Baaghi TV

Tag: ڈیمز

  • ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا

    ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا

    اسلام آباد: ڈیمز میں پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ رہ گیا۔

    باغی ٹی وی : واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) ذرائع کے مطابق پانی کا ذخیرہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 4 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ کم ہے اور گزشتہ سال 7 اپریل کو تربیلا، منگلا اور چشمہ میں پانی کا ذخیرہ 8 لاکھ 88ہزار ایکڑ فٹ تھا آج تینوں ڈیموں میں پانی کا ذخیرہ 3 لاکھ 91 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

    گزشتہ سال 7 اپریل کو تربیلا میں 2 لاکھ 65 ہزار ایکڑ فٹ پانی کا ذخیرہ تھا اور آج تربیلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 81 ہزار ایکڑ فٹ ہے،گزشتہ سال 7اپریل کو منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 4لاکھ 12 ہزار ایکڑ فٹ تھا، آج منگلا ڈیم میں پانی کا ذخیرہ 2 لاکھ 48 ہزار ایکڑ فٹ ہے جب کہ گزشتہ سال 7 اپریل کو چشمہ بیراج میں پانی کا ذخیرہ 2لاکھ 11ہزار ایکڑ فٹ تھا، آج چشمہ بیراج میں پانی کا ذخیرہ 72ہزار ایکڑ فٹ ہے۔

    ارسا کے پانی کی دستیابی کے سرٹیفکیٹ کے خلاف حکم امتناع جاری

    ذرائع واپڈا کے مطابق تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 18600کیوسک ہے، گزشتہ سال 7 اپریل کو تربیلا کے مقام پر دریائے سندھ میں پانی کی آمد 19200 کیوسک تھی، ، منگلا کے مقام پر دریائے جہلم میں آج پانی کی آمد 21800 کیوسک ہے، گزشتہ سال 7 اپریل کو منگلا کے مقام پر پانی کی آمد 33200کیوسک تھی جبکہ چشمہ کے مقام پر آج پانی کی آمد 32200کیوسک ہے اور گزشتہ سال 7اپریل کو چشمہ کے مقام پر پانی کی امد51700کیوسک تھی۔

    منسٹر سمیت کسی کیلئے ٹرین لیٹ نہیں ہو گی،وزیر ریلوے

  • افغان حکومت  کا 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ

    افغان حکومت کا 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ

    کابل:افغان طالبان حکومت کے قائم مقام وزارت توانائی اور پانی (MoEW) عبداللطیف منصور نے کہا کہ ملک میں خشک سالی کے خطرے سے بچاؤ کے لیے زیر زمین پانی کی فراہمی کے لیے تقریباً 100 چھوٹے ڈیم بنانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عبداللطیف منصور نے کہا کہ کئی ڈیموں کا افتتاح ہو چکا ہے اور کچھ مزید بن رہے ہیں ہم نے بہت کم وقت میں تقریباً 93 ڈیموں کا معاہدہ کیا ہے، ان میں سے 5 لوگر میں، 5 میدان وردک اور صوبہ سمنگان میں مکمل ہوئے ہیں، کئی کسان پانی کی کمی کی شکایت کرتے ہیں اور کھیتی جاری نہیں رکھ سکتے،پانی کی کمی اور لگاتار خشک سالی نے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ کیا ہے۔

    ایک کسان، محمد سرور نے کہا، "پچھلے تین سالوں سے، خشک سالی نے لوگوں پر خاص طور پر آلو اور گندم کی کاشت پر بہت دباؤ ڈالا ہے۔”

    قائم مقام وزیر نے یہ بھی کہا کہ ان منصوبوں کی تعمیر سے پانی کی کمی کو پورا کیا جائے گا اس سے قبل وزارت دیہی بحالی و ترقی نے 13 صوبوں میں چھوٹے ڈیموں پر مشتمل 426 افغانیو مالیت کے منصوبوں کے آغاز کا اعلان کیا تھا۔

    دوسری جانب افغانستان کے قائم مقام وزیر برائے بارڈر و قبائلی امور نور اللہ نوری نے پاک افغان سرحد کو تصوراتی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان کی پاکستان کے ساتھ کوئی مخصوص سرحد (باضابطہ سرحد) نہیں ہے۔

    افغانستان کے طلوع نیوز کے مطابق نور اللہ نوری نے صوبہ ننگرہار میں طورخم کراسنگ کا دورہ کیا، اس موقع پر انھوں نے کہا کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان سرحد ابھی تک واضح نہیں ہے، دونوں ممالک کے پاس تصوراتی لکیریں ہیں افغانستان اور پاکستان کے درمیان تصوراتی خطوط پر وقتا فوقتا پیدا ہونے والی کشیدگی کے حوالے سے امارت اسلامیہ ان کشیدگیوں کو مناسب طریقے سے حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ہماری پاکستان کے ساتھ کوئی باضابطہ سرحد نہیں ہے اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ ہمارا زیرو پوائنٹ ہے۔ یہ (ڈیورنڈ لائن) ہمارے درمیان ایک خیالی لکیر ہے دورے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ پاکستان سے جانے والے افغان شہریوں کے لیے کابل حکومت تاحال خاطر خواہ تعداد میں شیلٹر قائم نہیں کر سکی افغان وزیر کا کہنا تھا کہ وہ مسائل سے آگاہ ہیں اور سردیوں کے بعد مستقل رہائش گاہیں قائم کی جائیں گی۔

  • دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج

    دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج

    اسلام آباد: واپڈا نے مختلف دریاؤں اور آبی ذخائر میں پانی کی آمد واخراج کے اعدادوشمار جاری کر دیئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: منگل کو جاری اعدادوشمار کے مطابق دریائے سندھ میں تربیلاکے مقام پر پانی کی آمد 18 ہزار500 کیوسک اور اخراج 45 ہزارکیوسک ہے دریائے کابل میں نوشہرہ کے مقام پر پانی کی آمد7 ہزار 300 کیوسک اور اخراج7 ہزار300 کیوسک، خیرآباد پل پرپانی کی آمد 13 ہزار 200 کیوسک اور اخراج 13 ہزار 200 کیوسک،دریائےجہلم میں منگلاکےمقام پر پانی کی آمد 4 ہزار 700 کیوسک اور اخرا ج26 ہزارکیوسک، دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کی آمد 7 ہزار 400 کیوسک اور اخراج 2 ہزار کیوسک ہے۔

    کسی کے دباؤ یا بلیک میلنگ میں نہیں آئینگے، ترجمان الیکشن کمیشن

    تربیلاڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1402 فٹ ،ڈیم میں پانی کی موجودہ 1476.38 فٹ ،ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنےکی انتہائی سطح 1550فٹ اورقابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.103 ملین ایکڑ فٹ ہے، منگلا ڈیم کا کم از کم آپریٹنگ لیول 1050 فٹ ، ڈیم میں پانی کی موجودہ سطح 1159.55 فٹ ، ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 1242فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 2.177 ملین ایکڑ فٹ ہے چشمہ بیراج کا کم از کم آپریٹنگ لیول 638.15 فٹ،بیراج میں پانی کی موجودہ سطح 642.10 فٹ ، بیراج میں پانی ذخیرہ کرنے کی انتہائی سطح 649 فٹ اور قابلِ استعمال پانی کا ذخیرہ 0.060 ملین ایکڑ فٹ ہے۔

    ناسا نے خلا میں 3 کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے بلی کی …

  • مون سون بارشوں کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان

    مون سون بارشوں کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے ۔

    باغی ٹی وی: ترجمان صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ دریائے راوی اور ستلج میں درمیانے درجے کا سیلاب آ سکتا ہے دریائے راوی اور چناب سے متصل نالوں میں درمیانے درجے کے سیلاب کا امکان ہے جبکہ بھارت میں دریائے ستلج اور بیاس پر بنائے گئے ڈیمز تقریباً پانی سے بھر چکے ہیں دریائے ستلج اور بیاس کے بالائی علاقوں میں موسلا دھار بارشوں کے امکانات ہیں اور آئندہ 24 گھنٹوں میں بڑے دریاؤں کے بالائی علاقوں میں طوفانی بارشیں ہو سکتی ہیں۔

    حکام کے مطابق مون سون بارشوں کا سلسلہ 23 اگست تک جاری رہنے کا امکان ہے،گنڈا سنگھ والا اور زیریں علاقوں میں طغیانی کے امکانات ہیں جبکہ ڈویژنل کمشنرز اور متعلقہ اضلاع کی انتظامیہ کو الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

    خطہ پوٹھوہاراور پنجاب میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش کا امکان

    دوسری طرف پروونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی طرف سے دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے گزشتہ روزدریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں 19 ہزار 340 کیوسک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہےدریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ 55 ہزار 900 کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ دریائے ستلج میں17 سے 20 اگست تک دریائے ستلج میں پانی کی سطح ایک لاکھ کیوسک تک بڑھنے کا امکان ہے جبکہ بھارت کے بھکرا اور پونگ ڈیمز میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے-

    پاکستان آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کی تیاری کر رہا ہے،امریکی وزیر خارجہ

  • بلوچستان:سیلاب میں ڈیمز ٹوٹنے کا معاملہ،مختلف محکموں کے افسران ذمہ دار قرار

    بلوچستان:سیلاب میں ڈیمز ٹوٹنے کا معاملہ،مختلف محکموں کے افسران ذمہ دار قرار

    وزیراعلیٰ بلوچستان معائنہ ٹیم نے بلوچستان میں مون سون بارشوں کے باعث ڈیمز کے ٹوٹنے سے متعلق تحقیقاتی رپورٹ مرتب کرلی، جس میں ٹیکنیکل نقائص اور ناقص تعمیر کو ڈیمز کے ٹوٹنے کی وجہ قرار دیتے ہوئے مختلف محکموں کے افسران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔

    بلوچستان میں جون سے اگست 2022ء کے دوران مون سون بارشوں میں سیلابی ریلوں سے ڈیمز کے ٹوٹنے کی تحقیقات مکمل کرلی گئیں۔

    سانحہ تیزگام:شہداء کےلواحقین کو معاوضہ نہ مل سکا

    ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ معائنہ ٹیم نے تحقیقات مکمل کرکے رپورٹ چیف سیکریٹری کو بھجوادی، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈیزائن میں تکنیکی نقائص اور ناقص تعمیرات ڈیمز کے ٹونٹے کی وجہ بنی، ڈیمز کی تعمیر میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وارننگ کا بھی خیال نہیں رکھا گیا۔

    کامران اکمل نےپشاورزلمی ٹیم کوخیرباد کہہ دیا

    رپورٹ میں محکمہ آبپاشی کے متعلقہ افسران اور کنسلٹنٹس کو ڈیم ٹوٹنے کا ذمہ دار قرار دیا گیا ہے۔

    دوسری جانب بلوچستان میں ڈیمز کی حالیہ صورتحال پر محکمہ پی ڈی ایم اے نے بھی رپورٹ جاری کر دی ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ مون سون بارشوں نے صوبے کے 12 ڈیمز کو نقصان پہنچایا، جس میں چمن، کچی بولان، ڈیرہ بگٹی، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلات، کیچ، چلتن ڈیم مستونگ، قلعہ عبداللہ میں ماچکہ کے 2 ڈیمز، گوگی ڈیم سبی، سرہ خولہ ڈیم کوئٹہ شامل ہیں۔

    رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صحبت پور، موسیٰ خیل، نصیر آباد اور جعفر آباد کے ڈیمز میں سیلابی صورتحال برقرار ہے۔

    امر یکہ ومغر بی مما لک چین کےاستحکام کو نقصان پہنچانا چاہتے ہیں:چین

    پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کے مطابق ضلع لسبیلہ میں حل ڈیم شدید بارشوں کے بعد سیلاب کے باعث تاحال اوور فلو ہے۔

  • بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 21 ڈیمز ٹوٹ گئے

    بلوچستان میں بارشوں اور سیلاب سے تباہی، 21 ڈیمز ٹوٹ گئے

    بلوچستان میں بارشوں سے بھرنے والے 21 ڈیمز پانی کا دباؤ بر داشت نہ کر پائے۔

    باغی ٹی وی : 5 سال کے دوران کروڑوں روپے کی لاگت سے بننے والے 21 ڈ یمز ٹو ٹ گئے اور ڈیمز سے نکلنے والے سیلابی ریلوں نے صوبے میں جہاں تباہی مچائی وہیں یہ ریلے بلوچستان کی معیشت کو بھی بہا لے گئے جبکہ ٹھیکے داروں نے ڈیمز ٹوٹنے کی وجہ ناقص تعمیراتی مٹیریل اور کرپشن کو قرار دے دیا۔

    افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے بلوچستان میں تباہی مچا دی

    یاد رہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان کی معائنہ ٹیم نے بھی حالیہ بارشوں سے کئی ماہ قبل ہی کئی ڈیمز کی تعمیر کو ناقص قرار دیا تھا تاہم حکومت نے کوئی ایکشن نہ لیا اور نہ ہی ڈیمز کی مرمت کرائی وزیر اعلیٰ بلوچستان نے ناقص تعمیر پر ایکشن لینے کا اعلان کردیا۔

    دوسری جانب بلوچستان کے علاقواں نوشکی، قلعہ عبداللہ اور چاغی میں افغانستان سے آئے سیلابی ریلوں نے تباہی مچادی ہے سیلابی ریلوں میں نوشکی کے7 دیہات ڈوب گئے ، درجنوں مکانات تباہ ، پھلوں کے باغات اور کھڑی فصلیں بہہ گئیں-

    سندھ میں مون سون کا نیا اسپیل،بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی

    ریلے میں پھنسے 5 افراد کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے ریسکیو کرلیا گیا جبکہ سیلاب متاثرہ درجنوں دیہات کا نوشکی سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے اور سیلاب متاثرین کو ہیلی کاپٹرکے ذریعے امدادی سامان اور راشن فراہم کیا گیا۔

    سندھ میں بارشوں سے تباہی،مزید9 افراد جاں بحق،فوج سے مدد طلب

  • متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار

    اسلام آباد:متنازع ڈیمز: بھارت کا پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار ،اطلاعات کے مطابق پاکستان کے حوالے سے بھارتی ہٹ دھرمی میں‌ کوئی کمی نہیں آئی ہے اور صورت حال مزید خرات ہوتی نظر آرہی ہے ، ادھر اس حوالے سے معلوم ہوا ہےکہ متنازع ڈیمز کے حوالے سے بھارت نے پھر پاکستانی اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    تفصیلات کے مطابق پاک بھارت آبی تنازعات پر اسلام آباد میں یکم مارچ کو شروع ہونے والے سہ روزہ مذاکرات میں بھارت کی جانب سے ‘نہ مانوں’ کی رٹ برقرار ہے۔

    مذاکرات میں پاکستان نے دریائے سندھ، چناب، پونچھ پر 10 بھارتی ڈیمز کے ڈیزائن پر اعتراض کیا، ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارت نے متنازع ڈیمز پر پاکستان کے اعتراضات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔

    پاکستان نے اعتراض اٹھایا کہ بھارت 2019 سے دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر نہیں کر رہا ہے، تاہم بھارت نے پاکستان کے ساتھ پانی کے بہاؤ کا ڈیٹا شیئر کرنے سے بھی انکار کرتے ہوئے مؤقف پیش کیا کہ سندھ طاس معاہدے میں پانی کا ڈیٹا شیئر کرنے کی شق موجود نہیں ہے۔مذاکرات کے دوران پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارت کی وجہ سے پاکستان کو سیلابی صورت حال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

    واضح رہے کہ یکم مارچ کو 10 رکنی بھارتی آبی ماہرین کا وفد واہگہ کے راستے لاہور پہنچا تھا، جس کی قیادت پی کے سکسینا کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان کی جانب سے نمائندگی کمشنر انڈس واٹر کمیشن مہر علی شاہ کر رہے ہیں۔

    پاکستان کی جانب سے بھارتی آبی منصوبوں پر اعتراضات کے بعد یہ پہلا اجلاس ہے، مذاکرات شروع ہونے سے قبل مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ دریاے چناب پر بھارت کے کیروہائیڈرو پاور پراجیکٹ ڈیزائن پر پاکستان کو اعتراض ہے، مقبوضہ کشمیر میں دریاے پونچھ پر مانڈی پروجیکٹ پر بھی ہمیں اعتراض ہے۔

    انھوں نے کہا دریاے سندھ پر 24 میگا واٹ کے نیموں چلنگ، دریاے سندھ پر ٹربوک شیوک منصوبے، 25 میگا واٹ کے ہنڈر رمان کے ڈیزائن، دریاے سندھ پر سانکو ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کے ڈیزائن، 19 میگا واٹ کے مینگڑم سانگرا کے ڈیزائن پر بھی پاکستان کو اعتراض ہے۔

    خیال رہے کہ بھارتی وفد اجلاس کے بعد کل 4 مارچ کو بھارت روانہ ہو جائے گا، پاکستانی مؤقف کے مطابق بھارت کو سندھ طاس معاہدے کے تحت ہی منصوبے بنانے کی اجازت ہے۔