Baaghi TV

Tag: کابل

  • افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

    افغان طالبان پروپیگنڈے کا پردہ چاک، اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف

    افغان طالبان کی جانب سے پھیلائے گئے پروپیگنڈے کا پردہ چاک ہوگیا، جہاں اسپتال کے نام پر عسکری تربیتی کیمپ کا انکشاف ہوا ہے۔

    وزارت اطلاعات و نشریات کی جانب سے کیے گئے فیکٹ چیک کے مطابق جس امید اسپتال کو افغان طالبان کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے، وہ دراصل کیمپ فینکس (Camp Phoenix) سے کئی کلومیٹر دور واقع ہے، اصل ہدف ایک عسکری مقام تھا جہاں دہشتگردوں کے اسلحہ اور بارود کا ذخیرہ موجود تھا، جسے گزشتہ رات درست نشانہ بنایا گیا۔

    تصاویر سے بھی واضح ہے کہ اصل اسپتال ایک کثیر المنزلہ عمارت ہے جبکہ نشانہ بنائی گئی جگہ کنٹینرز پر مشتمل عسکری/دہشت گرد انفرا اسٹرکچر تھا یہ فرق خود ہی حقیقت کو واضح کرتا ہے ایک اور اہم سوال یہ بھی ہے کہ اگر یہ واقعی منشیات کے عادی افراد کے علاج کا مرکز تھا تو پھر اسے ایک ایسے فوجی کیمپ میں کیوں قائم کیا گیا جہاں مہلک اسلحہ اور بارود ذخیرہ کیا جاتا ہو؟ یہ تضاد خود اس دعوے کی حقیقت پر سوال اٹھاتا ہے۔

    پی آئی اے کو مارکیٹ ویلیو سے کم میں فروخت کرنے کا تاثر غلط ہے، سیکریٹری نجکاری کمیشن

    وزارتِ اطلاعات و نشریات نے ایک اور اہم فیکٹ چیک جاری کرتے ہوئے افغان سرکاری سوشل میڈیا ہینڈل سے ایک پوسٹ اور ویڈیو ڈیلیٹ کیے جانے پر گہرے شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے،مذکورہ آفیشل اکاؤنٹ کی جانب سے سب سے پہلے یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ کسی منشیات بحالی مرکز کو نشانہ بنایا گیا ہے، تاہم بعد ازاں اس متنازع پوسٹ کو اچانک ہی ڈیلیٹ کر دیا گیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ کیا یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے تیار کی گئی تھی، جو متعدد بار کیے جانے والے فیکٹ چیکس کے سخت دباؤ اور جانچ پڑتال کا سامنا نہیں کر سکی، اس واقعے سے واضح ہوتا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے اپنے ہی سوشل میڈیا ہینڈل پر شیئر کی گئی ہیرا پھیری والی ویڈیو کو حقیقت ثابت کرنے کی کوشش بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

    افواج پاکستان نے کابل اور ننگرہار میں 6 دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا، عطا اللہ تارڑ

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت کے کابل میں امید ایڈکشن اسپتال پر فضائی کارروائی کے الزامات حقیقت سے بعید ہیں طالبان کے دعوے 400 ہلاک اور 250 زخمی ہونے کے ہیں، تاہم حکام کے مطابق یہ کارروائیاں مکمل طور پر انٹیلی جنس پر مبنی، درست اور محدود تھیں، جو دہشت گردوں کے ٹھکانے، لاجسٹک نیٹ ورک اور سرحدی حملوں میں ملوث بنیادی ڈھانچے تک محدود تھیں۔

    سیکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ طالبان کی پروپیگنڈا واضح نمونہ اختیار کر چکی ہے: دہشت گرد موجودگی سے انکار، ہدف کو اسپتال یا پناہ گاہ کے طور پر پیش کرنا، ہلاکتوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور ہمدردی کے جذبات پیدا کرنا،امید ایڈکشن اسپتال جیسی کہانیاں اب معمول بن چکی ہیں، ہر دہشت گرد سے منسلک مقام کو انسانی سہولت کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

    یہ دعوے صرف ان مقامات پر حملوں کے بعد سامنے آتے ہیں جو پاکستان میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور سہولت کاری سے جڑے ہوتے ہیں طالبان نے شہری علاقوں میں دہشت گردوں کو چھپنے کی اجازت دے رکھی ہے اور بعد میں اس کا فائدہ پروپیگنڈا اور مظلومیت کے بیانیے کے لیے اٹھا تے ہیں۔

    سپریم کورٹ نے قتل اور دہشتگردی کےمقدمے میں نامزد تمام ملزمان کو بری کردیا

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے تحت دہشت گرد گروپس، بشمول ٹی ٹی پی، القاعدہ اور دیگر علاقائی تنظیمیں آزادانہ ماحول میں کام کر رہی ہیں۔ 2025 میں ٹی ٹی پی کے 600 سے زائد حملے افغان علاقے سے انجام دیے گئے، جس سے پاکستان کو براہ راست نقصان پہنچا جن میں 1957 ہلاکتیں اور 3603 زخمی شامل ہیں۔

    سیکیورٹی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے تحمل کا مظاہرہ کیا اور سفارتی راستے استعمال کیے، تاہم دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کے خلاف کارروائی قانونی اور ضروری دفاع کے طور پر کی گئی۔ طالبان کی بڑھا چڑھا کر پیش کی گئی ہلاکتوں کی رپورٹیں حقیقت میں انسانی ہمدردی کا معاملہ نہیں بلکہ دہشت گرد بنیادی ڈھانچے کو بچانے اور اپنی ذمہ داری سے بچنے کی کوشش ہیں، اصل مسئلہ یہ ہے کہ یہ کسی اسپتال یا شہریوں کے بارے میں نہیں، بلکہ دہشت گردی اور اس کے خلاف کارروائی میں طالبان کی عدم تعاون اور ان کے پروپیگنڈا بیانیے پر مرکوز ہے۔

    بغداد میں امریکی سفارتخانے پر ڈرون اور راکٹ سے شدید حملے

  • پاکستان کے جوابی حملوں کا خوف، افغان طالبان عہدیدار کابل سے فرار

    پاکستان کے جوابی حملوں کا خوف، افغان طالبان عہدیدار کابل سے فرار

    پاکستان کے جوابی حملوں کے خوف سے افغان طالبان عہدیدار 4 ہیلی کاپٹروں کے ذریعے صوبہ غور فرار ہوگئے۔

    افغان میڈیا کے مطابق افغانستان کے صوبہ غور کے کم از کم چار ذرائع نے بتایا کہ طالبان کے متعدد عہدیدار ہفتہ کی صبح چار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے ممکنہ پاکستانی فضائی حملوں کے خوف سے اس صوبے میں پہنچے،افغان میڈیا نے ہیلی کاپٹر کی تصویر بھی جاری کی ہے جس میں افغان طالبان عہدیدار صوبہ غور پہنچے۔

    خیال رہے کہ اس سے قبل بھی پاکستانی حملوں کے خوف سے طالبان کے کئی عہدیدار ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بامیان اور دایکندی کی طرف فرار ہوئے تھے۔

    حالیہ جنگ:روس ایران کو انسانی امداد بھیجنے والا پہلا ملک بن گیا

    اسرائیل کی لبنان میں اسپتال پر بمباری، 12 ڈاکٹرز اور نرسیں جاں بحق

    ایرانی جزیرے پر امریکی حملے سے نقصان کی تفصیلات جاری

  • افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف

    افغان طالبان کا ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈروں کو کابل کے ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دینے کا انکشاف سامنے آیا ہے-

    مختلف سفارتی ماہرین نے یہ خیال ظاہر کیا ہے کہ افغان رجیم نے ٹی ٹی پی سمیت مختلف دہشتگرد تنظیموں کے اہم کمانڈروں کو کابل میں موجود گرین زور، خصوصاً ڈپلومیٹک انکلیو میں پناہ دے رکھی ہے تاکہ انہیں محفوظ رکھا جاسکے پاکستان کے معروف صحافی حامد میر نے بھی گزشتہ روز ٹویٹ میں کہا کہ کچھ سفار تی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کابل کے گرین زون، خاص طور پر وزیر اکبر خان علاقے میں ٹی ٹی پی کے سربراہ نور ولی، گل بہادر، بشیر زیب اور دیگر مطلوب دہشت گردوں کو پناہ دے رہے ہیں، ذرائع کے مطابق ان کا قیام سفارتی علاقے کے قریب خطرناک صورتحال پیدا کر سکتا ہے اور کئی بین الاقو امی سفارت کار جلد کابل چھوڑ سکتے ہیں۔

    سیکیورٹی اور علاقائی ماہرین کے مطابق طالبان نے 1990 کی دہائی میں اپنی سابقہ جنگی حکمت عملی کی طرح دہشت گردوں کو ایسے علاقوں میں رکھا ہے جہاں حملہ کرنا دیگر ممالک کے لیے سیاسی اور سفارتی مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ماضی میں طالبان نے جرمن کلب جیسے بین الاقوامی کمپاؤنڈز میں قیام کر کے اپنے رہنماؤں کو محفوظ بنایا تھا۔

    ایران کو یقینا فتح ہوگی، روسی فوجی ماہر کی پیشگوئی

    افغان طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے ٹی ٹی پی اراکین کو پناہ لینے والے قرار دیا اور کہا کہ یہ دہشت گرد نہیں بلکہ مہاجر ہیں، تاہم بین الاقوامی سطح پر ٹی ٹی پی کو دہشت گرد گروہ تسلیم کیا گیا ہے، جس پر اقوام متحدہ، امریکا اور دیگر ممالک نے انہیں پاکستان میں ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیا ہے۔

    اقوام متحدہ کی رپورٹوں کے مطابق افغانستان میں 20 سے زائد دہشت گرد تنظیمیں فعال ہیں، جن میں القاعدہ، داعش خراسان، آئی ایم یو، ای ٹی آئی ایم اور دیگر شامل ہیں، ان کے تربیتی کیمپ اور نیٹ ورکس مختلف صوبوں میں موجود ہیں۔

    ایران کیخلاف امریکا واسرائیل جنگ:چین کا خصوصی ایلچی ثالثی کے لیے سعودی عرب پہنچ گیا

    سکیورٹی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی خطے کے لیے خطرہ ہے، خاص طور پر پاکستان، چین، روس اور وسطی ایشیائی ممالک کے لیے۔ بین الاقوامی تعاون اور مضبوط انسداد دہشت گردی حکمت عملی کے بغیر افغانستان دوبارہ علاقائی اور عالمی دہشت گردوں کا گڑھ بن سکتا ہے طالبان کی جانب سے ان گروہوں کو پناہ دینا اور ان کی موجودگی کو مہاجرین کے طور پر پیش کرنا خطے میں تشویش اور سفارتی مشکلات پیدا کر رہا ہے۔

  • دریائے کابل اور سندھ کے کنارے سونے کی کان کنی پر پابندی میں توسیع

    دریائے کابل اور سندھ کے کنارے سونے کی کان کنی پر پابندی میں توسیع

    خیبر پختونخوا حکومت نے صوبے کی مختلف ضلعی حدود میں دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر پلیسر سونے کی کان کنی پر پابندی آئندہ 2 ماہ کے لیے بڑھا دی ہے۔

    ہوم اینڈ ٹرائبل افیئرز ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ محکمے، ضلعی انتظامیہ اور دیگر ایجنسیوں سے موصولہ قابل بھروسہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر غیر قانونی پلیسر سونا نکالنے کی کوششوں کے قوی امکانات ہیں،معدنیات کی ترقی کے سیکریٹری نے سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک اور ان کے ملحقہ علاقوں میں دسمبر میں عائد کردہ پابندی کو عوامی مفاد میں بڑھانے کی درخواست کی تھی۔

    ڈیپارٹمنٹ نے خبردار کیا کہ اگر ایسی غیر مجاز اور غیر منظم کوششوں کو جاری رہنے دیا گیا تو اس سے دریا کے کناروں کی شدید خرابی، پانی کے وسائل کی آلودگی، مقامی ماحول اور منظرنامے کی تباہی اور عوامی صحت و سلامتی کو براہِ راست خطرہ پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔

    اس کے علاوہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ ان کوششوں سے قانون و انتظام کی صورتحال متاثر ہو سکتی ہے، جیسے مقامی گروہوں کے درمیان دشمنیاں، مواد کی غیر قانونی نقل و حمل، کان کنی کے آلات کے لیے ایندھن کی سمگلنگ اور امن و امان کے لیے دیگر خطرناک سرگرمیاں، غیر قانونی کان کنی میں ملوث بعض عناصر منظم انداز میں کام کرتے ہیں، ان کے پاس قابلِ ذکر مالی وسائل ہیں اور وہ انتظامی و پولیس افسران کی کارروائیوں کی مزاحمت کر سکتے ہیں، جس سے عوام اور اہلکاروں کی حفاظت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔

    ہوم ڈیپارٹمنٹ کے مطابق سیکشن 144 کے تحت، دریائے سندھ اور دریائے کابل کے کناروں پر سوات، نوشہرہ، کوہاٹ اور کرک کے اضلاع اور ملحقہ متاثرہ علاقوں میں پلیسر سونا نکالنے اور کان کنی کی تمام سرگرمیوں پر پابندی آئندہ 60 دن کے لیے نافذ کی جاتی ہے ضلعی انتظامیہ اور پولیس اس حکم کے نفاذ کے لیے تمام قانونی اقدامات کرنے کے مجاز ہیں، بشمول آلات، گاڑیوں، مشینری یا کسی بھی مواد کی ضبطی، اس حکم کی خلاف ورزی کرنے والے افراد کو پاکستان کے فوجداری قانون کی دفعہ 188 کے تحت سزا دی جائے گی۔

  • کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر بم حملہ:صدر مملکت کی شدید الفاظ میں مذمت

    کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر بم حملہ:صدر مملکت کی شدید الفاظ میں مذمت

    صدر مملکت آصف علی زرداری نے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں چینی ریسٹورنٹ پر ہونے والے بم دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

    انہوں نے واقعے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کی،انہوں نے افغانستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی کے باوجود ترقیاتی کاموں میں مصروف چینی شہریوں کے حوصلے اور جذبے کو خراجِ تحسین پیش کیا کہا کہ چینی شہری شدید خطرات کے باوجود افغانستان کی ترقی کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔

    آصف علی زرداری نے کہا کہ افغانستان میں طالبان حکومت دوحہ امن معاہدے کے تحت کیے گئے وعدوں کی پاسداری میں ناکام رہی ہے، خصوصاً اس عزم پر کہ افغان سرزمین دہشت گردی کی برآمد کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی پاکستان متعدد بار اس بات پر زور دیتا رہا ہے کہ افغانستان میں کسی بھی دہشتگرد تنظیم کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہ کی جائیں اور خطے میں امن و استحکام کو یقینی بنایا جائے۔

  • افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

    افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکا، متعدد افراد ہلاک

    افغانستان کے دارالحکومت کابل کے علاقے شہر نو میں ایک دھماکا ہوا ہے، جس کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے،جبکہ افغان حکام نے بھی دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے ہلاکتوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

    طالبان کی وزارتِ داخلہ کے ترجمان عبدالمتین قانی نے روئٹرز کو بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق جانی نقصان ہوا ہے، تاہم ہلاکتوں اور زخمیوں کی حتمی تعداد بعد میں جاری کی جائے گی،واقعے کی تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مزید تفصیلات جلد منظرعام پر آئیں گی-

    عالمی خبررساں ادارے کے مطابق شہرِ نو کا علاقہ زیادہ تر غیر ملکی باشندوں کی رہائش کے لیے جانا جاتا ہے اور اسے کابل کے محفوظ ترین علاقوں میں شمار کیا جاتا ہے۔

    افغان میڈیا کے مطابق طالبان حکومت کی جانب سے ابھی تک دھماکے کی نوعیت اور مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

    اسحاق ڈار اور سعودی وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ

    گل پلازہ میں خارجی راستوں پر بھی دکانیں بنانے کا انکشاف

    گل پلازہ متاثرین کو عدالتوں اور متعلقہ فورمز پر مفت قانونی معاونت فراہم کریں گے،کراچی بار

  • وزیرداخلہ محسن نقوی ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے

    وزیرداخلہ محسن نقوی ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے-

    وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی ایک روزہ سرکاری دورے پر کابل پہنچ گئے، محسن نقوی کے ہمراہ محمد صادق اور سیکریٹری داخلہ بھی ہیں کابل ایئرپورٹ پر پاکستانی وفد کا نائب افغان وزیر داخلہ مولوی محمد نبی عمری نے پرتپاک استقبال کیا،وزیرداخلہ کی قیادت میں پاکستانی وفد کی افغان حکام سے ملاقاتیں متوقع ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سیکیورٹی اور تعاون پر بات چیت ہوگی، وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی اپنے افغان ہم منصب سراج الدین حقانی سے ملاقات کریں گے۔

    پی ٹی آئی کی رکاوٹیں ناکام : مخصوص نشستوں پر ارکان کی حلف برداری آج شام کرنے کا فیصلہ

    پاکستانی پاسپورٹ میں والدہ کا نام بھی شامل کرنے کا فیصلہ

    آج کے اخبارات کے اداریے،عوام کا درد اور حکمرانوں کی بے حسی

  • کابل: اقوام متحدہ امدادی مشن کے احاطے میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، ایک زخمی

    کابل: اقوام متحدہ امدادی مشن کے احاطے میں فائرنگ، ایک شخص ہلاک، ایک زخمی

    کابل: افغانستان میں اقوام متحدہ کی امدادی مشن کے دفتر کے احاطے میں فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے۔

    باغی ٹی وی : عالمی میڈیا کے مطابق فائرنگ سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا اقوام متحدہ کے مشن کے مطابق یو این امدادی مشن کے دفتر میں فائرنگ میں طالبان گارڈ ملوث ہے، فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات کر رہےہیں۔

    بیان میں مزید تفصیلات بتائے بغیر کہا گیا کہ ہلاک ہونے والا شخص طالبان کے زیر انتظام سکیورٹی فورسز کا رکن تھا جو کمپاؤنڈ سے باہر تھا۔ اس میں کہا گیا کہ زخمی ہونے والا ایک بین الاقوامی سیکورٹی گارڈ تھا جسے اقوام متحدہ نے معاہدہ کیا تھا۔

    لاہور:تھانہ چونگ میں ایمیگریشن وکیل کو دھمکیاں، حبسِ بے جا کا مقدمہ درج

    دریں اثنا ترجمان افغان وزارت داخلہ نے کہا کہ فائرنگ کے واقعے میں امارت اسلامیہ کا کارکن جاں بحق جبکہ اقوام متحدہ کا ملازم زخمی ہوا،ترجمان عبدالمتین قانی نے مزید کہا کہ اقوام متحدہ کے مشن آفس میں فائرنگ کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

    اس نے کہا کہ "اقوام متحدہ سے معاہدہ شدہ سیکورٹی گارڈز نے واقعے کے دوران جوابی فائرنگ نہیں کی،یہ واضح نہیں ہوسکا کہ فائرنگ کس چیز نے کی۔ طالبان اور اقوام متحدہ دونوں اس واقعے کی تحقیقات کر رہے تھے۔

    کابل کی وزارت داخلہ کے ترجمان عبدالمتین کنی نے تصدیق کی کہ طالبان کا ایک گارڈ ہلاک اور اقوام متحدہ کا ایک کنٹریکٹر زخمی ہوا۔

    گول روٹی بنانے کے لیے طالبعلم نے اے آئی ٹول بنا ڈالا

    یو این اے ایم اے نے کہا کہ طالبان حکام نے واقعے کے بعد کمپاؤنڈ کے اندر اور باہر تمام نقل و حرکت روک دی، لیکن اب ان پابندیوں کو ہٹا دیا گیا ہے اس کمپاؤنڈ میں اقوام متحدہ کی متعدد ایجنسیوں کے دفاتر، فنڈز اور پروگرامز اور اقوام متحدہ کے بین الاقوامی عملے کے ارکان کے لیے رہائش ہے۔

  • افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    افغانستان نے بھارت میں قائمقام قونصلر کی تقرری کر دی

    افغان حکومت کی بھارت کے ساتھ پینگیں بڑھنے لگیں،افغانستان کی طالبان حکومت نے بھارت میں ایک نوجوان افغان طالب علم اکرام الدین کامل کی ممبئی میں افغانستان کے قونصل خانے میں قائم مقام قونصل کے طور پر تقرری کر دی ہے۔

    2021 میں افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سےیہ طالبان کی جانب سے بھارت میں کی جانے والی پہلی تقرری ہے، بھارت نے افغانستان میں طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد کابل اور دیگر شہروں سے اپنے سفارت کاروں کو واپس بلا لیا تھا، اور افغانستان کی سابقہ حکومت کے سفارت کار بھارت چھوڑ کر دوسرے ممالک میں پناہ گزین ہوگئے تھے۔ ایک سابق افغان سفارت کار اب بھی ہندوستان میں مقیم ہیں اور افغانستان کے مشن اور قونصل خانے کی دیکھ بھال کر رہے ہیں۔

    اکرام الدین کامل کی تقرری اس وقت ہوئی ہے جب وزارت خارجہ کے جوائنٹ سیکرٹری جے پی سنگھ کی قیادت میں ایک بھارتی وفد نے افغانستان کا دورہ کیا اور کابل میں طالبان کے قائم مقام وزیر دفاع، ملا محمد یعقوب سے ملاقات کی۔ طالبان کے نائب وزیر خارجہ برائے سیاسی امور، شیر محمد عباس ستانکزئی نے 12 نومبر کو کامل کی تقرری کا اعلان کیا۔

    اکرام الدین کامل نے سات سال تک بھارت میں تعلیم حاصل کی ہے اور وہ اس وقت دہلی کی یونیورسٹی آف ساؤتھ ایشیا سے قانون میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کر رہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، وہ ممبئی میں موجود ہیں اور اپنے نئے فرائض بھی انجام دے رہے ہیں۔

    طالبان حکومت کی جانب سے بھارت میں تقرری پر بھارتی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ وزارت خارجہ کے ذرائع نے بتایا کہ کامل کو افغانستان کے ایک نمائندے کے طور پر نہیں بلکہ ہندوستان میں افغان کمیونٹی کے لیے کام کرنے والے افغان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    سوشل میڈیا،فحش مواد دیکھنے کیلئے پاکستانی وی پی این استعمال کرنے لگے

    پاکستان میں سوشل میڈیا پر فحش مواد دیکھنےکا رجحان بڑھنے لگا

    گن پوائنٹ پر خواجہ سرا ڈولفن ایان سے برہنہ رقص کروا کر ویڈیو کر دی گئی وائرل

    اکرم چوہدری کی مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش ،ہم نے چینل ہی چھوڑ دیا،ایگریکٹو پروڈیوسر بلال قطب

    ٹک ٹاکر امشا رحمان کی بھی انتہائی نازیبا،برہنہ،جنسی تعلق کی ویڈیو لیک

    نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد مناہل ملک نے دیا مداحوں کو پیغام

    سماٹی وی میں گروپ بندی،سما کے نام پر اکرم چوہدری اپنا بزنس چلانے لگے

    سما ٹی وی بحران کا شکار،نجم سیٹھی” پریشان”،اکرم چودھری کی پالیسیاں لے ڈوبیں

    انتہائی نازیبا ویڈیو لیک ہونے کے بعد ٹک ٹاکرمناہل نے مانگی معافی

  • مولانا فضل الرحمان کل افغانستان جائیں گے

    مولانا فضل الرحمان کل افغانستان جائیں گے

    اسلام آباد: جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کل افغانستان جائیں گے۔

    باغی ٹی وی: ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان افغان حکومت کی دعوت پر کابل کا دورہ کر رہے ہیں اور سابق رکن قومی اسمبلی مولانا جمال الدین محسود بھی ان کے ہمراہ ہوں گے دورے کے دوران پاک افغان تعلقات پر تبادلہ خیال کیا جائےگا،ا فغان حکام سےکالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر امور پر بات چیت کی جائے گی، دورے میں افغان سرزمین کے پاکستان کے خلاف مسلسل استعمال پر بھی بات ہوگی۔

    واضح رہے کہ 16 دسمبر 2023 کو افغانستان کے پاکستان میں تعینات عبوری سفیر سردار احمد جان شکیب نے جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کی تھی اور انہیں دورہ کابل کی دعوت دی تھی۔

    مریم نواز کے بیرون ممالک 2022 سے 2023 تک کے دوروں کی تفصیلات جاری

    انٹونی بلنکن کا دورہ ترکیہ،ترک صدر سے ملاقات

    ملک کے مختلف اضلاع کے 14 ماحولیاتی نمونوں میں پولیو وائرس کی تصدیق