Baaghi TV

Tag: ڈی آئی جی آپریشنز لاہور

  • دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور زیادتی ، کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور

    دو غیر ملکی خواتین کا مبینہ اغوا اور زیادتی ، کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا ،ڈی آئی جی آپریشنز لاہور

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے انکشاف کیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا پس منظر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا۔

    ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ دو غیر ملکی خواتین کے مبینہ اغوا اور زیادتی کا پس منظر کرپٹو کرنسی میں سرمایہ کاری کا تنازع تھا سنگاپور میں ملنے کے بعد ملزم رضا ڈار نے خواتین سے رقم کا مطالبہ کیا اور ڈیفنس میں انہیں حبس بے جا میں رکھا پولیس نے کارروائی کر کے ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے-

    خواتین اور مرکزی ملزم رضا ڈار (مسلم لیگ (ن) کے رہنما اسحاق ڈار کے قریبی رشتے دار کے درمیان سنگاپور میں کرپٹو کرنسی کے کاروبار کے حوالے سے لاکھوں ڈالرز کی سرمایہ کاری کا معاملہ تھا۔جب خواتین لاہور واپس آئیں تو ملزم نے ساتھیوں کے ساتھ مل کر انہیں ڈیفنس کے علاقے میں کرائے کے مکان میں یرغمال بنایا اور مبینہ طور پر تشدد و زیادتی کا نشانہ بنایا۔

    نیدرلینڈز سے تعلق رکھنے والی متاثرہ خاتون کے والد نے بیرون ملک سے ایمرجنسی ہیلپ لائن 15 پر اطلاع دی، جس پر پولیس نے فوری ایکشن لے کر گاڑی کو ٹریس کیا اور دونوں خواتین کو بحفاظت بازیاب کرا لیا، پولیس نے مرکزی ملزم رضا ڈار سمیت چار ملزمان کو گرفتار کر کے کینٹ کچہری کی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے عدالت نے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا، میڈیکل رپورٹ میں بھی ایک خاتون سے زیادتی ثابت ہوئی ہے۔

    دوران پریس کانفرنس ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران نے کہاکہ پہلی کال سیف سٹی پر آئی ، سیف سٹی کال کے ایکشن کے بعد یہ ہوا، اس کے بعدوہ لوگ گھر سےتتربترہوئے،اس کی وجہ سے وہ گاڑی وہاں سے نکلی،اس کال کا ٹائم چیک کرلیں،7بج کر 18منٹ کی کال سے پہلے اے ایس پی کی وہاں موجودگی ہے، اے ایس پی کا لڑکی سے رابطہ ہے،یہ چیپٹرتوکلوز ہو جاتا ہے،ہم لائیو لوکیشن اور ٹھوس ثبوت آپ کے سامنے رکھ سکتے ہیں کیونکہ وہ قیاس آرائی تھی جس کو پوری سٹوری نہیں پتہ تھی اس نے وہاں سے سٹوری شروع کی۔

    فیصل کامران نے کہا کہ غیر ملکی خواتین کی معاونت کے لیے پولیس نے متعلقہ سفارت خانوں سے رابطہ کیا انہوں نے بتایا کہ سب سے پہلے اسپین کے سفارتخانے سے رابطہ کیا گیا جب کہ متاثرہ خواتین میں شامل ایک خاتون وینزویلا کی شہری ہے، جس کا سفارت خانہ پاکستان میں موجود نہیں ہے۔

    ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق متاثرہ خواتین کی سہولت اور اعتماد کے لیے خواتین پولیس افسران کو ان کے ساتھ تعینات کیا گیا اور انہیں طبی معائنے کے لیے آمادہ کیا گیاہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت بیان ریکارڈ کرانے کے مرحلے پر کچھ دشواری پیش آئی، تاہم سفارت خانے کے حکام سے ہونے والی تمام گفتگو پولیس کے ریکارڈ میں موجود ہے۔

    ان کا کہنا تھا کہ خواتین کو ایک روز مزید لاہور میں قیام پر آمادہ کیا گیا، جس کے بعد اگلے روز انہیں عدالت میں پیش کر کے دفعہ 164 کے تحت ان کے بیانات ریکارڈ کرائے گئے۔ بعد ازاں ملزمان کا ریمانڈ حاصل کر کے مزید تفتیش شروع کی گئی۔

    واضح رہے کہ خواتین نے اپنے بیانات میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ ملزم رضا ڈار نے انہیں دھمکانے کے لیے باس نامی شخص کو موقع پر بلایا تھا جو اپنے گن مینوں کے ساتھ موقع پر پہنچا تھا اور اسی نے قتل سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں دی تھیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کے مطابق تحقیقات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ غیر ملکی خواتین کے بیانات میں جس شخص کو ’باس‘ کہا گیا تھا، اس کا اصل نام وحید ہے اب تک اس مقدمے میں 8ملزمان کو گرفتار کیا جا چکا ہے، جب کہ ’باس‘ کے نام سے سامنے آنے والے کردار وحید کے خلاف پہلے سے8 مقدمات درج ہیں۔

    فیصل کامران کا کہنا تھا کہ جب کسی بااثر شخصیت کا رشتہ دار کسی مقدمے میں ملوث ہو تو متعلقہ حکام سے رابطہ کرنا ضروری ہوتا ہےتفتیش کے دوران جب یہ معلوم ہوا کہ ایک ملزم ملک کے ڈپٹی وزیراعظم کا رشتہ دار ہے تو اعلیٰ حکام سے رابطہ کرنے پر انہیں ہدایت دی گئی کہ قانون کے مطابق بلا امتیاز کارروائی کی جائے، جس کے بعد تحقیقات جاری ہیں۔

    ڈی آئی جی آپریشنز نے مزید بتایا کہ اس مقدمے کے حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے بھی رابطہ کیا اور ہدایت کی کہ کیس کی تفتیش اور کارروائی مکمل طور پر میرٹ پر کی جائے ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ پولیس کسی جج کے گھر پر چھاپہ مارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی ان کے مطابق جج کے گھر جانے پر متعلقہ ایس ایچ او کو معطل کر کے اس کے خلاف محکمانہ کارروائی کی گئی ہے۔