Baaghi TV

Tag: ڈیرہ بگٹی

  • ڈیرہ بگٹی میں نایاب نسل کے چیتے کی اہل علاقہ نے جان لے لی،ویڈیو وائرل

    ڈیرہ بگٹی میں نایاب نسل کے چیتے کی اہل علاقہ نے جان لے لی،ویڈیو وائرل

    بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں نایاب نسل کے چیتے کو اہل علاقہ نے جان سے مار دیا

    واقعہ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چیتے کی لاش پڑی ہے اور کچھ افراد اسلحہ اٹھائے ساتھ بیٹھے ہیں، میڈیا رپورٹس کے مطابق سوئی کے پہاڑی علاقے میں چرواہوں کو ایک نایاب نسل کا چیتا نظر آیا جس پر انہوں نے اہل علاقہ کو اطلاع دی، اطلاع ملنے پر مقامی افراد اسلحہ لے کر موقع پر پہنچے اورچیتے کا پیچھا کرتے ہوئے اسکے غار تک پہنچے اور گولیاں مار کر اسے قتل کر دیا

    چرواہوں کا کہنا ہے کہ کچھ عرصے سے سوئی کے نواحی علاقے میں چیتا نظر آرہا تھا اور ان کی بھیڑ بکریوں کو بھی نقصان پہنچا جارہا تھا،ڈپٹی کمشنر ڈیرہ بگٹی کے مطابق انتظامیہ کو اس واقعے کی اطلاع سوشل میڈیا پر ویڈیو سامنے آنے کے بعد ہی ملی جس کے بعد مقامی لوگوں کی مدد سے ملزمان کی تلاش شروع کی گئی اور سات ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر صنم جمالی کہتی ہیں کہ بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں چیتے کا شکار کردیا گیا یہ چیتے کے شکار کا دوسرا کیس ہے جبکہ بلوچستان میں اب تک 6 کیسز سامنے آئے ہیں لیکن کوئی انکوائری نظر نہیں آرہی۔

    https://twitter.com/sana_J2/status/1804959925262766546

  • قدرتی وسائل پر سب سے پہلے حق مقامی آبادی کا ہے،زاہد اکرم درانی

    قدرتی وسائل پر سب سے پہلے حق مقامی آبادی کا ہے،زاہد اکرم درانی

    قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے بلوچستان کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی کی صدارت میں منعقد ہوا ،اجلاس میں وفاقی وزرا خورشید شاہ ، شاہ زین بگٹی، محمد اسرار ترین اور چیئرمین پی اے سی نور عالم خان نے شرکت کی،اجلاس میں ممبران قومی اسمبلی رمیش لال، سردار ریاض محمود مزاری، خالد حسین مگسی، پروفیسر ڈاکٹر شاہناز بلوچ اور محمّد جنید انور چودھری نے بھی شرکت کی ۔ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی زاہد اکرم درانی نے کہا کہ بلوچستان کے مقامی لوگوں کو 6 فیصد کوٹے پر عملدرآمد کو یقینی بنایا جائے ،

    کمیٹی نے او جی ڈی سی ایل ،ایس این جی ایل،پی پی ایل اوردیگر کمپنیوں کو ایک ہفتے کے اندر 6 فیصد کوٹے پررپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی،زاہد اکرم درانی نے کہا کہ قدرتی وسائل پر سب سے پہلے حق مقامی آبادی کا ہے ، شمالی وزیرستان اور لکی مروت سے دریافت ہونے والی گیس پر سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا ہے ،کمیٹی نے سیکرٹری پٹرولیم و گیس کو تمام فیلڈز میں پانچ کلومیٹر ریڈیس میں سروے مکمل کرنے اور انکی رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی، کمیٹی نے جل مگسی، سوئی، شمالی وزیرستان اور لکی مروت سمیت تمام گیس فیلڈز کے پانچ کلومیٹر ریڈیس میں گیس فراہمی کیلئے سروے کرنے کی ہدایت کی

    کمیٹی نے ڈیرہ بگٹی گیس فیلڈز میں غیر استعمال شدہ زمین کا مسئلہ جلد حل کرنے کی ہدایت کر دی،کمیٹی نے دس دن کے اندر اندر ڈیرہ بگٹی کے گیس فیلڈز کی زمین کا معاوضہ ادا کرنے کی ہدایت کر دی،کمیٹی نے ایک مہینے کے اندر اندر ڈیرہ بگٹی گیس فیڈز کا ازسرنو سروے کرکے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کر دی،

    عمران خان نے ووٹ مانگنے کیلئے ایک صاحب کو بھیجا تھا،مرزا مسرور کی ویڈیو پر تحریک انصاف خاموش

    اسلام آباد ہائیکورٹ نے شہباز گل ضمانت کیس کا تفصیلی فیصلہ جاری کردیا

    پائلٹس کے لائسنس سے متعلق وفاق کے بیان کے مقاصد کی عدالتی تحقیقات ہونی چاہیے، رضا ربانی

    کراچی طیارہ حادثہ کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش، مبشر لقمان کی باتیں 100 فیصد سچ ثابت

    ایئر انڈیا: کرو ممبرزکیلیے نئی گائیڈ لائن ’لپ اسٹک‘ ’ناخن پالش‘ خواتین کے لیے اہم ہدایات

  • ایف سی بلوچستان کی جانب سے ڈیرہ بگٹی کے پیر کوہ اور ملحقہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری

    ایف سی بلوچستان کی جانب سے ڈیرہ بگٹی کے پیر کوہ اور ملحقہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری

    کوئٹہ:ایف سی بلوچستان کی جانب سے ڈیرہ بگٹی کے پیر کوہ اور ملحقہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس علاقے کے 3063 مریضوں کو ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس نے طبی امداد فراہم کی۔

    یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ہیضے کے 921 مریضوں کا علاج کیا گیا اور باقی کا دیگر بیماریوں کا علاج کیا گیا۔ گزشتہ 24 گھنٹوں میں 2000 سے زائد لیبارٹری ٹیسٹ کیے گئے۔ مقامی آبادی کو پینے کے صاف پانی کی فراہمی جاری ہے۔ ایف سی بلوچستان سول انتظامیہ کی تلاش میں مدد کر رہا ہے اور نئے واٹر پمپ اور ٹیوب ویلوں کا وعدہ کر رہا ہے۔

    یاد رہے کہ بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں پیر کوہ میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 500 سے زائد نئے مریض ہیضے کی وبا کا شکار ہوگئے ہیں وبا کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی کوششیں جاری ہیں۔

    طبی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد این جی اوز، محکمہ صحت کے حکام اور ڈاکٹروں کی مختلف ٹیمیں مصروف عمل ہیں جبکہ پی ڈی ایم اے کی طرف سے مہیا کردہ امدادی سامان ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں تقسیم کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب کمانڈر12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نےوبا سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور کور کمانڈر نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد یوسف مجوکہ کے ہمراہ علاقے میں جاری امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا کور کمانڈر کو سول پاورکی مدد میں ایف سی بلوچستان کی امدادی سرگرمیوں کےبارےمیں تفصیلی اپ ڈیٹ دیا گیا۔

    جنرل سرفراز علی نےبیماری سےجاں بحق ہونےوالوں کےاہل خانہ سےاظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کی اور مقامی لوگوں سے بھی ملاقات کی اورانہیں آرام پہنچانے اورپانی، طبی سہولیات کےقیام اورہیضےکےعلاج کےلیے ادویات کی فراہمی سمیت ضروری امداد کی فراہمی کے لیے فوج کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا-

    کور کمانڈر نے سول اور ایف سی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ عوامی مسائل حل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور علاج و معالجے کی سہولیات کو زیادہ سے زیادہ بہتر کیا جائے۔

    واضح رہےکہ پیرکوہ کا سب سےبڑا مسئلہ پانی ہےاوردوسرا یہ ہےکہ لوگوں کے پاس ذخیرہ کرنےکا کوئی بندوبست نہیں ہے لوگ مشکیزے میں پانی جمع کرتے ہیں۔ جو کچھ وقت کے بعد ختم ہوجاتا تھا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم نے انہیں ڈرم فراہم کیے تاکہ جو بھی پانی انہیں ملے وہ کچھ عرصے تک اسے محفوظ رکھ سکیں۔ پہلے وہ پانی ختم ہونے پر دوبارہ اسی گندے جوہڑ سے پانی لانے پر مجبور تھے۔

  • ڈیرہ بگٹی : 500 سے زائد نئے مریض ہیضے کا شکار

    ڈیرہ بگٹی : 500 سے زائد نئے مریض ہیضے کا شکار

    کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں ہیضے کی وبا نے تباہی پھیلا رکھی ہے-

    باغی ٹی وی : تفصیلات کے مطابق کے بلوچستان کے علاقے ڈیرہ بگٹی میں پیر کوہ میں گزشتہ 24 گھنٹے میں 500 سے زائد نئے مریض ہیضے کی وبا کا شکار ہوگئے ہیں وبا کو کنٹرول کرنے کیلئے حکومتی کوششیں جاری ہیں۔

    کور کمانڈر کوئٹہ کا ڈیرہ بگٹی میں ہیضے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    طبی ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد این جی اوز، محکمہ صحت کے حکام اور ڈاکٹروں کی مختلف ٹیمیں مصروف عمل ہیں جبکہ پی ڈی ایم اے کی طرف سے مہیا کردہ امدادی سامان ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیر کوہ میں تقسیم کردیا گیا ہے۔

    دوسری جانب کمانڈر12 کور لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نےوبا سے متاثرہ علاقے کا دورہ کیا اور کور کمانڈر نے آئی جی ایف سی بلوچستان (نارتھ) میجر جنرل محمد یوسف مجوکہ کے ہمراہ علاقے میں جاری امدادی کارروائیوں کا جائزہ لیا کور کمانڈر کو سول پاورکی مدد میں ایف سی بلوچستان کی امدادی سرگرمیوں کےبارےمیں تفصیلی اپ ڈیٹ دیا گیا۔

    اتحادی جماعتوں کاعمران خان کی جانب سےفوری الیکشن کی تاریخ دینے کا مطالبہ مسترد

    جنرل سرفراز علی نےبیماری سےجاں بحق ہونےوالوں کےاہل خانہ سےاظہار تعزیت اور فاتحہ خوانی کی اور مقامی لوگوں سے بھی ملاقات کی اورانہیں آرام پہنچانے اورپانی، طبی سہولیات کےقیام اورہیضےکےعلاج کےلیے ادویات کی فراہمی سمیت ضروری امداد کی فراہمی کے لیے فوج کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا-

    کور کمانڈر نے سول اور ایف سی انتظامیہ کو ہدایت دی کہ عوامی مسائل حل کرنے کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں اور علاج و معالجے کی سہولیات کو زیادہ سے زیادہ بہتر کیا جائے۔

    واضح رہےکہ پیرکوہ کا سب سےبڑا مسئلہ پانی ہےاوردوسرا یہ ہےکہ لوگوں کے پاس ذخیرہ کرنےکا کوئی بندوبست نہیں ہے لوگ مشکیزے میں پانی جمع کرتے ہیں۔ جو کچھ وقت کے بعد ختم ہوجاتا تھا اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے ہم نے انہیں ڈرم فراہم کیے تاکہ جو بھی پانی انہیں ملے وہ کچھ عرصے تک اسے محفوظ رکھ سکیں۔ پہلے وہ پانی ختم ہونے پر دوبارہ اسی گندے جوہڑ سے پانی لانے پر مجبور تھے۔ دیا۔

  • کور کمانڈر کوئٹہ کا ڈیرہ بگٹی میں ہیضے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    کور کمانڈر کوئٹہ کا ڈیرہ بگٹی میں ہیضے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ

    کور کمانڈر کوئٹہ لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی نے آج پیر کوہ ڈیرہ بگٹی میں ہیضے سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔

    باغی ٹی وی : آئی ایس پی آر کےمطابق کور کمانڈر کو سول پاورکی مدد میں ایف سی بلوچستان کی امدادی سرگرمیوں کےبارےمیں تفصیلی اپ ڈیٹ دیا گیا۔

    کرنسی نوٹ فوراً تبدیل کروا لیں،اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا اہم بیان جاری

    آئی ایس پی آر کے مطابق کورکمانڈر نے مقامی لوگوں سے بھی ملاقات کی اورانہیں آرام پہنچانے اور پانی، طبی سہولیات کےقیام اورہیضے کےعلاج کےلیے ادویات کی فراہمی سمیت ضروری امداد کی فراہمی کے لیے فوج کے ہر ممکن تعاون کا یقین دلایا-

    عمران خان کو بین الاقوامی سازش کے تحت تخت اسلام آباد پر بٹھایا گیا تھا ،مولانا فضل…

    آئی ایس پی آر کے مطابق ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکس ہیضے سے متاثرہ افراد کو طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں۔

    وفاقی تعلیمی اداروں میں پرائمری کلاسز بند کردی گئیں :صوبے بھی پرائمری کلاسز بند…

  • ڈیرہ بگٹی میں ہیضے کی وباء سے درجنوں ہلاکتیں:وزیراعظم کا نوٹس

    ڈیرہ بگٹی میں ہیضے کی وباء سے درجنوں ہلاکتیں:وزیراعظم کا نوٹس

    ڈیرہ بگٹی : ڈیرہ بگٹی میں ہیضے کی وباء سے درجنوں ہلاکتیں:وزیراعظم کا نوٹس،اطلاعات کے مطابق بلوچستان میں‌ ہیضے کی وبا بڑی تیزی سے پھوٹ رہی ہے اور اب تک کی اطلاعات کے مطابق سب سے زیادہ ہلاکتیں ڈیرہ بگٹی میں ہوئیں جہاں درجنوں افراد ہلاک ہوچکے ہیں ،

    ادھر وزیراعظم شہبازشریف نے ڈیرہ بگٹی میں ہونے والی ہلاکتوں پر نوٹس لےلیا ہے ،

    بتایا گیا ہے کہ ڈیرہ بگٹی کے علاقے پیرکوہ ہیضے کی وبا سے اب تک 12 بچوں سمیت 23افراد کی ہلاکتیں ہوئی ہیں،قبائلی رہنما وڈیرہ قادر بگٹی کے مطابق پیرکوہ ہیضے کی وبا سے ہلاکتیں زیادہ ہوسکتی ہیں،اس پر خبردار نیوز نے جب ڈیرہ بگٹی کے ضلعی آفیسر اعظم بگٹی سے رابطہ کیا تو انہوں نے ہیضے یا

    اور کہا کہ اس سلسلے میں ہم نے ڈاکٹروں کی ٹیم کے لیے صوبائی حکومت کو لیٹر لکھا ہے،ڈی ایچ او نے کہا کہ بیماری کی ایک بڑی وجہ پینے کی صاف پانی کی عدم دستیابی ہے جس کے باعث اب تک 1500 سے زیادہ افراد متاثر ہوچکے ہیں جن میں زیادہ ترخواتین اور بچے ہیں

    انہوں نے پیرکوہ عوام فوری طور پر ادویات کے ساتھ ساتھ پینے کی صاف پانی کی فراہمی کامطالبہ کیا بقول انکے جب تک صاف پانی کا انتظام نہیں کیا جاے گا اس وقت تک اس وباء پر قابو پانا ممکن نہیں ہے

    دوسری جانب علاقے کے عوام نے وزیراعظم شہباز شیریف سے ایمرجنسی میں ڈاکٹروں ٹیم صاف پانی،خوارک کی اپیل ہوے پیرکوہ زیر زمین پانی ناہونے اور ضلعی انتظامیہ کی غیرفال ہونے پر نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے

    دوسری جانب مقامی صحافی امام بگٹی نے خبردار نیوز کو بتایا ضلع ڈیرہ بگٹی کے سب تحصیل پیرکوہ گئیس فیلڈ میں گرمیاں شروع ہوتے ہی پانی کا بحران پیدا ہوگیا،بگٹی سمیت بلوچستان کے اکثرعلاقوں میں پینے کا صاف پانی دستیاب نہیں

    زیر زمین پانی نا ہونے کڑوا پانی پینے سے اس وقت تین ہزار کےقریب لوگ ہیضے کے وباء کا شکار ہیں،سرکاری ہسپتالوں دوائیوں کی عدمدستیابی محکمہ صحت غیرفال ضلعی انتظامیہ ہر صبح فوٹوسشن کے بعدغائب ہوجاتی ہے

    دور جدید میں بھی لوگ گدھوں کا لاڈ کر پانی دور دراز سے لانے پر مجبور ہیں عوام نے وزیراعظم شہبازشریف سے مدت کی اپیل کی پیرکوہ کو افتزدہ کرار دے کر فوری طور پر صاف پانی محکمہ ہیلتھ کو فعال کیاجائے

  • سوئی میں دہشتگردوں کا حملہ، سینیٹر سرفراز بگٹی کے کزن سمیت 4 افراد جاں بحق

    سوئی میں دہشتگردوں کا حملہ، سینیٹر سرفراز بگٹی کے کزن سمیت 4 افراد جاں بحق

    ڈیرہ بگٹی: ڈیرہ بگٹی میں سوئی کے علاقے میں دھماکے کے نتیجے میں امن فورس کے 4 رضا کار جاں بحق جبکہ 8 زخمی ہوگئے۔

    سینیٹر سرفراز بگٹی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ سوئی کے نواحی علاقے ٹلی مٹ میں دھماکا ہوا، جس میں امن فورس کے 4 رضا کار شہید اور 8 زخمی ہوئے، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، کالعدم تنظیم اس حملے میں ملوث ہے، ریاست کب تک معصوم لوگوں پر ایسے حملوں کو برداشت کرتی رہے گی۔

     

     

    سینیٹر سرفراز بگٹی نے بتایا کہ سوئی حملے میں 8 افراد زخمی بھی ہوئے، بلوچ ری پبلیکن آرمی کے دہشت گرد حملے میں ملوث تھے۔انہوں نے بتایا کہ حملے میں میرے کزن سمیت 4 افراد شہید ہوئے، حکومت مذاکرات کے نام پر ہم سے مذاق کر رہی ہے۔

    سرفراز بگٹی کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت سے پوچھتا ہوں کہ کیوں ہمیں دہشت گردوں کے آگے پھینک دیا ہے، لوگوں کی مدد کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔

    وزیراعلیٰ بلوچستان نے سوئی میں ہونے والے بم دھماکے کی مذمت کی اور امن فورس کے رضا کاروں کی شہادت پر دلی رنج و غم کا اظہار کیا۔ عبدالقدوس بزنجو نے شہید رضا کاروں کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔

  • بگٹی قبیلے سے سرداری نظام کا خاتمہ   آغا نیاز مگسی

    بگٹی قبیلے سے سرداری نظام کا خاتمہ آغا نیاز مگسی

    بگٹی قبیلے کا شمار بلوچ قوم کے اہم ترین ، طاقتور اور جنگجو قباٸل میں ہوتا ہے . اس قبیلے کا آخری سردار نواب محمد اکبر خان بگٹی گزرے ہیں . ان کی وفات 26 اگست 2006 میں ضلع کوہلو کے ایک پہاڑی غار میں پہاڑی تودہ گرنے کے نتیجے میں ہوٸی . وہ حکومت سے اختلافات کے باعث اپنا آباٸی شہر اور بگٹی قبیلے کے مرکزی صدر مقام ڈیرہ بگٹی چھوڑ کر روپوشی کی زندگی گزارنے یا مزاحمت کے اردادے سے یہاں مقیم ہو گٸے تھے . ان کی ہلاکت کے اس سانحے کے اصل حقاٸق آج تک سامنے نہیں آ سکے ہیں .

    بگٹی قبیلہ ایک طویل عرصے تک نواب اکبر بگٹی کو نہ صرف اپنا متفقہ سردار تسلیم کرتا رہا بلکہ ان کو کسی بھی پیر و مرشد سے زیادہ عقیدت اور احترام کی نظر سے دیکھتا تھا. بہت سے سادہ لوح افراد کسی کو اپنی بات پر باور کرانے کی غرض سے نواب بگٹی کے سر کی قسم یا ان کی داڑھی کی قسم کھاتے تھے . لیکن سنہ 2000 کے بعد بگٹی قبیلے میں اندرونی اختلافات شدید تر ہوتے گٸے اور کچھ حلقوں میں اپنے سردار کے خلاف بغاوت کے آثار پیدا ہونا لگے .

    24 اگست 2006 کو ڈیرہ بگٹی میں بگٹی قبیلے کا ایک گرینڈ جرگہ منعقد ہوا جس میں خود نواب بگٹی کے بھتیجے رکن صوباٸی اسمبلی میر جمل خان بگٹی سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی . اس جرگہ میں متفقہ طور پر نواب اکبر بگٹی کو بگٹی قبیلے کی سربراہی سے ہٹا دیا گیا تھا اور بگٹی قبیلے سے مستقل طور پر سرداری نظام بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا. اس جرگے میں حکومت اور مری قبیلے سے مطالبہ کیا گیا کہ چونکہ نواب بگٹی ضلع کوہلو میں روپوش ہے وہ ان کو گرفتار کرا کے ہمارے حوالے کرانے میں مدد اور تعاون کریں تا کہ ہم اپنے قبیلے کی صدیوں پرانی روایات کے تحت اکبر بگٹی کٕے متعلق ان کے جراٸم کے مطابق سزا کا فیصلہ کر سکیں .

    میں بگٹی قبیلے کے اس تاریخی جرگے میں بطور مبصر شریک تھا. جب جرگہ ختم ہوا تو میں نواب اکبر بگٹی کے بھتیجے اور ایم پی اے حاجی میر جمل خان بگٹی کے پاس گیا اور ان سے اس تاریخی قباٸلی فیصلے کے پس منظر کے بارے میں کچھ سوالات کیٸے مگر انہوں نے مجھے ہاتھ جوڑ کر جواب دینے سے معذرت کی اور میرے رخصت ہونے پر انہوں نے اپنے کمرے کو اندر سے کنڈی لگا کر بند کر دیا. مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آٸی کہ اس میں کیا راز تھا . ٹھیک 2 روز بعد 26 اگست 2006 کو ضلع کوہلو کے پہاڑوں میں نواب اکبر بگٹی کی وفات کا سانحہ پیش آیا . ایک دلچسپ بات یہ کہ نواب اکبر بگٹی کی وفات کے ایک سال بعد بگٹی قبیلے کے کچھ معتبرین نے اپنے حامیوں کے ساتھ مل کر اکبر بگٹی کے پوتے میر عالی بگٹی کو بگٹی قبیلے کا نواب منتخب کر لیا . اس تقریب میں دیگر کسی بھی بلوچ قبیلے کے نواب یا سردار نے شرکت نہیں کی تھی . بگٹی قبیلے کی اکثریت نےبھی ان کو سردار تسلیم کرنے سے انکار کر دیا . میر عالی کے بطور نواب دستار بندی کے بعد بگٹی قبیلہ 3 واضح دھڑوں میں تقسیم ہو گیا . ایک دھڑا عالی کی حمایت میں دوسرا دھڑا نوابزادہ براہمدغ بگٹی کی حمایت میں آ گیا اور تیسرے دھڑے نے دونوں کی حمایت نہیں کی اور سرداری نظام سے لاتعلق ہو گٸے . نواب میر عالی بگٹی کی دستار بندی سوٸی میں ہوٸی تھی وہ وہاں کچھ عرصہ گزارنے کے بعد خود کو شاید کمزور یا بگٹی قبیلے کے اندرونی اختلافات کے باعث خود کو غیر محفوظ کرنے لگے جس کی وجہ سے وہ سانگھڑ سندھ چلے گٸے کیوں کہ وہاں بھی ان کی اراضیات اور بستی آباد یے. اس کے بعد آج تک ڈیرہ بگٹی نہیں آ سکے لیکن نواب عالی کے حامی افراد وقتاً فوقتاً حکومت سے اپیل کرتے رہتے ہیں کہ ہمارے نواب کو ڈیرہ بگٹی لایا جاٸے . ان کے اس مطالبے اور اپیل سے یہ گمان پیدا ہوتا ہے کہ اس اپیل کے پیچھے خود عالی بگٹی کی منشا شامل ہے اور یہ اپیل اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ میر عالی خان بگٹی حکومت کی مدد کے بغیر ڈیرہ بگٹی کبھی نہیں آ سکتے . جبکہ نواب اکبر بگٹی کے ایک اور پوتے نوابزادہ براہمدغ بگٹی کچھ عرصہ ریاست کے خلاف مزاحمتی تحریک چلاتے رہے اس کے بعد افغانستان فرار ہو گٸے پھر وہاں سے وہ سوٸیٹزر لینڈ چلے گٸے اور وہاں پناہ حاصل کی .