Baaghi TV

Tag: ڈیم فنڈ

  • سپریم کورٹ کا ڈیم فنڈ اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کا ڈیم فنڈ اکاؤنٹ بند کرنے کا حکم

    سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے اپنے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز فنڈ اکائونٹ بند کرنے کا حکم دیتے ہوئے تمام رقم حکومت کو منتقل کرنے کا حکم دے دیا

    سپریم کورٹ نے ڈیمز فنڈ کیلئے قائم اپنا ہی اکائونٹ بند کرنے کی ہدایت کر دی ،سپریم کورٹ نے ڈیمز فنڈ کی منتقلی کیلئے حکومت کے پبلک اکائونٹ کا ذیلی اکائونٹ کھولنے کی ہدایت کردی،سپریم کورٹ نے حکمنامہ میں کہا کہ حکومت ایسے اقدامات کرے کہ نجی بنکوں سے ڈیمز فنڈ کی رقم پر مارک اپ لیا جا سکے، ڈیمز کی تعمیر کیلئے جب بھی رقم درکار ہو متعلقہ اکائونٹ سے استعمال کی جا سکتی ہے،ڈیمز فنڈ کیس میں دائر تمام درخواستیں نمٹائی جاتی ہیں،واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے حکم دیا تھا کہ ڈیمز فنڈ میں موجود رقم لارجر بنچ کے حکم کے بغیر نہیں نکالی جا سکتی.

    گزشتہ سماعت پر ،دوران سماعت ایڈیشل اٹارنی آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ ڈیمز فنڈز کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ کے حکم نامے کے تحت وزیراعظم چیف جسٹس ڈیمز فنڈز اکاؤنٹ کھولا گیا، رجسٹرار سپریم کورٹ اکاؤنٹ کی دیکھ بھال کرتا تھا، تحقیقات سے علم ہوا کہ ڈیمز فنڈز اور مارک اپ میں بے قاعدگی نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اکاؤنٹ کا عنوان نامناسب ہے، ہمیشہ پریکٹس رہی آئین و قانون کے بجائے عدالتی فیصلوں کو فوقیت نہیں دینی چاہیے .

    واضح رہے کہ جولائی 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈیم فنڈز کے قیام کا اعلان کیا، اس ضمن میں انہوں نے چیف جسٹس اور پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھرسے پاکستانیوں نے عطیات جمع کرائے تھے۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

  • سپریم کورٹ،ڈیم فنڈ کی رقم 11 ارب سے 23 ارب ہو گئی

    سپریم کورٹ،ڈیم فنڈ کی رقم 11 ارب سے 23 ارب ہو گئی

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ڈیمز فنڈ کیس کی سمماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین اور قانون کے ہی ہو جاتے ہیں۔

    ڈیمز فنڈز کیس کی سماعت چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کی،دوران سماعت ایڈیشل اٹارنی آڈیٹر جنرل نے بتایا کہ سپریم کورٹ ڈیمز فنڈز کی رقم اپنے پاس نہیں رکھ سکتی، سپریم کورٹ کے حکم نامے کے تحت وزیراعظم چیف جسٹس ڈیمز فنڈز اکاؤنٹ کھولا گیا، رجسٹرار سپریم کورٹ اکاؤنٹ کی دیکھ بھال کرتا تھا، تحقیقات سے علم ہوا کہ ڈیمز فنڈز اور مارک اپ میں بے قاعدگی نہیں ہوئی، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا اکاؤنٹ کا عنوان نامناسب ہے، ہمیشہ پریکٹس رہی آئین و قانون کے بجائے عدالتی فیصلوں کو فوقیت نہیں دینی چاہیے .

    وکیل واپڈا نے عدالت میں کہا کہ ہم نے 2018 سے لیکر اب تک 19 عمل درآمد رپورٹس جمع کرائیں،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا ہم نظرثانی نہیں سن رہے، دیکھ رہے ہیں سپریم کورٹ فنڈز رکھ سکتی ہے یا نہیں،سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے عدالت میں کہا کہ فنڈز کے اکاؤنٹ کا نام تبدیل ہونے پر کوئی اعتراض نہیں، اخبارات میں آجکل بہت کچھ چھپ رہا ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا نہ آپ کو عدالت میں اخبار پڑھنے دیں گے نہ ہی یہاں اخبار پڑھیں گے، سیاسی باتوں کے بجائے آئین کے تحت معاونت کریں،خالد جاوید خان نے کہا کہ ڈیمز فنڈز کو حکومت کے استعمال کے بجائے ڈیمز کیلئے ہی استعمال ہونا چاہیے، جب ڈیمز فنڈز کیس چل رہا تھا اس وقت آرٹیکل 184کی شق 3 کے اختیار کا پھیلاؤ پورے ملک تک تھا، جبکہ ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا ڈیمز فنڈز پبلک اکاؤنٹ میں گئے تو مارک اپ نہیں لیا جاسکتا۔

    چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ فنڈز پبلک اکاؤنٹ سے مارک اپ کیلئے پرائیویٹ بینکوں میں رکھے جاسکتے ہیں، جس پر ایڈیشنل آڈیٹر جنرل کا کہنا تھا 37 سالہ ملازمت میں ایسا کبھی نہیں دیکھا، جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا ہم ڈیمز بنانے سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم نامے کی طرف نہیں جائیں گے۔

    وکیل متاثرین کا کہنا تھا تھرڈ پارٹی تنازعات بھی اس کیس سے جڑے ہوئے ہیں، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ آپ نے اس وقت نظرثانی دائر نہیں کی، جب سپریم کورٹ میں عجیب و غریب چیزیں ہو رہی ہوتی ہیں اس وقت کوئی اعتراض نہیں کرتا،لیگل ایڈوائزر اسٹیٹ بینک نے عدالت کو بتایا کہ ڈیمز فنڈ میں اس وقت 23 ارب روپے سے زائد رقم موجود ہے، فنڈ میں آنے والی رقم 11 ارب اس پر مارک اپ 12 ارب روپے سے زائد ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اسٹیٹ بینک کے حکام سے استفسار کیا مارک اپ کون ادا کرتا ہے؟ جس پر ایڈیشنل آڈیٹر جنرل غفران میمن کا کہنا تھا مارک اپ ٹی بلز کےذریعے حکومت ادا کرتی ہے، ڈیمز فنڈ کی مکمل تحقیقات کی ہیں، کوئی خردبرد نہیں ہوئی،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ حکومت اپنے آپ کو کیسے اور کیوں مارک اپ دے رہی ہے؟ جس پر ایڈیشنل اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کہا کہ مارک اپ اس پیسے پر دیا جاتا ہے جو حکومت استعمال کرتی ہے، چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ حکومت پر مارک اپ کا بوجھ ڈال کر خوش ہو رہے کہ 11 ارب روپے سے بڑھ کر 23 ارب ہو گئے، یہ تو آنکھوں میں دھول جھونکنے والی بات ہے، کیا سپریم کورٹ ڈیمز فنڈ میں موجود رقم رکھ سکتی ہے؟ایڈیشنل آڈیٹر جنرل نے جواب میں کہا کہ ڈیمز فنڈ کی رقم حکومت کے پبلک اکاؤنٹ کے ذریعے واپڈا کو جانی چاہیے۔

    جسٹس نعیم افغان نے ریمارکس دیتے ہوئےکہا کہ حکومت کی مالی حالت ٹھیک نہیں، اگر رقم واپڈا کو دی ہی نہیں تو کیا ہو گا؟چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے استفسار کیا کہ سپریم کورٹ کس دائرہ اختیار میں ڈیمز تعمیر کی پیشرفت رپورٹ مانگتی رہی؟وکیل واپڈا سعد رسول کا کہنا تھا عدالت کا مقصد صرف ڈیمز کی تعمیر کے حکم پر عملدرآمد یقینی بنانا تھا، جس پر چیف جسٹس نے کہا عمل درآمد بینچ کی تشکیل کا آئین میں کوئی ذکر ہے؟ واپڈا کے وکیل نے بتایا کہ آئین میں عمل درآمد بینچ کا ذکر نہیں لیکن کوئی پابندی بھی نہیں ہے،چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا پاکستان میں بہت سے کام بغیر آئین اور قانون کے ہی ہو جاتے ہیں،سابق اٹارنی جنرل خالد جاوید کا کہنا تھا عمل درآمد بینچ کا تصور کراچی بدامنی کیس سے شروع ہوا تھا، جس پر چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا میں نے حلف آئین کی بالادستی اور عمل درآمد کا اٹھایا تھا عدالتی فیصلوں کا نہیں،سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈز کیس کی سماعت جمعہ تک ملتوی کر دی۔

    واضح رہے کہ جولائی 2018 میں اس وقت کے چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ملک بھر میں پانی کی قلت پر از خود نوٹس لیتے ہوئے مختلف ڈیمز کی تعمیر کے لیے ڈیم فنڈز کے قیام کا اعلان کیا، اس ضمن میں انہوں نے چیف جسٹس اور پرائم منسٹر ڈیم فنڈ کے نام سے ایک بینک اکاؤنٹ بھی بنایا تھا، جس میں پاکستان سمیت دنیا بھرسے پاکستانیوں نے عطیات جمع کرائے تھے۔

    ایک نمبر کا بدمعاش اور تلنگا ڈاکٹر ریاض،دہشتگردوں سے تعلق،ایجنسیوں پر الزام

    پی آئی اے کا جنازہ ہے،ذرا دھوم سے نکلے،مرحوم کیلیے بہت دعائیں

    ثابت ہو گیا حسنہ واجد بھارت کی "کٹھ پتلی” تھی.مبشر لقمان

    190 ملین پاؤنڈ کیس،عمران کے گلے کا پھندہ،واضح ثبوت،بچنا ناممکن

    فیض حمید جیو نیوز کو بند کرنا چاہتے تھے،پی ٹی آئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار،اگلا چیئرمین کون

    ماہ رنگ بلوچ کون،دو نمبر انقلاب اور بھیانک چہرہ

    پاکستان کی بدترین شکست،ڈریسنگ روم میں لڑائی،محسن نقوی ناکام ترین چیئرمین

    جنرل عاصم منیرنے ڈنڈا اٹھا لیا، فیض حمید گواہ،اب باری خان کی

  • ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار

    سابق چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے علی پارک میں جامعہ غوثیہ میں ختم قرآن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گناہوں سے بچنا اور عبادت کرنا اہم ہے، قرآن کو پڑھنا ہی نہیں سمجھنا اور عمل کرنا اہم ہے،

    سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ زندگی گزارنے کے اسلوب قرآن کے ذریعے اللہ نے ہمیں بتلا دئیے ،ایک زندگی سے ہی گھر اور معاشرہ وجود میں آتا ہے، معاشرے میں سب سے اہم بات تربیت اور دیانت ہے، ہمیں اپنے معاملات میں دیانت اور خدمت کا شعار اپنانا ہوگا، معاملات میں دیانت ہی ہمارے دین کی اساس ہے، بچے ہمارا مستقبل ہیں میرا سیاسی مقصد نہیں ہے،پاکستان کے حالات اچھے نہیں ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاملات درست نہیں ہیں،ہمارے بچوں نے ملک کی تعلیم اور تربیت سنبھالنی ہے،آج ہم ملک کی بقاکی جنگ لڑ رہے ہیں،یہ جنگ اس لئے لڑنی پڑ رہی ہے کہ ہم دین کے اسلوب سے ہٹ گئے ہیں،زندگی کےمعاملات کی پوچھ گچھ ضرور ہوگی، بچوں کی تعلیم وتربیت کی ہے یا نہیں اس کی باز پرس ضرور ہوگی، جب ہم لوگ اپنے اندر جھانک کردیکھیں گے تو ہمیں اپنی خامیاں اور کوتاہیاں دکھائی دیں گی، ہمیں اپنے اندر سے منافقت ختم کرنا ہوگی اپنی اناوں کو ختم کرنا ہو گا، لوگوں نے ڈیم کی رقم جو دی ہے محفوظ ہاتھوں میں ہے، ڈیم کی رقم دس ارب جمع ہوئی تھی،اس رقم کی حفاظت کےلئے پانچ رکنی بنچ تشکیل دیاتھا،اس رقم کو بنچ نے انویسٹ کردیا تھا جو بڑھ کر17 ارب روہے ہوگیا،دنیا سے ماہرین کو بلاکر جو ہم نے سٹڈی کرائی اس کے مطابق پاکستان سے سال 2025 تک پانی ختم ہوجانا تھا

    سینئیر قانون دان رفاقت کاہلوں اور دیگر مقررین نے بھی ختم قرآن کی تقریب سے خطاب کیا،مسجد میں موجود شہری نے ڈیم سے متعلق سابق چیف جسٹس ثاقب نثار سے سوال کیا، انتظامیہ نے سوال کرنے والے شہری کو بات کرنے سے منع کرنا چاہا،سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے سوال کرنے والے کو سوال کرنے کی اجازت دیتے ہوئے مسجدکی انتظامیہ کو منع کرنے سے روک دیا اور کہا کہ ڈیم کے بارے سوال کرنا ہر اس شخص کا حق ہے جس نے ڈیم فنڈ میں دس روپے بھی جمع کرائے۔ ،سوال کرنا آپ کا حق ہے جس نے دس روپے بھی دئیے وہ مجھ سے سوال کرنے کا استحقاق رکھتا ہے،جس سپیڈ سے ہم ڈیم کی تعمیر کرانا چاہتے تھے اس میں جو رکاوٹیں آئیں وہ ذکر نہیں کرنا چاہتا، پاکستان کی بقاء کے لئے ڈیم بنانے کا آغاز کیا،اسی لئے کہا کہ اس کا نام بدل کر ہاکستان ڈیم رکھ دیا جائے، پانی ہم سب کی زندگی کےلئے لازم ہے ہوری دنیا کو فیکٹری میں بدل دیاجائے تو دوگیلن پانی نہیں بن سکتا ہانی قدرت کی سب سے بڑی نعمت ہےجو خدا ہی بھیجتا ہے ،

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ڈیم فنڈ کے حوالے سے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے ،درخواست عدنان اقبال کی جانب سے دائر کی گئی ہے ڈیم فنڈ پر چیف جسٹس کا اختیار ختم کرنے کیلیے درخواست دائرکی گئی ہے،،مقامی وکیل عدنان اقبال کی جانب سے درخواست دائر کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جتنی رقم ڈیم فنڈ میں جمع ہوئی اس سے زیادہ اس سرگرمی کی تشہیر پر لگی 13 ارب کی تشہیری مہم سے 10 ارب روپے حاصل کیے گئے ڈیم فنڈز کے اکاﺅنٹ ٹائٹل سے چیف جسٹس کا نام ہٹایا جائے اورحتمی فیصلے تک رجسٹرار سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈز پر اختیار کو معطل کیا جائے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کیا جائے ،ثاقب نثار سے پوچھا جائے کس حیثیت میں عدلیہ کو غیرمتعلقہ کام میں ملوث کیا

  • ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ عدالت کے ریمارکس

    ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ عدالت کے ریمارکس

    اسلام آباد ہائیکورٹ، ڈیم فنڈ پر سپریم کورٹ کے اختیارات کیخلاف درخواست پر سماعت ہوئی

    عدالت نے درخواست قابل سماعت ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا .اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سماعت کی،وکیل عدنان اقبال عدالت میں پیش ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نوٹیفیکیشن پورا پڑھیں اس میں کیا ہے، وکیل عدنان اقبال نے کہا کہ کرنٹ اکاؤنٹ ہولڈرز پرانے رجسٹرار صاحب ہیں ، عدالت نے استفسار کیا کہ تو کیا ہوا اس میں ایشو کیا ہے ،وکیل نے کہا کہ ہم یہ چاہ رہے ہیں کہ ڈیم بنانا ایگزیکٹو کا کام ہے سپریم کورٹ کیسے دیکھ رہی ہے ،175 آرٹیکل کی خلاف ورزی ہے،

    اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کہتے ہیں کہ جوڈیشری کے اکاؤنٹ میں پیسے نہ ہوں، ایسے تو پھر ہم بھی یہی کرتے ہیں ہمارے اکاؤنٹ میں بھی سیلری آتی ہے، وکیل عدنان اقبال نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اتنے کیسز التوا میں ہیں انھیں دیکھنا چاہیئے ، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ تو اس میں کیا ہے وہ تو انتظامی طور پر معاملہ ہورہا ہے ، سپریم کورٹ بھی ایگزیکٹو باڈی ہے یا تو آپ کہیں کہ وہ پیسہ اپنے گھروں میں لگا رہے ہیں، آپ نے اس وقت پٹیشن کیوں نہیں کی جب کلیکشن ہو رہی تھی ، ڈیم فنڈ جب اکٹھا ہو رہا تھا تب آپ نے کیوں اعتراض نہیں کیا؟ اب ڈیم فنڈز جمع ہوئے پانچ سال ہو چکے ہیں،ڈیم فنڈز پر اگر اعتراض ہوتا تو اسٹیٹ بینک کو ہوتا ،اسٹیٹ بینک کو کوئی اعتراض ہوتا تو اکاونٹ ہی نہ کھلتا ،وکیل درخواستگزار نے کہا کہ سپریم کورٹ کا اختیار نہیں کہ اس طرح فنڈز اکٹھے کرے،

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

    دیامر بھاشا ڈیم منصوبے سے دشمن کو تکلیف ہو رہی ہے،فیصل واوڈا

    ڈیم مخالف ٹرینڈ ، بھارتی عزائم کا ٹرینڈ ہے ، بھارتی پراپیگنڈہ چند شرپسند عناصرپھیلا رہے ہیں‌، جویریہ صدیقی

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    واضح رہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ڈیم فنڈ کے حوالے سے درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کر دی گئی ہے ،درخواست عدنان اقبال کی جانب سے دائر کی گئی ہے ڈیم فنڈ پر چیف جسٹس کا اختیار ختم کرنے کیلیے درخواست دائرکی گئی ہے،،مقامی وکیل عدنان اقبال کی جانب سے درخواست دائر کر دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جتنی رقم ڈیم فنڈ میں جمع ہوئی اس سے زیادہ اس سرگرمی کی تشہیر پر لگی 13 ارب کی تشہیری مہم سے 10 ارب روپے حاصل کیے گئے ڈیم فنڈز کے اکاﺅنٹ ٹائٹل سے چیف جسٹس کا نام ہٹایا جائے اورحتمی فیصلے تک رجسٹرار سپریم کورٹ کے ڈیم فنڈز پر اختیار کو معطل کیا جائے ،درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو طلب کیا جائے ،ثاقب نثار سے پوچھا جائے کس حیثیت میں عدلیہ کو غیرمتعلقہ کام میں ملوث کیا

  • سپریم کورٹ کی آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

    سپریم کورٹ کی آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

    سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ سٹیٹ بنک کیساتھ مل کر ڈونرز اور سرمایہ جاری کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے، دستاویزات میں بے ضابطگی ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کی جائے، حکام سٹیٹ بینک نے کہا کہ ڈیمز فنڈ سے کوئی اخراجات ہوئے نہ کبھی کسی نے رقم نکالی،ڈیمز فنڈ میں اس وقت 16 ارب سے زائد رقم موجود ہے،جو رقم بھی آتی ہے سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر دی جاتی ہے،نیشنل بنک کے ذریعے ٹی بلز میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمز فنڈ کے ڈونرز کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے،

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کی تو فنڈ میں دس ارب تھے جو 26 جنوری کو 17 ارب ہو جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتائیں گے کہ انکے فنڈ سے کونسی مشینری خریدی گئی،ڈیمز فنڈ کا پیسہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی مرمت پر نہیں خرچ ہوگا،ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں، سیکرٹری واٹر نے عدالت میں کہا کہ 2.4 ارب جاری کرنے کیلئے ہدایات دے دی ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یقینی بنائیں کہ ڈیمز منصوبے کو اس سارے عمل میں نقصان نہ ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات پر تشویش ہے، ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سےاخراجات کم ہوں، اچھی قومیں چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں،

    سعد رسول وکیل واپڈا نے عدالت میں کہا کہ پاور ڈویژن پر واپڈا کے 240 ارب روپے واجب الادا ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن کیوں واپڈا کو ادائیگی نہیں کررہا ؟ سیکرٹری پاور نے کہا کہ ہمیں بجلی کی مد میں وصولیوں پر 400 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے،گردشی قرضہ 2 کھرب 600 ارب روپے سے تجاوز کرگیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے آئی ایم ایف نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے، سیکرٹری پاور نے کہا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کے نرخ کم اور اخراجات زیادہ ہیں،بہت سی جگہوں پر ہم 100 یونٹس فروخت کریں تو رقم 10 یونٹس کی ملتی ہے،بہت سے علاقوں میں میٹر کا تصور ہی نہیں ہے، کیسکو کمپنی نے گزشتہ سال 94 ارب روپے کی بجلی دی لیکن رقم صرف 25 ارب روپے ملی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سے یہ کمپنیاں نہیں چلتی تو نجکاری کیوں نہیں کردیتے ؟ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ان کو دے دیں جو چلا سکیں، آڈیٹر جنرل ڈیم فنڈ کی تمام رقم کو چیک کریں کہ کوئی بے ضابطگی تو نہیں ہوئی ؟ ہم سب ٹرسٹی ہیں اور یہ رقم لوگوں کی امانت ہے، یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ آج بھی ڈیم فنڈ میں پیسے آرہے ہیں،

    سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ ملک میں اس وقت سرکلر ڈیٹ 2.6 ٹریلین روپے ہے، سرکولر ڈیٹ میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے، بعض گرڈ سٹیشنز پر 90 فیصد سے زائد بجلی چوری ہوتی ہے،کیسکو نے گزشتہ سال 95 ارب کی بجلی دی بل صرف 25 ارب جمع ہوا، کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے، بجلی چوری میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں،
    بجلی چوروں کیخلاف کارروائی بھی پورے دل کیساتھ نہیں کی جاتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈسکوز کا یہ حال ہے تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟ آئی ایم ایف اور حکومت دونوں کو ہی سرکولر ڈیٹ پر تشویش ہے، سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے سرکولر ڈیٹ میں بہتری آئی ہے،بجلی قیمت خرید اور فروخت میں سالانہ 400 ارب روپے کا شارٹ فال ہے، وکیل واپڈا نے کہا کہ پاور ڈویژن نے سی پی پی اے کی مد 240 ارب ادا کرنے ہیں،ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ ہونے سے ڈیمز کا کام متاثر ہو رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ممکن ہے پیسوں کی کمی کے باعث حکومت ادائیگی نہ کر پا رہی ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں وکیل واپڈا نے کہا کہ سیلاب اور سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ڈیمز کا کام متاثر ہوا،سیلاب سے مہمند ڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا،فنڈز کی کمی بھی ڈیمز منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے،پی ایس ڈی پی میں مختص رقم بھی نہیں مل رہی،کرونا کی وجہ سے بین الاقوامی ماہرین بھی واپس چلے گئے تھے،
    ڈیمز کی تعمیر کا کام مقررہ وقت سے کم و بیش ایک سال پیچھے رہ گیا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا

    عدالت کیا کرے جو ڈیم بنا رہے ہیں وہی ان معاملات کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    ‏دیامیر بھاشا ڈیم کو میں نے ایٹمی پروگرام جتنا اہم منصوبہ قرار دیا اور محنت کر کے سی پیک میں شامل کروایا ، احسن اقبال

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

    سینیٹ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر بارے رپورٹ پیش ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج

    سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کا تذکرہ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟

    کالا باغ ڈیم ضروری،نئے ڈیمز نہ بنے تو صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے ،چیئرمین ارسا

  • پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ڈیم فنڈ کی تفصیلات طلب کرلیں

    پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ڈیم فنڈ کی تفصیلات طلب کرلیں

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین نور عالم خان کی زیر صدارت ہوا

    اجلاس میں حالیہ سیلاب میں متاثر ہونے والے ڈیمز کے حوالہ سے سیکرٹری آبی وسائل نے بریفنگ دی اورکہا کہ چھوٹے اور میڈیم ڈیمز کو صوبے دیکھتی ہیں، شیخ روحیل اصغر نے کہا کہ کالاباغ ڈیم پہ ایک بریفنگ دیں کہ اعتراضات کا پتہ چل سکے،نور عالم خان نے کہا کہ اس پر سندھ اور خیبرپختونخوا کو تحفظات ہیں، برجیس طاہر نے کہا کہ پوری قوم سوال پوچھ رہی ہے کہ کس نے دریا کے کنارے تعمیرات کی اجازت دی،اگر ان لوگوں کی نشاندہی ہوئی ہے تو ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی،نور عالم خان نے کہا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے، نور عالم خان نے استفسار کیا کہ جو ڈیمز خراب ہوچکے ہیں کب تک بحال ہوجائینگے،کمیٹی اجلاس میں بتایا گیا کہ پچاس ڈیمز بحال بھی کرچکے ہیں،پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے رجسٹرار سپریم کورٹ سے ڈیم فنڈ کی تفصیلات طلب کرلیں۔ پی اے سی کے اگلے اجلاس میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی طلب کرلیا۔

    فوج اور قوم کے درمیان خلیج پیدا کرنا ملک دشمن قوتوں کا ایجنڈا ہے،پرویز الہیٰ

    سپریم کورٹ نے دیا پی ٹی آئی کو جھٹکا،فواد چودھری کو بولنے سے بھی روک دیا

    بیانیہ پٹ گیا، عمران خان کا پول کھلنے والا ہے ،آئی ایم ایف ڈیل، انجام کیا ہو گا؟

    سینئر قیادت پرہتک آمیز،انتہائی غیرضروری بیان پرپاک آرمی میں شدید غم وغصہ ہے،ڈی جی آئی ایس پی آر

    سافٹ ویئر اپڈیٹ، میں پاک فوج سے معافی مانگتی ہوں،خاتون کا ویڈیو پیغام

  • ٹویوٹا انڈس موٹرز نے پاکستانیوں کو خوش کر دیا …

    ٹویوٹا انڈس موٹرز نے پاکستانیوں کو خوش کر دیا …

    کراچی: ٹویوٹا انڈس موٹر کمپنی نے دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کی تعمیر میں مدد کرنے کے عزم کے تحت وزیراعظم عمران خان کو 20 ملین روپے کا ایک اور چیک پیش کردیا ،
    اکتوبر 2018 میں ٹویوٹا انڈس موٹرز نے دیامر بھاشا اور مہند ڈیم کی تعمیر کیلئے پانچ سالوں میں 100 ملین روپے جمع کروانے کا اعلان کیا تھا ، جبکہ یہ بیس ملین روپے کا دوسرا چیک ہے جو وقت سے پہلے پیش کردیا گیا ،