Baaghi TV

Tag: ڈی این اے

  • سانحہ گل پلازہ:ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے موصول، ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی

    سانحہ گل پلازہ:ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے موصول، ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی

    کراچی:پولیس سرجن کراچی کو ناقابل شناخت شخص کا ڈی این اے رزلٹ موصول ہوگیا جس کے بعد سانحہ میں ہلاکتوں کی تعداد 74 ہوگئی۔

    پولیس سرجن کراچی ڈاکٹر سمیعہ سید کا کہنا ہے کہ مرنے والے ایسے لوگ بھی موجود تھے جن کا کوئی ڈیٹا ہی موجود نہیں، سندھ فارنزک ڈی این اے لیب سےایک پازیٹیو ڈی این اے رزلٹ ملا ہے، ملنے والے ڈی این اے کا کوئی بھی ریفرنس سیمپل جمع نہیں کروایا گیا،اس کا مطلب ایسے بھی لوگ گل پلازہ میں جاں بحق ہوئے جن کا کچھ پتہ نہیں، ممکن ہے ملنے والا ڈی این اے شہر سے باہر کے کسی شخص کا ہو۔

    پولیس سرجن نے کہا ہے کہ پولیس سرجن کراچی آفس میں کل صبح 9 سے شام 5 بجے تک ڈی این اے کے لیے سیمپل جمع کروایا جاسکتا ہے، ڈی این اے سے کوئی پہچان عمر یا جنس نہیں بتائی جاسکتی، وہ لوگ جنہوں نے اپنے سیمپل جمع نہیں کروائے جلد جمع کروادیں۔

  • پنجاب میں ڈی این اے کیلئے مرکزی ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ

    پنجاب میں ڈی این اے کیلئے مرکزی ڈیٹا بیس بنانے کا فیصلہ

    پنجاب میں وزیر اعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پر محکمہ داخلہ نے ایک انقلابی اقدام اٹھاتے ہوئے صوبے میں ڈی این اے کے مرکزی ڈیٹا بیس کو قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

    اس حوالے سے سیکرٹری داخلہ پنجاب نور الامین مینگل نے ماہرین کا ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا ہےڈائریکٹر جنرل فارنزک سائنس ایجنسی ڈاکٹر محمد امجد، ورکنگ گروپ کے سربراہ مقرر کیے گئے ہیں، ورکنگ گروپ ایک ہفتے میں اپنی تجاویز سیکرٹری داخلہ کو پیش کرے گا۔

    محکمہ داخلہ پنجاب کے مطابق پنجاب فارنزک سائنس ایجنسی ڈی این اے ریکارڈ اکٹھا کرے گی، اس کے علاوہ صوبےکی جیلوں میں موجود قیدیوں کا ڈی این اے بھی ڈیٹا بیس میں ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ڈی این اے ڈیٹا بیس سنگین جرائم کے ملزمان کی بروقت شناخت میں مددگار ثابت ہوگا۔

    ڈی این اے ڈیٹا بیس نظام انصاف کی کارکردگی کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا اور ملزمان کی شناخت میں تیزی آئے گی، جس سے قانونی کارروائیوں میں شفافیت اور سرعت حاصل کی جائے گی۔ اس گروپ کے سربراہ پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی کے ڈی جی ڈاکٹر محمد امجد کو مقرر کیا گیا ہے۔ ورکنگ گروپ ایک ہفتے میں اپنی تجاویز سیکرٹری داخلہ کو پیش کرے گا۔

    اس اقدام سے پنجاب میں جرائم کی روک تھام اور انصاف کے نظام میں بہتری کی امید کی جا رہی ہے-

  • بھارت ٹرین حادثہ،101 لاشوں کی تاحال شناخت نہ ہو سکی

    بھارت ٹرین حادثہ،101 لاشوں کی تاحال شناخت نہ ہو سکی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت میں ہونیوالے ٹرین حادثے میں ابھی تک 101 لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی، باقی لاشیں لواحقین کے حوالے کر دی گئی ہیں

    ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اڑیشہ میں ہونے والے المناک حادثے میں 300 کے قریب اموات ہوئیں، 1000 سے زائد افراد زخمی ہوئے، زخمیوں کا علاج جاری ہے، معمولی زخمیوں کو ڈسچارج کر دیا گیا ہے وہیں لاشوں کی شناخت کا عمل شروع کیا گیا تھا ابھی تک 101 لاشوں کی شناخت نہیں ہو سکی، 200 کے قریب زخمی مختلف ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں، جن لاشوں کی شناخت کی گئی انکو لواحقین کے حوالے کیا گیا ، باقیوں کی شناخت کے لئے ڈی این اے کیا جائے گا، لواحقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں،

    بھارت ٹرین حادثہ، والدین نے لاشوں کے ڈھیر سے بیٹے کو زخمی حالت میں تلاش کر لیا
    دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ ریل حادثے کے بعد زخمی افراد کو بھی مرنیوالوں کے ساتھ رکھا جاتا رہا، کئی زخمیوں کی اس طرح بھی موت ہوئی، میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ انکشاف اسوقت سامنے آیا جب ایک باپ اپنے بیٹے کو ڈھونڈنے کی کوشش میں کامیاب اسوقت ہوا جب لاشوں کے اندر سے اسے زخمی بیٹا ملا، باپ نے زخمی بیٹے کو فوری ایمرجنسی وارڈ منتقل کروایا جہاں اسکا علاج کیا گیا، بورا کے رہائشی دکاندرا بیلا رام کے بیٹے نے بھی اس بدقسمت ٹرین میں سفر کیا جو حادثے کا شکار ہوئی، 24 سالہ بسوجیت سے حادثے کے بعد والدین نے رابطہ کیا لیکن رابطہ نہ ہوا، والدین جائے وقوعہ پر پہنچے، لاشوں ، زخمیوں میں بیٹے کو دیکھا، ہسپتال انتظامیہ نے لاشوں کی طرف جانے سے روکا، لیکن والدین نہ رکے، اچانک انہیں ایک کفن سے ہاتھ نظر آیا ، انہوں نے دیکھا تو وہ اسکے بیٹے کا تھا، والدین نے بیٹے کو دیکھا وہ مردہ نہیں بلکہ زخمی تھا، اسے وارڈ منتقل کیا گیا جہاں اسکا علاج کیا گیا،اور والدین اپنے بیٹے کی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے،

    اڑیشہ میں جمعہ کی شام تین ٹرینیں آپس میں ٹکرا گئی تھیں، واقعہ کے بعد آج تک بھی فضا سوگوار ہے، بھارتی وزیراعظم مودی نے زخمیوں سے ملاقات کی تھی، جائے وقوعہ کا بھی فضائی جائزہ لیا تھا، مودی نے ایک اجلاس میں تمام زخمیوں کو بہترین علاج معالجہ کی بھی ہدایت کی تھی،

    اڑیشہ میں ہونیوالے ٹرین حادثے کے بعد بھارت کی اپوزیشن نے وزیر ریلوے سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، راہول گاندھی کا کہنا تھا کہ ہمارے دور حکومت میں جب بھی ٹرین حادثہ ہوا، وزیر ریلوے نے زمہ داری قبول کی اور استعفی دیا ، اب موجودہ وزیر ریلوے کو استعفیٰ دینا چاہئے، ادھو دھڑے گروپ کے رہنما سنجے راوت نے بھی ٹرین حادثے پربھارتی وزیر اعظم مودی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ریلوے وزیر اعظم کے لئے ایک کھلونا بن گیا ہے وزیر اعظم صرف ہری جھنڈی دکھاتے رہتے ہیں

    سویڈن نے سیکس کو کھیل کا درجہ دیتے ہوئے مقابلے کروانے کا اعلان کر دیا

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

  • برطانیہ میں  تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    برطانیہ میں تین افراد کے ڈی این اے کے ساتھ بچے کی پیدائش

    برطانیہ میں پہلی بار تین افراد کا ڈی این اے استعمال کرتے ہوئے ایک بچے کی پیدائش کا واقعہ سامنے آیا ہے جس کا مقصد بچوں کو وراثت میں لاعلاج بیماریوں سے بچنا ہے۔

    باغی ٹی وی : "دی گارجئین” کے مطابق برطانیہ کے تولیدی صحت کے ادارے نے تصدیق کی ہے کہ بچے کی تولید کے لیے زیادہ تر ڈی این اے دونوں والدین سے لیا گیا جب کہ تقریباً 0.1 فیصد ڈی این اے اسے عطیہ کرنے والی خاتون کا ہےاس منفرد تکنیک سے بچوں کی ہیدائش ممکن بنانے کا مقصد نومولود کو تباہ کن مائٹوکونڈریل امراض سے محفوظ رکھنے کی کوشش ہے۔ برطانیہ میں اس قسم کا پہلابچہ پیدا ہوا ہے تاہم دنیا بھرمیں اب تک اس تکنیک کے ذریعے پانچ بچے پیدا ہوچکے ہیں۔

    ڈائٹنگ سے مرد و خواتین میں بانجھ پن کا امکان بڑھ سکتا ہے،تحقیق

    یہ تکنیک، جسے مائٹوکونڈریل ڈونیشن ٹریٹمنٹ (MDT) کے نام سے جانا جاتا ہے، صحت مند خواتین عطیہ دہندگان کے ایگس سے آئی وی ایف(IVF) ایمبریوز بنانے کے لیے ٹشو کا استعمال کرتی ہے جو نقصان دہ تغیرات سے پاک ہوتے ہیں اور ماؤں سے بچوں کو منتقل ہونے کا امکان ہوتا ہے اس عمل نے "تین والدین کے بچے” کے فقرے کو جنم دیا ہے، حالانکہ بچوں میں ڈی این اے کا 99.8 فیصد سے زیادہ ماں اور باپ سے آتا ہے۔

    بچے کی پیدائش کے حوالے سے برطانیہ کے تولیدی صحت کے ادارے نے مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

    ایم ڈی ٹی پر تحقیق، جسے مائٹوکونڈریل ریپلیسمنٹ تھراپی (ایم آر ٹی) کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، برطانیہ میں نیو کیسل فرٹیلیٹی سنٹر کے ڈاکٹروں نے شروع کیا تھا۔ اس کام کا مقصد تبدیل شدہ مائٹوکونڈریا میں مبتلا خواتین کو جینیاتی عوارض سے گزرنے کے خطرے کے بغیر بچے پیدا کرنے میں مدد کرنا تھا۔ لوگ اپنے تمام مائٹوکونڈریا کو اپنی ماں سے وراثت میں لیتے ہیں، اس لیے نقصان دہ تغیرات عورت کے تمام بچوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔

    ہمیں ڈراؤنے خواب کیوں آتے ہیں اوران سے چھٹکارا کیسے پایا جائے؟

    متاثرہ خواتین کے لیے، قدرتی تصور اکثر ایک جوا ہوتا ہے۔ کچھ بچے صحت مند پیدا ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ تبدیل شدہ مائٹوکونڈریا کا صرف ایک چھوٹا سا حصہ وراثت میں حاصل کرتے ہیں۔ لیکن دوسروں کو کہیں زیادہ وراثت مل سکتی ہے اور شدید، ترقی پسند اور اکثر مہلک بیماریاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ 6,000 میں سے ایک بچہ مائٹوکونڈریل عوارض سے متاثر ہوتا ہے۔

    مائٹوکونڈریل بیماریاں لاعلاج ہیں اورنومولود کیلئے پیدائش کے بعد گھنٹوں یا دنوں میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہیں۔ کئی خاندانوں نے اس بیماری کے باعث ایک سے زائد بچے کھو چکے ہیں اس لیے ان کیلئےاس تکنیک کو صحت مند بچہ پیدا کرنے کا واحد آپشن سمجھاجاتا ہے۔

    انسان کے 20,000 جینز میں سے زیادہ تر جسم کے تقریباً ہر خلیے کے نیوکلئس میں جڑے ہوتے ہیں۔ لیکن ہر نیوکلئس کے گردخلیےکا پاور ہاؤس کہلائے جانےوالے نقطے دار ہزاروں مائٹوکونڈریا ہیں جن کے اپنے جین ہیں مائٹوکونڈریا جسم کے ہرخلیےمیں موجود چھوٹے چھوٹے حصے ہوتے ہیں جو کھانے کو قابل استعمال توانائی میں تبدیل کرتے ہیں جو ہمارےاعضاء کوبناتے ہیں مائٹوکونڈریا کو نقصان پہنچانے والے تغیرات جسم کو توانائی فراہم کرنے میں ناکام رہتے ہوئے دماغ کو نقصان پہنچانے، پٹھوں کی کمزوری،دل کی خرابی اوراندھے پن کا باعث بنتے ہیں۔

    فرنچ فرائز کھانے سے نفسیاتی صحت پرمنفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں،تحقیق

    یہ بیماری بچے کو صرف ماں سے منتقل ہوتی ہے اس لیے اس قسم کے جدید آئی وی ایف سے کسی صحتمند شخص سے مائٹو کونڈریا حاصل کیاجاتا ہے، اس عطیہ کرنے کیلئے 2 طریقے اپنائے جاتے ہیں۔ ایک ماں کے انڈے کو باپ کے نطفہ سے فرٹیلائز کرنے کے بعد اوردوسرا فرٹیلائزیشن سے پہلے ہوتا ہے۔

    مائٹوکونڈریا میں اپنی جینیاتی معلومات یا ڈی این اے ہوتا ہے یعنی تکنیکی طور پراس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بچے والدین کے علاوہ اعطیہ دہندہ کا ڈی این اے بھی وراثت میں لیتے ہیں۔ یہ نسل در نسل منتقل ہونے والی ایک مستقل تبدیلی ہے۔

    واضح رہے کہ عطیہ دہندہ کا ڈی این اے صرف صحت مند مائٹوکونڈریا کیلئے ضروری ہے جو ،بچے کی دیگر خصلتوں جیسے کہ ظاہری شکل کو متاثر نہیں کرتا اور اس تکنیک کا مطلب ہرگزیہ نہیں ہے کہ پیدا ہونے والے بچے کا کوئی دوسرا والد یا والدہ بھی ہے۔

    وہ غذائی عوامل جو عالمی سطح پرٹائپ 2 ذیا بیطس کا سبب بنتے ہیں

    برطانیہ میں ایسے بچوں کی پیدائش کی اجازت دینے کیلئے 2015 میں قوانین متعارف کرائے گئے تھے تاہم اسے فوری طور پر فروغ نہیں دیا گیا اورپہلے بچے کی پیدائش اب سامنے آئی ہے۔

    ہیومن فرٹیلائزیشن اینڈ ایمبریالوجی اتھارٹی کے مطابق اس طریقہ کارسے 20 اپریل 2023 تک 5 سے کم بچے پیدا ہوئے جن کے خاندانوں کی شناخت چھپانے کیلئے صحیح تعداد نہیں بتائی جارہی ہے۔

  • قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    قدیم ترین ڈی این اے سے سائنسدانوں نے 20 لاکھ سال پرانی دنیا دریافت کر لی

    سائنسدانوں نے شمالی گرین لینڈ کے منجمد صحرا سے 20 لاکھ سال پرانا جینیاتی مواد (ڈی این اے) دریافت کیا ہے۔

    باغی ٹی وی : جرنل نیچر میں شائع ہونے والی اس دریافت سے انکشاف ہوتا ہے کہ یہ خطہ لاکھوں سال قبل ہاتھی، قطبی ہرن اور خرگوش سمیت دیگر جانوروں کا گھر تھا یہ خطہ کسی زمانے میں جنگل سے ڈھکا ہوا تھا مگر آج یہاں سبزہ نظر ہی نہیں آتا آج، یہ ایک بنجر آرکٹک ریگستان ہے، لیکن اس وقت یہ درختوں اور پودوں کا ایک سرسبز منظر تھا-

    ایلون مسک نے ٹوئٹر سرچ کو ٹھیک کرنے کیلئے آئی فون ہیکر کی خدمات حاصل کرلیں

    محققین نے بتایا کہ انہوں نے شمالی گرین لینڈ کے ساحلی علاقے Kap Kobenhavn سے حاصل کیے گئے 41 نمونوں میں دنیا کے قدیم ترین جینیاتی مواد کو دریافت کیا نمونے نامیاتی مرکبات سے بھرپور تھے ان کا کہنا تھا کہ ڈی این اے نمونوں سے عندیہ ملتا ہے کہ یہاں متعدد جاندار، پودے اور جرثومے پائے جاتے تھے۔

    انہوں نے مزید بتایا کہ یہ پہلی بار ہے جب ہم 20 لاکھ سال پرانے ڈی این اے کو دیکھ رہے ہیں جس سے زمانہ قدیم میں گم ہوجانے والی دنیا کا علم ہوتا ہےتحقیق کے دوران جینیاتی مواد سے اس خطے میں کم از کم 102 جانداروں کی موجودگی کے بارے میں علم ہوا۔

    کوپن ہیگن یونیورسٹی کے ماہر ارضیات اور گلیشیئر کے ماہر کرٹ کجر نے کہا کہ "مطالعہ ایک ایسے ماضی کا دروازہ کھولتا ہے جو بنیادی طور پر کھو چکا ہے۔

    روسی زبان بولنے والے ہیکرز کی خلیجی خطوں اور سعودی عرب میں ہیکنگ کی کارروائیاں تیز

    محققین نے مٹی کے نمونوں سے ماحولیاتی ڈی این اے، جسے ای ڈی این اے بھی کہا جاتا ہے، نکالا یہ وہ جینیاتی مواد ہے جسے جاندار اپنے گردونواح میں بہاتے ہیں – مثال کے طور پر، بال، فضلہ، تھوکنے یا گلنے والی لاشوں کے ذریعے۔

    واقعی پرانے ڈی این اے کا مطالعہ کرنا ایک چیلنج ہو سکتا ہے کیونکہ جینیاتی مواد وقت کے ساتھ ساتھ ٹوٹ جاتا ہے اور سائنسدانوں کو صرف چھوٹے چھوٹے ٹکڑے رہ جاتے ہیں۔

    لیکن جدید ترین ٹکنالوجی کے ساتھ، محققین ڈی این اے کے چھوٹے، تباہ شدہ بٹس سے جینیاتی معلومات حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، کیمبرج یونیورسٹی کے ایک ماہر جینیاتی ماہر ایسکے ولرسلیو نے وضاحت کی۔

    نیچر جریدے میں بدھ کو شائع ہونے والی اپنی تحقیق میں، انہوں نے ڈی این اے کا موازنہ مختلف پرجاتیوں کے ڈی این اے سے کیا، جو مماثلت کی تلاش میں تھے۔

    ناسا نے چاند کی ایک نئی تصویر جاری کر دی

    اس سے قبل ماہرین نے 2006 میں نمونے جمع کرکے ڈی این اے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی مگر اس وقت انہیں ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔

    مگر اس کے بعد سے لاکھوں سال پرانے ڈی این اے کو دریافت کرنے کی ٹیکنالوجی بہتر ہوئی اور سائنسدان 16 سال کی کوششوں کے بعد یہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوئے۔

  • ڈی این اے رپورٹ جاری

    ڈی این اے رپورٹ جاری

    چونیاں سات روز قبل قریبی کھنڈرات سے ملنے والی باقیات کی ڈی این اے رپورٹ جاری
    دونوں کھوپڑیاں اور دیگر ہڈیاں علی حسنین اور سلمان کی ہیں فرانزک لیب کی تصدیق
    علی حسنین اور سلمان اکرم محلہ غوثیہ آباد چونیاں کے رہائشی ہیں
    پولیس آج دونوں بچوں کی مسخ شدہ باقیات انکے ورثاء کے حوالہ کرے گی
    پولیس کی بھاری نفری کےشہر کے داخلی اور خارجی راستوں پہنچ گئی علاقے میں سوگ برقرار