Baaghi TV

Tag: کابل

  • کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ

    کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ

    افغانستان کےدارالحکومت کابل میں روسی سفارتخانے کے قریب خودکش دھماکہ سے 20 افراد ہلاک ہو گئے۔

    اباغی ٹی وی : افغان میڈیا کے مطابق کابل خود کش دھماکے میں ہلاک ہونیوالوں میں 2 روسی سفارتکار بھی شامل ہیں، جبکہ زخمیوں کو مقامی اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے، خودکش حملہ آور کے قریب پہنچتے ہی سیکیورٹی گارڈ نے فائرنگ کردی تھی۔

    کینیڈا میں چاقو کے وار سے 10 افراد ہلاک اور 15 زخمی ہو گئے


    کابل میں سیکیورٹی ترجمان کے مطابق خودکش حملہ آور کو اصل ہدف تک پہنچنے سے پہلے ہی فورسز نے بروقت کاروائی کرتے ہوئے نشانہ بنایا۔

    افغان میڈیا کے مطابق سیکیورٹی گارڈز کی فائرنگ سے حملہ آور مارا گیا، علاقے کو سیل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئیں، پولیس اور سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری سفارتخانے پہنچ گئی ہے دھماکے میں کسی قسم کے جانی نقصان سے متعلق تفصیلات نہیں ملی ہیں۔

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن


    طالبان ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دھماکے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ آج سہ پہر کابل شہر کے 7 ویں ضلع سے متعلق علاقے میں، ایک یونٹ جو دھماکہ خیز مواد بھیجنا چاہتا تھا، سیکورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کر دیا واقعے کے مطابق ایک دھماکہ ہوا جس میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئےعلاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا ہے، اور تحقیقات جاری ہیں-


    انہوں نے مزید لکھا کہ آج سیکیورٹی فورسز نے ایک شخص کو گرفتار کیا جو کابل کے ساتویں ضلع میں دھماکہ خیز مواد منتقل کرنے کی کوشش کر رہا تھا حادثے کے دوران ایک دھماکہ ہوا اور میرے کئی ہم وطن شہید اور زخمی ہوئے۔

    واضح رہے کہ روس ان چند ممالک میں سے ایک ہے جنہوں نے طالبان کے ملک پر قبضے کے بعد کابل میں اپنا سفارت خانہ برقرار رکھا ہے روسی حکومت نے اگرچہ باضابطہ طور پر طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے تاہم اس کی پیٹرول اور دیگر اشیاء کی فراہمی کے معاہدے پر افغان حکام کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔


    قبل ازیں گزشتہ ماہ کے آخرمیں 31 اگست کو افغانستان کے دارالحکومت کابل میں دھماکے کے نتیجے میں 2 افراد ہلاک جبکہ 3 زخمی ہوئے تھے کابل میں ترجمان محکمہ سیکیورٹی کا کہنا تھا کہ دھماکا سرکوتل خیر خانه کے علاقے میں ہوا دھماکا اس وقت ہوا جب طالبان امریکی فوجی انخلا کا پہلا سال مکمل ہونے پر جشن منا رہے تھے۔

    امریکا میں منجمد اثاثے افغان عوام کی امانت ہیں اس پر نائن الیون کے متاثرین کا کوئی…

  • افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر شاندار جشن

    کابل: افغانستان سے امریکی قیادت میں غیر ملکی افواج کے انخلا کا ایک سال مکمل ہونے پر طالبان کی جانب سے جشن منایا جا رہا ہے-

    باغی ٹی وی : منگل کی شب کابل میں آسمان آتش بازی سے جگما اٹھا جس کی متعدد ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں دارالحکومت کابل کو رنگ برنگی لائٹوں سے روشن کیا گیا ہے جب کہ آج بدھ کو ملک بھر میں عام تعطیل ہے۔


    کابل میں تین سلطنتوں کے خلاف فتوحات کا جشن منانے کے بینرز آویزاں کیے گئے ہیں۔ ان سلطنتوں میں سابق سوویت یونین اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔

    سرکاری عمارتوں اور اسٹریٹ لائٹس پر طالبان کے سینکڑوں سفید پرچم لگائے گئے ہیں دارالحکومت کابل میں سابق امریکی سفارت خانے کے قریب مسعود اسکوائر پر طالبان سفید پرچم اٹھائے دکھائی دیئے جبکہ وہ شہر بھر میں گاڑیوں کے ہارن بجاتے ہوئے گشت کرتے رہے۔


    افغانستان سے غیر ملکی افواج کے مکمل انخلا کی خوشی میں بگرام ایئر بیس پر شاندار ملٹری پریڈ منعقد ہوئی، وزیراعظم محمد حسن اخوند مہمان خصوصی تھے، وزیر دفاع، وزیر خارجہ، وزیر داخلہ سمیت امارت اسلامیہ کی کابینہ اور اعلیٰ عسکری و سول حکام نے شرکت کی-


    طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے پیغام میں کہا کہ یوم آزادی کے موقع پر میں پوری قوم اور جہاد کے متاثرین کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔


    انہوں نے کہا کہ مجاہدین کو آگاہ ہونا چاہیے کہ جہاد کی تمنائیں رائیگاں نہیں جاتیں، قوم کو مت بھولیں، اللہ تعالی پر توجہ دیں، لوگوں کی تھکاوٹ پر غور کریں اور انہیں تنہا نہ چھوڑیں۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1564577635488899073?s=20&t=UTyvIQyhFBdJmL6CPtvsRg

    اس موقع پر افغانستان کی نگراں حکومت کا کہنا ہے کہ ملک سے امریکی افواج کے انخلا کی پہلی سالگرہ کے موقع پر دنیا افغانستان کے حوالے سے معقول پالیسی اپنائے گی اور اس کی علاقائی سالمیت کا احترام کرے گی۔


    واضح رہے کہ امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کا خاتمہ گزشتہ برس ہوا تھا اور 31 اگست کی آدھی رات غیر ملکی افواج کا انخلا مکمل ہوا تھا جس سے دو ہفتے قبل ہی طالبان نے افغانستان کا کنٹرول حاصل کرلیا تھا۔

    امریکہ نے اس 20 سالہ طویل جنگ کا آغاز 11 ستمبر 2001 میں نیویارک میں ہونے والےحملوں کے تناظر میں کیا تھا۔اس جنگ کے دوران لگ بھگ 66 ہزار افغان فوجی اور 48 ہزار شہری ہلاک ہوئے جبکہ امریکی سروس کے دو ہزار 461 اراکین بھی مارے گئےاس کے علاوہ دیگر نیٹو ممالک کے ساڑھے تین ہزار سے زائد فوجی بھی ہلاک ہوئے۔

    افغانستان میں طالبان کی حکومت کو اب تک کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا۔ طالبان کی حکومت پر عالمی دباؤ ہے کہ وہ انسانی حقوق خصوصاً خواتین کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائیں اور سخت قوانین میں نرمی لائیں۔

    افغانستان کے تقریباً تین کروڑ 80 لاکھ افراد بدترین انسانی بحران کا سامنا کر رہے ہیں۔ کیوںکہ ملک کے اربوں ڈالر کے اثاثے منجمد ہیں اور غیرملکی امداد ختم ہو رہی ہے۔

  • طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    طالبان حکومت کا ایک سال مکمل، افغانستان میں عام تعطیل

    آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے۔

    باغی ٹی وی : رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 20 سال بعد امریکا نے افغانستان چھوڑا، توطالبان نےافغانستان کا کنٹرول سنبھالا، آج افغانستان میں طالبان کے اقتدار کا ایک سال مکمل ہوگیا ہے-

    افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد مختلف دلچسپ ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل

    ایک سال پورا ہونے پر افغانستان نے پیر 15 اگست کو ملک بھر میں عام تعطیل کا اعلان کیا ہے، اس سلسلے میں افغان حکومت نے کہا ہے کہ ایک سال مکمل ہونے پر 15 اگست کو پورے افغانستان میں عام تعطیل ہوگی۔
    https://twitter.com/IslamicEmiirate/status/1558506768677842947?s=20&t=KJurlkQsxaEYJFVuIn86LQ
    حکام نے ابھی تک ایک سال مکمل ہونے کی سالگرہ کے موقع پر کسی سرکاری تقریبات کا اعلان نہیں کیا گیا، لیکن سرکاری ٹیلی ویژن کے مطابق ٹی وی پر خصوصی پروگرام نشر کیے جائیں گے-

    غیر ملکیوں کے انخلاء کیلئے طالبان اورقطرکے درمیان معاہدہ طے

    واضح رہے کہ طالبان نے گزشتہ برس 15 اگست کو افغانستان کے آخری معرکے کابل کو بھی فتح کرکے اپنی حکومت کے قیام کا اعلان کیا تھا اسی دن اُس وقت کے صدر اشرف غنی بغیر کسی کو بتائے ملک سے فرار ہوگئے تھے جب کہ افغان فوج نے معمولی سی بھی مزاحمت نہیں کی تھی پنجشیر میں تاحال طالبان مکمل طور پر اقتدار میں نہیں آسکے ہیں۔

    افغانستان میں طالبان امیر کی جانب سے نامزد کردہ عبوری کابینہ امور مملکت چلا رہی ہے اور تاحال خواتین کی ملازمتوں اور لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد ہے جب کہ ابھی تک کسی ملک نے طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    افغان طالبان کا ایک بار پھ منجمند اثاثے بحال کرنے کا مطالبہ

  • پاک افغان ٹرانزٹ ریل لنک پراجیکٹ:پشاور،کابل،ترمذ ازبکستان تک مشترکہ سروے مکمل

    پاک افغان ٹرانزٹ ریل لنک پراجیکٹ:پشاور،کابل،ترمذ ازبکستان تک مشترکہ سروے مکمل

    کابل:پاک افغان ٹرانزٹ ریل لنک پراجیکٹ:پشاور،کابل،ترمذ ازبکستان تک مشترکہ سروے مکمل،اطلاعات کے مطابق پاک افغان ٹرانزٹ ریل لنک پراجیکٹ میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔

    754 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک پشاور جلال آباد سے کابل، مزار شریف اور ترمذ تک جائے گا۔ 5 ارب ڈالر کے منصوبے کے لئے پشاور، کابل، ترمذ ازبکستان تک مشترکہ سروے مکمل کرلیا گیا۔

    افغان ٹرانزٹ ریل لنک معاہدہ کی تقریب،وزیراعظم نے کس ملک کے دورہ کا اعلان کر دیا؟

    مشترکہ سروے میں پاکستان ریلوے کی 3 رکنی ٹیم نے حصہ لیا جس میں چیف انجینئر قمرزمان ٹیم کے سربراہ،ڈپٹی چیف فرمان غنی اور معلم آفریدی شامل تھے۔

    افغان شہریوں کی واپسی کے لئے چمن، طورخم بارڈر کتنے روز کیلیے کھول دیا گیا؟

    سی ای او فرخ تیمور غلزئی کا کہنا ہے کہ پاکستان ریلوے کے لئے مشترکہ سروے کی تکمیل اہم سنگ میل ہے۔

    واضح رہے کہ گزشتہ مہینے پاکستان اور افغانستان کے درمیان افغان دارالحکومت کابل میں منعقدہ مذاکرات میں دو طرفہ تجارت بڑھانے، تاجروں کو ٹرانزٹ ٹریڈ میں درپیش مشکلات ختم کرنے سمیت بس سروس بھی بحال کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

    پاکستان چیمبر آف کامرس کے صدر کی رزاق داؤد سے ملاقات، پاک افغان بارڈر ٹریڈ

    اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ پشاور تا کابل اور کوئٹہ تا قندھار کے درمیان بس سروس شروع کرنے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بس سروس اس سال شروع کر دی جائے۔

    573 کلومیٹر طویل ریلوے لنک بچھایا جائے گا، اس ٹریک پر 27 سٹیشن، 912 مختلف النوع تعمیرات اور سات ٹنل تعمیر کیے جائیں گے۔

  • کابل میں لاپتہ پاکستانی صحافی انس ملک مل گئے، پاکستانی سفیرمنصور خان

    کابل میں لاپتہ پاکستانی صحافی انس ملک مل گئے، پاکستانی سفیرمنصور خان

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں پاکستان کے سفیر پاکستانی سفیرمنصور خان کا کہنا ہے کہ کابل میں لاپتہ پاکستانی صحافی انس ملک مل گئے ہیں

    پاکستانی سفیرمنصور خان کا کہنا تھا کہ میری انس ملک سے فون پر بات ہوئی اور وہ خیریت سے ہیں وہ کابل میں موجود ہیں

    انس ملک نے خود بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کی ہے اور کہا ہے کہ میں واپس آ گیا ہوں

    باغی ٹی وی نے انس ملک کی ہوٹل سے خصوصی تصویر حاصل کی ہے، یہ تصویر انس ملک کے ملنے کے بعد کی ہے، انس ملک ہوٹل پہنچ چکے ہیں جہاں وہ ٹھہرے ہوئے تھے

    anas malik

    پی ایف یو جے کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اللہ تعالی کا شکر ہے کہ انس ملک کے ساتھ رابطہ بحال ہو گیا ہے اور اب وہ اپنے ہوٹل کی طرف جا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ انس ملک افغانستان میں رپورٹنگ کیلئے گئے تھے اور گزشتہ رات سے لاپتہ تھے جس وجہ سے ان کے اہل خانہ اور پی ایف یو جے کے حلقوں میں شدید تشویش پائی جا رہی تھی۔

    قبل ازیں پاکستانی صحافی انس ملک کابل میں لاپتہ ہو گئے تھے انس ملک افغانستان میں رپورٹنگ کے لئے گئے تھے، انس ملک کا گھر والوں اور ادارے سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا،انس ملک گزشتہ روز کابل میں ہوٹل سے باہر گئے واپس نہیں لوٹے تھے صحافی اور رکن نیشنل پریس کلب انس ملک بدھ کے روز کابل پہنچے تھے،لاپتہ صحافی امارات اسلامی افغانستان کی حکومت کا سال مکمل ہونے کے موقع پر کوریج کے لئے گئے تھے،انس ملک مقامی ٹی وی کے علاوہ بین الاقوامی میڈیا کے ساتھ بھی منسلک تھے،صحافی انس ملک بھارتی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

    وزیرخارجہ بلاول بھٹونے صحافی کے لاپتہ ہونے کا نوٹس لیا تھا ،ترجمان دفترخارجہ کے مطابق کابل میں پاکستانی سفیر نے معاملہ افغان حکام کےساتھ اٹھایا ہے افغان ناظم الامورکو دفترخارجہ طلب کیا گیا ہے انس ملک کی جلد بازیابی کا مطالبہ کیا ہے ، ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ امید ہے جلد انس ملک سے رابطہ ہوجائیگا

    انس ملک کے لاپتہ ہونے پر آصف بشیر چودھری نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد میں انٹرنیشنل میڈیا سے وابسطہ ہمارے دوست انس ملک کل سے کابل سے لاپتہ ہیں ان کا نمبر بند جا رہا ہے کوئی رابطہ نہیں انس ایمن الظواہری کے لیے امریکی آپریشن کے بعد سے کابل سے رپورٹنگ کر رہے تھے اور جمعرات سہہ پہر آخری بار دوستوں سے فون پر بات ہوئی تھی_

    کامیاب تحریک عدم اعتماد،محسن بیگ،پاکستانی صحافت اور ہمارا پوری دنیا میں نمبر

    ویڈیو برآمد کروانی ہے، پولیس نے محسن بیگ کا مزید ریمانڈ مانگ لیا

    33 برس پرانا مقدمہ کیسے ختم ہوا؟محسن بیگ کیخلاف ایک اورمقدمے کی تحقیقات کا فیصلہ

    مطمئن کریں ہتک عزت کا فوجداری قانون آئین سے متصادم نہیں،محسن بیگ کیس،حکمنامہ جاری

    کیا آپکے پاس عمران خان کی کوئی "ویڈیو” ہے؟ محسن بیگ سے صحافی کا سوال

    محسن بیگ کی ایک مقدمے میں ضمانت منظور

    محسن بیگ نے دہشتگردی کے مقدمے میں ضمانت کیلیے ٹرائل کورٹ سے رجوع کرلیا

     

  • پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا

    اسلام آباد:پاکستان اور افغانستان کے مابین تجارتی معاہدہ طئے پاگیا،اطلاعات کے مطابق پاکستان اور افغانستان ن کے مابین دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے۔

     

    Tag

    عالمی منڈی میں فرنس آئل مہنگا ہونے کے تناظر میں پاکستان اور افغانستان نے دوطرفہ تجارت خاص طور پر کوئلے کی تجارت کے لیے معاہدہ کیا ہے۔دوطرفہ معاہدے کا مقصد پاکستان میں بجلی کی کمی کے پیش نظر پیداوار کے لیے مہنگے فرنس آئل کے استعمال کے بجائے نسبتا سستے کوئلے کا حصول ہے۔

     

     

    اس معاہدے سے قبل ہی بلوچستان میں چمن بارڈر اسٹیشن کے ذریعے بجلی کی پیداوار کے لیے کم مقدار میں کوئلہ درآمد کیا جا رہا ہے جب کہ نئے معاہدے کے تحت خیبرپختونخوا میں خرلاچی اور غلام خان کے کسٹم اسٹیشنز سے بھی کوئلے کی درآمد شروع ہوجائے گی۔

     

     

    درآمد شدہ کوئلہ دو پلانٹس حبکو اور ساہیوال پلانٹس میں بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے گا. سرکاری ذرائع کے مطابق کوئلے کی درآمد سے پاکستان کی توانائی کی کمی کا مسئلہ کافی حد تک حل ہونے کی توقع ہے۔

    اگست 2021 میں طالبان کے کابل پر کنٹرول کے بعد سے پاکستان افغانستان سے اشیا درآمد کرنے والا بڑا ملک بن چکا ہے، اس عرصے کے دوران بینکنگ چینلز کے ذریعے قابل تجارت کرنسی کی عدم دستیابی کی وجہ سے افغانستان کو پاکستان کی برآمدات میں کافی کمی دیکھی گئی۔

    واضح رہے کہ یہ فیصلے پاکستان کے تجارتی وفد کے کابل کے 18 جولائی سے 20 جولائی تک ہونے والے 3 روزہ دورے کے دوران ہوئے۔

  • برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا

    لندن:برطانوی فوجیوں کیطرف سے 54 بے گناہ افغانیوں کے قتل عام کا معاملہ دبا دیا گیا ،بی بی سی کی ایک تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ برطانیہ کی ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کور کے کمانڈوز نے افغانستان میں دوران قیام کم از کم 54 افغان شہریوں کو ہلاک کیا لیکن اعلیٰ فوجی حکام نے اس سے آگاہ ہونے کے باوجود کارروائی کرنے سے انکار کردیا۔

    افغآنستان میں افغآنیوں کے قتل عام کے حوالے سے چار سالہ تحقیقات کی رپورٹ جو منگل کو شائع ہوئی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں اپنی تعیناتی کے دوران، غیر مسلح افغان مردوں کو معمول کے مطابق برطانوی فوجیوں نے رات کے وقت چھاپوں کے دوران گولی مار کر ہلاک کیا،

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایسے ہی ایک واقعے میں افغان شہریوں کوایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) یونٹ نے نومبر 2010 سے مئی 2011 تک جنوبی صوبہ ہلمند کے چھ ماہ کے دورے کے دوران گولی مار دی تھی۔

    رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ جنرل مارک کارلٹن سمتھ سمیت سینئر افسران، جو اس وقت یو کے اسپیشل فورسز کے سربراہ تھے،جرائم سے آگاہ تھے لیکن انہوں نے ملٹری پولیس کو رپورٹ نہیں کی۔

    یاد رہے کہ مسلح افواج پر حکمرانی کرنے والے برطانوی قانون کے مطابق ممکنہ جنگی جرائم سے آگاہ ہونا اور ملٹری پولیس کو اطلاع نہ دینا جرم ہے۔

    بی بی سی کا کہنا ہے کہ "رات کے چھاپوں میں بہت سارے لوگ مارے جا رہے تھے ۔ ایک بار جب کسی کو حراست میں لے لیا جاتا ہے،تواسے اس وقت تک نہیں چھوڑا جاتا تھا جب تک کہ اس کی جان نہ لے لی جاتی

    "اس کا بار بار ہونا ہیڈکوارٹر میں خطرے کی گھنٹی کا باعث بن رہا تھا۔ اس وقت یہ واضح تھا کہ کچھ غلط تھا۔بی بی سی کے پروگرام ’پینوراما‘، جس نے رپورٹ شائع کی، کہا کہ یہ تحقیقات عدالتی دستاویزات، لیک ای میلز اور جنگ زدہ ملک میں کارروائیوں کی جگہوں پر اس کے اپنے صحافیوں کے سفر پر مبنی تھی۔

    برطانیہ کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایجنسی نے کافی ثبوت پیش نہیں کیے ہیں۔

    گروپ کی طرف سے کیے گئے جرائم کو نظر انداز کرتے ہوئے، بیان میں ایلیٹ اسپیشل ایئر سروس (ایس اے ایس) کی تعریف کی گئی اور کہا گیا کہ برطانیہ کی مسلح افواج نے "افغانستان میں جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کے ساتھ خدمات انجام دیں اور ہم انہیں ہمیشہ اعلیٰ ترین معیارات پر قائم رکھیں گے۔”

    برطانوی لڑاکا فوجیوں نے 2014 میں افغانستان سے امریکہ کی قیادت میں نیٹو اتحاد کے ایک حصے کے طور پر ملک پر حملہ کرنے کے تقریباً 13 سال بعد انخلا کیا۔پچھلے سال اگست میں، طالبان کے ڈرامائی قبضے کے بعد باقی تمام برطانوی فوجی ملک چھوڑ گئے تھے۔

    مئی میں جاری ہونے والی فوجی انخلاء کے بارے میں ایک پارلیمانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان سے برطانوی انخلاء ایک "تباہی” اور ملک میں اپنے شراکت داروں کے ساتھ "خیانت” تھا جس کی وجہ انٹیلی جنس، سفارت کاری، منصوبہ بندی اور تیاری کی نظامی ناکامی تھی۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ "حقیقت یہ ہے کہ دفتر خارجہ کے سینئر رہنما چھٹی پر تھے جب کابل گرا، قومی ہنگامی صورتحال کے وقت سنجیدگی، گرفت یا قیادت کی بنیادی کمی کی نشاندہی کرتا ہے۔”

  • امریکہ و افغانستان کے مابین دفاعی رابطوں کا باضابطہ خاتمہ

    امریکہ و افغانستان کے مابین دفاعی رابطوں کا باضابطہ خاتمہ

    کابل:امریکی صدر جو بائیڈن نے افغانستان سے نان نیٹو اتحادی کا اسٹیٹس واپس لے لیا ہے۔ جس کے بعد امریکہ کے افغانستان کے ساتھ تقریباً بیس سال پر محیط فوجی اور سیکیورٹی رابطوں کا باضابطہ طور پر خاتمہ ہو گیا ہے۔

    نجی اخبار کی رپورٹ کے مطابق صدر جو بائیڈن نے رواں ہفتے کے اوائل میں کانگریس کو ارسال کردہ ایک خط میں لکھا ہے کہ 1961 کے فارن اسسٹنس ایکٹ کی سیکشن 517 کے مطابق میں افغانستان کی ایک بڑے نان نیٹو اتحادی کی حیثیت منسوخ کرنے کے اپنے نوٹس فراہم کر رہا ہوں۔

    امریکہ کے دیگر بڑے نان نیٹو اتحادیوں میں ارجنٹائن، آسٹریلیا، بحرین، برازیل، کولمبیا، مصر، اسرائیل، جاپان، اردن، کویت، مراکش، نیوزی لینڈ، فلپائن، قطر، جنوبی کوریا، تھائی لینڈ اور تیونس شامل ہیں۔

    ایک بڑے نان نیٹو اتحادی کے طور پر افغانستان بھی فوجی تربیت اور امداد حاصل کرنے بشمول نیٹو افواج کے ملک چھوڑنے کے بعد بھی فوجی ساز و سامان کی فروخت اور لیز پر دینے کا عمل تیز کرنے کا اہل تھا ۔تاہم، اب بھی دنیا بھر میں امریکہ کے ایسے 18 اتحادی ممالک ہیں جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

    یاد رہے، اگست 2021 میں، بائیڈن انتظامیہ نے افغانستان سے تمام امریکی فوجیوں کو واپس بلا لیا تھا جس سے تقریباً بیس سال سے جاری جنگ کا خاتمہ ہوگیا تھا۔ اس کے بعد سے امریکہ نے افغانستان کے ساتھ اپنے رابطوں کو بتدریج کم کر دیا ہے۔ فی الحال امریکہ اور افغانستان کےمابین واحد حل طلب مسئلہ امریکی سینٹرل بینک کی جانب سے منجمد کیے گئے سات ارب ڈالر مالیت کے افغان اثاثہ جات کا ہے۔

  • بہت جلد افغانستان کے ایئرپورٹس کاانتظام عرب امارات سنبھال لے گا:افغان طالبان

    بہت جلد افغانستان کے ایئرپورٹس کاانتظام عرب امارات سنبھال لے گا:افغان طالبان

    کابل :افغانستان کے ایئرپورٹس کاانتظام وانتصرام کی ذمہ داری عرب امارات سنبھالیں گے:اطلاعات کے مطابق افغانستان کے ایئرپورٹس چلانے کیلیےمتحدہ عرب امارات سے جاری بات چیت حتمی نتیجے پرپہنچ چکی ہیے اوراس حوالے سے معاہدہ بھی ہوگیا ہے تاہم معاہدے کی تفصیلات ابھی جاری نہیں کی گئیں

     

     

    اس حوالے سے یہ بھی واضح کیا جاچکا ہے کہ عرب امارات بہت جلد کابل ایئرپورٹ کاانتظام اپنے قبضے میں کرلے گا

     

    اس حوالے سے افغآن طالبان حکومت نے افغانستان کے تمام ایئرپورٹس کو آپریشنل کرنے کے لیے متحدہ عرب امارات سے معاہدوں کو حتمی شکل دے دی ہے اوراگلے چند دنوں تک افغآنستان کے ایئرپورٹس کا انتظام عرب امارات کے سپرد کردیا جائے گا

    یاد رہے کہ اس سے پہلے طالبان حکومت نے گزشتہ برس اگست کے وسط میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ملک کے ایئرپورٹس کو آپریشنل کرنے کے لیے قطر، ترکی اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بات چیت جاری رکھی ہوئی تھی۔

    تاہم اب طالبان حکومت کی طرف سے اس حوالے سے تصدیق کی جاچکی ہے کہ یہ معاہدہ طئے پا گیا ہے اور یہ کہ جلد ہی ملکی ایئرپورٹ کی بحالی کے لیے متحدہ عرب امارات ایئرپورٹ کے زمینی انتظامات دیکھے گا۔

    افغانستان میں ایئرپورٹس پر متحدہ عرب امارات عملے کی سیکیورٹی کس کے پاس ہوگی یہ ابھی واضح نہیں ہے ، کیوں کہ طالبان ہوائی اڈے کی سیکیورٹی کے لیے کافی حساس ہیں۔

    متحدہ عرب امارات کی جانب سے بھی اس معاہدے کے متعلق تصدیق کی جارہی ہے کہ بہت جلد عرب امارات افغانستان کے ایئرپورٹس کا انتظام سنبھال لے گا

    یاد رہے کہ قطر اور ترکی کی جانب سے افغانستان کے ایئرپورٹس کی بحالی کی کے لیے ٹیکنیکل معاونت کے لیے ٹیمیں بھی بھیجی تھیں۔

     

    یہ بھی یاد رہے کہ اس سے پہلے متحدہ عرب امارات نے افغانستان کے نئے حکمرانوں پر اثر و رسوخ کی سفارتی جنگ میں قطر کے خلاف جاتے ہوئے کابل ایئرپورٹ کا انتظام چلانے کے لیے طالبان سے بات چیت کی۔

     

    ذرائع کے مطابق خلیجی ملک میں موجود ایک مغربی سفارتکار نے بتایا کہ یو اے ای حکام نے ایئرپورٹ کو آپریٹ کرنے کے حوالے سے حالیہ ہفتوں میں طالبان عہدیداروں کے ساتھ سلسلہ وار ملاقاتیں کیں۔

    یہ مذاکرات ظاہر کرتے ہیں کہ ممالک کس طرح طالبان کے زیر اقتدار افغانستان میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کررہے ہیں حالانکہ شدت پسند اسلامی گروہ بڑی حد تک الگ تھلگ ہی ہے اور اب تک اسے کسی ملک کی حکومت نے تسلیم نہیں کیا۔

  • کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    کابل:طالبان نے اپنی حکومت کو تسلیم کرنے کا مطالبہ دہرایا

    کابل :طالبان حکام نے علما کے اجتماع میں دنیا کے دیگر ممالک سے اپنی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا لیکن لڑکیوں کے اسکول کھولنے جیسے مطالبات پورے کرنے کے بارے میں کوئی عندیہ نہیں دیا۔

    رائٹرز کے مطابق افغانستان میں طالبان حکام اور علماء، عمائدین اور قومی سرکردہ شخصیتوں کے اجتماع کے بعد جاری اعلامیے میں کہا کہ ہم علاقائی، بین الاقوامی اور خاص طور پر اسلامی ممالک سے کہتے ہیں کہ وہ ‘امارت اسلامی افغانستان’ کو تسلیم کرکے تمام پابندیاں ختم اور مرکزی بینک کے منجمد اثاثے جاری کریں اور افغانستان کی ترقی میں مدد کریں۔ امارات اسلامی افغانستان سے موسوم طالبان حکومت کو اب تک باضابطہ طور پر کسی بھی ملک نے تسلیم نہیں کیا ہے۔

    طالبان اپنے اعلان سے پیچھے ہٹ گئے ہیں جس میں انہوں نے کہا کیا تھا کہ تمام اسکول مارچ میں کھل جائیں گے، جس کے بعد ہائی اسکولوں کی کافی لڑکیوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے جبکہ اس فیصلے کو مغربی ممالک نے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    طالبان کے سربراہ ہیبت اللہ اخوندزادہ جو عام طور پر قندھار میں رہتے ہیں اور عوامی مقامات پر کم ہی نظر آتے ہیں تاہم وہ کابل میں منعقدہ اس اجتماع میں شریک ہوئے اور کہا کہ غیرملکیوں کو احکامات نہیں دینا چاہئیں۔

    واضح رہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے فنڈنگ روکنے اور سخت پابندیوں کے نفاذ سے افغانستان کی معیشت بحران کا شکار ہے، ان ممالک کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو انسانی حقوق، خاص طور پر خواتین کے حقوق کے بارے میں اپنی پالیسیوں کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی تمام اقوام می شرکت سے جامع اور وسیع البنیاد حکومت کا قیام ایک لازمی امر ہے۔
    حادثے میں تین افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زخمی ہونے والوں میں پائلٹ سمیت سات افراد شامل ہیں۔اطلاعات کے مطابق افغانستان کے صوبے جوزجان میں طالبان کا ہیلی کاپٹر گر کر تباہ ہو گیا، حادثے میں تین افراد جاں بحق، سات زخمی ہو گئے۔

    غیرملکی میڈیا کے مطابق طالبان نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ جمعرات کی شام کو ہیلی کاپٹر جس میں دس افراد سوار تھے، تکنیکی خرابی کے باعث جوزجان کے مرکز شبرغان شہر میں گر کر تباہ ہو گیا۔