Baaghi TV

Tag: ڈیلی ویجز

  • ڈیلی ویجزملازمیں عید پربھی تنخواہیں نہ مل سکیں

    ڈیلی ویجزملازمیں عید پربھی تنخواہیں نہ مل سکیں

    راولپنڈی محکمہ سوئی گیس کے ڈیلی ویجز ملازمین کو عید پر بھی تنخواہیں نہ مل سکیں،اطلاعات کے مطابق ڈیلی ویجز ملازمین کو تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے ملازمین پریشانی کا شکار ہوگئے، ملازمین کی عید کی خوشیاں بھی خاک میں مل گئیں

    ذرائع کے مطابق اس محکمہ سوئی گیس میں 60 سے زائد ملازمین ڈیلی ویجز طور پر کام کر رہے ہیں،ملازمین کا کہنا ہے کہ اس مہنگائی کے دور میں تنخواہ سرکاری مقرر کردہ مقدار سے بھی کم ہے، ملازمین کاکہنا ہے کہ 18 سے 22 ہزار روپے تنخواہوں میں گزارہ مشکل ہے وہ بھی عید جیسے موقع پر نہیں دی جا رہی،

    ادھر اس حوالے سے مزید معلوم ہوا ہے کہ انتظامیہ فنڈ نہ ہونے کا بہانہ کر کے تنخواہیں دینے سے انکاری ہے، ملازمین کا کہنا ہے کہ جو کوئی اس معاملے پر آواز اٹھاتا ہے اس کو نوکری سے فارغ کی دھمکیاں دی جاتی ہیں،

    ملازمین نے کہا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف ہمارے حال پر رحم کھا کر محکمے کو تنخواہیں ادا کرنے کا حکم دیں،

    ادھر ملتان میں واسا ملتان کے مالی بحران نے ملازمین کی عید کی خوشیاں ماند کردی ہیں، جولائی کے6 روز گزرنے کے باوجود بھی سیکڑوں ریگولر اور ڈیلی ویجز ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں،محکمہ واسا کی واٹر سپلائی اور سیوریج کے بلوں کی ریکوری نہ بڑھنے کی وجہ سے مالی بحران بھی سنگین ہوتا جا رہا ہے،

    جولائی کے6روز گزرنے کے باوجود واسا کے سیکڑوں ملازمین تنخواہوں سے محروم ہیں جبکہ عید الاضحیٰ میں صرف4 روز باقی ہیں تاہم تنخواہیں تاخیر کا شکار ہونے سے ملازمین کو گھر چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے جو بچوں کیلئے عید کی شاپنگ سے بھی محروم ہیں بلکہ ان کے لئے سنت ابراہیمی کی ادائیگی بھی انتہائی مشکل ہو گئی ہے، واسا ملازمین کا کہنا ہے کہ چھوٹے ملازمین ہر ماہ تنخواہ کے انتظار میں رہتے ہیں تاہم تنخواہ گزشتہ کچھ ماہ سے مسلسل تاخیر کا شکار ہو رہی ہے ، ملازمین نے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر تنخواہیں جاری کی جائیں۔

  • محکموں میں کرپشن انتہاہ کو پہنچ گئی

    محکموں میں کرپشن انتہاہ کو پہنچ گئی

    قصور
    پیسے لے کر ڈیلی ویجز نوکریاں دینے کا انکشاف

    تفصیلات کے مطابق
    چونیاں ٹی ایچ کیو ہسپتال میں ڈیلی ویجز کی نوکریاں پیسے لے کر دینے کا انکشاف ہوا ہے
    ایک لاکھ روپے سے شروع ہو کر ڈیڑھ لاکھ روپے تک رشوت جا پہنچی ہے
    شہری نے کہا کہ اسسٹنٹ کمشنر چونیاں خرم حمید صاحب اور سی ای او ہیلتھ قصور سے میری گزارش ہے کہ اس پر انکوائری کمیٹی بٹھائی جائے اگر یہ ثابت نہ ہو کے پیسے لے کر نوکریاں دی جا رہی ہے تو میرے خلاف کارروائی کی جائے میں قسم اٹھا کر کہتا ھو اس میں کون کون ملوث ہے ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے اور ان متاثرہ لڑکوں کو ان کے پیسے واپس دلوائے جائیں اور ان ملازمین کا فلفور یہاں سے تبادلہ کروایا جائے
    اسسٹنٹ کمشنر چونیاں خرم حمید صاحب
    سی ای او ہیلتھ قصور ڈاکٹر ثمرہ
    ڈپٹی کمشنر قصور اس کا نوٹس لیں اور اس پر انکوائری کمیٹی بٹھائے

  • مزدورکی کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی

    مزدورکی کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی

    برلن :جرمنی میں کم از کم اجرت میں اضافہ، 12 یورو فی گھنٹہ کر دی گئی،اطلاعات کے مطابق جرمنی میں بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر حکومت نے کم از کم اجرت بڑھا کر بارہ یورو فی گھنٹہ کرنے کی منظوری دے دی۔ اس فیصلے سے 60 لاکھ سے زائد عوام مستفید ہوں گے۔

    اس حوالے سے جرمن چانسلر اولاف شولز نے اپنی انتخابی مہم میں بھی کم از کم اجرت بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔ اب پارلیمنٹ نے گزشتہ روز ایک بل کی منظوری دی ہے جس کے مطابق یکم اکتوبر سے کم از کم فی گھنٹہ تنخواہ قریب دو یورو اضافے کے ساتھ بارہ یورو ہو جائے گی۔جرمن پارلیمنٹ میں بل پر ووٹنگ سے قبل وزیر محنت ہوبیرٹوس ہائل نے کہا کہ اس فیصلے سے عوام کو 400 یورو اضافی آمدن ہوگی جس سے ماہانہ آمدن 1700 یورو ہو جائے گی۔ یہ بہت زیادہ تو نہیں ہے لیکن اس سے لوگوں کی جیبوں پر نمایاں فرق پڑے گا۔

    جرمن پارلیمنٹ میں بل کے حق میں 400 ارکان نے ووٹ دیا، 41 نے مخالفت کی جبکہ 200 نے رائے شماری میں حصہ ہی نہیں لیا۔ حصہ نہ لینے والے ارکان کا تعلق اپوزیشن جماعت سی ڈی یو سے تھا۔ سابق چانسلر مرکل کی جماعت کے ارکان کا کہنا تھا کہ وہ تنخواہ میں اضافے کے خلاف نہیں بلکہ بل پیش کرنے کے طریق کار کے خلاف ہیں۔ بائیں بازو کی سوشلسٹ جماعت دی لنکے کے ارکان نے بھی بل کی حمایت میں ووٹ دیا۔

    جرمنی میں عام طور پر کم از کم اجرت کے بارے میں تجاویز ایک کمیشن دیتا ہے جس میں آجروں اور ملازموں کے نمائندے شامل ہوتے ہیں تاہم اس مرتبہ حکومتی اتحاد نے کمیشن کو نظرانداز کرتے ہوئے خود ہی بارہ یورو اجرت مقرر کر دی۔جرمنی میں کام کرنے والے اٹھارہ سال سے زائد عمر کے زیادہ تر افراد فی گھنٹہ اجرت پر کام کرتے ہیں۔ ان میں دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے سیزنل ورکرز بھی شامل ہیں۔ جرمنی کا شمار یورپی یونین کے ان رکن ممالک میں ہوتا ہے جہاں کم از کم تنخواہ کافی زیادہ ہے۔