Baaghi TV

Tag: ڈی چوک

  • ڈی چوک احتجاج،وزیراعظم و دیگر کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ڈی چوک احتجاج،وزیراعظم و دیگر کیخلاف درخواست سماعت کیلئے مقرر

    ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد ،ڈی چوک احتجاج کے تناظر میں پی ٹی آئی کی وزیراعظم شہباز شریف و دیگر کے خلاف کرمنل کمپلینٹ سیشن جج اعظم خان نے 23 دسمبر کو کیس ابتدائی بحث کے لیے مقرر کر دیا.

    عدالت نے آئندہ سماعت پر شکایت کنندہ کو حاضر ہونے کا حکم دے دیا،بیرسٹر گوہر نے موجودہ حکومت کے خلاف عدالت میں درخواست دائر کی ہے ،بیرسٹر گوہر نے وزیراعظم شہبازشریف و دیگر کے خلاف پرائیوٹ کمپلینٹ دائر کی ہے ،پرائیوٹ کمپلینٹ میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر اطلاعات عطاتارڑ، وزیر دفاع خواجہ آصف کو فریق بنایاگیاہے،آئی جی اسلام آباد، ڈی آئی جی آپریشنز، ایس ایس پی سیکیورٹی اور نامعلوم افراد کو بھی فریق بنایاگیاہے،بیرسٹر گوہر نے اپنی درخواست میں 12 ہلاک ہونے والے کارکنان کی لسٹ فراہم کی،گولیوں سے زخمی ہونے والے 38 کارکنان کی لسٹ بھی درخواست کے ساتھ منسلک ہے،139 کا پتہ کارکنان کے بھی نام درخواست میں درج کیے گئے ہیں.

    درخواست میں خیبر پختونخوا کے دو وزیروں کو بطور گواہ لکھا گیا ہے،درخواست کے مطابق یہ مقدمہ 200 سی آر پی سی کے تحت دائر کیا گیا ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کا حوالہ دیا گیا ہے، جن میں 302، 324، 337، 365، 394، 395، 396، 427، 436، 346، 166، 201، 503، 245، 107، 109، 120، 120(بی)، 148، 149 اور 109 شامل ہیں۔ اس مقدمے میں درج شکایات اور الزامات سنگین نوعیت کے ہیں۔ بیرسٹر گوہر علی خان پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین ہیں، نے اپنی شکایت میں کہا ہے کہ وہ پارٹی کے بانی سربراہ، عمران خان کے منتخب کردہ چیئرمین ہیں۔ عمران خان کو ایک سازش کے ذریعے عہدے سے ہٹایا گیا اور ان کی جگہ میاں شہباز شریف کو وزیر اعظم بنایا گیا۔ میاں شہباز شریف اور ان کے ساتھیوں پر ملک کی دولت لوٹنے اور کرپشن میں ملوث ہونے کے الزامات ہیں۔ شکایت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ محسن رضا نقوی، جو ابتدا میں پنجاب کے نگران وزیر اعلیٰ تھے، بعد میں پاکستان سینیٹ کے آزاد امیدوار کے طور پر منتخب ہو گئے۔شکایت میں جواب دہندگان پر مختلف سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں، جن میں پاکستان کے خلاف سازشیں، کرپشن، اور غیر قانونی سرگرمیاں شامل ہیں۔ الزامات میں حکومتی عہدوں کا غلط استعمال، عوامی خزانے کی لوٹ مار، اور عوامی مفاد کے خلاف اقدامات شامل ہیں۔

    واضح رہے کہ 24 نومبر کو عمران خان نے فائنل کال دی تھی، احتجاج کے لئے بشریٰ بی بی، علی امین گنڈا پور کی قیادت میں قافلہ اسلام آباد آیا اور 26 نومبر کو ڈی چوک پر رات کو بشریٰ ، گنڈا پور کارکنان کو چھوڑ کر فرار ہو گئے، اس دوران افغان شرپسندوں سمیت پی ٹی آئی کارکنان کو گرفتار کیا گیا ہے، پی ٹی آئی نے الزام لگایا کہ گولیاں چلائی گئیں تا ہم حکومت ثبوت مانگ رہی ہے اور پی ٹی آئی ابھی تک کوئی ثبوت نہ دے سکی، اس احتجاج کے دوران رینجرز اہلکاروں سمیت پولیس اہلکار شہید اور زخمی بھی ہوئے تھے، پی ٹی آئی اراکین مسلح تھے اور احتجاج کےدوران پولیس پر پتھراؤ بھی کیا تھا جس کی ویڈیوز سامنے آ چکی ہیں،

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    خلیل الرحمان قمر کے ساتھ کبھی کام نہیں کروں گی،نادیہ افگن

    ڈیرہ غازی خان: حمام اورہیئر سیلون ایڈز اور ہیپاٹائٹس پھیلانے کا گڑھ بن گئے

  • پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پی ٹی آئی مخالف،گھر بیٹھے شخص کو پی ٹی آئی نے مسنگ پرسن کی فہرست میں ڈال دیا

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا ایک اور جھوٹ بے نقاب ہوگیا ہے، پارٹی نے اپنی حالیہ ڈی چوک احتجاج کے دوران مسنگ پرسنز کی فہرست جاری کی تھی۔ اس فہرست میں کئی ایسے افراد کے نام شامل کیے گئے ہیں جن کا پی ٹی آئی کے احتجاج سے کوئی تعلق نہیں تھا، اور بعض افراد کے نام کے ساتھ والد کا نام تک نہیں لکھا گیا، جو ایک حیران کن بات ہے۔

    خاص طور پر، پی ٹی آئی نے مسنگ پرسنز کی فہرست میں ایک ایسے شخص کا نام شامل کیا ہے جس کا نہ تو پی ٹی آئی سے کوئی تعلق ہے، اور نہ ہی وہ احتجاج میں شامل ہوا تھا۔ یہ شخص خالد مزاری ہیں، جو ایک سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور اپنے گھر میں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی ویڈیو پیغام کے ذریعے اس فہرست میں اپنا نام شامل کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔

    خالد مزاری نے اپنے ویڈیو پیغام میں کہا: "میں راجن پور سے مخاطب ہوں، اور سوشل میڈیا پر پہلی بار آپ سے بات کر رہا ہوں۔ 139 مسنگ پرسنز کی پی ٹی آئی کی فہرست میں میرا نام موجود ہے۔ اللہ معاف کرے، میرا پی ٹی آئی سے کوئی تعلق نہیں ہے، نہ ہی میں احتجاج میں شامل ہوا ہوں اور نہ ہی کبھی ایسا سوچا تھا۔ ان کا جھوٹ اور پروپیگنڈہ دیکھیں، لوگ یہی سمجھیں گے کہ اتنے لوگ مسنگ پرسن ہیں۔ اب 59 پرسنز پر میرا نام ہے اور میں یہاں بیٹھا ہوں۔”مزاری نے مزید کہا کہ ان کے بارے میں اس طرح کا پروپیگنڈہ کرنے والے افراد کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ ان کی عمر دراز کرے اور دعا کی کہ وہ عمران خان کا جنازہ اپنی آنکھوں سے دیکھ کر اس دنیا سے رخصت ہوں۔

    اس واقعہ نے پی ٹی آئی کی جانب سے مسنگ پرسنز کے بارے میں کیے جانے والے جھوٹے دعوؤں کو مزید اجاگر کیا ہے، اور ایک بار پھر پارٹی کے پروپیگنڈہ کی حقیقت کو بے نقاب کیا ہے۔ خالد مزاری سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں اور وہ ایکس پر پی ٹی آئی کے پروپیگنڈے کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں، یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خالد مزاری کا تعلق ن لیگ سے ہے، باخبر ذرائع کے مطابق خالد مزاری کے دوستوں نے باہمی مشورے سے اس کا نام پی ٹی آئی والوں کو بھیجا اور پی ٹی آئی کی ٹیم نے بغیر کسی تصدیق کے خالد مزاری کا نام مسنگ پرسن کی لسٹ میں ڈال دیا جس سے ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی مسنگ پرسن کے نام پر پروپیگنڈہ کر رہی ہے.

    مخصوص نشستوں کا فیصلہ،سلمان اکرم راجا نے ججز کی سہولتکاری بے نقاب کر دی

    جو جو پاکستان کو تباہ کرنے کی سازش کرے گا اسے بے نقاب کروں گا ،عون چودھری

    سوشل میڈیا پر جلسڑیاں کرنے والوں کو ہم نے بے نقاب کیا،مولانا فضل الرحمان

  • طلبا کے ہاتھ میں پتھر کیلوں والے ڈنڈے اور شیل نہیں دیکھنا چاہتی،وزیراعلیٰ پنجاب

    طلبا کے ہاتھ میں پتھر کیلوں والے ڈنڈے اور شیل نہیں دیکھنا چاہتی،وزیراعلیٰ پنجاب

    وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف پاکستان کے سب سے بڑے ہونہار سکالرز شپ لانچنگ کے لئے پنجاب یونیورسٹی پہنچ گئیں

    ہونہار سکالرز شپ حاصل کرنے والے طلبہ کو پولیس کے چاق و چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا،سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر فرخ نوید نے ہونہار سکالرز شپ سکیم کی تفصیلات بیان کیں،ڈاکٹر فرخ نوید نے کہا کہ پہلی مرتبہ پاکستان کی 15 پرائیویٹ یونیورسٹیوں کی طلبہ بھی سکالرشپ کی حامل کرینگے۔ میٹرک اور انٹرمیڈیٹ کے پوزیشن ہولڈر بھی سکالرز شپ حاصل کر سکیں گے۔ہونہار سکالرشپ حاصل کرنے والی بی فارمیسی کی طالبہ حمنہ مقصود نے طلبہ کی نمائندگی کرتے ہو ئے وزیر اعلی مریم نواز کاشکریہ ادا کیا

    وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے ہونہار سکالرشپ پروگرام کی افتتاحی تقریب سے خطاب میں کہا کہ ہونہار سکالر شپ پروگرام سے وسائل رکھنے والے طلباء کے خواب حقیقت بنیں گے،جو محبت اور فکر میں اپنے بچوں کے لیے محسوس کرتی ہوں، ویسی ہی پنجاب کے بچوں کے لیے محسوس کرتی ہوں،میں آج وزیراعلیٰ یا سیاسی لیڈر کے طور پر نہیں بلکہ ایک ماں کے طور پر خطاب کر رہی ہوں،میرے تین بچے ہیں، دو بیٹیاں، ایک بیٹا، میں آگے چل کربتاؤن گی کہ بچوں کے لئے کیا سوچتی ہوں، جو انکے لئے سوچتی ہوں وہ ذمہ داری کم، آپکی ذمہ داری زیادہ لگتی ہے، ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے اور ہونا چاہئے، ایک ایسی چیف ایگزیکٹو ہے صوبے کی جو آپ کے مستقبل کے لئے کام کر رہی ہے، دن رات ایک ماں بن کر سوچ رہی ہے،30ہزار اسکالر شپس میں 12 ہزار لڑکے اور 18 ہزار لڑکیاں شامل ہیں۔ہونہار سکالرشپ پروگرام میں میڈیکل کالج ، لمز ، جے آئی کے اور فاسٹ بھی شامل ہیں۔

    مریم نواز نے طلبا سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ میرے پاس پنجاب یونیورسٹی کی ڈگری ہے،میں ہونہار طلبہ کو اپنا سلام پیش کرتی ہوں، آپ کے مستقبل کے لیے دن رات سوچتی ہوں، آج طلبہ کو صرف اسکالرشپس نہیں، بلکہ میرٹ پر محنت کا صلہ مل رہا ہے، پولیس کے دستے نے آج آپ کی محنت کو گارڈ آف آنر پیش کیا ہے۔ پنجاب کا کوئی بچہ فیس نہ ہونے کے باعث اعلیٰ تعلیم سے محروم نہیں رہے گا،آپ کی تعلیم آپ کے والدین سے زیادہ میری ذمہ داری ہے، 30 ہزار اسکالرشپس کے لیے 70 ہزار درخواستیں آئیں، 60 فیصد اسکالرشپس طالبات کو مل رہی ہیں، 30 ہزار اسکالرشپس میں سے 18 ہزار لڑکیوں اور 12 ہزار لڑکوں کو مل رہی ہیں،نوازشریف انٹرنیٹ سٹی بنا رہے ہیں، اور انٹرنیشنل یونیورسٹیز کے کمپیس یہاں لائیں گے۔کہا جاتا ہے کونسا اپنی جیب سے پیسہ لگا رہے ہیں عوام کا پیسہ ہے عوام پر لگ رہا ہے۔سیاستدان وہ ہوتا ہے جو نئی نسل پر سرمایہ کاری کرے۔

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی بیٹی ہوں، جو وعدہ کرتی ہوں وہ پورا کرتی ہوں، لیپ ٹاپ بھی لے کر آ رہی ہوں،یہ وعدہ کر کے جا رہی ہوں، یہ تین چار سال کی تعلیم نہیں دیکھ رہی آگے تعلیم حاصل کریں گے تو وہ اخراجات بھی اٹھائیں گے، میں وعدہ کرکے جا رہی ہوں،ایک ماں کے طور پر ،تعلیم حاصل کر کے نوکری نہ ملے تو یہ ناکامی،روزگار نہ ملے تو ناکامی،آج سے میں نے کام شروع کیا ہے جب آپ ایک ڈگری لے کر نکلو تو آپ کو کام کا موقع ملے، باہر ملک نہ جانا پڑے،یہی ہماری توانائیاں،محنت جو باہر جا کر کرتے اپنے ملک میں کریں تو دیکھیں ملک کتنی ترقی کرے، پاکستان کو اللہ نے بہت نعمتیں دی ہیں،بچے بین الاقوامی یونیورسٹیوں میں باہر جاکر پڑھنا چاہتے ہیں وہ مہنگا پراجیکٹ ہے لیکن اپنے بچوں سے زیادہ مہنگا کچھ نہیں ہے، ہماری پوری کوشش ہے کہ باہر جاکر پڑھنے کا بچوں کا پورا خرچہ ہم اٹھائیں

    وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا مزید کہنا تھا کہ ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ اپنے بچوں کو محفوظ جگہ پر بٹھایا ہوا ہے اور ان پر آنچ بھی نہیں آسکتی اور قوم کے بچوں کو آپ نے مار کھانے اور مارنے کے لیے قوم کے بچوں کو رکھا ہوا ہے،میں مثبت چیز کی ترغیب دوں گی، اگر جلاؤ گھیراؤ کرنا ہے تو میرے بچوں کو سب سے آگے کھڑا ہونا چاہئے وہ آگے نہیں ہیں تو اسکا مطلب ہے یہ کہ درست اور محفوظ نہیں، رینجرز اور پولیس پر گولیاں چلائی گئیں،طلباء کے ہاتھ میں پتھر کیلوں والے ڈنڈے اور شیل نہیں دیکھنا چاہتی۔طالب علم پڑھتا ہوا اچھا لگتا ہے ڈی چوک میں بیٹھا ہوا اچھا نہیں لگتا۔جیل میں بیٹھے شخص سے سزا نہیں کاٹی جارہی، اس نے بار بار کال دی، ہر کال بری طرح فیل ہوئی

  • پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب

    پی ٹی آئی احتجاج کی اپنی ناکامی چھپانے کے لیے طرح طرح کے پروپیگنڈے کر رہی ہے

    مذموم سیاسی مقاصد کا حصول ، پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کے حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا بے نقاب ہو گیا،پی ٹی آئی سوشل میڈیا پر احتجاج کی ناکامی کو چھپانے کے لئے من گھڑت پروپیگنڈا پھیلانے لگی ،سوشل میڈیا پر جعلی تصاویر ، ویڈیوز اور غلط اعداد و شمار کا سہارا لیا جا رہا ہے ،پی ٹی آئی نے سیاسی مقاصد کے حصول کے لئے فلسطین کے شہداء کی لاشوں کو بھی نہ بخشا،پی ٹی آئی کافلسطین کے شہداء کی لاشوں کی تصاویر کے ذریعے مذموم پروپیگنڈا جاری ہے

    بیرون ملک فرار سلمان احمد نے فلسطین کے شہداء کی تصاویر کو احتجاج میں من گھڑت ہلاکتوں سے جوڑ دیا ،ہلاکتوں کا پروپیگنڈا ریاست دشمن ایجنڈے کے تحت سوشل میڈیا پر کیا جا رہا ہے،ہلاکتوں کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنما ؤں کا پروپیگنڈا بھی جاری ہے جس میں واضح تضا د پایا جاتا ہے ،سلمان اکرم راجا 20، شیر افضل مروت 12، علی امین گنڈا پور سینکڑوں اور لطیف کھوسہ نے تو 278 ہلاکتوں کا دعویٰ کر دیا ہے،سوشل میڈیا پر بھی پی ٹی آئی سے منسلک نام نہاد یو ٹیوبر ز کا بھی منفی پروپیگنڈا جاری ہے ،ہلاکتوں کے منفی پروپیگنڈے کے حوالے سے دو بڑے ہسپتالوں پمز اور پولی کلینک کے وضاحتی بیان سامنے آچکے ہیں،پمز انتظامیہ کے مطابق 36 عام شہری اور 66 قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار زخمی حالت میں ہسپتال لائے گئے تھے ،پولی کلینک ہسپتال انتظامیہ کے مطابق بھی ہسپتال میں کوئی لاش نہیں لائی گئی،، پولی کلینک ہسپتال انتظامیہ کے مطابق کچھ معمولی زخمی افراد آئے جنہیں ابتدائی طبی امداد کے بعد ڈسچارج کردیا گیا

    سوشل میڈیا پر پروپیگنڈے کا مقصد ریاستی اداروں کو بدنام کرنا اور ہلاکتوں کے حوالے سے گمراہ کن پروپیگنڈا کرنا ہے ،پی ٹی آئی کی جانب سے ہلاکتوں کا پروپیگنڈا صرف کارکنوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے اور پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کیلئے ہے

    احتجاج ،ناکامی کا ذمہ دار کون،بشریٰ پر انگلیاں اٹھ گئیں

    پی ٹی آئی کا ہلاکتوں کا دعویٰ فیک نکلا،24 گھنٹے گزر گئے،ایک بھی ثبوت نہیں

    مظاہرین کی اموات کی خبر پروپیگنڈہ،900 سے زائد گرفتار

    شرپسند اپنی گاڑیاں ، سامان اور کپڑے چھوڑ کر فرار ہوئے ہیں ،عطا تارڑ

    مبشر لقمان کی وزیر داخلہ محسن نقوی پر تنقید،رانا ثناء اللہ کے دور سے موازنہ

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

  • بانی پی ٹی آئی کا انقلاب دم دبا کر بھاگ گیا ہے،مریم اورنگزیب

    بانی پی ٹی آئی کا انقلاب دم دبا کر بھاگ گیا ہے،مریم اورنگزیب

    لاہور: سینئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ الحمدللہ 9 مئی ٹو کے پلان کو ناکام بنا دیا گیا-

    باغی ٹی وی: مریم اورنگزیب نے کہا کہ شرپسند 2014 میں ڈی چوک قبریں کھودنے آئے تھے اور 2024 میں رینجرز اور پولیس اہلکاروں کو شہید کر کے بھاگ گئے 9 مئی کو کارکنوں کو آگے لگا کر فوجی تنصیبات پر حملہ کیا گیا اور 26 نومبر کو کرائے کے دہشت گردوں اور اسلحے کے ساتھ رینجرز اور پولیس شہید کروائے گئے، یہ لوگ ڈی چوک میں صرف رینجرز اور پولیس کی لاشیں لینے آئے تھے۔

    مریم اورنگزیب نے کہا کہ پولیس اور رینجرز اہلکاروں کی شہادت کے ذمہ دار بانی پی ٹی آئی، بشری بی بی اور گنڈا پور ہیں، جو سر پہ کفن باندھ کے آنے کا نعرہ لگا کر آئے تھے وہ پولیس اور رینجرز کو شہید کر کے بھاگ گئے، کوئی بھی پاکستانی یہ حرکت نیہں کر سکتا، تین دن عوام نےپی ٹی آئی کی دہشت گردی دیکھی، تحریک انصاف سیاسی جماعت نہیں“ہارڈنڈ کرمنلز“ کا گروہ ہےبانی پی ٹی آئی کا انقلاب دم دبا کر بھاگ گیا ہے۔

  • ڈی چوک کے قریب مظاہرین کے ٹی وی دفاتر پر حملے

    ڈی چوک کے قریب مظاہرین کے ٹی وی دفاتر پر حملے

    پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین نے ڈی چوک کے قریب ایک نیوز کے دفتر پر حملہ کر دیا

    پی ٹی آئی کے شرپسندوں نے ڈی چوک کے قریب نجی ٹی وی "ایک نیوز” پر حملہ کرتے ہوئے ڈائریکٹر نیوز کو شدید زخمی کر دیا ، اطلاعات کے مطابق پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین نے ایک نیوز پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی ہے،دفتر پر پتھراؤ کیا ہے، ایک نیوز ٹی وی کے دفتر میں سٹاف دفتر تک محدود ہو کر رہ گیا ہے، سٹاف کی جانیں خطرے میں ہیں

    ڈی چوک کے قریب میڈیا کے دفاتر ہیں ، ضرورت اس امر کی ہے میڈیا دفاتر کو فوری سیکورٹی مہیا کی جائے، تاکہ شرپسند عناصر سے میڈیا کو تحفظ فراہم ہو،سما ٹی وی، جیو ٹی وی، اے جی این سمیت دیگر میڈیا کے ڈی چوک کے قریب دفاتر ہیں، مظاہرین کی جانب سے اے جی این کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا ہے،

    نیوز چینل کے حکام نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا کی آزادی پر حملے کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں ہیں۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ہو سکے۔

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    اسلام آباد پریس کلب کے سابق صدر شکیل قرار ایکس پر کہتے ہیں کہ اسلام آباد ، ایکسپریس چوک کے قریب “اے جی این “اور “ایک نیوز” کے دفاتر پر مظاہرین کا دھاوا ، صحافی یرغمال بنا دیا گیا دفاتر میں توڑ پھوڑ ، “ ایک نیوز “ کے ڈائریکٹر محمد عادل کو زخمی کردیا ، سیکورٹی فورس کہاں گئی ؟؟؟

  • انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    انتشار،بدامنی پی ٹی آئی کا ایجنڈہ،بشریٰ بی بی کی "ضد”پنجاب نہ نکلا

    سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل سے رہائی کے لئے پی ٹی آئی کے احتجاجی مظاہرین عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قیادت میں ڈی چوک پہنچ چکے ہیں، پر تشدد احتجاج کے دوران تین رینجرز اہلکاروں، دو پولیس اہلکاروں کی موت ہوئی، 22 پولیس کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا، توڑ پھوڑ جلاؤ گھیراؤ کیا گیا، پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنایا گیا اور اس کے بدلے اپنے گرفتار کارکنان کو رہا کروایا گیا، اسلحہ کے زور پر پولیس اہلکاروں سے عمران خان زندہ باد کے نعرے لگوائے گئے،

    سیاسی مفادات کیلئے پی ٹی آئی ملکی استحکام سے کھیلنے لگی
    پی ٹی آئی اس وقت ملک میں شدید سیاسی اور معاشی انتشار پھیلانے میں ملوث ہے، اور ان کی سیاست میں واضح طور پر بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کا ایجنڈا نظر آ رہا ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت نے جس طرح کے اقدامات اٹھائے ہیں، ان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ان کا مقصد صرف اپنے سیاسی مفادات کو بڑھانا اور ملک میں موجود حکومت کو کمزور کرنا ہے، چاہے اس کے لیے انہیں عوامی امن و امان سے کھیلنا پڑے۔ تحریک انصاف کا رویہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ اپنے مقاصد کے لیے انسانی جانوں کی پرواہ کیے بغیر ہر حد تک جانے کے لیے تیار ہیں۔

    بشریٰ بی بی سیاست میں "ان” عوام کیلئے مشکلات بڑھا دیں
    تحریک انصاف کے اندر بشریٰ بی بی کا سیاسی کردار بھی نظر آیا، بشریٰ بی بی جس کے بارے میں عمران خان کہتے تھے کہ وہ گھریلو خاتون ہیں انکا سیاست سے کوئی تعلق نہیں مگر اب یہ دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، خیبر پختونخوا سے آنے والے احتجاجی قافلے کی قیادت بشریٰ بی بی نے کی،عمران خان سے اڈیالہ جیل میں پی ٹی آئی رہنماؤں نے اسلام آباد میں احتجاج کے لئے جگہ کے حوالہ سے بات کی، عمران خان مان گئے تا ہم بشریٰ بی بی نہ مانی،بشریٰ بی بی کی ذاتی خواہشات اور سیاسی قد بڑھانے کی ضد تحریک انصاف کی موجودہ حکمت عملی کا ایک مرکزی عنصر بن چکی ہے،بشریٰ بی بی پی ٹی آئی میں طاقتور رہنما کے طور پر تو سامنے آ گئیں اور اپنے آپ کو سیاسی لیڈر منوا لیا تا ہم اس کے نتیجے میں ملک میں سنگین معاشی اور سماجی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ معاشی مشکلات اور سماجی عدم استحکام پہلے ہی بڑھ چکے ہیں ،بشریٰ بی بی کی ضد کی وجہ سے عوام بھی مشکلات کا شکار ہو چکے ہیں، معیشت کا کمزور ہونا، سیاسی بحران، اور سماجی بے چینی کا بڑھنا، یہ تمام عوامل ایک دوسرے کے ساتھ جڑ کر ملک کے لیے گہری مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ ایسے حالات میں عوام کی زندگی مزید مشکل ہو رہی ہے اور انہیں روزمرہ کے مسائل کا سامنا ہے۔

    پنجاب کی عوام نے پی ٹی آئی کے ساتھ ہاتھ کر دیا
    پی ٹی آئی نے احتجاج کا اعلان کیا اور حتمی کال کا نام دیتے ہوئے بشریٰ بی بی نے سب کو کہا کہ جو بندے نہیں لائے گا اسکو آئندہ ٹکٹ نہیں ملے گا، خیبر پختونخوا جہاں پی ٹی آئی کی حکومت ہے وہاں سے سرکاری وسائل کے بے دریغ استعمال کے ساتھ پی ٹی آئی نے اسلام آباد پر لشکر کشی کی تا ہم پنجاب سے پی ٹی آئی کو مایوسی ہوئی کیونکہ پنجاب سے پی ٹی آئی کی قیادت ہی غائب نظر آئی تو وہیں کارکنان بھی نہ نکلے،لاہور سے ایک درجن کے قریب عالیہ حمزہ کی قیادت میں کارکنان اسلام آباد پہنچے، پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نومئی مقدمات کی وجہ سے روپوش ہیں اور صرف ایکس پر متحرک ہیں، پی ٹی آئی سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجہ بھی عمران خان کی کال پر لاہور کی سڑکوں کے چکر لگاتے رہے تا ہم احتجاج کے لئے عوام کو نہ نکال سکے، پنجاب کے دیگر شہروں سے بھی پی ٹی آئی کوئی بڑا قافلہ نہ روانہ کر سکی،جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ پی ٹی آئی کی عوامی حمایت میں کمی آ چکی ہے۔ اگرچہ تحریک انصاف کے کچھ افراد مخصوص علاقوں میں نمایاں دکھائی دیتے ہیں، مگر ان کی اکثریت سرکاری ملازمین پر مشتمل ہے، پی ٹی آئی کے لئے یہ بہت بڑا دھچکا ہے کہ عمران خان کی رہائی کے لئے حتمی کال دی گئی اور پنجاب جو آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے، سے عمران خان کے لئے کوئی نہ نکلا.

    نومئی پھر دوہرا دیا گیا، سیاست کے نام پر تشدد کب تک
    پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکمت عملی اور اندرونی قیادت کی سوچ ملک کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔ انتشار اور تشدد کی سیاست کو ہوا دینا نہ صرف ملک کی سیاسی فضا کو مزید تلخ بناتا ہے، بلکہ اس کے گہرے معاشی اور سماجی اثرات بھی مرتب ہوتے ہیں۔پی ٹی آئی نے پہلے نومئی کیا جسے ابھی تک پاکستانی نہیں بھول سکے، اب عمران خان کی رہائی کے نام پر نومئی سے بڑا اقدام پی ٹی آئی کا سامنے آیا ہے، پی ٹی آئی سیاسی نہیں بلکہ متشدد جماعت بن چکی ہے جس کا مقصد ملک دشمنی ہی نظر آتا ہے کیونکہ ابھی تک پی ٹی آئی نے ایسا کوئی کام نہیں کیا جس سے پی ٹی آئی کی حب الوطنی نظر آئے،

    9 مئی سے کہیں بڑا 9 مئی ساتھ لئےخونخوار لشکر اسلام آباد پہنچا ہے،عرفان صدیقی

    پی ٹی آئی مظاہرین ڈی چوک پہنچ گئے

    آئی جی کو اختیار دے دیا اب جیسے چاہیں ان سے نمٹیں،وزیر داخلہ

    اسلام آباد،تین رینجرز اہلکار شہید،سخت کاروائی کا اعلان

    عمران کے باہر آنے تک ہم نہیں رکیں گے،بشریٰ کا خطاب

    کوئی مجھے اکیلا چھوڑ کر نہیں جائے گا، بشریٰ بی بی کا مظاہرین سے حلف

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

    پی ٹی آئی احتجاج،قیادت بشریٰ بی بی نے سنبھال لی،کینٹینر پر چڑھ گئیں

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ تو آ گئیں، علیمہ خان منظر سے غائب

    سپریم کورٹ پر حملہ کرنے والوں کو سزا مل جاتی تو نومئی نہ ہوتا، مبشرلقمان

    بشریٰ کو خون چاہیے،مولانا کو 3 میسج کس نے بھجوائے؟

    بشریٰ کا خطاب،عمران خان تو”وڑ” گیا. مبشر لقمان

    گاڑیوں میں بیٹھیں،تیز چلیں، خان کو لئے بغیر واپس نہیں آنا، بشریٰ بی بی کا شرکا سے خطاب

    پٹھان غیرتمند،ساتھ نہیں چھوڑتے،میرے "میاں” کو لانا ہے،بشریٰ کا کینیٹینر پر خطاب

  • ڈی چوک خالی کروا لیا گیا، لائٹس ،مارکیٹس بند،رات آپریشن کا امکان

    ڈی چوک خالی کروا لیا گیا، لائٹس ،مارکیٹس بند،رات آپریشن کا امکان

    پی ٹی آئی احتجاج،پاک فوج کے دستے ڈی چوک آئے اور پھر واپس چلے گئے،

    ڈی چوک پر رینجرز نے تحریک انصاف کے مظاہرین پیچھے دھکیل کر دوبارہ کنٹرول سنبھال لیا ہے،ڈی چوک کی لائٹس بھی بند کر دی گئی ہیں، ڈی چوک پہنچنے والے پی ٹی آئی کے 200 سے زائد کارکنوں کو رینجرز نے پیچھے دھکیل دیا ہے، جبکہ بشریٰ بی بی اور علی امین گنڈاپور جناح ایونیو پر سیونتھ ایونیو کے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔
    قوی امکان ہے کہ ڈی چوک پر پی ٹی آئی مظاہرین کے خلاف آپریشن کیا جائے گا،پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ ڈی چوک سے آگے جارہے ہیں، ڈی چوک سے آگے نہیں جانا،ڈی چوک سے آگے بڑھنے والوں پر فوج اور رینجرز نے فائرنگ کردی،تین لوگ میرے سامنے زخمی ہوگئے ہیں،عمران خان نے ڈی چوک تک کال دی ہے،عمران خان کے آئندہ لائحہ عمل کا انتظار کریں گے،کوئی کارکن آگے بڑھنے کی کوشش نہ کریں،

    علاوہ ازیں پی ٹی آئی کارکنان نے علی امین گنڈاپور پر بوتلیں اچھال دی،کارکنان کی جانب سے علی امین گنڈاپور پر حملے کی بھی کوشش کی گئی،علی امین گنڈاپور گاڑی سے باہر نکل کر کارکنان سے خطاب کرنا چاہتے تھے اس موقع پر کارکنان کی جانب سے حملہ کیا گیا.

    تحریک انصاف کے مظاہرین کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن، حکمت عملی تیار
    اسلام آباد میں تحریک انصاف کے احتجاج کے پیش نظر انتظامیہ نے بڑا ایکشن پلان تیار کر لیا گیا،ڈی چوک تک پہنچنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کی مکمل تیاری کر لی گئی ہے،ڈی چوک کے اردگرد کے سیکٹرز میں قائم تمام مارکیٹس کو انتظامیہ نے فوری طور پر بند کروا دیا، میلوڈی، بلیو ایریا، آبپارہ، ایف-6 اور ایف-7 کی مارکیٹس مکمل طور پر سیل کر دی گئیں،رات کی تاریکی میں بڑے آپریشن کی منصوبہ بندی جاری ہے، آئی جے پی روڈ اور اسلام آباد کے اہم داخلی و خارجی راستے خالی کرانے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں،انتظامیہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیار ہے اور مظاہرین کو سختی سے نمٹنے کا ارادہ رکھتی ہے،اسلام آباد میں کشیدہ حالات کے پیش نظرکسی بھی بڑے ایکشن کی توقع کی جا رہی ہے،

    قبل ازیں ڈی چوک میں کنٹنیرز کے اوپر بھی فوج کے اہلکاروں نے پوزیشن سنبھال لی تھی تا ہم بعد ازاں پاک فوج کے دستے ڈی چوک سے روانہ ہو گئے، اس موقع ہر مسجد سے اعلانات کئے جا رہے ہیں کہ احتجاج سب کا حق ہے، توڑ پھوڑ نہ کریں، لوگوں کو نقصان نہ پہنچائیں، پُر امن رہیں، قانون کو ہاتھ میں لینے پر کارروائی کی جائے گی۔ڈی چوک سے میڈیا ٹیموں اور ڈی ایس این جیز کو ہٹا دیا گیا ہے،

    تحریک انصاف کے کارکنان اور رہنماؤں پر مشتمل قافلہ ڈی چوک کی جانب رواں دواں ہے جب کہ پی ٹی آئی کے متعدد کارکنان بھی ڈی چوک پہنچ چکے ہیں،ڈی چوک اور اطراف میں سکیورٹی سخت ہے اور ڈی چوک کی طرف بڑھنے والوں کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا جبکہ ریلی کی قیادت کرنے والوں کو بھی گرفتار کیا جائے گا،ڈی چوک میں پی ٹی آئی کارکنان کینٹینر پر چڑھ گئے اور عمران خان کے حق میں نعرے بازی کی،

    پی ٹی آئی رہنما سہیل آفریدی کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کا پہلا قافلہ تمام رکاوٹیں عبور کر کے ڈی چوک پہنچ گیا ہے، اس موقع پر مظاہرین پر پولیس کی جانب سے شلینگ کی جا رہی ہے تو وہیں پی ٹی آئی کارکنان پولیس پر پتھراؤ کر رہے ہیں،ڈی چوک ابھی تک کارکنان پہنچے ہیں تا ہم پی ٹی آئی کی قیادت میں سے ابھی تک کوئی ڈی چوک نہیں پہنچا،

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں مارکیٹس بند کرانا شروع کردی گئی ہیں،مختلف سیکٹرز میں مارکیٹس بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے گئے،سیکٹر ایف 10 اور 11 میں بھی مارکیٹس بند کرانے کی ہدایات دے دی گئیں،جی 6 جی 7 جی 8 کی مارکیٹس بھی بند کرانے کے احکامات جاری کر دیئے گئے،ایف 6 اور ایف 7 کی مارکیٹس کی بند کرانے کے احکامات دے دیئے گئے.

    عمران خان کے احکامات تک ڈی چوک سے آگے نہیں جانا، علی امین گنڈا پور
    وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور نے مظاہرین سے خطاب میں کہا کہ ڈی چوک مطلب ڈی چوک، جب تک عمران خان کا حکم نہیں ہو گا، واپس نہیں جائیں گے، ہمیں اپنا دھرنا دینے دو، یہ ہمارا مُلک ہے، اِس مُلک کو آزاد کرانے کےلئے ہمارے آبائو اجداد نے قربانیاں دی ہیں، کسی کا باپ بھی ہمارے اوپر غلط نظام مسلط نہیں کر سکتا،عمران خان نے ہمیشہ پُرامن رہنے کا درس دیا ہے،ڈی چوک سے آگے ہم نے نہیں جانا جب تک عمران خان کے احکامات نہیں آتے،ڈی چوک سے آگے کا علاقہ جو عمران خان نے جانے کا نہیں کہا ہم نے اس کی حفاظت کرنی ہے،ہمارے پُرامن احتجاج میں ایسےغلط لوگ شامل کروائےجائیں گے جو پُرامن ماحَول کو خرابِ کرنے کی کوشش کریں گے،یہ عمران خان کا ٹائیگر ہے یہ پاکستان تحریک انصاف کا کارکن ہے انکی سوچ پُرامن ہے

    پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر نے کہا ہے کہ پنجاب بھر سے اکثر کارکنان اور ٹکٹ ہولڈر آج اپنے شہروں سے نکلنے میں کامیاب ہو چکے ہیں اور اسلام آباد کے راستے میں ہیں۔ جو اب تک نہیں نکلے وہ اکیلی اکیلی گاڑی کو ناکوں سے گزاریں یا متبادل کچے راستے اپنائیں۔ سفر کے دوران سوشل میڈیا سے پرہیز کریں اور اسلام آ باد پہنچ کر ہی اعلان کریں۔

    خاتون صحافی و اینکر غریدہ فاروقی ایکس پر کہتی ہیں کہ حیران کن طور پر کسی بھی مرحلے، کسی بھی جگہ پر نہ تو بشری بی بی نہ علی امین گنڈاپور کو گرفتار تو کیا، کوشش تک بھی نہ کی گئی۔ اسلام آباد داخلے کے بعد کئی مقامات خاص کر G9 سے لے کر جناح ایونیو فلائی اوور تک ایک بھی پولیس،سیکورٹی جوان موجود نہیں تھا، نہ تو پی ٹی آئی کو روکنے کی کوشش کی گئی نہ گرفتار کرنے کی۔ یہ سب حیران کن۔ یا غالبا حکومت بیلاروس کے صدر،وفد کی واپسی کی منتظر یا اسلام آباد کی رات کی سخت سردی، ناکافی وسائل، کھانے پینے و دیگر سہولیات کے exhaust ہو کر دھرنے کے ازخود اختتام کی ‘wait and watch policy’ کی حامی ۔۔۔۔۔۔

    اگر کوئی یہ کہے کہ بیوی خان کو چھوڑ کر چلی گئی تو جھوٹ ہو گا،بشریٰ بی بی کا اعلان
    بشریٰ بی بی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ خان ایک شاہین ہے، شاہین کی پرواز اونچی ہوتی ہے، خان کے ساتھ جتنے گدھ تھے سب جان گئے،گدھ ہمیشہ شاہین کے مطابق پرواز کی کوشش کرتا ہے لیکن جہاں مردار نظر آتا ہے وہیں گرجاتا ہے،خان نے مجھے جو لائحہ عمل دیا تھا وہ میں نے پارٹی کو امانت کے طور پر دے دیا ہے،جب تک عمران خان ہمارے درمیان نہیں آتا ہم ڈی چوک نہیں چھوڑیں گے۔ میں آخری ہوں گی جو ڈی چوک نہیں چھوڑوں گی اگر کوئی کہے ڈی چوک چھوڑ دیا میں نے تو وہ جھوٹ ہو گا۔ میرا وعدہ ہے کہ آخری عورت ہوں گی جو خان کو لئے بغیر نہیں جاؤں گی اگر کوئی یہ کہے کہ بیوی خان کو چھوڑ کر چلی گئی تو جھوٹ ہو گا، آپ لوگوں نے وعدہ کرنا ہے جب تک عمران خان ہمارے درمیان نہیں آتے، ڈی چوک نہیں چھوڑیں گے،عمران خان کو اٹک جیل میں ایک بالٹی پانی دیا جاتا تھا اسی کو پینا اور اسی سے وضو کرنا ہوتا تھا ایک چارپائی ایسی دی گئی جس پر سویا ہی نہیں جا سکتا تھا نیچے فرش پر گند ہوتا تھا ۔انہوں نے جتنا ناروا سلوک خان کے ساتھ روا رکھا،اگر کوئی دوسرا سیاستدان ہوتا تو وہ کب کا ہاتھ کھڑا کر چکا ہوتا۔خان کو آئینہ تک نہیں دیا جاتا تھا تاکہ وہ شیو کر سکے۔کئی کئی دن خان منہ نہیں دھو سکتا تھا۔زمین پر اتناگندہوتا تھا کہ انسان سو نہیں سکتا تھا

    خان نے تو ہمیشہ کہا فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا تو پھر لڑائی کس چیز کی، بشریٰ بی بی
    بشریٰ بی بی کا مزید کہنا تھاکہ انہوں نے خان کی بیوی کے ساتھ کیا کیا میں حلفاً کہتی ہوں انہوں نے مجھے ہارپک پلائی 20 دن میں چل نہیں سکی، بات نہیں کر سکی، اس کو چھوڑیں، ہمارا فوکس لیڈر خان پر ہونا چاہئے، اسلام آباد پنڈی کے لوگوں سے اپیل ہے نکلیں ،کب تک ٹی وی پر بیٹھ کر تماشا دیکھیں گے، انہوں نے سب کچھ بند کر دیا، اللہ نے ساری مشکلیں ہٹا کر ہمیں یہاں پہنچا دیا،یہ ہمارے رب کا احسان نہیں تو اور کیا ہے،خان بے گناہ جیل میں ہے، لوگوں کو نظر کیوں نہیں آتا، خان نے تو ہمیشہ کہا ہے فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا تو پھر لڑائی کس چیز کی،

    کھانے پینے کی کمی ہو پھر بھی جگہ نہیں چھوڑنی، اللہ آزماتا ہے، بشریٰ بی بی کی مظاہرین کو نصیحت
    بشریٰ بی بی نے مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی کو کھانے کی کمی ہو، پانی کی کمی ہو تو آپ نے وہ جگہ نہیں چھوڑنی، کیونکہ یہ حق کے خلاف ہوتا ہے،اللہ آزماتا ہے، سب نے بندوبست کرنا ہے،جب تک خان نہیں رہا ہوتا ہم سب وہیں رہیں گے، یہ آپ کے پاس آخری موقع ہے، ملک کے لئے نکلنا پڑے گا، اسلام آباد پنڈی والوں کو قافلوں کا خیال کرنا پڑے گا،انتظامیہ سے اپیل ہے مسلمان بھائی مسلمان بھائی کو نہیں مارتا ہم پرامن ہیں پھر آپ ہم پر شیلنگ کیوں کرتے ہیں کیا آپکو نظر نہیں آتا کہ خان سچ کے ساتھ ہے حق پر ہے ،پھر آپ شیلنگ کیوں کرتے ہیں،

    واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے شرپسند کارکنان کے حملوں سے رینجرز کے تین اہلکار شہید ہو گئے ہیں،مظاہرین نے سرکاری املاک پرحملے کیے اور ناقابل تلافی نقصان پہنچایا،اسلام آباد میں پی ٹی آئی کے مظاہرین زیروپوائنٹ سے ہوتے ہوئے ڈی چوک پہنچ چکے ہیں، بشریٰ بی بی قافلے کی قیادت کر رہی ہیں، اسد قیصر، عالیہ حمزہ و دیگر رہنما بھی بشریٰ بی بی کے احتجاجی قافلے میں شریک ہیں،

    میں جیل میں،اب فیصلے بشریٰ کریں گی،عمران خان کے پیغام سے پارٹی رہنما پریشان

    پی ٹی آئی احتجاج، بشریٰ کا مشن کامیاب، سیاست میں باضابطہ انٹری،علیمہ "آؤٹ”

    عوام نے 24 نومبر کی کال مسترد کر دی، شرجیل میمن

    پی ٹی آئی کا سوشل میڈیا بھی "وڑ”گیا

    عمران خان کی جانب سے "فائنل کال” پنجاب میں "مس کال” بن گئی

    پی ٹی آئی احتجاج،خیبر پختونخوا سے 12 سو سے زائد چھوٹی بڑی گاڑیاں،شرکا کی تعداد

  • 24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    24 نومبر،حکومت نے کچھ کیا تو پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا، شیر افضل مروت

    پی ٹی آئی رہنما شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ 24 نومبر کو ڈی چوک پر دھرنا ہو گا، ہم ریاستی قوانین پر عمل کریں گے،

    نجی ٹی وی 365 نیوز میں سینئر صحافی و اینکر پرسن مبشر لقمان نے شیر افضل مروت سے سوال کیا اور کہا کہ مروت صاحب اچھا لگے یا برا لگے، آپ لوگ ایس ایچ او وغیرہ سے نہیں ڈرتے ہوں گے، ہم تو واپڈا کا لائن مین آ جائے تو اس کی بھی منت سماجت شروع کر دیتے ہیں،جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ میرا خیال یہ ہے کہ آٹھ فروری کو ان حالات میں ووٹ ڈالنا یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے پنجاب کی سیاست کو دیکھیں 1947 سے لے کر اب تک اسٹیبلشمنٹ کی سیاست رہی،پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ووٹ دیا، مبشر لقمان نے کہا کہ اب 24 کو کیا ہو گا، جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہم دھرنے پر پہنچ گئے اور دھرنا جما لیا تو توقع کریں گے کہ حکمران کن کن غلطیوں کا ارتکاب کریں گے، آنسو گیس ، لاٹھی چارج کریں گے، رینجرز یا فوج کو درمیان میں ڈالا، یہ حد سے بڑھ جاتے ہیں تو پھر پورا پاکستان اٹھ کھڑا ہو گا

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ اس بار کتنے سرکاری ملازم ہوں گے، پچھلی بار ریسکیو والے بھی تھے، انکی ضمانتین بھی نہیں ہوئی جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ضمانتیں ہو گئی ہیں اور گاڑیاں بھی لے لی ہیں، سرکاری ملازمین پولیس والے پروٹوکول ہیں، یہ اسکے گارڈ ہیں، جو ساتھ ہوتے ہیں،یہ ہزاروں میں نہیں ہوتے چالیس پچاس ہوتے ہیں، 22 پولیس والے گرفتار ہوئے تھے، 1122 ایمرجنسی ایڈ کے لئے ہے تا کہ اگر کوئی واقعہ ہو تو وہ ساتھ ہوں اور ریسکیو کے کام کریں،

    مبشر لقمان نے سوال کیا کہ 24 تاریخ کو کیا کرنا ہے، شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ لاکھوں لوگوں کو ڈی چوک پر بٹھا دیں، ہم نے اتنے لوگوں کو نکالنا ہے کہ دنیا کی توجہ حاصل کرنی ہے، ہمارے پاس اب کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے، مبشر لقمان نے کہا کہ علی امین کہتا ہے کہ اڈیالہ کی دیواریں توڑ کر عمران کو نکال لوں گا، جس پر شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ہم کوئی توڑ پھوڑ نہیں کریں گے ریاست کےقوانین پر عمل کریں گے، مبشر لقمان نے کہا کہ پھر آپ ڈی چوک میں دھرنا نہیں دے سکتے، شیر افضل مروت نے کہا کہ کس نے کہا ، احتجاج کا ہمیں حق ہے، ہم کر سکتے ہیں،مویشی منڈی میں ہمیں جگہ دینا ان کی بدمعاشی ہے،احتجاج سے محروم کرنا خلاف قانون ہے، ماضی میں کچھ ایسا ہوا تب بھی ٹھیک نہیں ہوا تھا، ہم پہلے بھی ڈی چوک گئے، مظاہرے بھی کئے اور ہم پر مقدمے بھی ہوئے،

  • ڈی چوک احتجاج،17 مقدمے،گرفتار افراد کی تفصیل

    ڈی چوک احتجاج،17 مقدمے،گرفتار افراد کی تفصیل

    ‏ڈی چوک احتجاج میں پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان پر کی گئی ایف آئی آر زکی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں

    1: ایف آئی آر نمبر 1036 – تھانہ انڈسٹریل ایریا: 16 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    2: ایف آئی آر نمبر 799 – تھانہ سنبل: 31 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    3: ایف آئی آر نمبر 648 – تھانہ مارگلہ: 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    4: ایف آئی آر نمبر 1116 – تھانہ آبپارہ: 40 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    5: ایف آئی آر نمبر 909 – تھانہ کوہسار: 33 افراد کو گرفتار کرکے جیل بھیج دیا گیا ہے، جہاں ان کی شناختی پریڈ 21 اکتوبر 2024 تک ہوگی۔
    6: ایف آئی آر نمبر 871 – تھانہ شالیمار: 15 افراد جنہیں پولیس غیر ملکی قرار دے رہی ہے، گرفتار کرکے عدالتی حوالات میں بھیج دیا گیا ہے۔
    7: ایف آئی آر نمبر 844 – تھانہ کورال: 17 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    8: ایف آئی آر نمبر 904 – تھانہ کوہسار: 1 شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    9: ایف آئی آر نمبر 838 – تھانہ ترنول: 19 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    10: ایف آئی آر نمبر 906 – تھانہ کوہسار: 82 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    11: ایف آئی آر نمبر 905 – تھانہ کوہسار: 3 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    12: ایف آئی آر نمبر 904 – تھانہ کوہسار: 2 خواتین کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    13: ایف آئی آر نمبر 909 – تھانہ کوہسار: 9 خواتین کو گرفتار کرکے عدالتی حوالات میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کی ضمانت کی درخواستیں کل دائر کی جائیں گی۔
    14: ایف آئی آر نمبر 1066 – تھانہ کراچی کمپنی: 13 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔
    15: ایف آئی آر نمبر 465 – تھانہ سیکریٹریٹ: 36 افراد کو گرفتار کرکے عدالتی حوالات میں بھیج دیا گیا ہے۔ ان کی ضمانت کی درخواستیں دائر کی گئی ہیں، اور کل سماعت ہوگی۔
    16: ایف آئی آر نمبر 864 – تھانہ رمنا: 18 افراد کو گرفتار کیا گیا، اور عدالت نے ان کی ضمانت منظور کر لی ہے۔
    17: ایف آئی آر نمبر 533 – تھانہ گولڑہ: 8 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

    عمران خان کی بہنوں سے کیا”برآمد ” ہوا؟ پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتا دیا

    اسرائیل نیازی گٹھ جوڑ بے نقاب،صیہونی لابی عمران کو بچانے کیلئے متحرک

    عمران خان بطور وزیراعظم اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے کیلئے تیار تھے،دعویٰ آ گیا

    عمران خان اور پی ٹی آئی نے ملک دشمنی میں تمام حدیں پار کر دیں

    امریکی ایوان نمائندگان میں قرارداد،پاکستان کے خلاف آپریشن گولڈ اسمتھ کی ایک کڑی

    آپریشن گولڈ سمتھ کی کمر ٹوٹ گئی،انتشاری ٹولہ ایڑھیاں رگڑے گا

    تحریک انصاف کی ملک دشمنی ایک بار پھر کھل کر سامنے آ گئی

    احتجاج کی آڑ میں شرپسندی،افغان بلوائی پیسے نہ ملنے پر پی ٹی آئی پر برس پڑے

    علی گنڈاپور سمیت شرپسندی میں ملوث تمام عناصر کےخلاف کارروائی ہوگی، محسن نقوی