Baaghi TV

Tag: کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی

  • بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    بلوچستان کے شہر سوراب پر بی ایل اے کا حملہ، سیکیورٹی فورسز کا کامیاب جوابی آپریشن

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک درجنوں مسلح دہشتگردوں نے بلوچستان کے شہر سوراب پر حملہ کر کے مختصر وقت کے لیے مختلف سرکاری اداروں اور شاہراہوں پر قبضہ کر لیا، تاہم سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے حملہ پسپا کر دیا اور دو دہشتگردوں کو ہلاک کر دیا۔

    ذرائع کے مطابق 30 مئی کی صبح 100 کے قریب مسلح شدت پسندوں نے شہر کے اہم انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا، جن میں لیویز چوکیاں، بینک، سرکاری دفاتر، قومی شاہراہ N-25، اور شہر کے داخلی و خارجی راستے شامل ہیں۔ حملہ آوروں نے شہر میں گشت اور اسنیپ چیکنگ بھی کی، لیویز و پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا، اور سیکیورٹی فورسز کی گاڑیوں کو نذر آتش کیا۔

    کالعدم بی ایل اے نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے اس حوالے سے ویڈیوز اور تصاویر بی ایل اے سے منسلک ٹیلیگرام چینل "ساگر میڈیا” کے ذریعے جاری کیں۔ڈپٹی کمشنر سوراب کے مطابق، سیکیورٹی فورسز نے فوری ردِعمل دیتے ہوئے علاقے کا کنٹرول بحال کر لیا ہے اور آپریشن کے دوران دو دہشتگرد مارے گئے۔ شہر میں اب حالات معمول پر آ رہے ہیں۔

    اس واقعے پر بھارتی سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانب سے مبینہ طور پر پروپیگنڈا پھیلایا گیا، جس کا مقصد ملک دشمن عناصر کے بیانیے کو تقویت دینا بتایا جا رہا ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ اس حملے کا مقصد بلوچستان میں خوف و ہراس پھیلانا اور ترقیاتی عمل کو روکنا ہے، تاہم ریاست دشمن عناصر کو ہر محاذ پر شکست دی جائے گی۔

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    غزہ کی پوری آبادی قحط کے خطرے میں مبتلا ہے، اقوام متحدہ

    بلنک کیپیٹل مینجمنٹ کے سی ای او حسن مقصود مبینہ طور پر خودکشی کر کے جاں بحق

    وزیرِ اعظم کا کوئٹہ کا دورہ طے، قبائلی جرگے میں شرکت کریں گے

    لاہور میں دوسرا ٹی20؛ پاکستان کا ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

  • بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    بلوچستان میں تخریب کاری نہیں، دہشت گردی ہے: پاکستان کا بی ایل اے کے خلاف دوٹوک مؤقف

    کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی جانب سے سڑکیں بند کرنے، تعلیمی ادارے جلانے، اور عام شہریوں کو نشانہ بنانے کے اقدامات کو پاکستان نے دہشت گردی قرار دیتے ہوئے سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔

    حکومتی ذرائع کے مطابق بی ایل اے آزادی کے نام پر بلوچستان میں دہشت و خوف کی فضا قائم کر رہی ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ تنظیم عوام کے نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے سرگرم ہے۔ترجمان کے مطابق سوراب پر کنٹرول کا دعویٰ دراصل یرغمالی بنانے، سرکاری املاک کو آگ لگانے، اور مقامی آبادی کو ہراساں کرنے کا کھلا اعتراف ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بی ایل اے کی یہ بوکھلاہٹ دراصل ان کی ناکامی کا اظہار ہے۔

    جب پاکستان حکومت بلوچستان میں اسکولز، سڑکیں اور انفرا اسٹرکچر تعمیر کر رہی ہے، تو بی ایل اے انہیں تباہ کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دے رہی ہے۔ یہ بغاوت نہیں بلکہ کھلی تخریب کاری ہے۔حکام کا کہنا ہے کہ بی ایل اے کسی آزادی تحریک کا حصہ نہیں بلکہ بھارت کی پراکسی ملیشیا ہے، جو فتنہ و فساد پھیلانے میں مصروف ہے۔ "فتنۃ الہند” کو نہ صرف زمین پر بلکہ دلوں اور تاریخ میں بھی شکست دی جائے گی۔

    ترجمان نے کہا کہ بی ایل اے کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز دہشتگردی کے کھلے اعترافات پر مشتمل ہیں، جن میں پولیس اسٹیشنز پر قبضے، عوامی راستوں کی بندش اور شہریوں کو نقصان پہنچانا شامل ہے۔ذرائع کے مطابق پاکستانی سیکیورٹی ادارے علاقے کا کنٹرول بحال کر رہے ہیں، اور بی ایل اے کے مسلح عناصر راہِ فرار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ان دہشتگردوں کو فرار نہ ہونے دیں۔

    پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بلوچستان کی سرزمین پر صرف امن، ترقی اور قومی پرچم کا راج ہو گا۔ جہاں پاکستان کا پرچم لہرائے گا، وہاں بی ایل اے کا جھوٹ دفن ہو گا۔