Baaghi TV

Tag: ڈی ایچ کیو

  • ایم ایس اور ڈاکٹروں کا اختلاف،ڈی ایچ کیو قصور 13 دن سے بند

    ایم ایس اور ڈاکٹروں کا اختلاف،ڈی ایچ کیو قصور 13 دن سے بند

    بلھے شاہ ڈسٹرکٹ ہسپتال قصور کے عملے اور ایم ایس میں اختلافات ختم نہ ہو سکے، 13 دن سے قصور میں ہسپتال بند ہے، ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن لاہور کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ ایم ایس ڈاکٹر فاروق کو تبدیل کیا جائے،ایم ایس کو نہ ہٹایا گیا تو لاہور جنرل ہسپتال کی او پی ڈی بند رہے گی،

    لاہور جنرل ہسپتال کی او پی ڈی کو آج دوسرے دن بھی بند کر دیا گیا ہے،ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن لاہور کے اراکین نے او پی ڈی کا بائیکاٹ کیا،ینگ ڈاکٹر ایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ جب تک ایم ایس قصور کو نہیں ہٹایا جاتا ہم او پی ڈی بند رکھیں گے، قصور کے ہسپتال کے سب عملے نے استعفیٰ دیا ہے لیکن حکام کے کانوں‌پر جون‌تک نہیں رینگ رہی، ایک ایم ایس کے تبادلے کا مطالبہ نہیں مانا جا رہا،اگر مطالبہ نہ مانا گیا تو احتجاج کو وسیع کریں گے اور دیگر شہروں میں ہسپتالوں کی او پی ڈی کو بند کریں گے

    بابابلھےشاہ ہسپتال ڈسٹرکٹ قصور میں کئی روز سے آؤٹ ڈور ڈیپارٹمنٹ بند، آکسیجن، انسولین اوردیگراہم ادویات سمیت جنریٹرسےپٹرول بھی غائب کر دیا گیا،ڈاکٹرز، اسٹاف اور میڈیکل سپریٹنڈنٹ کی لڑائی میں خوار مریض علاج و ادویات کی عدم دستیابی کی بدولت موت کےدھانے پر پہنچ گئے، شہریوں نے اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ڈاکٹروں کے مطالبات مانے جائیں،قصور کے شہری صحت کی سہولیات سے محروم ہو چکے ہیں، ہمارا مطالبہ ہے کہ ڈاکٹروں کے ساتھ مذاکرات کئے جائیں اور انکے استعفے منظور کرنے کی بجائے انہیں بحال کیا جائے،

    بابا بلھے شاہ اسپتال میں ڈاکٹرز کے مستعفی ہونے پر ، ایم اسپتال ڈاکٹر فاروق کا کہنا ہے کہ بابا بلھے شاہ ہسپتال کے ڈاکٹرز مریض کو چیک کر کے ان پر احسان کرتے ہیں، لاکھوں میں تنخواہیں لی جا رہی ہیں لیکن اسکے باوجود ڈیوٹی اوقات میں بھی اپنے پرائیویٹ کلینک کھول کر رکھے، انہوں نے باریاں بانٹی ہوئی ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں تھا،ہسپتال میں اجارہ داری بنائی ہوئی تھی، ماضی میں بھی یہ ایسےہی کرتے رہے ہیں ،انکی فائلیں کھول کر دیکھیں کتنے لیٹر لگے ہوئے ہیں،

  • سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہیں کسی بھی طرح  کا نامناسب رویہ اپنانے سے گریز کریں،  وزیر اعلی کے پی کے

    سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہیں کسی بھی طرح کا نامناسب رویہ اپنانے سے گریز کریں، وزیر اعلی کے پی کے

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال چارسدہ میں ڈاکٹرز کی فرائض سے غفلت اور مریضوں کے ساتھ نامناسب رویہ اپنانے پر نگران وزیر اعلی خیبر پختونخوا محمد اعظم خان نے دو ڈاکٹرز کو معطل کردیا معطل ہونے والے ڈاکٹرز میں میڈیکل آفیسر عدنان اور میڈیکل آفیسر نعمان شامل ہیں مزکورہ ڈاکٹرز کے نامناسب رویے سے متعلق ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد انکوائری کا حکم دیا گیاتھا باغی ٹی وی کے مطابق چارسدہ کے ہسپتال میں آرتھوپیڈک یونٹ میں مریض کے معائنے سے انکار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر ڈاکٹر عدنان میڈیکل آفیسر BPS-17 DHQ کے خلاف کاروائی کا حکم دیا گیا ہے،کاروائی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے نتیجے عمل میں لایئ گئی ہے،ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طالب علم ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ معائنے کے لئے آیا ہوتا ہے،لیکن وہاں موجود عملے کی طرف سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جا رہا ،طالب علم ہسپتال ہاتھ میں فریکچر کی شکایت لےکے آیا ہوتا ہے ،جس کو ایکسرے کروا کر طویل انتظار کے بعد رپورٹ دیا گیا،اسکےجب وہ او پی ڈی جاتا ہے تو وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا باغی ٹی وی کے مطابق طالب علم کو آرتھو پیڈک میں چیک اپ کے لئے بھیج دیا گیا تو وہ وہاں موجود ڈاکٹر اسکے معائنے سے صاف انکار کر دیتا ہے جس پر اسکے ساتھ موجود دوست اس ڈاکٹر کی ویڈیو بنا دیتا ہے جس میں ڈاکٹر اپنے ٹانگ ٹیبل پہ رکھ کے موبائل میں مصروف ہوتا ہے جبکہ مریض کے بار بار کہنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا،طالب علموں نے ویڈیو ہسپتال کے ایم ایس کو دکھانے کی کوشش کی لیکن اس نے دیکھنے سے انکار کر دیا،لہذا ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا گیا،جو افسران بالا تک پہنچی،جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور ڈاکٹر اور ہسپتال کے ایم ایس کے خلاف کاروائی کے لئے کم تین افراد پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی تھی جس میں ڈاکٹر احسان الدین آرتھوپیڈک یونٹ، ڈاکٹر محمد بلال سینئر سرجن، اور ڈاکٹر محمد عیسیٰ ڈی ایم ایس ایڈمن شامل ہیں کمیٹی کو تین دن میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی تھی انکوائری میں الزامات ثابت ہونے پر ان دو ڈاکٹروں کو معطل کردیا گیا۔ ان ڈاکٹروں کو ای اینڈ رولز کے تحت نوے دنوں کے لئے معطل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ صحت خیبر پختونخوا نے اس سلسلے میں باقاعدہ اعلامیہ جاری کردیا۔ نگران وزیر اعلی نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سرکاری ملازمین کی طرف سے اس طرح کا رویہ کسی صورت قابل قبول نہیں، فرائض سے غفلت برتنے اور عوام کے ساتھ نامناسب رویہ اپنانے والے سرکاری ملازمین کے خلاف قانون کے مطابق سخت کاروائی عمل لائی جائے گی، نگران وزیر اعلی نے کہاکہ چند سرکاری ملازمین کے ایسے نامناسب رویے پوری کمیونٹی کے لئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں،
    سرکاری ملازمین عوام کے خادم ہیں وہ اس طرح کے نامناسب روپے اپنانے سے گریز کرے،

  • ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پر ایکشن

    ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ کی سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو پر ایکشن

    باغی ٹی وی کے مطابق چارسدہ کے ہسپتال میں آرتھوپیڈک یونٹ میں مریض کے معائنے سے انکار کے حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو پر ڈاکٹر عدنان میڈیکل آفیسر BPS-17 DHQ کے خلاف کاروائی کا حکم دیا گیا ہے،کاروائی سوشل میڈیا پر ویڈیو وائرل ہونے نتیجے عمل میں لایئ گئی ہے،ویڈیو میں واضح دیکھا جا سکتا ہے کہ ایک طالب علم ڈی ایچ کیو ہسپتال چارسدہ معائنے کے لئے آیا ہوتا ہے،لیکن وہاں موجود عملے کی طرف سے کسی قسم کا تعاون نہیں کیا جا رہا ،طالب علم ہسپتال ہاتھ میں فریکچر کی شکایت لےکے آیا ہوتا ہے ،جس کو ایکسرے کروا کر طویل انتظار کے بعد رپورٹ دیا گیا،اسکےجب وہ او پی ڈی جاتا ہے تو وہاں کوئی ڈاکٹر موجود نہیں ہوتا باغی ٹی وی کے مطابق طالب علم کو آرتھو پیڈک میں چیک اپ کے لئے بھیج دیا گیا تو وہ وہاں موجود ڈاکٹر اسکے معائنے سے صاف انکار کر دیتا ہے جس پر اسکے ساتھ موجود دوست اس ڈاکٹر کی ویڈیو بنا دیتا ہے جس میں ڈاکٹر اپنے ٹانگ ٹیبل پہ رکھ کے موبائل میں مصروف ہوتا ہے جبکہ مریض کے بار بار کہنے پر بھی ٹس سے مس نہیں ہوتا،طالب علموں نے ویڈیو ہسپتال کے ایم ایس کو دکھانے کی کوشش کی لیکن اس نے دیکھنے سے انکار کر دیا،لہذا ویڈیو کو سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا گیا،جو افسران بالا تک پہنچی،جس کے بعد انتظامیہ حرکت میں آئی اور ڈاکٹر اور ہسپتال کے ایم ایس کے خلاف کاروائی کے لئے کم تین افراد پر مشتمل انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی جس میں ڈاکٹر احسان الدین ہود آرتھوپیڈک یونٹ، ڈاکٹر محمد بلال سینئر سرجن، اور ڈاکٹر محمد عیسیٰ ڈی ایم ایس ایڈمن شامل ہیں کمیٹی کو تین دن میں انکوائری رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کر دی گئی ہے،

  • الہدیٰ فری دسترخوان کے زیر اہتمام روزانہ لوگوں میں کھانا

    الہدیٰ فری دسترخوان کے زیر اہتمام روزانہ لوگوں میں کھانا

    قصور
    الہدی فری دسترخوان قصور کے زیر اہتمام سینکڑوں لوگوں کو فری کھانا کھلایا جا رہا ہے،اہلیان قصور کے تعاون سے دسترخوان کو مذید وسعت دینے کا فیصلہ

    تفصیلات کے مطابق مہنگائی کے اس دور میں لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں ایسے میں دکھی انسانیت کی خدمت پیش پیش الہدیٰ فری دسترخوان قصور کے زیر اہتمام ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں روزانہ کی بنیاد پر لوگوں کو فری کھانا مہیا کر رہا ہے
    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال میں روزانہ سینکڑوں مریضوں اور کے لواحقین کیساتھ غریب و فقراء کو باعزت طریقے سے بٹھا کر کھانا کھلایا جاتا ہے
    دسترخوان کے انچارج بشیر وڑائچ نے بتایا کہ اہلیان قصور کے تعاون سے ہی لوگوں کو کھانا مہیا کیا جا رہا ہے
    ہر روز نئے مینیو کیساتھ لوگوں کی خدمت کی جاتی ہے اور اب اہلیان قصور کے خاص تعاون سے اس دسترخوان میں مذید وسعت کی جائے گی اور اس دسترخوان کو قصور کی چاروں تحصیلوں تک پھیلایا جائے گا

  • ڈی ایچ کیو کا عملہ نا سدھر سکا

    ڈی ایچ کیو کا عملہ نا سدھر سکا

    قصور
    حکومت کی بار بار وارننگ کے باوجود قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ایمرجنسی وارڈ کی حالت زار نہ بدل سکی ایمرجنسی آنے والے مریض اپنی مرض سے ذیادہ عملہ کے عدم تعاون سے پریشان رات کو پرچی کاونٹر بند ہونے پر عملہ کی فرسٹ ایڈ دینے سے انکاری، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت ڈیوٹی ڈاکٹرز،لیڈی ڈاکٹرز غائب۔ ایم ایس، ڈی ایم ایس کے فون بند، عملہ،ڈیوٹی ڈاکٹرز دیگر کمروں میں موبائل فون پر خوش گپیوں میں مصروف

    تفصیلات کے مطابق حکومت کی بار بار وارننگ کے باوجود قصور ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ایمرجنسی وارڈ کی حالت زار نہ بدل سکی ایمرجنسی آنے والے مریض اپنی مرض سے ذیادہ عملہ کی عدم تعاون سے پریشان رات کو پرچی کاونٹر بند ہونے پر ایمرجنسی وارڈ میں مریضوں کو فرسٹ ایڈ دینے سے صاف صاف انکاری، پیرا میڈیکل اسٹاف سمیت ڈیوٹی ڈاکٹرز غائب ایم ایس. ڈی ایم ایس کے فون بند ڈیوٹی ڈاکٹرز، لیڈی ڈاکٹر مریضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے دیگر کمروں میں موبائل فونز پر خوش گپیوں میں مصروف نظر آتے ہیں ڈیوٹی عملہ کا مریضوں سے ناقابل برداشت رویہ متاثرین عوام کی تکلیف کے باعث آئے روز سوشل میڈیا پر بڑے بڑے انکشافات ہائیلائٹ ہونے کے باوجود مقامی انتظامیہ اور ہسپتال انتظامیہ کی بے بسی جاری حکومتی احکامات کی کھلم کھلا خلاف ورزی معمول، مریضوں کو دوائی فراہم کرنے کی بجائے میڈیکل سٹورز پر فروخت کی جاتی ہیں کسی مریض کر ایمبولینس کی سہولت تک نہیں دی جاتی بلکہ اکثروبیشتر مریضوں کے لواحقین کو یہ حکم سننے کو ملتا ہے مریض کو لاہور لے جائیں مجبور اور لاچار بے بس عوام، فلاحی، عوامی، اصلاحی اور سول سوسائٹی کے سربراہان اور ڈسٹرکٹ بار کے سینئر وکلا نے حکام بالا سے وزیر اعظم، گورنر پنجاب، وزیر اعلی پنجاب، صوبائی وزیر صحت، چیف سیکرٹری،کمشنر لاہور، ڈسی سی قصور ،اے سی،سی ای او ڈی ایچ کیو، دیگر حکام بالا سے کاروائی کا مطالبہ کیا ہے

  • بدمعاش ہسپتال انتظامیہ،لوگ پریشان

    بدمعاش ہسپتال انتظامیہ،لوگ پریشان

    قصور
    ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قصور میں پہلے سے پریشان مریضوں کو انتظامیہ نے مذید پریشان کرنا شروع کر دیا ہے،لوگوں سے پارکنگ کے نام پر ناجائز پیسے لینا معمول
    تفصیلات کے مطابق ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور کی انتظامیہ غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے لگی ایمرجنسی چیک اپ کے لیے آنے والے مریضوں سے پارکنگ کے نام پر 20 سے 30 روپے پرچی وصول کرنے لگے ہیں
    جبکہ پارکنگ کاٹھیکہ قانونی طور پر ہوا ہی نہیں ہے اس ساری صورتحال پر ہو شہری پریشان ہے اور ہسپتال انتظامیہ کی غنڈہ گردی پر
    شہری سراپا احتجاج بن گئے ہیں اور اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہیں

  • ہسپتال ٹھیکے پر،لوگوں کی جان پر بن گئی

    ہسپتال ٹھیکے پر،لوگوں کی جان پر بن گئی

    قصور
    ڈی ایچ کیو ہسپتال پر قبضہ مافیا کا راج ،ایاے لگتا ہے جیسے ہسپتال ٹھیکے پر دے دیا گیا ہو درجہ چہارم کا ملازم ایم ایس سے بھی اوپر
    تفصیلات کے مطابق ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور کی ڈائلیسز واڑد درجہ چہارم کے ملازم عبدالقدیر عرف گڈو وارڈ سرونٹ کے رحم و کرم پر ہے گڈو نامی وارڈ سرونٹ مریضوں کے ڈائیلیسز کرتا ہے جسے اکثر لوگوں نے بہت واضح ہے جبکہ ڈاکٹر اور نرسیں ڈیوٹی پر ہی نہیں آتے گڈو جب سے بھرتی ہوا ہے اس کی ڈیوٹی بھی اسی وارڈ میں ہے لوگوں نے متعدد مرتبہ شکایات بھی کی ہیں مگر گڈو اوباش خاندان سے تعلق رکھنے کی وجہ سے افسران کو ڈرا دھمکا دیتا ہے جس سے لوگوں کا کافی نقصان ہو رہا ہے
    لوگوں نے وزیر صحت اور سی او ہیلتھ قصور سے نوٹس لے کر کاروائی کی اپیل کی ہے

  • پرائیوٹ ٹیسٹ 350 جبکہ سرکاری ہسپتال 630

    پرائیوٹ ٹیسٹ 350 جبکہ سرکاری ہسپتال 630

    قصور
    ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹرز ہسپتال قصور میں مریضوں کی کھال اتاری جانےگی باہر سے 350 روپیہ کے ٹیسٹ سرکاری ہسپتال سے 630 میں
    تفصیلات کے مطابق شہری محمد رفیق نے نمائندہ باغی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مجھے چند سالوں سے جوڑوں کی درد کا مسئلہ ہے جس کے علاج کیلئے میں پچھلے سال ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال قصور گیا جہاں پر میرا کمپلیٹ یورین ٹیسٹ اور ای سی جی ٹیسٹ کرکے مجھ سے 210 روپیہ وصول کئے گئے تھے اب چند دن پہلے وہی مسئلہ بنا تو پھر میں ڈی ایچ کیو ہسپتال قصور گیا جہاں وہی ٹیسٹ پھر کئے گئے مگر اب مجھ سے 630 روپیہ لئے گئے جبکہ میں نے باہر لیبارٹری سے ان ٹیسٹوں کے متعلق پوچھا تو مجھے ان دونوں ٹیسٹوں کی فیس 350 روپیہ بتائی گئی اور مجھے ایک بلسٹر پیک 10 گولی کالپول دے کر فارغ کر دیا گیا
    اس سے قبل بھی لوگوں نے میڈیا نمائندگان کو بتایا ہے کہ ہسپتال میں پرائیویٹ لیبارٹریز سے زیادہ پیسے ٹیسٹ فیس کی مد میں لئے جا رہے ہیں جوکہ سراسر نا انصافی ہے لحاظہ وزیر اعلی پنجاب اور وزیر صحت نوٹس لیں اور غریب لوگوں کو ان کا حق دلوائیں کیونکہ گورنمنٹ عوام سے ٹیکس انہی سہولیات کیلئے لیتی ہے