Baaghi TV

Tag: کارکردگی

  • کلمہ پڑھ کہ کہتا ہوں یہ امریکی سازش نہیں اپنی کارکردگی سے نکلے،شرجیل میمن

    کلمہ پڑھ کہ کہتا ہوں یہ امریکی سازش نہیں اپنی کارکردگی سے نکلے،شرجیل میمن

    کلمہ پڑھ کہ کہتا ہوں یہ امریکی سازش نہیں اپنی کارکردگی سے نکلے،شرجیل میمن

    وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت ترقیاتی کاموں میں تیزی لارہی ہے

    پیپلز بس سروس کے افتتاح کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن کا کہنا تھا کہ صحافیوں کی بہبود کے لیے سندھ حکومت نے بہت کام کیے، پیپلزبسیں کراچی میں روٹ پرچلیں گی پیپلزبسوں کا موازنہ کسی بھی ترقی یافتہ ممالک کی سروس سے کیا جا سکتا ہے، پیپلز بس 7روٹس پر چلے گی پہلے پر آغاز ہوچکا ہے،انٹرا بس سروس کا کریڈٹ آصف زرداری اور بلاول بھٹو کودونگا کراچی میں دیگر بس سروس بھی جلد شروع ہونگی ،بسوں کے لیے پلانٹ کراچی میں لگائے جائیں گے تا کہ کم قیمت پر فراہمی ہوں ،صحافیوں کو لائف انشورنس دینے جارہے ہیں رجسٹرڈ صحافیوں کو ہیلتھ کارڈ اور انشورنس دی جائیگی ،حیدر آباد کے لیے بھی پبلک ٹرانسپورٹ بی آر ٹی لا رہے ہیں، انفورمیشن ڈیپارٹمنٹ کوشش کررہا ہے بہتری کیلئے اقدام کرے ہم سب ایک ملک میں رہتے ہیں

    شرجیل انعام میمن کا مزید کہنا تھا کہ کلمہ پڑھ کر بول دیں کہ عمران خان امریکی سازش سے نکلے ہیں یا اپنی کاررکردگی کی بنا پر، میں کلمہ پڑھ کہ کہتا ہوں یہ امریکی سازش نہیں اپنی کارکردگی سے نکلے ہیں پورے پاکستان میں لانگ مارچ ہوا ،10 جگہوں پر روکا گیا ،پی ٹی آئی کے لانگ مارچ میں گرین بیلٹ جلائے گئے اکبر ایس بابر کا پارٹی فنڈنگ سے متعلق موقف سب کے سامنے ہے،اکبر ایس بابرکے مطابق بھارت اوراسرائیل نے پی ٹی آئی کو فنڈنگ کی،مودی الیکشن لڑ رہا تھا، کس لیڈرنے نیک خواہشات کا اظہارکیا تھا ،بلاول بھٹو نے امریکا میں کہا کہ ہمارے وزیراعظم کا روس جانا ٹھیک تھا، گھڑیاں تو پرانی ہوگئیں ، مکہ ایڈیشن گھڑی کا نام تھا،غلطیاں انسان سے ہوتی ہیں، آج سیاست کو ٹھیک کریں،اگر آپ کے ہاتھ صاف تھے تو پشاور بی آرٹی میں 7ارب روپے کی کرپشن کیسے سامنے آئی، پشاور ہائیکورٹ نے کہا بی آر ٹی پر نیب اور ایف آئی اے انویسٹی گیشن کریں پی ٹی آئی نے انویسٹی گیشن پر اسٹے آرڈر کیوں لیا ؟

    عدلیہ اورججز پرانگلیاں اٹھانا، ججز پر الزامات لگانا بند کریں،جس پراعتراض ہے اس کا نام لیں،چیف جسٹس

    یہ معاملہ عدلیہ کی آزادی سے متعلق ہے،عدالت کا اٹارنی جنرل کو حکم

    عدلیہ کی غیر متعلقہ حدود میں مداخلت شرمندگی کا باعث بنتی ہے،سپریم کورٹ

    عدلیہ کے خلاف نازیبا اور توہین امیز ریمارکس،سینئر اینکر پرسن بارے عدالت کا بڑا حکم

  • وزیراعظم مطمئن نہیں تو ہم بھی چلے جائیں گے:شوکت ترین

    وزیراعظم مطمئن نہیں تو ہم بھی چلے جائیں گے:شوکت ترین

    کراچی:وزیراعظم مطمئن نہیں تو ہم بھی چلے جائیں گے:اطلاعات کے مطابق آج وزیرخزانہ نے ایک صحافی کے سوال پرغصے کے جو جواب دیا وہ اب سب کے لیے دلچسپی کا مرکز بن گیا، وزیر خزانہ شوکت ترین کراچی چیمبر آف کامرس میں کامیاب جوان پروگرام کے مرکز کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کے لیے جارہے تھے تو ان سے کسی صحافی نے سوال کردیا

    اطلاعات ہیں‌ کہ اس دوران ایک صحافی نے سوال کیاکہ وزیراعظم نے وزرا کی کارکردگی انعامات دیئے ، آپ کی وزارت ان اچھی وزارتوں میں جگہ نہ بناسکی ، صحافی نے مزید کہا کہ اگر وزیراعظم مطمئن نہ ہوئے تو پھر آپ کیا کریں گے اس پر وزیرخزانہ شوکت ترین نے کہا کہ بابا اگر وزیراعظم مطمئن نہیں تو ہم بھی چلے جائیں گے

     

     

    یاد رہے کہ آج کراچی چیمبر آف کامرس میں کامیاب جوان پروگرام کے مرکز کے افتتاح کے موقع پر تقریب سے خطاب کرتے وزیرخزانہ نے کہا ہے کہ اب آئی ایم ایف سے جان چھڑا لینی چاہیے اب پاکستان کو اپنے پاوں پر کھڑا ہونا چاہے ، انہوں نے مزید کہا کہ معیشت میں بڑھاوا سب سے کے لیے چاہتے ہیں۔ کھاتے داروں کا ڈیٹا مل گیا ہے اب انہیں ان کی آمدن دکھا کر ٹیکس وصول کریں گے، غریب طبقہ 74سال سے معاشی ترقی کے ثمرات نچلی سطح تک منتقل ہونے کا انتظار کرتا رہا اب ایسا نہیں ہے۔

    انہوں نے کہا کہ کامیاب پاکستان کے تحت 1400ارب روپے کے قرضے فراہم کریں گے، عوام کو صحت کارڈ، کاشتکاروں، گھریلو کاروبار، ایس ایم ایز اور تعمیرات کے لیے سستے قرضے فراہم کریں گے۔ وفاقی حکومت عوام کو پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسوں کی چھوٹ کی وجہ سے ماہانہ 22سے 24ارب روپے کا بوجھ برداشت کررہی ہے۔

    وزیر خزانہ نے کہا کہ ٹیکس سے متعلق اصول سوچ سمجھ کر بنائے ہیں، تاجروں کو یقین دلاتا ہوں کہ تاجروں کے خلاف ایف بی آر کے چھاپوں کا نوٹس لیا جائے گا، انکم ٹیکس میں 3 کروڑ 80 لاکھ میں سے صرف 2 لاکھ افراد ٹیکس دے رہے ہیں تاہم اب آمدن کا ڈیٹا اکھٹا کرلیا گیا ہے۔ خوردہ کاروبار کا 16 ہزار ارب کا حجم غیر دستاویزی ہے، صرف 4 ہزار ارب کا خوردہ کاروبار ریکارڈ پر ہے جبکہ پوائنٹ آف سیل سسٹم کاروبار کے حجم پر لاگو ہونا چاہیے۔

    وفاقی وزیر نے کہا کہ تاجروں کے خلاف چھاپے جرمانے درست نہیں ایف بی آر سے یہ کلچر ختم کریں گے، معاشی ترقی اور استحکام کے لیے زراعت، آئی ٹی، تعمیرات، تجارت کے شعبوں پر توجہ دینی ہے ان شعبوں پر توجہ دینے سے معاشی نمو پانچ فیصد رہے گی۔ وزیر اعظم کا دورہ چین اب تک کا کامیاب دورہ ہے وزیر اعظم نے چین کے دورے میں چینی قیادت سے چین اسپیشل اکنامک زون میں سرمایہ کاری کی درخواست کی ہے۔

    معاشی چیلنجز پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں ہے معیشت کو درپیش چیلنجز سے امریکا جرمنی برطانیہ بھی پریشان ہیں۔

  • ڈی پی او نے پولیس کی رپورٹ جاری کر دی

    ڈی پی او نے پولیس کی رپورٹ جاری کر دی

    قصور
    ڈی پی او قصور عمران کشور کی خصوصی ہدایات پر پولیس کے ماہ دسمبر کے دوران درجنوں سنگین وارداتوں میں ملوث ڈکیت 13گینگ اشتہاری 125 مجرمان سمیت 500 جرائم پیشہ عناصر گرفتار 68 لاکھ کا مال مسروقہ برآمد 160 ملزمان کے قبضہ سے ایک کلاشکوف، 10 رائفل 16 بندوق 129 پسٹل برآمد 42 قمار باز گرفتار 956 پتنگیں ڈور چرخیاں برآمد
    تفصیلات کے مطابق ڈی پی او قصور عمران کشور کی خصوصی ہدایات پر پولیس نے ماہ دسمبر کے دوران سنگین جرائم پر قابو پانے کے لیے امن و امان برقرار رکھنے کے لئے پولیس کو خصوصی ٹارگٹ دیا جس کا پولیس نے عمل کرتے ہوئے فوری ایکشن لیا ضلع بھر کے تمام تھانے متحرک ہوگئے نے اپنی کارروائی کرتے ہوئےاور اپنے اپنے علاقے کے جرائم پیشہ افراد کو گرفتار کیا اور ان سے اسلحہ وغیرہ بھی برآمد کیا جن قمار بار ، ڈکیت گینگ اشتہاری مجرمان سمیت جرائم پیشہ عناصر گرفتار جن میں44 کلو گرام چرس 2599 لیٹر شراب 140 لیٹر لاہن 05 چالو بھٹیاں برآمد ڈکیت 13گینگ اشتہاری 125 مجرمان سمیت 500 جرائم پیشہ عناصر گرفتار 68 لاکھ کا مال مسروقہ برآمد 160 ملزمان کے قبضہ سے ایک کلاشکوف، 10 رائفل 16 بندوق 129 پسٹل برآمد 42 قمار باز گرفتار 956 پتنگیں ڈور چرخیاں برآمد ڈی پی او قصور عمران کشور کا کہنا تھا جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی

  • ڈیڑھ ماہ کی کارکردگی نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے

    ڈیڑھ ماہ کی کارکردگی نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیئے

    قصور
    تھانہ الہ آباد نے ڈیڑھ ماہ کی کارکردگی رپورٹ جاری کر دی
    تھانہ الہ آباد نے ڈیڑھ ماہ میں گزشتہ کئی سالوں کے ریکارڈ توڑ دئیے
    تفصیلات کے مطابق تھانہ الہ آباد نے اپنی کارکردگی جاری کر دی پولیس تھانہ الہ آباد نے ڈیڑھ ماہ میں چار بین الاضلاعی ڈکیت گینگ کے 15 ارکان کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے گرفتار کیا جنہوں نے 19 سے زائد وارداتوں کا انکشاف کیا
    گرفتار ملزمان کے قبضے سے 16 لاکھ 75ہزار روپے نقدی برآمد کی گئی اور اسے اصل مالکان کے حوالے کیا گیا
    جبکہ گرفتار ملزمان کے قبضہ چوری شدہ 22 موٹر سائیکلیں،جدید اسلحہ اور دیگر مال مسروقہ بھی برآمد کیا گیا ہے
    تھانہ الہ آباد کی تاریخ میں پہلی بار اتنے کم عرصہ میں بہترین کارکردگی دینے پر الہ آباد کی تاجر برادری،سیاسی و سماجی راہنماوں اور دیگر تنظیموں نے ڈی پی او قصور ڈی ایس پی چونیاں ایس ایچ او الہ آباد محسن علی سندھو اور انکی ٹیم کو خراج تحسین پیش کیا ہے

  • عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    عثمان بزدار کے کارنامے ۔۔۔نوید شیخ

    سردار عثمان بزدار نے پولیٹیکل سائنس مں ایم اے کا ہوا ہے۔عثمان بزدار 2002 سے 2008 تک مسلم لگ۔ ق۔ مشرف دور مں تونسہ کے تحصل ناظم ۔ دوہزار ترہ میں مسلم لگا ن کے ٹکٹ پر الیکشن لڑا . مگرپیپلز پارٹی کے امیدوار سے ہار گئے۔پھر 2018 میں عثمان بزدار جنوبی پنجاب صوبہ محاذ کا حصہ بن گئے۔گزشتہ جنرل الیکشن میں عثمان بزدارتونسہ سے تحریک انصاف کے ٹکٹ پر پہلی بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے اور پہلی ہی باری میں صوبے کے سب سے بڑے عہدے کے لیے نامزد ہو گئے۔

    مزید بڑھیے: عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    پنجاب کے وزیراعلیٰ بننے سے پہلے وہ کیا تھے کم لوگ ہی جانتے ہیں۔ انھں عمران خان نے وزیراعلیٰ کیوں بنایا یہ بات اور بھی کم لوگ جانتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے کہ بننا جہانگیر ترین نے تھا وہ نااہل ہوئے تو انھوں نے اپنا بندہ بنوا لیا۔ کوئی کہتا ہے کہ پرچی نکالی گئی ہے۔کسی کا اندازہ ہے کہ کسی دعا یا استخارے کے نتیجے میں یہ وزیر اعلی بنے۔ مگراس بات کو تو عقل ماننے کو تیار نہیں کہ عثمان بزدار کو پسماندہ علاقے سے تعلق ہونے کی بنا پر وزیر اعلی بنایا گیا۔چلیں وجہ جو بھی ہو۔اگر ان کے9 سے 10 ماہ کی کارکردگی کا موزانہ سابق وزراء اعلی سے کیا جائے تو بزدارکا دور شایدپنجاب کی تاریخ کا سب سے خراب اوربدترین دور ہے۔اس میں کسی کوکوئی شک و شبہ نہیں کہ عثمان بزدار نالائق اور نااہل ہیں ۔ بظاہر تو عثمان بزدار پاکستان کے سب سے بڑے اور طاقتور صوبے کے سربراہ ہیں ۔مگر ایسی طاقت کا کیا فائدہ جب آپکو استعمال کرنی ہی نہ آتی ہو۔شاید اگلے چا ر سالوں تک عثمان بزدار اپنے اختیارات کو استعمال کر نا سیکھ جائیں مگر تب تک پنجاب کا بٹھہ ضرور بیٹھا جائیں گے۔کیونکہ کوئی ایسا قابل ذکر کام نہیں جووہ اپنے حلقے کے عوام کے لیے اب تک کر سکے ہوں تو پورے پنجاب کے لیے انھوں نے کیا کرنا ہے۔پنجاب کے سیاسی کلچر میں کمزور اور مسکین کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ لوگ طاقتور اور مضبوط حکمران چاہتے ہیں۔

    مزید پڑھیے: پاکستانی آٹوموبائل مافیا کو نکیل کون ڈالے گا ؟. نوید شیخ

    سونے پر سہاگہ کہ عثمان بزدار نے اپنے دفاع کے لیے ترجمانوں کا پورا دستہ تیار کر لیا ہے . یعنی 38 ترجمان مقرر کر لے ہیں. اتنے پنجاب میں ڈسٹرکٹ نہیں ہیں۔ان ترجمانوں سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا۔وہ اس لیے کہ پنجاب حکومت کی کارکردگی ہی صفر بٹاصفر ہے۔ صاف بات ہے پنجاب کو ایسے نہیں چلایا جا سکتا۔ تحریک انصاف نے خود بھی شعوری طور پر انکو قبول نہیں کیا ہے ایک جانب تو ان کو وزیر اعلی پنجاب لگا دیا دوسری جانب پارٹی کے ورکر اور لیڈر خود ان کی ٹانگیں کھینچ رہے ہیں۔پنجاب کوئی بلوچستان نہیں، پنجاب کوئی کے پی نہیں۔ یہ کوئی چھوٹا صوبہ نہں بلکہ ساٹھ فیصد پاکستان ہے۔ یہ پاکستان کا سب سے موثر اور بڑا صوبہ ہے۔ یہاں کمزور وزیر اعلیٰ کیسے کامیا ب ہو سکتاہے۔

    عثمان بزدار کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آرہی ہے کہ میڈیا ایک دو دھاری تلوار ہے۔ یہ جتنا باہر کاٹتا ہے اتنا ہی اندر کاٹتا ہے۔ ابھی تک تحریک انصاف نے اپنے سیاسی مخالفین کو جائز و ناجائز گندا کرنے کے لیے میڈیا کا بھر پور استعمال کیا ہے۔ لیکن اب ان کی باری ہے۔
    ڈی پی او پاکپتن کا معاملہ ہو۔ سانحہ ساہوہال ہو۔ ہیلی کوپٹر کا استعمال ہو۔ وزیر اعلی پنجاب کے پروٹوکول کا معاملہ ہو۔ آئی جی پنجاب کی تبدیلیاں ہوں۔ شہروں مں کوڑاکرکٹ کے ڈھیر ہوں۔ ہسپتالوں اور سکولوں کی حالت زار ہو۔ ساہیوال ہسپتال مں اے سی نہ چلنے سے بچوں کی اموات ہوں۔ اربوں کی سبسڈی کے باوجودرمضان بازار فلاپ ہوں۔اسٹریٹ کرائم میں اضافہ ہو۔ بیوروکریسی میں تقرر وتبادلے ہوں۔مارکیٹ پرائس کمیٹیاں ہوں۔عثمان بزدار کے اپنے حلقے تونسہ میں بغرر بورڈ اور متعلقہ افراد کی منظوری کے 102 افراد میں 1 کروڑ 6 لاکھ روپوں کی تقسیم ہو۔لیہ گرلز کالجز کی طالبات کو دوردراز علاقوں سے لانے والی بسوں کو ڈی جی خان شفٹ کرنے کا معاملہ ہو۔ ہر امتحان مں پنجاب حکومت فیل ہی ہوئی ہے اور اس سب کی ذمہ داری صرف اور صرف عثمان بزدارکی ہے۔

    مزید پڑھیے : ملاوٹ کا ناسور … نوید شیخ

    عثمان بزدار کا موازنہ اچھا یا برا شہباز شریف سے ہی کیا جائے گا۔ اوراب تک کارکردگی میں شہباز شریف عثمان بزدار سے لاکھ درجے بہتر ہی تھے۔پنجاب میں اگر کوئی تحریک انصاف کو کمزور کر رہا ہے تو وہ وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار ہی ہیں۔کوئی مانے یا نہ مانے لیکن وزیر اعلیٰ پنجاب بننے کے بعد عثمان بزدار عمران خان کے نمبر ٹو ہیں۔وہ عمران خان کے بعد سب سے اہم ہیں۔ شاہ محمود، جہانگیر ترین، علیم خان، اسد عمر اب اتنے اہم نہیں جتنے سردار عثمان بزدار اہم ہیں۔وزیراعظم عمران خان وزیراعلیٰ بزدار کے بارے میں بار بار فرماتے ہیں. وہ شہباز شریف کی طرح لوٹ مار نہیں کرے گا۔یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مگر ممکن ہے عثمان بزدار کی نااہلی سے پنجاب کو مالی طورپر نقصان شہباز شریف کی لوٹ مار سے زیادہ ہو جائے۔

    مزید پڑھئے: رمضان اور ہماری منافقت … نوید شیخ

    عوام کو عثمان بزدار نے دھوکے میں رکھا ہوا ہے۔کوئی اصلاحات نہیں ہوئیں . نہ ہی کوئی کا م ہوا ہے پہلے کی طرح بدحالی عوام کا مقدر دیکھائی دے رہی ہے۔ ویسے ہی لوگ سٹرکوں پر احتجاج کر رہے ہیں۔ پہلے سے بھی زیادہ بے روزگاری۔مہنگائی اور فاقوں مں اضافہ ہورہا ہے۔ ویسے ہی جاگر داری اور طاقت کا نظام قائم ودائم ہے۔پہلے سے بھی زیادہ صرف میڈیا اور ٹویٹر پر جعلی کارکردگی جاری وساری ہے۔ عملی کام صفر ہیں۔پہلے کی طرح ہی ہیلی کاپٹر اور پروٹوکول گاڑیاں استعمال ہو رہی ہیں۔ پہلے ہی کی طرح صرف سب اچھا ہے کی رپورٹ ہے۔ یہ ہے وزیر اعلی پنجاب عثمان بزدار کی کارکردگی.

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں

  • عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    عمران خان پر چارج شیٹ ۔۔۔ نوید شیخ

    عمران خان کو حکومت میں آئے 9 ماہ گزر چکے ہیں۔ ان 9 ماہ میں جہاں بیورو کریسی میں خوب اکھاڑ پچھاڑ کی گئی وہاں وفاقی اور صوبائی وزیر بھی نہیں بچے۔ تبدیلی ہر جگہ عملی طور پر نظر آئی۔ ویسے تو حکومت لیموں سے لے کر ڈالر تک کی قیمتیں کنڑول کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ مگر گراؤنڈ پر حالات اس سے بھی برے ہیں۔

    سیاست میں نعرے لگانا ، دعوے کرنے ، باتیں بنانا بھی ضروری ہے مگر کام کرنا ایک فن ہے ۔ یہ تو ثابت ہو چکا ہے تحریک انصاف میں باتیں کرنے والے زیادہ ہیں اور کام کرنے والے کم ۔ شاید اسی لیے ہر جگہ ٹیکنو کریٹس سے کام چلایا جا رہا ہے ۔ بیورو کریسی، وزراء تو دور کی بات وزیر اعلی پنجاب کی بات نہیں سنتی ۔عثمان بزدار کی نااہلی کے چرچے تو زبان زد عام ہیں مگر پھر بھی وہ کپتان کے وسیم اکرم پلس ہیں ۔

    ڈالر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ قیمت اس لیے بڑھ رہی ہے کیونکہ مشرف ، زرداری اور نواز شریف دور میں منصوعی طور پر ڈالر کی قیمت کو روکے رکھا گیا تھا ۔ جبکہ حقائق یہ ہیں کہ پیپلز پارٹی دور میں ڈالر 32 روپے، نواز شریف کے دور میں ڈالر 26 روپے اور تحریک انصاف کے ان 9 مہینوں میں ڈالر 19روپے مہنگا ہوا ہے ۔ عوام کے لیے خوشخبری یہ ہے کہ پی ٹی آئی کا ابھی چار سال اور تین ماہ کا دور حکومت باقی ہے ۔

    کاروبار ختم ہو چکا ہے ۔ مارکیٹیں سنسان ہیں ۔ گاہک غائب ہیں ۔ رئیل اسٹیٹ کا کاروبار بند پڑا ہے ۔پرچیوں پر کاروبار ہو رہا ہے ۔ لوگ پیسہ روک کر بیٹھے ہوئے ہیں ۔ کسی کو حکومتی پالیسوں پر اعتماد نہیں ۔ایک کروڑ نوکریاں تو دور کی بات 30 فیصد بے روز گاری میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ پیٹرول کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ گزشتہ دور کی حکومتیں منصوعی ٹیکس لگا کر زائد قیمتیں وصول کرتی ہیں ۔ اب شاید نئے پاکستان میں پیٹرول پر صرف ٹیکس ہی وصول کیا جا تا ہے ۔گزشتہ ادوار میں سٹاک مارکیٹ کو بھی منصوعی طور 50 ہزار سے زائد پوائنٹس پر رکھا گیا تھا جو نیا پاکستان بنتے ساتھ ہی اپنی اصل حالت میں واپس آچکی ہے ۔بجلی کے بھی منصوعی کارخانے اور منصوبے لگائے جاتے تھے ۔اسی لیے اب لوڈ شیڈنگ بالکل ختم ہو چکی ہے ۔

    موٹرویز ، میٹرو بسیں ، اورنج لائن اور سٹرکوں کے جال بھی جعلی تھے۔ مگر پشاور میں اصلی بی آر ٹی منصوبہ تعمیر کیا جا رہا ہے ۔ اس لیے روز اس کا ڈیزائن تبدیل ہوتا ہے ۔ لاگت ڈبل ہو چکی ہے ۔ کسی کو نہیں پتہ کہ یہ منصوبہ کب مکمل ہو گا ۔ مگر عمران خان کو یہ یقین ہے کہ اس منصوبے میں کرپشن نہیں ہو ئی اس لیے یہاں نہ کسی سے حساب مانگا جا ئے گا نہ کسی کا احتساب کیا جائے گا۔

    اس میں کوئی شک نہیں کہ گزشتہ ادوار میں کرپشن ہوئی ۔ نواز شریف سے زرداری تک ، اسفند یار ولی سے محمود اچکزئی تک ، فضل الرحمان سے شیر پاؤ تک ، سب پر کرپشن کے سینکڑوں الزامات ہیں ۔ کئی تو عدالتوں سے سزا یافتہ ہیں ۔ اکثر پر نیب میں کیسسز چل رہے ہیں ۔ ان 9 ماہ میں تحریک انصاف نے شاید کرپشن نہ کی ہو ۔ مگر نا اہلی کی ایسی مثالیں قائم کیں ہیں کہ عوام کی بس ہو چکی ہے ۔ عمران خان اور تحریک انصاف کے وہ ووٹر اور سپورٹر جو ان کی خاطر مرنے کو تیار رہتے تھے ۔ وہ بھی اب حکومتی کارکردگی سے مایوس دکھائی دیتے ہیں ۔ کسی کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ کیوں چوروں ، ڈاکوؤں، لٹیروں کا پرانا پاکستان اس 9 ماہ کے نئے پاکستان سے بہتر تھا۔

    کپتان کا اصل امتحان عید کے بعد شروع ہو گا جب ایک جانب اپوزیشن اکٹھی ہو کر لڑنے کے لیے تیار ہو گی تو دوسری طرف بجٹ پیش کرنا ہو گا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کپتانوں کے کپتان عمران خان اس بجٹ میں ریلیف اپنے ووٹر اور سپورٹر کو دیتے ہیں یا پھر پرانے پاکستان کے چوروں اور لیٹروں کی طرح صرف ایک خاص طبقے کو ۔

    تحریک انصاف کے لیے پیغام ہے کہ ہنی مون گزر چکا عمران خان کو اب جلد کچھ عملی طور پر کر کے دکھانا ہو گا ۔ ان دعوؤں، وعدوں اور خوابوں سے مزید کام نہیں چلنا ۔اب عمران خان سے حساب بھی مانگا جائے گا اور حکومت کی کارکردگی کا احتساب بھی کیا جائے گا ۔

    اپنی رائے دینے کے لیے ای میل کریں
    naveedsheikh123@hotmail.com

    ٹویٹر پر فالو کریں