Baaghi TV

Tag: کائنات

  • کائنات کے راز ریاضی میں چھپے ہوئے ہیں، امریکی ماہر فلکیات

    کائنات کے راز ریاضی میں چھپے ہوئے ہیں، امریکی ماہر فلکیات

    واشنگٹن: امریکا کی ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان کی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ کائنات کی تخلیق اتفاقی نہیں-

    باغی ٹی وی: ہارورڈ یونیورسٹی کے سائنسدان ماہر فلکیات ڈاکٹر ولی سون کے مطابق کائنات کے فطری قوانین اتنے مکمل انداز میں بنائےگئے ہیں جو قطعی طور پر اتفاق نہیں ہوسکتا کائنات کے رازوں کو ریاضی کے اصولوں سے کھولا جاسکتا ہے اور خدا کے وجود کو ریاضی کے فارمولوں سے ثابت کیا جاسکتا ہے،کائنات کے راز صرف ستاروں میں نہیں بلکہ ریاضی میں چھپے ہوئے ہیں۔

    ڈاکٹر ولی سون کے نظریے کی بنیاد ‘فائن ٹیوننگ آرگیومنٹ’ نامی فارمولے پر ہے جس کے مطابق کائنات کے طبیعیاتی قوانین جس طرح مکمل طور پر زندگی کے لیے موزوں بنائے گئے ہیں وہ کوئی اتفاق نہیں ہوسکتا۔

    عدلیہ میں خواتین کی شمولیت ایک مثبت پیش رفت ہے،چیف جسٹس

    یہ فارمولا جسے سب سے پہلے کیمبرج کے ریاضی دان پال ڈیریک نے پیش کیا تھا، اس بات پر روشنی ڈالتا ہے کہ کچھ کائناتی مستقلات (cosmic constants) کس طرح شاندار طریقے سے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، یہ ایک ایسی چیز ہے جس نے دہائیوں سے سائنسدانوں کو حیرت میں ڈال رکھا ہے۔

    1963 میں پال ڈیریک نے کہا تھا کہ کائنات کے طبیعیاتی قوانین کا اتنے مکمل توازن میں ہونا کسی اعلیٰ ذہانت کا ہی کام ہوسکتا ہےڈاکٹر ولی سون نے یہی الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ شاید اس صورتحال کو اس طرح بیان کیا جاسکتا ہےکہ خدا ایک بہت اعلیٰ درجےکا ریاضی دان ہے۔

    دو لاپتہ افراد گھر پہنچ گئے، عدالت نے درخواست نمٹا دی

    ڈاکٹر سون کا کہنا تھا کہ ریاضی اور کائنات کے درمیان ایسی بہترین ہم آہنگی اس کائنات کی تخلیق کی جانب اشارہ کرتی ہے، خدا نے ہمیں یہ روشنی دی ہے تاکہ ہم اس روشنی کی پیروی کریں اور جو کچھ کرسکتے ہیں وہ بہترین کریں، کائنات کے طبیعیاتی قوانین ایک خالق کے نشان ہوسکتے ہیں۔

    اس سے قبل ماضی میں بھی کائنات کے رازوں کے بارے میں اندازے لگانے والے ریاضی دان کہہ چکے ہیں کہ کائنات کے متوازن فطری قوانین بہت ہی اعلیٰ ذہانت کے مظاہر ہیں۔

    وزیراعظم نےبلاول کو افطار ڈنر پر مدعو کر لیا

  • پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

    پہلی مرتبہ کائنات میں بلبلہ نما ساخت دریافت

    لندن: ہبل دوربین کی مدد سے حاصل شدہ تصاویر اور ڈیٹا کا جائزہ لینے کے بعد بین الاقوامی ماہرینِ فلکیات نے پہلی مرتبہ کائنات میں ایک ایسی بلبلہ نما ساخت دریافت کی ہے جو کہکشاؤں پر مبنی ہے اور اس کی غیرمعمولی وسعت کا اندازہ ایک ارب نوری سال لگایا گیا ہے،جس کے بارے میں ماہرین کا خیال ہے کہ یہ بگ بینگ کے فوراً بعد کا ایک فوسل شدہ باقیات ہے۔

    باغی ٹی وی :ٹیم کے رکن کولن ہولیٹ، یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ کے سکول آف میتھمیٹکس اینڈ فزکس نے کہا کہ یہ بلبلہ ہماری اپنی ملکی وے کہکشاں سے 10 ہزار گنا بڑا ہے اور اسی کہکشاں سے 82 کروڑ نوری سال کے فاصلے پر واقع ہے خیال ہے کہ یہ عظیم بلبلہ بگ بینگ کے فوری بعد پیدا ہوا تھا اور یوں قدیم کائنات کو سمجھنے میں ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے اسی بنا پر ماہرین نے اسے کائناتی رکاز (فاسل) بھی کہا ہے۔

    بھارتی شمسی ریسرچ مشن آدتیہ- ایل 1 کامیابی کے ساتھ تیسرے مدار میں داخل

    حیرت انگیز طورپربڑے اس کائناتی مظہر سے ایک جانب تو خود سائنسداں حیران ہیں تو دوسری جانب اس کا مطالعہ کئی دلچسپ انکشافات کا اضافہ کرتا ہے کولن ہولیٹ کہتے ہیں کہ اس کائناتی عجوبے کو دیکھ کر ہم خود انگشت بدنداں ہیں کیونکہ یہ ہم سے بہت ہی قریب ہے۔

    کیولن ہولیٹ نے یونیورسٹی آف کوئنز لینڈ سے شائع ہونے والے ایک انٹرویو میں کہا کہ ہم اس کی تلاش بھی نہیں کر رہے تھے، لیکن ڈھانچہ اتنا بڑا ہے کہ یہ آسمان کے اس سیکٹر کے کناروں تک پھیل گیا جس کا ہم تجزیہ کر رہے تھے اسے دیکھ کر کائناتی پھیلاؤ کی رفتار معلوم کی جاسکتی ہےاور یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری کائنات کتنی وسیع ہوسکتی ہے ان کے مطابق اس دریافت کی روشنی میں کائناتی تاریخ کو نئے سرے سے لکھنے کی ضرورت پیش آسکتی ہے-

    آب و ہوا کے مطالعے کے لیے پہلی پرواز شروع

    یہ تحقیق اس ہفتے کے ’ایسٹرفزیکل جرنل‘ میں شائع ہوئی ہے تحقیق کےمطابق ابتدائی کائنات میں گرم پلازمہ کی وجہ سے ثقلی اور ریڈیائی عمل سے صوتی (آواز) کی امواج خارج ہوئی تھیں جنہیں ’بیریئن اکاسٹک آسلیشن‘ (بی اے او) کہا جاتا ہے ماہرین نے 2005 میں بے اے او کے سگنل محسوس کئے تھے۔

    تاہم بگ بینگ کے 380000 برس بعد یہ عمل رک گیا، کائنات کچھ ٹھنڈی ہوئی اور کہیں کہیں بلبلوں کی شکلیں وجود میں آگئیں پھر یہ بلبلے پھیلے اور خوب بڑے ہوئے لیکن انہیں ہم ابتدائی کائنات کی اولین نشانیاں کہہ سکتے ہیں اور یہ بلبلہ بھی انہیں میں سے ایک ہے۔

    سمندرمیں مستقل انسانی اسٹیشن قائم کرنے کا منصوبہ

  • ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    ابدی خدائی اصول — عمر یوسف

    میری بیٹی اب باتیں کرنا شروع ہوگئی ہے ۔ ابتدائی مراحل میں وہ کئی الفاظ ایسے مبہم انداز میں بولتی ہے کہ بالکل سمجھ ہی نہیں آتی ۔ میری اہلیہ بہر حال سمجھ جاتی ہیں اور مجھے بتا دیتی ہے ۔ کچھ الفاظ ایسے ہیں جو دیگر احباب کو سمجھ نہیں آتے لیکن مجھے آجاتے ہیں اور میں ان کو وضاحت کردیتا ہوں ۔

    چونکہ اہلیہ محترمہ کا سارا وقت بیٹی کے ساتھ گزرتا ہے تو وہ سب کچھ سمجھ لیتی ہیں ۔ میرا وقت گزارنے کا تناسب کم ہے تو مجھے اس کی کم باتیں سمجھ آتی ہیں ۔ اور جو ایسے ہیں کہ بالکل ہی تھوڑا وقت گزارتے ہیں ان کو بالکل تھوڑی باتیں سمجھ آتی ہیں ۔
    اس سادہ سی بات میں زندگی کا سادہ مگر اہم اصول چھپا ہے ۔

    انسان شعبہ ہائے زندگی کے جس شعبہ پر اپنی انرجی اور وقت زیادہ صرف کرتا ہے وہ اس میں مہارت تامہ حاصل کرلیتا ہے ۔

    انسان کسی ماہر کو دیکھ کر احساس کمتری کا شکار ہونے کی بجائے اس حقیقت کو جان لے کہ وہ ماہر زندگی کا ایک حصہ صرف کرکے یہ مہارت حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ۔ کوئی بھی یہ مہارت حاصل کرسکتا ہے بشرطیکہ وہ زندگی کا ایک خاطر خواہ حصہ اس حصول پر لگائے ۔

    اگر کوئی ایسا ہے کہ وقت لگانے کے باوجود کم سمجھ رہا ہے تو اس کا مطلب وہ وقت کا کم تناسب اس شعبہ میں لگارہا ہے ۔ اور جسے بالکل ہی کسی شعبہ کے متعلق سمجھ بوجھ نہیں تو اس کا مطلب یہ ایسا شخص ہے جس نے حصول کی ذرا برابر بھی زحمت نہیں کی ۔ یہ دنیا give اور take کے اصولوں پر کارفرما ہے یہاں جو کوئی جتنا حصہ ڈالتا ہے اسی کے بقدر وصول کرتا ہے ۔ ثمرات و فوائد آسمان سے کسی کی جھولی میں نازل نہیں ہوتے ۔ یہ میسر ضرور ہوتے ہیں لیکن انہیں کو جو اس کو پانے کی سعی و کوشش کرتا ہے ۔

    انسان اگر کائنات کے خدائی اصولوں کو سمجھ لے تو وہ زندگی کے بہت سارے معاملات میں پریشان و حیران ہونے سے بچ سکتا ہے ۔
    کیونکہ جب اصول سمجھ آجاتے ہیں پھر حیرت و پریشانی کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور انسان اقدام کی درست سمت کو جان لیتا ہے ۔

  • جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی

    جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے کائنات کی سب سے پُرانی کہکشاں دریافت کرلی۔

    باغی ٹی وی :میساچوسیٹس میں قائم ہارورڈ یونیورسٹی اور اسمتھسونین سینٹر آف آسٹروفزکس کے محققین نے GLASS-z11نامی ایک اور کہکشاں دریافت کی –

    GLASS-z13 نامی ستاروں کا یہ مجموعہ بِگ بینگ کے 30 کروڑ سال بعد وجود میں آیا اس سے قبل قدیم ترین کہکشاں کے طور پر جانی جانے والی کہکشاں GN-Z11 اس سے 10 کروڑ سال بعد وجود میں آئی تھی اس کہکشاں کو ہبل ٹیلی اسکوپ نے دریافت کیا تھا ان دونوں کہکشاؤں کا وزن ایک ارب سورج کے برابر ہے-

    کسی خلائی شے کا کسی سیارے کے قریب سے گزرنا بھی نظامِ شمسی کو تباہ کر سکتا ہے،تحقیق

    یہ کہکشائیں ہماری ملکی وے کہکشاں سے نسبتاً چھوٹی ہیں۔ ملکی وے کہکشاں کا قطر ایک لاکھ نوری سال ہے جبکہ GLASS-z13 کا قطر اندازاً 1600 نوری سال جبکہ GLASS-z11 کا قطر 2300 نوری سال ہے۔

    یونیورسٹی کے شعبہ فلکیات کے ایک گریجویٹ طالب علم روحان نائیڈو کا کہنا تھا کہ محققین نے دو انتہائی فاصلے پر موجود کہکشائیں دریافت کی ہیں اگر ان کہکشاؤں کا فاصلہ اتنا ہی ہے جتنا ماہرین سمجھ رہے ہیں تو کائنات اس موقع سے چند کروڑ سال ہی پرانی ہوگی۔

    ایسا ممکن ہے کہ جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ وقت میں مزید پیچھے دیکھے اور صرف 20 کروڑ سال پُرانی کہکشائیں دریافت کرے اور یہ کائنات کی ابتداء جاننے کے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کے مشن کو پورا کرنے میں اہم قدم ہوگا۔

    ناسا کی ہبل اسپیس ٹیلی اسکوپ کی اب تک کی سب سے بڑی لی گئی تصویر

    قبل ازیں خلا میں موجود ناسا کی جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا تھا جیمز ویب کو دسمبر میں ہبل اسپیس ٹیلی سکوپ کی کامیابی کے لیے لانچ کیا گیا تھا امریکی خلائی ایجنسی ناسا کا کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کے بڑے آئینوں میں سے ایک کی ٹکر ایک چھوٹے شہابی پتھر کے ساتھ ہوئی جو توقع اور زمین کی آزمائش میں انجینیئرز کی جانب سے رکھے جانے والے نمونے سے زیادہ بڑا تھا دوربین بنانے والے انجینئرز خلا کی سختیوں سے بہت زیادہ واقف ہیں، اور ویب کو احتیاط سے ان کا مقابلہ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

    ملکی وے کہکشاں میں ایک آزادانہ گشت کرتا ہوا بلیک ہول دریافت

    ناسا کا ایک بلاگ پوسٹ میں کہنا تھا کہ ٹیلی اسکوپ کا معائنہ جاری ہے اور بظاہر ایسا دِکھ ہا ہے کہ ٹیلی اسکوپ مکمل طور فعال ہے لیکن تصادم کا ڈیٹا پر معمولی سا اثر واضح ہو رہا ہے بڑے آئینے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ شہابی پتھر کا تصادم 23 سے 25 مئی کے درمیان ہوا۔ یہ آئینہ ٹیلی اسکوپ کے فعال رہنے کے لیے بہت ضروری ہے۔

    جیمز ویب ٹیلی اسکوپ سے خلائی چٹان کا ایک ٹکڑا ٹکرا گیا

  • کائنات نقطہ آغاز کی طرف گامزن،حیران کُن معلومات سامنےآگئیں

    کائنات نقطہ آغاز کی طرف گامزن،حیران کُن معلومات سامنےآگئیں

    سائنس دانوں کا ماننا ہے کہ کائنات تقریباً 13.8 بلین سال پہلے ہونے والے بگ بینگ کے بعد سے پھیل رہی ہے لیکن اسپیس اور ٹائم کے معکوس پھیلاؤ کی وجہ سے اس میں تیزی سے “قابل ذکر” تبدیلی آسکتی ہے اور یہ بڑے سکڑاؤ کی طرف بڑھ رہی ہے جو شاید ایک نیا بگ بینگ ثابت ہو۔

    اس سے پہلے کہ آپ اپنا سامان باندھنا شروع کریں اور نئی کائنات میں منتقل ہونے کے طریقوں کے بارے میں سوچیں، جان لیں کہ جب سائنس دان ان چیزوں کی پیمائش کرتے ہیں تو وہ اسے لاکھوں سالوں کے پیمانے پر کرتے ہیں۔

    سائنسی جریدے پروسیڈنگز آف دی نیشنل اکیڈمی آف سائنسز میں شائع ہونے والی نئی تحقیق کے مطابق، “کائنات میں توسیع کا خاتمہ حیران کن طور پر جلد ہی ہو سکتا ہے۔”لیکن جلد ہی کا مطلب ہے “اگلے 65 ملین سالوں کے اندر”۔

    محقق پال اسٹین ہارڈ نے لائیو سائنس کو بتایا کہ “65 ملین سال پہلے ہی چکژولب سیارچہ زمین سے ٹکرایا تھا اور روئے زمین پر ڈائنوسارز کے خاتمے کا باعث بنا تھا۔”ان کا کہنا ہے کہ “کائناتی پیمانے پر، 65 ملین سال نمایاں طور پر مختصر ہیں۔”

    سٹین ہارڈ اور ساتھی محققین آندرے کوسمین اور اینا ایجاس کے مقالے کا کہنا ہے کہ ایک بار جب توسیع ختم ہو جائے گی تو کائنات دوبارہ سکڑنا شروع کر دے گی، اور اس میں موجود تمام مادے اور توانائی ایک چھوٹے حجم میں قید ہو جائیں گے۔

    مقالے میں مزید بتایا گیا کہ ہر ستارہ جو ہم رات کے آسمان میں دیکھ سکتے ہیں وہ ایک عظیم بلیک ہول سے ٹکرا جائے گا جس کا افق اربوں نوری سال پر محیط ہے۔

    یہ سب کب ہوگا، اور اگر یہ بالکل ہوگا بھی تو اس کا انحصار اس قوت کی پیمائش پر ہے جسے سائنس دان صرف مدھم انداز میں سمجھتے ہیں۔

    ڈارک انرجی ایک پراسرار قوت کو دیا جانے والا نام ہے جو کائنات کے پھیلاؤ کی رفتار کو کم کرنے کی بجائے وقت کے ساتھ ساتھ تیز تر کر رہی ہے۔

    لیکن نیو جرسی میں پرنسٹن یونیورسٹی میں پرنسٹن سینٹر فار تھیوریٹیکل سائنس کے ڈائریکٹر سٹین ہارڈ کے مطابق، ڈارک انرجی وہ قوت نہیں ہے جس پر سائنس دانوں نے کبھی یقین کیا تھا بلکہ ایک حقیقی مادہ ہے جسے وہ “Quintessence” کہتے ہیں۔

    یہ مادہ زوال پذیر ہوسکتا ہے، کائنات کے پھیلاؤ کے لیے دباؤ کو کمزور کر سکتا ہے اور کشش ثقل کو راستہ دے سکتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اسے ناقابل یقین حد تک گھنے، اور ناممکن طور پر گرم یکسانیت کی طرف لے جائے گا۔

    کچھ نظریات پیش گوئی کرتے ہیں کہ کائنات کے سکڑنے کے ساتھ ہی وقت پیچھے کی طرف بھاگنا شروع کر سکتا ہے۔

    اگرچہ اس بات پر زور دیا جانا چاہیے کہ وہ پیش گوئیاں، جیسا کہ سائنس دانوں کی ایک ٹوٹتی ہوئی کائنات کی پیش گوئی، ممکن ہے کہ بنی نوع انسان کے ڈائنوسار کے راستے پر جانے کے کافی عرصے بعد خالصتاً نظریاتی رہیں۔