Baaghi TV

Tag: کال

  • برہنہ ویڈیو کال کی ریکارڈنگ،نوجوان کو کیا گیا بلیک میل

    برہنہ ویڈیو کال کی ریکارڈنگ،نوجوان کو کیا گیا بلیک میل

    لڑکی ویڈیو کال پر برہنہ ہوئی، نوجوان سے کپڑے اتارنے پر اصرار کیا تو نوجوان نے بھی کپڑے اتار دیئے، صرف 30 سیکنڈ کی برہنہ کال کے بعد نوجوان کو بلیک میل کیا جانے گا، ویڈیو وائرل ہونے کے خوف سے نوجوان نے 77 ہزار ادا کئے، اور پیسوں کی ڈیمانڈ‌کی گئی تو نوجوان تھانے جا پہنچا، پولیس نے واقعہ کا مقدمہ درج کر لیا ہے

    یہ واقعہ بھارت کا ہے جہاں قانون کے طالب علم کے ساتھ ، جو ایک ہاسٹل میں مقیم ہے ،واردات ہوئی ہے،نوجوان طالب علم ہاسٹل میں رہائش پزیر ہے، ایک روز وہ ہاسٹل پہنچا تو اسکے موبائل فون پر ویڈیو کال آئی جس میں ایک برہنہ لڑکی اسے بات کرنا چاہتی تھی، دوران کال لڑکی نے نوجوان کو بھی کپڑے اتارنے کا کہا، پہلے تو اس نے انکار کیا پھر کچھ توقف کے بعد اس نے خود کو برہنہ کیا اور تقریبا 30 سیکنڈ کے لئے اس نے کپڑے اتارے، اس کے بعد کال کٹ گئی اور دوسرے نمبر سے لڑکی نے نوجوان کو کال کر کے بلیک میل کرنا شروع کر دیا کہ میں نے ویڈیو ریکارڈ کر لی ہے اب وائرل کر وں گی

    سوشل میڈیا پر جعلی آئی ڈیز کے ذریعے لڑکی بن کر لوگوں کو پھنسانے والا گرفتار

    قصور کے بعد تلہ گنگ میں جنسی سیکنڈل. امام مسجد کی مدرسہ پڑھنے والی بچیوں کی ساتھ زیادتی

    سوشل میڈیا چیٹ سے روکنے پر بیوی نے کیا خلع کا دعویٰ دائر، شوہر نے بھی لگایا گھناؤنا الزام

    لڑکی نے پیسوں کی ڈیمانڈ کی تو نوجوان نے اسے 77 ہزار بھجوائے،لڑکی نے اور پیسوں کی ڈیمانڈ کی تو لڑکا تھانے جا پہنچا اور مقدمہ درج کروا دیا،نوجوان نے پولیس کو بتایا کہ اس نے لڑکی کو اسکے بینک اکاؤنٹ میں پیسے ٹرانسفر کئے، جن نمبروں سے کال آئیں ان میںسے ایک ہنسراج نامی شخص کے نام ہے،نوجوان کا کہنا ہے کہ مجھے ایک کال آئی جس میں کہا گیا کہ میں پولیس کمشنر ہوں، ویڈیو آئی ہے، پیسے دے دو نہیں تو کیریئر تباہ کر دوں گا،نوجوان نے وہ نمبر بھی پولیس کو دے دیا،

    اسسٹنٹ ڈپٹی کمشنر آف پولیس (ایسٹ زون) سید علی عباس نے مقدمہ درج کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جلد ملزمان کو گرفتار کر لیا جائے گا

    جیلوں میں 140 نوزائیدہ بچے بھی ماؤں کے ہمراہ قید، جیلوں میں ایڈز کے مریض کتنے؟

     پنجاب میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد کے حوالے سے رپورٹ پنجاب اسمبلی میں جمع 

    شیخ رشید کی جانب سے سندھ کو ایڈزستان کہنے پر بلاول نے کیا کام کیا؟

    بلاول کے شہر لاڑکانہ میں مزید 617 افراد میں ایڈز کی تشخیص

    نیب متحرک، ایڈزکنٹرول پروگرام کے مالی امور،فنڈنگ کی تفصیلات طلب

    لاڑکانہ میں 11 سو سے زائد بچے ایڈز کا شکار، نیو یارک ٹائمز نے بھٹو کے شہر پر تہلکہ خیز رپورٹ شائع کر دی

  • واپڈا اہلکاروں کا لوگوں کیساتھ غلط رویہ

    واپڈا اہلکاروں کا لوگوں کیساتھ غلط رویہ

    قصور
    لیسکو چونیاں الہ آباد کے لوگ سخت پریشان،جائز کام کروانا مشکل تر ہو گیا

    تفصیلات کے مطابق لیسکو چونیاں کے علاقے الہ آباد میں واپڈا اہلکاروں کا رویہ عوام کیساتھ انتہائی ترش ہے
    دو روز قبل نیو اقبال ٹاؤن الہ آباد کا ٹرانسفارمر 6 بجے صبح خراب ہوا تو مقامی پوگوں کے بارہا کال کرنے پر کوئی جواب نا دیا گیا الٹا کال کرنے والوں سے غلط رویہ سے بات کی جاتی رہی
    صبح سویرے خراب ہونے والے ٹرانسفارمر کو شام کے قریب ٹھیک کیا گیا
    اتنی دیر لوگ سخت گرمی میں گزارہ کرتے رہے
    واپڈا اہلکاروں کا رویہ انتہائی ترش ہے جس کے باعث لوگ کال کرنے سے بھی ہچکچاتے ہیں
    اہلیان علاقہ نے ڈی سی قصور و ایس ای لیسکو قصور سے نوٹس لینے کی درخواست کی ہے

  • سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے مفت کال کرنے کی سہولت

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے مفت کال کرنے کی سہولت

    سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل سے مفت کال کرنے کی سہولت فراہم کردی گئی۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے چئیرمن پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی (پی ٹی اے) کو یہ سہولت فراہم کرنے کی ہدایت کردی۔اب سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں موبائل کمپنیاں زیرو بیلنس پر بھی کال کی سہولت دیں گی۔حکومت کی جانب سے یہ اقدام عوام کے ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو بہتر بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔

    واضح رہے کہ سیلاب نے ملک کے چاروں صوبوں میں تباہی مچا دی ہے، سوات میں دریا بپھر گيا، ہوٹل اور عمارتیں بہا لے گيا، پانی کی شدت کے سامنے مضبوط عمارتیں بھی نہیں ٹھہر سکیں، دل دہلا دینے والے مناظر نے خوف بڑھا دیا۔

    انتظامیہ کی جانب سے نوشہرہ شہر خالی کرنے کی اپیل کردی گئی، رات میں ساڑھے چار لاکھ کیوسک پانی کا ریلہ گزرے گا، جی ٹی روڈ بھی ڈوبنے کا خدشہ ہے، جس کے باعث ایمرجنسی نافذ کردی گئی، مہمند ڈيم بھی سیلاب سے متاثر ہوگیا، پانی باہر نکلنے لگا۔

    اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے سیلاب متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے سندھ حکومت کو 15 ارب روپے کی امداد دینے کا اعلان کیا ہے۔

    متاثرین سیلاب سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ سیلابی ریلوں نے ہر طرف تباہی مچائی ہوئی ہے۔ سندھ میں تو ہر طرف پانی ہی پانی ہے۔ 900سےزائد لوگ جاں بحق ہوئے ہیں۔ مجھے تباہ کاریوں پر بریفنگ دی گئی۔ ہم نے دیکھا لوگ گھروں سے باہر ہیں۔ بلوچستان، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بھی سیلابی صورتحال ہے۔ بارشوں اور سیلاب سے فصلیں تباہ، مکانات منہدم، لوگ بے گھر،مواصلاتی نظام درہم برہم ہے۔ سندھ حکومت گرانٹ کو سیلاب متاثرین کی بحالی میں استعمال کرے گی۔ صوبوں سے مل کر سیلاب زدگان کی مدد کررہے ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ 28ارب روپے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کو دیے ہیں۔ آج سے سندھ میں یہ تقسیم شروع ہوجائے گی۔ بلوچستان میں بھی حالات بہت زیادہ خراب ہیں۔

    وزیراعظم نے سندھ حکومت کے لیے 15ارب گرانٹ کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت یہ گرانٹ سیلاب متاثرین پرخرچ کرے گی۔ این ڈی ایم اے سندھ حکومت کے ساتھ معاونت کرے گا۔ مخیر حضرات ،صنعتکار، تاجر عطیات دیں۔ خیمے اور مچھر دانیوں کا انتظام کررہے ہیں ۔ جو مچھر دانیاں ملیں انہیں بلوچستان اور سندھ میں تقسیم کیں ۔

  • حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    حکومت میری آخری کال سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دے،عمران خان کی دھمکی

    پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئر مین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ حکومت سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائے جائیں، حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔

    ہری پور میں پی ٹی آئی کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ قائداعظمؒ کہتے تھے انگریزوں سے آزادی کے بعد ہم کسی کے غلام نہیں ہیں، پاکستان کی حقیقی طرح آزاد کیا جائے، ملکی فیصلے پاکستان میں ہوں، پاکستان کو کسی اور کی جنگ میں شرکت نہ کروائیں، میں یہ کسی صورت میں نہیں ہونے دوں گا، ہمیں دھمکی ملی اگر امریکہ کی جنگ میں آپ شامل نہیں ہوں گے تو آپ کو ختم کر دیا جائے گا۔ میں امریکا کو کہتا ہم آپ کو ہر طرح مدد کریں گے لیکن دہشتگردی میں ساتھ نہیں دیں گے، میں دہشت گردی کے خلاف کھڑا تھا مجھے دہشت گرد کہا گیا، میں کسی دہشت گردی کے ساتھ نہیں ہوں۔

    انہوں نے کہا کہ میری قوم جاگ گئی ہے، میری پوری کوشش تھی ہم روس سے سستا تیل لیں اور اپنی عوام کو سستا تیل دیں، پاکستان پر امپورٹڈ مسلط کر دی گئی، آصف زرداری 30 سال سے چوری کر رہا ہے، جیل گیا اور جب واپس آیا پھر چوری شروع کر دی، شہباز شریف پیسہ تم چوری کرو اور پیسہ عوام واپس کرے، ہم نے چوروں سے اس ملک کو آزاد کرنا ہے۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارا حقیقی آزادی کا جو جہاد ہے اس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ہم کسی کی جنگ میں شامل نہیں ہوں گے، ہمارے فیصلے ہم خود کرینگے۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ مجھے پتا چلا مجھے گرفتار کرنے آ رہے ہیں، میں تیار ہو گیا، چلو جیل بھی دیکھ لیں گے۔ ہمارا ایک خاص بندہ جو امریکا میں پروفیسر تھا، اس نے کہا میں پاکستان کے لیے کام کروں گا وہ ٹی وی پر کوئی بات کرتا ہے، اگر اس نے کوئی بات کی ہے تو اسے عدالت لے کر جایا جائے لیکن ایسا نہیں کیا گیا، کسی کو نہیں پتا اسے کہاں رکھا گیا ہے۔ اس پر ننگا کر کے تشدد کیا گیا، شہباز گل پر جنسی تشدد کیا گیا،کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا، اس تشدد سے اس کی ذہنی صورتحال ایسی تھی وہ بالکل ٹوٹ گیا۔ عدالت میں ثابت ہو گیا اس پر ذہنی اور جنسی تشدد کیا گیا۔جنہوں نے یہ کام کیا ہے ہم پولیس والوں کو نہیں چھوڑیں گے۔ ہم قانونی طور پر ان کے خلاف کارروائی کریں گے، یہ نہیں کہا ڈنڈا لے کر ان پیچھے جائیں گے۔

    سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ساری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی، 25 مئی کو پولیس کے ذریعے تشدد کروایا، جب انہوں نے تشدد کیا تو یہ سمجھے یہ ڈر جائیں گے، میری پارٹی کے لوگوں کو ممی ڈیڈی کہا گیا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ 17 جولائی کو پنجاب میں ضمنی الیکشن آ گئے لیکن دھاندلی کے باوجود ایسا پھینٹا پڑا کہ ٹانگیں کانپنی شروع ہو گئی، 17 جولائی کو جب الیکشن میں ہار ملی تو انہوں نے کہا عمران خان کو تکنیکی طور پر شکست دیتے ہیں، جو مرضی کر لیں اب اس حقیقی آزادی کو کوئی نہیں روک سکتا، جب ہمیں ہٹایا گیا تو کہا مہنگائی بہت زیادہ ہو گئی ہے، ہمارے دور میں مہنگائی 16 فیصد تھی، اب 42 فیصد ہے۔ ہمارے دور میں جب تھوڑا سا بھی پٹرول بڑھتا تھا تو مہنگائی مارچ شروع ہو جاتا تھا۔ مجھے نکالنے کے لیے مہنگائی بہانہ تھا۔ آج ہماری ایکسپورٹس کم ہورہی ہیں۔

    پی ٹی آئی چیئر مین کا کہنا تھا کہ ہمارے پاکستانی بہت مشکلوں میں ہیں، میں اپنی پنجاب حکومت کو بھی کہتا ہوں ان کی مدد کریں، شہباز شریف قطر جانے کی بجائے اپنے لوگوں کی مدد کرو، کسی نے تمہیں پیسے نہیں دینے کیونکہ سب کو پتا ہے تم اور تمہارا بھائی چور ہیں، میں اپنی سوشل میڈیا کی ٹیم کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں۔

    عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم اپنے اداروں کی کبھی تنقید نہیں کرتے، ہمارا ایک ہی مقصد ہے اس امپورٹڈ سے ہماری جان چھڑوا کر ملک میں صاف اور شفاف الیکشن کروائیں، صاف اور شفاف الیکشن سے ملک میں استحکام آئے گا، باہر کے لوگ ان چوروں پر اعتبار کر تے ہیں اور نہ ہی پاکستانی قوم ان پر اعتبار کرتی ہے، ان کے ہوتے ہوئے ملک میں استحکام نہیں آئے گا۔ جب میں کال دوں گا تو آپ سب نے تیار رہنا ہے، میں امپورٹڈ حکومت کو کہتا ہوں جب میں کال دوں گا تو وہ آخری کال ہو گی، اس سے پہلے الیکشن کا اعلان کر دیں۔ ملکی قیادت کون کرے گا اس کا فیصلہ عوام کرے گی۔

  • بیویوں کی کال ریکارڈنگ:ایسی حرکت سےگھربرباد ہوتےہیں:بیوں پراعتماد سےہی گھربستےہیں:ہائی کورٹ

    بیویوں کی کال ریکارڈنگ:ایسی حرکت سےگھربرباد ہوتےہیں:بیوں پراعتماد سےہی گھربستےہیں:ہائی کورٹ

    چندی گڑھ :بغیراجازت بیوی کی کال ریکارڈنگ،پرائیویسی کےحق کی خلاف ورزی:بیوں پراعتماد سے ہی گھر بستے ہیں:ہائی کورٹ کا زبردست فیصلہ ،اطلاعات کے مطابق پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اپنے ایک فیصلے میں واضح کیا ہے کہ بیوی کی منفی تصویر دکھانے کے لیے اس کی رضامندی کے بغیر کالز ریکارڈ کرنا اس کی پرائیویسی کی خلاف ورزی ہے۔

    ہائی کورٹ نے فیملی کورٹ کے اس حکم کو بھی ایک طرف رکھ دیا ہے، جس کے تحت بھٹنڈہ فیملی کورٹ نے اس کال ریکارڈنگ کو ثبوت مانا تھا۔

    پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے خاتون نے بتایا کہ ان کے اور شوہر کے درمیان جھگڑا چل رہا ہے۔ اس تنازعہ کی وجہ سے شوہر نے 2017 میں بھٹنڈہ کی فیملی کورٹ میں طلاق کا مقدمہ دائر کیا۔

    اس دوران اس نے اپنے اور درخواست گزار کے درمیان ہونے والی گفتگو کی ریکارڈنگ بطور ثبوت پیش کی۔ فیملی کورٹ نے اسے قبول کر لیا جو کہ قواعد کے مطابق درست نہیں۔

    اس پر شوہر کی جانب سے دلیل دی گئی کہ اسے ثابت کرنا ہوگا کہ بیوی ظالم ہے اور یہ گفتگو اس کی دلیل ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے اس پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص کسی کی پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی کیسے کر سکتا ہے۔

    شریک حیات کے ساتھ فون پر ہونے والی گفتگو کو اس کی رضامندی کے بغیر ریکارڈ کرنا پرائیویسی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ ہائی کورٹ نے بھٹنڈہ کی فیملی کورٹ کو حکم دیا کہ وہ فون ریکارڈنگ کو بطور ثبوت نہ مانتے ہوئے چھ ماہ کے اندر طلاق کے معاملے پر فیصلہ کرے۔

    آپ کو بتاتے چلیں کہ 24 اگست 2017 کو سپریم کورٹ کی نو ججوں کی بنچ نے پرائیویسی کے حق کو آئین کے تحت بنیادی حق قرار دیا تھا۔ فیصلے میں کہا گیا کہ پرائیویسی انسانی وقار کا آئینی مرکز ہے۔ پرائیویسی کے حق کو آرٹیکل 21 کے تحت زندگی کے حق کا ایک لازمی جزو تسلیم کیا گیا ہے۔