Baaghi TV

Tag: ڈیم

  • ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟ — انجنئیر ظفر اقبال وٹو

    ‎موجودہ سیلابی صورت حال کی آڑ لے کر ایک مخصوص لابی یہ ڈیم مخالف جذبات ابھارنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ڈیم سیلاب کو نہیں روک سکتے ۔ میری رائے میں تو جو بندہ ایسی عامیانہ بات کرتا ہے شائد وہ ڈیم کے کام کرنے کی سائنس سے نابلد ہے ۔

    ‎ورلڈ کمیشن آن لارج ڈیمز کے ڈیم رجسٹر مطابق اس وقت پوری دنیا میں بنائے گئے ڈیموں کی کل تعداد 58,000 ہے جس میں سے آدھے سے زیادہ ڈیم صرف ہمارے دو پڑوسی ملکوں چین اور ہندوستان میں ہیں۔ جی ہاں 24,000 ڈیم چین میں اور 4،400ڈیم انڈیا میں۔

    ‎پاکستان کے ڈیموں کی تعداد 500 بھی نہیں بنتی جس میں اصلی نسلی بڑے ڈیم ایک درجن بھی نہیں اور ہمارے ہاں ڈیم نہ بنانے کی تحریک چل رہی ہے اور ہمیں ٹی چینلز کے ٹاک شوز میں امریکہ میں ڈیم ختم کرنے کی مثالیں دی جاتی ہیں جس نے خود 10,000 ڈیم بنا رکھے ہیں۔

    ‎کوئی بھی بڑا ڈیم کثیر المقاصد ہوتا ہے۔ ڈیم کا بنیادی کام پانی کو ذخیرہ کرنا ہوتا ہے جسے بعد ازاں آب پاشی اور زراعت، بجلی بنانے ،صنعتی اور گھریلو استعمال ، ماحولیاتی بہتری ، ماہی گیری ، سیاحت اور زیر زمین پانی کی سطح بلند کرنے کے کام میں لایا جاتا ہے۔

    ‎اوپر دئے گئے مقاصد کے ساتھ ساتھ ڈیم مفت میں سیلاب کا زور توڑنے کا کام بھی کرتا ہے اور ایک سے زیادہ ڈیم اوپر نیچے ہوں تو وہ سیلاب کا سارا پانی ذخیرہ کرکے سیلابی تباہی روک لیتے ہیں۔

    ‎دنیا کے ہر ڈیم ،خواہ وہ چھوٹا ہو یا بڑا ، اس کے ڈیزائن کا بنیادی مقصد ہی پیچھے سے آنے والے بڑے سیلابی ریلے کا زور توڑ کر اسے چھوٹے کمزور ریلے میں بدل کر آگے بھیجنے کے اصول پر بنا ہوتا ہے اور اگر دریائی گزرگاہوں پر اوپر تلے ایسے ڈیم بنا دئے جائیں تو بڑے سیلابی ریلے اپنی موت آپ مر جاتے ہیں ۔ ٹیکنیکل زبان میں اسے فلڈ راوٹنگ یا پھر فلڈ پیک اٹینوایشن کہتے ہیں جس کا گراف پوسٹ کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

    ‎امریکہ کی معیشت ہوور ڈیم کے بعد ہی سنبھلی اور چین نے سنبھلتے ہی دنیا کا سب سے بڑا تھری گور جز ڈیم کے نام سے بنایا اور تو اور افریقہ کے قحط زدہ ملک ایتھوپیا نے سنبھلتے ہی دریائے نیل پر میکینئیم ڈیم بنا دیا ہے ۔ صرف یہ ایک ڈیم 6,000 میگاواٹ تک بجلی بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ تربیلا ڈیم سے بہت زیادہ ہے۔

    ‎پاکستان میں بارشیں سال کے صرف تین مہینوں میں ہوجاتی ہیں جب کہ ہماری فصلوں کو سارا سال پانی چاہئے ہوتا ہے۔ ڈیمانڈ اور سپلائی کے فرق کو صرف اسٹوریج سے ہی پورا کیا جا سکتا ہے لہذا پاکستان جیسے زرعی ملک کے لئے تو ڈیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہیں۔

    ‎یونیورسٹی آف ٹوکیو جاپان کے پروفیسرز نے حال ہی میں دنیا بھر کے ڈیموں کے اوپر اپنی
    ‎طرز کی سب سے پہلی کی جانے والی ریسرچ (لنک کمنٹ میں) سے یہ ثابت کیا ہے کہ ڈیم نہ صرف سیلاب کو روکتے ہیں بلکہ ڈیم عالمی موسمیاتی تبدیلی کے اثر کو بڑی حد تک کم کرنے میں مدد کرتے ہیں ۔

    ‎دریاوں کے علاوہ پہاڑی سیلابی نالوں سے آنے والے بڑے سیلابی ریلوں کو بھی بڑی تعداد میں ڈیم بنا کر سیلاب سے بچا جا سکتا ہے جس کا واضح ثبوت اس سال کے سیلاب میں ڈیرہ اسماعیل خان کے شہر کا گومل زم ڈیم بننے کی وجہ سے بچ جانا ہے حالانکہ ڈیرہ کے شمال میں میانوالی ٹانک اور ڈیرہ کے جنوب میں تونسہ میں پہاڑی سیلابی نالوں پر ڈیم نہ بننے سے بہت تباہی ہوئی ہے۔

    ‎بلوچستان میں ہونے والی بارشوں کے پانی کا حجم بھی کم از کم 20 ملین ایکڑ فٹ ہوتا ہے جب وہاں اب تک تعمیر کئے گئے ڈیموں کی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت صرف1.5 ملئین ایکڑ فٹ ہے اور بقیہ 18.5 ملئین ایکڑ فٹ پانی سیلابی ریلوں کی صورت تباہی مچاتا ہے۔

    ‎پاکستان میں بھی ایسی مناسب جگہیں ہیں جہاں دنیا کے سب سے بڑے ڈیم تھری گور جز سے بھی بڑا ڈیم بن سکتا ہیں لیکن ایسے مواقع کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔عالمی فنڈنگ ادارے بھی ایسے منصوبوں کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں جب کہ ہمارے پڑوس میں وہ ایسے منصوبوں کی مکمل سرپرستی کرتے ہیں۔

    ‎تو جناب سوال یہ نہیں کہ کیا ڈیم سیلاب کو روک سکتے ہیں ؟
    ‎بلکہ
    ‎ اصل سوال یہ ہے کہ سیلاب کو روکنے کے لئے ہم کثیر تعداد میں ڈیم کیوں نہیں بناتے؟ وہ کون لوگ ہیں جو پانی کی کمی پیدا کرکے ہمارے زرعی معیشت کی کمر توڑناچاہتے ہیں۔

  • پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا

    پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا

    اسلام آباد: پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ارکان کی طرف سے ایک بڑا فیصلہ سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ میں ڈیم فنڈکی تحقیقات ہونی چاہیں، اس حوالے سے یہ بھی معلوم ہوا ہے نہ صرف تحقیقات کی جائیں گی بلکہ پبلک اکاونٹس کمیٹی میں سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی بلایا جاسکتا ہے۔

    اہل وطن کیلیےخوشخبری آگئی:مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے10مقامات پر بیک وقت…

    تفصیلات کے مطابق پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) ارکان نے سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کا معاملہ اٹھادیا، ارکان نے ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا مطالبہ کردیا۔

    کمیٹی رکن برجیس طاہر نے کہا کہ ڈیم فنڈ حقیقت میں ڈیم فول ہے، ڈیم کے لیے چندہ اکھٹا کر کے قوم کا مذاق بنایا گیا، دنیا میں کوئی ایسا ملک نہیں جس نے چندے سے ڈیم بنائے ہوں، فنڈ کےلیے9 ارب روپےاکھٹے کیےگئے اور 13 ارب اشتہارات پر لگا دیے گئے۔

    پی اے سی نے آڈیٹر جنرل کو سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کا ٹاسک دے دیا، چیئرمین کمیٹی نور عالم خان نے ہدایت کی کہ آڈیٹرجنرل سپریم کورٹ ڈیم فنڈ کی تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کریں۔

    سپریم کورٹ نے ڈیم فنڈ میں عطیہ کردہ 12کنال زمین مالک کو واپس کردی

    انہوں نے کہا کہ تحقیقات کی جائیں ڈیم فنڈ کے اشتہارات پر کتنے اخراجات آئے، کتنے خاندانوں نے ڈیم فنڈ سے بیرون ملک سفر کیا۔

    چیئرمین پی اے سی نے ڈیم فنڈ شروع کرنے والے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کو بھی طلب کرنے کا عندیہ دے دیا، چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ مالی بے ضابطگیاں سامنے آنے پر سابق چیف جسٹس کو بھی بلائیں گے۔

     

    چارپیسوں کی خاطرباپ کوڈپریشن کا مریض ثابت کررہے ہو:ڈیم بن رہا ہے:سپریم کورٹ

    یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے پچھلے چیف جسٹس گلزار احمد بھی اس حوالے سے ادارے کی طرف سےریمارکس دے چکے ہیں ،اس سلسلے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا تھا کہ ڈیم فنڈ کا پیسہ سپریم کورٹ کے پاس موجود ہے۔ جب بھی ضرورت ہو واپڈا عدالت کو رقم کی فراہمی کا کہہ سکتا ہے۔
    اسلام آباد میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے دیامر بھاشا ڈیم کیس کی سماعت کی تھی

  • خورشید شاہ کا داسوڈیم منصوبے میں مقامی ملازمتوں کا کوٹہ 100 فیصد کرنے کا اعلان

    خورشید شاہ کا داسوڈیم منصوبے میں مقامی ملازمتوں کا کوٹہ 100 فیصد کرنے کا اعلان

    وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ نے داسو ڈیم متاثرین کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ چیئرمین واپڈا سے کہا ہے چھوٹی ملازمتیں 100 فیصد مقامی لوگوں کودی جائیں

    وفاقی وزیر سید خورشید شاہ نے داسوڈیم منصوبے میں مقامی ملازمتوں کا کوٹہ 100 فیصد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ کوہستان کے لیے ایک ارب روپے کی ترقیاتی گرانٹ اسی بجٹ میں رکھی جائے گی کوہستان کی ہر تحصیل میں ٹیکنیکل کالج قائم ہو گا، صحت کا نظام بہتر بنایا جائے گا،کوہستان کی ہر تحصیل میں بی آئی ایس پی،نادرا کے دفاتر قائم ہوں گے، اسلام آباد میں ایک اجلاس صرف کوہستان کے مسائل پر ہی رکھوں گا بجٹ کے بعد کوہستان عملی اقدامات کر کے آؤں گا،

    قبل ازیں وفاقی وزیرِ آبی وسائل خورشید شاہ نے داسو ڈیم پراجیکٹ سائٹ کا دورہ کیا ہے اور منصوبے کا فضائی جائزہ بھی لیا ہے۔اس موقع پر چیئرمین واپڈا نوید اصغر چوہدری، پیپلز پارٹی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری فیصل کریم کنڈی و دیگر حکام ان کے ہمراہ تھے۔

    وفاقی وزیر آبی وسائل خورشید شاہ کو داسو ڈیم پراجیکٹ سائٹ پربریفنگ میں بتایا گیا کہ داسو منصوبے پر کام کی رفتار مارچ سے تیز ہوئی ہے منصوبے کی مجموعی لاگت 510 ارب ہے منصوبے کی لاگت بڑھنے کی توقع ہے سمبر تک پانی کی دونوں ڈائیورشنز ٹنل مکمل ہو جائیں گی جس کے بعد مین ڈیم کی تعمیر شروع ہو گیا اس وقت منصوبے تک رسائی کی سڑکوں پر کام تیزی سے مکمل ہو رہا ہے منصوبے کا پاور ہاؤس ایک کلومیٹر انڈر گرائونڈ ہے جس کی کھدائی تقریبا ًمکمل ہو چکی ہے مین ڈیم کی تکمیل مئی 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف ہے بجلی کی پیداوار کے پہلے تین یونٹ جون 2026 تک شروع ہونے کا ہدف ہے بجلی کی مکمل پیداوار جنوری 2027 تک شروع کرنے کا نظرثانی شدہ ہدف ہے یہ منصوبہ پہلے 2023 تک مکمل ہونا تھا۔داسو ڈیم منصوبے میں تاخیر کی بڑی وجہ لینڈ ایکوزیشن بروقت نہ ہونا ہے داسو ڈیم 4320 میگا واٹ کا منصوبہ ہے بھاشا ڈیم بننے کے بعد داسو ڈیم سے بجلی پیداوار 5400 میگا واٹ تک لے جا سکتے ہیں

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

    سینیٹ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر بارے رپورٹ پیش ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج

    سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کا تذکرہ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟

    کالا باغ ڈیم ضروری،نئے ڈیمز نہ بنے تو صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے ،چیئرمین ارسا

    عدالت کیا کرے جو ڈیم بنا رہے ہیں وہی ان معاملات کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    بھارتی آبی جارحیت،پاکستان کا پانی روکنے کے منصوبہ کی دی مودی سرکار نے منظوری

  • اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

    اقتصادی ترقی کیلئے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی سے فائدہ اٹھاناہوگا،افتخار علی ملک

    صدر سارک چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری افتخار علی ملک کا کہنا ہے کہ سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے توانائی ناگزیر ہے اور توانائی کی طلب اور رسد کے درمیان بڑھتے ہوئے فرق سے نمٹنے کے لیے نئے ڈیم اور قابل تجدید توانائی کی صلاحیت سے فائدہ اٹھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    تعلیم یافتہ نوجوان خواتین کے وفد کی سربراہ عائشہ عبدالخالق بٹ سے اسلام آباد میں بات کرتے ہوئے نے کہا کہ قابل تجدید توانائی کے وسائل سے بھرپور استفادہ کرنے اور آبپاشی اور بجلی دونوں مقاصد کے لیے پانی ذخیرہ کرنے کے لیے کالا باغ ڈیم سمیت نئے ڈیموں کی تعمیر کی فوری ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ہائیڈرو پاور پاکستان میں قابل تجدید توانائی کا سب سے بڑا سستا ذریعہ ہے اور پاکستان میں اس کی بڑی صلاحیت موجود ہے۔

    اربوں روپے مالیت کا سیلابی پانی جو ضائع ہو جاتا ہے اس کو بھی متعدد مقاصد کے لیے ذخیرہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پانی کی قلت کا سامنا کرنے والے دنیا کے 10 ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔ موسمیاتی تبدیلی اور دیگر عوامل کے باعث ہم گرمیوں میں سیلاب اور سردیوں میں بار بار خشک سالی کا شکار ہوتے ہیں۔ افتخار علی ملک نے کہا کہ سرحدی آبی تعاون وسیع علاقائی انضمام، امن اور پائیدار ترقی کے ساتھ ساتھ علاقائی و سلامتی کے چیلنجوں سے نمٹنے اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، اس وقت پاکستان اپنی توانائی کی 75 فیصد سے زیادہ ضروریات اندرونی وسائل سے پوری کرتا ہے جس میں سے 50.4 فیصد مقامی گیس، 28.4 فیصد مقامی اور درآمدی تیل جبکہ 12.7 فیصد پن بجلی سے پوری ہو رہی ہیں۔

    قابل تجدید توانائی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پاس چار اہم قابل تجدید ذرائع ہوا، شمسی، ہائیڈرو اور بائیو ماس دستیاب ہیں۔ اگر ان وسائل کا صحیح استعمال کیا جائے تو یہ پاکستان میں دیرپا توانائی کے بحران کا بہترین حل فراہم کرتے ہیں۔ اگر ان وسائل کو بہتر انداز میں استعمال کیا جائے تو متنوع توانائی کی فراہمی کو بہتر بنانے، درآمد شدہ ایندھن پر انحصار کو کم کرنے اور ماحولیاتی آلودگی کو دور کرنے میں بہت مدد مل سکتی ہے۔ عائشہ عبدالخالق بٹ نے کہا کہ شمسی توانائی کے قابل تجدید توانائی کے وسائل میں اتنا ہی قابل اعتماد ہے اور ماحول پر منفی اثر ڈالے بغیر بڑی مقدار میں توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ ملک کے تقریباً ہر حصے میں روزانہ 8 سے 10 گھنٹے اور سال میں 300 سے زیادہ دن سورج کی روشنی دستیاب ہے۔ مزید اظہار خیال کرتے ہوئے طلب اور رسد میں موجود فرق سے نمٹنے کی ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ دنیا بھر میں روایتی ذرائع توانائی کی فراہمی سے قابل تجدید وسائل پر انحصار میں مستحکم تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔ پاکستان کو قابل تجدید توانائی کے لیے کوششیں جاری رکھنا چاہیے۔

    تاہم بجلی کی طلب اور پیداوار کے درمیان موجودہ فرق کے ساتھ سالانہ 8 سے 10 فیصد مسلسل اضافہ تشویشناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کے لیے قرضہ سکیم کے ذریعے چھوٹے پیمانے پر قابل تجدید توانائی کے نظام کی خریداری کے لیے پالیسی کی حوصلہ افزائی اور اسے آسان بنایا جانا چاہیے۔

    اس شعبے میں مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کی بھی ضرورت ہے۔ 2030 تک پاکستان کی بجلی کی طلب 11,000 میگاواٹ تک بڑھنے کا امکان ہے۔ اس لیے پائیدار توانائی کے حصول کے لیے قابل تجدید توانائی کی صلاحیت کو مکمل طور پر بروئے کار لانے اور اس کے راستے میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے ایک زیادہ جامع نقطہ نظر اور پالیسی کی ضرورت ہے۔

  • ملک کےبیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اورخشک رہےگا،خان پور ڈیم میں پانی کی سطح بھی خطرناک حد تک کم

    ملک کےبیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اورخشک رہےگا،خان پور ڈیم میں پانی کی سطح بھی خطرناک حد تک کم

    محکمہ موسمیات کے مطابق ملک کےبیشتر میدانی علاقوں میں موسم گرم اورخشک رہےگا-

    باغی ٹی وی : محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج بھی موسم گرم اورمرطوب رہےگا، گلگت بلتستان ،آزاد کشمیراور بالائی خیبرپختونخوا میں بارش کا امکان ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق جنوبی پنجاب اوربالائی سندھ میں موسم شدید گرم رہے گا،اسلام آباد میں چند مقامات پر تیزہواؤں،آندھی اور گرج چمک کےساتھ بارش متوقع ہے-

    محکمہ موسمیات کے مطابق کراچی میں آج بھی موسم گرم اور مرطوب رہے گا ،آج بھی شہر میں تیز ہوائیں چلیں گی،شہر کا موجودہ درجہ حرارت 29 ڈگری سینٹی گریڈ ہے ،دن میں درجہ حررات 34 سے 36 ڈگری سینٹی گریڈ تک رہے گا،دن میں ہوا 40 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے چلے گی –

    دوسری جانب خان پور ڈیم میں پانی کی سطح خطرناک حد تک کم ہوگئی،انتہائی سطح ایک ہزار 910فٹ رہ گئی ، خان پورڈیم سے راولپنڈی اور اسلام آباد کو پینے کے پانی کی سپلائی معطل ہونے کا خدشہ ہے، خان پور ڈیم میں پانی کی سطح ایک ہزار 982 سے کم ہوکر ایک ہزار 934 فٹ ہوگئی-

    ڈیم ذرائع کے مطابق خان پور ڈیم میں کی آمد 194 کیوسک اور اخراج 121 کیوسک ہے،خان پور ڈیم سے راولپنڈی اسلام آباد کوروزانہ 100 کیوسک پانی فراہم کیا جاتا ہے-

    وزیراعظم شہبازشریف کا برطانوی ہم منصب سے ٹیلیفونک رابطہ

  • ڈیموں میں پانی کی آمد کم اخراج زیادہ، پانی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ

    ڈیموں میں پانی کی آمد کم اخراج زیادہ، پانی کا بحران مزید سنگین ہونے کا خدشہ

    شدید گرمی اور لوڈشیڈنگ کے بعد کاشتکاروں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے عوام کے لئے ایک اور بری خبر یہ ہے کہ تربیلا ڈیم ڈیڈ لیول پر پہنچ چکا ہے اور دریائوں میں پانی کا بہاؤ کم ہو گیا ہے-

    باغی ٹی وی : تربیلا میں پانی کی آمد 66 ہزار300 کیوسک اوراخراج 65 ہزار500 کیوسک ہے منگلا میں پانی کی آمد 27 ہزار300 کیوسک اوراخراج 34 ہزار100 کیوسک ہے-

    ملک کے بیشتر شہروں میں آج موسم کیسا رہے گا؟

    چشمہ میں پانی کی آمد 97 ہزار100 کیوسک اوراخراج ایک لاکھ کیوسک ہےدریائےچناب میں پانی کی آمد 23 ہزارکیوسک ہےجبکہ اخراج 13ہزارکیوسک ہے دریائےکابل میں پانی کی آمد 27ہزار100کیوسک اوراخراج بھی 27ہزار100کیوسک ہی ہے-

    ترجمان واپڈا کے مطابق منگلا میں آج پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 68 ہزارایکڑ فٹ ہے، چشمہ میں آج پانی کا ذخیرہ 23 ہزارایکڑ فٹ ہے ،تربیلا ،منگلااورچشمہ ریزوائر میں پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک لاکھ 91 ہزارایکڑ فٹ ہے-

    دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں 10 گھنٹے تک کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے زیادہ نقصانات والے علاقوں میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ زیادہ ہے-

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق ملک میں بجلی کا شارٹ فال 5 ہزار 322 میگاواٹ ہے ،بجلی کی مجموعی پیداوار 20 ہزار 178 میگاواٹ ہے،ملک میں بجلی کی طلب 25 ہزار 500 میگاواٹ ہے، پانی سے 4 ہزار 900 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے سرکاری تھرمل پلانٹس ایک ہزار62 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں-

    ذرائع پاور ڈویژن کے مطابق نجی شعبے کے بجلی گھروں کی مجموعی پیداوار 10 ہزار 164 میگاواٹ ہے،ونڈ پاور پلانٹس ایک ہزار521 میگاواٹ اور سولرپلانٹس سے پیداوار 118 ہے،بگاس سے چلنے والے پلانٹس 142 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں ،جوہری ایندھن 2ہزار 271 میگاواٹ بجلی پیدا کی جارہی ہے،

    آپ بیان حلفی نہیں دے سکتے تو پھر عدالت کیسے عمومی آرڈر جاری کردے؟ ہائیکورٹ کا پی ٹی آئی وکیل سے…

    لیسکو ترجمان کے مطابق ،لیسکو کی بجلی کی ڈیمانڈ اور سپلائی برابر ہوگئی،شارٹ فال صفر ہے، لیسکو ریجن میں بجلی کی ڈیمانڈ 3900 میگاواٹ ہے،نیشنل گرڈ اسٹیشن سے لیسکو کو3ہزار900 میگاواٹ بجلی کی فراہمی جاری ہے –

    لیسکو ترجمان نے دعویٰ کیا کہ لاہور میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو رہی، ہائی لاسز فیڈرز پر 4 سے 5 گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ جاری ہے-

    یوکرین جنگ سے معاشی طور پر متاثرہ ممالک میں پاکستان بھی شامل

  • ڈیموں میں پانی کی آمد میں اضافہ

    ڈیموں میں پانی کی آمد میں اضافہ

    ترجمان واپڈا کے مطابق تربیلا ، منگلا اور چشمہ ریزوائر ڈیمز میں پانی کا مجموعی ذخیرہ 4 لاکھ 21 ہزار ایکڑ فٹ ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان واپڈا کے مطابق چشمہ ڈیم میں آج پانی کا ذخیرہ 78 ہزار ایکٹرفٹ ہے منگلا ڈیم میں آج پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 61 ہزا ر ایکڑ فٹ ہے جبکہ تربیلا میں آج پانی کا ذخیرہ ایک لاکھ 82 ہزار ایکٹرفٹ ہے-

    عمران خان سےآئندہ الیکشن میں مکمل جان چھوٹ جائے گی: نواز شریف

    ترجمان واپڈا کے مطابق نوشہرہ کے مقام پر دریائے کابل میں پانی کی آمد 34 ہزارکیوسک اور اخراج 34 ہزارکیوسک ہے دریائے چناب میں پانی کی آمد 27 ہزارکیوسک اور اخراج 19 ہزار100کیوسک ہے جبکہ چشمہ میں پانی کی آمد 85 ہزارکیوسک اور اخراج 91ہزارکیوسک ہے-

    اسی طرح منگلا میں پانی کی آمد 38ہزار200کیوسک اور اخراج 33 ہزار300کیوسک ہےجبکہ تربیلا میں پانی کی آمد 83 ہزار100کیوسک اور اخراج 75 ہزارکیوسک ہے-

    پاک فوج ملک وقوم کی سلامتی کی ضامن:سیاست کریں مگرپاک فوج پرنہیں:زیبا بختیار

    دوسری جانب کراچی میں رات گئےبھی شہر کےمختلف علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، کیماڑی بھٹہ ویلیج، لیاقت آباد سی ون ایریا، اورنگی چشتی نگر، کھارادر، نیاآباد کھڈا مارکیٹ میں رات کے اوقات میں شہریوں کو بجلی کی بندش کا سامنا کرنا پڑا۔

    ترجمان کے الیکٹرک کے مطابق گرمی کی شدت میں اضافے کے باعث بجلی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، موجودہ صورتحال کے پیش نظر عارضی طور پر لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھانا پڑ سکتا ہے، ممکنہ متاثرہ صارفین کو بذریعہ ایس ایم ایس مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔

    ہاتھ جوڑکرکہتا ہوں کہ خداکیلئےنفرتوں کےبیج بوناختم کردیں:مفتی تقی عثمانی کا پیغام

  • اہل وطن کیلیےخوشخبری آگئی:مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے10مقامات پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری

    اہل وطن کیلیےخوشخبری آگئی:مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے10مقامات پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری

    اسلام آباد: اہل وطن کے لیےخوشخبری آگئی :مہمند کے 13،دیامربھاشا ڈیم کے 10 مقامات پر بیک وقت تعمیراتی کام جاریوفاقی حکومت کی طرف سے شروع کیے جانے والے مہمند ڈیم کے 13 جبکہ دیامر بھاشا ڈیم کے 10 مقامات پر بیک وقت تعمیراتی کام جاری ہے۔

    سپریم کورٹ کی جانب سے قائم کی گئی دیا مربھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس عملدرآمد کمیٹی کے سیکرٹریٹ میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں دونوں منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کی صدارت چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل مزمل حسین(ریٹائرڈ)نے کی۔

    جوائنٹ سیکرٹری وزارتِ آبی وسائل اور عملدرآمد کمیٹی کے سیکریٹری سید محمد مہر علی شاہ کے علاوہ جوائنٹ سیکریٹری (بجٹ) فنانس، سیکرٹری بورڈ آف ریونیو خیبرپختونخوا،ممبرنیشنل ہائی وے اتھارٹی (نارتھ زون)، ڈپٹی سیکرٹری پرائم منسٹر آفس، کمشنر دیا مر استور ڈویژن اور ڈپٹی چیف پلاننگ کمیشن اجلاس میں شریک ہوئے۔ واپڈا ممبرز،سیکرٹری اور دیگر سینئر آفیسرز بھی اجلاس میں موجود تھے۔

    اجلاس سے خطاب میں چیئرمین واپڈا نے کہا کہ دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیمز کی تعمیر کے لئے عملدرآمد کمیٹی بھر پور کردار ادا کر رہی ہے۔ منصوبوں کی جلد از جلد تکمیل کے لئے اپنے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے چیئرمین نے اجلاس کے شرکا کو بتایا کہ دنیا بھر میں کووڈ19کی بدولت معمولات زندگی متاثر ہوئے ہیں لیکن اِس کے باوجود دیا مر بھاشا اور مہمند ڈیم پر تعمیراتی سرگرمیاں رات دِن جاری ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ مہمند ڈیم کی 13 سائٹس جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم کی 10 سائٹس پر بیک وقت تعمیراتی کام کیا جارہا ہے۔

    بعد ازاں ممبر (فنانس) واپڈا نے اجلاس کو غیر ملکی زرِ مبادلہ کے حوالے سے دونوں منصوبوں کے فنانشل کلوز سے متعلق اور فنڈز کی ضروریات اور فراہمی کے بارے میں آگاہ کیا۔ جنرل منیجر (لینڈ ایکوزیشن اینڈ ری سٹلمنٹ)، جنرل منیجر / پراجیکٹ ڈائریکٹر (دیا مر بھاشا ڈیم) اور جنرل منیجر/پراجیکٹ ڈائریکٹر(مہمند ڈیم) نے شرکاء کو دونوں منصوبوں پر پیش رفت اور ایشوز کے بارے میں بریفنگ دی۔

    واپڈا نے مہمند ڈیم پر مئی 2019 ء جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم پر جولائی 2020ء میں تعمیراتی کام شروع کیا تھا۔ مہمند ڈیم کی تکمیل کے لئے 2025ء جبکہ دیا مر بھاشا ڈیم کے لئے 2029 ء کا ہدف مقررکیا گیا ہے۔ مہمند ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 1.29ملین ایکڑ فٹ جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 800میگاواٹ ہے۔ اسی طرح دیا مر بھاشا ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 8.1ملین ایکڑ فٹ جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت 4ہزار 500میگاواٹ ہے۔

  • پاکستان زندہ باد :داسو واقعے میں ملوث تمام دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار

    پاکستان زندہ باد :داسو واقعے میں ملوث تمام دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار

    پشاور:پاکستان زندہ باد :داسو واقعے میں ملوث تمام دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار،اطلاعات کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) جاوید اقبال وزیر کا کہنا ہے کہ داسو واقعے میں ملوث تمام دہشت گرد اور سہولت کار گرفتار کیے جاچکے ہیں۔

    انہوں نے سالانہ کارکردگی کی بریفنگ میں بتایا کہ داسو واقعے میں انٹیلی جنس تعاون سے تمام دہشت گرد گرفتار ہوئے۔ ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ داسو واقعے میں ملوث سہولت کار بھی گرفتار ہیں، واقعے کے خودکش بمبار کی مکمل شناخت ہوچکی تھی۔ پاکستان میں موجود مذکورہ پورا نیٹ ورک گرفتار ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ پشاور سی ٹی ڈی نے آئی ایس کے 3 بڑے گروپ مقابلوں میں ختم کیے، جنوبی اضلاع میں دہشت گردی کرنے والے 9 دہشت گرد مارے گئے۔ جاوید اقبال وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے میں قبائلی جھگڑوں سمیت 237 دہشت گردی کے واقعات ہوئے، سنہ 2021 میں 561 ایف آئی آرز درج ہوئیں جو گزشتہ سال سے زیادہ ہیں۔

    ڈی آئی جی نے مزید بتایا کہ 599 ہائی پروفائل دہشت گرد گرفتار ہوئے، گرفتاردہشت گردوں کے سر کی قیمت 20 کروڑ روپے تھی۔ منی لانڈرنگ کے خلاف سب سے زیادہ کارروائیاں پختونخواہ کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے کیں۔