Baaghi TV

Tag: ڈی جی خان

  • ڈی جی خان، پرویز الہی قبضہ مافیا کے سرپرست نکلے، عدالتی حکم بھی ہوا میں اڑا دیا گیا

    ڈی جی خان، پرویز الہی قبضہ مافیا کے سرپرست نکلے، عدالتی حکم بھی ہوا میں اڑا دیا گیا

    وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الہی کے مشیر طارق زمان گجر کے بس اسٹینڈ پر لگے ہوئے پینا فلیکس کی تصویر وائرل ہو رہی ہےجس میں اس کا تذکرہ بطور مشیر وزیر اعلی پنجاب موجود ہے-

    باغی ٹی وی : ڈی جی خان میں وزیر اعلی پنجاب کی پشت پناہی ، قبضہ مافیا سرگرم، جھوٹی رپورٹس بنا کر قبضہ واگزار کیے جانے کا دعوی کیا جانے لگا لیکن تاحال زمین پر قبضہ موجود ہے۔ عثمان بزدار کے بعد پرویز الہی بھی قبضہ مافیا کے سرپرست نکلے عدالتی حکم کے باوجود قبضہ واگزار نہ کروایا جا سکا ۔شہری حلقوں نے اپیل کی ہے کہ قبضہ واگزار کروایا جائے راستہ کھلوایا جائے

    بس اسٹینڈ کے پیچھے راستے کو کھلوانے کےلیے مختلف لوگوں نےہائی کورٹ میں پیٹیشنزدائرکیں سابق کمشنر طاہر خورشید جو عثمان بزدار کا فرنٹ مین کہلاتا تھا نے ہائی کورٹ میں جھوٹا تحریری بیان دیا کہ راستہ کھولا جاچکا ہے

    اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ میں راستہ بند کرکےقبضہ کرنے کی تصدیق کی گئی ہےاس رپورٹ میں سپیشل برانچ کا تائیدی تذکرہ بھی موجود ہے-

    سیکرٹری آر ٹی اے کی رپورٹ کہ طارق زمان گجر کو زبانی حکم پر اربن ٹرانسپورٹ چلانے کےلیے قبضہ دلایا گیا اور اب اس نے اربن ٹرانسپورٹ بند کرکے بین الصوبائی سروس شروع کررکھی ہے-


    عثمان بزدار کی وزارت اعلی میں اس شخص طارق زمان گجر کو کسی بھی ٹینڈر / تشہیر کے بغیر اربن ٹرانسپورٹ چلانے کی اجازت دی گئی ۔۔(اب گمان کیا جاسکتا ہے کہ اس وقت بھی اس شخص کی پشت پناہی پرویز الہی کررہے تھے )اور اس مقصد کےلیے اسے کارپوریشن کی کروڑوں روپے مالیت کی زمین پر قبضہ دلایا گیا۔

    یہ قبضہ کرتے وقت وہاں موجود۔ایک راستہ بند کردیا گیا جس کو کھلوانے کےلیے متعدد لوگ عدالت عالیہ گئے جہاں پر سابق کمشنر بعد ازاں پرنسپل سیکرٹری ٹو سی ایم پنجاب طاہر خورشید نے ہائی کورٹ میں غلط بیانی کرتے ہوئے راستہ کھلوا دینے کا بیان دیا ۔۔

    وویڈ کے دوران طارق زمان گجر نے اربن ٹرانسپورٹ بند کردی ( کھٹارا بسیں اڈے پر موجود ہیں ) لیکن وہاں سے فیصل موورز کے بینر تلے بین الصوبائی بس سروس چلانا شروع کردی اسسٹنٹ کمشنر کی دو رپورٹس میں آپ کو بھیج چکا سیکرٹری آر ٹی اے کی رپورٹ بھی شامل ہے۔لیکن مبینہ طور پر چوہدری پرویز الہی کا دباؤ یہ ناجائز قبضہ واگذار کرائے جانے میں رکاوٹ ہے-


    اسسٹنٹ کمشنر کی رپورٹ کے مطابق ایک رٹ پٹیشن نمبر 15096-17 محمد آصف فرید بنام گورنمنٹ آف پنجاب دائر ہوئی جو کہ کمشنر صاحب ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے پاس زیر سماعت تھی کمشنر ڈیرہ غازی خان نے بذات خود موقعہ ملاحظہ کیا اور ساتھ پٹواری سے مورخہ 02-10-2018 کو رپورٹ طلب کی گئی اور فریقین کو طلب کر کے سماعت کیس جس میں جناب کمشنر صاحب ڈیرہ غازی خان نے05-10-2018 کورٹ پٹیشن نمبر15096-17 کا حکم سناتے ہوئے چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کو حکم دیا کہ وہ پٹیشن 2-1-351 برقبہ پندرہ مرلے جس کو بند کیا ہوا ہے کھول دیا جائے لیکن چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن نےروڈ نا کھولا-

    اسی بابت سائل نے جناب کمشنر صاحب کے خلاف توہین عدالت عدالت عالیہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ میں رٹ پٹیشن نمبر172-10 محمد آصف فرید بنام طاہر خورشید دائر کی جس میں کمشنر صاحب کی طرف سے عدالت عالیہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ جناب مسٹر جسٹس چوہدری مشتاق کی کورٹ میں 14-09-2019 کو انڈر ٹیکنگ دی کہ بند روڈ کھول دیا گیا لیکن موقع پر چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن نے روڈ نہ کھولا-


    مابعد مورخہ 14-03-2019 کو توہین عدالت عدالت عالیہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ میں رٹ پٹیشن نمبری 469-17 جناب جسٹس فیصل زمان صاحب کی عدالت میں چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن کے لیگل ایڈوائزر قاضی آصف حسین ایڈووکیٹ نے انڈر ٹیکنگ دی کہ بلاک روڈ کو کھول دیا گیا ہے لیکن چیف آفیسر میونسپل کارپوریشن نے افسران بالا و عدالت عالیہ لاہور ہائیکورٹ ملتان بنچ کے احکامات پر عمل نہ کیا بلکہ کمشنر صاحب ڈویژن ڈیرہ غازی خان کے فیصلہ مورخہ 05-10-2018 کو عدالت عالیہ لاہور ہائی کورٹ ملتان بنچ ملتان میں رٹ پٹیشن نمبر 2181 کےتحت چیلنج کیا –

    جو مورخہ 29-05-2019 کو جسٹس مجاہد مستقیم نے میونسپل کارپوریشن آفیسر ڈیرہ غازی کی پٹیشن خارج کی اور کمشنر ڈیرہ غازی خان نے رٹ پٹیشن نمبر 15096 کےتحت کو جو فیصلہ کیا تھا وہ برقرار رہا اسی بابت ایس ایس پی سپیشل برانچ ریجن ڈیرہ غازی خان نے بھی موقع ملاحظہ کیا اور انہوں نے مورخہ 05-10-2018 کو افسران بالا کو رپورٹ بھجوائی جس میں انہوں نے واضح طور پر لکھا کہ میونسپل کارپوریشن کےافسران نے عدالت عالیہ و کمشنر صاحب ڈیرہ غازی خان ڈویژن کے فیصلہ جات کی نفی کرتے ہوئے حکم پر بھی روڈ نہ کھولا جس سے ڈیرہ غازی خان و ملحقہ آبادی کے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کو کھولا جانا اشد ضروری ہے-

    کھاتہ نمبر742 موضع گدائی شمالی ڈیرہ غازی خان خسرہ نمبر 2-1-35 برقبہ دو کنال دو مرلے پر مشتمل ہے موقعہ پر روڈ بند ہے عدالت عالیہ و افسران بالا کے حکم پر عملدرآمد فرماتے ہوئے روڈ کو کھولا جانا اشد ضروری ہے-

  • عمران خان نے تونسہ میں ڈیم کی فزیبلٹی تیارکرنےکا حکم دے دیا

    عمران خان نے تونسہ میں ڈیم کی فزیبلٹی تیارکرنےکا حکم دے دیا

    تونسہ:چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے تونسہ میں سیلاب متاثرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تونسہ میں سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف کے کام کا جائزہ لینا آیا تھا، میں نے ہیلی کاپٹر سے سیلاب زدہ علاقے کا بھی جائزہ لیا، یہاں ڈیم کی فزیبلیٹی بن چکی ہے، 10ارب کا پراجیکٹ ہے، اس سے 38 ہزار ایکڑ زمیں سیراب ہوگی، اگر ڈیم بن جائے تو پھر پانی شدت اور تباہی نہ مچاتا بلکہ نعمت بن جاتا، فصلیں بھی تباہ نہ ہوتیں۔

    انہوں نے کہا کہ حالیہ سیلاب نے 2010 کے سیلاب سے بہت زیادہ تباہی مچائی، یہ ساری تباہی کوہ سلیمان پر بارشوں سے آئی ہے، قوم کو ملکر اکٹھا ہوکر ایک دوسرے کی مدد کرنی ہوگی، میں نے پیسے اکٹھے کیے، پاکستانیوں پر فخر کرتا ہوں، پانچ گھنٹے میں پاکستانیوں نے 10ارب اکٹھا کرکے دیا، کبھی اتنے تھوڑے وقت میں پیسا نہیں دیا گیا، پوری قوم کو سیلاب متاثرین کی فکر ہے، افسوس یہ ہے کہ پیسے میں متاثرین کیلئے اکٹھا کررہا ہوں جبکہ امپورٹڈ حکومت خوفزدہ ہوکر ٹی وی نشریات بند کردیں، ملک کے بڑے مجرموں کو خوف ہے کہ ان کی کرسی نہ چلی جائے اور ان کی کرپشن نہ پکڑی جائے۔

    پوری قوم کو اکٹھا ہوکر اس کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ میں اور میری ٹیم، پنجاب اور کے پی حکومت پوری کوشش کریں گے کہ سیلاب متاثرین کی ہرطرح مدد کریں گے۔ متاثرین کو ریلیف کے بعد ان کے گھروں کی تعمیر کرنی ہے۔ ہم پوری کوشش کریں گے ہم اپنے متاثرین کی زندگیاں آسان کریں۔ انڈس ہائی وے متاثر ہوا پڑا ہے، نہروں کا سسٹم بری طرح متاثر ہوا ہے، صوبائی حکومت کے ساتھ وفاقی حکومت کو بھی مدد کرنی پڑے گی۔

    انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کو پیغام دینا چاہتا ہوں کہ دریائے سندھ کے ساتھ رائٹ بینک کنال 20سال سے بن رہی ہے، اس کا مقصد کوہ سلیمان کے پانی کو سمندر تک لے جانا ہوتا ہے۔ 2020میں واپڈا نے سیہون تک کام مکمل کرلیا تھا، اگر وہ نہر بن جاتی تو اتنی تباہی نہ ہوتی۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ سے مطالبہ کروں گا کہ تونسہ کو ضلع کا درجہ دیا جائے ، اس کی ساری فزیبلٹی پوری ہے۔

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

  • ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    ڈی جی خان میں 63 ارب تو دور 63 روپے بھی نہیں لگائے گئے،مبشر لقمان نے اصلیت بتا دی

    سینئرصحافی اور اینکر مبشر لقمان نے کہا ہے کہ کوہ سلیمان میں ایک بھی سیاسی جماعت کا ابھی تک کیمپ نظر نہیں آیا بڑے دکھ کی بات ہے کہ جن لوگوں کی وجہ سے سیاست دان ایوان اقتدار میں آتے ہیں . ابھی حضرت نے فرمایا کہ قدرتی آفت ہے مگر میں پوری طرح متفق نہیں ہوں ان سے ،یہ ہماری کوتاہیاں ہیں ،نالائقیاں اور چوریاں ہیں ان لوگوں کی جو ہمارے اوپر بیٹھے ہوئے ہیں وہ بھی اس میں شامل ہیں.

    کوہ سلیمان میں الخدمت فاوندیشن کی جانب سے امدادی کیمپ میں متاثرین سیلاب سے خطاب کرتے ہوئے مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ یہ جو بند ٹوٹے ہوئے ہیں یہ آپ کو بھی پتا ہے اور مجھے بھی پتا ہے کہ کیوں ٹوٹے ہوئے ہیں؟،انہوں نے کہا کہ 63 ارب روپے ڈی جی خان کیلئے پچھلے وزیراعلیٰ نے لگائے تھے، مجھے تو اس میں سے 63 روپے بھی کہیں لگے نظر نہیں آئے.

    مبشر لقمان نے کہا کہ میں کسی سیاسی جماعت سے نہیں ہوں اور نا ہی میں کوئی سیاسی بیان دے رہا ہوں ،میں ایک عام شہری کی حیثیت سے بات کر رہا ہوں،مبشر لقمان نے کہا کہ اگر میرے بچوں نے یہ پانی پینا ہو جو آپ لوگ پی رہے ہیں تو یہ بہت خوف ناک ہو گا،انہوں نے کہا کہ اگر میرے بچوں کو وہی سہولیات ہوں جو یہاں پر ہیں تو مجھے بڑا دکھ ہو گا.

    انہوں نے کہا کہ اس ڈی جی خان سے ایک صدر پاکستان ، دو پیجاب کے وزیراعلی ،دو گورنر اور 20 وزیر آچکے ہیں اور ڈی جی خان لگتا ہے کہ 20 ویں صدی میں ہے.مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ الخدمت والے تو ہیں یہاں اور کام کر رہے ہیں،لبیک والے بھی یہاں کام کر رہے ہیں اور دعوت اسلامی والے بھی کام کر رہے ہیں.اگر کوئی کام نہیں کر رہا تو سیاسی جماعتیں کام نہیں کر رہی ہیں.

    مبشر لقمان کا مذید کہنا تھا کہ افواج پاکستان سب سے آگے ہے،ریسکیو آپریشن تو وہی کر سکتے ہیں ، یہ لوگ اورہم لوگ تو ریلیف کا کام ہی کر سکتے ہیں.انہوں نے کہا کہ آپ کیلئے ریلیف کے بعد اصل امتحان بحالی کا ہے ،دو ماہ کے بعد یہ ٹینٹ ختم ہو جائیں گے اور دو مہینے کے بعد موسم کی شدت شروع ہو جائے گی.

    انہوں نے کہا کہ ایک مہینے کے بعد میڈیا بھی اپنا منہ موڑ لے گا،کبھی کوئی شہباز گل کی کہانی آجائے گی ،کبھی کوئی آجائے گی تو اس وقت میں متاثرین سیلاب کے ساتھ ہونا الخدمت کا بہت بڑا کام ہو گا کہ آپ ان کی بحالی کیلئے کام کریں ، ہم آپ کی آواز ارباب اختیار اور باقی لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں.

    مبشر لقمان نے کہا کہ لوگ مدد کر رہے ہیں اور کرنا چاہ بھی رہے ہیں مگر انہیں اعتبار نہیں ہے کسی پر کہ وہ مدد کس کے ذریعے کریں؟ یعنی جتنے لوگ اعلانات کر رہے ہیں. مجھے کئی لوگوں نے کہا امریکہ اور یورپ سے کہ ہم مدد کرنا چاہتے ہیں اور پیسے بھیجنا چاہ رہے ہیں کہ تمھارے کس اکاونٹ میں بھیجیں،تو میں نے ان کو تین اکاونت دیئے ہیں ،ایک میں نے الخدمت کا اکاونٹ دیا ،دوسرا تحریک لبیک کا اکونٹ ہے اور تیسرا پاکستان آرمی کا اکاونٹ ہے یہ اکاونٹس لے لیں، ان کے علاوہ مجھے کسی پر اعتبار نہیں ہے.

    مبشر لقمان نے سیلاب ذدگان سے کہا کہ اللہ تعالی آپ کی مشکلیں آسان کرے اور ہمارا جو امتحان ہے اس میں ہمیں سرخرو کرے،ہمارا یہ بھی امتحان ہے کہ ہم کس طرح سے آپ کے دست وبازو بنتے ہیں، یہ پوری قوم کا امتحان ہے. اللہ تعالی ہم کو ایسی تمام آفتوں سے بچا کے رکھے. آمین

  • ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات

    ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات

    تونسہ:ڈی جی خان اور تونسہ کی تباہی کا ذمہ دارکون؟مبشرلقمان نے کُھرا ڈھونڈ لیا:کوہ سلیمان کی پہاڑیوں سے انکشافات نے سیلاب سے تباہی کے اصل حقائق سے پردہ اٹھا دیا ہے ، اس حوالے سے پاکستان سے سینیئرتجزیہ نگار ممتازصحافی مبشرلقمان جو کہ اس وقت سیلاب سے متاثرہ ان علاقوں میں موجود ہیں وہاں کے اصل حقائق اپنے قارئین تک پہنچا رہے ہیں

    مبشرلقمان بتاتے ہیں کہ وہ خود حیران ہیں کہ سیلاب تو آہی گیا مگراس سیلاب کوتباہ کُن بنانے میں تونسہ کے طاقتوروں کا بھی حصہ ہے جنہوں نے اپنے کاروبار کو بچانے کی خاطرتونسہ اور ڈی جی خان کی عوام کو ڈبودیا

    اس سلسلے میں مبشرلقمان جب تونسہ کے اس علاقے میں پہنچے جہاں سے سیلاب نے تباہی پھیلانا شروع کی تو وہاں موجود مقامی افراد نے مبشرلقمان کے سامنے ساری صورت حال رکھ دی ،

    مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ اس مقام پرقدرتی طور پر بہت زیادہ پتھر تھے جو سیلاب کے پانی کے سامنے ایک بہت مضبوط اور قدری بند تھا مگریہاں کاروباری شخصیات نے اپنے کاروبار کو وسعت دینے کے لیے یہاں سے پتھر اٹھا اٹھا کراس کو کرش کرکے کے اپنا کاروبار چلایا لیکن مقامی لوگوں کوسیلاب کی تباہ کاریوں کے لیے پیش کردیا

     

    مقامی افراد نے اس موقع پر انکشافات کیے کہ اس وقت جب یہ چند مضبوط کاروباری شخصیات یہاں سے پتھراٹھا اٹھا کرلے جارہے تھے تومقامی افراد نے جوآج سیلاب کا سامناکررہے ہیں انہیں خدشات کی بنیاد پر احتجاج کیا تھا کہ اگریہ پتھریہاں سے اٹھا لیے گئے تو پھرپانی کے سامنے کوئی چیز نہیں ٹھہر سکے گی اورمقامی آبادیاں سیلاب کی نذرہوجائیں گی

    ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجائے اس کے کہ حکومت یا مقامی انتظامیہ اس مسئلے پر کوئی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی مگر افسوس کے ساتھ الٹآ مظاہرین کے خلاف مقدمات قائم کردیئے گئے، یہ ڈمپرز جنہوں مقامی لوگوں‌ کے زیراستعمال سڑکوں کو بھی تباہ کردیا ، مگریہ الزام لگا کر کہ ڈمپرز کو گزرنے نہیں دے رہے ، الٹا مقدمات قائم کیئے گئے

    ان کا کہنا تھا کہ آج سے چھ ماہ پہلے جواحتجاج اسی سلسلے میں کیا تھا نہ ڈی سی نے کوئی ایکشن لیا اور نہ ہی اے سی نے لوگوں کی بات پر توجہ دی بلکہ ان کاروباری طاقتور شخصیات کو تحفظ دیا

    مقامی لوگوں کی نشاندہی کے مطابق سینیئرصحافی مبشرلقمان نے وہاں اصل مقامات پر جاکراصل حقائق دکھائے ، وہاں کرشنگ پلانٹ لگے ہوئے ہیں اوروہاں ڈمپرز بھی موجود ہیں ، ان کا کہنا تھا کہ اگریہ مافیا یہاں سے پتھر نہ اٹھاتا تو کبھی بھی دریا کا پانی نواحی بستیون اور دیگرمقامات کی طرف نہ جاتا مگرکون ہے جوغریب عوام کی آہ وبکا کو سُن لے یہاں تو طاقتور طاقتوروں کو بچانے کے لیے بہت کچھ کررہے تھے

     

    مبشرلقمان نے اس موقع پر اہل نظرکوان طاقتورمافیازکے اصل حقائق بتاتے ہوئے کہا کہ ڈی جی خان سے لیکر تونسہ  تک تمام سڑکیں محفوظ ہیں ، بڑوں اوروڈیروں کے ڈیرے محفوظ ہیں مگراگرمحفوظ نہیں‌ تو غریب عوام کے کچے مکان اور ان کی جھونپڑیاں محفوظ نہیں ، یہاں ہرمکان تباہ حال ہیں n ، یہاں دوکانیں پانی میں گارا بن چکی ہیں ، یہاں کے مکین بے بس ہیں مگریہ بے بسی کب تک جاری رہے گی ، ہمارا کام تو حقائق کو پیش کرنا ، اہل نظرکا کام ہے حقائق کو پرکھنا اورحکمرانوں کا کام ہے اصلاح کرنا اگرپھربھی کچھ نہ ہوپائے توپھراپنے ہاتھوں سے ہی ہونے والی تباہی کا ذمہ دار کسی اور کو ٹھہرانا انصاف نہیں ہے

  • ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک آمد،سیلاب متاثرین کا عمران خان اور کے پی وزیر اعلیٰ کے رویے پر احتجاج

    ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک آمد،سیلاب متاثرین کا عمران خان اور کے پی وزیر اعلیٰ کے رویے پر احتجاج

    سابق وزیراعظم عمران خان اور کے پی کے وزیراعلیٰ محمود خان نے ٹانک اور ڈی آئی خان سمیت کے پی کے سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کیا دورے کے دوران عمران خان اور محمود خان نے متاثرہ اضلاع اور امدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا-

    باغی ٹی وی : میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی چیئرمین کا کہنا تھا کہ یہ آفت سندھ میں 2010 کے سیلاب سے ہونے والی تباہی کو پیچھے چھوڑ چکی ہے 2010 کے سیلاب کے مقابلے اس سال بارشوں نے دس گنا زیادہ نقصان پہنچایا۔

    انہوں نے کہا کہ ہم 2010 کے سیلاب کو ناقابل تصور تباہی تصور کرتے تھے لیکن اطلاعات کے مطابق اس بار ہونے والی تباہی اور جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہے۔

    عمران خان نے کہا کہ ڈیمز تعمیر کر کے ہم سیلاب کے نقصانات سے بچ سکتے ہیں اگر ہمارے پاس ڈیم ہوتے تو سیلابی پانی سے نقصانات کی بجائے ترقی ہوتی-

    عمران خان نے میڈیا سے کہا کہ وہ مشکل کی اس گھڑی میں عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے، لیکن عملی طور پر انہی آفت زدہ لوگوں نے سابق وزیراعظم اور کے پی کے چیف ایگزیکٹو کے ڈی آئی خان اور ٹانک کی آمد پر احتجاج کیا اور اسے ان کے لیے غیر نتیجہ خیز قرار دیا۔

    سیلاب متاثرین میں سے ایک شخص نے میڈیا کو بتایا کہ عمران خان اور محمود خان نے ان سے ملنے کی زحمت نہیں کی اور خیبرپختونخوا میں سیلاب کی بدترین صورتحال کے باعث ان کے مسائل اور پریشانیوں کو بھی نہیں سنا سانحہ سے متاثرہ خاندانوں نے وزیراعلیٰ کے پی محمود خان کے رویے پربھی احتجاج کیا۔

    دریائے کابل ، سوات، پنجکوڑہ اور دریائے سندھ میں مختلف مقامات پر اونچے درجے کا سیلاب

    واضح رہے کہ شبقدر کے قریب منڈا کا ہیڈ ورکس پل گرنے سے دریائے سوات کا سیلابی پانی چارسدہ شہر میں داخل ہونے کا خدشہ ہے۔

    مقامی لوگ انتہائی پریشان ہیں کیونکہ انتظامیہ نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ چارسدہ میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات سے بچنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی ہے۔ شاہی قلعے کے علاقے میں سیلابی پانی نے 500 مکانات مکمل طور پر ڈوب گئے۔

    ڈپٹی کمشنر کے مطابق چارسدہ میں فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور پانچ یونین کونسلوں کے سرکاری سکولوں کو سیلاب زدگان کی رہائش کے لیے خالی کرا لیا گیا۔

    سوات،کالام ،اور بحرین میں سیلابی ریلا راستے میں آنے والی ہر شے تنکوں کی طرح بہا لے گیا

    صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کی جانب سے دریائے سوات میں اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ کے بعد خیبر پختونخوا حکومت نے متعدد اضلاع میں فوری طور پر 30 اگست تک رین ایمرجنسی نافذ کردی ہے۔

    یہ فیصلہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی سفارش پر کیا گیا جبکہ فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کی جانب سے دریائے سوات میں خوازہ خیلہ اور اس سے منسلک ندی، نالوں میں اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی کی گئی ہے۔

  • تونسہ میں سیلاب، حالات پریشان کُن :فوج سےمدد مانگ لی گئی

    تونسہ میں سیلاب، حالات پریشان کُن :فوج سےمدد مانگ لی گئی

    ڈیرہ غازی خان :تونسہ میں سیلاب، حالات پریشان کُن : سویلین حکام نے فوج سے ہیلی کاپٹر مانگ لئے،اطلاعات کے مطابق تونسہ میں سیلاب نے تباہی مچادی ہے، ڈی جی خان نے فوج سے ہیلی کاپٹر مانگ لئے ہیں۔تفصیلات کے مطابق تونسہ میں سیلاب نے اپنے راستے میں آنے والی بستیوں کو نشانہ بنایا، شدید بارشوں و سیلاب سے بستی مندرانی اور بستی کیچل میں سیکڑوں لوگ پھنس گئے۔

    شہریوں میں بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں جن کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہے، فوج فوری طور پرعملہ سمیت ایک عدد ہیلی کاپٹر فراہم کرے۔ڈی جی ڈیرہ غازی خان نے کورپس 2 کنٹونمنٹ ملتان کو خط لکھ دیا ہے۔

    ڈیرہ ۔ رودکوہی سیلابی ریلے سے حفاظتی بند ٹوٹ گیا،تباہی مچ گئی

    بلوچستان میں سیلابی صورتحال
    دوسری جانب پروونشل ڈیزاسٹر میجنمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے مطابق آج سے 16اگست تک پنجاب کے مختلف شہروں میں موسلا دھاربارش جب کہ 18اگست تک ڈی جی خان کے برساتی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔

    پی ڈی ایم اے نے متعلقہ تمام اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے الرٹ رہنے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر ندی نالوں میں پانی کی سطح کا جائزہ لیا جائے۔

    وزیراعظم ، چیئرمین سینیٹ کا بلوچستان میں بارشوں اورسیلاب سے تباہی پراظہارافسوس

    علاوہ ازیں بلوچستان میں بارشوں کے نئے اسپئیل کے بعد سبی وگردونواح می وقفے وقفے کے ساتھ موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہوگیا جس کے بعد سبی شہر کے نشیبی علاقے زیر آب آگئے ہیں۔بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بھی بارشوں نے مزید سیلابی صورت حال پیدا کردی جبکہ ندی نالوں میں بھی طغیانی آگئی ہے۔

    کراچی میں پھربارشیں،بلوچستان میں سیلابی صورت حال کا الرٹ جاری

    قلعہ عبداللّٰہ میں پانی کے دباؤ سے تین ڈیم ٹوٹ گئے اور سیلابی ریلے مختلف علاقوں میں داخل ہوگئے جس کے باعث لوگ پھنس گئے۔پی ڈی ایم اے کے مطابق پیر علی زئی گاؤں میں 25 بچوں کو سیلابی ریلے سے نکال لیا گیا جبکہ سیلاب سے 4 افراد جاں بحق ہوگئے۔

    مون سون کے پے درپے اسپیل، موسلا دھار بارشوں نے سندھ اور بلوچستان میں تباہی مچادی، تھر پارکر اور بدین میں آسمانی بجلی گرنے سے 2 خواتین سمیت 3 افراد جاں بحق، قلعہ عبداللہ میں ڈیم ٹوٹ گیا، سیلابی ریلے میں ٹریکٹر ٹرالی اور بجلی کے درجنوں پول بہہ گئے جب کہ 2 افراد چل بسے، 20 لاپتا ہیں جن کی تلاش جاری ہے۔