Baaghi TV

Tag: ڈیزل

  • حکومت کا پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لٹر کمی کا اعلان

    حکومت کا پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لٹر کمی کا اعلان

    اسلام آباد: حکومت نے پٹرول کی قیمت میں کمی اور ڈیزل کی قیمت میں اضافے کا اعلان کردیا ہے۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ نے نئی قیمتوں کا اعلان کیا۔

     

    نئی قیمتوں کے مطابق پٹرول کی قیمت میں 3 روپے 5 پیسے فی لٹر کمی جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 95 پیسے کا اضافہ کیا گیا ہے، نئی قیمتوں کا اطلاع رات 12 بجے سے ہوگا۔

     

    پٹرول کی نئی قیمت 227 روپے 19 پیسے، ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 95 پیسے اضافے کے ساتھ 244 روپے 95 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔

    مٹی کا تیل 4 روپے 62 پیسے مہنگا ہوا جس کے بعد نئی قیمت 201 روپے 7 پیسے فی لٹر ہوگئی ہے۔

  • پٹرول 10 اور ڈیزل 17 روپے فی لٹر مہنگا ہونے کا امکان

    پٹرول 10 اور ڈیزل 17 روپے فی لٹر مہنگا ہونے کا امکان

    اسلام آباد: غریب عوام پر ایک اور بوجھ ڈالنے کی تیاری کرلی گئی، پٹرول 10 اور ڈیزل 17 روپے فی لٹر مہنگا ہونے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق یکم اگست سے پڑویم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوسکتا ہے، پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 10 سے 17 روپے فی لٹر تک اضافے کی سمری بھجوا دی گئی ہے۔

    پٹرولیم ڈیلرز کا مارجن بھی بڑھنے کے بعد قیمتوں میں ردوبدل ہونے کا امکان ہے، پٹرول کی قیمت میں 10 روپے اور ڈیزل کی قیمتوں میں 17روپے تک اضافہ ہوسکتا ہے۔اس حوالے سے ذرائع کا مزید بتانا تھا کہ وزارت خزانہ وزیر اعظم کی منظوری کے بعد نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔

    مذاکرات کامیاب،پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے ہڑتال کی کال واپس لے لی

    عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتیں ایک بار پھر آسمان سے باتیں کرنے لگیں، امریکی خام تیل کی قیمت میں ایک ہی دن پانچ فیصدسے زائد اضافہ ہوا۔

    غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں امریکی خام تیل کی قیمت پانچ اعشاریہ ایک فیصد اضافے کے ساتھ ایک سو ایک ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی۔

    پٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن کا 18 جولائی کو ملک گیر ہڑتال کا اعلان

    برطانوی خام تیل کی قیمت میں تین اعشاریہ ایک فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا، عالمی منڈی میں برطانوی خام تیل ایک سو دس اعشاریہ تینتالیس ڈالر فی بیرل میں فروخت ہورہا ہے۔

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے حکومت کوپٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم کرنے کی سفارش کردی

  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم ازکم 100 روپے فی لٹر کمی کی جائے:سراج الحق

    پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کم ازکم 100 روپے فی لٹر کمی کی جائے:سراج الحق

    اسلام آباد:سراج الحق نے کہا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے فی لٹر کمی کی جائے۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ عدالتیں اپنا اعتماد بحال کریں، فیصلوں میں غیرجانبداری نظر آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ قوم پاناما لیکس اور پنڈوراپیپرز میں ملوث افراد کے خلاف عدالتی ایکشن کی منتظر ہے۔

    امیر جماعت اسلامی کا کہنا تھا کہ کرپٹ لوگوں کا احتساب ہو جاتا تو سیاست بھی کرپشن سے پاک ہوتی جبکہ پی ٹی آئی، پی ڈی ایم کی لڑائی سے معیشت تباہ ہو گئی۔

    سراج الحق کا کہنا تھا کہ ملکی مفادات کے معاملات حکمران پارٹیوں کی ذاتی لڑائیوں کی نذر ہو چکے ہیں، ملک کو پٹڑی پر ڈالنے کے لیے اہل اور ایمان دار قیادت درکار ہے۔

    انہں نے کہا کہ پی ڈی ایم کا موجودہ اور پی ٹی آئی کا سابقہ دور ملکی تاریخ کے سیاہ ترین باب ہیں، تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے سرپرست امریکا اور آئی ایم ایف ہیں۔

    امیر جماعت اسلامی سراج الحق کا مزید کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 روپے فی لٹر کمی کی جائے جبکہ اشیائے ضروریہ کے نرخوں میں 35سے 50فیصد کمی کی جائے۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں 40 روپے 54 پیسے اور پٹرول 18 روپے پچاس پیسے فی لٹر کمی کا اعلان کردیا ہے۔

    قوم سے خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ چند ماہ پہلے حکومت سنبھالی تو ورثے میں تباہ شدہ معیشت ملی، مہنگائی اپنے عروج پر تھی، مہنگائی عروج پر تھی اور تیل کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی تھیں، پچھلی حکومت نے آئی ایم ایف سے سخت ترین شرائط پر معاہدہ کیا، جاتے جاتے سابق حکومت نے اس معاہدے کی دھجیاں بکھیر دیں، سابقہ حکومت نے ہماری لئے بارودی سرنگیں بچھا دیں، سابقہ حکومت نے تیل کی قیمتوں میں اچانک کمی کر دی، تیل کی قیمتوں میں کمی کیلئے خزانے میں پیسے نہیں تھے، یہ کام ہماری حکومت کو مشکلات میں ڈالنے کیلئے کیا گیا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ میں نے آپ سے وعدہ کیا تھا کہ کبھی غلط بیانی نہیں کروں گا، ہم نے دل پر پتھر رکھ کر قیمتوں میں اضافہ کیا، ہمارے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں تیزی سے گررہی ہیں، آج ہمیں تیل کی قیمتوں میں کمی کا موقع ملا ہے، آئی ایم ایف سے بھی شبانہ روز کاوشوں کے بعد معاہدہ ہو چکا ہے، آئی ایم ایف سے معاہدے کا سہرا وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل اور ٹیم کو جاتا ہے، دعا ہے ہمارا بھی آئی ایم ایف کے ساتھ یہ آخری معاہدہ ہو۔

  • کسٹمز کی کارروائی میں کھاد اور ایرانی ڈیزل ضبط

    کسٹمز کی کارروائی میں کھاد اور ایرانی ڈیزل ضبط

    کوئٹہ :پاکستان کسٹمز انفورسمنٹ اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن نے انسداد اسمگلنگ کے تحت دو کامیاب کارروائیوں میں 5کروڑ 65لاکھ روپے کا اسمگل شدہ مال ضبط کرلیا۔

    ذرائع کے مطابق آرسی ڈی ہائی وے موچکہ کسٹم چیک پوسٹ کے عملے نے دو مشکوک آئل ٹینکرز روک کر جب معائنہ کیا تو ٹینکرز سے 30ہزار لیٹر اسمگلڈ ایرانی ڈیزل برآمد کیا گیا۔ ڈیزل کی درآمدی دستاویزات طلب کی گئیں لیکن ڈرائیورز متعلقہ دستاویزات پیش کرنے میں ناکام رہے۔

    اس پر حکام نے 2کروڑ 70لاکھ روپے مالیت کا اسمگلڈ ڈیزل ضبط کرکے مقدمہ درج کرکے دونوں ٹینکرز کے ڈرائیورز کو گرفتار کرلیا ہے۔اینٹی اسمگلنگ آرگنائزیشن کی موچکہ چیک پوسٹ پر ایک دوسری کارروائی میں حکام نے بلوچستان کے لیے کھاد کی اسمگلنگ کو ناکام بنادیا۔

    ذرائع نے بتایا کہ دو کروڑ 90لاکھ مالیت کی کھاد بذریعہ ٹریلر غیرقانونی طور پر بلوچستان لیجانے کی کوشش کی جارہی تھی۔حکام نے متعلقہ دستاویزات نہ ہونے پر کھاد ضبط کرکے مقدمہ درج کرلیا ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستان کوسٹ گارڈز نے گوادر اور وندر میں کارروائی کے دوران اسمگنگ شدہ ایرانی ڈیزل سمیت بھاری مقدار میں چھالیہ اور دیگر چیزیں برآمد کرلی جبکہ ایک غیر ملکی سمیت 25 تارکین وطن کو بھی گرفتارتھا خفیہ اطلاع پر گوادر میں ایک لانچ سے 18 ہزار لیٹر ایرانی اسمگل شدہ ڈیزل برآمد کرلیا گیا جبکہ ایک اور وندر میں دوران کارروائی گاڑیوں سے 34 ہزار 394 کلو چھالیہ اور 45 ٹن فلو رائٹ اسٹون برآمدکیا تھا

    جبکہ اس وقت وندر کے قریب ناکہ کھاری چیک پوسٹ پر 91 عدد ٹائر اور 16 بیگ چائنا سالٹ برآمد کیا گیا

  • صومالیہ بنتاپاکستان

    صومالیہ بنتاپاکستان

    تحریر :ڈاکٹرغلام مصطفی بڈانی
    2011ء میں صومالیہ کو بد ترین خشک سالی کاسامناکرنا پڑا جسے اقوامِ متحدہ نے قحط قرار دیا۔ شدید قحط کے باعث روزانہ سینکڑوں افراد ہلاک ہوتے رہے اوراس طرح 2011ء میں قحط سے ڈھائی لاکھ سے زائد لوگ ہلاک ہوگئے۔پھر2020ء میں صومالی حکومت نے بڑھتی ہوئی خشک سالی کی وجہ سے 23 نومبر کو ملک بھر میں ہنگامی حالات کا اعلان کر دیا تھا۔صومالیہ میں بھوک کے بحران کی وجہ محض خراب فصلیں، سیلاب اور خشک سالی نہیں بلکہ کرپشن ، بد انتظامی اور ناقص حکومتی نظام کا بھی کا عمل دخل تھا۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ گزشتہ دس سالوں میں پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا جبکہ اس کے پڑوسی ملک بھارت میں کمی ہوئی ہے۔موجودہ حالات میں پاکستان تیزی سے صومالیہ بننے کی طرف گامزن ہے ،اس کی کئی وجوہات ہیں ان میں سے چند وجوہات کاجائزہ لیتے ہیں۔ شہبازشریف کی حکومت نے مسلسل چوتھی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پروزیرخزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا تھا کہ عمران خان کی سابقہ حکومت نے پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کاIMF سے معاہدہ کیاتھا اس لئے ہمیں مجبوراََ قیمتیں بڑھانی پڑیں،جس پر عوام اور اپوزیشن جماعت PTIنے مزمت کی اور کہاکہ اگرہم نے کوئی معاہدہ کیا ہے وہ قوم کے سامنے لایاجائے ،جس پر مفتاح اسماعیل نے پینترابدلاکہ آئی ایم ایف کی کوئی شرط نہیں بلکہ ڈالرکی بڑھتی قیمت اور عالمی منڈی میںتیل کی زیادہ ہوتی قیمتوں کوقراردیا،ان دوماہ میں ان سیاسی ارسطوئوں نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاکرعوام کومہنگائی کے سونامی کی خطرناک لہروں میں بیدردی سے پھینک دیا۔پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوشرباء اضافہ سے گڈزٹرانسپورٹ کومجبوراََ کرایوںمیں اضافہ کرنا پڑا، کرایوں کے اضافے سے ہرچیزکی قیمت بڑھ جاتی ہے اور حکومتی پنڈت یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ ہم نے عام شہری پرکوئی اضافی بوجھ نہیں ڈالا۔
    حکومت کی جانب سے 13 بڑے صنعتی شعبوں سیمنٹ ، ٹیکسٹائل، شوگر ملز، آئل اینڈ گیس، فرٹیلائزر ، ایل این جی ٹرمینلز، بینکنگ، آٹو موبائل، بیوریجزور یسٹورنٹس، کیمیکلز، سگریٹ، سٹیل اور ایئر لائنز پر 10 فیصد پر ٹیکس کے نفاذ سے ان شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کے منافع میں کمی واقع ہو گی جس کے نتیجے میں ملک میں مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے عمل میں کمی اور روز گار کے نئے مواقع نہ پیدا ہونے کے امکانات پیداہوگئے ہیں۔ واضح رہے کہ اس وقت کارپوریٹ ٹیکس کی شرح 29 فیصد ہے جبکہ ان 13 شعبوں کے علاوہ دیگر شعبہ جات پر 4 فیصد پر ٹیکس عائد ہے جبکہ وفاقی حکومت کے نئے اعلان کے مطابق مذکورہ 13 شعبوں پر 10 فیصد کی شرح سے ایک سال کیلئے سپر ٹیکس عائد کیا گیا ہے، اس وقت ملک میں کارپوریٹ اور دیگر مد میں ٹیکسوں کی شرح لگ بھگ 50 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ میں اضانے کی بجائے پہلے سے ٹیکس دینے والوں پر مزید بوجھ ڈال دیا جس کے نتیجے میں ملک میں معاشی و اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔ نئے حکومتی اقدامات میں بڑے سیکٹرز پر سپر ٹیکس عائد کرنے کے ساتھ تنخواہ دار طبقے کو بجٹ میں دیا جانے والا ریلیف بھی واپس لے لیا گیا۔سپرٹیکس کے ثمرات عوام تک فوراََ پہنچ گئے،عوام سے ضروریات زندگی بھی چھین لی گئیں۔ملک میں بجلی نام کوبھی نہیں ہے اوپرسے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ عوام پرایٹم بم گرانے کے مترادف ہے۔
    پاکستان ایک زرعی ملک ہے،جس کی 70فیصد آبادی دیہاتوں میں رہتی اور زراعت سے وابستہ ہے اورزراعت کوپاکستان کی ریڑھ کی ہڈی قراردیاجاتا ہے موجودہ حکومت نے زراعت سے وابستہ کسان کو زندہ درگورکردیا۔اپنی مخلوط حکومت بچانے کیلئے جنوبی پنجاب کی نہروں کاپانی بند کرکے سندھ کودیاجارہاہے ،ہم یہ نہیں کہیں گے کہ سندھ کوپانی کیوں دیاجارہاہے سندھ بھی پاکستان ہے وہاں کے کسان بھی ہمارے اپنے ہیں لیکن ہم صرف اتنا گذارش کریں گے منصفانہ تقسیم کے فارمولاپرعملدرآمدکرتے ہوئے سندھ کواس کے حصے کاپانی دیاجائے اورجنوبی پنجاب کے کسان سے سوتیلی ماں کاسلوک روانہ رکھاجائے ،جس طرح سندھ،اپرپنجاب یادوسرے صوبوں کے کسانوں کوان کے حصے کاپانی دیاجارہا اِدھرکاکسان بھی اتناہی حقدار ہے ، ان کی زمینوں کوسیراب کرنے والی نہریں بند کیوں ہیں۔حکومت کی بے ترتیبی اورناکام حکمت عملی کی وجہ سے ہماراکسان زبوں حالی کاشکارہے۔بجلی مہنگی،پٹرول ،ڈیزل مہنگااورکھادنایاب ہوچکی ہے ،پاکستان کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے کسان کی کمرتوڑدی گئی ہے ،پانی نہ ہونے کی وجہ سے اس باردھان ،کپاس،جوارودیگرفصلیں کاشت نہ ہوسکیں کیونکہ ہمارے 90فیصد کسان پیٹرانجن کے ذریعے ٹیوب ویل چلاکر اپنے کھیت سیراب کرتے ہیں،کھیتوں میں ہل چلانے کیلئے ٹریکٹراستعمال ہوتے ہیں کھیت سے منڈی تک سبزیوں اوراناج کی ترسیل بھی ٹریکٹرٹرالی کے ذریعے ہوتی ہے ،پیٹرانجن اورٹریکٹرڈیزل پرچلتے ہیں موجودہ حالات میں ہماراکسان مہنگے داموں ڈیزل خریدنے سے قاصر ہے،بجلی مہنگی ہے لیکن ہے ہی نہیں کئی کئی گھنٹوں کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ نے رہی سہی کسربھی پوری کردی ہے ،حکومتی سرپرستی میں پلنے والے کھاد مافیاء نے کھاد اپنے گوداموں میں چھپارکھی ہے جوکسانوں کو من مانی قیمت پر بلیک میں فروخت کررہے یاپھرحکومتی اداروں کی سرپرستی میں سٹاک شدہ کھادافغانستان سمگل کی جارہی ہے۔اندھے حکمرانوں کوہمارے کسان کے مسائل نہیں دکھائی دے رہے،جب کسان کے پاس فصلیں کاشت کرنے کیلئے وسائل نہیں ہوں گے تووہ کس طرح فصلیں کاشت کریں گے ۔جب فصلیں کاشت نہیں ہوں گی تولازمی طورپرمارکیٹ میں اجناس کی قلت ہوگی اورقیمتیں بڑھ جائیں گی پہلے بھی غریب اور مزدور،دیہاڑی دار طبقہ اس ہوشرباء مہنگائی کے ہاتھوں پس چکا ہے وہ کس طرح بلیک مارکیٹ سے مہنگی اشیاء خرید پائیں گے ۔ اتحادی حکومت کوہوش کے ناخن لینے چاہئیں کسان اور دیہاڑی دارمزدورطبقے کااحساس کرتے ہوئے اس بے لگام مہنگائی کے آگے بند باندھنا بہت ضروری ہے ۔فصلیں کاشت کرنے کیلئے ہمارے کسان کیلئے علیحدہ سے بجلی ،ڈیزل اور کھادکیلئے سپیشل بجٹ مختص کیا جائے ورنہ فصلات کاشت نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں اناج کی قلت پیداہونے کا خطرہ ایک اژدھاکی طرح پھن پھیلائے کھڑاہے ،اگر بروقت اقدامات نہ کئے گئے توپاکستان کوقحط کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔صومالیہ کو کئی سالوں کی خشک سالی اور بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے قحط کاسامنا کرناپڑا، اس وقت پاکستان صومالیہ بننے کے بالکل قریب پہنچ چکا ہے۔ اگرپاکستان میں قحط آتاہے تویہ قحط قدرتی نہیں بلکہ حکمرانوں کی غلط پالیسیوں کاشاخسانہ ہو گا۔

  • عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    عمران خان نے اتوار رات 9 بجےاحتجاج کی کال دے دی

    اسلام آباد:پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کے بعد گیس کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پرعوام کی پریشانی کوبھانپتے ہوئے چیئر مین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے اتوار رات 9 بجے احتجاج کی کال دے دی ہے۔

    پٹرولیم مصنوعات میں 59 روپے تک اضافہ کردیا گیا

    پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں پر بات کرنا چاہتا ہوں، یہ اب تک پیٹرول کی قیمت میں 85 روپے اضافہ کر چکے ہیں، پیٹرول کی قیمتیں مزید بڑھیں گی۔

    پیٹرول کےبعد سی این جی کی قیمت میں بھی اضافہ

    عمران خان نے کہا ہے کہ بجلی ہم 16 روپے فی یونٹ چھوڑ کر گئے تھے، آج بجلی 29 روپے فی یونٹ ہو گئی جو مزید بڑھے گی، آٹے کا تھیلا ہماری حکومت میں 1100 کا تھا جو اب 1500 کا ہو گیا۔

    چیئر مین پاکستان تحریک انصاف نے کہا ہے کہ گھی کی قیمت بھی فی کلو 400 سے بڑھ کر 650 روپے کلو تک پہنچ گئی، جب ہم گئے تو پیٹرول 150 روپے فی لیٹر تھا، ہمارے ساڑھے 3 سالوں میں پیٹرول صرف50 روپے بڑھا تھا۔

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے خلاف قرارداد اسمبلی میں جمع

    انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کوبھی پرامن احتجاج میں شرکت کی دعوت دے رہا ہوں، پر امن احتجاج کرنا ہمارا آئینی اورجمہوری حق ہے، قوم اتوارکی رات 9 بجے ملک گیراحتجاج کیلئے نکلے، اتوارکی رات 10بجے قوم سے مخاطب ہوں گا۔

  • پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل

    پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل

    لاہور:پٹرول پرلیوی30روپےکرنی ہے،ہرماہ 4روپےبڑھائیں گے،شوکت ترین کی پچھلےسال کی ویڈیووائرل ،اطلاعات کے مطابق اس وقت سے جب سے موجودہ حکومت نے پٹرول کی قیمتیں بڑھائی ہیں اس وقت سے لیکر اب تک سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہےجس میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے وزیرخزانہ شوکت ترین جوکہ اس وقت مشیرخزانہ تھے نے پٹرولیم لیوی ہر ماہ 4 روپے بڑھانے کا ایک پریس کانفرنس میں حماد اظہر کے ساتھ اعلان کیا تھا

    یاد رہے کہ 22 نومبر 2021 کو سابق وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر کے ہمراہ پریس کانفرنس میں شوکت ترین نے کہا تھا کہ پٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی 30 روپے تک لے جانی ہے اس لیے ہر ماہ 4 روپے بڑھائیں گے۔

     

    انہوں نے اس وقت یہ اعلان کیا تھا کہ عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے مذاکرات طے پاگئے ہیں، ان مذاکرات میں ہم اپنے موقف پر کھڑے رہے، عالمی ادارہ 1 ارب ڈالر قرض فراہم کرے گا۔

    سابق وزیراعظم کے مشیر برائے امور خزانہ نےاس وقت مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹاف ایگریمنٹ کامیابی سے مکمل ہوا، عالمی مالیاتی ادارے نے ٹیکس ریفارمز جاری رکھنے کا کہا ہے۔

    22 نومبر 2021 کے دن پریس کانفرنس کرتے ہوئے اُن کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے کہا کہ ٹیکس اصلاحات میں مزید بہتری کی ضرورت ہے، ٹیکس نظام میں بہتری، اخراجات میں استحکام اور مالیاتی نظم وضبط سے بہتری ممکن ہے۔

    سابق وفاقی وزیرخزانہ شوکت ترین نے یہ بھی کہا تھا کہ میں نے کہا تھا ٹیرف بڑھانا مسئلے کا حل نہیں ہے، قیمتیں بڑھائیں گے تو غریب کے اوپر دباؤ بڑھے گا۔

    یاد رہے کہ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ آئی ایم ایف سےمذاکرات میں ہم نے زراعت سمیت کچھ شعبوں کو بچایا، ٹیکس قوانین میں بہتری اور کاروبار میں آسانی پیدا کرنا ہوں گی۔

    وزیر اعظم مشیر برائے امور خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ بجلی مہنگی کرنے پر رضامندی پہلے ہوگئی تھی، اسٹیٹ بینک کے بارےمیں ترمیم کا مارچ میں کہا گیا تھا۔اُن کا کہنا تھا کہ ہم نے 500 ملین ڈالر لیے تھے، معاہدے سے پیچھے ہٹنا مشکل ہوگیا تھا، اسٹیٹ بینک ایکٹ میں ترمیم ہم نے کرانی ہے، اسے خودمختاری دینے پر پہلے ہی اتفاق کرچکے تھے۔

    شوکت ترین نے کہا کہ آئی ایم ایف نے 700 ارب روپے کا ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا تھا، جی ایس ٹی کے استنیٰ ہٹانے ہیں، پٹرولیم لیوی 10 ارب روپے کرنے کا کہا تھا وہ توہم نہیں کرسکیں گے۔

    ادھر اس حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو کو بطورثبوت حکومتی حمایتی یہ کہہ کر پیش کررہے ہیں کہ یہ قیمت تو بڑھنی ہی بڑھنی تھی کیونکہ اس کا معاہدہ شوکت ترین آئی ایم ایف سے کرچکے تھے

    پنجاب سے ڈی سیٹ پی ٹی آئی کے منحرف ارکان کا سپریم کورٹ میں اپیل کا فیصلہ

    خواتین پر تشدد کروانے پر عوام میں شدید غصہ پایا جاتا ہے:عمران خان

    عمران خان کی سی پی این ای کے نو منتخب عہدیداران کو مبارکباد

    مریم نواز کی ایک اور آڈیو لیک

  • پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید 30،30،روپے اضافہ کر دیا گیا

    حکومت پاکستان نے ملک میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں مزید 30، 30 روپے کا اضافہ کردیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے بتایا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کیا جارہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ ملک میں پٹرول کی فی لٹر قیمت 209 روپے 86 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت 204 روپے 15 پیسے کردی گئی۔مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کردیا گیا ہے۔

    وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ لائٹ ڈیزل آئل کی قیمت بڑھا کر 178 روپے فی لٹر کردی جبکہ مٹی کے تیل کی قیمت بڑھا کر 181 روپے 94 پیسے کردی گئی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہم سمجھتے ہیں مہنگائی ہوگی لیکن یہ ناگزیر تھا۔انہوں نے بتایا کہ چین نیا قرضہ جاری کرے گا بلکہ شرح سود بھی کم کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ 25 مارچ کو چین نے 2.3 ارب ڈالر کا قرض واپس لے لیا تھا، چین نے کافی شرائط عائد کر دی تھی اور شرح سود بڑھا دی تھی۔

    مفتاح اسماعیل نے کہا کہ وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری کے چین جانے پر معاملات طے ہوئے، وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ چین کے موقع پر معاملات فائنل ہوئے۔ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ چین کے صدر نے وزیرِاعظم کے ساتھ معاملات فائنل کیے، قرض 1.5 فیصد کی شرح سود پر حاصل کیا جائے گا۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ اگر 10فیصد اخراجات کم کردیں تو چار ارب کی بچت ہوگی۔ یہاں صرف ایک دن میں چار ارب کی سبسڈی دی جارہی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ آٹے اور چینی پر سبسڈی دی جائے گی، چاول، دالوں اور گھی پر سبسڈی دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ عمران خان غیر ذمہ دارانہ باتیں کر رہے ہیں، سابق وزیراعظم کو ملک کے ٹوٹ جانے کی باتیں نہیں کرنی چاہئیں۔

  • حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    حکومت کاپٹرول اورڈیزل کی قیمت میں30روپےفی لٹراضافہ:عمران خان کی حکومت پرشدید تنقید

    لاہور:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانے پر ردعمل دیتے ہوئے حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے عمران خان نے لکھا کہ غیر ملکی آقاؤں کی مدد سے بننے والی امپورٹڈ حکومت کی قوم نے 30 روپے فی لٹر پٹرول میں اضافے کی صورت میں قیمت ادا کرنا شروع کردی ہے۔انہوں نے لکھا کہ امپورٹڈ حکومت کی طرف سے ملکی تاریخ میں پہلی بار اتنا بڑا اضافہ کیا گیا ہے، نااہل اور بے حس حکومت نے روس کے ساتھ 30 فیصد سستا تیل خریدنے کے ہمارے معاہدے کو آگے نہیں بڑھایا۔

    عمران خان نے ایک اور ٹوئٹ میں لکھا کہ اس کے برعکس امریکا کا سٹریٹجک اتحادی ہونے کے باوجود بھارت نے روس سے سستا تیل خرید کر ایندھن کی قیمتوں میں 25 روپے فی لٹر کمی کی۔ اب ہماری قوم کو مہنگائی کی ایک اور بڑی لہر کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی کی قیمت میں 30 روپے فی لٹر اضافہ کرنے کا اعلان کردیا ہے۔اطلاعات کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرول، ڈیزل اور کیروسین آئل 30 روپے مہنگا ہوگا، فیصلے کا اطلاق آج رات 12 بجے سے ہوگا، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھائے بغیر آئی ایم ایف پروگرام نہیں مل سکتا۔

    انہوں نے مزید کہا کہ سابق حکومت کی پالیسیوں کے باعث آج مشکلات کا سامنا ہے، سابق حکومت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمت کو فکس کیا، عوام پر کسی بھی قسم کا بوجھ ڈالنا ہمارے لیے مشکل فیصلہ تھا، آئی ایم ایف نے پٹرول کی قیمت بڑھانے تک ریلیف سے انکار کیا ہے، عمران خان کے فارمولا پر جاؤں تو پٹرول 205 روپے لیٹر ہو جائے گا۔

    مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ پٹرول کی قیمت میں اضافہ سے روپے کو استحکام ملے گا، پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے سے تھوڑی سی مہنگائی بڑھتی ہے، جیسےہی روپے کی قدر میں اضافہ ہوگا قیمتیں نیچے آئیں گی، وزیراعظم شہباز شریف نے یہ مشکل فیصلہ لیا ہے، ہم سمجھتے ہیں فیصلے سے ہماری سیاست کو نقصان پہنچے گا۔

    سماجی ابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر وفاقی وزیر خزانہ نے لکھا کہ پٹرول کی نئی قیمت 179 روپے 86 پیسے فی لٹر ، ڈیزل کی فی لٹر قیمت 174 روپے 15 پیسے ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) پاکستان کی جانب سے کہا گیا تھا کہ پاکستان کو فیول سبسڈی ختم کرنے پر 90 کروڑ ڈالر قرض کی قسط جاری کرینگے۔

  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان

    لاہور:پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر سبسڈی کے خاتمے سے متعلق اہم فیصلہ آج متوقع ہے۔ اوگرا نے حکومت کو پیٹرولیم مصنوعات پر بڑھتی ہوئی سبسڈی سے آگاہ کر دیا ہے۔ سبسڈی کے خاتمے سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔

    ذرائع کے مطابق حکومت پٹرول پر 29 روپے 60 پیسے فی لٹرسبسڈی دے رہی ہے جو 16 مئی سے 45 روپے 14 پیسے تک پہنچ جائے گی۔ سبسڈی کے مکمل خاتمے سے پٹرول 195 روپے فی لٹر ہو جائے گا۔ ڈیزل پر اس وقت فی لٹر سبسڈی 73 روپے 4 پیسے ہے جو 16 مئی سے 85 روپے 85 پیسے تک پہنچ جائے گی، خاتمے کی صورت میں ڈیزل کی قیمت 230 روپے فی لیٹر تک پہنچ جائے گی۔

    لائٹ ڈیزل آئل پر سبسڈی 64 روپے 70 پیسے ہے اور 16 مئی سے یہ 68 روپےفی لیٹر ہوجائے گی، خاتمے سے لائٹ ڈیزل کی قیمت 186 روپے 31 پیسے ہوجائے گی۔ مٹی کے تیل پر فی لیٹر سبسڈی 43 روپے 16 پیسے ہے جو 50 روپے 44 پیسے ہونے سے مٹی کے تیل کی قیمت 176 روپے ہوجائے گی۔ پٹرولیم مصنوعات پر سبسڈی کے خاتمے اور نئی قیمتوں کے حوالے سے حتمی فیصلہ وزیراعظم کریں گے جس کے بعد وزارت خزانہ نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی۔