Baaghi TV

Tag: ڈیزل

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    اسلام آباد:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پرعوام کی پریشانی کوبھانپتے ہوئے چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اتوار رات 9 بجے احتجاج کی کال دے دی ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات میں 59 روپے تک اضافہ کردیا گیا

    پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بات کرنا چاہتا ہوں، یہ اب تک پیٹرول کی قیمت میں 85 روپے اضافہ کر چکے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

    پیٹرول کےبعد سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ

    عمران خان نے کہا ہے کہ بجلی ہم 16 روپے فی یونٹ چھوڑ کر گئے تھے، آج بجلی 29 روپے فی یونٹ ہو گئی جو مزید بڑھے گی، آٹے کا تھیلا ہماری حکومت میں 1100 کا تھا جو اب 1500 کا ہو گیا۔

    چیئر مین پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ گھی کی قیمت بھی فی کلو 400 سے بڑھ کر 650 روپے کلو تک پہنچ گئی، جب ہم گئے تو پیٹرول 150 روپے فی لیٹر تھا، ہمارے ساڑھے 3 سالوں میں پیٹرول صرف50 روپے بڑھا تھا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کوبھی پرامن احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہا ہوں، پر امن احتجاج کرنا ہمارا آئینی اورجمہوری حق ہے، قوم اتوارکی رات 9 بجے ملک گیراحتجاج کیلئے نکلے، اتوارکی رات 10بجے قوم سے مخاطب ہوں گا۔

  • پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل

    پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل

    لاہور:پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل ،اطلاعات کے مطابق اس وقت سے جب سے موجودہ حکومت نے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں اس وقت سے لیکر اب تک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہےجس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے وزیرخزانہ شوکت ترین جوکہ اس وقت مشیرخزانہ تھے نے پٹرولیم لیوی ہر ماہ 4 روپے بڑھانے کا ایک پریس کانفرنس میں حماد اظہر کے ساتھ اعلان کیا تھا

    یاد رہے کہ 22 نومبر 2021 کو سابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شوکت ترین نے کہا تھا کہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 30 روپے تک لے جانی ہے اس لیے ہر ماہ 4 روپے بڑھائیں گے۔

     

    انہوں نے اس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مذاکرات طے پاگئے ہیں، ان مذاکرات میں ہم اپنے موقف پر کھڑے رہے، عالمی ادارہ 1 ارب ڈالر قرض فراہم کرے گا۔

    سابق وزیراعظم کے مشیر برائے امور خزانہ نےاس وقت مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف ایگریمنٹ کامیابی سے مکمل ہوا، عالمی مالیاتی ادارے نے ٹیکس ریفارمز جاری رکھنے کا کہا ہے۔

    22 نومبر 2021 کے دن پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، ٹیکس نظام میں بہتری، اخراجات میں استحکام اور مالیاتی نظم وضبط سے بہتری ممکن ہے۔

    سابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے یہ بھی کہا تھا کہ میں نے کہا تھا ٹیرف بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے، قیمتیں بڑھائیں گے تو غریب کے اوپر دباؤ بڑھے گا۔

    یاد رہے کہ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سےمذاکرات میں ہم نے زراعت سمیت کچھ شعبوں کو بچایا، ٹیکس قوانین میں بہتری اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنا ہوں گی۔

    وزیر اعظم مشیر برائے امور خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی مہنگی کرنے پر رضامندی پہلے ہوگئی تھی، اسٹیٹ بینک کے بارےمیں ترمیم کا مارچ میں کہا گیا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے 500 ملین ڈالر لیے تھے، معاہدے سے پیچھے ہٹنا مشکل ہوگیا تھا، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم ہم نے کرانی ہے، اسے خودمختاری دینے پر پہلے ہی اتفاق کرچکے تھے۔

    شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے کا ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جی ایس ٹی کے استنیٰ ہٹانے ہیں، پٹرولیم لیوی 10 ارب روپے کرنے کا کہا تھا وہ توہم نہیں کرسکیں گے۔

    ادھر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو بطورثبوت حکومتی حمایتی یہ کہہ کر پیش کررہے ہیں کہ یہ قیمت تو بڑھنی ہی بڑھنی تھی کیونکہ اس کا معاہدہ شوکت ترین آئی ایم ایف سے کرچکے تھے

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    حکومت پاکستان نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید 30، 30 روپے کا اضافہ کردیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ملک میں پٹرول کی فی لٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے کردی گئی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے فی لٹر کردی جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا کر 181 روپے 94 پیسے کردی گئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں مہنگائی ہوگی لیکن یہ ناگزیر تھا۔انہوں نے بتایا کہ چین نیا قرضہ جاری کرے گا بلکہ شرح سود بھی کم کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 25 مارچ کو چین نے 2.3 ارب ڈالر کا قرض واپس لے لیا تھا، چین نے کافی شرائط عائد کر دی تھی اور شرح سود بڑھا دی تھی۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے چین جانے پر معاملات طے ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر معاملات فائنل ہوئے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ چین کے صدر نے وزیرِاعظم کے ساتھ معاملات فائنل کیے، قرض 1.5 فیصد کی شرح سود پر حاصل کیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر 10فیصد اخراجات کم کردیں تو چار ارب کی بچت ہوگی۔ یہاں صرف ایک دن میں چار ارب کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آٹے اور چینی پر سبسڈی دی جائے گی، چاول، دالوں اور گھی پر سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر ذمہ دارانہ باتیں کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم کو ملک کے ٹوٹ جانے کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔

  • حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ غیر ملکی آقاؤں کی مدد سے بننے والی امپورٹڈ حکومت کی قوم نے 30 روپے فی لٹر پٹرول میں اضافے کی صورت میں قیمت ادا کرنا شروع کردی ہے۔انہوں نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت کی طرف سے ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، نااہل اور بے حس حکومت نے روس کے ساتھ 30 فیصد سستا تیل خریدنے کے ہمارے معاہدے کو آگے نہیں بڑھایا۔

    عمران خان نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اس کے برعکس امریکا کا سٹریٹجک اتحادی ہونے کے باوجود بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر ایندھن کی قیمتوں میں 25 روپے فی لٹر کمی کی۔ اب ہماری قوم کو مہنگائی کی ایک اور بڑی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور کیروسین آئل 30 روپے مہنگا ہوگا، فیصلے کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے بغیر آئی ایم ایف پروگرام نہیں مل سکتا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مشکلات کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس کیا، عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے مشکل فیصلہ تھا، آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف سے انکار کیا ہے، عمران خان کے فارمولا پر جاؤں تو پٹرول 205 روپے لیٹر ہو جائے گا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ سے روپے کو استحکام ملے گا، پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے، جیسےہی روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا قیمتیں نیچے آئیں گی، وزیراعظم شہباز شریف نے یہ مشکل فیصلہ لیا ہے، ہم سمجھتے ہیں فیصلے سے ہماری سیاست کو نقصان پہنچے گا۔

    سماجی ابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر خزانہ نے لکھا کہ پٹرول کی نئی قیمت 179 روپے 86 پیسے فی لٹر ، ڈیزل کی فی لٹر قیمت 174 روپے 15 پیسے ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان کو فیول سبسڈی ختم کرنے پر 90 کروڑ ڈالر قرض کی قسط جاری کرینگے۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    لاہور:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر سبسڈی کے خاتمے سے متعلق اہم فیصلہ آج متوقع ہے۔ اوگرا نے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر بڑھتی ہوئی سبسڈی سے آگاہ کر دیا ہے۔ سبسڈی کے خاتمے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومت پٹرول پر 29 روپے 60 پیسے فی لٹرسبسڈی دے رہی ہے جو 16 مئی سے 45 روپے 14 پیسے تک پہنچ جائے گی۔ سبسڈی کے مکمل خاتمے سے پٹرول 195 روپے فی لٹر ہو جائے گا۔ ڈیزل پر اس وقت فی لٹر سبسڈی 73 روپے 4 پیسے ہے جو 16 مئی سے 85 روپے 85 پیسے تک پہنچ جائے گی، خاتمے کی صورت میں ڈیزل کی قیمت 230 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گی۔

    لائٹ ڈیزل آئل پر سبسڈی 64 روپے 70 پیسے ہے اور 16 مئی سے یہ 68 روپےفی لیٹر ہوجائے گی، خاتمے سے لائٹ ڈیزل کی قیمت 186 روپے 31 پیسے ہوجائے گی۔ مٹی کے تیل پر فی لیٹر سبسڈی 43 روپے 16 پیسے ہے جو 50 روپے 44 پیسے ہونے سے مٹی کے تیل کی قیمت 176 روپے ہوجائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے خاتمے اور نئی قیمتوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے جس کے بعد وزارت خزانہ نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

  • ڈیزل کی قلت،پمپوں پر لائنیں، حکومت کا بھی ایکشن کا حکم

    ڈیزل کی قلت،پمپوں پر لائنیں، حکومت کا بھی ایکشن کا حکم

    ڈیزل کی قلت،پمپوں پر لائنیں، حکومت کا بھی ایکشن کا حکم

    حکومت ڈیزل کی قلت پیدا کرنے والے ڈیلرز کے خلاف ایکشن میں آ گئی ہے

    حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ملک بھر میں ڈیزل ذخیرہ کرنے والوں کے خلاف فوری ایکشن لینے کا حکم دیا گیا ہے، گندم کی کٹائی کا وقت ہے کسی کو کسانوں سے زیادتی نہیں کرنے دینگے

    سیکرٹری پٹرولیم علی رضا بھٹہ کی زیر صدارت اعلیٰ سطح کا ورچوئل اجلاس ہوا، جس میں اوگرا، پی ایس او حکام اور تیل مارکیٹنگ کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پٹرولیم مصنوعات کے مطلوبہ ذخائر موجود ہیں، 21 دنوں کا ڈیزل اور31 دنوں کا پٹرول کا مطلوبہ ذخیرہ موجود ہے

    ذرائع پٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ ڈیزل مہنگا ہونے کی افواہوں پر مصنوعی قلت پیدا کی گئی جس کی وجہ سے ڈیزل کی قیمتوں میں ممکنہ طور پر 52 روپے لیٹر اضافے کا امکان ہے ذیادہ مہنگا ہونے کی افواہوں پر ڈیزل کی ذخیرہ اندوزی کا انکشاف ہوا اجلاس میں ذخیرہ اندوزوں کیخلاف سخت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے اور چاروں صوبوں کے چیف سیکریٹریز کو چھاپے مارنے کی ہدایات جاری کردی گئی ہیں

    پنجاب کے مختلف شہروں میں ڈیزل کی قلت کے باعث پیٹرول پمپوں پرگاڑیوں کی قطاریں لگ گئی ہیں پنجاب کے جنوبی اضلاع میں پمپس پر ڈیزل کی فروخت بند کردی گئی اور اس حوالے سے پیٹرولیم ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی خبروں پر کمپنیاں تیل فراہم نہیں کر رہیں ،کسان اتحاد کے رہنماوں نے شکوہ کیاکہ ڈیزل نہ ملنے کی وجہ سے گندم کی فصل متاثر ہورہی ہے

    علاوہ ازیں بعض مقامات پر ڈیزل کی مصنوعی قلت اور مہنگے داموں فروخت کرنے پرانتظامیہ نے پیٹرول پمپس پر جرمانے بھی کیے ہیں ڈیزل کی عدم دستیابی پر کسان پھٹ پڑے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان کے مسائل میں مزید اضافی ہی کیا ہے

    خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جاؤ،جنید سلیم

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • پٹرول 55 روپے، ڈیزل 70 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز سامنے آ گئی

    پٹرول 55 روپے، ڈیزل 70 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز سامنے آ گئی

    پٹرول 55 روپے، ڈیزل 70 روپے فی لیٹر مہنگا کرنے کی تجویز سامنے آ گئی
    وزیراعظم کے معاون خصوصی شہباز گل نے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کوئی تبدیلی نہیں کی جارہی ،

    شہباز گل کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے عوام سے بجٹ تک پیٹرول کی قیمت نہ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا تجویز تھی کہ پیٹرول 55 سے 56 اور ڈیزل 70 روپے فی لیٹر مہنگا کیا جائے، 15دنوں میں 63 ارب روپے کی سبسڈی حکومت دے گی وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ بجٹ تک عوام پر بوجھ نہیں ڈالا جائے گا وزیر اعظم اگر سمری منظور کرتے تو پیٹرول 205 روپے فی لیٹر ہوجاتا،


    سندھ کے صوبائی وزیر تیمور تالپور نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم اگر سمری منظور کر لیتے تو پیٹرول 205 روپے لیٹر ہوتا. شہباز گل،گل صاحب آپ فکر مت کریں وزیراعظم کو اب سمری منظور کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ اتوار کے بعد وہ وزیراعظم ہی نہیں رہے گا.

    واضح رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع ہو چکی ہے اور اتوار کو ووٹنگ ہونی ہے

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ تویٹر پر ایک صارف کا کہنا تھا کہ انشاء اللہ اتوار کو شہباز شریف وزیرے اعظم پاکستان بھاری اکثیریت سے بن جائیگا انشاء اللہ بجلی گیس کی لوڈشڈنگ ختم ہوجائیگی انشاء اللہ پٹرول ڈیزل أٹا چینی گھی ضروریات زندگی کی چیزیں 2013 کے ریٹ پر أجائیگی اور لاقوننیت قتل وغارت ختم ہوجاییگی پاکستان معاشی لحاظ سے مظبوط ترین بنجائیگا

    ایک صارف کا کہنا تھا کہ نیا وزیراعظم آنے کی دیر ہے
    یہ قوم ہاتھ لگا لگا کر دیکھے گی کہ ہمارے ساتھ کیا ہوا ہے۔
    وزیراعظم کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کیلئے بھیجی گئی سمری مسترد کر دی گئی!سمری کی منظوری کی صورت میں پیٹرول کی نئی قیمت 205 روپے اور ڈیزل کی قیمت 213 روپے فی لیٹر ہونا تھی!

    https://twitter.com/AdnansadiqMalik/status/1509819208695267353

    پٹرولیم بحران ، کمپنیوں نے ملبہ حکومت پر ڈال دیا، عوام کو مزید پریشان کر دینے والی خبر آ گئی

    پٹرولیم قیمتوں میں تاریخ کا بلند ترین33 فیصد اضافہ’’چینی اسکینڈل پارٹ ٹو‘‘ہے،شہباز شریف،بلاول

    خان صاحب آپکے لیے ایک آفر ہے استعفی دو اور گھر جاؤ،جنید سلیم

    آپ کیلئے پٹرول کی قیمتیں روکنا تو کوئی مسئلہ ہی نہیں تھا تو اب کیا ہوا؟ فہد مصطفیٰ

    مت بھولو کہ عمران خان مافیا کے خلاف 24 سال جہاد کرنے کے بعد نہ صرف وزیرِاعظم بنا بلکہ کرپشن کی چٹانوں سے ٹکرایا، عون عباس

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج

    ‏تنخواہ اور پینشن ایک روپیہ نہیں بڑھائی ، پٹرول 25 روپے مہنگا کرکے بتا دیا سلیکٹڈ کے دل میں اس قوم کے لئے کتنا درد بھرا ہوا ہے، جاوید ہاشمی

    25 روپے اضافے جیسے عوام دشمن اقدام کا دفاع کوئی منتخب وزیر نھیں کرسکتا یہ فریضہ باہر سے لائے گئے پراسرارمشیر ھی کر سکتے ، سلمان غنی

    ‏کچھ دن پہلے پٹرول سستا ھونے پر ذلیل ھو رھا تھا اب مہنگا ھونے پر ذلیل ھو گا، مشاہد اللہ خان

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

  • مریم نواز نے عمران خان کو ڈیزل قرار دیا کہا "چوہا” آٹا چینی کھا گیا

    مریم نواز نے عمران خان کو ڈیزل قرار دیا کہا "چوہا” آٹا چینی کھا گیا

    اسلام آباد:مریم نواز نے عمران خان کو ڈیزل قرار دیا کہا "چوہا” آٹا چینی کھا گیا،اطلاعات کے مطابق ن لیگ کی نائب صدرمریم نواز کو فضل الرحمن کو ڈیزل کہنا کھا گیا ، مریم نواز نے فضل الرحمن کو ڈیزل کہنے کا بدلہ لیتے ہوئے کہا کہ عمران خان بھی ڈیزل ہے

    مریم نواز نے کہا کہ کیا لوگوں کے منہ سے نوالہ چھین لینا امربالمعروف ہے،مریم نواز نے مزید کہا کہ تحری انصاف کی حکومت میں عوام دوائی لینے سے قاصر ہیں،عمران خان عوام کا آٹا اورچینی کھانے والا چوہاہے،دوسروں کو چوہا کہنے والا عمران خود چوہاہے،

    مریم نواز نے کہا کہ کیا عمران خان کو شرم آتی ہے کہ سیاستدانون کے خلاف غلط زبان استعمال کرتاہے،عمران خان کے دور میں ڈیزل کی قیمت سب سے زیادہ ہوئی ہے،پاکستان میں ڈیزل کا نام عمران خان سے منسوب ہوناچاہیے،

    مریم نوازکا کہنا تھا کہ عوام کی محنت کی کمائی جلسوں میں اڑائی جارہی ہے،قوم آپ سے سیاسی وسائل کے استعمال کا حساب لے گی،حکومت عوام کے ٹیکس کا پیسہ سیاسی جلسے میں استعمال کررہی ہے،تحریک انصاف کے جلسےمیں سرکاری وسائل کا استعمال کیاجارہاہے،یہ ان کا خاندانی پیسہ تو نہیں یہ پاکستان کے عوام کا پیسہ ہے،

    مریم نوازنے کہا کہ بتایا جائے انہیں سرکاری وسائل استعمال کرکے جلسے کرنے کا حق کس نے دیا؟گوجرانوالہ میں لوگ رات2بجے تک انتظار میں تھے، گوجرانوالہ کے عوام کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں،

    چالاک لومڑی بننے کی کوشش مت کرو ۔نواز شریف پاکستان کا بیٹا ہے امر بالمعروف کا نام لے کر مزہب استعمال کرتے ہوئے شرم نہیں آتی سرکاری ملازمین کو جلسے میں بلایا فرح نامی خاتون کا سیکنڈل آئے گا تو سامنا نہیں کر سکو گے حمزہ نے دو سال جیل کاٹی سب ن لیگیوں نے جیل کاٹی اب تمہاری باری ہے ۔

    اگر نواز شریف لندن سے ادروں کو کنٹرول کر رہا تو پھر تم کس چیز کے حکمران ہو استعفی دو ڈرپوک کو اب بھاگنے نہیں دیں گے استعفی دے کر ہمیشہ کے لیے سیاست سے کنارہ کش ہو جاؤ بہتان لگانے کی سزا آج تمہیں مل رہی ہے نواز شریف قوم کا بیٹا اور واپس آئے گا ۔

    عمران نیازی نے انتقام لیا اب بچ نہیں سکے گا اس کی باری ہے الیکشن کمیشن نوٹس دیتا ہے آپ پیش نہیں ہوتے اداروں کو آپ نہیں مانتے آنا نے تمہیں آج اسی جگہ پہنچا دیا جہاں حکومت میں آنے سے پہلے تھے

  • "ڈیزل”کے حوالے سےپاکستانیوں کیلیےبُری خبر:ملک میں بحران کا خدشہ

    "ڈیزل”کے حوالے سےپاکستانیوں کیلیےبُری خبر:ملک میں بحران کا خدشہ

    اسلام آباد :”ڈیزل”پاکستانیوں کیلیے بُری خبربن کرآنے والا:ملک میں بحران کا خدشہ ،اطلاعات کے مطابق سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم نے ملک میں ڈیزل کے بحران کا خدشہ ظاہر کردیا۔اس حوالے سے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی پٹرولیم کا اجلاس ہوا۔

    اس حوالے سے چیئرمین کمیٹی سینیٹر عبدالقادر نے کہا کہ ملک میں ڈیزل کا ایک اور بحران پیدا ہونے کا خدشہ ہے ، ہر کمپنی کہہ رہی ہے کہ ڈیزل کی قلت ہونے والی ہے، ہرکوئی چیخ رہا ہے مگر حکومت کوئی اقدام نہیں کررہی۔

    پاکستان اسٹیٹ آئل کے حکام نے کمٹی کو بتایا کہ پی ایس او کے پاس ڈیزل کا 26 دن کا ذخیرہ ہے۔حکام پی ایس او نے کہا کہ ریفائنریوں کو ڈیزل کے آرڈر دیئے گئے ہیں مگر وہ تیل نہیں دے رہیں، پرائس ڈیفرنشل کلیمز زیادہ ہونے سے تیل کمپنیاں سپلائی روک لیں گی تو ہمیں ڈر ہے کہ چھوٹی کمپنیاں بھی تیل دینا بند کردیں گی۔

    پی ایس او حکام نے کہا کہ اگر ڈیزل کی قلت ہوئی تو پورے ملک میں مسئلہ ہوگا، ہم یہ سارا بوجھ نہیں اٹھا سکیں گے۔

    چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ یہ کوئی طریقہ نہیں کہ دس روپے کمی کی گئی تو کمپنیوں نے تیل دینا بند کردیا، اگر کوئی مسئلہ ہے تو اس پر لگاتار میٹنگز کریں، اگر کمپنیوں کا کوئی جائز مسئلہ ہے تو اس کو حل کیا جائے ۔

    کمیٹی نے ملک میں ڈیزل بحران پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے سیکرٹری پیٹرولیم کو خط لکھنے کا فیصلہ کرلیا۔

    واضح رہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل ہے جب کہ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ تک پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہ کرنے کاا علان کررکھا ہے۔

    کورونا وبا کے دوران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑی کمی کی تھی لیکن آئل کمپنیہوں نے مبینہ طور پر ملک میں تیل کا بحران پیدا کردیا تھا۔