Baaghi TV

Tag: کابل

  • کابل دھماکے میں 7 افراد  جاں بحق اور  20  زخمی

    کابل دھماکے میں 7 افراد جاں بحق اور 20 زخمی

    کابل دھماکے میں 7 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔

    باغی ٹی وی: افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکہ ہوا ہے اس دھماکے کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 20 زخمی ہوگئےیہ دھماکہ ایک مسافر بس میں ہوا افغان حکام کے مطابق سکیورٹی فورسز نے دھماکے کی تحقیقات جاری شروع کردی ہیں تاہم افغان حکام نے فوری طور پر دھماکے کی نوعیت سے متعلق کچھ نہیں بتایا۔

    کابل پولیس کے ترجمان خالد زادران نے دھماکے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ دھماکا کابل کے علاقے دشت برچی میں ہوا جو تاریخی طور پر شیعہ ہزارہ برادری کا علاقہ ہے۔

    افغانستان کا ایران اور چین کے ساتھ تجارتی راہداریاں بنانے کا اعلان

    واضح رہے کہ گزشتہ ماہ اکتوبر کے آخر میں اسی علاقے کے ایک اسپورٹس کلب میں بھی دھماکا ہوا تھا جس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی اس دھماکے میں چار افراد جان سے گئے اور سات زخمی ہوئے تھے۔

    روس کا غزہ پر ایٹمی حملے سےمتعلق اسرائیلی وزیر کے بیان پرتحقیقات کا مطالبہ

  • دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا

    دنیا کی بہترین کرنسی کو طالبان نے کنٹرول کرلیا

    انسانی امداد اور ایشیائی ہمسایہ ممالک کے ساتھ بڑھتی ہوئی تجارت کی وجہ سے اربوں ڈالر کی امداد نے افغانستان کی کرنسی کو اس سہ ماہی میں عالمی درجہ بندی میں سب سے اوپر پہنچا دیا ہے بلوم برگ نے لکھا ہے کہ بدترین انسانی حقوق کے ریکارڈ کے مطابق غربت کا شکار ملک کے لیے یہ ایک غیر معمولی مقام ہے۔ حکمران طالبان، جنہوں نے دو سال قبل اقتدار پر قبضہ کیا تھا، نے بھی افغانیوں کو مضبوط گڑھ میں رکھنے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جن میں مقامی لین دین میں ڈالر اور پاکستانی روپے کے استعمال پر پابندی عائد کرنا اور گرین بیک کو ملک سے باہر لانے پر پابندیاں سخت کرنا شامل ہیں۔ اس نے آن لائن ٹریڈنگ کو غیر قانونی بنا دیا ہے اور قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو قید کی دھمکی دی ہے۔

    بلومبرگ کی جانب سے مرتب کردہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ کرنسی کنٹرول، نقد رقم کی آمد اور دیگر ترسیلات زر نے اس سہ ماہی میں افغانیوں کو تقریبا 9 فیصد اضافے میں مدد دی ہے، جو کولمبیا کے پیسو کے 3 فیصد اضافے سے کہیں زیادہ ہے۔ اس سال کے دوران افغانی کرنسی میں تقریبا 14 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس سے یہ کولمبیا اور سری لنکا کی کرنسیوں کے بعد عالمی فہرست میں تیسرے نمبر پر ہے۔ اس کے باوجود حکومت کی تبدیلی کے بعد کرنسی کے نقصانات میں جو کمی دیکھی گئی ہے وہ اس ڈرامائی ہلچل کو بھی ظاہر کرتی ہے جو افغانستان پابندیوں کی وجہ سے عالمی مالیاتی نظام سے کافی حد تک کٹ گیا ہے۔ عالمی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق بے روزگاری بہت زیادہ ہے، دو تہائی گھرانے بنیادی اشیاء خریدنے کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں اور افراط زر افراط زر میں تبدیل ہو گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے 2021 کے اختتام کے بعد سے کم از کم 18 ماہ تک غریبوں کی مدد کے لیے تقریبا ہفتہ وار امریکی ڈالر کی آمد ہوتی ہے۔

    جبکہ واشنگٹن میں قائم نیو لائنز انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجی اینڈ پالیسی میں مشرق وسطیٰ، وسطی اور جنوبی ایشیائی امور کے ماہر کامران بخاری نے کہا، "کرنسی پر سخت کنٹرول کام کر رہا ہے، لیکن معاشی، سماجی اور سیاسی عدم استحکام کرنسی میں اس اضافے کو قلیل مدتی رجحان کے طور پر پیش کرے گا۔ افغانستان میں غیر ملکی زرمبادلہ کی تجارت اب زیادہ تر منی چینجرز کے ذریعے کی جاتی ہے جنہیں مقامی طور پر صرافہ کہا جاتا ہے جو بازاروں میں اسٹال لگاتے ہیں یا شہروں اور دیہاتوں میں دکانوں سے کام کرتے ہیں۔ کابل میں مصروف، کھلی فضا میں چلنے والی مارکیٹ سرائے شہزادہ ملک کا حقیقی مالیاتی مرکز ہے، جہاں ہر روز لاکھوں ڈالر کے مساوی رقم گزرتی ہے۔ مرکزی بینک کے مطابق ٹریڈنگ کی کوئی حد نہیں ہے۔ مالی پابندیوں کی وجہ سے اب تقریبا تمام ترسیلات زر مشرق وسطیٰ سمیت خطوں میں رائج صدیوں پرانے حوالہ منی ٹرانسفر سسٹم کے ذریعے افغانستان منتقل کی جاتی ہیں۔ حوالہ سرافوں کے کاروبار کا ایک اہم حصہ ہے۔

    اقوام متحدہ، جس کا تخمینہ ہے کہ افغانستان کو اس سال تقریبا 3.2 بلین ڈالر کی امداد کی ضرورت ہے، نے اس میں سے تقریبا 1.1 بلین ڈالر خرچ کیے ہیں، عالمی ادارے کی مالیاتی ٹریکنگ سروس کے مطابق. گزشتہ سال اس تنظیم نے تقریبا 4 ارب ڈالر خرچ کیے تھے کیونکہ افغانستان کے 41 ملین افراد میں سے نصف کو جان لیوا بھوک کا سامنا تھا۔ عالمی بینک نے پیش گوئی کی ہے کہ اس سال معیشت سکڑنا بند ہو جائے گی اور 2025 تک 2 سے 3 فیصد کی شرح نمو حاصل کرے گی، حالانکہ اس نے عالمی امداد میں کمی جیسے خطرات سے خبردار کیا ہے کیونکہ طالبان نے خواتین پر جبر کو تیز کر دیا ہے۔ لندن میں بی ایم آئی میں یورپ کنٹری رسک کی سربراہ انویتا باسو نے کہا، "غیر ملکی زرمبادلہ کے لین دین پر سخت پابندیاں اور تجارت میں بتدریج بہتری افغانی کی طلب میں اضافہ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ افغانی سال کے آخر تک موجودہ سطح پر مستحکم رہنے کا امکان ہے۔ ایک مضبوط کرنسی افغانستان کے لئے تیل جیسی اہم درآمدات کے لئے افراط زر کے دباؤ کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے ، خاص طور پر جب خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں۔

    اب بھی، نقد رقم کے بہاؤ کے باوجود، انسانی صورتحال اور مالی نقطہ نظر سنگین ہے. اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ری کنسٹرکشن کی جولائی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے منجمد زرمبادلہ کے 9.5 ارب ڈالر کے ذخائر میں سے 3.5 ارب ڈالر جاری کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی لیکن اس منصوبے کو اس وقت روک دیا گیا جب اسے معلوم ہوا کہ مرکزی بینک کو طالبان سے آزادی حاصل نہیں ہے اور انسداد منی لانڈرنگ کنٹرول اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام میں کوتاہیاں ہیں۔ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سال غیر ملکی امداد میں 30 فیصد کمی واقع ہوتی ہے تو اس سے فی کس آمدنی کم ہو کر 306 ڈالر رہ جائے گی جو 2020 کی سطح سے 40 فیصد کم ہے۔ خواتین کے خلاف وسیع پیمانے پر پابندیوں نے طالبان انتظامیہ کے اندر بھی تقسیم کو ہوا دی ہے ، کچھ نے کھلے عام اپنے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اخوندزادہ نے خواتین کو تعلیم حاصل کرنے، کام کرنے، عوامی پارکوں میں جانے، جم استعمال کرنے اور مردوں کی حفاظت کے بغیر طویل فاصلے تک سفر کرنے سے منع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔

    رواں ماہ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ طالبان نے جنوری 2022 سے رواں سال جولائی کے آخر تک لوگوں کی گرفتاری اور حراست کے دوران تشدد سمیت انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے 1600 سے زائد واقعات کا ارتکاب کیا۔ دریں اثنا، 2023 میں پینٹاگون کے ایک جائزے سے پتہ چلا ہے کہ دولت اسلامیہ ایک بار پھر دنیا بھر میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لئے افغانستان کو ایک اڈے کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس دہشت گرد گروپ نے افغانستان میں حملوں میں بھی اضافہ کیا ہے، جیسے ایک ڈپٹی گورنر کی ہلاکت اور ایک مسجد پر بم حملے میں داعش کے عسکریت پسندوں نے افغانستان میں چینی، بھارتی اور ایرانی سفارت خانوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔ بی ایم آئی کے باسو نے کہا، "بالآخر، سیاسی استحکام کرنسی کو بنائے گا یا توڑ دے گا – اگر طالبان گھر پر کنٹرول کھو دیتے ہیں، تو کرنسی کو بھی نقصان پہنچے گا۔

  • قرآن پاک کی بے حرمتی: طالبان حکومت نےافغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں معطل کردیں

    قرآن پاک کی بے حرمتی: طالبان حکومت نےافغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں معطل کردیں

    کابل: افغانستان میں طالبان حکومت نے سویڈن میں توہین قرآن کے واقعے کے خلاف افغانستان میں سویڈن کی تمام سرگرمیاں معطل کردیں۔

    باغی ٹی وی: طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے اس حوالے سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ توہین قرآن اور مسلمانوں کے عقائد کی توہین کرنے پر سرکاری سطح پر معافی مانگنے تک سویڈن کی تمام سرگرمیاں افغانستان میں معطل رہیں گی افغانستان میں تمام سرکاری ادارے اس حکم پر عملدرآمد کے پابند ہیں۔

    اعلامیے میں طالبان کی جانب سے دیگر مسلم ممالک سے بھی مطالبہ کیا گیا ہےکہ وہ سویڈن کی اس مذموم حرکت کے خلاف اپنے تعلقات پر نئے سرے سے غور کریں-

    برطانوی حکومت کی اپنے شہریوں کیلئے پاکستان میں سفرکےبارے میں نئی ہدایات جاری

    اس سے قبل سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر یمن کی حوثی اتھارٹی نے سویڈش درآمدات پر پابندی عائد کرنےکا اعلان کیا تھا، یمنی میڈیا نےحوثی وزیرتجارت کا حوالہ دیتےہوئےکہا کہ یمن وہ پہلا ملک بن گیا ہے جس نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے بعد سویڈش تجارت پر پابندی لگائی ہے۔

    واضح رہے کہ رہےکہ سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم کی مسجد کے باہر عید الاضحیٰ کے روز قرآن پاک کو نذرآتش کرنے اور بے حرمتی کا واقعہ پیش آیا تھا اسٹاک ہوم کی پولیس نے عراق سے تعلق رکھنے والے شہری کو کئی بار قرآن پاک نذر آتش کرنے کی اجازت دینے سے انکار کیا تھا لیکن مقامی عدالت نے پولیس کے فیصلے کو آزادی اظہار رائے کے خلاف قرار دیا مقامی پولیس نے شہری کو عید کے روز شہر کی مرکزی جامع مسجد کے باہر مظاہرے کی اجازت دی جس کے بعد ملعون نے قرآن پاک کو نذر آتش کیا اور مسلمانوں کی مقدس کتاب کی بے حرمتی کی۔

    ترکیہ نےسویڈن کی نیٹو رکنیت کیلئےحمایت کر دی

    سویڈن میں قرآن پاک کی بے حرمتی پر دنیا بھر میں مسلمان سراپا احتجاج ہیں اور کئی ممالک میں ریلیاں نکالی جا رہی ہیں جب کہ حکومت پاکستان کی طرف سے اس سلسلے میں یوم تقدیس قرآن بھی منایا گیا۔

  • خواتین کو کام کرنے کی اجازت نہیں ملی تو مئی میں افغانستان چھوڑ دیں گے،اقوام متحدہ

    خواتین کو کام کرنے کی اجازت نہیں ملی تو مئی میں افغانستان چھوڑ دیں گے،اقوام متحدہ

    کابل: اقوامِ متحدہ نے طالبان حکومت کو وارننگ دی ہےکہ اگر خواتین عملے کو کام کرنے کی اجازت نہیں ملی تو مئی میں تمام آپریشن بند کرکے افغانستان سے واپس چلے جائیں گے۔

    باغی ٹی وی : بین الاقوامی میڈیا کے مطابق افغانستان میں اقوام متحدہ نے اپنا مشن جاری رکھنے پر نظرِثانی کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ افغانستان میں امدادی کام خواتین عملے کو کام کرنے کی اجازت ملنے سے مشروط ہے۔

    میڈیا کے سامنے عتیق ،اشرف کو قتل کرنیوالے ملزمان کا جسمانی ریمانڈ منظور

    اقوامِ متحدہ نے طالبان حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے خواتین عملے کو کام کرنے کی اجازت دی جائے خواتین عملہ نہ ہونے کی وجہ سے دور دراز علاقوں میں امدادی کاموں کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا ہے۔

    واضح رہے کہ طالبان نے رواں ماہ کے آغاز میں اقوام متحدہ کے لیے کام کرنے والی خواتین پر پابندی عائد کردی تھیں۔ 600 خواتین عملے میں سے اکثریت مقامی خواتین کی تھی جو اقوام متحدہ کے امدادی مشن میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔

    گوگل نے اے آئی ٹیکنالوجی پر کام شروع کر دیا

    اقوامِ متحدہ کا افغانستان میں مشن کی میعاد 5 مئی کو ختم ہورہی ہے جس میں توسیع کا امکان تھا تاہم طالبان کی جانب سے خواتین عملے پر پابندی کے بعد اقوام متحدہ نے مشن جاری رکھنے کو خواتین کو کام کرنے کی اجازت سے مشروط کردیا۔

  • افغانستان، دھماکے میں صوبہ بلخ کا گورنر جاں بحق

    افغانستان، دھماکے میں صوبہ بلخ کا گورنر جاں بحق

    افغانستان کے صوبے بلخ میں دھماکا ہوا ہے

    دھماکے کے نتیجے میں گورنر سمیت 3 افرادجاں بحق جبکہ 7زخمی ہوئے ہیں،دھماکے کے بعد سیکورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر لیا، زخمیوں کو طبی امداد کے لئے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، افغان پولیس نے بتایا کہ صوبہ بلخ کے گورنر محمد داؤد مزمل جمعرات کو لائبریری میں ہونے والے ایک دھماکے میں مارے گئے ہیں،

    افغانستان سے ایک صحافی سلیم نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ افغان طالبان کے اہم ترین کمانڈر اور داعش کے خلاف آپریشن میں اہم کردار ادا کرنے والے و امریکہ کے جانب سے بلیک لسٹ قرار دیئے جانے والا و موجودہ بلخ صوبے کے گورنر محمد داؤد مزمل نورزئی بم دھماکے میں اپنے تین ساتھیوں سمیت جانبحق۔

    https://twitter.com/Salamsabr/status/1633742216874033152

    میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکہ انتظامی اجلاس کے دوران ہوا ،داؤد مزمل طالبان حکومت کے ایک اہم فوجی رہنما اور ان کے ایرانی پاسداران انقلاب کے ساتھ گہرے تعلقات تھے اس سے قبل وہ ایک ایرانی سرکاری چینل کے لیے ایک دستاویزی فلم میں نظر آئے تھے جس میں امریکہ کے خلاف اپنی لڑائی کے بارے میں گفتگوکر ہے تھے ،وہ نائب وزیر داخلہ اور پھر طالبان حکومت کے تحت صوبہ بلخ کے گورنر بنے تھے،

    دھماکے کی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی

  • کابل میں فوجی ہوائی اڈے کے باہر دھماکہ ، متعدد افراد جاں بحق

    کابل میں فوجی ہوائی اڈے کے باہر دھماکہ ، متعدد افراد جاں بحق

    کابل: اتوارکو افغان دارالحکومت میں ایک فوجی ہوائی اڈے کے دروازے پر ہونے والے دھماکے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہو گئے۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نے دھماکے کی تصدیق کردی تاہم اس کی نوعیت نہیں بتائی۔

    عبدالنافی تکور نے بتایا کہ کابل ملٹری ایئرپورٹ کے باہر دھماکے میں ہمارے متعدد بے گناہ عام شہری شہید اور زخمی ہوئے واقعے کی اطلاع ملتے ہیں ریسیکیو ادارے اور سیکیورٹی فورسز پہنچ گئیں اور جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر علاقے کو سیل کردیا، جبکہ تمام سڑکیں بند کردی گئیں۔

    عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا علی الصبح 8 بجے سخت حفاظتی انتظامات والے ہوائی اڈے کے احاطے میں فوجی ایریا میں ہوا۔

    امدادی کارکنوں نے لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا ہے، جہاں متعدد زخمیوں کی حالت تشویش ناک بتائی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔

    سیکیورٹی فورسز کی جانب سے مشتبہ افراد کی گرفتاری کےلیے علاقے میں سرچ آپریشن کیا جارہا ہے۔ واقعے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہیں اور دھماکے کی نوعیت کا پتہ لگایا جارہا ہے۔ تاحال کسی تنظیم نے دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

    واضح رہے کہ افغانستان میں حال ہی میں داعش نے متعدد حملے کیے ہیں جن میں پاکستانی و روسی سفارت خانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا جبکہ سابق افغان وزیراعظم کے دفتر پر بھی حملہ کیا گیا۔

    طالبان حکام اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے سیکیورٹی میں بہتری لانے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن متعدد بم دھماکے اور حملے ہو چکے ہیں، جن میں سے کئی کا دعویٰ داعش گروپ کے مقامی باب نے کیا ہے۔

    گزشتہ ماہ کابل میں چینی کاروباری افراد کے لیے مشہور ہوٹل پر بندوق برداروں کے حملے میں کم از کم پانچ چینی شہری زخمی ہو گئے تھے حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

    طالبان کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے افغانستان کی اقلیتی برادریوں کے افراد سمیت سیکڑوں افراد حملوں میں ہلاک اور زخمی ہو چکے ہیں۔

  • کابل: طالبان کے ایک سینئر رہنما نے والد کےقاتل کو معاف کرکے پھانسی سے بچا لیا

    کابل: طالبان کے ایک سینئر رہنما نے والد کےقاتل کو معاف کرکے پھانسی سے بچا لیا

    کابل: افغانستان میں طالبان کے ایک سینئر رہنما گل محمد نے والد کے قاتل کو معاف کرکے پھانسی سے بچا لیا-

    باغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ ابھی تک قندھار میں کسی نامعلوم مقام پر رہائش پذیر ہیں اور وہیں سے اپنے احکامات جاری کرتے ہیں امیرِ طالبان ملا ہبت اللہ اخوندزادہ کے حکم پر قتل سمیت سنگین جرائم کے مرتکب ملزمان کو جرم ثابت ہونے کے بعد شرعی سزائیں دی جا رہی ہیں جن میں سرعام پھانسی دینا، سنگسار کرنا، کوڑے مارنا اور چوروں کے ہاتھ کاٹنا بھی شامل ہیں۔

    سگی خالہ کو قتل کرکےلاش کے10ٹکڑے کردیئے

    رواں ماہ دو افراد کو سرعام سزائے موت دی جا چکی ہیں۔ جن میں سے ایک سزا میں مقتول بیٹے کے والد نے قاتل کو سرعام گولی مالی مار کر ہلاک کیا سزا پر عمل درآمد کے وقت طالبان کے اعلیٰ عہدیدار بھی موجود تھے۔

    تاہم آج صوبے جوزجان میں طالبان کے ڈپٹی گورنر گل محمد نے اپنے والد مفتی عبد الوہاب زاہد کے قاتل عبدالغفور کو اللہ کی رضا کے لیے معاف کرتے ہوئے کہا کہ اس سے دو قبیلوں کے درمیان 30 سال سے جاری تنازع ختم ہوجائے گا معاف کردینا بڑی نیکی ہے سپریم کورٹ کے حکم پر قاتل کوعنقریب پھانسی دی جانی تھی تاہم لواحقین کی جانب سے معافی ملنے پر قاتل کو رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

    افغانستان کے ٹنل میں آئل ٹینکردھماکے سے پھٹ گیا؛ 19 جاں بحق اور 32 زخمی

    واضح رہے کہ طالبان رہنما کے والد مفتی عبدالوہاب کو 1991 میں مویشیوں کی خرید و فروخت کے معاملے میں تنازع پیدا ہونے پر قتل کیا گیا تھا قتل کے فوری بعد قاتل عبد الغفور کو حراست میں لے لیا گیا تھا تاہم کچھ عرصے بعد رہائی مل گئی تھی لیکن اس پر مقتول کے قبیلے نے شدید احتجاج کیا اور یوں یہ معاملہ دو قبیلوں کے درمیان جھگڑے کا سبب بن گیا تھا۔

  • پاکستانی سفارتخانے پرفائرنگ کرنے والا ملزم گرفتار،ذبیح اللہ مجاہد کے اہم انکشاف

    پاکستانی سفارتخانے پرفائرنگ کرنے والا ملزم گرفتار،ذبیح اللہ مجاہد کے اہم انکشاف

    کابل میں پاکستانی سفارت خانے پرفائرنگ کرنے والا ملزم گرفتار

    ترجمان طالبان حکومت ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزم غیر ملکی اور داعش کا رکن ہے،ابتدائی تحقیقات کے مطابق حملہ داعش اور باغیوں نے مشترکہ طور پر کیا تھا، کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کے پیچھے کچھ غیر ملکی گروہوں کا ہاتھ ہے، پاکستانی سفارت خانے پر حملہ پاک افغان تعلقات میں عدم اعتماد کی فضا کو جنم دینا ہے،کابل میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں،تحقیقات مکمل ہونے کے بعد انہیں شیئر کیا جائے گا، پاکستان اور افغانستان برادر ملک ہیں،

    دوسری جانب ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ کابل میں پاکستانی ناظم الامور عبید الرحمان نظامانی پاکستان پہنچ گئے، عبید نظامانی پہلے سے طے شدہ دورے کے تحت پاکستان آئے ہیں،عبید نظامانی دورے کے دوران اہم امور پر مشاورت کرینگے،

    کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر فائرنگ کی گئی ہے

    :افغان وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی کی پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک گفتگو ہ

     کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کے واقعہ کی ایران ،سعودی عرب نے مذمت کی ہے

    افغان دارالحکومت کابل میں پاکستانی ناظم الامور پرقاتلانہ حملہ ہوا جس میں سکیورٹی گارڈ زخمی ہوگیا۔سفارتی ذرائع کا کہناہے کہ کابل حملے میں زخمی سپاہی کو پشاور پہنچادیاگیا ہے۔پاکستان نے افغان ناظم الامور کو طلب کرکے کابل میں ہیڈ آف مشن پر قاتلانہ حملے پر شدید احتجاج کیا اور واقعے کی تحقیقات اور کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

    حکومت پاکستان کے مطابق اس ’قاتلانہ حملے‘ کا مقصد کابل کے سفارت خانے میں موجود ہیڈ آف مشن (ناظم الامور) عبید الرحمان نظامانی کو نشانہ بنانا تھا مگر وہ محفوظ رہے ہیں۔یاد رہے کہ عبدالرحمان نظامانی نے گذشتہ ماہ چار نومبر کو ہی کابل سفارت خانے میں بطور ہیڈ آف مشن اپنے کام کا آغاز کیا ہے۔

  • کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ،سعودی عرب، ایران نے کی مذمت

    کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ،سعودی عرب، ایران نے کی مذمت

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کے واقعہ کی ایران ،سعودی عرب نے مذمت کی ہے

    سعودی عرب نے افغانستان میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی مذمت کی ہے،سعودی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پاکستانی سفیر کو قتل کرنے کی سازش کی مذمت کرتے ہیں،ہم پاکستان اور پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں،

    علاوہ ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کابل میں واقع پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ناصر کنعانی نے افغان بے گناہ عوام کے خلاف دہشتگردانہ حملے کے تسلسل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے مسلسل دہشتگردانہ حملوں کا نتیجہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام ہے جو اس ملک کے عوام اور خطے کے مفادات کے منافی ہے ،پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے بھی کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    علاوہ ازیں افغانستان میں پاکستانی ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی پر حملے کیخلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی،قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی کے سفارت خانے پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے حملے میں پاکستانی ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی دہشتگردی کے حملے میں سفارتخانے کا سیکیورٹی گارڈ بھی زخمی ہوا ہے افغانستان میں عبوری حکومت فوری طور پر حملے کی جامع تحقیقات کرکے مجرموں کو گرفتار کر کے خلاف کارروائی کرے افغانستان میں پاکستانی سفارتی عملے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں

    کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر فائرنگ کی گئی ہے

    :افغان وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی کی پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک گفتگو ہ

  • سفارتخانے پر حملہ،قانونی کاروائی کی جائے گی،افغان وزیر خارجہ کی بلاول کو یقین دہانی

    سفارتخانے پر حملہ،قانونی کاروائی کی جائے گی،افغان وزیر خارجہ کی بلاول کو یقین دہانی

    کابل:افغان وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی کی پاکستانی ہم منصب بلاول بھٹو زرداری سے ٹیلی فونک گفتگو ہوئی ہے

    افغان وزیر خارجہ مولوی امیرخان متقی نے افغان سفیر پر حملے کی مذمت کی اور اطمینان دلایا کہ پاکستانی سفارت خانے اور عملے کی حفاظت پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ واقعہ میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرکے قانونی کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان کے وزیر خارجہ بلاول زرداری کا کہنا تھا کہ اس طرح کے واقعات دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو متاثر نہیں کرسکتے اور کسی کو بھی اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے اور ناظم الامور کو نشانہ بنانے کے حملے کی مذمت کی ہے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی مذمت کی ہے انہوں نے افغانستان میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہونے کی امید ظاہر کی اور کہا کہ یہ بات حوصلہ افزا ہے کہ پاکستانی ناظم الامور عبیدالرحمان نظامانی خیریت سے ہیں امید ہے کہ شدید زخمی سکیورٹی گارڈ جلد ٹھیک ہوجائے گا چاہتے ہیں افغانستان میں حالات بہتر ہوں اورامن قائم ہو

    علاوہ ازیں ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کابل میں واقع پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔ناصر کنعانی نے افغان بے گناہ عوام کے خلاف دہشتگردانہ حملے کے تسلسل پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے مسلسل دہشتگردانہ حملوں کا نتیجہ افغانستان میں بدامنی اور عدم استحکام ہے جو اس ملک کے عوام اور خطے کے مفادات کے منافی ہے ،پاکستان میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے بھی کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر ہونے والے حملے کی سخت مذمت کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    قبل ازیں سینیٹ میں چیف وہپ سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملے کی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر حملہ قابل مذمت ہے، کابل میں ہیڈ آف مشن پر بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کرتے ہیں،حملے کے دوران سکیورٹی گارڈ کی بہادری پر انہیں سلام پیش کرتے ہیں،حملے کے نتیجے میں زخمی ہونیوالے سکیورٹی گارڈ کی جلد صحتیابی کے لئے دعاگو ہیں، افغان حکومت سفارتخانے پر حملے کی فوری تحقیقات کرے، افغان حکومت بزدلانہ حملے میں ملوث عناصروں کا تعین کرکے قانون کے کٹہرے میں لائے،

    کابل میں پاکستانی سفارتخانے پرحملے کیخلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع
    علاوہ ازیں افغانستان میں پاکستانی ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی پر حملے کیخلاف مذمتی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی گئی،قرارداد مسلم لیگ (ن) کی رکن حناپرویز بٹ کی جانب سے جمع کرائی گئی، قرارداد کے متن میں کہا گیا کہ یہ ایوان افغانستان کے دارالحکومت کابل میں پاکستانی کے سفارت خانے پر حملے کی شدید مذمت کرتا ہے حملے میں پاکستانی ناظم الامور عبید الرحمٰن نظامانی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی دہشتگردی کے حملے میں سفارتخانے کا سیکیورٹی گارڈ بھی زخمی ہوا ہے افغانستان میں عبوری حکومت فوری طور پر حملے کی جامع تحقیقات کرکے مجرموں کو گرفتار کر کے خلاف کارروائی کرے افغانستان میں پاکستانی سفارتی عملے کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں

    کابل میں پاکستانی سفارتخانے پر فائرنگ کی گئی ہے