Baaghi TV

Tag: کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ

  • سیکیورٹی میں نیا اضافہ،سی ٹی ڈی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ فعال

    سیکیورٹی میں نیا اضافہ،سی ٹی ڈی کا کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ فعال

    کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کمانڈ اینڈ کنٹرول موبائل یونٹ کو باضابطہ طور پر فعال کر دیا ہے۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق یہ موبائل یونٹ ایک چلتا پھرتا ہیڈ کوارٹر ہوگا، جسے دہشت گردی کے خلاف آپریشنز میں تکنیکی برتری فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ترجمان نے بتایا کہ یہ کمانڈ اینڈ کنٹرول یونٹ خصوصی طور پر حساس پروگراموں کے دوران استعمال ہوگا، جن میں رائیونڈ اجتماع، داتا دربار، کرکٹ میچز اور دیگر بڑے ایونٹس شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یوم عاشور اور بڑے سیاسی اجتماعات کی سیکیورٹی کیلئے بھی اسے موثر طور پر استعمال کیا جائے گا۔

    سی ٹی ڈی کے مطابق حساس پروگراموں کی مانیٹرنگ، کمانڈ اور کوآرڈی نیشن ایک ہی موبائل وین سے سرانجام دی جائے گی، جبکہ لائیو آپریشنز کے دوران فورس کو ڈیٹا، ویڈیو فیڈ اور تجزیاتی معاونت فراہم کی جائے گی۔مزید بتایا گیا کہ یہ موبائل یونٹ لاہور سے کراچی، کوئٹہ، پشاور اور سرحدی علاقوں تک بطور بیک اپ کمانڈ سینٹر کام کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔ ترجمان کے مطابق اس جدید یونٹ کے ذریعے جلسوں، جلوسوں اور بڑے اجتماعات کی سیکیورٹی مزید مؤثر اور مربوط ہو جائے گی

    پاکستان کا سری لنکا دورہ، 3 ٹی 20 میچز کی سیریز کا امکان

    بنگلادیش کو برآمد کے لیے 1 لاکھ ٹن چاول خریداری کا ٹینڈر جاری

    شی جن پنگ اور ٹرمپ کا ٹیلیفونک رابطہ، تائیوان سمیت اہم امور پر گفتگو

  • پشاور،حملے کی کوشش ناکام، خودکش حملہ آور اور ہینڈلر ہلاک

    پشاور،حملے کی کوشش ناکام، خودکش حملہ آور اور ہینڈلر ہلاک

    پشاور میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے خودکش حملہ آور اور اس کے ہینڈلر کو ہلاک کر دیا۔

    ترجمان سی ٹی ڈی کے مطابق دہشت گرد حساس تنصیب پر حملے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔ہلاک خودکش حملہ آور کی شناخت منیر احمد کے نام سے ہوئی، جو افغانستان ننگرہار کا رہائشی تھا۔دہشت گرد کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سے وابستہ تھے۔خوست افغانستان سے پاکستان میں داخل ہونے کے بعد حملے کی تیاری کر رہے تھے۔

    فائرنگ کے تبادلے میں سی ٹی ڈی آپریشنل ٹیم نے دونوں دہشت گردوں کو ہلاک کیا۔کارروائی میں خودکش جیکٹ، ایس ایم جی اور پستول برآمد کی گئیں۔سی ٹی ڈی ترجمان کے مطابق منیر احمد کا سراغ نومبر 2024 سے لگایا جا رہا تھا.واقعے کا مقدمہ درج کر کے خصوصی تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جبکہ ہینڈلر کی شناخت کا عمل بھی جاری ہے۔

    گلگت بلتستان: گلیشیئر پگھلنے سے خطرناک صورتحال، کئی علاقے زیرِ آب

    ایشیا کپ 2025، 10 ستمبر سے شروع ہونے کا امکان

    کراچی: سمندرپر دفعہ 144 کے باوجود شہریوں کی بڑی تعداد پہنچ گئی

    شمالی وزیرستان: کل صبح سے شام تک کرفیو نافذ، دفعہ 144 بھی لاگو

  • سکیورٹی اداروں کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    سکیورٹی اداروں کی کارروائی، فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشتگرد گرفتار

    سندھ رینجرز، کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ اور سندھ پولیس نے مشترکہ کارروائی کرتے ہوئے فتنہ الخوارج کے 3 انتہائی مطلوب دہشت گردوں کو گرفتار کرلیا۔

    ترجمان سندھ رینجرز کے مطابق کراچی کے علاقے قائد آباد سے دہشت گردی، قتل، اقدام قتل اور بھتہ وصولی کی متعدد وارداتوں میں ملوث فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے انتہائی مطلوب ملزمان محمد جاوید سواتی عرف بھائی جان، شاہد حسین عرف عمر اور اکبر زیب خان کو گرفتار کرلیا گیا۔
    ملزمان کے قبضے سے اسلحہ، یمیونیشن اور دھماکا خیز مواد برآمد کرلیا گیا۔پاکستان رینجرز (سندھ)اور CTD ترجمان کے مطابق ملزمان کا تعلق فتنہ الخوارج سوات گروپ سے ہے۔ ملزم جاوید سواتی عرف بھائی جان 2008 میں فتنہ الخوارج سوات گروپ میں شامل ہوا اور سوات میں کمانڈر عمر الرحمان عرف استاد فاتح اور بن یامین کے گروپ کے ساتھ سوات میں انتہائی متحرک رہا۔ملزم کے دو بھائی شاہد اور زاہد سوات میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں ہلاک ہوگئے تھے اور ملزم اپنی فیملی کے ہمراہ سوات آپریشن کے بعد کراچی میں شفٹ ہوا اور مختلف مقامات پر روپوش رہا۔ملزم 2012 میں کراچی سے گرفتار ہوا اور سوات میں عرصہ تقریبا 14 ماہ تک جیل میں رہا۔جیل سے رہائی کے بعد ملزم گلشن بونیر لانڈھی میں شفٹ ہوا جبکہ ملزم کے قریبی ساتھی کمانڈر عمرالرحمان عرف استاد فاتح، عبد الرحمان عرف شہزاد، حبیب اللہ عرف معاویہ کنڑ افغانستان میں شفٹ ہوگئے .ملزم کے کمانڈر عمر الرحمان عرف استاد فاتح ، عبد الرحمان عرف شہزاد اور حمید اللہ عرف اظہار سے انتہائی قریبی تعلقات تھے اور بذریعہ واٹس ایپ مسلسل رابطے میں تھے ۔ ملزم ان کے لئے سہولت کاری کا کام بھی سر انجام دیتا رہا ہے۔۔رینجرز ترجمان کے مطابق ملزمان شاہد حسین عرف عمر اور اکبر زیب خان 2010 میں غلبہ السلام میں شامل ہوئے۔ 2014 میں زکریا عرف انعام اللہ فتنہ الخوارج سوات گروپ میں شامل ہوئے۔ملزمان عسکری تربیت یافتہ ہیں اور افغانستان متعدد بار جاچکے ہیں۔ ملزمان کراچی میں بھتہ وصولی، قتل و اقدام قتل کی متعدد کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔ملزمان نے اپنے دیگر ساتھیوں زکریا عرف انعام اللہ ، رفیع اللہ عرف ٹیکسی والا اور عدنان ہزارے وال کے ساتھ مل کر جنرل ٹائر کمپنی کے صدر کو 20لاکھ روپے، بنارس میں جنرل سٹور کے مالک کو 10 لاکھ روپے، اسٹیل ٹاون میں ٹینکر والے کو 10 لاکھ روپے، بنارس کے قریب فروٹ سپلائر کو 3 لاکھ، پراپرٹی ڈیلر کو 2 لاکھ ، بنارس میں جنرل اسٹور کے مالک کو 15 لاکھ کی بھتہ کی ڈیمانڈ کی اور متعدد سے بھتہ وصول کیا۔تاجرعبدالغفارسے مبلغ 50 لاکھ روپے بھتے کا مطالبہ کیا اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دیں جس کی ایف آئی آر تھانہ قائد آباد میں درج ہے۔ ملزم اکبرزیب خان نے اپنے ساتھی زکریا عرف انعام للہ کے ساتھ مل کر لانڈھی کے قریب مخبری کے شبے میں ریٹائرڈ ہیڈ کانسٹیبل فضل زادہ کو قتل اور سید آفرین کو زخمی کیا جس کی ایف آئی آر تھانہ قائد آباد میں درج ہے۔ملزمان سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گرد کارروائی کی منصوبہ بندی کررہے تھے۔ ملزمان سے مزید اہم انکشافات کی توقع ہے۔

    مئیر کراچی نے لانڈھی میڈیکل کمپلیکس میں مردہ خانے کا افتتاح کردیا

    ٹرائل کورٹ مقدمے کا فیصلہ ایک سال میں کرنے کی پابند ہوگی، ترامیم منظور

    دولہا نئی نویلی دلہن جنگل میں چھوڑ کر فرار

    وزارت قانون کا ضابطہ فوجداری 1898 میں اصلاحات کرنے کا اعلان

  • ‏وزیراعلیٰ سندھ  کا کراچی میں سی ٹی ڈی کے فیوژن سینٹر کا افتتاح

    ‏وزیراعلیٰ سندھ کا کراچی میں سی ٹی ڈی کے فیوژن سینٹر کا افتتاح

    ‏وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کراچی میں کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ کے فیوژن سینٹر کا افتتاح کر دیا.

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیر داخلہ ضیا ء الحسن لنجار، آئی جی پولیس غلام نبی میمن، ایڈیشنل آئی جی سی ٹی ڈی عمران یعقوب اور دیگر افسران بھی اس موقع پر موجود تھے جبکہ آئی جی پولیس نے سی ٹی ڈی فیوزن سینٹر کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ کو تفصیلی بریفنگ دی.وزیراعلیٰ کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ پروجیکٹ سے تمام اسٹیک ہولڈرز کے آف لائن اور آن لائن ڈیٹا بیس کو مربوط کیا جا ہا ہے ،فیوزن سینٹر جدید آلات اور گیجٹری سے لیس فیصلہ سازی میں مدد کرتا ہے.اس موقع پر سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کیا کہ صوبے میں شدت پسندی میں ملوث افراد اور گروہوں کا سدباب کرنا ہوگا،حکومت سندھ نے سی ٹی ڈی کو جدید ترین اسلحہ اور ٹیکنالوجی فراہم کردی ہے،عوام کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنانا ہے.سید مراد علی شاہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پولیس خاص طور پر سی ٹی ڈی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ قومی جذبے سے کام کرنے پر سندھ پولیس کے تربیت یافتہ جوانوں پر فخر ہے،ولیس جوانوں نے فرض کی ادائیگی میں بےمثال قربانیں دیں ہیں،سندھ حکومت نے سندھ پولیس کو جدید آلات، بھترین مراعات اور تربیت فراہم کی ہے. اس موقع پر وزیر اعلیٰ سندھ نے پولیس کے ساتھ رینجرز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی امن امان کی بحالی میں محنتوں کی تعریف کی .

    شرجیل میمن سے آزاد کشمیر کے وزیراطلاعات کی ملاقات ، آزادی اظہار رائے پر تبادلہ خیلال

    ‏وزیر داخلہ سندھ کی زیر صدارت سندھ اسمبلی میں اعلی سطحی اجلاس

    کراچی میں ایف آئی اے کے حوالہ ہنڈی کے خلاف چھاپے، 5 ملزمان گرفتار