Baaghi TV

Tag: ڈی ایٹ

  • اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے

    پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار ڈی ایٹ سمٹ میں شرکت کے لئے مصر پہنچ گئے ہیں

    پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف 18 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہونے والے ڈی-8 سمٹ میں شریک ہوں گے اس سمٹ کا موضوع ‘یوتھ میں سرمایہ کاری اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار کی حمایت ہے، جس کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت طرازی، اور کاروبار کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنا ہے۔سمٹ کے دوران ایک خاص سیشن غزہ اور لبنان میں انسانی بحران پر بات کرے گا، جس میں اس خطے کے موجودہ حالات اور انسانی امداد کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔ اس سیشن میں مصر، پاکستان اور دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ اور عالمی رہنما شرکت کریں گے۔

    ایران کے صدر مسعود پزشکیاں بھی اس سمٹ میں شریک ہوں گے، جو ایران کی طرف سے ایک نیا سفارتی قدم ہے۔ یہ ایران کے کسی صدر کا مصر کا پہلا دورہ ہوگا، جو ایک دہائی سے زیادہ کے وقفے کے بعد ہو رہا ہے۔ مصر اور ایران کے درمیان تعلقات گزشتہ دہائیوں میں کشیدہ رہے ہیں، مگر حالیہ برسوں میں دونوں ممالک نے خاص طور پر غزہ کے بحران کے دوران باہمی تعلقات میں بہتری کی کوشش کی ہے۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اکتوبر میں مصر کا دورہ کیا تھا، جب کہ مصر کے وزیر خارجہ بدر عبد العتی نے جولائی میں تہران کا دورہ کر کے مسعود پزشکیاں کی حلف برداری میں شرکت کی تھی۔ ایران اس سمٹ کے دوران دیگر شریک ممالک کے ساتھ علاقائی اور دو طرفہ امور پر بات چیت کرے گا۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل باقائی نے بتایا کہ ایران اپنے شراکت داروں کے ساتھ سمٹ کے موقع پر اہم معاملات پر تبادلہ خیال کرے گا، جن میں اقتصادی اور تجارتی تعلقات کے فروغ کے علاوہ دیگر علاقائی مسائل بھی شامل ہوں گے۔

    پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار اس سمٹ میں ڈی-8 وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کے ساتھ وزیر اعظم شہباز شریف بھی 11ویں ڈی-8 سمٹ اور غزہ و لبنان پر خصوصی سیشن میں شریک ہوں گے۔ سمٹ کے دوران دونوں پاکستانی رہنما مختلف ملکوں کے رہنماؤں سے دو طرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے تاکہ پاکستان کے اقتصادی مفادات اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے مسائل پر بات چیت کی جا سکے۔یہ سمٹ نہ صرف پاکستان کے لیے ایک اہم سفارتی موقع ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر اقتصادی تعاون کو فروغ دینے اور خاص طور پر نوجوانوں کے لیے ترقی کے امکانات پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔

    سخت زبان استعمال کروگے تو میں بھی سخت زبان استعمال کرونگا۔خواجہ آصف

    خیبر پختونخوا کے بلدیاتی نمائندوں کا گنڈا پور کیخلاف اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج

  • وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیراعظم 18 دسمبر سے مصر کا دورہ کریں گے

    وزیرِ اعظم پاکستان، محمد شہباز شریف 18 دسمبر 2024 سے 20 دسمبر 2024 تک مصر کا سرکاری دورہ کریں گے، جہاں وہ قاہرہ میں منعقد ہونے والی ترقی پذیر آٹھ ممالک (D-8) کی گیارہویں سمٹ میں شرکت کریں گے۔

    اس سمٹ سے قبل، وزیرِ خارجہ و نائب وزیرِ اعظم سینیٹر محمد اسحاق ڈار 18 دسمبر 2024 کو D-8 وزرائے خارجہ کونسل کے 21ویں اجلاس میں شرکت کریں گے۔اس گیارہویں D-8 سمٹ کا تھیم "نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور ایس ایم ایز کی حمایت: کل کی معیشت کی تشکیل” ہے۔وزیرِ اعظم شہباز شریف اس سمٹ کے دوران نوجوانوں اور ایس ایم ایز (چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں) میں سرمایہ کاری کی اہمیت کو اجاگر کریں گے تاکہ ایک مضبوط اور جامع معیشت کی بنیاد رکھی جا سکے۔ ان کا مقصد روزگار کے مواقع پیدا کرنا، جدت کو فروغ دینا اور مقامی کاروباری سرپرستی کو بڑھانا ہے۔ وزیرِ اعظم پاکستان D-8 کے مقاصد کے لیے پاکستان کی پختہ وابستگی کا اعادہ کریں گے اور دوطرفہ فائدے اور خوشحالی کے لیے شراکت داری کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیں گے۔ اس کے علاوہ، وہ زراعت، خوراک کی سیکیورٹی اور سیاحت میں تعاون بڑھانے کے لیے پاکستان کی جانب سے عزم کا اظہار کریں گے۔ وزیرِ اعظم نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور مالی ترقی کے لیے پاکستان کی طرف سے پیش کی جانے والی مراعات پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

    وزیرِ اعظم پاکستان D-8 سمٹ کے دوران غزہ اور لبنان میں اسرائیلی جارحیت کی وجہ سے پیدا ہونے والے انسانی بحران اور تعمیر نو کے چیلنجز پر D-8 کا خصوصی اجلاس بھی منعقد ہوگا۔ وزیرِ اعظم شہباز شریف اس اجلاس میں فلسطین کی صورتحال پر پاکستان کے اصولی موقف کو اجاگر کریں گے اور مشرق وسطیٰ میں امن کے قیام کی ضرورت پر زور دیں گے۔سمٹ کے دوران وزیرِ اعظم شہباز شریف مختلف شریک ممالک کے رہنماؤں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، جن میں اہم اقتصادی، تجارتی اور سیاسی امور پر بات چیت کی جائے گی۔

    یہ دورہ پاکستان اور D-8 ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور باہمی فائدے کی بنیاد پر تعاون کو فروغ دینے کا ایک اہم موقع ثابت ہوگا۔

    میرا تن من نیلو نیل ! تحریر:ڈاکٹر طاہرہ کاظمی

    "ہمسفر کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کریں”تحریر:آمنہ

  • شراکت داری سے ڈی ایٹ ممالک اپنی حقیقی اقتصادی صلاحیت کا ادراک کرسکتے ہیں،حنا ربانی کھر

    شراکت داری سے ڈی ایٹ ممالک اپنی حقیقی اقتصادی صلاحیت کا ادراک کرسکتے ہیں،حنا ربانی کھر

    وزیر مملکت برائے امور خارجہ حنا ربانی کھر نے ترقی پذیر ممالک ڈی ایٹ کے درمیان اقتصادی تعاون کو فروغ دینے کیلئے نجی سیکٹر کوآرڈینیشن سہولت کی ضرورت پر زور دیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو ڈی ایٹ کے وزراء خارجہ کی کونسل کے اجلاس سے ہائبرڈ فارمیٹ میں خطاب کے دوران کیا۔

    مسائل کے حل کے لئے سب کو قدم سے قدم ملاکرچلنا ہو گا،راجہ پرویز اشرف

    انہوں نے آسان قانونی فریم ورک کے ذریعے تجارت کیلئے سازگار ماحول پیدا کرنے اور سرمایہ کاری اور کاروبار کیلئے مساوی مواقع پر زور دیا۔ حنا ربانی کھر نے کہا کہ جیو اکنامکس کے پاکستان کے وژن میں سماجی و اقتصادی ترقی، روابط اور ترقی کو مرکزیت حاصل ہے۔

    وزیر مملکت نے کہا کہ تعاون اور شراکت داری کے ذریعے ڈی ایٹ ممالک اپنی حقیقی اقتصادی صلاحیت کا ادراک کرسکتے ہیں، پاکستان کا محل وقوع ایشیا کے اہم خطوں وسطی ایشیا اور جنوبی ایشیا کے ساتھ ساتھ مشرق وسطیٰ اور چین کیلئے اہم زمینی اور بحری رابطے کا ذریعہ ہے جس نے پاکستان کو جغرافیائی سیاسی طور پر دنیا کی سب سے اہم ریاستوں میں شامل کردیا ہے۔

     

    دکھی انسانیت کی خدمت ایک عبادت ہے،گورنر پنجاب

     

    انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے ذریعے یہ جغرافیائی سیاسی اثاثہ تیزی سے جیو اکنامک ڈیویڈنڈ میں تبدیل ہوجائے گا۔ بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ نے وزراتی کونسل کے اجلاس کی صدارت کی۔ ترکی اور ایران کے وزراء خارجہ اور نائیجیریا کے وزیر مملکت کے علاوہ مصر، انڈونیشیا اور ملائشیا کے اعلیٰ حکام نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔

    وزراءنے ڈی ایٹ سیکرٹریٹ کیلئے مالی اور انسانی وسائل کو بڑھانے کی ضرورت پر اتفاق کیا۔ اجلاس نے سیکرٹریٹ کو ڈی ایٹ کے رکن ممالک کی جانب سے مالی معاونت کیلئے پراجیکٹ کی تجاویز کا مزید جائزہ لینے کا کام بھی سونپا ہے۔ اجلاس میں جمہوریہ آذربائیجان کی ڈی ایٹ کا رکن بننے کی خواہش کو سراہا گیا۔

    وزراء نے اس سال اکتوبر میں ڈی ایٹ کمیشن کا خصوصی اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا تاکہ ڈی ایٹ میں نئے رکن ممالک کے الحاق کے معیار کے حوالے سے حتمی سفارشات پیش کی جا سکیں۔

    اس سلسلے میں ایک رپورٹ کو وزراءکی کونسل کے اگلے اجلاس میں منظور کرنے پر غور کیا جائے گا۔15 جون 1997 کو استنبول میں قائم ہونے والے ڈی ایٹ گروپ میں بنگلہ دیش، مصر، انڈونیشیا، ایران، ملائیشیا، نائجیریا، پاکستان اور ترکی شامل ہیں۔