Baaghi TV

Tag: کالج

  • نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف

    نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف

    لاہور:جوہر ٹاؤن سے نجی کالج کے سی ای او کے اغوا کے معاملے میں بڑا انکشاف سامنے آگیا۔

    ذرائع کے مطابق اغوا کاروں نے مغوی عابد وزیر کو سی سی ڈی کے خوف سے رہا کیاملزمان نے عابد وزیر کو سی سی ڈی کو نہ بتانے کی شرط پر رہا کیا، اغوا کاروں نے کہا تاوان نہ دیں بلکہ ہم سے بھی پیسے لے جائیں اغوا کاروں نے بس پر بٹھا کر کرایہ بھی خود دیا، ملزمان نے کہا سی سی ڈی کو یہ بتائیے گا کسی نے اغوا نہیں کیا۔

    نجی کالج کے مالک عابد وزیر کو بدھ کے روز اغوا کیا گیا تھا، ملزمان نے مغوی کے ورثا سے 16 کروڑ تاوان کا مطالبہ کیا تھا،سی سی ڈی حکام کے مطابق وہ ملزمان کے قریب پہنچ گئے ہیں اور جلد گرفتار کرلیں گے، سی سی ڈی کی وجہ سے پنجاب میں سنگین جرائم میں 65 فیصد کمی ہوئی ہے۔

    22 جنوری کو تھانہ جوہر ٹاؤن میں درج ایف آئی آر کے مطابق عابد وزیر خان کو آفس سے جاتے ہوئے راستے سے اغوا کیا گیا تھا۔

    ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عابد وزیر خان اغوا کے وقت خاتون جنرل مینجر کے ساتھ فون لائن پر تھے، خاتون نے فون پر نامعلوم شخص کی آواز سنی۔ نامعلوم شخص نے مغوی کو کہا کہ تم نے میری گاڑی کا ایکسیڈینٹ کیا ہے۔

    پولیس ذرائع کے مطابق ملزمان مغوی کو لیکر ملتان روڈ سمیت مختلف علاقوں میں گھومتے رہے، مانگا منڈی کے قریب مغوی کی گاڑی کی لوکیشنز ٹریس ہوتی رہیں۔ ابتدائی تفتیش میں اغواء کاروں کی تعداد تین سامنے آئی، ملزمان بظاہر مغوی کو لیکر شہر سے باہر جانا چاہتے تھے، مانگا منڈی ملحقہ علاقوں میں پولیس کی چھ ٹیمیں روٹ ٹریکنگ کررہی ہیںعابد وزیر کو تاوان کے لیے اغواء کیا گیا یا وجہ کچھ اور ہے تفتیش جاری ہے، مغوی کا تفصیلی بیان ریکارڈ کیا جائے گا، ملزمان کو جلد ٹریس کرکے گرفتار کرلیا جائے گا۔

  • القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادر یونیورسٹی کے نام پر پی ٹی آئی کا دھوکہ،یونیورسٹی نہیں بلکہ کالج نکلا

    القادریونیورسٹی نہیں بلکہ کالج ہے،پی ٹی آئی عوام کو بیوقوف بناتی رہی اور حکومتی اراکین نے بھی گوارہ نہیں کیا کہ وہ چیک کریں یونیورسٹی ہے بھی سہی یا نہیں، یہ ڈگری کالج ہے، اس جگہ پرزمین کی خریدوفروخت 3 ہزار روپے کنال میں ہوئی، سوہاوہ میں ریکارڈ موجود ہے،کئی افراد کی زمین تھی ،کھنڈرات، یا غیر زرعی زمین کی وجہ سے تین ہزار کنال فروخت ہوئی،بعد ازاں دس لاکھ کنال کے حساب سے حکومت نے کرپشن کی، پنجاب میں وزیر اطلاعات ہیں، وفاق میں وزیر اطلاعات ہیں، وہ ویسے تو شور کرتے رہتے ہیں لیکن کسی نے اس چیز کو دیکھنا گوارہ نہیں کیا کہ پی ٹی آئی القادر یونیورسٹی کے نام پر عوام کو بیوقوف بناتی رہی،القادر نامی کوئی یونیورسٹی نہیں ہے ، جہلم میں قائم جی سی یونیورسٹی سے الحاق شدہ کالج کو کرپشن کے دو سو ملین پاؤنڈ ہضم کرنے کے لیے القادر یونیورسٹی کا نام دیا گیا ۔

    عدالت نے گزشتہ روز عمران خان اور بشریٰ بی بی کو سزا سنائی اور القادر یونیورسٹی کو سرکاری تحویل میں لینے کا حکم دیا جس کے بعد سوہاوا شہر کے قریب القادر یونیورسٹی کے باہر جمعہ کے روز پولیس کی نفری تعینات کی گئی۔ خبر رساں ادارے ڈان سے بات کرتے پولیس حکام کا کہنا تھا کہ پولیس کی تعیناتی صرف ادارے کی حفاظت کے لیے کی گئی تھی، جمعہ کی دوپہر کو یونیورسٹی کے کیمپس کا دورہ کرنے والے کئی میڈیا نمائندے موجود تھے، اور اس دوران تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری نظر آئیں۔ کیمپس میں کچھ طلباء کرکٹ کھیلتے ہوئے نظر آئے کیونکہ یہاں کوئی کھیل کا میدان نہیں ہے، اور یہ کیمپس 458 کنال زمین پر پھیلا ہوا ہے جو زیادہ تر پتھریلے ٹیلوں اور پہاڑیوں پر مشتمل ہے۔

    یونیورسٹی کے دو اہم بلاک ہیں جن میں ایک تعلیمی اور دوسرا رہائشی حصہ شامل ہے، اور ان کے سامنے ایک نامکمل آڈیٹوریم واقع ہے۔ کلاس رومز، لائبریری، آئی ٹی لیب اور دفاتر جدید معیار کے ہیں اور ان میں بہترین ساز و سامان اور فرنیچر موجود ہے۔ یونیورسٹی میں تقریباً 200 طلباء زیر تعلیم ہیں، جن میں 130 لڑکے اور 70 لڑکیاں بی ایس اسلامی اسٹڈیز اور بی ایس مینجمنٹ کے شعبوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ایک فیکلٹی ممبر نے ڈان کو بتایا کہ ہوسٹل میں رہنے والے طلباء بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے دور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس فیکلٹی ممبر کے مطابق، بیشتر طلباء کو مفت تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ 60 کے قریب طلباء کے میس کے اخراجات فلاحی افراد کے ذریعے پورے کیے جا رہے ہیں۔

    القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ
    تاہم میڈیا کی کچھ رپورٹس کے برخلاف، یہ کیمپس ایک خودمختار یونیورسٹی نہیں ہے۔جہلم کے ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز، ڈاکٹر حبیب الرحمان نے بتایا کہ القادر یونیورسٹی ٹرسٹ پنجاب کے ڈائریکٹوریٹ آف پبلک انسٹرکشنز کالجز میں ایک گریجویٹ کالج کے طور پر رجسٹرڈ ہے اور اس کا الحاق گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے ہے۔جب ان سے ادارے کے کنٹرول پر قبضہ کرنے کے حوالے سے فیصلے میں کسی منصوبے کے بارے میں سوال کیا گیا تو ڈاکٹر حبیب الرحمان نے کہا کہ "ہمیں ابھی تک اعلیٰ حکام سے اس حوالے سے کوئی ہدایات نہیں ملی ہیں۔ حکومت جو بھی ہدایت دے گی، ہم اس کی پیروی کریں گے”۔

    القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔خواجہ آصف
    دوسری جانب وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ القادر کو یونیورسٹی کہنا غلط ہے، اس کی حیثیت کمپیوٹر کالج یا انسٹیٹیوٹ سے زیادہ نہیں۔ یہ بنیادی طور پر یونیورسٹی نہیں ہے، نہ کبھی عمران خان نے اس کی رجسٹریشن کے لیے اپلائی کیا۔ یہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے رجسٹرڈ صرف ایک کالج ہے، جس میں بنیادی طور پر صرف 2 سیبجیکٹ پڑھائے جاتے ہیں،اس یونیورسٹی میں 200 طلبا زیرتعلیم ہیں۔ القادر ٹرسٹ کے پاس 400 ایکڑ زمین ہے، یہ یونیورسٹی نہیں ہے، اس کو یونیورسٹی کا نام ویسے دیا گیا ہے، روحانیات کی تعلیم کے لیے یہ یونیورسٹی بنائی گئی لیکن وہاں پر روحانیات کی کوئی تعلیم نہیں دی جاتی، یہ ایک قسم کا کمپیوٹر کالج ہے، جو عام شہروں میں بنائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ اس کی کوئی حیثیت نہیں، اس میں جو پیسہ استعمال ہوا وہ بھی اس کیس میں سامنے آگیا۔

    پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد
    القادر یونیورسٹی میں چار سال کے دوران صرف 200؍ اسٹوڈنٹس نے داخلہ لیا، القادر یونیورسٹی کو تاحال پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن نے تسلیم نہیں کیا۔ یہ ادارہ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے سالانہ الحاق کے سرٹیفکیٹ پر انحصار کرتا ہے، جس سے یونیورسٹی کی سرکاری ایکریڈیٹیشن کے حصول کیلئے جدوجہد واضح ہوتی ہے۔ یونیورسٹی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد امجد نے اعتراف کیا ہے کہ پنجاب ایچ ای سی نے یونیورسٹی کو اب تک تسلیم نہیں کیا، چونکہ پنجاب ایچ ای سی کی جانب سے ڈگری عطا کرنے کا اسٹیٹس نہیں دیا گیا، لہٰذا یہ یونیورسٹی اب تک ایک کالج کی حیثیت میں کام کر رہی ہے۔

    روزنامہ جنگ میں‌فخر درانی کی شائع ہونے والے رپورٹ کے مطابق داخلوں کے حوالے سے ڈاکٹر امجد کا کہنا تھا کہ یونیورسٹی کے پہلے سال میں 41؍ جبکہ دوسرے سال میں 60؍ اسٹوڈنٹس کو داخلہ دیا گیا، 2021ء سے اسٹوڈنٹس کی اب تک کی تعداد 200؍ ہے۔ یونیورسٹی کو ایکریڈیٹیشن کے حصول میں ریگولیٹری چیلنجز کا سامنا ہے۔ کالج میں ریگولر اساتذہ کی تعداد 12؍ ہے جن میں سے سات پی ایچ ڈی ہولڈرز جبکہ پانچ ماسٹر ڈگری ہولڈرز ہیں۔ وزٹنگ فیکلٹی کے ساتھ ملا کر تدریسی عملے کی تعداد 80؍ ہے۔ ایکریڈیٹیشن اور محدود داخلوں کے چیلنجز کے باوجود تعلیمی معیار کو بہتر رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کل طلبہ کے 95؍ فیصد حصے کو اسکالرشپ دیا جاتا ہے اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ معیاری تعلیم تک مستحق طلباء کی رسائی ہو۔ اسٹوڈنٹس کو مفت کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے جس سے 50؍ اسٹوڈنٹس مستفید ہو رہے ہیں، مقامی عطیہ دہندگان کی طرف سے ملنے والے فنڈز سے ماہانہ 5؍ لاکھ روپے اس مد میں خرچ ہوتے ہیں۔ 95؍ فیصد اسٹوڈنٹس ہاسٹل میں رہتے ہیں جن کا تعلق تمام صوبوں سے ہے۔ 2021 میں دیے گئے داخلوں کے پہلے بیچ میں میں 23 طلباء تھے جن میں 16 خواتین اور 7 مرد ہیں۔ یہ اسٹوڈنٹس 2025ء میں گریجویٹ ہو جائیں گے۔ 2024 میں 100؍ طلباء کو داخلہ دیا گیا جن میں سے 70 نے مینجمنٹ سائنسز کا انتخاب کیا اور 30 ​​نے بی ایس اسلامک اسٹڈیز کا انتخاب کیا۔ زیادہ تر طلباء اسلامی علوم پر مینجمنٹ کی تعلیم کو ترجیح دیتے ہیں۔ کالج کے سالانہ اخراجات تقریباً 60؍ سے 70؍ لاکھ روپے ہیں۔

    سیف علی خان حملہ،ملزم نے کپڑے بدلے،ننگے پاؤں آیا،جوتے پہن کر گیا

    عافیہ صدیقی کی بائیڈن کی رخصتی سے قبل معافی کی اپیل

    عمران طالبان کا حامی،اسامہ کو شہید کہا،امریکہ میں ٹرکوں پر مہم

  • فیک نیوز پھیلانے کا مقدمہ،ایاز امیر کی ضمانت منظور،ٹویٹر اکاؤنٹ سے مکر گئے

    فیک نیوز پھیلانے کا مقدمہ،ایاز امیر کی ضمانت منظور،ٹویٹر اکاؤنٹ سے مکر گئے

    لاہور کی سیشن عدالت نے پنجاب کالج میں جنسی زیادتی کے واقعہ پر فیک نیوز پھیلانے کے الزام میں درج مقدمے میں سینئر تجزیہ کار و رکن قومی اسمبلی ایاز امیر کی ضمانت منظور کر لی ہے

    ایڈیشنل سیشن جج سلیمان گھمن نے ایاز امیر کی درخواست ضمانت پر سماعت کی،دوران سماعت ایاز امیر اپنے وکیل اظہر صدیق کے ہمراہ پیش ہوئے، وکیل نے دلائل دیتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ایاز امیر کے نام سے ایک جعلی ٹویٹر اکائونٹ بنایا گیا ہے جس کے ذریعے فیک نیوز پھیلائی گئی، ایاز امیر کا اس ٹویٹر اکائونٹ اور پھیلائی گئی فیک نیوز سے کوئی تعلق نہیں ہے ،استدعا ہے کہ درخواست گزار کی عبوری ضمانت منظور کی جائے اور مقدمے سے ڈسچارج کیا جائے ،عدالت نے ایاز امیر کی4نومبر تک عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے پراسیکیوشن کو نوٹس جاری کردیے اور آئندہ سماعت پر تفتیشی رپورٹ طلب کرلی ۔

    لاہور: نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کی غیرمصدقہ خبر کی تحقیقات، سوشل میڈیا پیج کا پردہ فاش

    پنجاب کالج ریپ کا ڈراپ سین،سوشل میڈیا پر فیک نیوز کی روک تھام کی سفارش

    ہر بچہ کہہ رہا تھا زیادتی ہوئی مگر کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں،سرکاری وکیل

    پنجاب کالج سوشل میڈیامہم،عمران ریاض،سمیع ابراہیم سمیت 36 افراد پر مقدمہ

    راولپنڈی،طلبا کا احتجاج، توڑ پھوڑ،پولیس کی شیلنگ

    مبینہ زیادتی ،طلبا کا احتجاج، آئی جی پنجاب کو عدالت نے کیا طلب

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی کیس،کالج انتظامیہ کی طلبا سے کلاسوں میں جانے کی اپیل

    لاہور کے کالج میں طالبہ سے زیادتی ،مبینہ من گھڑت ویڈیو کے خلاف مقدمہ درج

    لاہور میں طالبہ کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی: پنجاب حکومت کی ہائی پاور کمیٹی کی ابتدائی رپورٹ

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی، پولیس واقعہ سے انکاری،طلبا کا آج پھر احتجاج

    پنجاب کالج مبینہ زیادتی بارے من گھڑت افواہ پھیلانے والا گرفتار

    دوسری جانب پنجاب کالج معاملہ میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے،واقعہ سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلانے والوں کے خلاف تحقیقات کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنادی گئی ہے،ٹیم پنجاب یونیورسٹی کے ہوسٹل میں ہلاک ہونے والی طالبہ کے واقعے پر جھوٹی خبروں کی تحقیقات بھی کریگی،کمیٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور کی قیادت میں تمام اکاونٹس کی تحقیقات چھان بین کریگی، ڈائریکٹر سائبرآپریشن ایف آئی اے لاہوربھی اس کمیٹی کا حصہ ہونگے،ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ چارملزمان جھوٹی خبریں پھیلانے کےالزام میں گرفتارکئے گئے ہیں،ایک ملزم سرکاری ملازم ہے ، انکوپارلیمنٹ سے گرفتارکیا گیا ہے، اڑتیس ملزمان کیخلاف مقدمہ درج ہوچکا ہے،لاہور ہائیکورٹ نے بھی ایف آئی اے کو تحقیقات کا حکم دیا تھا

  • کالج کی طالبہ سے زیادتی، سیکورٹی گرفتار،طالبات کا انصاف کیلئے احتجاج

    کالج کی طالبہ سے زیادتی، سیکورٹی گرفتار،طالبات کا انصاف کیلئے احتجاج

    پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں نجی کالج کی طالبہ کو سیکورٹی گارڈ نے زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا

    یہ افسوسناک واقعہ 11 اکتوبر بروز جمعہ دن تقریبا 11:30 اور 12:30 کے درمیان پنجاب کالج کیمپس 10 لاہور میں پیش آیا ۔گیارہویں جماعت کی طالبہ بریک کے دوران غلطی سے کالج کے تہہ خانے میں بند ہو گئی جسے وہاں پر ایک سکیورٹی گارڈ نے وین میں ہی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ۔مبینہ طور پر بچی کی چیخیں ایک مرد استاد نے سنی جس سے اس ساری صورتحال کا پتہ چلا ۔جس وقت وہ استاد تہہ خانے میں پہنچا اس وقت اس میں شامل گارڈ جائے وقو عہ سے فرار ہو گیا اور ابھی تک نظر نہیں آ رہا،

    ترجمان ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق طالبہ سے زیادتی کا واقعہ کچھ رو زقبل کا ہے، زیادتی کرنے والا ملزم سیکورٹی گارڈ ہے جسے پولیس نے گرفتار کر لیا ہے، طالبہ سے مبینہ زیادتی کی تحقیقات جاری ہیں، ترجمان لاہور پولیس کے مطابق کالج میں زیادتی کا شکار لڑکی یا اس کا خاندان کسی نے پولیس کو اطلاع نہیں دی، متعلقہ پولیس اسٹیشن، ون فائیو یا کالج انتظامیہ کو واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ملی، ڈی آئی جی آپریشنز کے مطابق نجی کالج میں طالبہ سے مبینہ زیادتی کے واقعےکی پولیس تحقیقات کررہی ہے مگر طالبہ سے زیادتی کی اب تک تصدیق نہیں ہوسکی جب کہ 4 سے 5 نجی اسپتالوں میں طالبہ کے داخلے کا کوئی ریکارڈ نہیں ،کالج کےاندرونی حصوں کےکلوزسرکٹ کیمروں سےبھی کوئی شواہدنہیں ملے لہٰذا طلبہ افواہوں پریقین نہ کریں، اگرکوئی متاثرہ طالبہ ہےتوپولیس کوبتائیں پولیس تعاون کرےگی

    دوسری جانب لاہور گلبرگ کے علاقہ میں پنجاب کالج میں طالبہ سے زیادتی کے واقعہ،واقعہ کو چھپانے اور انصاف کے حصول کے لئے طالبات نےکالج کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا،کالج انتظامیہ کی جانب سے معاملہ دبانے کے لیے دباو کی وجہ سے کالج کی طالبات سراپا احتجاج ہوئیں، گیارہویں کلاس کی طالبہ کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور مبینہ طور پر اس واقعہ کے خلاف آواز اٹھانے والی طالبات کو بھی حراساں کیا جارہا ہے جس پر طالبات نے آج بھر پور احتجاج کیا اور انصاف کا مطالبہ کیا.

    پنجاب کالج میں طالبہ سے زیادتی، طالبات کا احتجاج،پولیس کا لاٹھی چارج،کئی زخمی
    گزشتہ روز پنجاب کالج کی طالبہ کو گارڈ کی جانب سے زیادتی کا نشانہ بنانے کی خبر آنے کے بعد آج پنجاب کالج کے مختلف برانچز میں طلباء و طالبات سراپا احتجاج ہیں، طلباء کی جانب سے سڑکی بند کی گئی، جس پر پولیس موقع پر پہنچ گئی،طلباء اور پولیس میں جھڑپوں کے نتیجہ میں ایک طالبعلم زخمی ہوگیا، جسے زخمی حالت میں قریبی اسپتال پہنچا دیا گیاپولیس کیساتھ جھڑپوں میں متعدد طلباء و طالبات زخمی ہوگئے ہیں، جنہیں قریبی اسپتال اور ریسکیو کی جانب سے طبی امداد فراہم کی گئی ہے،پنجاب کالج کے طلبا کی جانب سے توڑ پھوڑ بھی کی گئی اورکالج کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ طلبا نے سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیے، پنجاب کالج میں احتجاج کی وجہ سے طالبات کالج کے احاطے میں محصور ہوگئی ہیں،طلبا کے احتجاج کی وجہ سے طالبات خوف کے مارے کالج سے باہر آنے سے قاصر ہیں،طالبات کا کہنا ہے کہ میل سٹاف کا باہر گیٹ پر کام ہے، میل سٹاف کالج کے اندر کیوں جاتا ہے، ہم جیل روڈ بلاک کریں گے، ہمیں انصاف چاہئے،آج ایک طالبہ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہم اس کے لئے جمع ہوئے ہیں کل کسی اور کے ساتھ کچھ ہوا تو کیا کیا جائے گا،

    کالج کی طالبہ سے مبینہ زیادتی کے واقعے پر کالج کے طلبا اور طالبات نے مسلم ٹاؤن موڑ کے قریب کینال روڈ پر کالج کے باہر احتجاج کیا جس دوران شیشہ لگنےسے طالب علم شدید زخمی ہوا،ریسکیو حکام کے مطابق احتجاج میں شامل ایک طالبہ کی حالت خراب ہوئی جب کہ احتجاجی طلبہ کا کہنا ہےکہ ایک طالبہ اور ایک طالب علم پرمبینہ طور پر کالج کے گارڈ نے تشددکیا جنہیں بعد ازاں اسپتال منتقل کیا گیا،ریسکیو 1122 کے مطابق نجی کالج کے طلبہ نے گلبرگ برانچ کے باہر مظاہرہ کیا جہاں طلبہ اور پولیس کے درمیان مڈبھیڑ ہوئی، مظاہرے میں زخمی 28 افراد کوابتدائی طبی امداددی گئی ہے، زخمیوں میں 4 پولیس اہلکار اور 24 طلبہ شامل ہیں

    وزیر تعلیم پنجاب کا پنجاب کالج کا دورہ، گلبرگ برانچ کی رجسٹریشن معطل،طلبا سے پرامن رہنے کی ہدایت
    وزیرتعلیم پنجاب رانا سکندر حیات نے اچانک پنجاب کالج کا دورہ کیا ، اس موقع پر گلبرگ برانچ کی رجسٹریشن معطل کردی گئی ہے وزیرتعلیم پنجاب نے احتجاج کرنے والے طلباء کو انصاف کی یقین دہانی بھی کروائی ہے، طلباء نے وزیرتعلیم سے پولیس کے لاٹھی چارج کی شکایت کی، وزیرتعلیم نے پولیس کو لاٹھی چارج نہ کرنے کی ہدایت کردی۔ وزیرتعلیم نے دوٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ ثبوت ڈیلیٹ کرنے والے اساتذہ کیخلاف کارروائی کی جائے گی،وزیرتعلیم نے واضح کیا کہ طلباء پُرامن احتجاج کریں، میں ساتھ دوں گا،کالج سیل، رجسٹریشن منسوخ کرنے کی نوبت آئی تو اس سے بھی گریز نہیں کریں گے، طالبات کو محفوظ تعلیمی ماحول دینا ہماری ذمہ داری ہے۔

    سیکورٹی گارڈ گرفتار،زیادتی کا شکاربچی سامنے نہیں آ رہی، کون ہے؟ عظمیٰ بخاری
    پنجاب کی صوبائی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا ہے کہ پہلا ایکشن نہیں ہے،جس گارڈ پہ الزام لگایا گیا ہے وہ کل سے حراست میں ہے،لیکن ابھی تک کوئی بچی یا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا،پولیس آج بھی ایک بچی کا نام لیا گیا اس نام کی تمام بچیوں کو گھروں پہ پتا کیا گیا،سب انکاری ہیں،کسی کے پاس اس واقعے کی مصدقہ اطلاعات ہیں تو ضرور شئیر کریں،سی ایم ایک ایک لمحے کی رپورٹ لے رہی ہیں

    ایس سی او سربراہی کانفرنس کی تیاریاں عروج پر،محسن نقوی کی اہم ہدایات

    "شنگھائی تعاون تنظیم سربراہی اجلاس” شہریوں کے لئے خصوصی ٹریفک پلان

    پی ٹی آئی کی 4 اکتوبر کو اسلام آباد پر حملے کی دھمکی، شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کو سبوتاژ کرنے کی کوشش

    وزیراعظم شہباز شریف کا شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے انتظامات کا جائزہ

    پی ٹی آئی 15 اکتوبر کو احتجاج کی کال واپس لے، شیری رحمان

    پی ٹی آئی کی ملک دشمنی،ایس ای او اجلاس کے موقع پر احتجاج کا اعلان

    سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر امجد اسلام اعوان کہتے ہیں کہ لاہور گلبرگ کے علاقے میں واقع پنجاب کالج میں طالبہ کو سیکیورٹی گارڈ نے زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا کالج انتظامیہ معاملے کو دبانے کی خاطر اسے خود کشی کا واقعہ قرار دینے کی کوشش کررہی ہے ۔ سوال صرف یہ ہے لاکھوں فیس والے اس کالج میں یہ سب کچھ ہوا تو سیکیورٹی امور پر تعینات دیگر لوگوں یا سی سی ٹی وی کیمروں پر تعینات لوگوں نے اسے کیوں نہ روکا یا کیوں روک نہ سکے؟پولیس نے شواہد کی بنیاد پر ملزم کو گرفتار کرلیا۔اس واقعہ کے خلاف طلبا احتجاج کررہے ہیں پنجاب کے تمام طلبا کو اس پر شدید احتجاج کرنا چاہیے

  • لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    لاوارث لاشوں کی فروخت،سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گرفتار

    لاوارث لاشوں کی فروخت، طلباء سے جبرا وصولی، ادویات فراہم کرنے والوں سے کک بیکس، سی بی آئی نے مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں سابق آر جی کار پرنسپل سندیپ گھوش اور 3 دیگر ملزمان کو گرفتار کر لیا ہے

    سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال کے سابق پرنسپل سندیپ گھوش کو مالی بے ضابطگیوں کے الزام میں گرفتار کیا ہے، پرنسپل کے دور میں آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں ادویات کی خریداری میں بے قاعدگیاں پائی گئی ہیں۔ سی بی آئی کے ایک اہلکار نے، جو اس پیش رفت سے واقف ہے، اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ملزم کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں۔سی بی آئی نے پہلے آر جی کار میڈیکل کالج اور اسپتال میں مالی بے ضابطگیوں کے سلسلے میں ان کے گھر پر چھاپہ مارا تھا۔آر جی کار میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل کے سابق پرنسپل کا اس سے قبل مرکزی ملزم سنجے رائے اور چار ڈاکٹروں کے ساتھ پولی گراف ٹیسٹ کیا گیا تھا۔سندیپ گھوش کے علاوہ تفتیشی ادارے نے ان کے سیکورٹی گارڈ افسر علی خان (44) اور اسپتال کے دکاندار سمن ہزارہ (46) اور بپلاو سنگھا (52) کو بھی گرفتار کیا تھا۔

    اس سال اگست میں، آر جی کار میڈیکل کالج اور ہسپتال کے سابق ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر اختر علی نے کلکتہ ہائی کورٹ کا رخ کیا اور انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) سے اس سہولت میں مالی بدانتظامی کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔علی نے گھوش پر بائیو میڈیکل ویسٹ کی اسمگلنگ، غیر قانونی طور پر لاوارث لاشیں فروخت کرنے اور ادویات فراہم کرنے والوں سے کمیشن کے عوض ٹینڈر پاس کرنے کا الزام لگایا تھا۔انہوں نے عدالت کو یہ بھی بتایا کہ سابق پرنسپل طالب علموں سے امتحانات میں پاس کرنے کے عوض 5 سے 8 لاکھ روپے وصول کرتے تھے۔ مالی بے ضابطگیوں سے متعلق کیس کو سی بی آئی کو منتقل کرنے سے پہلے ریاست کی طرف سے مقرر کردہ ایس آئی ٹی کے ذریعے ہینڈل کیا جا رہا تھا۔

    ڈیٹنگ ایپس،ہم جنس پرستوں کے لئے بڑا خطرہ بن گئیں

    دوہرا معیار،موبائل میں فحش ویڈیو ،اور زیادتی کے مجرموں کو سزا کا مطالبہ

    بھارت میں خاتون ڈاکٹر زیادتی و قتل کیس،سپریم کورٹ نے سوال اٹھا دیئے

    بھارت،موٹرسائیکل پر لفٹ مانگنے والی کالج طالبہ کی عزت لوٹ لی گئی

    بیٹی کی لاش کی کس حال میں تھی،خاتون ڈاکٹر کے والد نے آنکھوں دیکھا منظر بتایا

    ٹرینی خاتون ڈاکٹر کی دل دہلا دینے والی پوسٹ مارٹم رپورٹ،شرمگاہ پر بھی آئی چوٹیں

    مودی کا بھارت”ریپستان” ڈاکٹر کے ریپ کے بعد آج بھارت میں ملک گیر ہڑتال

    بھارت ،ڈاکٹر کی نرس کے ساتھ زیادتی،دوسری نرس ،وارڈ بوائے نے کی مدد

    ڈاکٹر کو زیادتی کا نشانہ بنانے سے قبل ملزم نے شراب پی، فحش ویڈیو دیکھیں

    شادی شدہ خاتون کی عصمت دری اور تشدد کے الزام میں ایف آئی آر درج

  • ایچی سن کالج، پرنسپل کا استعفیٰ منظور،آمنہ کامران قائمقام پرنسپل مقرر

    ایچی سن کالج، پرنسپل کا استعفیٰ منظور،آمنہ کامران قائمقام پرنسپل مقرر

    ایچی سن کالج کے پرنسپل مائیکل اے تھامسن کا استعفیٰ منظور کر لیا گیا، آمنہ کامران کو قائم مقام پرنسپل کا چارج دے دیا گیا

    گورنر پنجاب نے ایچی سن کالج کے پرنسپل مائیکل اے تھامسن کا استعفی منظور کرلیا۔مائیکل تھامسن واپس اپنے ملک روانہ ہو گئے، آمنہ کامران کو عارضی طور پر پرنسپل لگا دیا گیا، بورڈ ممبران نے نئی پرنسپل آمنہ کامران کو عارضی پرنسپل لگانے کی منظوری دے دی۔

    ایچی سن کالج کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں فیس معافی سے متعلق اہم شرائط کیساتھ پالیسی کی منظوری دیدی گئی، بورڈ آف گورنرز نے 100 فیصد فیس معافی اور تمام بچوں کوفیس معافی دینے کی شدید مخالفت کی۔جونیئر، پریپ کے بچوں کو 50 فیصد تک فیس معافی کی منظوری دے دی گئی، حافظ قرآن کی پچاس فیصد فیس معافی بھی منظور کر لی گئی جبکہ بورڈ نے سینئر سکول کے بچوں کی فیس معافی کی پالیسی کو یکسر مسترد کر دیا۔گورنر پنجاب نے بطور صدر بورڈ آف گورنرز ایچی سن کالج پالیسی کی منظوری دیتے ہوئے کہا کہ میں نے سارے معاملے کو خود ہی بورڈ کے سامنے بھی رکھ دیا ہے ، اختلاف پر مشاورت کے لئے تیار ہیں۔ایچی سن کالج کے بیشتر ممبران نے کہا کہ کسی بھی فیصلے سے قبل کمیٹی کی رپورٹس کو مدنظر رکھا جاتا تو بہتر تھا، مائیکل اے تھامسن نے ایچی سن کالج کو بہت بہتر کیا ، ہمیں ان کی خدمات کو سراہنا ہو گا۔

    پرنسپل ایچی سن کالج سے اظہار یکجہتی کیلئے والدین اور طلبا کا گورنر ہاؤس کے باہراحتجاجی مظاہرہ

    عطاتارڑ کا ایچی سن کالج کے پرنسپل مائیک تھامسن سے رابطہ،استعفی واپس لینے کی درخواست

    ایچی سن کالج، گورنر کی مداخلت ، پرنسپل کے بعد رکن گورننگ باڈی نے بھی استعفی دیدیا

    گورنر پنجاب کا احد چیمہ کے بیٹوں کی فیس معاف کرنے پر پرنسپل مستعفی

    ایچی سن کالج،گورنر پنجاب کا حکمنامہ،شہباز شریف کے قریبی احد چیمہ کے بیٹوں کی فیس معاف

  • برقع پہن کر طالبات نے کی کیٹ واک،مذہبی رہنماؤں کا احتجاج

    برقع پہن کر طالبات نے کی کیٹ واک،مذہبی رہنماؤں کا احتجاج

    بھارت میں ایک کالج کی طالبات نے برقع پہن کر کیٹ واک کی جس پر مذہبی حلقوں نے احتجاج کیا ہے

    بھارتی مظفر نگر کے شری رام گروپ آف کالجز میں فیشن شو ہوا،شو کے آخری دن طالبات نے برقع پہنے کیٹ واک کی، جس پر مذہبی جماعتوں مسلم سماج، جمعیت نے احتجاج کیا اور کہ برقع میں کیٹ واٹ قابل مذمت ہے، تعلیمی اداروں میں تعلیم کی بجائے طلبا کو غلط کاموں‌پر لگایا جا رہا ہے،برقع فیش نہیں ہے بلکہ ہمارے مذہب کا حصہ ہے، خواتین کو پردے کا حکم ہے، برقع کو کسی فیشن شو کا حصہ نہیں بنایا جا سکتا، برقع کے ساتھ ایسا مذاق قابل مذمت ہے،کالج انتظامیہ کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے جنہوں نے طالبات سے برقع میں کیٹ واک کروائی.

    نجی کالج کے فیش شو میں ہالی ووڈ اداکاہ منداکنی، ٹی وی اداکارہ رادھیکا نے بھی شرکت کی تھی اور برقع میں طالبات کی کیٹ واک کی نہ صرف تعریف کی بلکہ انکے تیار کردہ ملبوسات کا بھی مشاہدہ کیا تھا،نجی کالج میں بھارتی وزیراعظم مودی کے نعرے بیٹی بچاؤ، بیٹی پڑھاؤ مہم کے تحت فیشن شو میں 13 طالبات نے برقع میں ریمپ پر کیٹ واک کی،

    کیٹ واک میں شریک ایک طالبہ علینہ جس کا تعلق سہارنپور سے تھا کا کہنا ہے کہ ہم نے کیٹ واک میں یہ دکھایا کہ برقع کو بھی فیشن میں شامل کیا جا سکتا ہے، ضروری نہیں کہ صرف چھوٹے کپڑے پہن کر ہی کیٹ واک کی جائے،ہم نے معاشرے کو برقع میں کیٹ واک کر کے یہ پیغام دیا کہ برقع بھی پہنا جا سکتا ہے،ہم فیشن ڈیزائننگ کی طالبات ہیں، ہمیں یہ سب کر کے اچھا لگا ہے،

    شری رام کالج کے فائن آرٹس ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر منوج دھیمان کا کہنا ہے کہ برقع کو فیشن سے جوڑا گیا ،برقع میں کیٹ واک سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ طالبات کو کالج میں آزاد ی ہے اسی وجہ سے بھارت میں لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں تعلیم میں کوئی مذہب شامل نہیں کیا جا سکتا، لڑکیوں کو پڑھنا چاہیے۔ لڑکیوں نے حجاب پر بہت محنت کی اور اپنی بہترین پریزنٹیشن دی.

    برقعہ پہن کرفاٹا خواتین کی خواتین مارچ میں نمائندگی کرنے والا مرد گرفتار،

    سوشل میڈیا کے ذریعے لاہور میں لڑکیاں سپلائی کرنے والے ملزمان گرفتار

    دوسری شادی کیوں کی؟ پہلی بیوی نے خود کشی کر لی

    منشیات فروش خاتون پولیس کے ساتھ کیسے چھپن چھپاؤ کر رہی؟

    نشہ آور چیز کھلا کر لڑکی سے زبردستی زیادتی کرنے والا ملزم گرفتار

    امیرلڑکے سے شادی کا انکار کیا تو گھر میں بند کر دیا گیا،25 سالہ لڑکی کی تحفظ کی اپیل

    نو سالہ بچے سے زیادتی کرنیوالا پولیس اہلکار،خاتون سے زیادتی کرنیوالا گرفتار

    مساج سنٹر کی آڑ میں فحاشی کا اڈہ،پولیس ان ایکشن، 6 لڑکیاں اور 7لڑکے رنگے ہاتھوں گرفتار

  • کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    کالج کی طالبات نے ساتھی طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں

    کالج کی طالبات نے دیگر طالبات کی واش روم میں فحش ویڈیو بنا کر وائرل کردیں،طالبات کو گرفتار کیا گیا تا ہم انکو عدالت نے ضمانت پر رہائی دے دی ہے

    واقعہ بھارت میں پیش آیا ،کرناٹک کے علاقہ اڈوپی میں ایک کالج کی طالبات نے دیگر طالبات کی واش روم سے ویڈیو بنائیں اور پھر انہیں وائرل کر دیا، یہ معاملہ ریاستی وزیراعلیٰ تک بھی پہنچا اور اس کیس میں ایک بی جے پی رہنما کی گرفتاری بھی عمل آئی تھی، تین طالبات کو بھی گرفتار کیا گیا، تاہم انکو عدالت نے ضمانت پر رہا کر دیا ہے،بھارتی میڈیا کے مطابق پرائیویٹ کالج کی طالبات نے ویڈیو بنائیں، ویڈیو بنانے والی طالبات کو کالج سے نکال دیا گیا، ان پر الزام ہے کہ انہوں نے اپنے موبائل سے دیگر طالبات کی ویڈیو واش روم میں چھپ کر بنائیں، یہ واقعہ 18 جولائی کو پیش آیا اور ویڈیو وائرل ہونے کے بعد 20 جولائی کو طالبات کو نکالا گیا،

    اڈوپی کے مقامی مجسٹریٹ نے تینوں طالبات کو ضمانت دے دی، مالپے پولیس نے تینوں طالبات اور کالج انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا، گزشتہ روز طالبات کو عدالت پیش کیا گیا تو عدالت نے انہیں ضمانت پر رہا کر دیا،پولیس کا کہنا ہے کہ واش روم سے طالبات کی وائرل ویڈیو کے حوالہ سے دو مقدمے درج کئے گئے تھے،

    27 جولائی کو بی جے پی نے اس معاملے میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ 28 جولائی کو بی جے پی رہنما شکنتلا کو بنگلورو مین کرناٹک پولیس نے گرفتار کیا، جن پر الزام ہے کہ انھوں نے وزیر اعلیٰ سدارمیا کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا پوسٹ سوشل میڈیا پر ڈالی ،اس واقعہ پر احتجاج کے دوران بی جے پی نے وزیراعلی پر تنقید کی تھی، نازیبا پوسٹ پر مقدمہ درج کیا گیا اور بی جے پی رہنما کو گرفتار کر لیا گیا

    جنسی طور پر ہراساں کرنے پر طالبہ نے دس سال بعد ٹیچر کو گرفتار کروا دیا

    تھانہ شہزاد ٹائون،نیو چٹھہ بختاور ، گھر میں ڈاکہ،پانچ مسلح ڈاکو لوٹ مار کر کے فرار

    شوہر نے بھائی اور بھانجے کے ساتھ ملکر بیوی کے ساتھ ایسا کام کیا کہ سب گرفتار ہو گئے

    لڑکیوں سے بڑھتے ہوئے زیادتی کے واقعات کی پنجاب اسمبلی میں بھی گونج

    لاہور میں خواتین سے زیادتی کے بڑھتے واقعات،ملزمہ کیا کرتی؟ تہلکہ خیز انکشاف

    نو سالہ بچی سے زیادتی کی کوشش کرنیوالا سگا پھوپھا گرفتار

    خواتین کو دست درازی سے بچانے کیلئے سی سی پی او لاہور میدان میں آ گئے

  • امتحانات میں ناکامی پر 9 طلبہ کی نے خودکشی کر لی

    امتحانات میں ناکامی پر 9 طلبہ کی نے خودکشی کر لی

    نئی دہلی: بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں امتحانات میں ناکامی پر 9 طلبہ کی نے خودکشی کر لی۔

    باغی ٹی وی: بھارتی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بھارتی ریاست آندھرا پردیش میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانی نتائج میں ناکام ہونے والے 9 طلبہ نے 2 روز کے دوران خودکشی کی امتحانات میں ناکامی پر خودکشی کرنے والوں میں لڑکیاں بھی شامل ہیں جبکہ ناکام ہونے والے طلبہ کا تعلق معروف تعلیمی اداروں سے بتایا جا رہا ہے۔

    پی ٹی آئی کا کل سے الیکشن مہم شروع کرنے کا اعلان

    واضح رہے کہ آندھرا پردیش میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے امتحانات 10 لاکھ بچوں نے دیئے تھے۔ گیارہویں جماعت کے نتائج کا تناسب 61 فیصد رہا جبکہ بارہویں کے نتائج کا تناسب 72 فیصد رہا-

    رپورٹس کے مطابق سریکاکولم ضلع میں ایک 17 سالہ لڑکے نے ٹرین کے آگے چھلانگ لگا کر اپنی جان لے لی۔ ضلع کے ڈنڈو گوپالپورم گاؤں سے تعلق رکھنے والے انٹرمیڈیٹ کے پہلے سال کے طالب علم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ زیادہ تر پرچوں میں فیل ہونے کے بعد مایوس تھا-

    ملکاپورم پولیس اسٹیشن حدود کے تحت ترندھا پورم میں ایک 16 سالہ لڑکی نے اپنی رہائش گاہ پر خودکشی کر لی۔ وہ وشاکھاپٹنم ضلع سے تعلق رکھتی ہے، اور مبینہ طور پر انٹرمیڈیٹ کے پہلے سال کے کچھ مضامین میں فیل ہونے کے بعد پریشان تھی۔

    پیٹرول کی قیمت میں 5 سے 7 روپے تک کمی کا امکان

    ایک اور 18 سالہ نوجوان نے وشاکھاپٹنم کے کنچراپلم علاقے میں اپنی رہائش گاہ پر پھانسی لگا کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا۔ وہ انٹرمیڈیٹ سیکنڈ ایئر میں ایک مضمون میں فیل ہو گیا تھا۔

    آندھرا پردیش کے چتور ضلع کے دو 17 سالہ طالب علموں نے اے پی انٹرمیڈیٹ کے امتحان میں ناکام ہونے کے بعد خودکشی کر لی۔ ایک طالبہ نے جھیل میں چھلانگ لگا کر خود کشی کر لی جبکہ اسی ضلع میں ایک لڑکا کیڑے مار دوا پینے سے ہلاک ہو گیا۔

    ایک اور 17 سالہ طالب علم نے اناکا پلی میں اپنی رہائش گاہ پر پھانسی لگا کر خودکشی کرلی۔ کہا جاتا ہے کہ وہ انٹرمیڈیٹ کے پہلے سال میں کم نمبر حاصل کرنے پر افسردہ تھا۔

    پی ایف یو جے کا صحافیوں کے حقوق کیلئے ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان

    بھارت کے پریمیئر کالجوں میں خودکشی کے واقعات کے درمیان یہ چونکا دینے والی خبر سامنے آئی ہے۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IIT) کے مختلف کیمپس میں اس سال مشتبہ خودکشی کے واقعات میں چار طالب علموں کی موت ہو چکی ہے۔

    بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے طلبہ کی خودکشیوں کے واقعات پر افسوس کا اظہار کیا جبکہ متاثرہ خاندانوں سے تعزیت بھی کی انہوں نے کہا کہ وہ سوچ رہے ہیں کہ ہمارے ادارے کہاں غلط ہو رہے ہیں کہ طلباء اپنی جان لینے پر مجبور ہیں-

    ڈی آئی خان : سیکیورٹی فورسز کا آپریشن،2 دہشت گرد ہلاک

  • اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں غیرمتعلقہ افرادکے داخلے پرپابندی عائد

    اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں غیرمتعلقہ افرادکے داخلے پرپابندی عائد

    پشاور:اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں غیر متعلقہ افراد کے داخلے پرپابندی عائد کردی گئی۔اطلاعات کے مطابق انتظامیہ کے مطابق صرف ریگولر طلبا ہی یونیفارم میں یونیورسٹی کے اندر آسکیں گے، ضروری دفتری کام کے لیے آنے والے مہمان وزیٹرکارڈ کے ساتھ یونیورسٹی میں داخل ہوں گے۔

    انتظامیہ کا کہنا ہےکہ یونیورسٹی کے اندر سیاسی ٹوپیاں ، جھنڈے اور ہر قسم کے اسلحے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے، یونیورسٹی میں منشیات لانے اور استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے۔انتظامیہ کے مطابق خلاف ورزی کی صورت میں یونیورسٹی کی قانونی کمیٹیاں سزا مقرر کریں گی، امن و مان کو برقرار رکھنےکے لیےکیمپس کے اندر پولیس کی بھاری نفر ی تعینات ہوگی۔

    یونیورسٹی انتظامیہ نے فیصلوں پر عمل د رآمد کے لیے ڈپٹی کمشنر پشاور اورکمانڈنٹ پولیس کوخطوط ارسال کردیے ہیں۔

    کوہ سفید اور تاریخ درہ خیبر کے دامن میں واقع اسلامیہ کالج پشاور، پشاور صدر سے پانچ کلو میٹر مغرب میں جی ٹی روڈ پر واقع ہے۔ 121 ایکڑ اراضی پر مشتمل یہ کالج جنگِ عظیم اول سے ایک سال قبل 1913ء میں قائم کیا گیا۔ اس کی بنیاد صاحبزادہ عبدالقیوم خان اور سر جارج روس کیپل نے رکھی۔

    یہ کالج جس جگہ قائم کیا گیا ہے۔ اس کے بارے میں ماہرین آثار قدیمہ کے حوالے میں معلوم ہوا ہے کہ اس مقام پر آج سے تقریباً 1800 سال قبل 200ء میں بدھ مت کی تعلیمات کے لیے ایک بہت بڑی خانقاہ موجود تھی۔ اس وقت کشان خاندان کا راجا کنشکا یہاں پر بر سر اقتدار تھا۔