Baaghi TV

Tag: ڈیم

  • ڈیم بنانے چاہیئں، تاکہ پانی کی شکل میں آنے والے عذاب رحمت بن جائیں،علی امین گنڈاپور

    ڈیم بنانے چاہیئں، تاکہ پانی کی شکل میں آنے والے عذاب رحمت بن جائیں،علی امین گنڈاپور

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ کہ ہمیں ڈیم بنانے چاہیئں، تاکہ پانی کی شکل میں آنے والے عذاب رحمت بن جائیں-

    پشاور کے خیبرمیڈیکل کالج میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ریلہ آنے پر انتظامیہ تیار تھی، ہمیں ڈیم بنانے چاہیئں، تاکہ پانی کی شکل میں آنے والے عذاب رحمت بن جائیں، جہاں ضروری ہوا ڈیم بنائیں گے،خیبرپختونخوا کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے، نہروں کے لیے وفاق سے فنڈنگ نہیں مل رہی۔

    وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم تعلیمی نظام کو بہتر کرنے پر کام کررہے ہیں، انہوں نے اساتذہ سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ میڈیکل کے طلبا کے ذہنوں میں یہ بات ڈالیں کہ وہ دور دراز علاقوں میں بھی جایا کریں، تاکہ ان میں دورافتادہ علاقوں میں جاکر خدمات پیش کرنے کا جذبہ پیدا ہوگا،ہم اسپتال اور بنیادی صحت کے مراکز بنالیتے ہیں مگر ہمارے پاس ڈاکٹرز نہیں ہوتے۔

    قومی مالیاتی کمیشن کا ابتدائی اجلاس ملتوی

    خیبرمیڈیکل کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دینے کا اعلان کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا کہ خیبر میڈیکل یونیورسٹی کا خیبر میڈیکل کالج کے ساتھ کوئی مقابلہ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ صحت کی سہولیات ریاست کی ذمے داری ہے، کوشش کررہے ہیں کہ مختلف ڈویژن میں سہولیات فراہم کریں،خیبرٹیچنگ اسپتال میں کارڈیک سرجریزکی سہولیات کیلئے30کروڑ روپے جلد مہیا کردیں گے،صوبے کی آمدنی بڑھ رہی ہے، اپنے شہریوں پر خرچ کریں گے، پیسہ ان سیکٹرز میں لگائیں گے جہاں ضرورت ہے۔

    اسحاق ڈار سے اسپین کے سینیٹ کے رکن کی ملاقات

  • چینی کمپنیوں نے دیامر بھاشا ڈیم پر بھی کام روک دیا

    چینی کمپنیوں نے دیامر بھاشا ڈیم پر بھی کام روک دیا

    داسو اور تربیلا ڈیم کے بعد چینی کمپنیوں نے دیامر بھاشا ڈیم پر سول ورک معطل کردیا ہے تاہم چینی باشندے تاحال خیبرپختونخوا میں مہمند ڈیم پر کام کر رہے ہیں

    دیامر بھاشا ڈیم پر تقریباً پانچ سو چینی شہری ڈیم کی تعمیر میں مصروف ہیں،مقامی عملے کو اگلے احکامات تک گھروں میں رہنے کی ہدایت کی گئی ہے،میڈیا رپورٹس کے مطابق منصوبے پر کام کرنیوالے ایک اہلکار نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ چینی کمپنی نے ڈیم پر کام روک دیا ہے اور مقامی عملے کو گھر پر رہنے کو کہا گیا ہے، داسو ڈیم پر تقریباً 741چینی اور 6 ہزار مقامی لوگ کام کررہے ہیں،جی ایم دیامر بھاشا ڈیم نزاکت حسین نے بھی تصدیق کی کہ چینی کمپنی نے ڈیم پر کام روک دیا ،تقریباً 500چینی شہری ڈیم کی تعمیر میں مصروف ہیں لیکن ایف ڈبلیو او کا عملہ اس پر کام کر رہا ہے، 6 ہزار مقامی افراد ڈیم پر کام میں مصروف ہیں انہوں نے امید ظاہر کی کہ چند دنوں میں صورتحال معمول پر آجائیگی جس کے نتیجے میں چینی ملازمین کی واپسی ہوگی،دیامر بھاشا ڈیم ہائیڈرو پاور جنریشن کے ذریعے 4800 میگا واٹ بجلی پیدا کرے گا،

    مہمند ڈیم کے جی ایم عاصم رؤف کا کہنا ہے کہ مہمند ڈیم پر 250 چینی کام کر رہے ہیں اور انہوں نے کام نہیں روکا، چینیوں نے پراجیکٹ ایریا میں سکیورٹی کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا ہے اور وہ سائٹ پر کام کررہے ہیں

    واضح رہے کہ ڈیم پر کام کرنے والے چینی باشندوں کی گاڑی پر خود کش حملہ ہوا تھا ،جس میں پانچ چینی شہری مارے گئے تھے.

    چین کا پاکستان سے دہشت گردانہ حملے کی جلد از جلد جامع تحقیقات کا مطالبہ

    بشام واقعہ تحقیقات کیلئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے پر اتفاق ہوا،عطا تارڑ

    امریکہ نے پاکستان میں چینی شہریوں پر حملے کی شدید مذمت کی ہے

    وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی شانگلہ میں دھماکے کے فوری بعد چینی سفارت خانے پہنچ گئے،

    چین نے شانگلہ میں گاڑی پر حملے میں اپنے باشندوں کی ہلاکت پر مکمل تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    پاک فوج نے بشام میں چینی شہریوں سمیت 6 بے گناہ افراد کی ہلاکت کی مذمت کی 

    شانگلہ میں گاڑی پر خودکش حملہ، 5 چینی باشندوں سمیت 6 افراد ہلاک

  • وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    وزیر اعلی مریم نواز کا پہلادورہ راولپنڈی،رنگ روڈکی سڑک دسمبر تک مکمل کرنے کا حکم

    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف نے دسمبر تک راولپنڈی رنگ روڈ ورک مکمل کرنے کا حکم دیا ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے تراھیا کے مقام پر راولپنڈی رنگ روڈپراجیکٹ کادورہ کیا۔

    وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو نیسپاک، پی ایم یو اور ایف ڈبلیو او حکام نے راولپنڈی رنگ روڈپراجیکٹ پر پیش رفت پر بریفنگ میں بتایا کہ راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ ستمبر 2023ء میں شروع ہوا، فروری 2025ء تک تمام تعمیر مکمل ہو جائے گی۔ 38.3کلو میٹر طویل راولپنڈی رنگ روڈ کی تعمیر کیلئے راستے میں موجود سٹرکچرز کو ہٹا دیا گیا ہے۔ رائٹ آف دی وے میں آنے والی یوٹیلیٹی سروسز کو ہٹانے کا کام جاری ہے۔بریفنگ میں مزید بتایا گیا کہ راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ پر24 فیصدکام مکمل ہوچکا ہے۔ راولپنڈی رنگ روڈ پر پانچ انٹر چینجز، 11 اوور پاس، 2 ریور،6 نالے، 1 ریلوے برج جبکہ 15 سب وے اور 53کیلوریز بنائے جائیں گے۔ راولپنڈی رنگ روڈ پر ایک ریسٹ ایریا بھی بنے گا۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ رنگ روڈ پراجیکٹ راولپنڈی عوام کی آمدورفت میں آسانی کے لیے ناگزیر ہے۔ راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ پر بننے والے انڈسٹریل زونز راولپنڈی کے لئے گیم چینجر ثابت ہوں گے۔ انڈسٹریل زونز بننے سے مقامی لوگوں کو روزگار ملے گا۔راولپنڈی رنگ روڈکی تکمیل کے لئے دو سال کا وقت مقرر ہے، ڈیڈلائن سے قبل مکمل کرنے کے لئے ہر ممکن کو شش کی جائے گی۔وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ عوامی فلاح کے اہم ترین منصوبے کی تکمیل میں تاخیر نہیں ہونی چاہیئے۔رنگ روڈ پراجیکٹ پر دن رات کام جاری،مقرر کردہ مدت سے پہلے مکمل کریں گے۔ راولپنڈی رنگ روڈ پراجیکٹ میں تعمیراتی معیار ہر صورت یقینی بنا یا جائیگا،کوالٹی پر سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ راولپنڈی رنگ روڈ انٹر چینج کے نام متعلقہ گاؤں کے نام سے منسوب کیے جائیں۔ سابق سینیٹر پرویز رشید، ارکان اسمبلی مریم اورنگ زیب،، ثانیہ عاشق،چیف سیکرٹری، متعلقہ سیکرٹریز، کمشنر اور دیگر حکام بھی موجود تھے۔

    وزیر اعلیٰ مریم نوازشریف کی دودوچھہ ڈیم روالپنڈی سائٹ آمد، تکمیل کے لئے نومبر 2025 کی ڈیڈ لائن مقرر
    وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف پہلے دورہ راولپنڈی کے دوران دودوچھہ ڈیم سائٹ پہنچ گئیں اور ڈیم سائٹ کی تعمیراتی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ لیا۔ایف ڈبلیو او حکام نے وزیراعلی مریم نواز کو دودوچھہ ڈیم پر بریفنگ دی اور بتایا کہ دودچھہ ڈیم پراجیکٹ پر دوبارہ کام نومبر 2023 سے شروع کیا گیا ہے۔ دودوچھہ ڈیم کے لئے سپل وے پر پانی کے اخراج کا عمل جاری ہے۔عدالت کے فیصلے کی روشنی میں زمین کی قیمت کے ازسر نو تعین کے لئے ریوائزڈ پی سی ون پر بھی کام جاری ہے۔سائٹ پر کام تیزی سے جاری ہے، اب تک کی فنانشل پراگریس 40 فیصد اور فزیکل پراگریس 12 فیصد ہے۔ راولپنڈی سے 25 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع دودوچھہ ڈیم کی تعمیر کے لئے راولپنڈی و کلرسیداں کے علاقے کی کل 16194 کنال 14 مرلہ زمین حاصل کی گئی۔ ڈیم کی اونچائی 123 فٹ،لمبائی 737 فٹ اورکیچ منٹ ایریا 129 مربع میل ہے۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے دودوچھہ ڈیم کی تکمیل کے لئے نومبر 2025 کی ڈیڈ لائن مقرر کردی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ دودوچھہ ڈیم سائٹ پر اضافی مشینری و ورک فورس لگا کر مختلف سیکشنز پر کام شروع کروایا جائے۔پاکستان آنے والے دنوں میں پانی کی شدید قلت کا شکار ہونے والے ملکوں میں سرفہرست ہے۔ زیادہ سے زیادہ ڈیمز بنا کر بارشی پانی کو ضائع ہونے سے بچایا جائے۔ راولپنڈی اور دیگر علاقوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے،دودوچھہ ڈیم سے آبی ضرورت پوری کی جاسکے گی۔وزیراعلی مریم نواز شریف نے کہا کہ گرمیوں کے موسم میں صورتحال مزید خراب ہو جاتی ہے، شارٹ فال 60 ایم جی ڈی تک پہنچ جاتا ہے۔پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لئے دودوچھہ ڈیم پر ہنگامی بنیادوں پر کام مکمل کیا جائے۔12 ارب کی لاگت سے بننے والا یہ ڈیم اپنی تکمیل کے بعد راولپنڈی شہر کی پانی کی ضروریات کا ایک بڑا حصہ پورا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ د ودوچھہ ڈیم میں رائٹ آف دی وے کا کلیئر کروا نا خوش آئند ہے تاکہ کام کی رفتار میں کوئی فرق نہ پڑے۔ ڈیم راولپنڈی شہر کے لئے 35 ملین گیلن پر ڈے پینے کا صاف پانی مہیا کرے گا۔کسی سے ناانصافی نہیں ہوگی، مقامی آبادی کو انکی زمین کی قیمت موجودہ ریٹ کے مطابق دی جا رہی ہے۔ ڈیم کی تعمیر سے راولپنڈی اور مضافات کو صاف پانی میسر ہو گا۔ سابق سینیٹر پرویز رشید، ارکان اسمبلی مریم اورنگ زیب،ثانیہ عاشق، چیف سیکرٹری، سیکرٹری اریگیشن، ڈپٹی کمشنر اور دیگر حکام بھی موجود تھے

    مریم نواز نے سرکاری اسپتالوں کی ایمرجنسی میں مفت ادویات کی فراہمی کا پلان طلب کرلیا

    مریم نواز سنی اتحاد کونسل کے رانا آفتاب کے پاس خود چل کر گئیں

    پنجاب وزیراعلیٰ مریم نواز نے قومی کرکٹر محمد عامر کی فیملی کے ساتھ سٹیڈیم میں ہونے والے بدتمیزی کے واقعہ پر نوٹس

    کوئی سیاسی بھرتی نہیں ہوگی،احتساب، شفافیت، کوالٹی و ٹائم ورک ریڈ لائن ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب

    نومنتخب وزیراعلیٰ مریم نواز کا تھانہ شالیمار کا دورہ

    مریم نواز کی غیر آئینی ’سلیکشن‘ سے صوبے میں استحکام نہیں آئے گا،بیر سٹر گوہر

    مریم نواز کی جانب سے ہاتھ پیچھے کرنے پر عظمیٰ کاردار کا وضاحتی بیان

    مریم نواز کا پانچ روز میں مہنگائی پر کنٹرول کے لئے ڈیپارٹمنٹ قائم کرنے کا حکم

  • دیامر بھاشا ڈیم کے لیے دریائے سندھ کا رُخ موڑنے کا فیصلہ

    دیامر بھاشا ڈیم کے لیے دریائے سندھ کا رُخ موڑنے کا فیصلہ

    دیامر بھاشا ڈیم کیلئے دریائے سندھ کا رخ نومبر میں موڑ دیا جائے گا۔

    باغی ٹی وی : چیئرمین واپڈا سجاد غنی کو دیامربھاشا ڈیم پروجیکٹ کے دورے پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ڈیم کیلئے دریائے سندھ کا رخ نومبر میں موڑ دیا جائے گا اور دریائے سندھ کا رُخ موڑنا اہم ترین اہداف میں سے ایک ہے جس کے بعد دریائے سندھ ڈائی ورژن کے بعد اپنے قدرتی راستے سے جاملے گا دیامر بھاشا ڈیم پروجیکٹ کی 13 سائٹس پر تعمیراتی کام جاری ہے۔

    پشاورمیں پہلی باربچوں کابھی بغیرسینہ چاک کیےدل کا کامیاب آپریشن

    پراجیکٹ حکام کا کہنا تھا کہ دیا مر بھاشا ڈیم میں 8.1 ملین ایکڑ فٹ پانی ذخیرہ ہوگا، ڈیم سے 4 ہزار 500 میگاواٹ سستی بجلی پیدا ہوگی جب کہ 4 ہزار 320 میگا واٹ کا داسو پروجیکٹ 2 مراحل میں مکمل کیا جائے گا –


    دیا مر بھاشا خیبر پختونخواہ کے ضلع کوہستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے گلگت بلتستان کے ضلع دیامر کے درمیان دریائے سندھ پر ہےاس کا سنگ بنیاد اس وقت کے وزیر اعظم پاکستان نے 1998 میں رکھا تھااس کا کچھ حصہ خیبر پختوںخوا کے علاقے کوہستان میں جبکہ کچھ حصہ گلگت بلتستان کے ضلع دیامیر میں آتا ہے اور اسی وجہ سے اسے دیامربھاشا ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔

    یہ ڈیم دریائے سندھ پر تعمیر کیا جائے گا۔ یہ تعمیر تربیلا ڈیم سے 315 کلومیٹر کی بلندی پر جبکہ گلگت بلتستان کے دارالحکومت گلگت سے 165 کلومیٹر اور چلاس سے 40 کلومیٹر دور دریائے سندھ کے نچلی طرف ہو گی۔

    محکمہ صحت اور اسپتالوں کی انتظامیہ ڈاکٹروں کو کام پر لانے میں ناکام،ہڑتال 8ویں روز …

    واپڈا کے مطابق ڈیم کی بلندی 272 میٹر ہو گی۔ اس کے 14 سپل وے گیٹ تعمیر کیے جائیں گے۔ اس میں مجموعی طور پر پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش 8.10 ملین ایکٹر فٹ ہو گی جبکہ اس میں ہمہ وقت 6.40 ملین ایکٹر فٹ پانی موجود رہے گا۔

    اس پانی کو زراعت کے لیے بھی استعمال کیا جائے گا۔ واپڈا کے مطابق اس منصوبے سے نہ صرف صوبہ خیبر پختوںخوا کے علاقے ڈیرہ اسماعیل خان کا چھ لاکھ ایکڑ کا رقبہ قابل کاشت ہو جائے گا بلکہ مجموعی طور پر تین ملین ایکڑ زرعی رقبہ سیراب ہو سکے گا۔

    اس ڈیم سے بجلی پیدا کرنے کے لیے 12 ٹربائن لگائی جائیں گیں اور ہر ایک ٹربائن سے متوقع طور پر 375 میگا واٹ بجلی جبکہ مجموعی طور پر 4500 میگا واٹ بجلی حاصل ہو گی۔

    اے این ایف کی ملک بھر میں کارروائیاں، بھاری مقدار میں منشیات برآمد

    ڈیم دریائے سندھ کے پانی کا قدرتی بہاؤ استعمال کرتے ہوئے اس پانی کا 15 فیصد استعمال کرے گا جبکہ اس مقام پر دریائے سندھ کا سالانہ اخراج پانچ کروڑ ایکڑ فیٹ ہے۔ ڈیم مجموعی طور پر 110 مربع کلومیٹررقبےپرپھیلا ہوگاجبکہ 100 کلومیٹر مزید رقبے پر ڈیم کے انفراسٹر کچر کی تعمیر ہو گئی۔

    واپڈا کی رپورٹ کے مطابق ڈیم کی تعمیر سے 30 دیہات اور مجموعی طور پر 2200 گھرانے جن کی آبادی کا تخمینہ 22 ہزار لگایا گیا ہے متاثر ہوں گے جبکہ 500 ایکڑ زرعی زمین اور شاہراہ قراقرم کا سو کلومیٹر کا علاقہ زیرِ آب آئے گا ان نقصانات کی تلافی اور متاثرہ آبادی کی آباد کاری کے لیے نو مختلف منصوبے شروع کیے جائیں گے۔

  • روس اور یوکرین کی بمباری میں ڈیم تباہ،سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے کا امکان

    روس اور یوکرین کی بمباری میں ڈیم تباہ،سلامتی کونسل کا اجلاس بلائے جانے کا امکان

    جنوبی یوکرین میں روس کے زیر قبضہ شہر خیرسوں میں جاری لڑائی میں ایک اہم ڈیم کو شدید نقصان پہنچا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس جلد بلائے جانے کا امکان ہے۔

    باغی ٹی وی: میڈیا رپورٹس کے مطابق یوکرینی اور روسی حکام نے منگل کے روز کہا کہ جنوبی یوکرین میں کاخووکا ڈیم کو دھماکے سے اڑا دیا گیا، جس سے دریائے دنیپرو کے ساتھ نشیبی علاقوں میں سیلاب کا خطرہ ہے ڈیم پر حملے کے بعد کئی دیہات زیر آب آگئے ہیں اور تین دیہاتوں میں 10 فٹ تک پانی کھڑا ہوگیا ہے جب کہ 22 ہزار افراد نقل مکانی پر مجبور ہیں۔

    پاکستانی سیاست کے فیصلے پاکستانی عوام نے کرنے ہیں،امریکا

    یوکرین کی سرکاری ہائیڈرو الیکٹرک کمپنی نے کہا ہے کہ انجن روم کے اندر دھماکے کے بعد پاور پلانٹ ’مکمل طور پر تباہ‘ ہو گیا-

    سوویت دور کا یہ ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ جزیرہ نما کریمیا کو بھی پانی فراہم کرتا ہےجسے روس نے 2014 میں ضم کرلیا تھا، اور زاپروژیا جوہری پلانٹ کو بھی پانی اسی ڈیم سے فراہم کیا جاتا ہے، یہ بھی روسی کنٹرول میں ہے۔

    مقامی گورنر کے مطابق متاثرہ علاقے سے لوگوں کے انخلاء کا عمل شروع ہوگیا ہے۔ اسی دوران یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی نے باخموت کے قریب مبینہ پیش قدمی پر اپنے فوجیوں کی تعریف کی ہے جبکہ روس نے کہا کہ اس نے بڑے پیمانے پر یوکرینی حملے کو پسپا کر دیا ہے۔


    زیلنسکی نے اپنی عوام سے رات کے ویڈیو خطاب کے دوران کہا تھا کہ وہ خبر جس کا ہم انتظار کر رہے ہیں، اُس کا خیر مقدم کرتا ہوں میں ہر ایک سپاہی کا، اپنے تمام محافظوں، مردوں اور عورتوں کا شکر گزار ہوں، جنہوں نے آج ہمیں وہ خبر دی جس کا ہم انتظار کر رہے تھے۔ باخموت سیکٹر میں بہترین کار کردگی پیش کرنے والے سپاہیو، گُڈ جاب

    امریکا کا سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں کیلئے مزید امداد کا اعلان

    یوکرینی صدر نے روس کے اس اقدام کو عالمی ماحولیاتی تباہی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے حساس انفرا اسٹرکچر کو تباہ کرکے روس ہمارے زیر قبضہ علاقوں کی واپسی کی منصوبہ بندی میں خلل نہیں ڈال سکتا۔

    یوکرین کے صدر نے روس کے اس عمل کو جانتے بوجھتے کی کارروائی قرار دیا اور کہا کہ روس نے ڈیم کو تباہ کرکے سیلاب کو بطور ہتھیار استعمال کیا، روس ماحول کی تباہی پر اترآیا ہے۔


    یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلینسکی نے کہا کہ کاخووکا ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ ڈیم کی تباہی پوری دنیا کے سامنے صرف اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ انہیں (روسیوں کو) یوکرینی سرزمین کے ہر کونے سے بے دخل کیا جانا چاہئیے۔ ان کے لیے ایک میٹر جگہ بھی نہیں چھوڑنی چاہئیے، کیونکہ وہ ہر میٹر کو دہشت گردی کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    کیف کی فوجی انتظامیہ نے میسجینگ ایپ ٹیلی گرام پر بتایا کہ شہر میں نصب فضائی دفاعی نظام منگل کے پہلے پہر سے ہی اس علاقے میں فضائی حملوں کو پسپا کرنے میں مصروف تھا۔

    آئی ایم ایف کے طے شدہ معیارات کی کوئی خلاف ورزی نہ ہو،وزیراعظم

    یوکرینی دارالحکومت کے میئر وٹالی کلچکو نے بھی کہا کہ کیف میں دھماکوں کی جو آوازیں سنائی دیں وہ فضائی دفاعی نظام کے جوابی حملوں کی آوازیں تھی،حملے کے بعد کیف کی فوجی انتظامیہ نے کہا کہ فضائی دفاع نے دشمن کی طرف سے بھجوائے گئے 20 سے زیادہ اوبجیکٹس کو تباہ کر دیا۔

    روس کی طرف سے یوکرین کے شہروں پر فضائی حملوں کی ایک اور لہر شروع کرنے کے نتیجے میں یوکرین میں راتوں رات ہوائی حملوں کا الرٹ نافذ کر دیا گیا۔

    یورپین یونین نے بھی اس کی تباہی کا الزام روس پر عائد کرنے کے بعد اسے ’بربریت والی جارحیت‘ اور ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے یورپی یونین کمیشن کے ترجمان پیٹر اسٹانو نے کہا کہ یہ کشیدگی کی ایک نئی علامت ہے جو یوکرین کے خلاف روسی جارحیت کی ہولناک اور وحشیانہ نوعیت کو بے مثال سطح تک لے جا رہی ہے۔‘

    اس سے قبل یورپی کونسل کے صدر چارلس مشیل نے بھی اس حملے کو جنگی جرم قرار دیتے ہوئے ماسکو پر الزام عائد کیا تھا۔

    ادھر ماسکو نے ڈیم پر حملے کی تردید کی ہے، اس کے بجائے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یوکرین نے ’جان بوجھ کر تخریب کاری کی کارروائی‘ کر کے اسے نقصان پہنچایا ہے۔

    جانوروں کی قربانی سے پہلے عوام کی قربانی

    روسی حکام کا کہنا ہےکہ ڈیم کو نشانہ بناکر اپنے زیر قبضہ علاقوں کو سیلاب سے متاثرکیوں کریں گے،یوکرینی حملےکا مقصد کریمیا کو پانی سے محروم کرنا تھا، یوکرین نے فوج دوسری جگہ منتقل کرنےکے لیے ڈیم کونشانہ بنایا۔

  • سرکاری افسر نےفون ڈھونڈنے کیلئے پورا ڈیم خالی کرادیا

    سرکاری افسر نےفون ڈھونڈنے کیلئے پورا ڈیم خالی کرادیا

    بھارتی ریاست چھتیس گڑھ میں ایک سرکاری افسر کو سیلفی لینے کا شوق مہنگا پڑگیا-

    باغی ٹی وی : بھارتی میڈیا کے مطابق 32 سالہ فوڈ انسپکٹر راجیش وشواس جو ضلع کینکر کے شہر پاکھنجورمیں تعینات تھا سیلفی لیتے ہوئے وہ اپنا موبائل پانی میں گرا بیٹھا اور اس کی تلاش میں ڈیم ہی خالی کروادیا۔


    فوڈ انسپکٹر راجیش وشواس اپنے دوستوں کے ہمراہ سیر و تفریح کی غرض سے پرالکوٹ پہنچے تھے جہاں سیلفی لیتے ہوئے ان کا موبائل 10 فٹ گہرے پانی میں گرگیا پانی میں گرنے والا فون سام سنگ ایس 23 الٹر تھا جس کی قیمت 95 ہزار بھارتی روپے تھی پانی کو ڈیم سے خالی کرنے کا منگل کو شروع کیا گیا جو جمعرات مکمل کیا گیا –


    جب متعلقہ حکام کوعلم ہوا تو انہوں نے فوڈ انسپکٹر کے خلاف کارروائی کا حکم دے دیا معاملے کی تصدیق کرتے ہوئے ضلع کی کلکٹر پرینکا شکلا نےکہا کہ سرکاری افسر کےپاس ڈیم سے پانی کے نکالنے کا کوئی اختیار نہیں ہےیہ پانی سخت گرمی میں انسانوں اور جانوروں نے استعمال کیا جانا تھا۔ سرکاری افسر کے خلاف جاری حکم نامےمیں کہا گیا ہے کہ انہوں نے اپنے عہدے کا غلط استعمال کیا ساتھ ہی بغیر اجازت پانی ضائع کیا جس پر ان کو فوری طور پر معطل کردیا۔

    میڈیا سے بات کرتے ہوئے راجیش وشواس نے بتایا کہ گاؤں کے کچھ غوطہ خوروں نے موبائل فون تلاش کرنے میں مدد کی لیکن دو دن تک کوشش کرنے کے بعد بھی نہی ملا تو انہوں نے ڈیم کو خالی کرنے کا مشورہ دیا میں نےان سےکہا کہ فون تو اب خراب ہوچکاہوگالیکن مقامی افراد کا ماننا تھا کہ شاید وہ ٹھیک ہو اور وہ میری مدد کے لئے آمادہ تھے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جب سب ڈویژنل افسر واٹر ریسورسز سے رابطہ کیا تو انہوں نے زبانی احکامات جاری کر دیئے تھے جس کے بعد ہی کرائے پر پمپ حاصل کرکے پانی نکالنا شروع کردیا تھا۔

  • دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    دریاؤں اور آبی ذخیروں میں پانی کی صورتحال

    اسلام آباد: پانی کی آمد و اخراج، ان کی سطح اور بیراجوں میں پانی کے بہا ؤکی صورتحال حسب ذیل رہی۔

    باغی ٹی وی: واٹر اور پاور ڈویلپنٹ اتھارٹی (واپڈا) کے ترجمان کے مطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد 17 ہزار 900 کیوسک اور اخراج 45 ہزارکیوسک ،منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 15 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 25 ہزار کیوسک ہے-

    ترجمان کے مطابق دریائے چناب میں پانی کی آمد 11 ہزار 200 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ہے، دریائے کابل میں پانی کی آمد 14 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 300 کیوسک ،خیرآباد پل کے مقام پر پانی کی آمد 14 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 14 ہزار 300 کیوسک ہے-

    ترجمان کے مطابق جناح بیراج میں پانی کی آمد 57 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 52 ہزار 700 کیوسک،چشمہ بیراج میں پانی کی آمد 51 ہزار کیوسک اور اخراج 48 ہزارکیوسک ہے،تونسہ بیراج میں پانی کی آمد 44 ہزار 700 کیوسک اور اخراج 44 ہزار 700 کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق سکھر بیراج میں پانی کی آمد 30 ہزار 300 کیوسک اور اخراج 6 ہزار 500 کیوسک ہے،کوٹری بیراج میں پانی کی آمد 7 ہزار 900 کیوسک اور اخراج صفرکیوسک ،گدو بیراج میں پانی کی آمد 36 ہزار 600 کیوسک اور اخراج 32 ہزار 100 کیوسک ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق تریموں میں پانی کی آمد 3 ہزار 500 کیوسک اور اخراج صفر کیوسک ہے،پنجند میں پانی کی آمد 4 ہزار کیوسک اور اخراج صفر کیوسک،تربیلا ڈیم میں آج پانی کا ذخیرہ 24 لاکھ 53 ہزار ایکٹرفٹ ہے،منگلا میں آج پانی کا ذخیرہ 9 لاکھ 84 ہزارایکڑ فٹ ہے،چشمہ میں آج پانی کا ذخیرہ 72 ہزار ایکٹرفٹ ہے،تربیلا، منگلا اور چشمہ ریزوائر میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 35 لاکھ 9 ہزارایکڑ فٹ ہے-

  • دنیا کا سب سے بڑا ڈیم سوکھنے لگا، توانائی بحران کا خدشہ

    دنیا کا سب سے بڑا ڈیم سوکھنے لگا، توانائی بحران کا خدشہ

    پانی کی کم سطح نے دنیا کے سب سے بڑے ڈیم میں توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے، زیمبیا اور زمبابوے میں لاکھوں لوگوں کو کئی گھنٹے بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

    باغی ٹی وی : کریبا آبی ذخائر میں پانی کی سطح 1 فیصد سے بھی کم ریکارڈ کم ہو گئی، جس سے زیمبیا اور زمبابوے کو بجلی کی فراہمی میں کمی آئی اور سیاحت اور ماہی گیری کی صنعتیں بند ہو گئیں۔

    چین کا ہانگ کانگ کے ساتھ اپنی سرحد کو دوبارہ کھولنے کا اعلان

    زمبیزی ریور اتھارٹی کی ویب سائٹ پر دستیاب اعداد و شمار کےمطابق، ڈیم، جو پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کی بنیاد پر دنیا کا سب سے بڑا انسانی ساختہ ہے، میں 28 دسمبر کو 0.97 فیصد قابل استعمال ذخیرہ تھا، جو ایک سال پہلے 20 فیصد تھا یہ تقریباً تین دہائیوں پہلے کے پچھلے کم سیٹ سے کم ہے عام طور پر، پانی کی سطح جنوری میں بڑھنا شروع ہوتی ہے۔

    کریبا ڈیم میں پانی میں کمی کی وجہ بارشوں میں کمی بتائی جارہی ہے، پانی کی سطح کم ہونے سے ان ممالک میں دن کے بڑے حصے میں بجلی نہیں ہے، ڈیم عام طور پر زیمبیا کے لیے ایک ہزار اسی سے زائد میگاواٹ اور زمبابوے کے لیے ایک ہزار پچاس سے زائد میگا واٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔

    ون ڈے ایشیا کپ:پاکستان اور بھارت ایک ہی گروپ میں شامل

    تاہم اب دونوں ممالک کو چار سو میگاواٹ سے کم تک بجلی فراہم کی جارہی ہے، زیمبیا میں بجلی کی بندش چھ گھنٹے سے بڑھا کر 12 گھنٹے جبکہ زمبابوے میں 19 گھنٹے بجلی بند کی جارہی ہے۔

    کریبا ڈیم میں ملک کے اہم ہائیڈرو پاور پلانٹ کو چلانے کے لیے ناکافی پانی ہے صنعت کی طرف سے مانگ میں کمی کی وجہ سے صرف تہوار کے موسم میں کٹوتیوں میں آسانی ہوتی ہے، جو عام طور پر اس مدت کے دوران اپنے سالانہ شٹ ڈاؤن کے لیے بند ہو جاتی ہے۔

    دبئی کا آئندہ دہائی کیلئے 87 کھرب ڈالر کا اقتصادی منصوبہ تیار

  • کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    کیا ڈیم نہیں بننے چاہئیں؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈاکٹر صاحب پانی کے موضوع پر ایک بہت عالم فاضل آدمی ہیں جنہیں میرے جیسا کم علم آدمی فیس بک پر پاکستان کے ڈیموں کے حوالے سے وائرل ہونے والی ویڈیو میں ٹیگ ہونےسے پہلے نہیں جانتا تھا۔ ڈاکٹر حسن عباس صاحب کی باتیں سن کر شدید حیرت ہوئی اور میں نے سوشل میڈیا اور لنکڈ ان پر ان کو مزید کھوجا تو پتہ چلا کہ ڈاکٹر صاحب ایک ڈیم بیزار ایکسپرٹ ہیں اور پاکستان کے تمام دریاؤں پر ڈیم بنانے کے خلاف ہیں بلکہ امریکہ اور یورپ طرز پر پاکستانی دریاؤں کی اپنی اصلی حالت میں بحالی چاہتے ہیں۔

    ان کی اس خواہش پر ایک واقعہ یاد آگیا ہے۔ 2007 میں انٹرنیشنل سنٹر فار ہائیڈروپاور کی دعوت پر ناروے کے پن بجلی سیکٹر کو دورہ کرنے کا موقع ملا۔ اندرون ملک پہاڑی جنگلی علاقوں میں منصوبوں کے وزٹ کے دوران بہت سی جھونپڑیاں بنی نظر آئیں تو اپنے کوآرڈی نیٹر سے اس بارے استفسار کیا۔ معلوم ہوا کہ شہرکے شور شرابے سے تنگ ناروے کی ایک بڑی کھاتی پیتی شہری آبادی کا محبوب مشغلہ ویک اینڈز پر ان جھونپڑیوں میں قدرتی ماحول میں بغیر بجلی، موبائل یا ٹی وی سیٹ کے وقت گزارنا ہے۔ لکڑیاں جلا کر کھانا پکانا ہے۔ چشمے سے پانی پینا ہے۔ یہ ایک اعلی درجے کی تفریح گردانی جاتی ہے۔

    کوآرڈی نیٹر بتانے لگا کہ کچھ عرصہ پہلے عالمی ادارہ برائے پن بجلی کی دعوت پر انڈیا کے ایک بہت بڑے پروفیسر صاحب کو لیکچرز کے کئے مدعو کیا گیا جنہیں اوسلو کے ایک سٹار ہوٹل میں ٹھہرایا گیا۔ ویک اینڈ پر ان کے لئے جنگل کاٹیج میں اعلی درجے کی تفریح کے لئے دودن کا انتظام کیا گیا ۔

    واپسی پر پروفیسر کا بوتھا سوجا ہوا تھا۔پروفیسر صاحب سخت ناراض تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ تو ویک اینڈ پر اوسلو کے شاپنگ مال اور نائٹ لائف سے لطف اٹھانا چاہتے تھے لیکن انہیں ایک دیہاتی کی طرح بغیر بجلی والی جھونپڑی میں بھیج دیا گیا۔

    پروفیسر صاحب کا گلہ یہ تھا کہ کاٹیج والا ماحول تو ہم سارا سال اپنے ملک میں انجوائے کرتے ہیں چھ چھ گھنٹے روزانہ بجلی نہیں ہوتی۔ نہ گیس آتی ہے نہ نلکے سے پانی اور موبائل سگنل تو ہوتے ہی نہیں۔ ناروے میں تو میں آپ کی شہری زندگی کا مزہ لینا چاہتا تھا اور آپ نے مجھے جنگل میں پھینک دیا۔ میزبان شاکڈ

    میں بھی ڈاکٹر صاحب کا انٹرویو سن کر سکتے کی حالت میں ہوں۔ اے بڑے بھائی ڈاکٹر صاحب۔ ہماری زیادہ تر آبادی تو پہلے ہی قدرتی ماحول میں رہتی ہے۔ ہم نے تو بڑی مشکل سے ورلڈ بنک کے تعاون سے اب تک صرف دو بڑے ڈیم بنائے ہیں۔

    جن ممالک کی آپ مثالیں دے رہے ہیں وہ تو ہزاروں کی تعداد میں بڑے ڈیم بنا کر آدھی صدی سے زیادہ ان سے فائدہ اٹھا بیٹھے۔ انٹرنیشنل کمیشن آف لارج ڈیمز ICOLD کا ڈیم رجسٹر تو انہی ملکوں کے ڈیموں کے ناموں سے بھرا پڑا ہے اور اب یہ ملک ہمیں ڈیم نہ بنانے کے بھاشن دے رہے ہیں۔

    پاکستان جیسا ملک جس کاسب سے زیادہ پانی مون سون میں ہی میسر ہوتا ہے اس کے پاس سال کے باقی مہینوں کے لئے ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کے علاوہ اور کیا حل ہوسکتا ہے۔ آپ ہم بھوکے لوگوں کو ملکہ فرانس کی طرح ڈبل روٹی کھانے کا مشورہ تو نہ دیں۔

    پاکستانی معیشت کی بنیاد ہی زراعت پر ہے اور فصلوں کو تو پانی ہی تبھی چاہئے ہوتا ہے جب بارش نہیں ہوتی۔چند ماہ پہلے اپریل میں چھ دہائیوں کی شدید ترین خشک سالی کی وجہ سے ڈیم خشک ہوچکے تھے اور سندھ اور پنجاب میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ہماری اس سال کی کاٹن کی فصل پانی نہ ملنے سے تباہ ہوچکی اور ملکی معیشت کو اربوں ڈالروں کا نقصان ہوچکا۔

    لہذا ڈیم مخالف حضرات کی باتوں سے ہرگز گمراہ نہ ہوں۔ ہمیں مون سون کی چند ماہ کی بارشوں کو سارے سال کے لئے ذخیرہ کرنے کی ضرورت ہے۔یہ ہماری نیلی دولت ہے جسے واٹر بنک میں رکھنے کی ضرورت ہے تاکہ بوقت ضرورت سارا سال تھوڑا تھوڑا کرکے استعمال کرسکیں۔ٹیکنیکل اعتراضات کا جواب کچھ دنوں میں ایک تفصیلی آرٹیکل میں دوں گا۔انشااللہ۔

    چلتے چلتے بتادوں کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اس سال صرف جولائی کے ایک مہینے میں ہی پچھلے سال2021 کے مون سون کے تین ماہ (جولائی تا ستمبر ) کی کل ملا کر بارشوں سے زیادہ بارش ہوچکی ہے۔

    محکمہ کی اگست کی موسمیاتی آوٹ لک کے مطابق اگست کے مہینے میں پنجاب، سندھ، کے پی اور بلوچستان کے ساحل مکران میں مزیذ تیز بارشیں ہوں گی جب کہ شمالی علاقوں میں گرمی کی وجہ سے برف کے پگھلنے سے مڈ فلُو کا خطرہ ہے۔

    ادھر انڈیا نے طوفانی بارشوں کے بعد دریائے چناب اور راوی میں پانی چھوڑ دیا ہے۔ دریائے چناب میں طغیانی سے ضلع جھنگ کے کافی علاقے زیر آب آچُکے۔

  • عمران خان نے تونسہ میں ڈیم کی فزیبلٹی تیارکرنےکا حکم دے دیا

    عمران خان نے تونسہ میں ڈیم کی فزیبلٹی تیارکرنےکا حکم دے دیا

    تونسہ:چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے تونسہ میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تونسہ میں سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف کے کام کا جائزہ لینا آیا تھا، میں نے ہیلی کاپٹر سے سیلاب زدہ علاقے کا بھی جائزہ لیا، یہاں ڈیم کی فزیبلیٹی بن چکی ہے، 10ارب کا پراجیکٹ ہے، اس سے 38 ہزار ایکڑ زمیں سیراب ہوگی، اگر ڈیم بن جائے تو پھر پانی شدت اور تباہی نہ مچاتا بلکہ نعمت بن جاتا، فصلیں بھی تباہ نہ ہوتیں۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے 2010 کے سیلاب سے بہت زیادہ تباہی مچائی، یہ ساری تباہی کوہ سلیمان پر بارشوں سے آئی ہے، قوم کو ملکر اکٹھا ہوکر ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی، میں نے پیسے اکٹھے کیے، پاکستانیوں پر فخر کرتا ہوں، پانچ گھنٹے میں پاکستانیوں نے 10ارب اکٹھا کرکے دیا، کبھی اتنے تھوڑے وقت میں پیسا نہیں دیا گیا، پوری قوم کو سیلاب متاثرین کی فکر ہے، افسوس یہ ہے کہ پیسے میں متاثرین کیلئے اکٹھا کررہا ہوں جبکہ امپورٹڈ حکومت خوفزدہ ہوکر ٹی وی نشریات بند کردیں، ملک کے بڑے مجرموں کو خوف ہے کہ ان کی کرسی نہ چلی جائے اور ان کی کرپشن نہ پکڑی جائے۔

    پوری قوم کو اکٹھا ہوکر اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میری ٹیم، پنجاب اور کے پی حکومت پوری کوشش کریں گے کہ سیلاب متاثرین کی ہرطرح مدد کریں گے۔ متاثرین کو ریلیف کے بعد ان کے گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔ ہم پوری کوشش کریں گے ہم اپنے متاثرین کی زندگیاں آسان کریں۔ انڈس ہائی وے متاثر ہوا پڑا ہے، نہروں کا سسٹم بری طرح متاثر ہوا ہے، صوبائی حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کو بھی مدد کرنی پڑے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دریائے سندھ کے ساتھ رائٹ بینک کنال 20سال سے بن رہی ہے، اس کا مقصد کوہ سلیمان کے پانی کو سمندر تک لے جانا ہوتا ہے۔ 2020میں واپڈا نے سیہون تک کام مکمل کرلیا تھا، اگر وہ نہر بن جاتی تو اتنی تباہی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے مطالبہ کروں گا کہ تونسہ کو ضلع کا درجہ دیا جائے ، اس کی ساری فزیبلٹی پوری ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔