Baaghi TV

Tag: کابل

  • طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    طالبان حکومت کا 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان

    کابل:طالبان حکومت نے 2 فروری سے تمام یونیورسٹیز کھولنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان حکومت کے وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن شیخ عبدالباقی حقانی نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ ملک بھر کی اگست سے بند جامعات کو فوری طور پر کھولنے کا فیصلہ کرلیا ہے2 فروری سےتمام جامعات کھول دی جائیں گی تاہم سرد علاقوں کی یونیورسٹیز میں تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز 26 فروری سے ہوگا۔

    شیخ عبدالباقی نے مزید بتایا کہ گرم علاقوں میں یونیورسٹیز 2 فروری سے کھل جائیں گی البتہ سرد علاقوں میں موسم کی سختیوں کے باعث تدریسی عمل کا آغاز 26 فروری سے ہوگا تاہم وزیر برائے ہائیر ایجوکیشن نے یہ واضح نہیں کیا کہ جامعات میں طالبات کے لیے کیا پالیسی رکھی گئی ہے۔

    امارات اسلامیہ افغانستان میں امریکی شہری دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے

    قبل ازیں طالبان حکام اس بات پر زور دیتے آئے ہیں کہ جامعات کے نہ کھلنے کی وجہ طالبات کے لیے اساتذہ اور علیحدہ کلاسوں کا انتظام نہ ہونا ہے ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے 15 جنوری کو میڈیا سے گفتگو میں کہا تھا کہ لڑکیوں کے لیے تعلیمی ادارے افغانستان کے نئے سال سے کھول دیئے جائیں گے-

    طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے کہا تھا کہ رواں برس مارچ سے ملک بھر میں لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے لڑکیوں کے اسکول کھولنے کے انتظامات آخری مراحل میں داخل ہوگئے ہیں افغان سال نو 21 مارچ کو ہوتا ہے رواں برس نئے سال کی شروعات سےلڑکیوں اور خواتین کےلیے اسکول کالجز کھول دیئے جائیں گے تاہم مخلوط تعلیم کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی ہم لڑکیوں کی تعلیم کے خلاف نہیں تاہم مخلوط نظام تعلیم کے خاتمے اور علیحدہ عمارتوں کے انتظامات سمیت نصاب میں تبدیلی کے باعث لڑکیوں کے اسکول کھولنے میں کچھ وقت لگا۔

    رواں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    واضح رہے کہ افغانستان عالمی قوتوں نے افغان فنڈز کی بحالی کو لڑکیوں کی تعلیم اور خواتین کی ملازمتوں پر واپسی سے مشروط کیا ہے گزشتہ برس اکتوبر میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے خواتین کو حکومت میں شامل کرنے اور لڑکیوں کی تعلیم سے متعلق کیے گئے وعدوں کو پورا نہ کرنے پر طالبان حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاتھا اقوام متحدہ کےجنرل سیکرٹری انتونیو گوتریس نےمیڈیا سے گفتگو میں طالبان حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ میں خاص طور پر افغان خواتین اور لڑکیوں سے متعلق کیے گئے وعدے پورا ہوتے نہ دیکھ کر گھبرا گیا ہوں۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے طالبان سے خواتین اور لڑکیوں سے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عالمی انسانی حقوق اور قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور جب تک وعدے پورے نہیں ہوتے طالبان سے مطالبے جاری رکھیں گے۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

  • مشیر قومی سلامتی معید یوسف کابل میں اہم ملاقاتوں میں مصروف:افغان نائب وزیراعظم سے اہم بات چیت

    مشیر قومی سلامتی معید یوسف کابل میں اہم ملاقاتوں میں مصروف:افغان نائب وزیراعظم سے اہم بات چیت

    کابل:مشیر قومی سلامتی معید یوسف کابل میں اہم ملاقاتوں میں مصروف:افغان نائب وزیراعظم سے ملاقات اطلاعات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے قومی سلامتی معید یوسف کی افغانستان کے نائب وزیراعظم سے ملاقات ہوئی ہے۔

    قومی سلامتی مشیر معید یوسف افغانستان میں موجود ہیں جہاں پر نائب وزیراعظم عبدالسلام حنفی سے ملاقات کی ہے، ملاقات کے دوران افغان چیمبر آف کامرس کے اراکین بھی موجود تھے۔

    افغان نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان برادر ملک ہیں جن کے تاریخی مذہبی اور ثقافتی تعلقات ہیں، پاکستان کے ساتھ باہمی احترام پر مشتمل بہتر تعلقات کے خواہاں ہیں۔ افغان سرزمین کو کسی ہمسایہ ملک کے خلا ف استعمال کی اجازت نہیں دیں گے۔

    اس موقع پر معید یوسف نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی حمایت جاری رکھے گا، گہرے معاشی تعلقات کے بغیر امن و استحکام ممکن نہیں ہے، پاکستان علاقائی پراجیکٹس پر عمل درآمد کے لئے پر عز م ہے۔

    یاد رہے کہ مشیر قومی سلامتی معید یوسف جب کابل پہنچے تو افغانستان میں پاکستان کے سفیرنے ان کا استقبال کیا اور ان کے ساتھ کابل میں‌ افغآن حکام کے ساتھ ملاقات میں شریک ہوئے

  • یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    یورپی یونین کا افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان

    یورپی یونین نے محدود عملے کے ساتھ افغانستان میں سفارتخانہ کھولنے کا اعلان کیا ہے-

    باغی ٹی وی : ترجمان یورپی یونین پیٹر اسٹانو کے مطابق افغانستان میں انسانی بنیادوں پر امداد کیلئے سفارتخانہ کھول رہے ہیں،یورپی یونین افغانستان کو اس وقت انسانی بحران کا سامنا ہے-

    ترجمان یورپی یونین پیٹر اسٹانو کا کہنا تھا کہ امداد کی فراہمی کیلئے کابل میں محدود ترین سطح پر موجودگی یقینی بنانے کا فیصلہ کیا ہے تاہم طالبان حکومت کو یورپی یونین نے تسلیم نہیں کیا ہے-

    افغانستان میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے طالبان کمانڈرسمیت 6 افراد ہلاک

    دوسری جانب انسانی حقوق پرطالبان اورمغربی ممالک کے درمیان اجلاس آئندہ ہفتے ناروے میں ہوگا غیرملکی خبرایجنسی کے مطابق ناروے کے وزارت خارجہ کے مطابق طالبان وفدانسانی حقوق پرمذاکرات کے لئے آئندہ اوسلو آئے گا۔

    انسانی حقوق کی صورتحال پرطالبان کے ساتھ امریکا، برطانیہ، فرانس ،اٹلی اوریورپی یونین کے نمائندوں کے مذاکرات متوقع ہیں۔

    ناوے کی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ طالبان وفد کی ناروے آمد کا مقصد یہ نہیں کہ طالبان کوتسلیم کرلیا گیا ہے لیکن جو لوگ ایک ملک چلا رہے ہیں ان سے مذاکرات ہونے چاہئیں۔

    کے 8 مزاحمتی جنگجو ہلاک

    واضح رہے کہ حال ہی میں افغانستان کے وزیراعظم مولوی محمد حسن اخوند نے تمام حکومتوں بالخصوص مسلم ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ طالبان کی حکومت کو تسلیم کریں افغانستان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد مقرر کردہ نگراں وزیر اعظم ملا حسن اخوندزادہ نے عہدے سنبھالنے کے 4 ماہ بعد حال ہی میں پہلی پریس کانفرنس کی اس اہم پریس کانفرنس میں وزیراعظم ملا حسن اخوند زادہ کے ہمراہ افغانستان میں اقوام متحدہ کے پروجیکٹس کے انتظامی امور کی نگرانی کرنے والے ارکان بھی موجود تھے۔

    امریکی صدرکے افغانستان میں ناکامی اور انخلا بیان پر طالبان کا ردعمل

    وزیراعظم ملا محمد حسن اخوند نے کابل میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ممالک سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہماری حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے میں پہل کریں، اس افغانستان کو تیزی سے ترقی کرنے میں مدد ملے گی ایسا ہم اپنی سیاست کے لیے نہیں بلکہ افغان عوام کے لیے چاہتے ہیں-

    اسلامی ممالک ہماری حکومت کو تسلیم کریں، طالبان

  • منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    منشیات کےعادی افراد طالبان کے لئے بڑا چیلنج بن گئے

    کابل:منشیات کے عادی افراد طالبان کے لئے ایک بڑا چیلنج بن گئے ہیں۔

    باغی ٹی وی : عرب میڈیا "الجزیرہ” کے مطابق منشیات کے عادی بے گھر افغان منشیات لینے کے لیے پلوں کے نیچے جمع ہوتے ہیں اور طالبان اکثر انہیں پکڑتے اور مار تے پیٹتے ہوئے زبردستی علاج کے مراکز میں لے جاتے ہیں تاکہ سخت سردی کے باعث جانی نقصان سے بچایا جا سکے۔

    طالبان نے غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث سینکڑوں ارکان کو برطرف کردیا

    رپورٹ کے مطابق دارالحکومت کابل کے بحالی مرکز میں تقریباً 350 افراد پر مشتمل عملہ ہے اور یہ تقریباً ایک ہزارمریضوں کی دیکھ بھال کررہا ہے جبکہ نئے مریضوں کی آمد کے بعد وسائل محدود ہوگئے ہیں اس کے باوجود طالبان تقریباً 3 ہزار 500 منشیات کے عادی افراد کو بھی اسی بحالی مرکز میں لے آئے ہیں گنتی کے چند بحالی مراکز دوسرے شہروں میں بھی نجی خیراتی ادارے کے تعاون سے چلا رہے ہیں۔

    واں برس مارچ سے لڑکیوں کے تمام اسکول کھول دیئے جائیں گے،ذبیح اللہ مجاہد

    افغانستان ان چند ایک ممالک کے فہرست میں شامل ہے جہاں ہیروئن اور میتھم فیٹامین کی بڑی مقدار موجود ہے، اس میں زیادہ تر دنیا کی بلیک مارکیٹوں میں برآمد کی جاتی ہے۔

    ایک ہسپتال کے سربراہ احمد ظاہر سلطانی منشیات کے عادی افراد کے علاج کے بارے میں بات کرتے ہوئے بتایا کہ طالبان نے دارالحکومت کے مختلف علاقوں سے منشیات کے عادی افراد کو گرفتار کیا اور انہیں کابل میں منشیات کے بحالی سینٹر میں ڈال دیا گیا۔

    طالبان کا تعلیم کے حقوق کا مطالبہ کرنے والی خواتین پرکالی مرچ کا اسپرے

    واضح رہے کہ اس سے قبل شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے طالبان حکومت نے ایسے 2 ہزار 840 ارکان کو برطرف کردیا ہے جو اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث امارت اسلامیہ کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے طالبان حکومت کے وزیر لطیف اللہ حکیمی نے عالمی میڈیا کو بتایا کہ عوامی شکایات اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونےوالی معلومات کےبعد ان ارکان کےخلاف شفاف جانچ پڑتال کی گئی مکمل تحقیقات کےبعد 2 ہزار 480 ارکان کوبرطرف کیا گیا یہ لوگ کرپشن، منشیات کی اسمگلنگ اور لوگوں کی نجی زندگیوں میں مد اخلت کرنے میں ملوث تھے اور بعض داعش کے ساتھ بھی منسلک تھے۔

    لطیف اللہ حکیمی نے مزید بتایا تھا کہ یہ افراد اپنی غیر قانونی سرگرمیوں کے باعث اماراتِ اسلامی کی بدنامی کا باعث بن رہے تھے تنظیم میں تطہیر کا عمل جارہے گا تاکہ مستقبل میں ایک شفاف عوام دوست پولیس اور فوج بنائی جاسکے۔

    سیکیورٹی کیوں نہیں دی،شہزادہ ہیری برطانوی حکومت کیخلاف عدالت پہنچ گئے

  • افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان حکومت

    افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:افغان حکومت

    کابل: افغانستان میں سخت انسانی بحران ہے:امریکا افغان اثاثوں کی بحالی پرعمل کرے:اطلاعات کے مطابق طالبان حکومت نے جوبائیڈن انتظامیہ پر زور دیا ہے کہ اقوام متحدہ کے سربراہ کے انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے امریکا میں منجمد افغان فنڈز کی فوری بحالی کے مطالبے پر توجہ دے۔

    عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ترجمان طالبان اور نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے مطالبے کو پورا کرتے ہوئے امریکا انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے منجمد افغان فنڈز کو فوری طور پر بحال کرے۔

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ذبیح اللہ مجاہد نے مزید لکھا کہ امریکا کو عالمی آواز کا مثبت جواب دینا چاہیے اور افغانستان کے فنڈز جاری کردینے چاہیئے تاکہ انسانی بحران کے شکار ملک اپنے عوام کو سہولیات اور آسانی فراہم کرسکے۔

    ترجمان طالبان کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں رونما ہونے والے ڈراؤنے خواب کو روکنے کے لیے منجمد فنڈز بحالی میں پہل کرے۔

    گزشتہ برس اگست میں طالبان نے افغانستان کا اقتدار سنبھالا تھا جس کے بعد امریکا نے افغان مرکزی بینک کے تقریباً 9 ارب 50 کروڑ ڈالر کے اثاثے منجمد کردیئے جب کہ کئی مغربی ممالک، آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک نے بھی فنڈز اور ترقیاتی سرگرمیاں معطل کر دیں۔

    عالمی فنڈز منجمد ہونے اور معاشی سرگرمیاں نہ ہونے کے باعث افغانستان میں بھوک و افلاس نے ڈیرے ڈال دیئے ہیں۔ غربت، مہنگائی اور بیروزگاری جیسے عفریت پر قابو پانے کے لیے فنڈز کی ضرورت ہے جس کے لیے طالبان حکومت اور اقوام متحدہ کئی بار عالمی برادری کو خبردار کرچکے ہیں۔

  • بڑی حیرانی کی بات ہےکہ کابل کےبازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کےپاس خریدنےکےپیسے نہیں،اقوام متحدہ

    بڑی حیرانی کی بات ہےکہ کابل کےبازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کےپاس خریدنےکےپیسے نہیں،اقوام متحدہ

    بڑی حیرانی کی بات ہے کہ کابل کے بازاروں میں خوراک بہت لیکن لوگوں کے پاس خریدنے کے پیسے نہیں، اقوام متحدہ نے یہ بات بتا کرساتھ ہی افغانستان میں انسانی بحران سے بچنےکیلئےامدادکی اپیل کردی ۔

    افغانستان میں سخت سردی کے آغاز کے ساتھ ہی انسانی بحران تیزی سے بڑھ رہا ہے ،طالبان کے اقتدار پر قبضے اور بین الاقوامی پابندیوں کے بعد سے ملک کی معیشت بیٹھ گئی ہے۔

    برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق خراب معیشت کے باعث افغانستان میں بے روزگاری میں اضافہ ہوگیاجبکہ تقریباً 10 لاکھ بچے شدید غذائی قلت کے خطرے سے دوچار ہیں۔

    دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں انسانی بحران سے بچنے کیلئے رواں سال 5 بلین ڈالرز امداد کی ضرورت ہے جبکہ افغانستان کے پڑوسی ممالک میں مقیم 5.7 ملین افغان مہاجرین کی مدد کیلئے 623 ملین ڈالرز درکار ہیں۔

    اقوام متحدہ کے ایڈ چیف مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ افغانستان پر مکمل انسانی بحران منڈلا رہاہے،افغان عوام پر امداد کے دروازے بند نہ کریں، افغانستان میں بڑے پیمانے پر پھیلنے والی بھوک، بیماری، غذائی قلت اور اموات کو روکنے میں اقوام متحدہ مدد کریں۔

    مارٹن گریفتھس کا کہنا ہے کہ افغانستان میں امدادی پیکج کےبغیر کوئی مستقبل نہیں ہوگا۔

    ادھر ذرائع کے مطابق امریکہ نے بھی افغانستان کے لیے ہنگامی امداد کا اعلان کیا ہے اورکہا ہے کہ امریکہ افغان عوام کی مشکلات کم کرنے کی بھرپورکوششیں جاری رکھے گا ،

  • افغانستان کی فوج میں خودکش حملہ آوروں کی بھرتی:دنیا پرخوف طاری:بھارتی میڈیا بھی چلانے لگا

    افغانستان کی فوج میں خودکش حملہ آوروں کی بھرتی:دنیا پرخوف طاری:بھارتی میڈیا بھی چلانے لگا

    کابل:افغانستان کی فوج میں خودکش حملہ آوروں کی بھرتی:دنیا پرخوف طاری:بھارتی میڈیا بھی چلانے لگا،اطلاعات کے مطابق بھارتی فوجی کے حوالے سے بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے دنیا کی خطرناک ترین فوج بنانے پرکام شروع کردیا ہے ،

    ادھر بھارتی میڈیا نے یہ بھی دعویٰ‌ کیا ہے کہ اس حوالے سے افغان حکومت کے ذمہ داران کےبیان سے اس چیز کے اشارے ملتے ہیں‌، ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ، افغانستان کی فوج میں ضرورت کی بنیاد پر خواتین کی بھرتی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان آرمی کے سابق ماہرین بھی مستقبل کی فوج کا حصہ ہوں گے۔

    انڈین ڈیفنس ریسرچ نے واویلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغانستان (Afghanistan) میں طالبان (Taliban) فوج خودکش بمبار دستہ تیار کررہا ہے۔ اس کے لئے خودکش بمباروں (suicide Bomber) کی بھرتی کی جارہی ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کو کہا ہے کہ سوسائیڈ بامبر سے لیس یہ اسپیشل بٹالین مستقبل میں افغانستان آرمی کا حصہ ہوگی۔

    خاما نیوز کے مطابق، افغانستان کے ڈپٹی انفارمیشن اینڈ کلچر منسٹر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ خودکش بمبار دستوں سے تیار یہ اسپیشل فورس ڈیفنس منسٹری کے تحت رہے گی۔

    ذبیح اللہ مجاہد نے مزید کہا کہ، افغانستان کی فوج میں ضرورت کی بنیاد پر خواتین کی بھرتی بھی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ افغان آرمی کے سابق ماہرین بھی مستقبل کی فوج کا حصہ ہوں گے۔ میڈیا رپورٹ میں ایسے بتایا جارہا ہے کہ افگانستان ان سوسائیڈ بامبر کو تاجکستان کے ساتھ لگے شمالی سرحد پر تعینات کرے گا۔ لیکن ذرائع نے ایسی کسی بھی خبر کی تصدیق نہیں کی ہے۔

    اس سے پہلے افغانستان کے وزارت دفاع نے کہا تھا کہ وہ 1 لاکھ سپاہیوں کی فوج تیار کرے گا۔ وزارت دفاع کے مطابق، نئی فوج سے جڑی تیاریاں جاری ہیں اور افغانستان اپنی ترجیحات کی بنیاد پر اس فوج کو تیار کرے گا۔ وزارت دفاع کے ترجمان عنایت اللہ خوارزمی نے کہا کہ جب نئے جوانوں کا انتخاب ہوجائے گا تو اُنہیں دستوں میں شامل کر کے اُنہیں ڈیوٹی پر تعینات کیا جائے گا۔

    ادھریہ بھی اطلاعات ہیں‌ کہ امریکہ ،بھارت اور دیگراتحادی ملکوں سمیت بڑی بڑی طاقتوں پر اس وقت اس بات کا خوف طاری ہے کہ اگرواقعی افغان طالبان خودکش بمبارپرمشتمل فوج تیارکررہےہیں‌تو پھردنیا کے کسی ملک کے پاس اس کا توڑ نہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ افغان فوج کا دنیا بھرکی افواج پرایک دباو ہوگا جو کہ افغان طالبان کےلیے حوصلہ مند جبکہ مخالفین کے لیے خوف کی علامت ہوگا

  • کابل ایئرپورٹ حملہ،بمبار بھارت میں انجنیئرنگ کا طالب علم نکلا

    کابل ایئرپورٹ حملہ،بمبار بھارت میں انجنیئرنگ کا طالب علم نکلا

    کابل ایئرپورٹ حملہ،بمبار بھارت میں انجنیئرنگ کا طالب علم نکلا،

    نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ خودکش حملہ آور کو 2017 میں بھارت نے سی آئی اے کے حوالے کیا،عبدالرحمان الوگاری کو افغانستان کی بگرام ہوائی اڈے پر پروان جیل میں رکھا گیا، طالبان کے کابل کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد عبدالرحمان الوگاری کو رہا کر دیا گیا،کابل ائیر پورٹ حملے میں 13 امریکی اہلکاروں سمیت متعدد افراد ہلاک ہو گئے تھے،

    نیویارک ٹائمز کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خودکش بمبار لوغاری رَچنا یونیورسٹی نیو دہلی کا طالب علم تھا، اس دوران وہ داعش میں رہتے ہوئے کئی تخریبی سرگرمیوں میں ملوث تھا، امریکی سی آئی اے نے اس کی نشاندہی کی تھی

    قبل ازیں عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق داعش کے ایک جریدے میں شائع ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر دھماکا کرنے والا ان کا خود کش بمبار بھارت میں تعلیم حاصل کرچکا ہے اور بھارتی قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حراست میں بھی رہا ہے۔

    داعش کے اس دعوے پر بھارتی میڈیا میں شائع ہونے والی رپورٹس میں تصدیق کی گئی ہے کہ خودکش بمبار عبدالرحمان اللغوری نے 2016 میں ریاست ہریانہ کے شہر فرید آباد کے ایک کالج میں داخلہ لیا تھا۔

    بھارتی کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ایک افسر نے انڈین میڈیا کو بتایا کہ عبدالرحمان کالج میں داخلہ لینے کے بعد تعلیم جاری رکھنے کے بجائے دارالحکومت دہلی کے چکر لگاتا رہا اور کئی مقامات کی تصاویر بھی بنائیں۔ مشکوک اور خفیہ سرگرمیوں کے باعث اسے حراست میں لیا گیا تھا۔

    بھارتی قانون نافذ کرنے والے ادارے عبدالرحمان سے کوئی خاطر خواہ شواہد حاصل کرنے میں ناکام رہے جس کے باعث اسے افغان حکومت کے حوالے کردیا گیا جہاں دوران تفتیش ملزم نے داعش کی کئی تربیت گاہوں کے بارے میں بتایا۔

    دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ دنیا جانتی بھی ہےکہ بھارت عالمی دہشت گردی میں مصروف ہے اورپاکستان میں بھی دہشت گردی کی کارروائیاں کررہا ہے پھربھارت کے معاملے میں دہرا معیار کیوں؟

    ان مبصرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرعالمی برادری نے بھارتی مکاری کا نوٹس نہ لیا توپھردنیا میں دہشت گردی کوپروموٹ کرنے کا ذمہ دار بھی عالمی برادری ہوگی

  • افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی

    کابل:افغانستان کی نئی حکومت کوسب سے پہلے کون تسلیم کرنے جارہا ہے؟اہم خبرآگئی،اطلاعات کے مطابق افغانستان کے لئے روس کےخصوصی نمائندے ضمیر کابلوف کا کہنا ہے کہ طالبان حکومت کو عملی طورپر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    اس حوالے سے روس کے خصوصی نمائندہ برائے افغانستان ضمیر کابلوف کہتےہیں کہ اسی سلسلے میں‌ آنے والے سال کے پہلے مہینے جنوری کے آخر میں کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔

    روسی میڈیاکو دیئےگئے انٹرویو میں افغانستان کے لئے روسی خصوصی نمائندے ضمیرکابلوف کا طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے سوال پر کہنا تھا کہ سیاسی طور پر تسلیم کرنا ایک علامتی عمل ہے، تاہم عملی طور پر تسلیم کیا جا رہا ہے۔

    انہوں نے بتایا کہ طالبان وفد نے ماسکو اجلاس میں شرکت کی جس میں انہیں 10ممالک کےمندوبین سے ملنے کا موقع ملا ہے۔ ضمیر کابلوف کا کہنا تھا کہ افغانستان میں جامع حکومت، خواتین کےحقوق کے احترام کی ضرورت ہے۔

    طالبان حکام کو اس بارے میں سنجیدگی سے سوچناچاہیے، افغان خواتین کیلئے تعلیم، سماجی، سیاسی سرگرمیوں تک رسائی ہونا اہم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ کابل میں جنوری کےآخر میں ٹرائیکا پلس کانفرنس ہوگی،کابل میں ٹرائیکا پلس کانفرنس کی حتمی تاریخ متعین نہیں کی گئی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کی طرف سے افغانستان کو انسانی بحران سے بچانے کے لیے کوششیں تیز ہوگئی ہیں اوراب پاکستان افغان بھائیوں‌کے لیے دنیا بھر میں آواز بلند کررہاہے، یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ افغانستان میں ہونے والی اس کانفرنس میں چین اور پاکستان بھی شامل ہوں گے ، تاہم یہ نہیں بتایا گیاکہ کیا افغان طالبان کی حکومت کو تسلیم کرنے کی پہل پہلے چین کرے گا یا پھر روس ، پاکستان کی دونوں صورتوں میں کامیابی ہے

  • کابل: طالبان نے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کر ديئے

    کابل: طالبان نے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کر ديئے

    کابل: طالبان نے پاسپورٹ جاری کرنا شروع کر دیئے،لاکھوافغان ملک سے نقل مکانی کا ارادہ رکھتے ہیں اور ان کے لئے یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔

    باغی ٹی وی : افغان طالبان نے بروز ہفتہ اعلان کیا تھا کہ اتوار سے درخواست دہندگان کو پاسپورٹ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا جائے گاخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اس سے ان شہریوں کو امید ملے گی جو طالبان کی حکومت میں رہتے ہوئے خطرہ محسوس کر رہے ہیں۔

    اقوام متحدہ میں سفیر کی تعیناتی کے لئے طالبان کی دوبارہ درخواست

    طالبان کی وزارت داخلہ میں پاسپورٹ جاری کرنے والے محکمے کے سربراہ عالم گل حقانی نے بتایا ہے کہ تمام تکنیکی مسائل دور کر دیے گئے ہیں اور اتوار سے ان افراد کے پاسپورٹ کا اجراء شروع ہو جائے گا، جنہوں نے پہلے سے درخواستیں دے رکھی ہیں جبکہ نئی درخواستیں 10 جنوری سے جمع کرائی جا سکتی ہیں-

    یو این جنرل اسمبلی میں افغان نشست نہ ملنے پر طالبان کا ردعمل

    پاسپورٹ کے اجرا کو طالبان کی جانب سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کیے گئے عہد کے تناظر میں ایک ٹیسٹ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے تاکہ بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے درمیان اہل افراد کو ملک سے جانے کی اجازت دی جائے-

    عالمی بینک نے افغانستان کو بڑی خوشخبری سُنا دی

    طالبان اربوں ڈالر کی امداد کی بحالی کے لیے ڈونرز پر دباؤ ڈال رہے ہیں ڈونرز نے مغربی حمایت یافتہ حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان کے لیے امداد روک دی تھی مالی بحران کی وجہ سے کابل میں لوگوں نے اپنا گھریلوں سامان فروخت کرنا شروع کر دیا تھا تاکہ اپنے خاندانوں کا پیٹ پال سکیں۔

    ڈرون حملہ،کسی امریکی فوجی یا عہدیدار کے خلاف کارروائی نہیں ہو گی ،امریکا

    واضح رہے کہ طالبان کی طرف سے پندرہ اگست کو کابل پر قبضے کے بعد سے دیگر انتظامی و سیاسی معاملات میں تعطل کی طرح پاسپورٹس کے اجراء کا عمل بھی رک گیا تھا اس وقت ہزاروں افغان شہری کابل کی واحد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے ملک سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے افغانستان پر طالبان کے تیزی سے کنٹرول کے وقت پاسپورٹ کے دفاتر پر رش دیکھا گیا تھا۔

    طالبان نے کابل پر قبضہ نہیں کیا بلکہ انہیں دعوت دی گئی تھی ،حامد کرزئی