Baaghi TV

Tag: کالم نگار

  • معروف تجزیہ نگار و کالم نویس نذیر ناجی وفات پا گئے

    معروف تجزیہ نگار و کالم نویس نذیر ناجی وفات پا گئے

    لاہور: معروف تجزیہ نگار و کالم نویس نذیر ناجی وفات پا گئے-

    باغی ٹی وی: خاندانی ذرائع کے مطابق نذیر ناجی لاہور کے نجی ہسپتال میں زیرعلاج تھے،نذیر ناجی کی عمر 81 سال تھی ، نذیر ناجی کو صحافتی خدمات کے اعتراف میں ہلال امتیاز بھی دیا گیا تھا،معروف سماجی و سیاسی شخصیات نذیر ناجی کی وفات پر تعزیتی پیغام جاری کر رہی ہیں –

    وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے سینئر صحافی نذیر ناجی کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا کہا کہ سوگوار خاندان سے دلی ہمدردی و اظہار تعزیت کرتے ہیں ، نذیر ناجی مرحوم کی صحافتی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، نذیر ناجی مرحوم کی شعبہ صحافت کے لئے خدمات کو تا دیر یاد رکھا جائے گا، اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے اور غمزدہ خاندان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔آمین۔

  • بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر

    صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر 23 جولائی 1966 کو لاہور میں پیدا ہوئے حامد میر، بین الاقوانی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی اور مدیر ہیں روزنامہ جنگ میں اپنے اردو مضامین اور جیو نیوز پر نشر ہونے والے پروگرام کیپیٹل ٹاک (Capital Talk) کی وجہ سے مشہور ہیں۔ اس کے علاوہ بھی پاکستان میں آزادیِ صحافت کے لیے ان کی بڑی جدوجہد اور کاوشیں ہیں۔ ان کے والد پروفیسر وارث میر بھی بہت بڑے اور بااصول صحافی اور دانشور تھے۔

    تعلیم
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے 1989ء میں ابلاغ عامہ (Mass Communication) میں جامعہ پنجاب لاہور سے ماسٹرز کی سند حاصل کی۔

    صحافتی سفر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    حامد میر 1987ء میں مدیر کی حیثیت سے روزنامہ جنگ لاہور سے منسلک ہوئے اور نامہ نگاری اور اشاعت کے شعبوں سے منسلک رہے۔ 1994ء میں آبدوز کیس مر روزنامہ جنگ میں ایک مکالمہ لکھا۔ اس مکالمہ کے چھپتے ہی انھیں اپنی نوکری سے ہاتھ دھونا پڑا۔
    1996ء میں روزنامہ پاکستان اسلام آباد کے مدیر اعلیٰ بنے اور پاکستانی صحافت کے سب سے کم عمر مدیر ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ 1997ء میں ایک بار پھر انہیں پاکستانی وزیر اعظم پر بد عنوانی پر روزنامہ پاکستان پر مکالمہ لکھنے پر اپنے منصب سے سبکدوش ہونا پڑا۔ 1997ء میں روزنامہ اوصاف اسلام آباد کے بانی مدیر بنے۔

    حامد میر نے دس دن مشرقی افغانستان میں گزارے اور دسمبر 2001ء میں تورا بورا کی پہاڑیوں سے اسامہ بن لادن کے فرار کی تحقیق کی اور 2002ء میں جیو ٹیلی ویژن میں شمالی علاقہ کے مدیر کی نوکری اختیار کی۔ نومبر 2002ء سے سیاسی گفتگو کے بر نامہ کیپیٹل ٹالک کی میزبانی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ آج کل وہ اسامہ بن لادن کی سوانح حیات پر کام کر رہے ہیں اور روزنامہ جنگ اور دی نیوز(انگریزی: The News) میں ہفت روزہ کالم لکھتے ہیں۔

    قاتلانہ حملہ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    19 اپریل 2014ء کو حامد میر نے ڈرون حملوں کے خلاف ایک کانفرنس میں شرکت کے لیے کراچی کا دورہ کیا۔ کراچی ہوائی اڈے سے جیو کے دفتر جاتے ہوئے راستے میں ناتھا پل کے قریب ان پر مسلح افراد نے حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں حامد میر کو چھ گولیاں لگیں۔ ہسپتال سے خبر کے مطابق اب ان کی جان کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ (اور اب ایک بار پھر عیدالفطر کے بعد حامد میر نے جیو۔ ٹی۔ وی اپنا۔ پروگرام (کیپٹیل ٹاک دوبارہ شروع کر کے یہ ثابت کیا کہ پاکستان میں صحافت اگر کرنی ہو تو اس کے لیے بہت بڑا دل اور ہمت چاہیے۔

    قابل قدر مکالمے
    ۔۔۔۔۔۔
    اور انعامات
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ 2000ء سے 2002ء تک فرائڈے ٹائمز (Friday Times) اور 2002ء سے 2003ء تک دی انڈیپنڈنٹ (The independent) میں ہفت روزہ کالم لکھتے رہے-

    ۔ بھارتی اخبارات ٹائمز آف انڈیا (Times of India)، آؤٹ لک (Outlook)، دہلی، دی ویک (The Week)، انڈیا، دینک بھاسکر اور Rediff.com میں بھی کالم لکھے-

    ۔ 1996،1997،1998ء میں کل جماعتی اخباراتِ پاکستان (All Pakistan Newspaper Society) کی طرف سے بہترین کالم نویس کا اعزاز حاصل کیا-

    ۔ مارچ 2005ء جودھپور میں صحافت میں امتیازی کارکردگی پر ”ٹرسٹ برائے تعلیماتِ وسیط“ کی جانب سے مہاشری سمان اعزاز
    ۔ وزارت ترقی نسواں، حکومتِ پاکستان کی جانب سے عورتوں کے حقوق کے لیے لکھنے اور بولنے پر اگست 2005ء میں فاطمہ جناح طلائی تمغا حاصل کیا-

    ۔ 1994ء میں روزنامہ جنگ کے لیے اسرائیلی وزیر خارجہ شیمون پیریس سے سوئٹزرلینڈ میں ملاقات کی-

    ۔ 1997 میں روزنامہ پاکستان کے لیے اور 1998ء میں روزنامہ اوصاف کے لیے اسامہ بن لادن سے مکالمےاور 2001ء میں روزنامہ ڈان کےلیےگفتگو کی۔ آخری ملاقات 9/11 کے بعد کسی بھی صحافی کی ان سےپہلی ملاقات تھی بی بی سی اور سی این این نےاسے بین الاقوامی دھماکا قرار دیا۔ ماہنامہ ہیرالڈ نے اس ملاقات کو اپنے دسمبر 2001 کے شمارے میں سال کا سب سے بڑا دھماکا قرار دیا-

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    حامد میر نے ذو الفقار علی بھٹو کے سیاسی فلسفہ پر ایک کتاب بھی لکھی ہے جو 1990ء میں طبع ہوئی بھٹو کی سیاسی پیش گوئیاں اور چوتھا مارشل لا جمہوری پبلیکیشنز لاہور

    کارہائے نمایاں:30 برس کی عمر میں ایڈیٹر مقرر ہوئے اسامہ بن لادن سے تین مرتبہ مکالمہ کیا،فلسطین، عراق، افغانستان، لبنان، چیچنیا، بوسنیا اورسری لنکا کی جنگوں کا احاطہ کیا-

    اعزازات
    ۔۔۔۔۔۔
    ہلال امتیاز
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    وکیپیڈیا سے ماخوذ
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اورشاعرہ بیگم زیب النساء حمید اللہ

    بیگم زیب النساء حمید اللہ ،پاکستان کی پہلی خاتون انگریزی مصنفہ، صحافی، ایڈیٹر اور شاعرہ

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیگم زیب النساء صاحبہ کو بہت سے اہم ترین اور منفرد اعزازات حاصل ہیں اور یہ سب کچھ انہیں خداداد صلاحیتوں کی بدولت حاصل ہوا۔ زیب النساء 25 دسمبر 1921 میں کولکتہ کے ایک علمی اور ادبی مسلم گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد صاحب واجد علی ایک نامور لکھاری تھے جنہوں نے سب سے پہلے شاعر مشرق علامہ محمد اقبال کی شاعری کا بنگالی زبان میں ترجمہ کیا۔ ان کے والد نے اپنی ہونہار صاحبزادی کو اعلی تعلیم دلائی۔ہندوستان کی تقسیم کے باعث ان کا خاندان کراچی پاکستان منتقل ہو گیا۔

    زیب النسا کی شادی 1940 میں ایک کاروباری شخصیت خلیفہ محمد حمید اللہ سے ہوئی جس سے انہیں دو بیٹیاں نیلوفر اور یاسمین پیدا ہوئیں۔ زیب النسا نے 1948 میں انگریزی اخبار روزنامہ ڈان سے کالم نگاری کا آغاز کیا جبکہ 1958 میں انہوں نے کراچی سے انگریزی میں Mirror کے نام سے ماہنامہ جریدہ نکالا جو کہ بہت جلد پاکستان کا ایک مقبول ترہن جریدہ بن گیا ۔

    وہ "مرر” کی ایڈیٹر اور پبلشر خود ہی تھیں جبکہ وہ ادارت اور کالم نگاری کے علاوہ شاعری بھی کرتی تھیں اس طرح وہ پاکستان میں انگریزی زبان کی پہلی خاتون صحافی، کالم نگار ، ایڈیٹر ، پبلشر اور انگریزی شاعرہ بن گئیں جو کہ بہت بڑے اعزازات ہیں ۔ اپنے کالمز اور اداریوں میں حکومت کی غلط پالیسیوں پر زبردست تنقید کی وجہ سے ان کے جریدے کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی گئی لیکن انہوں نے معروف قانون دان اے کے بروہی کی توسط سے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف مقدمہ دائر کیا گیا اور یہ مقدمہ انہوں نے جیت لیا اور پاکستان میں کسی بھی خاتون صحافی کا مقدمہ جیتنے کا پہلا اعزاز بھی ان کے حصے میں آیا۔

    محترمہ فاطمہ جناح اور بیگم رعنا لیاقت علی خان ان کی بہترین دوستوں میں شامل تھیں ۔ زیب النسا صاحبہ کے خاوند پاکستان میں باٹا شوز کمپنی کے چیف ایگزیکٹو کے عہدے پر فائز تھے۔ 1970 میں ان کے شوہر حمید اللہ صاحب کا آئر لینڈ تبادلہ کر دیا گیا تو زیب النسا بھی ان کے ہمراہ ڈبلن آئر لینڈ منتقل ہو گئیں لیکن کراچی پاکستان میں ان کی آمد و رفت کا سلسلہ جاری رہا۔ 1983 میں ان کے شوہر محترم کا کراچی میں انتقال ہوا۔ زیب النسا کو پاکستان کی پہلی خاتون مبصر ہونے اور الازہر یونیورسٹی قاہرہ سے خطاب کرنے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے ۔ 10 ستمبر 2000 میں ان کا کراچی میں انتقال ہوا ۔ کراچی کی مشہور گلی ” زیب النسا اسٹریٹ” ان کے نام سے منسوب ہے ۔ بیگم زیب النساء حمید اللہ کی انگریزی تصانیف کی تفصیل درج ذیل ہے۔

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)Indian Bouquet
    ۔ 1941
    ۔ (2)Lotus Leaves
    ۔ 1946
    ۔ (3)Sixty Days in
    ۔ America
    ۔ 1956
    ۔ (4)The Young Wife
    ۔ 1958
    ۔ (5)The Flute of
    ۔ Memory
    ۔ 1964
    ۔ (6)Poems
    ۔ 1972

  • دہلی کے معروف مؤرخ، صحافی اور رائٹر رونالڈ ووین  اسمتھ

    دہلی کے معروف مؤرخ، صحافی اور رائٹر رونالڈ ووین اسمتھ

    دہلی کے معروف مؤرخ، صحافی اور رائٹر رونالڈ ووین اسمتھ آگرہ میں 1938 میں پیدا ہوئےا سمتھ گوالیار آرمی کے کرنل سلواڈور اسمتھ (1783-1871) کی فیملی سے تھے۔ کرنل اسمتھ نے گوالیار کے اس وقت کے راجہ دولت راؤ سندھیا کی فوج کو ٹریننگ دی تھی۔ اسمتھ نے اپنی تعلیم آگرہ کے سینٹ پیٹرس کالج اور سینٹ جانس کالج سے حاصل کی جہاں سے انھوں نے انگریزی ادب میں ایم اے کی ڈگری لی۔ 50 کی دہائی میں وہ دہلی آ گئے۔ انھوں نے 1956 سے ہی اخباروں کے لیے لکھنا شروع کر دیا تھا۔

    صحافی والد تھا مس اسمتھ سے متاثر ہونے والے اسمتھ نے بھی وہی پیشہ چنا اور دہلی میں خبررساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا(پی ٹی آئی)اور د ی اسٹیٹس مین اخبار کےلیےکام کیا1961 میں انھوں نےخبررساں ایجنسی پی ٹی آئی جوائن کیا تھا۔ 1996 میں وہ نیوز ایڈیٹر کے عہدے سےسبک دوش ہوئے۔

    حالانکہ انھوں نے لکھنا نہیں چھوڑا اور اپنی زندگی کے آخری دنوں تک (25 اپریل، 2020 تک) دی ہندو اور دی ا سٹیٹس مین اخباروں کے لیے لکھتے رہے۔وہ آؤٹ لک میں بھی ‘ہیڈس اینڈ ٹیلس’ نام سے ہفتہ وار کالم لکھ چکے تھے۔ ان کی اہم کتابیں ہیں ‘دیلہی: اننون ٹیلس آف اےسٹی’، ‘د ی دیلہی دیٹ نو ون نوز’، ‘لنگرنگ چارم آف دیلہی: متھ، لور اینڈ ہسٹری’ وغیرہ ۔ انہوں نے تاج محل پر بھی ایک کتاب لکھی ہے۔

    ٹائمس آف انڈیا کی رپورٹ کے مطابق،ا سمتھ نے تقریباً ایک درجن کتابیں لکھیں، جن میں سے اکثر دہلی کے بارے میں ہے۔ ان میں سے ایک رومانی ناول بھی ہے جس کا نام ”جیسمن نائٹس اینڈ د ی تاج“ ہے۔ اس کے علاوہ ایک بھوت پریت کی کہانیوں پر مبنی کتاب ہے اور نظموں کی دوحصے میں کتابیں بھی شامل ہیں۔

    اسمتھ نے ایک بار خود کہا تھاکہ وہ ایک بھوت والےگھر میں پلے بڑھے جو 1860 کی دہائی کے آس پاس بنایا گیا تھا اور جس میں کہانیوں، بھوتوں اور آتماؤں کا بھی حصہ تھا۔ ان کی چاچیاں اور بڑی بہنوں نے انھیں بتایا تھا کہ کیسے سفید ساڑی میں بہنے والی خواتین ان کے گھر کی اندھیری کوٹھری میں دکھائی دیتی تھیں۔

    آروی اسمتھ کو تاریخ، آثار قدیمہ، مصر کی زبان، تاریخ اورتہذیبی مطالعہ کی جانکاری حاصل کرنا اور ان پر لکھنا پسند تھا۔ انھیں کینن ہالینڈ پرائز اور روٹری ایوارڈ فار جنرل نالج اور 1997 98 میں کولکاتا کے مائیکل مدھو سودن اکادمی کی جانب سےجرنلزم ایوارڈسے نوازا جا چکا ہے۔