Baaghi TV

Tag: ڈیفالٹ

  • دہشتگردی کو واپس لانے والے قوم سے معافی مانگیں، اسحاق ڈار

    دہشتگردی کو واپس لانے والے قوم سے معافی مانگیں، اسحاق ڈار

    سینیٹ اجلاس سے وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ضرب عضب کیلئے ہم نے تمام وسائل فراہم کئے ، ضرب عضب کے بعد ردالفساد آپریشن شروع کیا گیا ، وزارت داخلہ پچھلے 10 سال کا پورا ریکارڈ دے تاکہ پتہ چلے کب کیا ہوا؟

    وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ بد قستمی سے دہشتگردی کے واقعات پھر سے سراٹھا نے لگے ہیں، کیا ہم اندھے ہیں کیوں ہم نے ہجرت کرنیوالے دہشتگردوں سے مذاکرات کئے ،کیوں دہشت گردوں کو واپس لایا گیا کیوں جیلوں سے رہا کرایا گیا ،ہمارے لوگوں کو شہید کیا گیا کیوں ان کو واپس لایا گیا ؟انسداد دہشتگردی کے لئے جو فنڈز خیبرپختونخواہ کو دیے گئے وہ اس مقصد پر خرچ نہیں کیے گئے،باجوڑ میں دلخراش واقعہ کی مذمت کرتے ہیں، دہشتگردی کو واپس لانے والے قوم سے معافی مانگیں،نیشنل ایکشن پلان کے کچھ حصوں پر عملدر آمد نہیں کیا گیا،

    اسحاق ڈارکا کہنا تھا کہ پاکستان ڈیفالٹ کے خطرے سے نکل چکا ہے، ہمارے ملک میں کھربوں روپے کے اثاثے ہیں پاکستان کے پاس دنیا کا سب سے بڑا پائپ لائن نیٹ ورک ہے دنیا کی لمبی گیس کی پائپ لائن پاکستان میں ہے اور 3000 ملین کے ذخائرموجود ہیں، ہمیں دنیا کو دکھانا ہے کہ ہمارے پاس اثاثے ہیں ۔عالمی سطح پر ملکی تشخص بہتر کرنے کیلئے اقدامات کر رہے ہیں

    سینیٹ اجلاس میں پی پی رہنما رضا ربانی اپنی ہی پارٹی پر برس پڑے، بل کی کاپیاں پھاڑتے ہوئے کہا، مجھے پیپلز پارٹی نے سینیٹ میں بھیجا لیکن ایسا لگتا ہے مجھے کسی راجواڑے میں بھیج دیا، میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کا وارث ہوں، ذولفقار علی بھٹو نے یواین میں کہا میرا وقت ضائع مت کرو میں اپنا وقت یہاں ضائع نہیں کرسکتا

    عمران خان پربجلیاں، بشری بیگم کہاں جاتی؟عمران کےاکاونٹ میں کتنا مال،مبشر لقمان کا چیلنج

    اینکر پرسن مبشر لقمان اوورسیز پاکستانیوں کی آواز بننے کے لئے میدان میں آ گئے

     شہبا ز شریف نے جب تک حکومت چلانی اب مولانا نے نخرے ہی دکھانے ہیں

    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل

    ہوشیار۔! آدھی رات 3 بڑی خبریں آگئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

  • ہم  نے تمام فیصلے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے کیے، مریم اور نگزیب

    ہم نے تمام فیصلے ملک کو ڈیفالٹ ہونے سے بچانے کے لیے کیے، مریم اور نگزیب

    وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر بھی سیاست چمکائی جا رہی ہے، ملکی معیشت کو درست سمت میں ڈالنے کے لئے ہم نے مشکل فیصلے کئے،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت نے سستی شہرت لینے کے لئے فیصلے نہیں کئے، 15 ماہ قبل مسلم لیگ (ن) اور اتحادی جماعتوں نے ملک کو بچانے کا فیصلہ کیا، آج ہم سر اونچا کر کے کہہ سکتے ہیں کہ جو فیصلہ کیا ملک کی معیشت کے استحکام کے لئے کیا، جب ہم اقتدار میں آئے تھے ملک دیوالیہ کی نہج پر تھا، نااہلوں اور چوروں نے اپنی سیاست کو بچانے کے لئے ملک کو ڈیفالٹ کے دھانے پر پہنچایا، چیئرمین پی ٹی آئی نے دوست ممالک کے ساتھ تعلقات خراب کئے، نواز شریف آئی ایم ایف کو خیر باد کہہ چکے تھے،پی ٹی آئی نے اپنے ہی دستخط کردہ آئی ایم ایف پروگرام کی خلاف ورزی کی اور اسے معطل کیا، وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی ساکھ بچانے کے لئے آئی ایم ایف کے معطل پروگرام کو بحال کرنے کے لئے دوبارہ بات چیت شروع کی،ہم معیشت کے اندر ان کی بچھائی گئی بارودی سرنگوں کا خاتمہ کریں گے، ہم ملک کو ترقی کی شاہراہ پر لے کر جائیں گے،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی کئی وجوہات ہیں، ہم آئی ایم ایف کے ساتھ اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ میں ہیں، ہم اس انسٹرومنٹ کو استعمال نہیں کر سکتے، نگران سیٹ اپ کا فیصلہ وزیراعظم اور اتحادی جماعتیں کریں گی،

    مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ ریڈیو پاکستان کی نشریات 52 ممالک میں سنی جا سکیں گی، حکومت نے اداروں کو بہتر کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے،الیکٹرانک، پرنٹ اور ڈیجیٹل میڈیا کی مانیٹرنگ کا آغاز کیا تھا یہ سنٹرل مانیٹرنگ سسٹم ہوگا، یہ مانیٹرنگ سسٹم پہلی بار لگایا گیا ہے، پی ایس ڈی پی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے گزشتہ دور میں ریڈیو اور ٹی وی کی نیلامی کی باتیں ہوتی تھیں،

    عمران خان کے فوج اور اُس کی قیادت پر انتہائی غلط اور بھونڈے الزامات پر ریٹائرڈ فوجی سامنے آ گئے۔

    القادر یونیورسٹی کا زمین پر تاحال کوئی وجود نہیں،خواجہ آصف کا قومی اسمبلی میں انکشاف

    سیاسی مفادات کے لئے ملک کونقصان نہیں پہنچانا چاہئے

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • امریکا کے قرضے بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے،ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ

    امریکا کے قرضے بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے،ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ

    واشنگٹن: امریکا کے قرضے بھی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے جس کے بعد امریکہ کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا۔

    باغی ٹی وی : غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا کے قرضے 31.4 کھرب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ ریپبلیکنز کی اکثریت پر مشتمل ایوان نمائندگان اور جوبائیڈن کے درمیان جاری محاذ آرائی کے نتیجے میں ملک پر ڈیفالٹ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔

    کرس ہپکنز نیوزی لینڈ کے نئے وزیرِاعظم نامزد

    نیو یارک ٹائمز کے مطابق برسوں سے، ریپبلکنز نے قرض لینے کی حد کو اٹھانے کے لیے اخراجات میں کٹوتیوں یا دیگر مراعات سے اپنے ووٹوں کی تعداد بڑھانے کی کوشش کی ہے چاہے اس کا مطلب دنیا کے اس یقین کو ختم کرنا ہو کہ امریکہ ہمیشہ اپنے بل ادا کرے گا۔ اب، کانگریس کے ایک چیمبر کے کنٹرول میں، ریپبلکن ایک بار پھر صدر بائیڈن کے مالی مطالبات کرنے کے لیے قرض کی حد سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہیں۔

    ٹریژری سکریٹری جینیٹ ایل یلن نے جمعہ کو متنبہ کیا کہ اگر قانون سازوں نے قرض کی حد کو بڑھانے کے لئے کام نہیں کیا تو انہیں جنوری کے بعد ملک کے بلوں کی ادائیگی جاری رکھنے کے لئے "غیر معمولی اقدامات” کرنے ہوں گے اور یہ کہ جون کے شروع میں ڈیفالٹ میں تاخیر کرنے کے ان کے اختیارات ختم ہوسکتے ہیں۔

    سیکرٹری خزانہ جینٹ یلن نے ایوان کو بتایا کہ ان کے محکمے نےغیر معمولی اقدامات شروع کر دیئے ہیں اور خصوصی کیش مینجمنٹ کے ذریعے ڈیفالٹ کے خطرے کو 5 جون تک روک سکتے ہیں جون کی تاریخ بھی غیر یقینی صورتحال سے مشروط ہے کیونکہ مستقبل میں ادائیگیوں اور حکومتی محصولات کا سامنا بھی رہے گا۔

    برطانوی وزیراعظم کوکارمیں دوران سفرسیٹ بیلٹ نہ باندھنے پرجرمانہ

    قرض کی حد پر لڑائی اس بارے میں بحث کی تجدید کر رہی ہے کہ اگر ریاستہائے متحدہ اپنے بلوں کی ادائیگی کے لیے رقم ادھار لینے سے قاصر رہے تو اس کے اصل نتائج کیا ہوں گے، بشمول وہ بانڈ ہولڈرز جو امریکی ٹریژری کے قرض کے مالک ہیں اور بنیادی طور پر قرض کی ایک لائن فراہم کرتے ہیں۔

    کچھ ریپبلیکنز کا کہنا ہے کہ قرض کی حد کی خلاف ورزی اور نادہندہ ہونے کے اثرات بہت زیادہ ہیں۔ ڈیموکریٹس اور وائٹ ہاؤس متعدد ماہرین معاشیات نےسنگین حالات سے خبردار کرتے ہوئے پیشگوئی کی جن میں بنیادی حکومتی کاموں کا بند ہونا، صحت عامہ کا ایک رکاوٹ کا نظام، اور ایک گہرا اور تکلیف دہ مالیاتی بحران شامل ہے۔

    رواں برس ہی روسی افواج کو یوکرینی علاقوں سے نکالنا بہت مشکل ہے،امریکا

    اسپیکر کیون میکارتھی نے اشارہ دیا کہ وہ اور ان کے ساتھی ریپبلکن اخراجات میں کٹوتیوں اور قومی قرضوں کو کم کرنے کے لیے قرض کی حد کے تعطل کو استعمال کرنے کی کوشش کریں گے انہوں نے کہا کہ قانون سازوں کے پاس بہت امکان ہے کہ وہ موسم گرما کے وقت تک حل تلاش کریں اس سے پہلے کہ ریاستہائے متحدہ میں نقد رقم ختم ہوجائے، ایک حد جسے "X-date” کہا جاتا ہے۔

    مسٹر میکارتھی نے فاکس نیوز پر کہا کہ اس قوم کو لاحق سب سے بڑا خطرہ ہمارا قرض ہے-

  • معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

    معاشی و توانائی بحران کے باعث ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا

    کراچی: بجلی گیس کے بحران، درآمدات پر قدغن، بلند پیداواری لاگت اور سرمائے کی قلت کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں ڈیفالٹ کا خطرہ بڑھ گیا۔آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو ارسال کردہ ہنگامی مکتوب میں انڈسٹری کی نمائندہ انجمن نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ سپلائی چین میں تعطل، سرمائے اور توانائی کی قلت ، خام مال ، پلانٹ مشینری، پرزہ جات کی درآمدات میں مشکلات نے ٹیکسٹائل کی صنعت کو بحران سے دوچار کردیا ہے۔

    خط میں بتایا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل کی صنعت 50فیصد پیداواری گنجائش پر کام کررہی ہے آئندہ ماہ سے ٹیکسٹائل کی ماہانہ برآمدات ایک ارب ڈالر سے بھی کم ہونے کا خدشہ ہے۔

    ایسوسی ایشن نے وزیر اعظم کو مطلع کیا کہ سیلاب سے کپاس کی فصل شدید متاثر ہوئی ٹیکسٹائل انڈسٹری کو ایک کروڑ40لاکھ کپاس کی گانٹھیں درکار ہیں صرف50لاکھ گانٹھیں دستیاب ہیں، زرمبادلہ کے بحران کی وجہ سے کپاس اور دیگر ان پٹس کی درآمد میں مشکلات کا سامنا ہے اس غیریقینی صورتحال میں ایکسپورٹرز نئے برآمدی آرڈرز لینے میں تذبذب کا شکا ر ہیں، روپے کی قدر میں گزشتہ سال کے مقابلے میں 60فیصد تک کمی کی وجہ سے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو سرمائے کی شدید قلت کا سامنا ہے ، ری فنڈز کی بروقت ادائیگیاں نہ ہونے کی وجہ سے انڈسٹری مالی مشکلات کا شکار ہے۔

    اپٹما کے مطابق ان عوامل کی وجہ سے سپلائی چین بری طرح متاثر ہورہی ہے او ر انڈسٹری کی پروڈکشن، آپریشنز اور کیش فلو کو برقرار کھنا دشوار تر ہوگیا ہے۔ ایکسپورٹ انڈسٹری بہت زیادہ دباﺅ کا شکار ہے اور اسے قرضوں کی واپسی میں مشکلات کا سامنا ہے جس سے برآمدی یونٹس کے ڈیفالٹ ہونے کا خطرہ ہے یہ صورتحال ٹیکسٹائل انڈسٹری کی ایکسپورٹ کی گنجائش کو کم کرنے کے ساتھ بینکوں کے لیے بھی بحران کا سبب بن سکتی ہے۔

    اپٹما کے مطابق سندھ کی صنعتوں کے مقابلے میں پنجاب کی صنعتوں کو مہنگی آر ایل این جی دی جارہی ہے جس کی وجہ سے پنجاب کی صنعتوں کے لیے مسابقت دشوار ہوگئی ہے جبکہ نئے آر ایل این جی کنکشنز بھی نہیں دیے جارہے۔ اسی طرح ٹیکسٹائل انڈسٹری کو بجلی کی فراہمی میں بھی تعطل کا سامنا ہے مینٹی نینس کے نا م پر مہینے میں پانچ سے چھ روز بجلی نہیں مل رہی جس سے بجلی پر چلنے والی صنعتوں کی پیداواری گنجائش 25فیصد تک کم ہوچکی ہے، سندھ کے مقابلے میں پنجاب کی ٹیکسٹائل ملوں کو مہنگی بجلی مل رہی ہے۔ اپٹما نے ٹیکسٹائل انڈسٹری میں نئے یونٹس لگنے اور توسیعی منصوبوں کے رک جانے کو بھی صنعت اور پاکستان کی معیشت کے لیے ایک خطرہ قرار دیا۔

    خط میں کہا گیا کہ ٹیکسٹائل کی صنعت نے گزشتہ 2سال کے دوران نئی فیکٹریاں لگانے کے لیے 5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے جن میں سے متعدد فیکٹریاں تکمیل کے قریب ہیں اور مزید زیر تکمیل ہیں ان فیکٹریوں کے لیے درآمد کیے جانے والے پلانٹ مشینری پورٹ سے کلیئر نہیں ہورہے جبکہ اسپیئر پارٹس کی درآمد کے لیے لیٹر آف کریڈٹ نہیں کھولے جارہے اور جو یونٹس نئے قائم ہوئے انہں بجلی اور گیس مہیا نہیں کی جارہی۔ بہت سی فیکٹریوں کے لیے مشینری پورٹ پر آچکی ہے جو کلیئر نہ ہونے سے یہ منصوبے تاخیر او ر التوا کا شکار ہورہے ہیں اور ان کی لاگت بڑھ رہی ہے۔

    اپٹما نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ ٹیکسٹائل صنعت کے بینکوں سے لیے گئے یکم جولائی 2022سے 30جون 2023تک ادائیگیوں کو معطل کیا جائے۔ پورٹ پر جو پلانٹ مشینری پہنچ چکی ہے اسے فی الفور کلیئر کیا جائے نئے اور توسیع کے پراجیکٹس کے لیے آر سی ای ٹی میں توسیع دی جائے۔ جن منصوبوں کے لیے ایل سی کھل چکی ہیں اور بینکوں سے منظوری مل چکی ہے ان کے لیے طویل مدتی قرضوں کی سہولت مہیا کی جائے۔

    خط میں یہ بھی کہاگیاہے کہ ایکسپورٹ یونٹس کو مساوی بنیادوں پر رعایتی ٹیرف پر بجلی گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بناتے ہوئے توانائی کے مسئلے کے حل کے لیے انڈسٹری کے نمائندوں پر مشتمل ٹاسک فورس تشکیل دی جائے۔

  • حکومت قرضے نہیں لے گی تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا۔ عدالت

    حکومت قرضے نہیں لے گی تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا۔ عدالت

    لاہور ہائیکورٹ میں ملکی قرضوں کی تمام تفصیلات عدالت کےسامنے پیش کرنے کی درخواست پرسماعت ہوئی

    عدالت نے وفاقی حکومت کی جواب داخل کرنے کی استدعا منظور کرلی، سرکاری وکیل نے عدالت میں کہا کہ ملکی آمدن کے ساٹھ فیصد سے زائد قرضے لئے گئے۔ درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ حکومت جان بوجھ کر مکمل تفصیلات فراہم نہیں کررہی اور سارا معاملہ چھپایا جا رہا ہے۔ عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت قرضے نہیں لے گی تو ملک ڈیفالٹ کر جائے گا۔ وکیل درخواست گزار نے کہا کہ حکومت مقرر کردہ ساٹھ فیصد سے زیادہ قرضے حاصل کرچکی جسے عدالت سے چھپانا چاہتی ہے۔زبانی جواب کی بجائے عدالت تحریری جواب عدالت طلب کرے

    درخواست گزار منیر احمد کے وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے دلائل دئیے، لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست میں موقف اپنایا گیا کہ قرضوں کی پالیسی کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لیا جانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ زیادہ قرضے لینے کی وجہ سے ملکی معیشت ڈانواں ڈول ہے۔ زیادہ قرضوں کے باعث مہنگائی کا جن بے قابو ہوچکا ہے عدالت قرضوں کی آج تک کی مکمل تفصیلات عدالت پیش کرنے کا حکم دے

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا

  • روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    روس صدی سے زائد عرصےمیں پہلی بارغیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ قرار

    ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے روس کو ڈیفالٹ قرار دے دیا،

    باغی ٹی وی : ” ماسکو ٹائمز” کے مطابق موڈیز ریٹنگ ایجنسی نے تصدیق کی ہے کہ روس صدی سے زائد عرصے میں پہلی بار غیر ملکی قرضوں میں ڈیفالٹ ہوا، ماسکو نے غیرملکی قرضوں کی آخری تاریخ گزر جانے کے باوجود ادائیگی نہیں کی،روس کیلئے سو ملین ڈالر کے 2 بانڈز پر واجب الادا رقم کی آخری تاریخ 27 مئی تھی-

    موڈیز نے پیر کے آخر میں ایک بیان میں کہا کہ "چھوٹ جانے والی کوپن کی ادائیگی ڈیفالٹ ہے۔

    سعودی عرب سفارتی مذاکرات کی بحالی کا خواہش مند ہے،ایران کا دعویٰ

    ماسکو ٹائمز نے بلوم برگ کے حوالے سے بتایا کہ اتوار کی شام تقریباً 100 ملین ڈالر سود پر رعایتی مدت ختم ہونے کے بعد روس نے اپنے غیر ملکی قرضے میں ڈیفالٹ کیا ہے، جو 1918 میں بالشویک انقلاب کے بعد اس طرح کا پہلا ڈیفالٹ ہوگا۔

    کریملن نے پیر کو اپنے بیرونی قرضوں میں نادہندہ ہونے کی خبروں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ادائیگی مئی میں غیر ملکی کرنسی میں کی گئی تھی۔

    کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "حقیقت یہ ہے کہ فنڈز وصول کنندگان کو منتقل نہیں کیے گئے ہیں، یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے۔”

    موڈیز کے تجزیہ کاروں نے پیش گوئی کی ہے کہ روس مزید غیر ملکی قرضوں پر ڈیفالٹ کرے گا۔

    موڈیز نے بیان میں کہا کہ "مستقبل میں کوپن کی ادائیگیوں پر مزید ڈیفالٹس کا امکان ہے۔”

    ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، درجہ بندی کرنے والی ایجنسیاں جو روس کے یوکرین پر حملہ کرنے کے بعد اس سے دستبردار ہوگئیں – یا عدالتیں وہ ادارے ہیں جو عام طور پر مغربی مالیاتی منڈیوں میں ڈیفالٹ کا اعلان کرتے ہیں۔

    تجزیہ کاروں نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ وہ روسی معیشت پر بہت کم قلیل مدتی اثرات دیکھ رہے ہیں، جو مغربی پابندیوں کو کچلنے کے باوجود توانائی کی برآمدات سے جاری ہے۔

    اور اگرچہ اس کی لہر کا اثر 1998 کے مقابلے میں زیادہ محدود ہو سکتا ہےجب روس کومعاشی تباہی کے دوران سرکاری اور نجی قرضوں پر ڈیفالٹ کا سامنا کرنا پڑا، عالمی قرضوں کی منڈی میں کم خطرناک اقدام کرنے کے لیے سرمایہ کاروں پر دباؤ دیگر ابھرتی ہوئی معیشتوں کو ڈیفالٹ کا اعلان کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

    اے پی نے کہا کہ طویل مدتی، روس کو ڈیفالٹ قرار دیے جانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر دوبارہ قرض لینا شروع کرنے میں برسوں لگیں گے۔

    روس کے ڈیفالٹ کو بڑی حد تک عالمی مالیاتی نظام سے اس کی تنہائی کی علامت کے طور پر بیان کیا جاتا ہے اور یوکرین پر اس کے حملے کے لیے مغربی پابندیوں کے نتیجے میں بین الاقوامی تجارتی اور مالیاتی تعلقات میں خلل پڑتا ہے-

    امریکا میں ٹرک سے 46 افراد کی لاشیں برآمد

  • موجودہ حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونےسے بچایا، وفاقی وزیر خزانہ

    موجودہ حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونےسے بچایا، وفاقی وزیر خزانہ

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا کہ اگر عالمی منڈی میں تیل کی قیمت مزید بڑھی تو حکومت کے پاس نقصان برداشت کرنے کے لیے پیسے نہیں ہیں،

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا نجی ٹی وی کے پروگرام میں کہنا تھا کہ پاور پلانٹ بند پڑے ہیں اور صلاحیت بھی پوری نہیں اس لیے لوڈ شیڈنگ ہورہی ہے ،نئے بجٹ میں نوکری پیشہ افراد پر نہیں اشرافیہ پر ٹیکس لگے گا دفاعی بجٹ معمول کے مطابق بڑھے گا اور آمدنی کے حساب سے ٹیکس لیں گے موجودہ حکومت نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونےسے بچایا ہے، عمران حکومت نے 20 ہزار ارب روپے کا قرضہ لیا، عمران خان جان بوجھ کر ہمارے لیے مشکلات پیدا کرکے گئے ہیں

    وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ارکان قومی اسمبلی میں تو اپنی تنخواہیں بھی چھوڑنے کو تیار نہیں اسمبلیوں میں آنہیں رہے لیکن تنخواہیں پوری وصول کر رہے آئی ایم ایف سے پٹرولیم مصنوعات مہنگا کرنے کا معاہدہ بھی عمران حکومت نے ہی کیا اگلے سال 21 ارب ڈالرز قرضے کی مد میں واپس کرنے ہیں

    پٹرول ذخیرہ کرنے والوں کوکس کی پشت پناہی حاصل ہے؟ قادر پٹیل

    ‏جیسا مافیا چاہتا تھا ویسا نہیں ملا ، وسیم بادامی کا پٹرول کی قیمتوں میں اضافے پر تبصرہ

    ہارن بجاؤ، حکمران جگاؤ، وزیراعظم ہاؤس کے سامنے ہارن بجا کر احتجاج کا اعلان ہو گیا

    وزیراعظم نے مافیا کے آگے ہتھیار ڈال دیئے،مثبت اقدام نہیں کر سکتے تو گھر جانا ہو گا، قمر زمان کائرہ

    جنوری کے مقابلے میں پٹرول اب بھی 17 روپے سستا ہے،عمر ایوب کی انوکھی وضاحت

    پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ عدالت میں چیلنج

    پٹرول کی قیمت 30 روپے مہنگی،تحریک انصاف نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا