Baaghi TV

Tag: کابینہ

  • وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، تعیناتیوں سےمتعلق رولز میں ترامیم کی منظوری لی جائے گی

    وفاقی کابینہ کا اجلاس طلب، تعیناتیوں سےمتعلق رولز میں ترامیم کی منظوری لی جائے گی

    اسلام آباد:وزیراعظم نے کابینہ اجلاس سے پہلے کل اتحادیوں کا اجلاس بلایا۔اطلاعات کے مطابق ذرائع نے بتایا کہ وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا اجلاس کل صبح 9 بجے بلا رکھا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں تعیناتیوں سےمتعلق رولز میں ترامیم کی منظوری لی جائے گی۔

    ذرائع نے بتایا کہ اتحادیوں کے اجلاس میں فیصلوں کو وفاقی کابینہ میں پیش کیا جائے گا۔

    خیال رہے کہ گزشتہ شب وزیراعظم ہاؤس کو آرمی چیف کی تعیناتی کی سمری موصول ہوئی اور کسی بھی وقت اس سمری پر فیصلہ متوقع ہے۔

    یاد رہے کہ اس سے پہلے آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس کے دوران حکومتی اتحادیوں نے وزیراعظم پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے اتحادی جماعتوں کے رہنماؤں کے اعزاز میں عشائیہ دیا، اس میں سابق صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، چودھری شجاعت حسین،مولانا فضل الرحمان ، آفتاب شیر پاؤ، وفاقی وزراء اسحاق ڈار، مریم اورنگزیب، سردار اختر مینگل، نوابزدہ شاہ زین بگٹی، سردار خالد مگسی، خالد مقبول صدیقی ، سید نوید قمر، طارق بشیر چیمہ، ایاز صادق، سعد رفیق، رانا ثناء اللہ، پروفیسر ساجد میر، احسن اقبال، اسعد محمود و دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔

    اجلاس کے دوران آرمی چیف اور چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے مشاورت کی گئی اور ملکی سیاسی صورتحال پر بھی مشاورت کی گئی، اہم تقرری سے قبل سمری صدر مملکت کو ارسال کیے جانے سے بھی قبل اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لیا گیا۔

    ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ شہباز شریف صاحب آپ وزیراعظم ہیں اور آئین نے یہ اختیار اور آرمی چیف کی تعیناتی کا استحقاق آپ کو سونپا ہے۔

    چودھری شجاعت حسین نے اجلاس کے دوران کہا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس منصب پر بٹھایا ہے، آرمی چیف کی تعیناتی آپ کا آئینی حق ہے،بلوچستان عوامی پارٹی کے ڈاکٹر خالد مگسی نے کہا کہ اہم تعیناتی سے متعلق آپ جو فیصلہ کریں، ہم آپ کے ساتھ ڈٹ کر کھڑے ہیں۔

    پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ میاں صاحب! ہم ہر فیصلے میں آپ کے ساتھ کھڑے ہیں۔ایم کیو ایم کے خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہباز شریف صاحب ! آپ پر مکمل اعتماد ہے، آپ کا آئینی حق ہے، آرمی چیف کے معاملے پر آپ نے ہم سے مشاورت کی، آپ کا شکریہ۔

    اجلاس ختم ہونے کے بعد امیر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور شہباز شریف سے ملاقات کی۔ملاقات کے دوران پی ڈی ایم کے سربراہ نے آرمی چیف کی تعیناتی کے حوالے سے وزیراعظم کے فیصلے کے ساتھ کھڑے ہونے کی یقین دہانی کروا دی۔

    سابق چیئرمین FBR شبر زیدی نے کہا ہے کہ پاکستان دیوالیہ ہو گیا ہے

    دیوالیہ پن سے بچاؤ کے لئے فلپائن ایئر لائن امریکی عدالت پہنچ گئی

  • وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کرلیا

    وزیراعظم نے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کرلیا

    اسلام آباد: وزیر اعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس طلب کرلیا، اجلاس میں اہم امور پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے ملکی مسائل ہر گفتگو کرنے کیلئے وفاقی کابینہ کا اہم اجلاس طلب کرلیا۔

    کابینہ کا خصوصی اجلاس 24 نومبر کو وزیر اعظم شہباز کی زیر صدارت ہوگا، اجلاس صبح وزیر اعظم ہاؤس میں ہوگا، اجلاس میں اہم قومی امور سے متعلق فیصلوں کی منظوری دی جائے گی۔

    یاد رہے کہ آج ابھی تھوڑی دیر پہلے وزیراعظم شہباز شریف نے آصف زرداری کا استقبال کیا ،وزیراعظم شہباز شریف نے سابق صدر کی آمد پر ان کا شکریہ ادا کیا دونوں قائدین کے درمیان ملکی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا ، سابق صدر آصف زرداری نے وزیراعظم شہباز شریف کی خیریت دریافت کی ،وزیراعظم شہباز شریف نے آصف زرداری کا شکریہ ادا کیا

    آصف زرداری اور شہباز شریف کی ملاقات ایک ایسے موقع پر ہوئی جب عمران خان پنڈی میں جلسے یا دھرنے کا اعلان کر چکے ہیں،آصف زرداری چند روز قبل ہی اسلام آباد پہنچے اور انکی پارٹی رہنماؤں سے بھی ملاقاتیں ہوئیں،آصف زرداری ماسک پہنے وزیراعظم ہاؤس پہنچے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے بھی ماسک پہن رکھا تھا، وزیراعظم شہباز شریف کو تیسری بار کرونا ہوا ہے اور وہ آج ہی صحتیاب ہوئے ہیں،

    کارکن تپتی دھوپ میں سڑکوں پرخوار،موصوف ہیلی کاپٹر پرسوار،مریم کا عمران خان پر طنز

    خیبرپختونخوا حکومت کا ہیلی کاپٹر جلسوں میں استعمال کیا جا رہا ہے،وفاقی وزیر اطلاعات

  • وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت کابینہ کا چوتھا غیرمعمولی اوراہم اجلاس،بڑے فیصلے

    وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت کابینہ کا چوتھا غیرمعمولی اوراہم اجلاس،بڑے فیصلے

    لاہور:وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت کابینہ کا چوتھا غیرمعمولی اوراہم اجلاس،بڑے فیصلے،اطلاعات کے مطابق ‏وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا چوتھا اجلاس منعقد ہوا ہے ، اس اہم اجلاس میں پنجاب میں شوگر ملوں کو 25نومبر سے کرشنگ شروع کرنے کا پابند کردیا گیا۔

    وزیراعلٰی پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کی زیرصدارت اہم اجلاس میں صوبائی کابینہ نے گنے کی سپورٹ پرائس300 روپے کرنے کی منظوری دے دی، اس کے ساتھ ساتھ احساس راشن رعایت پروگرام میں بینک آف پنجاب کو شامل کرنے کی منظوری دی گئی

    ‏باغی ٹی وی ذرائع کے مطابق صوبائی کابینہ نے ڈی جی ریسکیو1122ڈاکٹر رضوان نصیر کو گریڈ 21دینے کی منظوری دے دی، کابینہ اجلاس میں ڈی جی اور ریسکیو1122کی پوری ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا گیا، صوبائی کابینہ نے الیکٹرک گاڑیوں کی رجسٹریشن کے ضابطہ کار کی منظوری دے دی

    اس اہم اجلاس میں پنجاب میں الیکٹرک رکشے چلانے کااصولی فیصلہ کیا گیا ، اس کے ساتھ ساتھ اس موقع پر چوہدری پرویز الٰہی نے کہا کہ الیکٹرک گاڑیوں کو ٹیکسز کی مد میں 50فیصد تک رعایت دیں گے۔

    پنجاب میں امن وامان کی بہتر صورت حال کے لیے وزیراعلیٰ نے پنجاب پولیس کی 3ہزار خالی آسامیوں پر بھرتی کی منظوری دے دی، جبکہ پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے چیف آپریٹنگ آفیسر کامران خان کے کنٹریکٹ میں دو سال کی توسیع دی گئی ، اس کےساتھ ساتھ ہواوے سے پنجاب سیف سٹی اتھارٹی کے معاہدے کی اصولی منظوری بھی دی گئی

    چوہدری پرویزالٰہی کی زیرصدارت اجلاس میں‌ ایل ڈی اے ٹریبونل کے صدر کی تعیناتی کی منظوری دی گئی ، اس اہم اجلاس میں سرگودھا اور بہاولپورکومتعلقہ ڈویلپمنٹ اتھارٹی کا سٹی ایریا قرار دینے کی منظوری دی گئی ، کابینہ اجلاس میں پنجاب ڈرگ رولز میں ترمیم کی منظوری کے ساتھ ساتھ صوبائی کوالٹی کنٹرول بورڈکی ری ویمپنگ کی منظوری دی گئی ، کابینہ اجلاس میں پنجاب کمیشن آن سٹیٹ آف وویمن کی سالانہ رپورٹ کی منظوری دی گئی

    وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت اجلاس میں حکومت پنجاب کے اکاؤنٹس کے بارے میں آڈٹ رپورٹس کی منظوری کے ساتھ ساتھ پبلک سیکٹر انٹرپرائز گورنمنٹ آف پنجاب آڈٹ اکاؤنٹ کے آڈٹ کی منظوری دی گئی ، اس اجلاس میں ‏چیئرمین زکوٰۃ وعشر کونسل کی تعیناتی کے قواعد و ضوابط کی منظوری دی گئی ،

    وزیراعلیٰ‌پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کے زیرصدارت اجلاس میں قائداعظم لائبریری شیڈول ریگولیشن1984میں ترمیم کی منظوری دی گئی ، اس کے ساتھ ساتھ پنجاب پبلک لائبریری جنرل ریگولیشن2012میں ترمیم کی منظوری دی گئی ، قائداعظم بزنس پارک کے کنٹریکٹ کے ازسرنو جائزہ لینے کی اصولی منظوری بھی دی گئی

     

     چائلڈ پورنوگرافی ویڈیوز سوشل میڈیا پر پھیلانے کا کیس، سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

    چائلڈ پورنوگرافی میں‌ ملوث ملزم گرفتار،کتنی اخلاق باختہ ویڈیوز شیطان صفت کے پاس برآمد ہوئیں

    لڑکی کو نازیبا ،فحش تصاویر بھیجنے والا ملزم گرفتار

  • شہباز شریف کابینہ ارکان کی تعداد عمران خان کی کابینہ سے تجاوز کرگئی

    شہباز شریف کابینہ ارکان کی تعداد عمران خان کی کابینہ سے تجاوز کرگئی

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کے ارکان کی تعداد سابق وزیراعظم عمران خان کی کابینہ سے تجاوز کرگئی ہے۔آئین کے آرٹیکل92کے تحت کابینہ میں وفاقی بشمول وزرائے مملکت کی کل تعدادمجلس شوریٰ (پارلیمنٹ) کے مجموعی ارکان کے گیارہ فیصد سے زائد نہیں ہوسکتی۔

    اس وقت قومی اسمبلی کے ارکان کی تعداد342اور سینیٹ کی 100ہے اس طرح پارلیمنٹ کے ارکان کی کل تعداد442ہے اس کا 11فیصد48 ارکان بنتے ہیں جبکہ آئین کی شق 93 کی ذیلی شق1کے تحت وزیراعظم زیادہ سے زیادہ 5مشیر مقرر کرسکتا ہے جس کے بعد کابینہ کی مجموعی تعداد 53بنتی ہے۔

    شہباز شریف کابینہ میں34 وفاقی وزیر، سات وزرائے مملکت،4 مشیر جبکہ 17معاون خصوصی شامل جن کی مجموعی تعداد 62 ہوگئی ہے اور اگر معاونین خصوصی کی تعداد کو بھی کابینہ میں شمار کیا جائے تو شہباز شریف کابینہ کی تعداد آئین میں دی گئی تعداد سے تجاوز کرجاتی ہے۔

    معاون خصوصی آئین کی بجائے رولز آف بزنس 1973 کی شق 4کی ذیلی شق 6کے تحت تعینات کئے جاتے ہیں جن کو وفاقی وزیر یا وزیر مملکت کا درجہ دیا جاتا ہے مگر وہ کابینہ کے رکن شمار نہیں ہوتے اس لئے خصوصی معاونین کی تعداد کو کابینہ میں نہیں گنا جاتا۔

    حکمران اتحاد کی تمام جماعتوں کو ایڈجسٹ کرنے کے دباؤ میں وزیراعظم شہباز شریف کی کابینہ کی تعداد بڑھ کر62 ہو گئی جس کی وجہ سے وفاقی وزارتیں کم اور وفاقی وزراء کی تعداد زیادہ ہوگئی ہے۔وزیر اعظم کے 17 معاونین میں سے صرف تین کے پاس قلمدان ہیں اور باقی 14معاونین خصوصی کے پاس کوئی قلمدان بھی نہیں۔

    سابق وزیراعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد آئی تو ان کی کابینہ 52 ارکان پر مشتمل تھی۔ وزیر اعظم عمران خان کی سبکدوشی کے وقت25 وفاقی وزرا، وزرائے مملکت اور مشیروں کی تعداد چار، چار اور معاونین خصوصی 19 تھے۔

  • وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی

    وفاقی کابینہ کے ارکان نے ایک ماہ کی تنخواہ سیلاب متاثرین کے لیے عطیہ کردی۔

    کابینہ کے تمام ارکان کی ایک ماہ کی تنخواہ وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ میں جمع ہوگی۔دوسری طرف وزیراعظم شہباز شریف کی اپیل پر بین الاقوامی تنظیموں اور مالی اداروں نے سیلاب متاثرین کے لئے 50 کروڑ ڈالر سے زائد امداد کا اعلان کیا ہے۔

    کوئٹہ سے پشاور جانے والے ریلوے ٹریک کا پل گرگیا

    ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر نے وزیراعظم کو 35 کروڑ ڈالر کی فوری امداد سے آگاہ کیا۔
    ورلڈ فوڈ پروگرام نے سیلاب متاثرین کیلئے11 کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ جبکہ ایشین ڈیولپمنٹ بینک نے 2 کروڑ ڈالر امداد کا اعلان کیا۔ یو کے ایڈ نے 15 لاکھ پاؤنڈ کی فوری امداد کا اعلان کیا۔اعلامیہ کے مطابق یوکے ایڈ نے سیلاب متاثرین سے متعلق منصوبوں کیلئے 3 کروڑ 80 لاکھ پاؤنڈ کا بھی اعلان کیا ہے۔

    پاک فضائیہ نے سیلاب متاثرہ علاقوں میں 12375 پاؤنڈ امدادی سامان تقسیم کر دیا

     

    قبل ازیں وفاقی وزیر شیری رحمان نے کہا ہے کہ ملک بھر میں آنے والی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث جاں بحق افراد کی تعداد 913 تک پہنچ گئی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ عطیہ دہندگان اور دنیا ہماری مدد کریں۔دریائے سندھ میں پانی کا بہائو 2010 کے سپر فلڈ سے زیادہ ہے، 30 ملین متاثرین شیلٹرز کے بغیر ہیں۔

    وفاقی وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی سینیٹر شیری رحمان کی طرف سے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ بارشوں اور سیلاب کی تباہ کاریوں میں 9 سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، ملک کا کوئی حصہ نہیں جو بارشوں اور سیلاب کی زد میں نہ ہو، افسوس ہے خیبر پختونخوا اور پنجاب میں سیلاب زدگان کی مدد کے بجائے عمران خان نے ہری پور میں جلسہ کیا۔

     

    مصیبت کی اس گھڑی میں ہر سیلاب زدہ فرد تک پہنچنا ہے۔ آرمی چیف

    شیری رحمان نے کہا کہ بارشوں اور سیلاب سے کل شام تک 913 لوگ جاں بحق ہوگئے، سندھ میں 169 ، کے پی میں 169 اور پنجاب میں 164 لوگ جاں بحق ہوئے، عمران خان کے پی اور پنجاب میں سیلاب زدگان کی جان و مال بچانے کے بجائے اپنی سیاست بچانے میں لگے ہوئے، کیا عمران خان کو پورے ملک میں سیلاب نظر نہیں آ رہا؟

    سینٹر شیری رحمان نے میڈیا سے گزارش کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیلاب زدگان کی حالت زار کو اجاگر کرنے، بچاو اور امدادی سرگرمیوں اور مون سون کی بارشوں سے ہونے والے نقصانات کو اجاگر کرنے پر توجہ مرکوز کرے تاکہ متعلقہ سٹیک ہولڈرز کو عوامی تعاون کے ساتھ ایک مربوط ردعمل سے آگاہ کیا جا سکے۔

    انہوں نے کہا کہ اگست کے مہینے میں ملک میں مجموعی طور پر 166 ملی میٹر بارش ہوئی جو کہ معمول سے 241 فیصد زیادہ ہے جبکہ ملک کے جنوبی حصے بالخصوص سندھ میں رواں سیزن کی معمول کی اوسط سے 784 فیصد زیادہ بارشیں ہوئیں جو کہ تشویشناک ہے۔ یہ چونکا دینے والے اعدادوشمار محکمہ موسمیات کی جانب سے مرتب کیے گئے ہیں، شدید بارشوں نے متاثرہ صوبوں کے مختلف سیلاب زدہ علاقوں میں پلوں اور مواصلاتی ڈھانچے کو بہا دیا۔

    انہوں نے زور دیا کہ دریائے سندھ میں پانی کا بہائو 2010 کے سپر فلڈ سے زیادہ ہے، یہ مون سون کی بارشوں کے آٹھواں سلسلہ ہے جہاں جنوبی پاکستان میں شدید اور زیادہ بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے سندھ کے 23 اضلاع کو آفت زدہ علاقے قرار دیا گیا ہے۔

    وفاقی وزیر نے بتایا کہ ملک میں قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا گیا ہے، ملک میں سیلابی صورتحال کی وجہ سے وزیر خارجہ اور وزیر اعظم نے بیرون ملک سرکاری دورے ملتوی کر دیے ہیں۔ مسلح افواج اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر امدادی سرگرمیوں میں سرگرم ہیں۔

  • وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا

    وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا

    وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں اضافہ کر دیا

    وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا ہے کہ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں ساڑھے تین روپے اضافہ کیا گیا ہے،پوری دنیا میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے، اگلےچار ماہ میں مجموعی طور پر ساڑھے سات روپے فی یونٹ بجلی مہنگی ہوگی بجلی کی فی یونٹ قیمت میں26 جولائی ساڑھے تین روپے اضافہ کیا گیا ہے،اگست میں پھر ساڑھے تین روپے اور اکتوبر میں 90پیسے فی یونٹ بجلی مہنگی ہوگی وفاقی کابینہ نے بجلی کی قیمت میں ساڑھے 7روپے فی یونٹ اضافے کی منظوری دیدی گردشی قرضے میں ہم نے کمی کر دی ہے،لائن لاسسز میں کمی کا آغاز کر دیا ہے،پوری دنیا میں اس وقت توانائی کا بحران ہے،ملک کے 5بڑے برآمدی شعبوں کو کم قیمت بجلی فراہمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں،

    وفاقی وزیر خرم دستگیر کا کہنا تھا کہ ایندھن کی قیمتوں میں بہت اضافہ ہوا ہے،حکومت غریب ترین افراد کے تحفظ کیلئے ہر ممکن کو شش کر رہی ہے،پوری دنیا میں اجناس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے،ملک کے غریب ترین بجلی صارفین پر قیمت میں اضافے کا اثر نہیں ہوگا ،بجلی کی قیمت میں نومبر سے کمی آنا شروع ہو جائے گی منظوری اس شرط پر دی گئی ہے کہ غریب صارفین پر بوجھ نہ پڑے

    مصدق ملک کا کہنا ہے کہ بجلی کی قیمت میں کمی اکتوبر کے بعد نظر آنا شروع ہوجائے گی،

    دوسری جانب تحریک انصاف کا بجلی کی قیمت میں اضافے پر ردعمل سامنے آیا ہے ، تحریک انصاف کے رہنما حماد اظہر کا کہنا تھا کہ اصل میں عوام نے پی ڈی ایم کا بائیکاٹ کیا ہے اب پی ڈی ایم کی عوام کے مینڈیٹ کو تسلیم کرتے ہوئے کانپیں ٹانگ رہی ہیں یہ کیس وہ ہے کہ کوئی کیس ہی نہیں، اسکا فیصلہ 30 منٹ میں آ جانا چاہیے،پی ڈی ایم والے آئے بیٹنگ کی اور رنز نہیں بنا سکے تو میچ چھوڑ کر بھاگ گئے ،بجلی کے بنیادی ٹیرف میں مسلط شدہ حکومت نے 3 اعشاریہ پانچ صفر فی یونٹ اضافہ کیا ہے اس اضافے کی وجہ صرف اور صرف نون لیگ کے امپورٹڈ ایندھن پہ چلنے والے پاور پلانٹ ہیں،پوری قوم نون لیگ کی اس غلطی کی قیمت ادا کر رہی ہے،

    سابقہ حکومت نے بجلی کی پیداوار نہ بڑھا کر مجرمانہ غفلت کی،وفاقی وزراء

    شادی شدہ کامیاب مرد سے پیسے کی خاطر جسمانی تعلق رکھنا عورت کی تذلیل ہے۔ فرح سعدیہ

    ‏خواتین کو جب اعتکاف کی مبارکباد دینے جائیں تو صرف مٹھائی لے کر جائیں. شفاعت علی

    عظمیٰ تشدد کیس میں تاحال کوئی گرفتاری نہیں، کہیں انہیں فرار تو نہیں کروا دیا ؟ حسان نیازی

    میں نے کوئی ڈیل نہیں کی اور نا ہی دبئی گئی، لاہور ہی ہوں تو انصاف لے کر رہوں گی، عظمیٰ خان

  • بلوچستان کے لئے 612 ارب روپے کا بجٹ پیش

    بلوچستان کے لئے 612 ارب روپے کا بجٹ پیش

    بلوچستان کابینہ نے صوبےکے آئندہ مالی سال کے لئے 612 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو کی زیرصدارت صوبائی کابینہ کا بجٹ اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ مالی سال کے لیے 612 ارب روپے کے بجٹ کی منظوری دی گئی۔

    بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 72 ارب روپےکا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔ تاہم بجٹ میں پی ایس ڈی پی کے لیے 191 ارب روپے رکھنےکی تجویز ہے، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 15 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

    بلوچستان کے بجٹ میں مزدوروں کی کم سےکم اجرت 25 ہزار روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
    محکمہ صحت کے پیرامیڈیکس اسٹاف کے ہیلتھ پروفیشنل اور رسک الاؤنس میں 100 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔

    بجٹ میں وزیراعلیٰ شکایت مینجمنٹ سسٹم کےقیام کی بھی تجویز دی گئی ہے، بجٹ میں تربت میں لیپ ٹاپ اسکیم کے لیے ایک ارب روپے مختص کرنےکی تجویز ہے، نئے مالی سال کے بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس لاگو نہیں کیا گیا۔

    کابینہ سے منظوری کے بعد بجٹ بلوچستان اسمبلی میں پیش کر دیا گیا،باغی ٹی وی نے بنٹ تقریر کا مسودہ حاصل کر لیا.وزیر ضزانہ سردار عبدالرحمان کھیتران نے بجٹ پیش کیا. بجٹ کا کل حجم 612 ارب روپے رکھا گیا ہے۔بجٹ دستاویز کے مطابق کل آمدن کا تخمینہ 528.6 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ خسارے کا تخمینہ 72.8 ارب روپے ہے۔ بجٹ اجلاس تین گھنٹے سے زائد کی تاخیر کے بعد قائم مقام اسپیکر بابر موسیٰ خیل کی زیر صدارت شروع ہوا۔

    بجٹ دستاویز کے مطابق بلوچستان کو آئندہ مالی سال کے بجٹ میں وفاقی ٹرانسفرز سے 370.33 ارب روپے ملیں گے۔غیر ملکی امداد کی مد میں 14.36 ارب روپے، وفاقی ترقیاتی گرانٹ کی مد میں 28.27 ارب روپے ملیں گے۔بلوچستان کے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں اخراجات جاریہ کا تخمینہ 366.72 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ 72 ارب روپے کا خسارہ ظاہر کیا گیا ہے۔

    سوئی گیس لیز توسیع کے بونس کی مد میں 40 ارب روپے ملیں گے، ترقیاتی پروگرام کے لیے 191.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بلوچستان کے بجٹ میں وفاقی ترقیاتی پراجیکٹس کا تخمینہ 39.67 ارب روپے لگایا گیا ہے جبکہ صوبے کو کیپیٹل محصولات کی مد میں 12.21 ارب روپے ملیں گے۔

    اسمبلی اجلاس میں اپوزیشن اراکین نے بجٹ دستاویزات نہ ملنے پر اعتراض کیا۔وزیراعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کے حوالے سے کابینہ میں کوئی اختلاف نہیں۔ان کا کہنا تھا کہ کوشش ہے ایسا بجٹ پیش کریں جس سے کسی کو بات کرنے کا موقع نہ ملے۔

  • سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    سندھ کا بجٹ پیش ، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ،پولیس کانسٹیبل کا گریڈ بڑھا دیا گیا

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایک ہزار 713 ارب کا سال 23-2022 کے لیے ٹیکس فری خسارے کا بجٹ پیش کردیا۔ سندھ اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے صوبائی حکومت کی مجموعی وصولیوں ایک ہزار 679 ارب 73 کروڑ 48 لاکھ جبکہ اخراجات ایک ہزار 713 ارب 58 کروڑ 31 لاکھ روپے ہوں گے جو 33 ارب کے خسارے کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ مجموعی طور پر محصولات کی وصولیاں 1,679,734.8 ملین ہوں گی جس میں 1.055 ارب روپے وفاقی منتقلی، 374.5 ارب روپے کی صوبائی وصولیاں (167.5 ارب صوبائی ٹیکس وصولیاں جن میں سروسز پر جی ایس ٹی، 180 ارب سروسز پر صوبائی سیلز ٹیکس اور 27,000 ملین صوبائی نان ٹیکس وصولی)، 51,132.8 ملین روپے موجودہ کیپٹل وصولی، 51,132.8 ملین روپے کی کرنٹ کیپیٹل وصولی، 105,567.5 ملین روپے دیگر ٹرانسفرز جیسے کہ غیر ملکی پراجیکٹ امداد، وفاقی گرانٹس اور غیر ملکی گرانٹس اور 20,000 ملین روپے کیش بیلنس اور صوبے کے پبلک اکاؤنٹس شامل ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی ٹیکس جمع کرنے والے ادارے سندھ بورڈ آف ریونیو 180 ارب روپے، ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن ڈپارٹمنٹ 1.20 ارب روپے اور بورڈ آف ریونیو 30 ارب روپے وصولی کے اہداف حاصل کریں گے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئندہ مالی سال کے لیے موجودہ ریونیو اخراجات 1,199,445.4 ملین روپے ہوں گے جس میں موجودہ سرمائے کے اخراجات 54.48 ارب روپے، ترقیاتی پورٹ فولیو 459.65 ارب روپے ہوں گے جس میں 332.165 ارب روپے صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگرام (اے ڈی پی)، 30 ارب روپے ضلع اے ڈی پی، اور 91.467 ارب فارن اسسٹنس پروجیکٹ (FAP) اور 6.02 ارب دیگر وفاقی گرانٹس شامل ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ کے مطابق صوبائی حکومت نے دوران مالی سال کے 11 ماہ (جولائی تا مئی) میں 732 ارب روپے کے نتیجے میں 716 ارب روپے وصول کیے ہیں جو 16 ارب روپے کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

    مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ ان کی حکومت نے مذکورہ مدت کے دوران 19.7 ارب روپے کے نتیجے میں 45 ارب روپے براہ راست منتقلی اور OZT میں 18.9 ارب روپے وصول کیے۔

    صوبائی حکومت نے سالانہ ترقیاتی پروگرام 23-2022 کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے ہیں جبکہ یہ رواں سال کے دوران 222.5 ارب روپے ہے۔ ضلعی اے ڈی پی کا حجم 30 ارب روپے رکھا گیا ہے جیسا کہ رواں مالی سال کے دوران کیا گیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ 4158 اسکیمیں جن میں 2506 جاری اور 1652 نئی اسکیمیں شامل ہیں، کے لیے 332.165 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جاری 2506 اسکیموں کے لیے 76 فیصد فنڈز یعنی 253.146 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں اور 1652 نئی اسکیموں کے لیے 24 فیصد فنڈز یعنی 79.019 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ مالی سال 23-2022 میں 1510 اسکیمیں مکمل کی جائیں گی.وزیراعلیٰ سندھ نے 26.850 ارب روپے کے غریبوں کے حامی، سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے پیکیج کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے اعلان کیا کہ ایڈہاک ریلیف الاؤنسز 2016، 2017، 2018، 2019 اور 2021 کو وفاقی حکومت کے ملازمین کے لیے قابل قبول شرح پر ضم کیا جا رہا ہے اور بنیادی تنخواہ اسکیل 2022 پر نظر ثانی کی جا رہی ہے جبکہ سندھ حکومت کے سرکاری ملازمین کے لیے وفاقی حکومت کی طرز پر بنائے گئے پیٹرن کو ہی متعارف کروایا جا رہا ہے۔انہوں نے یکم جولائی 2022 سے سرکاری ملازمین کے بنیادی تنخواہوں میں 15 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس کا بھی اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ نے کہا کہ گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی بنیادی تنخواہ میں 33 فیصد اور گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے سرکاری ملازمین کے لیے 30 فیصد ایڈہاک ادا کیا جائے گا جبکہ ریلیف الاؤنسز 2013، 2015، 2016، 2017، 2018، 2019، 2020 اور 2021 یکم جولائی 2022 سے ختم کیا جا رہا ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ سندھ حکومت کے پنشنرز کو پہلے ہی فروری 2022 تک وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں 22.5 فیصد اضافہ مل رہا ہے اس لیے سندھ حکومت یکم جولائی 2022 سے پنشنرز کو خالص پنشن سے 5 فیصد اضافہ کیا جائے گا۔

    مراد علی شاہ کے مطابق مارچ 2022 میں وفاقی حکومت کی جانب سے خالص پنشن میں 10 فیصد اضافے اور یکم جولائی 2022 سے 15 فیصد اضافے کے اعلان کے بعد وفاقی حکومت کے پنشنرز کے نتیجے میں خالص پنشن پر حکومت سندھ کے پنشنرز کو اب بھی 12.5 فیصد زیادہ ملیں گے۔وزیراعلیٰ سندھ نے پولیس کانسٹیبل کو گریڈ 5 سے اپ گریڈ کر کے گریڈ 7 میں کرنے کا اعلان کیا۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے ٹول مینوفیکچرنگ سروسز کو ایس ایس ٹی سے مستثنیٰ کرنے کا اعلان کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ’ریکروٹنگ ایجنٹس‘ کے لیے 5 فیصد کم کردہ SST کی شرح اگلے دو سال یعنی 30 جون، 2024 تک جاری رہے گی۔ یہ ریلیف بیرون ملک کام کرنے کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے تجویز کیا گیا ہے
    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ کیبل ٹی وی آپریٹرز کی طرف سے فراہم کردہ خدمات پر 10 فیصد کی کمی کی شرح سے ٹیکس عائد کیا گیا تھا، موجودہ ریلیف کو 30 جون 2024 کو ختم ہونے والی دو سال کی مزید مدت کے لیے بڑھانے کی تجویز ہے۔

    کیبل ٹی وی آپریٹرز کو استثنیٰ دینے کی تجویز ہے، بشمول دیہی علاقوں کے کیبل ٹی وی آپریٹرز کو پیمرا لائسنس کے تحت ’R‘ زمرہ کے ایس ایس ٹی سے 30 جون 2023 تک مستثنیٰ رکھا جائے گا۔ ہوم شیفز سے فوڈ ڈیلیوری چینلز (جیسے فوڈ پانڈا، چیتے لاجسٹکس وغیرہ) کے ذریعے موصول ہونے والے کمیشن چارجز پر ایس ایس ٹی کی شرح 30 جون 2024 کو ختم ہونے والے دو سالوں کے لیے 13 فیصد سے کم کر کے 8 فیصد کر دی گئی ہے۔

    دیگر تمام معاملات میں کمیشن ایجنٹس کے ذریعہ فراہم کردہ یا فراہم کی جانے والی خدمات SST کے لیے 13 فیصد لاگو رہیں گی۔ ہیلتھ انشورنس خدمات پر موجودہ چھوٹ 30 جون 2023 تک ایک سال کی مدت کے لیے مزید جاری رہے گی۔

    وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ ان کی حکومت نے تعلیم کے شعبے کو اپنی اولین ترجیح پر رکھا ہے، اس کے لیے 326.80 ارب مختص کیے گئے ہیں جو بجٹ کے کل اخراجات کا 25 فیصد سے زیادہ بنتا ہے۔

    سندھ حکومت نے کم از کم سات اضلاع کورنگی، کراچی غربی، کیماڑی، ملیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو الہیار اور سجاول میں ایک ایک مکمل یونیورسٹی یا ایک تسلیم شدہ پبلک یونیورسٹی کا کیمپس قائم کرنے کی پالیسی اپنائی ہے۔

    کورنگی میں ٹیکنالوجی اینڈ اسکل، ووکیشنل/ انڈسٹریل ڈویلپمنٹ یونیورسٹی ہوگی، جبکہ کراچی ویسٹ اور کیماڑی میں اس یونیورسٹی کے ذیلی کیمپسز ہوں گے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے محکمہ داخلہ بشمول سندھ پولیس اور جیلوں کے لیے کل مختص رقم کو رواں مالی سال کے دوران 119.98 ارب سے 124.873 ارب روپے تک بڑھا دیا گیا ہے۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے لیے آبپاشی کے بجٹ کو 21.231 ارب روپے سے بڑھا کر 24.091 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ اے ڈی پی 23-2022 میں محکمہ زراعت اور آبپاشی کے لیے مختص رقم 36.2 ارب روپے ہے۔

    واٹر اینڈ سیوریج سیکٹر کو مالی سال 23-2022 میں 224.675 ارب دیے گئے ہیں، شہر کی دو بڑی اسکیموں کو آنے والے مالی سال کے دوران عمل میں لایا جائے گا۔

    ان میں 9.423 ارب روپے سے گجر، محمود آباد اور اورنگی نالہ کے متاثرین کی دوبارہ آباد کاری اور 511.724 ارب روپے کی لاگت سے گریٹر کراچی بلک واٹر اسکیم K-IV اضافے کا کام شامل ہیں۔

    سندھ حکومت نے اس شعبے کے بجٹ کو اگلے مالی سال 23-2022 کے لیے 8 ارب سے بڑھا کر 12 ارب کردیا ہے۔

    حکومت سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کے آپریشنز کو اگلے مالی سال میں دیگر اضلاع تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے جن میں حیدرآباد، قاسم آباد، کوٹری، سکھر سٹی اور روہڑی شامل ہیں۔

    خریداری کا عمل پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے اور اس سال کے آخر میں آپریشن شروع ہو جائے گا۔ SSWMB کی توسیعی کارروائیوں کے پیشِ نظر کام کیا جائے گا۔

    آئندہ مالی سال 23-2022 کے بجٹ میں محکمہ سماجی تحفظ کے لیے 15.435 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔بزرگ شہریوں، یتیموں اور غریبوں کی بہبود اور اسے بہتر بنانے کے لیے اگلے مالی سال 23-2022 سے کئی سماجی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں اور انہیں مالی اعانت فراہم کی جا رہی ہے۔

    قبل ازیں سندھ کی کابینہ نے 23-2022ء کے لیے 1 اعشاریہ 71 ٹریلین روپے کا ٹیکس فری بجٹ منظور کر لیا۔ وزیرِ اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیرِ صدارت صوبائی کابینہ کا اجلاس منعقد ہوا۔اجلاس میں تمام صوبائی وزراء، مشیر، معاونینِ خصوصی، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری اور دیگر متعلقہ افسران شریک ہوئے۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سندھ کے وزیرِ اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ غریبوں کا بجٹ ہے، جس میں سماجی تحفظ اور معاشی استحکام کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔

    ا

  • پاکستان:وفاقی کابینہ کا اجلاس آج :سینیٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا

    پاکستان:وفاقی کابینہ کا اجلاس آج :سینیٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا

    اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس آج ہوگا۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت ہونیوالے اجلاس کا 5 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا ہے۔ کابینہ اجلاس میں درآمدات، برآمدات اور تجارتی توازن کی صورتحال پر بریفنگ دی جائے گی۔

    رپورٹس کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں سافٹ ویئر ایکسپورٹ اور آئی ٹی شعبے کی شرح نمو کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

    ایجنڈے کے مطابق وفاقی کابینہ میں ریٹائرمنٹ کی ڈائریکٹری رپورٹ پیش کی جائے گی، پاکستان کی 75ویں سالگرہ پر اعزازی نوٹ کے اجرا کی منظوری بھی دی جائے گی۔رپورٹس کے مطابق ای سی سی کے اجلاس کے فیصلوں کی توثیق بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ادھر ذرائع کے مطابق سینٹ کا اجلاس بھی طلب کرلیا گیا ہے اور یہ اجلاس وزیراعظم شہبازشریف کی طرف سے صدرمملکت کواجلاس کی ریکوزیشن بھیجنے کے بعد طلب کیا ہے ،

    اس اہم اجلاس میں کیا فیصلے ہوں گے ، اس کےبارے میں فی الحال تو کوئی واضح چیزیں سامنے نہیں آئیں تاہم یہ کہا جارہا ہےکہ یہ اجلاس بھی ہنگامہ خیز ہوسکتا ہے کیونکہ سینیٹ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کے سینٹرز کی طرف سے سخت ردعمل کی توقع ہے ، ادھر اسلام آباد سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیاہےکہ حکومت کی کوشش ہے کہ وہ اس اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے‌حوالے سے کوئی پیش رفت کے طور پرمعاملے کو زیربحث لائے

  • عوام کے مسائل کے حل میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے:بلاول بھٹو

    عوام کے مسائل کے حل میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے:بلاول بھٹو

    اسلام آباد:بلاول بھٹو زرداری نے آج ایک اہم اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے مسائل کے حل میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی سربراہی میں وفاقی کابینہ میں شامل پی پی پی کے وزراء کا اجلاس ہوا جس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء نے اپنے اپنے محکموں کی کارکردگی پر بریفنگ دی گئی۔

    اجلاس میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو پی پی پی سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء نے اپنے اپنے محکموں سے متعلق مستقبل کے منصوبوں سے آگاہ کیا۔

    اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ عوام کے مسائل کے حل میں کوئی کوتاہی نہ کی جائے، آپ گزشتہ حکومت کی نااہلیوں کے سبب مشکلات میں گھرے عوام کے مسائل کو حل کریں۔

    بلاول بھٹو زرداری نے یہ بھی کہا کہ مجھے بخوبی احساس ہے کہ عمران خان کی نااہل اور نالائق حکومت آپ کے لئے مسائل کا پہاڑ چھوڑ کرگئی ہے۔

    پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے مزید کہا کہ آگے بڑھیں اور اپنے کردار سے عوام کو پیغام دیں کہ خدمت ہی آپ کی سیاست ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کا ہر وزیر بلاتفریق ہر پاکستانی کے مسائل حل کرنے کا پابند ہے۔