقین دہانی کروائی کہ اجلاس 6 اپریل کے لیے فکسڈ ہے بعد ازاں ٹی وی سے علم ہوا کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس 16 اپریل کے لیے ملتوی کر دیا گیا

    عدالت نے آئی جی پنجاب کو ہدایت کی کہ آپ نے تمام ممبران کو تحفظ فراہم کرنا ہے کسی قسم کو کوئی بدمزگی نہیں ہونی چاہیے اچھے اور سلجھے طریقے سے کل ووٹنگ ہونی چاہیے ،چیف سیکرہٹری آئی جی پنجاب کی معاونت کریں عدالت نے آئی جی پنجاب اور چیف سیکریٹری کو جانے کی اجازت دے دی،جسٹس جواد نے کہا کہ رولز میں واضح ہے کہ کسی کی عدم موجودگی میں کون اجلاس کی صدارت کرے گا،ڈپٹی سپیکر نے کہا کہ شفاف انتخابات کروانے کے لیے عدالت اپنا نمائندہ بھی مقرر کر دے،میں پی ٹی آئی کا ڈپٹی اسپیکر ہوں،انہوں نے میرے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کر دی، وکیل نے کہا کہ قانون کے تحت اسپیکر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی ا سپیکر اسمبلی اجلاس کو چیئر کریں گے

    ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری لاہور ہائیکورٹ سے روانہ ہوگئے لاہور ہائیکورٹ میں بیرسٹر علی ظفر نے دلائل دیئے،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں کوئی جلدی نہیں ہم رات تک بیٹھے ہیں،

    دوران سماعت ق لیگ کے وکیل عامر سعید نے ن لیگ کے عطا تارڑ پر الزامات لگا دیے. عامر سعید نے کہا کہ عطا تارڑ جس قسم کی دھمکی دے رہے ہیں. وہ اس بارے ویڈیو لائے ہیں. بیرسٹر علی ظفر وکیل پرویز الٰہی نے کہا کہ اسپیکر کی عدم موجودگی میں ڈپٹی اسپیکر اسمبلی کارروائی چلائے گا. ڈپٹی اسپیکر کی عدم موجودگی میں اسمبلی کے پینل کا چیرمین اجلاس کی صدارت کرے گا. ہر اجلاس کے لئے چیرمین آف پینل کا اعلان سیکرٹری اسمبلی کرے گا. موجوداجلاس کے لئے 4 چیرمین آف پینل کا اعلان کیا گیا. وزیر اعلی کے عہدہ کے لئے اسپیکر خود بھی امیدوار ہیں.جبکہ ڈپٹی اسپیکر پر بھی قدغن ہے کہ وہ اجلاس کی صدارت نہیں کرتے. ڈپٹی اسپیکر کے خلاف پی ٹی آئی نے عدم اعتماد کی تحریک پیش کر رکھی ہے. ڈپٹی اسپیکر متنازعہ ہیں اور اجلاس کی صدارت نہیں کرسکتے.ڈپٹی اسپیکر نے جومیڈیا پرگفتگو کی ہے ایسے میں وہ متنازعہ بن گئے ہیں

    امتیازصدیقی ایڈوکیٹ نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر پارٹی بن چکے ہیں,ڈپٹی اسپیکر متنازعہ ہیں.ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کے اہل نہیں رہے. حمزہ شہباز غیر قانونی اجلاس منعقد کر رہے ہیں. وہ متوازی حکومت چلا رہے ہیں.حمزہ شہباز متنازعہ تقاریر کر رہے ہیں,ڈپٹی اسپیکر پاور لئے بغیر صوبائی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت نہیں کر سکتے ,حمزہ شہباز پنجاب میں ڈسٹربنس پھیلا رہے ہیں. علی ظفر نے کہا کہ عدالتوں کو پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کا اختیار نہیں ہے ۔ سنگل بنچ نے حقائق کے برعکس فیصلہ جاری کیا ۔16 اپریل تک اجلاس ملتوی کرنا قانونی عمل ہے ۔
    دوست مزاری اجلاس کی صدارت کے اہل نہیں رہے ۔ پینل آف چیرمین موجود ہے قانون کے مطابق ان میں سے کوئی صدارت کر سکتا ہے ۔

    لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات بحال کرنے سے متعلق دائر اپیل پر فیصلہ محفوظ کرلیا جسٹس شجاعت علی خان کی سربراہی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے فیصلہ محفوظ کیا

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

    سپیکروزارت اعلیٰ کےامیدوارکیسے وہ الیکشن کنڈکٹ کروا سکتے ہیں؟ عدالت

  • سپیکروزارت اعلیٰ کےامیدوارکیسے وہ الیکشن کنڈکٹ کروا سکتے ہیں؟ عدالت

    سپیکروزارت اعلیٰ کےامیدوارکیسے وہ الیکشن کنڈکٹ کروا سکتے ہیں؟ عدالت

    سپیکروزارت اعلیٰ کےامیدوارکیسے وہ الیکشن کنڈکٹ کروا سکتے ہیں؟ عدالت
    ڈپٹی سپیکر کیخلاف ق لیگ اور پی ٹی آئی عدالت پہنچ گئیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات کی بحالی کیخلاف پرویز الہٰی اور ق لیگ کی درخواستوں پرسماعت ہوئی

    لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شجاعت علی خان اور جسٹس جواد حسن سماعت کررہے ہیں پرویز الہٰی کیجانب سے لاہور ہائیکورٹ میں بیریسٹر علی ظفر نے دلائل دیئے اور کہا کہ بنیادی طور پر ہائیکورٹ اسمبلی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرسکتی ڈپٹی اسپیکر غیر جانبدار نہیں وہ یہ ڈیوٹی ایمانداری سے سر انجام نہیں دے سکتے یکم اپریل کو وزیر اعلیٰ پنجاب کا استعفیٰ منظور کرلیا گیا ڈپٹی اسپیکر نے رات کی تاریکی میں اجلاس بلوانے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا، عدالت نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ میں ایڈووکیٹ جنرل نے وزیر اعلیٰ کے الیکشن کروانے سے متعلق کوئی بیان دیا تھا ؟ بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے سپریم کورٹ میں الیکشن کروانے کا عندیہ دیا تھا،جسٹس جواد حسن نے بیرسٹر علی ظفر سے سوال کیا کہ کیا اسپیکر وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے جواب دیا کہ اسپیکر وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں ، جسٹس جواد حسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسپیکر وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں تو کیسے وہ الیکشن کنڈکٹ کروا سکتے ہیں؟اسپیکر وزارت اعلیٰ کے امیدوار ہیں تو الیکشن ڈپٹی اسپیکر ہی کنڈکٹ کروائیں گے

    بیرسٹر علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ ڈپٹی اسپیکر پارٹی بن چکے ہیں ڈپٹی اسپیکر نے اختیارات سے تجاوز کرتے ہوئے خود ہی اجلاس طلب کرلیاڈپٹی اسپیکر متنازعہ ہوچکے ہیں اس لیے پینل آف چیئرمین کا کہہ رہے ہیں، جسٹس جواد حسن نے وکیل سے سوال کیا کہ آپ فیصلے کے کس حصے سے متاثر ہیں؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ہم فیصلے کے پیرا نمبر سے 2 متاثر ہیں،ڈپٹی اسپیکر سمجھتے ہیں کہ یہ انکا قانونی حق ہے کہ وہ ہی اجلاس چیئر کریں گے ایسا نہیں ہے رولز موجود ہیں، جسٹس جواد حسن نے کہا کہ آئین تو ڈپٹی اسپیکر کو اجلاس کی صدارت سے نہیں روکتا، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ ڈپٹی اسپیکر اب غیر جانبدار نہیں رہے، جسٹس شجاعت علی خان نے کہا کہ ہم آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کریں گے،جسٹس جواد حسن نے کہا کہ جو مرضی ہو جائے ہم آئین اور قانون سے باہر نہیں جائیں گے،پورے ملک کی نظریں اس الیکشن پر ہیں، جسٹس شجاعت علی خان نے کہا کہ دوسرے فریق کو سننے کے بعد کسی حتمی نتیجہ پر پہنچیں گے،

    عدالت نے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی ،چیف سیکریٹری اور آئی جی پنجاب کو کل طلب کیا ہے،عدالت نے ابتدائی دلائل مکمل ہونے پر دوسرے فریق کو نوٹس جاری کردیا

    قبل ازیں مسلم لیگ ق نے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کو اختیارات واپس دینے کا لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا ہے

    مسلم لیگ (ق) کی جانب سے دائر کی گئی اپیل میں موقف اپنایا گیا کہ ڈپٹی سپیکر متنازعہ ہوچکے ہیں، ڈپٹی سپیکرپارٹی بن چکے ور مسلم لیگ (ن) کوسپورٹ کررہےہیں، ڈپٹی سپیکرکی زیرصدارت وزیراعلیٰ کاالیکشن شفاف نہیں ہوسکتا۔ لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ عدالت ہائیکورٹ کے سنگل بنچ کے فیصلہ کو کالعدم قراردے

    دوسری جانب ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی دوست مزاری کے خلاف پی ٹی آئی نے بھی لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ،پی ٹی آئی کی جانب سے پارلیمانی لیڈر سبطین خان نے عدالت میں درخواست دائر کی جس میں استدعا کی کہ دوست مزاری کو ڈپٹی سپیکر کے اختیارات استعمال کرنے سے روکا جائے ، دوست مزاری جانبدار رکن ہوچکے ہیں ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آچکی ہے وہ اسمبلی سیشن نہیں چلاسکتے

    واضح رہے کہ گزشتہ روز لاہور ہائیکورٹ نے فیصلہ سنایا تھا لاہور ہائی کورٹ نے وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخابات 16 اپریل کروانے کا حکم دے دیا ،وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن ،چیف جسٹس لاہورہائیکورٹ نے فیصلہ سنا دیا اسپیکر کی جانب سے ڈپٹی اسپیکر کے اختیارات سلب کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا گیا،عدالت نے حکم دیا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا الیکشن 16 اپریل کو ہی کرائے جائیں، لاہورہائیکورٹ نے 16اپریل سے پہلے الیکشن کرانے کی استدعا مسترد کردی کہا کہ وجوہات بعد میں بتائی جائیں گی، درخواستوں کو نمٹا دیا ہے، ڈپٹی اسپیکر 16 اپریل کو وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب کرائیں ،تمام فریقین غیر جانبداری سے فرائض انجام دیں گے ،صوبائی اسمبلی کا تمام عملہ الیکشن کر انے میں مکمل تعاون کرے گا،ڈپٹی اسپیکر کواسپیکر کی غیر موجودگی میں اس سیشن کیلئےاسپیکر کا درجہ حاصل ہے قواعد میں فراہم کردہ اختیارات کو مکمل طور پر نظرانداز کر دیا گیا

    نواز شریف کی کمی محسوس ہو رہی ہے،ایاز صادق،صبر، ہر قسم کے جبر سے جیت گیا۔مریم

    خوشی ہےعمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی،علی محمد خان

    عمران خان اچھے اور عزت دار انسان ہیں،سابق بہنوئی حق میں بول پڑے

    وزارت عظمیٰ کی کرسی چھننے کے بعد عمران خان آج کیا کرنیوالے ہیں؟

    شدت پسند عمران خان کا جانا اچھا ہوا،گستاخانہ خاکوں کا مقابلہ کروانیوالے گیرٹ ولڈرز کی ٹویٹ

    ہفتہ کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ بی بی سی کا بڑا دعویٰ

  • ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کیخلاف تحریک عدم اعتماد جمع

    پنجاب میں بدلتی سیاسی صورتحال سپیکر پنجاب اسمبلی نے ڈپٹی سپیکر کو دئیے گئے تمام اختیارات ختم کر دئیے، نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے،

    دوسری جانب دوست مزاری کا کہنا ہے کہ قانونی ماہرین سے بات کرکے حتمی فیصلہ کروں گا تحریک عدم اعتماد پر دستخط زیادہ تر ن لیگی ارکان کے ہیں،اسمبلی سیکریٹریٹ کا عملہ تحریک جمع کرتا ہے،میں قانون کے مطابق کارروائی کروں گا آرڈر آف دی ڈے کی ویلیو زیادہ ہوتی ہے ،گزٹ نوٹیفکیشن سے متعلق بات کرنے کیلئے سیکریٹری اسمبلی نے میرے پاس آنا تھا میرے پاس اختیارات موجود ہے اس کو مدنظر رکھ کر کارروائی کرو ں گا،پنجاب اسمبلی کا اجلاس بلانے کی ہدایت کی تھی،

    قبل ازیں حکومتی اتحاد ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرکے مشکلات کا شکار ہو گیا،تحریک انصاف پنجاب میں مزید مشکل میں پھنس گئی،علیم خان، ترین گروپ کے بعد مزاری گروپ بھی سامنے آیا،ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری کا بھی گروپ سامنے آگیا،دوست محمد مزاری کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کرانے سے پی ٹی آئی کے ارکان ناراض ہو گئے پی ٹی آئی کے 12 سے 15 ارکان کا مزاری گروپ بنانے پر اتفاق ہو گیا،ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے پی ٹی آئی امیدوار کو سخت ردعمل دینے کا فیصلہ کیا ہے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری نے موجودہ صورتحال پر اپنے قریبی ساتھیوں سے صلاح مشورہ شروع کر دیا ہے ڈپٹی اسپیکر دوست محمد مزاری کوپی ٹی آئی کے 12 سے 15 ارکان اسمبلی کی حمایت حاصل ہے دوست محمد مزاری کا اپنے گروپ کے ہمراہ اپوزیشن امیدوار کی حمایت کا قوی امکان ہے

    پیپلز پارٹی کے رہنما سید حسن مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ کسی مائی کے لال کوپنجاب اسمبلی یرغمال بنانے نہیں دینگے ق لیگ ڈپٹی اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کے پیچھے چھپ رہی ہے، قومی کے بعد پنجاب اسمبلی میں بھی آئین کو یرغمال بنایا گیا ہے ،سونامی ٹولہ اور اس کے حواری اقتدار جاتا دیکھ کر بوکھلا گئے ہیں،اسمبلی سٹاف ایک سیاسی جماعت کی ذاتی ملازمت سے باز رہے ماورائے آئین اقدامات میں ملوث سرکاری ملازمین احتساب کیلیے تیار رہیں پیپلز پارٹی ہر جمہوریت دشمن اقدام کا ڈٹ کر مقابلہ کریگیلاہور ہائیکورٹ پنجاب اسمبلی پر غیر آئینی حملے کا ازخود نوٹس لیں

    قبل ازیں پی ٹی آئی کی طرف سے ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی سردار دوست محمد مزاری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک آج صبح سیکرٹری اسمبلی کے آفس میں جمع کروا دی گئی ہے،

    عدم اعتماد کی تحریک پنجاب اسمبلی میں جمع ہونے کے بعد سردار دوست محمد مزاری اسمبلی اجلاس طلب کرنے کے مجاز نہیں رہے ۔ تحریک عدم اعتماد صوبائی وزیر میاں محمود الرشید اور دیگر ارکان اسمبلی کے دستخطوں سے جمع کروائی گئی ہے۔

    ن لیگی رہنما حنا پرویز بٹ کا کہنا تھا کہ ڈپٹی سپیکر مزاری صاحب کیخلاف پی ٹی آئی نے تحریک عدم اعتماد جمع کروا دی۔ واہ نیازی صاحب! آپ تو آخری گیند تک مقابلہ کرنے کا کہتے تھے مگر قومی اسمبلی سے بھاگنے کے بعد اب پنجاب اسمبلی سے بھی بھاگ گئے۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ بدترین شکست کھا چکے ہو

    ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی کا کہنا ہے کہ کچھ قوتیں نہیں چاہتی کہ جمہوری عمل ٹھیک طرح سے چلے میں قانون کے مطابق اجلاس کی صدارت کرسکتا ہوں یہ انتخاب وزیر اعلی ٰپنجاب کا ہے،میرا نہیں

    دوسری جانب پنجاب اسمبلی کو سیل کردیا گیا ،پنجاب اسمبلی کو تالے لگا دیئے گئے ہیں اسپیکر اور ڈپٹی سپیکر کے درمیان اجلاس بلوانے کے حوالے سے اختلاف پایا جارہاہے ڈپٹی اسپیکر کا کہنا ہے کہ اسمبلی انتظامیہ تعاون نہیں کررہی،چند گھنٹوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کا امکان ہے

    اجمل جامی کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں جمہوری روایات کا قلع قمع کیا گیا ھے۔ لہذا بشارت راجہ ، احمد خان بچھیڑ، میاں محمود الرشید، مراد راس، نوابزادہ وسیم خان، سبطین خاں اور اعجاز حسین کے دستخطوں سے تحریک انصاف اپنے ہی ڈپٹی اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرتی ھے۔۔۔تالیاں۔

    تحریک انصاف کے رہنما شہباز گل کا کہنا ہے کہ پنجاب اسمبلی کے آج کے اجلاس میں PTi کے ممبران شرکت نہیں کریں گے۔ بلکہ وہ 16 اپریل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ قانونی طور پر اجلاس کا نوٹیفکیشن 16 اپریل کا ہی ہوا ہے۔رات کی تاریکی میں ایک TV چینل پرسادہ پرچی نشر کرنے پر ہمارے اراکین اسمبلی نہیں جائیں گے۔تاریخیں بھی خریدی جا رہی ہیں

    کامران خان نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ بلا شک و تردد پنجاب میں عمران خان حکومت چاروں شانوں چت ہوچکی ہے بزدار کو خان نے پچکار کر بٹھا دیا گورنر چوہدری سرور کو لات مار کر نکال باہر کیا ڈپٹی اسپیکر دوست مزاری بھی ٹھوکر پر ہیں اور چوہدری پرویز الہی پنجاب اسمبلی میں اکثریت سے 40 اراکین دور ہیں گویا بوریا بستر باندھ لیں

    سلیم صافی کہتے ہیں کہ پنجاب اسمبلی میں حکومت جو کچھ کرنے جارہی ہے اس کی وجہ سےتصادم کا خطرہ ہے ۔ یہ معاملہ ووٹنگ یا تصادم کے بعد بالآخر عدالت میں ہی آئے گا ۔ اس لئے عدالت عظمیٰ سے استدعا ہے کہ وہ آج شام کے پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے متعلق آج ہی شارٹ آرڈر جاری کردے تاکہ فساد نہ ہو۔

    وزیراعلیٰ پنجاب کیلئے صوبائی اسمبلی کا اجلاس آج ہو گا یا نہیں ایک بار پھر کنفیوژن پیدا کر دی گئی ہے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری نے آج شام ساڑھے سات بجے اجلاس طلب کر رکھا تھا، لیکن ترجمان پنجاب اسمبلی نے آج ہونے والے اجلاس کی تردید کر دی ہے ، ترجمان کا کہنا ہے کہ ترجمان نے کہا کہ آج طلب کئے جانے والے اجلاس کو کوئی نوٹیفکیشن نہیں ہوا، اجلاس 16 اپریل کو ہی ہو گا۔

    جبکہ نجی ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے ڈپٹی اسپیکر پنجاب اسمبلی دوست محمد مزاری کا کہنا تھا کہ وکلاء سے مشاورت کے بعد اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے پنجاب اسمبلی کا اجلاس شام ساڑھے 7 بجے ہوگا دوست محمد مزاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کا انتخاب بھی آج ہی ہوگا، قائد ایوان کے لیے پرویز الٰہی اور حمزہ شہباز آمنے سامنے ہونگے۔

    خلیل طاہر سندھو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ جب بھی اجلاس ہوگا سب سے پہلے پوائنٹ آف آرڈر پر میڈیا کی بات کی جائے گی ہمیں اس دروازے سے پنجاب اسمبلی جانے کی اجازت نہیں دی گئی لیکن ہم پنجاب اسمبلی ضرور جائیں گے

    سمیع اللہ خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج چوہدری پرویز الہی کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے جارہے ہیں جس طرح وزیر اعلی پنجاب کے مقابلے سے بھاگ رہے ہیں اسپیکر کو جو عہدہ ان کے پاس تھا اب یہ بھی نہیں رہے گا پنجاب اسمبلی کے ممبران آپ سے آپ کے فرزند سے اس گند کا پورا پورا بدلہ لیں گے

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    نگراں وزیراعظم کون ہو گا؟ صدر مملکت نے خط لکھ دیا

    عدم اعتماد کا عمل قانون کے مطابق آگے بڑھنا چاہئے

    عمران خان کا آج عشا کے بعد ریڈ زون میں احتجاج کا اعلان

    دھمکی آمیز خط، بلاول نے سوالوں کے جواب مانگ لئے

    فارن فنڈنگ کیس، کیا فیصلہ روز محشرکیلئے چھوڑ دیا گیا ہے؟ احسن اقبال

    پی ٹی آئی کارکنان نے منحرف اراکین کا گھیراؤ کر لیا

  • جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،چیف جسٹس کے ریمارکس

    فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی، چیف جسٹس

    سپریم کورٹ میں اسپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس پر سماعت شروع ہو گئی ہے

    اسپیکر کی رولنگ سے متعلق از خود نوٹس پر سپریم کورٹ کا 5رکنی بینچ سماعت کررہا ہے ،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پنجاب میں جوکچھ ہورہا ہے وہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعات کی کڑی ہے ایڈووکیٹ جنرل پنجاب بیان حلفی دے دیں کہ وزیر اعلیٰ کے انتخابات کب ہوں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب اس پر بات کرنے کا موقع آئے گا تو سن لیں گے،گزشتہ روز ایڈووکیٹ جنرل نے کہا تھا آئین کے مطابق الیکشن ہونگے،

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان کی جانب سے دلائل دیئے گئے،اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو آج اجلاس ہونے کی یقین دہانی کرائی،پنجاب اسمبلی میں ڈپٹی اسپیکر کی ہدایات پر عمل درآمد نہیں ہو رہا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ انتہائی اہم نوعیت کا کیس زیر سماعت ہے،3اپریل کو قومی اسمبلی میں جو ہوا اس پر سماعت پہلے ختم کرنا چاہتے ہیں، عدالت کے بارے میں منفی تبصرے کیے جا رہے ہیں،کہا جا رہا ہے کہ عدالت معاملے میں تاخیر کر رہی ہے، پنجاب اسمبلی کا معاملہ آخر میں دیکھ لیں گے، آج اس کیس کو ختم کرنا چاہتے ہیں، کوشش ہے کہ مقدمہ کو نمٹایا جائے سیاسی طور پر مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں،یکطرفہ فیصلہ کیسے دے سکتے ہیں؟

    بابر اعوان نے عدالت میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایم کیو ایم ، جماعت اسلامی ، پشتون تحفظ موومنٹ ، راہ حق پارٹی نے درخواست دائر نہیں کی،یہ وہ جماعتیں ہیں جن کی کہیں نہ کہیں پارلیمان میں نمائندگی ہے۔تمام سیاسی جماعتیں عدالت کے سامنے فریق ہیں،ایم کیو ایم ، تحریک لبیک ،بی اے پی ، پی ٹی ایم اور جماعت اسلامی عدالت کے سامنے فریق نہیں،راہ حق پارٹی کی بھی پارلیمنٹ میں نمائندگی ہے لیکن وہ عدالت کے سامنے فریق نہیں،شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے ازخود نوٹس لیا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آئین ایک زندہ دستاویز ہے،ہمارے سامنے آرٹیکل 95 کا بھی ایک مقصد ہے،بابر اعوان نے کہا کہ یہ بھی کہا گیا کہ آرٹیکل 5 کے ذریعے کسی کو غدار کہا گیا ہے، درخواست گزاروں نے عدالت سے آرٹیکل 95 اور 69 کی تشریح کی استدعا کی،آرٹیکل 63 اے پر کسی نے لفظ بھی نہیں کہا ان کا دعوی ٰہے کہ پارلیمانی جمہوریت کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں،ن لیگی صدر نے پریس کانفرنس کے ذریعے کمیشن کی تشکیل کا مطالبہ کیا،درخواست گزار چاہتے ہیں نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کا رولنگ میں دیا گیا حوالہ نظرانداز کیا جائے، اپوزیشن چاہتی ہے عدالت انکے حق میں فوری مختصر حکمنامہ جاری کرے،سیاسی جماعت جس کی مرکز،صوبے،کشمیر گلگت میں حکومت ہیں کہتے ہیں اسکو نظرانداز کردیں،درخواست گزاروں کا دعویٰ ہے وہ جمہوریت کو بچانے آئے ہیں کیا آئین کا موازنہ بھارت، آسٹریلیا اور انگلینڈ کے آئین سے کیا جا سکتا ہے؟ یہ کیس سیاسی انصاف کی ایڈمنسٹریشن کا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ بتائیںاس کا بیک گراونڈ کیا ہے، اس پر بات کریں،اسپیکر کے اقدامات کا دفاع ضرور کریں، اس پرآپ کو خوش آمدید کہتے ہیں کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ ایجنڈے سے ہٹ کرممبران سے مشاورت کے بغیر ولنگ دے سکتا ہے؟ کیا اسپیکر آئینی طریقہ کارسے ہٹ کے فیصلہ دے سکتا ہے؟کیا ڈپٹی اسپیکر کے پاس ایسا مواد تھا جو انہوں نے ایسی رولنگ دی؟ ہمیں راستے نہ بتائیں ہم راستے ڈھونڈ لیں گے،اسپیکر نے کونسی بنیاد پر ایکشن لیا

    پی ٹی آئی کے وکیل بابر اعوان نے عدالت سے ان کیمرا بریفنگ کی استدعا کر دی،کہا بریف لایا ہوں اگراس پران کیمرا بریفنگ ہوسکتی ہے،کیس میں جس برطانوی عدالت کے فیصلے کا حوالہ دیا گیا وہ کیس میں لاگو نہیں ہوتا، کیا سندھ ہاوس اور لاہور ہوٹل میں جو کچھ ہوا اسے نظرانداز کیا جا سکتا ہے؟ اراکین اسمبلی کے کردار پر قرآن و سنت اور مفتی تقی عثمانی کا نوٹ بھی دوں گا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ دیکھنا ہے کہ کیا اسپیکر کو اختیار ہے کہ وہ ہاؤس میں ایجنڈے سے ہٹ کر کسی حقائق پر جا سکے،ایسا کوئی مٹیریل موجود ہے؟ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کی میٹنگ کب ہوئی؟ آئینی طریقہ ہے جس کو سائیڈ لائن کر دیا جائے، کیا ایسا ہو سکتا ہے؟ عدالتیں قانون کے مطابق چلتی ہیں، کیس میں ایک الزام لگایا گیا ہے ہم متنازعہ حقائق پر نہیں جانا چاہتے ،ڈپٹی اسپیکر نے ایک اقدام کیا ہے، بنیادی چیز حقائق پر آئیں،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فیصلہ کرنے سے پہلے جاننا چاہتے ہیں کہ سازش کیا ہے جس کی بنیاد پر رولنگ دی گئی، بابر اعوان نے کہا کہ میٹنگ میں ڈپٹی ہیڈ آف مشن، ڈیفنس اتاشی سمیت 3 ڈپلومیٹس شامل تھے، ڈی سائفر کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ اس میں چار چیزیں ہیں، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا وہ معلومات کوڈز میں آئی ہیں یا سربمہر لفافے میں؟ آپ نے ڈی سائفر کا لفظ استعمال کیا، بابر اعوان نے کہا کہ میں اس کو یوں کر لیتا ہوں کہ ہمارا فارن آفس اس پر نظر ڈالتا ہے،ایک میٹنگ بلائی جاتی ہے جس میں فارن سیکریٹری دستیاب نہیں ہوتے سیکریٹ ایکٹ کے تحت کچھ باتیں کرنا نہیں چاہتا، خفیہ پیغام پر بریفنگ دی گئی، چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے استفسار کیا کہ خفیہ پیغام پر بریفنگ کابینہ کو دی یا دفترخارجہ کو دی؟ عدالت نے بابر اعوان کی ان کیمرا بریفنگ کی استدعا مسترد کر دی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ایسا کچھ نہیں ہے کہ ان کیمرا سماعت کریں، آپ سے صرف واقعات کا تسلسل جاننا چاہ رہے ہیں، بابراعوان نے کہا کہ فلاں فلاں مسئلے پر وہ ملک اس ملک کے پرائم منسٹر سے ناراض ہے، تحریک عدم اعتماد اگر کامیاب نہ ہوئی تو پھر ڈیش ڈیش ہے اگر کامیاب ہو گئی تو پھر سب ٹھیک ہے، ‏بابر اعوان نے ترجمان پاک فوج کی نجی ٹی وی سے گفتگو بھی عدالت میں پیش کر دی اور کہا کہ ترجمان پاک فوج نے کہا قومی سلامتی کمیٹی میٹنگ کے اعلامیہ سے متفق ہیں، ‏چیف جسٹس نے بابراعوان کے دلائل کو کہانیاں قراردے دیا ،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ‏اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ریاست کے ساتھ وفادار ہونا لازمی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ جو وفادار نہیں اس کیخلاف کیا کارروائی ہو سکتی ہے، جو لوگ غیر ملک سے ملکر تحریک عدم اعتماد لائے انکے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟

    اٹارنی جنرل نے کہا کہ خارجہ پالیسی پر کسی سیاسی جماعت کے وکیل کو دلائل نہیں دینے چاہیے خط کا معاملہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے اس کو کوئی سیاسی پارٹی ڈسکس نہیں کرسکتی ، چیف جسٹس عمر عطابندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم فارن پالیسی کے معاملات پر مداخلت نہیں کرسکتے، بابر اعوان نے کہا کہ سائپر سے نوٹس بنا کر فارن منسٹری کابینہ میٹنگ کو بریف کرتی ہے، اٹارنی جنرل نے کہا کہ فارن پالیسی کا معاملہ ہے، بات پولیٹیکل پارٹی کی جانب سے نہ آئے ،جوکچھ ہے وہ رولنگ سے پڑھ دیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اٹارنی جنرل کا نکتہ بھی صحیح ہے، ہم بھی فارن پالیسی کے معاملات میں نہیں پڑنا چاہتے،بابر اعوان نے عدالت میں کہا کہ آفیشل سیکریٹ ایکٹ کے تحت زیادہ تفصیلات نہیں دے سکتا،فارن آفس نے مراسلہ دیکھ کر وزیراعظم اور وزیر خارجہ کیساتھ میٹنگ کی کابینہ کی میٹنگ میں متعلقہ ڈی جی نے مراسلے پر بریفنگ دی تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ وفاقی کابینہ کی میٹنگ کب ہوئی تھی؟ بابر اعوان نے کہا کہ کابینہ اجلاس کی تاریخ معلوم کرکے بتاوں گا،کیا کچھ باتیں ان کیمرا ہو سکتی ہیں؟ فارن آفس نے جو بریفنگ دی وہ عدالت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال خط نہیں مانگ رہے،کیا اسپیکرنے کوئی میٹنگ کی تھی، اس کے منٹس پیش کریں تب بات بنے گی، یہ عدالت قانون کے مطابق عمل کرے گی، بظاہر ہمارے سامنے یہ کیس الزمات اور مفروضوں پر مبنی ہے آیا وہ الزمات اور مفروضے قابل جواز ہیں یا نہیں ،ہم متضاد الزمات پر نہیں جاتے اسپیکر کے پاس کیا مواد تھا جس پر ایکشن لیا گیا؟ بابر اعوان نے کہا کہ مراسلے میں کہا گیا تھا کہ دوسرا ملک ہمارے وزیراعظم سے خوش نہیں ہے،اٹارنی جنرل نے کہا کہ مناسب ہوگا کہ خارجہ پالیسی پر بات کسی سیاسی جماعت کا وکیل نہ کرے،جتنا رولنگ میں لکھا ہوا ہے اتنا ہی پڑھا جائے تو مناسب ہوگا،بابر اعوان نے کہا کہ مراسلے میں کہا گیا کہ تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو کیا نتائج ہونگے

    جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ یہ باتیں اسپیکر کے وکیل کو کرنے دیں،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ کابینہ نے کیا فیصلہ کیا یہ بتائیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ ہمیں یہ سماعت جلد مکمل کرنی ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے بابر اعوان سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہمیں پارلیمانی جمہوریت کا بتانا تھا،ہم نے اس معاملے کو ختم کرنا ہے ،بابر اعوان نے کہا کہ وزیر اعظم اور ہم نے غداری والے معاملے پر احتیاط سے کام لیا تھا،پاکستان صدیوں رہے گا ،ہم آتے جاتے رہیں گے عدالت نے 3اپریل کے حکمنامہ میں امن و امان کے خدشے کا اظہار کیا تھا،دوسری اہم چیز عدالتی حکم میں غیرآئینی اقدامات سے روکنا تھی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی حکم میں زیادہ اہم چیز ڈپٹی ا سپیکر کی رولنگ کی آئینی حیثیت تھی ہم ا سپیکر کی رولنگ اور آرٹیکل 69 پر بات کرنا چاہتے ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ واقعاتی شواہد دے رہے ہیں کہ یہ ہوا تو یہ ہوگا، ان تمام واقعات کو انفرادی شخصیات سے کیسے لنک کرینگے، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اگر عمران خان کمیشن بنانا چاہتے ہیں تو مطلب ہوا کہ انہیں معلوم نہیں کون ملوث ہے،بابر اعوان نے کہا کہ وزیراعظم کو جو علم ہے وہ ملکی مفاد میں بولنا نہیں چاہتے،وزیراعظم تفتیش کار نہیں اس لیے یہ کام متعلقہ لوگوں کو کرنے دیا جائے،میمو کیس ابھی بھی زیر التواہے،حقائق متنازعہ ہوں تو اسکی تحقیقات ضروری ہیں برطانوی سپریم کورٹ نے کہا کوئی باہر سے آ کر پارلیمان اجلاس ملتوی نہیں کر سکتا، برطانوی عدالت نے کہا پارلیمان اپنے ہاوس کی خود ماسٹر ہوتی ہے، کوئی بھی قانون شریعت کیخلاف نہیں بنایا جا سکتا،قومی مفاد سب سے بے چارہ لفظ ہے جو پاکستان میں بہت استعمال ہوتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ قومی مفاد کا لفظ اسپیکر کے حلف میں کہاں استعمال ہوا ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ رولز کے مطابق ا سپیکر ووٹنگ کے علاوہ بھی تحریک مسترد کر سکتا ہے ،

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جب تحریک ایوان میں پیش کر دی جائے تو پھر فیصلہ کیے بغیر خارج نہیں کی جاسکتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپکے مطابق رولز بذات خود کہتے ہیں کہ تحریک کو ووٹنگ کے بغیر مسترد کیا جاسکتا ہے آپ نے کام کی اور بہترین بات کی ہے،بابر اعوان نے کہا کہ میں دو باتیں کرنا چاہتا ہوں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ رکیں مجھے یہ پوائنٹ لکھنے دیں،

    بابر اعوان نے کہا کہ آرٹیکل 94 کے تحت صدر وزیراعظم کو نئی تعیناتی تک کام جاری رکھنے کا کہہ سکتے ہیں، کہاں لکھا ہے کہ تحریک عدم اعتماد واپس نہیں لی جا سکتی؟ یہ کہاں لکھا ہے کہ اسپیکر تحریک عدم اعتماد پر رولنگ نہیں دے سکتا؟ اگر کہیں لکھا نہیں ہوا تو اسے عدالت پڑھ بھی نہیں سکتی، تحریک عدم اعتماد نمٹانے تک اجلاس موخر نہیں ہو سکتا،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا تحریک عدم اعتماد کو ووٹنگ کے علاوہ بھی نمٹایا جا سکتا ہے؟ بابر اعوان نے کہا کہ پارلیمانی رولز کو ملا کر اور آرٹیکل 95 کیساتھ ملا کر ہی پڑھا جا سکتا ہے علیحدگی میں نہیں ،فیصلہ عدالت کی اس سائیڈ ہونا ہے یا اس سائیڈ ہونا ہے وہ سائیڈ جیت جائے گی،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ یہ کہنا چاھتے ہیں کہ ملک میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے گا، بابر اعوان نے کہا کہ جی بلکل اس ساری صورتحال میں ملک میں ڈیڈ لاک پیدا ہوجائے گا،جو کچھ بھی ہوگا اس میں عوام متاثر ہونگے،جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ اس لئے آپ کو کہہ رہے ہیں کہ اپنے دلائل جلد مکمل کریں تا کہ ہم کوئی جلد فیصلہ کرسکیں، جسٹس منیب اختر نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر کے حلف میں لکھا ہے کہ جب انہیں سپیکر کا کام کرنے پڑے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ اپنے دلائل جلد مکمل کریں تا کہ ہم کوئی جلد فیصلہ کرسکیں، بابر اعوان نے کہا کہ ایک وکیل نے کہا اب چھانگا مانگا نہیں رہا، اب سندھ ہاؤس اور آواری چلے گئے ہیں، جس ادارے کے اندر ہارس ٹریڈنگ کی مشق ہو رہی وہ اصول اور ضابطے بتاتا ہے ذوالفقار علی بھٹوکو آئین دینے کے بعد سولی پر لٹکایا گیا صدارتی ریفرنس اس عدالت میں زیر التوا ہے، بابر اعوان کے دلائل مکمل ہو گئے، بابر اعوان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی چیئرمین نے بھی کہا ہے کہ وہ الیکشن کے لیے تیار ہیں الیکشن کے نتیجے میں ملک ٹوٹ گیا،بھارت اور بنگلہ دیش نے ای وی ایم کا راستہ نکالا مگر ہم نہیں مانتے، اگر یہاں سے راستہ بننا ہے تو میں سعادت سمجھتا ہوں کہ اس تاریخ کا حصہ بنوں

    صدر کے وکیل علی ظفر کے دلائل شروع ہو گئے،صدر مملکت نے آرٹیکل 184/3 کے تحت دائر درخواستوں کے قابل سماعت ہونے پر اعتراض کر دیا، جسٹس جمال مندو خیل نے کہا کہ آئین کے تحفظ کا حلف لیا ہے، وہ فیصلہ کرینگے جو عوام کے مفاد اور سب پر ماننا لازم ہوگا، بابر اعوان نے کہا کہ قرآن کریم میں واضح ہے کہ حق سے پھرنے والا تباہ ہو جاتا ہے ،حدیث ہے کہ تم سے پہلے قومیں اس لئے تباہ ہوئیں کہ طاقتور کیلئے قانون اور تھا اور کمزور کیلئے اور، بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 69 عدالت اور پارلیمان کے درمیان حد مقرر کرتا ہے، آرٹیکل 69 آگ کی دیوار ہے جسے عدالت پھلانگ کر پارلیمانی کارروائی میں مداخلت نہیں کر سکتی اس کیس میں اسپیکر کو بھی پارٹی بنایا گیا ہے،اگر عدالت میں ایک کیس چل رہا ہے تو پارلیمنٹ اس پر تبصرہ نہیں کرتی، عدالت بھی پارلیمنٹ کی کارروائی میں مداخلت نہیں کرتی، ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف عدالت سے رجوع کرنا پارلیمنٹ میں مداخلت ہے، اسپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ آئین کی خلاف ورزی کرے کیا تب بھی مداخلت نہیں ہو سکتی؟ بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ کیا غیرآئینی ہے اور کیا نہیں اس پر بعد میں دلائل دوں گا،ایوان ا سپیکر سے مطمئن نہ ہو تو عدم اعتماد کر سکتا ہے،اسپیکر کی رولنگ کا جائزہ لیا تو ا سپیکر کا ہر فیصلہ ہی عدالت میں آئے گا،صدر کے اقدام کا عدالتی جائزہ نہیں لیا جا سکتا،اس معاملے کاحل نئے الیکشن ہی ہیں جسٹس مقبول باقر نے اپنے ریٹائرمنٹ پر اداروں میں توازن کی بات کی تھی،باہمی احترام سے ہی اداروں میں توازن پیدا کیا جا سکتا ہے،

    وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کو دی گئی ہدایات دراصل پارلیمنٹ کو ہدایات دینا ہوگا جو غیرآئینی ہے،اسپیکر ایوان کا ماتحت ہے، جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ اسپیکر اگر رولنگ دے تو کا ایوان واپس کر سکتا ہے؟ جسٹس جمال خان مندوخیل نے کہا کہ اگر اسپیکر ایوان کی بات ماننے سے انکار کر دے تو پھر کیا ہو گا؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ ہاوس اسپیکر کو اوور رول کر سکتا ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا اسپیکر کا اقدام تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد کی میعاد ہٹانے کیلئے تھا ،جسٹس اعجازالاحسن نے استفسار کیا کہ کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم رولنگ کو نہیں چھیڑ سکتے ،وزیراعظم نے صدر کو تجویز بھیجی اس کو دیکھ سکتے ہیں؟ جسٹس منیب اختر نے کہا کہ اگر تحریک عدم اعتماد کو 18 فیصد افراد کے کہنے پر پیش کر دیا جائے تو بھی عدالت اس کو نہیں دیکھ سکتی،وزیراعظم کو عہدے سے ہٹا دیا جائے تب بھی عدالت مداخلت نہیں کر سکتی؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ عدالت کسی بھی پارلیمنٹ کے معاملے کو نہیں دیکھ سکتی،یہ مقدمہ در حقیقت پارلیمان کے استحقاق میں مداخلت ہے،سپریم کورٹ پارلیمان کے بنائے قانون کو پرکھ سکتی ہے لیکن مداخلت نہیں کر سکتی، اگر پارلیمان میں 10 بندوں کو ووٹ نہ ڈالنے دیا جائے انہوں باہر نکال دیا جائے تو اسے بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ وہ تو کہہ رہے ہیں کہ نیا اسپیکر آئے اور دوبارہ ووٹنگ کرائی جائے، کیا اسپیکر پورے پارلیمنٹ کو بھی ختم کر سکتا ہے،علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر ایسا کر سکتے ہیں، چیف جسٹس صدر مملکت کے وکیل علی ظفر کا دلائل پر مسکراتے رہے،علی ظفر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ رولنگ واپس نہیں ہو سکتی،

    جسٹس جمال خان مندو خیل نے استفسار کیاکہ اسپیکر کی رولنگ کو کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ وکیل علی ظفر نے کہا کہ اسپیکر کی رولنگ کو ہاؤس ختم کر سکتا ہے،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آپکے مطابق اس کیس میں فورم اسپیکر کو ہٹانا تھا، وکیل علی ظفر نے کہا کہ سپریم کورٹ ایک فیصلہ دے گی تو پارلیمان کا ہر عمل عدالت میں آجائے گا ، جسٹس منیب اختر نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان اگر ایسا فیصلہ دے جس کے اثرات باہر ہوں تو پھر آپ کیا کہتے ہیں ،علی ظفر نے کہا کہ عدالت پارلیمان کے فیصلے کا جائزہ نہیں لے سکتی عدالت پارلیمان کے باہر ہونے والے اثرات کا جائزہ لے سکتی ہے،جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کرتے ہوئے کہا کہ آپ کہہ رہے ہیں اسپیکر کی رولنگ چیلنج نہیں ہو سکتی ، جسٹس جمال خان نے کہا کہ آئین کے تحت ہر شہری اسکا پابند ہے،کیا اسپیکر آئین کے پابند نہیں،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ درخواست گزاروں کے مطابق آرٹیکل 95 کی خلاف ورزی ہوئی ہے،درخواست گزار کہتے ہیں آئین کی خلاف ورزی پر پارلیمانی کارروائی کا جائزہ لیا جا سکتا ہے، عدالت اختیارات کی آئینی تقسیم کا مکمل احترام کرتی ہے،

    وکیل علی ظفر نے عدالت میں کہا کہ چیئرمین سینیٹ کا الیکشن اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج ہوا تھا،لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ ایوان کے آئینی انتخاب کو بھی استحقاق حاصل ہے،پارلیمنٹ کو اپنے مسائل خود حل کرنے کا موقع دیا جانا چاہیے، جسٹس منیب اختر نے استفسار کیا کہ کیا وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے؟ علی ظفر نے کہا کہ آرٹیکل 91 کے تحت وزیراعظم کا انتخاب پارلیمانی کارروائی کا حصہ ہے،جسٹس جمال خان مندو خیل نے کہا کہ ووٹ کم ہوں اور اسپیکر تحریک عدم اعتماد کی کامیابی کا اعلان کرے تو کیا ہوگا؟ علی ظفر نے کہا کہ یہ پارلیمانی مسائل تو ہو سکتے ہیں لیکن عدالت پارلیمنٹ پر مانیٹر نہیں بن سکتی ، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ میں سوچ رہا ہوں کہ سپیکر کی بدنیتی کہاں تھی،اگر اسپیکر وزیر اعظم کو بچانا چاہتا ہے تو اپوزیشن بھی ایسا ہی کرتی، وکیل علی ظفر نے کہا کہ میں سیاسی معاملے میں نہیں جاؤں گا عدالت ڈپٹی اسپیکر کی بدنیتی کی بات کر رہی ہے،میں صدر مملکت کا وکیل ہوں ڈپٹی اسپیکر کی بات نہیں کروں گا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے صدر مملکت کے وکیل علی ظفر سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا نکتہ دلچسپ ہے کہ اسپیکر کی رولنگ غلط ہو تو بھی اسے استحقاق ہے،

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام کرتے ہیں کیا آئین شکنی کو بھی پارلیمانی تحفظ حاصل ہے بظاہر عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہونے جا رہی تھی،جس دن ووٹنگ ہونا تھی اس دن رولنگ آ گئی،ہماری کوشش ہے معاملے کو جلد مکمل کیا جائے،ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سماعت کل تک کے لئے ملتوی ملتوی کر دی گئی ،چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہم اس پر کل سماعت صبح جلدی کرینگے وزیر اعظم کے وکیل کل30منٹ لیں گے، پٹی اسپیکر کی رولنگ کیخلاف سماعت کل صبح ساڑھے 9بجے تک ملتوی کر دی گئی،

    سابق صدر سپریم کورٹ بار لطیف آفریدی نے کہا کہ اسی پارلیمنٹ نے وزیراعظم کو منتخب کیا ڈپٹی اسپیکر نے قوانین کی پروا نہیں کی ڈپٹی اسپیکر اجلاس کو ملتوی نہیں کرسکتا تھا ،جو کچھ ہوا وہ سب ایک پری پلان تھا اسپیکر اورصدر نے جو کیا وہ آئین کی خلاف ورزی ہے،

    قبل ازیں صدر پاکستان مسلم لیگ ن میاں محمد شہباز شریف اسلام آباد سپریم کورٹ میں پہنچ گئے سینئر وائس پریزیڈنٹ مسلم لیگ نون لائرز فورم راولپنڈی ڈویژن چودھری غلام جیلانی منہاس ایڈوکیٹ نے دیگر وکلاء کے ساتھ اپنے قائد کا استقبال کیا

    واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی تحلیل اور دوسرے اقدامات اب عدالت عظمی کے حتمی فیصلے سے مشروط ہے تاہم اگر 3 اپریل کے اقدامات برقرار رہنے کی صورت میں 1973ء کے آئین کے تحت بنے والی یہ آٹھویں اسمبلی ہو گی جو اپنے مدت پوری کئے بغیر تحلیل ہوئی، جب 1973ء کا آئین بنا اور اس پر عمل شروع ہوا تو اس وقت کام کرنے والی اسمبلی کو قبل ازوقت انتخابات کے لئے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے تحلیل کیا تھا، اس کی تحلیل پر کوئی تنازعہ پیدا نہیں ہوا، 1977ء کے انتخابات ہوئے اور بننے والی اسمبلی کو ما رشل لا لگنے کے بعد توڑ دیا گیا ،

    1985 کے انتخابات کے بعد بننے والی اسمبلی کو صدر نے آٹھویں ترمیم کے تحت توڑ دیا ۔ 1988ء میں بننے والی اسمبلی بھی اس ترمیم کا شکار ہوئی، 1990اور 1993 میں بننے والی اسمبلیاں بھی مدت پوری نہیں کر سکیں 1997 میں بننے والی اسمبلی بھی مارشل لاء کی نذر ہوئی، 2002ء سے2018ء تک بننے والی تین اسمبلیوں نے مدت پوری کی جبکہ 2018ء میں بننے والی موجودہ اسمبلی اس وقت تحلیل کی گئی ہے تاہم معاملہ عدالت عظمی میں ہے جہاں سے جو بھی فیصلہ ہو گا اس کے مطابق اس کی حتمی پوزیشن سامنے آئے گی

    مصطفیٰ کمال نے اپوزیشن کو آئینہ دکھا دیا

    پنجاب اسمبلی توڑنے کا بھی قوی امکان،عمران خان نے اہم شخصیت کو طلب کرلیا

    ہارے ہوئے عمران خان کی الوداعی تقریر قوم نے کل سن لی، اہم شخصیت بول پڑی

    تحریک عدم اعتماد پر کارروائی روکی جائے،سپریم کورٹ میں درخواست دائر

    عمران خان رونے نہیں لگا ، بعض خوشی کے آنسو ہوتے ہیں،شیخ رشید

    وزیراعظم نے استعفے پر غور شروع کر دیا

    پنجاب اسمبلی،صوبائی وزیر نے صحافی کا گلہ دبا دیا،صحافیوں کا احتجاج

    شہباز شریف کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

    دھمکی دینے والے کو بھرپور جوابی ردعمل دینے کا فیصلہ

    دھمکی آمیز خط۔ امریکی ناظم الامور کی دفتر خارجہ طلبی

    دھمکی آمیز خط کا معاملہ وائیٹ ہاؤس پہنچ گیا، امریکی رد عمل بھی آ گیا

    دھمکی آمیز خط 7 مارچ کوملا،21 مارچ کو گرمجوشی سے استقبال.قوم کو بیوقوف بنانیکی چال

    3 سال میں 57 لاکھ لوگوں کو روز گار فراہم کیا،اسد عمر کا دعویٰ

    عمران نیازی کی فسطائی سوچ،گزشتہ روز سویلین مارشل لا نافذ کیا،شہباز

    ہم ہوا میں تو فیصلہ نہیں دینگے، سب کو سن کر فیصلہ دینگے،چیف جسٹس، سماعت ملتوی