Baaghi TV

Tag: ڈیلٹا

  • ڈیلٹا ایئر لائن کے طیارے کا ٹائر پھٹنے سے دو افراد کی موت

    ڈیلٹا ایئر لائن کے طیارے کا ٹائر پھٹنے سے دو افراد کی موت

    ڈیلٹا ایئر لائنز کے طیارے کا ٹائرپھٹنے سے دو مزدور ہلاک ہو گئے ہیں، ایک مزدور کی شناخت جسم پر بنے ٹیٹو سے کی گئی

    ڈیلٹا ایئر لائنز کے ایک کارکن جو اٹلانٹا میں ایئر لائن کا ٹائر پھٹنے سے مر گیا اس کو ایسی تباہ کن چوٹیں آئیں کہ اس کا جسم "ناقابل شناخت”ہو گیا، اس کے غمزدہ بیٹے کے مطابق، اس کے خاندان کو اس کے ٹیٹو کے ذریعے اس کی شناخت کرنی پڑی۔آندرے کولمین نے کہا کہ ان کے خاندان نے ان کے والد میرکو مارویگ،جن کی عمر 58 برس تھی، کی شناخت کرنے میں مدد کی، حادثہ منگل کو پیش آیا جس میں ایئر لائن کے دو کارکن مارے گئےتھے،ہلاک ہونےوالے کے بیٹے کا کہنا تھا کہ "میں لاش دیکھنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے یقین نہیں تھا کہ یہ سچ ہے۔ نہ ہی میری ماں نے یقین کیا لیکن ہم نے لاش دیکھی تو ناقابل شناخت تھی، جسم بری طرح مسخ ہو گیا تھا، تا ہم انکے جسم پر بنے ٹیٹوسے ہم نے اپنے والد کی لاش کی شناخت کی،ٹیٹو اس کی گردن پر بنا ہوا تھا

    مارویگ، ایک ایئر فورس کا تجربہ کار اور کام کرنے والا جسے اس کے خاندان نے "مسٹر۔فکس اٹ، کا نام دے رکھا تھا اپنے ساتھی کارکن، 37 سالہ لوئس کے ساتھ حادثے میں مارا گیا تھا جبکہ ایک اور دیکھ بھال کرنے والا کارکن شدید زخمی ہو گیا تھا،کولمین نے کہا کہ وہ اس واقعے سے صرف دو دن پہلے اپنے والد کے ساتھ تھا، میرے والد ایک حیرت انگیز آدمی، شاندار والد، شاندار شوہر تھے۔

    ڈیلٹا کے ٹیک اوپس چیف آف آپریشنز نے منگل کو مارویگ اور الدارونڈو کی موت کے بعد بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ حادثے میں دو کارکنان کی موت ہوئی جبکہ ایک زخمی ہوا،یہ خبر ہم سب کے لیے دل دہلا دینے والی ہے۔”حادثہ کیسے پیش آیا اس پر تحقیقات جاری ہیں،کمپنی نے کہا کہ وہیل کے پرزے جنہیں دیکھ بھال کے لیے الگ کیا جا رہا تھا وہ دھماکے کے وقت طیارے سے منسلک نہیں تھے۔جو ٹائر پھٹا وہ اس طیارے کا تھا جس نے اتوار کی رات لاس ویگاس سے اٹلانٹا کا سفر کیا تھا۔

    صحافی کی تعریف کیا ہے؟ قائمہ کمیٹی نے بریفنگ مانگ لی

    آدھی سے زیادہ عوام بھوک سے مر رہی مگر آبادی پر کنٹرول نہیں کرنا چاہتے،وزیر قانون

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    بلوچستان میں دہشتگردانہ حملے اور بھارتی میڈیا کا شرمناک کردار بے نقاب

    وقت آ گیا ہے دہشت گردوں کا مکمل خاتمہ کیا جائے،وزیراعظم

    بلوچستان میں دو بھائیوں سمیت لیہ کے 4 شہری نشانہ بنے

    بلوچستان، 21 دہشت گرد جہنم واصل،14 جوان شہید

    بلوچستان،جوابی کاروائی میں 12 دہشت گرد جہنم واصل

    قلات :فائرنگ سے پولیس انسپکٹر،لیویز اہلکاروں سمیت 10 کی موت

    بارکھان،راڑہ شم کے مقام پر بسوں سے اتار کر 23 افراد قتل،10 گاڑیاں نذر آتش

  • بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی

    بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی

    نئی دہلی: بھارت پھرتباہی کے دہانے پر پہنچ گیا:ایک دن میں کورونا وائرس کے تین لاکھ کیسز:مودی حکومت بے بس ہوگئی ،اطلاعات کے مطابق مسلسل چار دنوں سے کووڈ19 کی تیسری لہر سے گزر رہے ملک میں کورونا وائرس کے دو لاکھ سے زیادہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جس سے ایکٹیو کیسز کی تعداد 15 لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے

    اسی دوران ملک میں ہفتہ کے روز 66 لاکھ 21 ہزار 395 افراد کو کووڈ ویکسین لگائی ی ،اتوار کی صبح 7 بجے تک موصول ہونے والے اعداد و شمار کے مطابق اب تک ایک ارب 56 کروڑ 76 لاکھ 15 ہزار 454 افراد کو کووڈ ویکسین دی جا چکی ہے

    اتوار کی صبح مرکزی وزارت صحت کی طرف سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 16 لاکھ 65 ہزار 404 کووڈ ٹسٹ کیے گئے جن میں دو لاکھ 71 ہزار 202 افراد کی رپورٹ مثبت آئی ہے جس سے متاثرین کی مجموعی تعداد بڑھ کر تین کروڑ 71 لاکھ 22 ہزار 164 ہو گئی ہے۔

    اس سے قبل جمعرات کو دو لاکھ 47 ہزار 417، جمعہ کو دو لاکھ 64 ہزار 202 اور ہفتہ کو دو لاکھ 68 ہزار 833 کیسز درج کیے گئے تھے۔

    اس کے ساتھ ہی ایکٹیو کیسز کی تعداد بڑھ کر 15 لاکھ 50 ہزار 377 ہو گئی ہے۔ اسی عرصے میں مزید 314 مریضوں کی موت کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 4,86,066 ہو گئی ہے۔

    دنیا بھر میں کرونا سے متاثرین کی تعداد326,885,054ہو چکی ہے اور اس سے اموات کی تعداد 55 لاکھ چون ہزار سے تجاوز کرچکی ہے

    دنیا بھر میں پھیلی وبا کورونا کے دو نئے علاج کی منظوری دے دی گئی ہے۔برٹش میڈیکل جرنل کے ماہرین کہتے ہیں جوڑوں کے درد کی دوا باریسیٹی نیب (baricitinib) کورٹیکو اسٹیرائیڈز (corticosteroids) کے ساتھ کورونا سے شدید متاثر مریضوں کے علاج کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے جس سے زندہ رہنے کے امکانات میں اضافہ اور وینٹی لیٹر کی ضرورت کم ہوتی ہے۔

    ماہرین نے کم مدافعت رکھنے والےافراد کے لیے مصنوعی اینٹی باڈی ٹریٹمنٹ سوٹرو ویمیب (Sotrovimab) کی بھی سفارش کی ہے۔

    تاہم ڈبلیو ایچ او کے حکام کا کہنا ہے کہ اومی کرون کے خلاف اس علاج کی تاثیر ابھی تک غیر یقینی ہے

  • اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے

    تل ابیب :اسرائیل میں اومی کرون کی نئی قسم سامنے آگئی:یہودیوں پرخوف کے سائے منڈلانے لگے ،اطلاعات کے مطابق رپورٹ کے مطابق اسرائیل میں کووڈ 19 کے ویرئنٹ اومی کرون کی جدید شکل کے 20 مریض پائے گئے ہیں۔ اس نئے ویرئنٹ کو ” بی اے ٹو” کا نام دیا گیا ہے۔

    ریسرچرزکا کہنا ہے کہ کووڈ 19” بی اے ٹو” وائرس میں اورجنل اومیکرون کی نسبت زیادہ میوٹیشنز پائی گئی ہیں اور یہ ممکنہ طور پر زیادہ مہلک ہوسکتا ہے۔ تاہم اسرائیل کی وزارت صحت کاکہنا ہے کہ ابھی اس کا کوئی ثبوت نہیں کہ ” بی اے ٹو” ویرئنٹ کورونا وائرس کی مہلک شکل ہے۔

    جے پوسٹ کے مطابق ” بی اے ٹو” کا سب سے پہلے چین میں انکشاف ہوا تھا جہاں یہ ممکنہ طور پر بھارت سے آیا تھا۔ یاد رہے گذشتہ دس دنوں سے اسرائیل میں روزانہ 12 ہزار سے 48 ہزار کوروناکے مریض سامنے آرہے ہیں جبکہ خطرناک حالت کے مریضوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہورہاہے۔

    اسرائیلی محکمہ صحت کے حکام کا کہناہے کہ کورونا کی پہلی، دوسری اور تیسری لہروں کے مقابلے میں موجودہ لہر سے متاثرہ مریضوں کی حالت بہتر ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے اسرائیل میں کرونا وائرس نے ایک اور شکل اختیار کر لی ہے جو کووِڈ نائٹین اور عام فلو کے وائرس کے امتزاج سے چند دن قبل سامنے آئی تھی

    تفصیلات کے مطابق ایک ایسے وقت میں جب دنیا کرونا کی مختلف اقسام ڈیلٹا اور اومیکرون سے نبرد آزما ہے، اسرائیل میں کرونا وائرس اور فلو انفیکشن کے پہلے مشترکہ ‘فلورونا’ کیس کی تصدیق ہوئی ۔

    ڈیلٹا اور اومیکرون کے امتزاج کو ‘ڈیلمیکرون’ کہا جاتا ہے، اس کے کیسز بھی اسرائیل میں سامنے آئے، جب کہ اسرائیل میں سامنے آنے والے کرونا وائرس اور فلو انفیکشن کے امتزاج کو ‘فلورونا’ کا نام دیا گیا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا کے مطابق پہلا ‘فلورونا’ وائرس ایک خاتون میں پایا گیا، جس نے حال ہی میں وسطی اسرائیل کے شہر پیتاہ تکوا کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نوجوان خاتون کو ویکسین نہیں لگائی گئی تھی اور اسپتال کی رپورٹس میں فلو اور کرونا وائرس دونوں پیتھوجینز کی مشترکہ موجودگی کا پتا چلا تھا۔خاتون میں بیماری کی نسبتاً ہلکی علامات ہیں اور اسے جلد ہی ڈسچارج کر دیا جائے گا۔

  • بچ جاو:بچالو:احتیاط اپنالو:اومیکرون نہیں چھوڑے گا:    بوسٹر شاٹ بھی نہیں بچا پائےگا:ڈاکٹروں کی وارننگ

    بچ جاو:بچالو:احتیاط اپنالو:اومیکرون نہیں چھوڑے گا: بوسٹر شاٹ بھی نہیں بچا پائےگا:ڈاکٹروں کی وارننگ

    بیجنگ :بچ جاو:بچالو:احتیاط اپنالو:ورنہ اومیکرون کسی کو نہیں چھوڑے گا:بوسٹر شاٹ بھی نہیں بچا پائے گا’:ڈاکٹروں کی وارننگ ،اطلاعات کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی ہوئی رفتار کے ساتھ اس کی نئی قسم اومیکرون کے کیسز میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔

    ایک طرف جہاں اومیکرون سے بچاو کے لیے حکومتیں بوسٹر شاٹس لگانے پر زور دے رہی ہیں تو وہیں ایک اعلیٰ طبی ماہ نے دنیا کے لیے خطرے کی انتباہی گھنٹی بجا دی ہے۔

    انڈین کونسل فار میڈیکل ریسرچ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایپیڈیمولاجی میں سائنٹیفک ایڈوائزری کمیٹی کے چیئرمین ڈاکٹر جے پرکاش مولائل کا کہنا ہے کہ اومیکرون ویریئنٹ کو روکا نہیں جا سکتا، تقریباً ہر کوئی اس سے لازمی متاثر ہوگا۔

    ڈاکٹر جے پرکاش نے دعویٰ کیا کہ کورونا ویکسین کی بوسٹر خوراک یا احتیاطی خوراک بھی اس پر کام نہیں کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ اومیکرون خود کو زکام کے طور پر پیش کر رہا ہے۔مولائل نے اومیکرون انفیکشن کے بارے میں کئی چونکا دینے والے دعوے کیے ہیں۔

    انہوں نے زور دے کر کہا کہ اب کووڈ 19 کوئی خوفناک بیماری نہیں ہے کیونکہ کورونا کا نیا ویریئنٹ بہت ہلکا ہے۔ اس سے اسپتال میں داخل ہونے کے نوبت بھی کم آرہی ہے۔

    وہ کہتے ہیں کہ اومیکرون ایک ایسی بیماری ہے جس سے ہم نمٹ سکتے ہیں۔ ہم میں سے 80 فیصد لوگوں کو یہ بھی معلوم نہیں ہوگا کہ ہم اس سے متاثر ہوئے ہیں۔انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انفیکشن کے ذریعے قدرتی طور پر حاصل کی گئی قوت مدافعت زندگی بھر رہ سکتی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ویکسین آنے سے پہلے ہی بھارت کی 85 فیصد آبادی کورونا سے متاثر ہو چکی تھی۔ ایسی صورتحال میں کورونا ویکسین کی پہلی خوراک نے بوسٹر ڈوز کا کام کیا۔

    ڈاکٹر جے پرکاش نے کہا کہ دنیا بھر میں یہ خیال کیا جاتا ہے قدرتی طور پر ہونے والا انفیکشن مستقل طور پر امیونٹی نہیں دیتا، لیکن میں مانتا ہوں کہ یہ غلط ہے۔

    ڈاکٹر جے پرکاش مولائل نے کہا کہ صرف دو دنوں میں کورونا وائرس کا پھیلاو دوگنا ہو رہا ہے۔ ایسی صورت حال میں جب تک کورونا ٹیسٹ سے اس کے بارے میں پتہ چلے گا، متاثرہ شخص پہلے ہی بہت سے لوگوں کو متاثر کر چکا ہوگا۔

    لاک ڈاؤن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ہم زیادہ دیر تک گھر میں بند نہیں رہ سکتے۔ یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ڈیلٹا ویرئنٹ کے مقابلے اومیکرون کافی ہلکا ہے۔

  • کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے ڈرا دیا

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے ڈرا دیا

    واشنگٹن :کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون،فلورونا کے بعد ڈیلٹا کرون:نیاوائرس کتنا خطرناک ہے ماہرین نے ڈرا دیا ،اطلاعات کے مطابق سائنسدانوں نے عالمی وبا کورونا کی نئی قسم دریافت کرلی اور اسے ’ڈیلٹا کرون‘ کا نام دیا گیا ہے۔

    کورونا وائرس کے حوالے سے آئے روز نت نئے انکشافات سامنے آتے رہتے ہیں اور دنیا بھر سے اب تک اس کی درجنوں نئی اقسام سامنے آچکی ہیں اور کچھ پر اب بھی بحث جاری ہے جو بہت تیزی سے دنیا بھر میں پنجے گاڑ رہے ہیں۔

    ڈیلٹا وائرس کے بعد کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ اومیکرون دنیا بھر میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور اب ایسا دکھائی دے رہا ہے کہ ان دونوں وائرس نے ملکر ایک نئے وائرس کو جنم دیا ہے جسے ماہرین نے ’ڈیلٹا کرون‘ کا نام دیا ہے۔

    رپورٹس کے مطابق جزیرہ قبرص میں کورونا وائرس کا نیا ویرینٹ سامنے آیا ہے جو ڈیلٹا اور اومیکرون کا مجموعہ ہے کیوں کہ اس کا جینیاتی پس منظر ڈیلٹا وائرس سے ملتا جلتا ہے اور اس میں کچھ نمونے اومیکرون وائرس کے بھی پائے جاتے ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق قبرص میں 25 لوگوں کے نمونے لیے گئے جن میں سے 11 ان لوگوں سے لیے گئے جو کورونا وائرس کے باعث اسپتالوں میں زیر علاج ہیں اور 14 عام عوام سے لیے گئے اور ان تمام میں 10 نمونوں میں اومیکرون کی اقسام پائی گئی۔

    دوسری جانب قبرص یونیورسٹی کے پروفیسر لیونڈیوس کوسٹریکس نے کہا کہ یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ ’ڈیلٹا کرون‘ کتنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم مستقبل میں دیکھیں گے کہ آیا یہ نیا ویرینٹ ڈیلٹا وائرس اور اومیکرون پر غالب آئے گا یا نہیں ، لیکن میرا ذاتی خیال ہے کہ ایسا نہیں ہوگا اور اومیکرون کے بڑی مقدار میں پھیلاؤ کے باعث یہ گم ہوجائے گا۔

    قبرص کے وزیر صحت نے کورونا کے نئے ویرینٹ سے متعلق بیان دیتے ہوئے کہا کہ ’ڈیلٹا کورون‘ سے گبھرانے کی ضرورت نہیں اور انہوں نے کورونا کے نئے ویرینٹ کی دریافت پر سائسندانوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس تحقیق کی وجہ سے ہمارے ملک کی عزت میں اضافہ ہوگا۔

    خیال رہے کچھ ہفتے قبل فرانس میں بھی اومیکرون کے نئے ویرینٹ کی تشخیص ہوئی تھی جسے ’آئی ایچ یو‘ کا نام دیا گیا تھا اور ابتدائی طور پر 12 لوگوں میں اس ویرینٹ کی موجودگی کا انکشاف ہوا تھا۔تاہم عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ آئی ایچ یو کی شکل پہلی بار شناخت ہونے کے بعد سے زیادہ خطرہ نہیں بنی ہے۔

    اس کے علاوہ اسرائیل میں بھی وائرس نے نئی شکل اختیار کی تھی جسے ’فلورونا‘ کا نام دیا گیا تھا۔ دراصل اسرائیل میں کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کا کیس سامنے آنے پر یہ نام تجویز کیا گیا۔

    ماہرین نے ’فلورونا‘ کیسز میں اضافے کا امکان بھی ظاہر کیا تھا تاہم اس بات پر سب متفق ہیں کہ یہ تمام اقسام زیادہ خطرناک نہیں اور نہ ہی اومیکرون کی طرح تیزی سے پھیل سکتی ہیں۔

    واضح رہے اومیکرون کے دنیا بھر میں تیزی سے پھیلاؤ تمام ریاستوں کو ایک بار پھر لاک ڈاؤن کے نفاذ پر مجبور کررہی ہیں تاہم بھارت سمیت چند ممالک نے فی الحال اپنے شہریوں پر کرفیو اور دیگر پابندیاں عائد کی ہیں جس میں آئے روز سختی کی جارہی ہے۔

  • کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون شروع

    کورونا،ڈیلٹا،اومی کرون اوراب فلورونا:بھارت کے بندہونے کا خطرہ:دہلی میں لاک ڈاون شروع

    نئی دہلی. ملک میں کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے ایک بار پھر پابندیوں کا دور شروع ہو گیا ہے۔ خود راجدھانی دہلی میں بھی مسلسل بڑھتے ہوئے کورونا کیسز کے پیش نظر پابندیاں دوبارہ سخت کر دی گئی ہیں۔

    اس کے تحت ویک اینڈ لاک ڈاؤن نافذ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سرکاری دفاتر میں گھر سے کام کا نفاذ عمل میں لایا گیا ہے جبکہ پرائیویٹ دفاتر میں اہلکاروں کی حاضری پچاس فیصد رکھی گئی ہے۔

    ہلاکت خیز کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کو دیکھتے ہوئے دہلی حکومت نے ویک اینڈ کرفیو نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت ہفتہ اور اتوار کو رات کے کرفیو کے علاوہ دن کا کرفیو بھی ہوگا

    دہلی کے نائب وزیر اعلیٰ منیش سسودیا نے منگل کو یہ اطلاع دی انہوں نے کہا کہ ویک اینڈ کرفیو لگانے کا فیصلہ ڈی ڈی ایم اے کے اجلاس میں کیا گیا انہوں نے کہا کہ ضروری خدمات کے علاوہ باقی سب پر کرفیو کا نفاذ ہوگا

    انہوں نے کہا کہ میٹرو اور بس کو 50 فیصد گنجائش پر چلانے کے فیصلے کے بعد دیکھا گیا کہ بس اسٹاپ اور میٹرو اسٹیشن کے سپر اسپریڈر بننے کاخدشہ ہے اس لیے اب بس اور میٹرو صد فیصد گنجائش کے ساتھ چلانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بس اور میٹرو میں ہر ایک کے لیے ماسک پہننا لازمی ہو گا۔

    نائب وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے اب گھر سے کام کریں گے، جب کہ 50 فیصد صلاحیت کے ساتھ پرائیویٹ دفاتر کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اور ضرورت کے وقت ہی گھروں سے باہر نکلیں۔ کورونا کے گائیڈ لائن پر سختی سے عمل کریں اور ماسک پہنیں۔

    ممبئی میں بھی کورونا کیسز میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ اس کے پیش نظر ممبئی کے میئر کشاری پیڈنیکر نے واضح کیا ہے کہ اگر کیس 20 ہزار سے اوپر جاتے ہیں تو لاک ڈاؤن نافذ کر دیا جائے گا۔ یہاں وبا کی وجہ سے کچھ عرصہ قبل کھلنے والے سکول دوبارہ بند کیے جا رہے ہیں۔

    مہاراشٹر میں بڑھتے ہوئے کیسز کی وجہ سے اسکولوں کو ایک بار پھر بند کرنا پڑا ہے۔ ایک طالب علم کی ماں نے بتایا کہ انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ اسکول بند کر دیا گیا ہے۔ سمارٹ فون نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بیٹا آن لائن کلاسز لینے سے قاصر ہے۔ اس سے اس کی پڑھائی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ دہلی میں بڑھتی سردی اور کورونا کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے اسکول پہلے ہی بند کر دیے گئے ہیں۔

    دہلی میں اومیکرون کے بڑھتے ہوئے کیس بھی اس کی وجہ بن گئے ہیں۔ ملک میں جس طرح سے کورونا کیسز بڑھ رہے ہیں، اس کا نیا ویریئنٹ اومیکرون بھی اس میں شامل ہے۔ اس کی منتقلی کی رفتار اب تک سامنے آنے والے تمام ویریئنٹس سے بہت زیادہ ہے۔

    تاہم، دہلی میں ایمس نے اپنے تمام فیکلٹی ممبران کو فوری طور پر ڈیوٹی میں شامل ہونے کو کہا ہے۔ ایمس نے موسم سرما کی چھٹیوں کے باقی دنوں (5 جنوری سے 10 جنوری) کو بھی منسوخ کر دیا ہے۔

  • اسرائیل میں‌ کورونا ایک اور خطرناک شکل سامنے آگئی

    اسرائیل میں‌ کورونا ایک اور خطرناک شکل سامنے آگئی

    تل ابیب :اسرائیل میں‌ کورونا ایک اور خطرناک شکل سامنے آگئی،اطلاعات کے مطابق کورونا کی مزید شکلیں سامنے آرہی ہیں اور جو ماہرین نے خدشات ظاہر کیے تھے کہ سات سال تک کورونا مختلف انداز میں حملہ آور ہوتا رہے ان دعووں کی تصدیق میں قوت پیدا ہوتی جارہی ہے ، ادھر اسرائیل میں کورونا وائرس نے نئی شکل اختیار کرلی، پہلا کیس رپورٹ

    ابھی دنیا بھر میں کورونا کے نئے ویریئنٹ اومیکرون کے تابڑ توڑ حملے جاری ہیں کہ اسرائیل میں کورونا نے ایک نئی شکل اختیار کرلی۔اسرائیل میں کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کا پہلا مشترکہ کیس سامنے آیا ہے جسے ’’فلورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے۔

     

     

    سعودی اخبار عرب نیوز کے مطابق اسرائیلی طبی حکام نے پہلے فلورونا کیس کی تصدیق بھی کی ہے۔مذکورہ فلورونا وائرس ایک خاتون میں پایا گیا ہے جس نے حال ہی میں وسطی اسرائیل کے شہر پیتاہ تکوا کے ایک اسپتال میں بچے کو جنم دیا تھا۔

    نوجوان خاتون کو کورونا ویکسین نہیں لگائی گئی تھی۔ خاتون کی میڈیکل رپورٹس میں فلو اور کورونا وائرس دونوں کے پیتھو جینز کی مشترکہ موجودگی کا پتا چلا ہے۔

    اسرائیل میں سامنے آنے والے کورونا وائرس اور فلو انفیکشن کے امتزاج کو ’’فلورونا‘‘ کا نام دیا گیا ہے جبکہ ڈیلٹا اور اومیکرون کے امتزاج کو ’’ڈیلمیکرون‘‘ کہا جا رہا ہے۔

  • اومیکرون اور ڈیلٹا کی سونامی کاایسا طوفان آنے والاہےکہ دنیاکانظام صحت زمین بوس ہوجائےگا:عالمی ادارہ صحت

    اومیکرون اور ڈیلٹا کی سونامی کاایسا طوفان آنے والاہےکہ دنیاکانظام صحت زمین بوس ہوجائےگا:عالمی ادارہ صحت

    جنیوا:ڈیلٹا اوراومیکرون کی سونامی کا ایسا طوفان آنے والا ہے کہ دنیا کا نظام صحت زمین بوس ہوجائے گا:عالمی ادارہ صحت کی وارننگ ،اڈبلیو ایچ او کے سربراہ ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریئس نے دنیا کو کورونا کی وبا پر خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈیلٹا اور اومیکرون کی مختلف اقسام کا ایسا سونامی آئے گا کہ صحت کا نظام تباہی کے دہانے پر پہنچ جائے گا۔گیبریئس نے کہا – دنیا کا نظام صحت اسی طرح اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کر رہا ہے۔

    اس کے بعد ڈیلٹا اور اومیکرون جیسے دونوں خطرات انفیکشن کے اعداد و شمار کو ریکارڈ بلندی تک لے جائیں گے۔ اس سے اسپتال میں داخل ہونے اور اموات میں اضافہ ہوگا۔ ڈبلیو ایچ او کے سربراہ نے کہا کہ گزشتہ ہفتے کورونا کے عالمی کیسز کی تعداد میں 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

    بدھ کے روز امریکہ اور فرانس میں روزانہ کیسز میں ریکارڈ اضافہ درج کیا گیا ہے۔ میں اومی کرون کے بارے میں بہت فکر مند ہوں، یہ بہت تیزی سے پھیلتا ہے اور یہ ڈیلٹا کے ساتھ پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔

    ڈبلیو ایچ او کی چیف سائنٹسٹ سومیا سوامی ناتھن نے کہا ہے کہ موجودہ ویکسین اومیکرون کے خلاف اب بھی موثر ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جسم میں موجود ٹی سیل امیونٹی نئے قسم کا مقابلہ کرنے کے قابل ہے۔ انہوں نے کہا، ‘ایسا لگتا ہے کہ ویکسین اب بھی کارآمد ثابت ہو رہی ہے۔

    تاہم، مختلف ویکسین کا اثر مختلف ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ہنگامی استعمال کی فہرست میں شامل زیادہ تر ویکسین سنگین بیماری کو روکنے اور ڈیلٹا ویرینٹ کے خلاف تحفظ فراہم کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

    ڈبلیو ایچ او کے وبائی امراض کے ماہر مائیک ریان نے بدھ کو کہا کہ کورونا وبا کی ہولناکی اگلے سال ختم ہو سکتی ہے۔ تاہم کورونا وائرس دنیا سے ختم نہیں ہوگا۔اعلی ہنگامی ماہر ریان نے کہا کہ اومی کرون مختلف قسم کے بارے میں کوئی نتیجہ اخذ کرنا بہت جلد ہے۔ اس قسم کے بزرگوں میں پھیلنے کے بعد ہی مزید معلومات سامنے آئیں گی۔

  • امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ

    واشنگٹن:امریکی مسافرطیاروں میں لڑائی معمول بن گئی:تازہ واقعہ میں مسافرکا ایئرمارشل اورفلائٹ اٹینڈنٹ پرحملہ ،اطلاعات کے مطابق ڈی سی سے لاس اینجلس جانے والی ڈیلٹا فلائٹ 342 کو کل رات اوکلاہوما سٹی کی طرف موڑنا پڑا جب ایک مرد مسافر نے فلائٹ اٹینڈنٹ اور ایک فیڈرل ایئر مارشل پر حملہ کیا ۔

    "رونالڈ ریگن واشنگٹن نیشنل ہوائی اڈے سے لاس اینجلس کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کی پرواز کے دوران، ایک مسافر سیکورٹی خدشات کا باعث بن گیا اور پرواز کو اوکلاہوما سٹی کے ول راجرز ورلڈ ہوائی اڈے کی طرف موڑ دیا گیا۔ پرواز کو تفویض کردہ فیڈرل ایئر مارشلز نے پرواز کے عملے اور مسافروں کی حفاظت اور حفاظت کے لیے مداخلت کی، "ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) نے ایک ای میل بیان میں تصدیق کی۔

    امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایجنسی (FAA) کا کہنا ہے کہ ایسے لگتا ہے کہ جیسے کورونا نے انسانوں کے رویے ہی بدل دیئے جب سے کورونا وائرس انسانوں پراثراندازہوا ہے انسانوں میں ضبط اور تحمل نام کی چیز باقی نہیں رہی یہی وجہ ہے کہ امریکی مسافرطیاروں میں‌ صرف 2021 میں بے قابو مسافروں کی 5,550 سے زیادہ رپورٹیں دی تھیں۔

    سب سے زیادہ سنگین واقعات میں سے: مارچ میں الاسکا ایئر لائنز کی پرواز میں، کولوراڈو کا ایک شخص جس نے چہرے کا ماسک پہننے سے انکار کر دیا تھا، یہ مسافر پہلے فلائٹ اٹینڈنٹ کے پاس گیا، پھر کھڑا ہو کر اپنی سیٹ ایریا میں پیشاب کردیا ، جسے سب دیکھتے ہی رہ گئے ۔ مئی میں، جیٹ بلیو کے ایک مسافر نے جیٹ بلیو فلائٹ اٹینڈنٹ کا اسکرٹ اوپر کر دیا۔ اسی مہینے، ساؤتھ ویسٹ ایئرلائنز کے ایک مسافر نے فلائٹ اٹینڈنٹ کے دانت نکال دیےصرف اس وجہ سے نکال دیئے کہ اس نے سیٹ بیلٹ باندھنے کی درخواست کی تھی

    خلل ڈالنے والے اور بعض اوقات پرتشدد مسافروں کے واقعات ایئر لائن کے کاروبار کے لیے بہت خراب ہیں۔ 10 میں سے 4 یعنی 40 فیصد صارفین کا کہنا ہے کہ انہوں نے فضائی غصے کے واقعات کے خدشات کی وجہ سے کم سفر کیا ہے، اور تقریباً دو تہائی یعنی 63 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ اپنی اگلی پرواز میں بے قابو مسافروں کے بارے میں کم از کم قدرے فکر مند ہیں۔ مارننگ کنسلٹ کی تازہ ترین اسٹیٹ آف ٹریول اینڈ ہاسپیٹلیٹی رپورٹ کے مطابق، پانچ میں سے ایک یعنی 21 فیصد بہت یا انتہائی فکر مند ہے۔

    اس رپورٹ میں‌ یہ بھی انکشاف کیا گیاہے کہ 59 فیصد بڑے افراد ہوائی غصے کے واقعات میں اضافے کے لیے ناگوار مسافروں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں، لیکن ٹھوس 22 فیصد ایئر لائنز یا ان کے ملازمین کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ دس میں سے ایک بالغ (ینعی گیارہ فیصد ٹرانسپورٹیشن سیکیورٹی ایڈمنسٹریشن (TSA) یا دیگر ہوائی اڈے کے حکام کو قصوروار ٹھہراتا ہے۔

    تاریخی طور پر، فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے بے قابو مسافروں کے واقعات کو انتباہات اور سول جرمانے کے ساتھ ہینڈل کیا ہے۔ جنوری میں، ایجنسی نے خلل ڈالنے والے مسافروں کے لیے سخت، صفر رواداری کی پالیسی اپنائی۔ اگست تک، FAA نے ہوائی مسافروں کے خلاف 1 ملین ڈالر سے زیادہ سول جرمانے کی تجویز پیش کی تھی۔

    لیکن بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ سول جرمانے کافی نہیں ہیں اور اس مسئلے کا مجموعی ردعمل بہت سست رہا ہے۔ پچھلی موسم گرما میں، ایئر لائن انڈسٹری نے امریکی اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ کی سربراہی میں محکمہ انصاف سے مجرموں کو قید کی سزا دینے کا مطالبہ کیا ہے۔