Baaghi TV

Tag: کام

  • حالات ایسے نہیں کہ پنجاب میں مزید کام جاری رکھ سکوں،چیف سیکریٹری

    حالات ایسے نہیں کہ پنجاب میں مزید کام جاری رکھ سکوں،چیف سیکریٹری

    چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افضل نے کہا ہے کہ کسی میوزیکل چیئر کا حصہ نہیں بننا چاہتا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق آل سیکریٹریز کانفرنس میں گفتگو کرتے ہوئے چیف سیکریٹری پنجاب کامران علی افضل نے کہا کہ سیاسی مداخلت بہت زیادہ ہے، کسی افسر کی مدت پوری نہیں ہونے دی جاتی۔

    ذرائع کے مطابق چیف سیکریٹری پنجاب نے کہا کہ وزیراعظم سے ملاقات کر کے درخواست کی کہ میری خدمات واپس لی جائیں۔ ذرائع نے بتایا کہ کامران افضل کے مطابق شہباز شریف نے کہا تھا 13 ستمبر تک کسی اور کو چیف سیکریٹری تعینات کردیں گے۔

    ذرائع کا کہنا تھا کہ کامران علی افضل نے آل سیکریٹریز سے ملاقات کو الوداعی قرار دیا اور کہا کہ میں نے کوشش کی کہ افسران کے ساتھ ٹیم بن کر کام کیا جائے۔ کامران افضل نے کہا کہ حالات ایسے نہیں کہ پنجاب میں مزید کام جاری رکھ سکوں، میری خدمات جلد واپس لے لی جائیں گی.

    قبل ازیں بھی چیف سیکریتری پنجاب نے حمزہ شہباز کی حکومت کت ختم ہونے پر وفاق سے درخواست کی تھی کہ وہ پرویز الہیٰ کی حکومت کے ساتھ کام کرنا نہیں چاہتے مگر وفاق کے کہنے پر کامران علی افضل نے پنجاب میں اپنی خدمات سر انضام دیں ، اور اب ان کا بیان دوبارہ سامنے آگیا ہے .جس میں انہوں نے پنجاب حکومت کت ساتھ کام نا کرنے کی وجوہات بیان کر دی ہیں.

  • سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

    سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری

    وزیر اعظم محمّد شہباز شریف کی خصوصی ہدایت پر سیلاب زدہ علاقوں میں شاہراہوں اور رابطہ سڑکوں کی بحالی کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے.وزیر اعظم مواصلات اور سڑکوں کی بحالی کے کام نگرانی خود کر رہے ہیں،اس حوالے سے انھیں روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ پیش کی جا رہی ہے.وزیراعظم کا کہنا ہے کہ مواصلات اور رابطہ سڑکوں کی بحالی اولین ترجیح ہے.

    وزیر اعظم کی ہدایت پر وفاقی وزیر مواصلات اور چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی قومی شاہراہوں کی بحالی کو یقینی بنا رہے ہیں،گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران چاروں صوبوں، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ شاہراہوں کو بحال کر دیا گیا ہے

    گزشتہ پندرہ دنوں کے دوران چاروں صوبوں، گلگت بلتستان میں سیلاب سے متاثرہ بیشتر قومی شاہراہوں اور موٹر ویز کو بحال کر دیا گیا ہے، قومی شاہراہ N-15 کو مانسہرہ سے چلاس براستہ ناران ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے ، اسی طرح کراچی سے چمن قومی شاہراہ N-25 جو کہ حب سے خضدار تک سیلاب سے متاثر تھی کو بھی ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے. قراقرم ہائی وے N-35 جو کہ ٹریفک کے لیے انڈس کوہستان اور ہنزہ کے اضلاع میں بند تھی,کو بھی مکمل بحال کر دیا گیا ہے.

    قومی شاہراہ N-40 کا کوئٹہ -نوشکی سیکشن ، قومی شاہراہ N-45 کا چکدرہ- دیر سیکشن، انڈس ہائی وے N-55 کے راجن پور – تونسہ اور ڈیرہ اسماعیل خان – پیزو سیکشنز ، N-65 کا سبی – کوئٹہ سیکشن، N-70 کا فورٹ منرو سیکشن، N-90 کا الپوری- بشام سیکشن، N-140 کا گلگت-شندور سیکشن اور اسٹریٹجک ہائی وے S-1 کو شنگوس کے مقام پر ٹریفک کے لیے بحال کر دیا گیا ہے.

    تاہم کچھ شاہراہوں پر بحالی کا کام تیزی سے جاری ہے، قومی شاہراہ N-50 ژوب-ڈیرہ اسماعیل خان سیکشن،N-95 فتح پور -کالام سیکشن اور موٹر وے M-8 وانگو ہلز -بانجا سیکشن پر بحالی کا کام جاری ہے ; یہ شاہراہیں بھی جلد ہی ٹریفک کے لیےمکمل بحال کر دی
    جاینگی.

  • چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے  معذرت کر لی

    چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کر لی

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کر لی.کامران علی افضل نے اسٹیبلشمنٹ ڈویثرن کو مراسلہ لکھ دیا ،مرسلے میں چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے کہا کہ کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر چیف سیکرٹری کے عہدہ کی ذمہ داریاں سر انجام دینے سے قاصر ہیں،لہذا انہیں موجودہ ذمہ داری سے فوری طور پر سبکدوش کر دیا جائے.

    زرائع کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل اور پرویز الہی کے درمیان تناو چل رہا تھا ، کامران علی افضل نے عدالت کے احکامات کی روشنی میں پنجاب کے وزیر اعلی کے انتخاب کے دوران پنجاب اسمبلی میں پولیس کو تعینات کیا تھا جس کا اس وقت کے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو شدید رنج تھا اور سپیکر چوہدری پرویز الہیٰ نے چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل اور آئی جی پنجاب کو پنجاب اسمبلی میں طلب کیا تھا اور ان سے معافی مانگنے کا کہا تھا ،تاہم چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی پنجاب اسمبلی میں پیش نہیں ہوئے تھے.

    پاغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالتی حکم پر وزیراعلی پنجاب کا دوبارہ انتخاب عمل میں لایا گیا جس کے نتیجہ میں چوہدری پرویز الہیٰ پنجاب کے وزیراعلی منتخب ہو گئے اور اب پنجاب میں کابینہ بھی تشکیل دی جا چکی ہے .موجودہ صورتحال میں چیف سیکرٹری پنجاب نے پنجاب کی موجودہ حکومت اور پنجاب کے نئے وزیراعلی چوہدری پرویز الہیٰ کے ساتھ کام کرنے سے معزرت کر لی ہے.

    یاد رہے کہ وزیراعلی کے انتخاب کے دوران پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی جس میں اس وقت کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کو بازو پر چوٹ لگی جس کا الزام انہوں نے مسلم لیگ ن ، چیف سیکر ٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب پر عائد کیا تھا اور حمزہ شہباز کے وزیراعلی پنجاب بننے کے بعد بھی چوہدری پرویز الہی ،ن لیگ کی حکومت سے مطالبہ کرتے رہے کہ چیف سیکرٰٹری پنجاب کامران علی افضل اور آئی جی کو پنجاب کے ایوان میں بلوایا جائے اور ان سے معافی منگوائی جائے.مگر مسلم لیگ ن کی حکومت نے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی پنجاب کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش ہونے نہیں دیا، ن لیگ کی حکومت کا موقف تھا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی نے عدالت کے حکم پر عملدرآمد کیا ہے انہیں اسمبلی میں ہیش نہیں کیا جائے گا.

    خیال رہے کہ پنجاب کے آئی جی اور گئی انتظامی افسروں کا تبادلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے

  • بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں متعدد پاکستانی چینیوں کے ساتھ مل کرکام.

    بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں متعدد پاکستانی چینیوں کے ساتھ مل کرکام.

    پاکستان اور چین کے مابین کپاس کی تحقیق کے شعبے میں دوطرفہ تعاون کو مستحکم کرنے کے لئے اہم پیشرفت ہو رہی ہے۔حکام کےمطابق پاکستان اور چین سی پیک کے فریم ورک کے تحت زرعی شعبے خصوصاََ کپاس کی تحقیق کے شعبے میں بڑی کوششیں کر رہے ہیں۔ اس تعاون کے لئے متعدد عوامل کار فرماہیں۔جن میں جغرافیائی قربت اور موسمی حالات شامل ہیں۔ بائیوٹیکنالوجی کے میدان میں متعدد پاکستانی چینیوں کے ساتھ مل کرکام کر رہے ہیں جس کے ذریعے کپاس کی نئی اقسام تیار کی جارہی ہیں جو موسم اثرات اور کیڑوں کے خلاف مزاحمت کی حامل ہیں

  • کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

    کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر

    آپ لوگوں نے جہاز کو ائیرپورٹ کی حدود میں ٹیکسی کرتے عموماً دیکھا ہوگا۔ اس وقت جہاز کی رفتار بہت مدھم اور سست ہوتی ہے۔ کیونکہ اس وقت جہاز اپنے انجنوں کی پوری قوت استعمال نہیں کررہا ہوتا

    جہاز سست رفتاری سے رینگتا ہوا مین رن وے کے شروعاتی پوائنٹ تک پہنچتا ہے، اپنی سمت کو درست کرتا ہے اور اسکے بعد بھرپور طاقت سے اپنے انجن کو اسٹارٹ کرکے ٹیک آف اسپیڈ پکڑتا ہے۔ یہ رفتار اور طاقت کچھ ہی سیکنڈز بعد اسے آسمان کی بلندیوں تک لے جاتی ہے۔

    کاروبار کی بھی بلکل یہی مثال ہے۔۔۔

    کاروبار کی شروعات سست ہوتی ہے۔ کیش فلو بہت کم ہوتا ہے، منافع کی دھار ہلکے ہلکے بن رہی ہوتی ہے۔ آپ دھیرے دھیرے قدم جما رہے ہوتے ہیں۔ لمبی اڑان (بڑے منافع) کے لیے رن وے (صحیح سمت اور موقع) پر آرہے ہوتے ہیں۔

    کاروبار کے رن وے پر کامیابی سے پہنچنے کے بعد آپ کو "انجن” پوری طاقت کے ساتھ اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے۔۔۔

    بہت سے کاروباری، کامیابی سے رن وے تک پہنچنے کے باوجود "انجن” کو اسٹارٹ نہیں کرپاتے۔ یہ رن وے پر بھی سست رفتار سے دوڑتے رہتے ہیں۔ جب کہ اسمارٹ اور زہین کاروباری، رن وے پکڑتے ہی، انجن اسٹارٹ کرکے آسمانوں کی بلندیوں پر نکل جاتے ہیں

    کیا آپ جانتے ہیں کہ کاروبار کی اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے کیا مراد ہے؟

    نہیں جانتے؟

    میں آپ کو بتاتا ہوں۔۔۔

    کاروباری اصطلاح میں، انجن اسٹارٹ کرنے سے مراد ہے،

    کاروبار کے مختلف پراسسز کو delegate کرنا۔۔۔

    آسان الفاظ میں، اپنے کام خود کرنے کی بجائے، دوسروں سے کروانا

    مثال کے طور پر، مائیکروسافٹ کے شروعاتی دور میں، بل گیٹس اپنے سافٹ ویئر خود کوڈ کرتا تھا لیکن مائیکروسافٹ کے جہاز کے رن وے پر چڑھتے ہی اس نے developers ہائیر کرنا شروع کئیے جو مائیکروسافٹ کی پروڈکٹس کو کوڈ کرتے اور بل گیٹس کی ساری توجہ بزنس گروتھ پر لگنے لگی۔

    کے ایف سی کے فاؤنڈر، کرنل سینڈرز خود فرائیڈ چکن بنایا کرتے تھے، لیکن پھر انھوں نے کاروبار کے پھیلتے ہی ورکرز رکھنے شروع کئیے اور خود کو بزنس کی گروتھ کے لیے وقف کرلیا۔

    پاکستانی چیف جسٹس کوویزا جاری نہیں کریں گے، امریکہ

    آپ Elon Musk کو دیکھ لیجیے۔ وہ صرف گروتھ اور نت نئے بزنس آئیڈیاز پر کام کرتا ہے، باقی ہر کام کے لیے اس نے ٹیمیں تشکیل دی ہوئی ہیں۔

    یہ تو بلین ڈالر کمپنیوں کی مثالیں تھیں۔ چھوٹے بزنس اس کو کیسے اپلائی کرسکتے ہیں؟

    مثال کے طور پر، آپ نے چھوٹے پیمانے اور کم بجٹ سے ای کامرس میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بجٹ محدود ہونے کی بناء پر، سارے کام آپ کو خود کرنے پڑتے ہیں۔

    آپ ہول سیل پر پراڈکٹ خرید کر لاتے ہیں، پھر انھیں پیک کرتے ہیں، کسٹمر کی کالز اور میسجز کو خود مینج کرتے ہیں، پیک کرکے ڈیلیوری کمپنی تک پہنچاتے ہیں۔ باقی فیس بک پیج یا ویب سائٹ بھی آپ مینج کررہے ہیں، وغیرہ وغیرہ۔

    شروع میں یہ سب کچھ آپ ہی کو مینج کرنا پڑے گا۔ لیکن، کچھ عرصے پرافٹ میں چلنے کے بعد آپ کو ان تمام پراسس ورک کے لیے کسی کو ہائیر کرنا ضروری ہے تاکہ آپ اپنا "تمام” فوکس بزنس گروتھ اور ڈیویلپمنٹ پر لگاسکیں۔

    اپنےآپ کو خودکش دھماکے میں اڑانے والے کون تھے ؟

    جتنا بھی ممکن ہوسکے، ہر شعبے کے لیے ہیلپر یا ماہر افراد رکھتے جائیے۔ اگر کسی کام کے لیے فل ٹائم بندہ ہائیر نہیں کرسکتے تو پارٹ پوزیشن آفر کیجیے۔ یہ بھی مشکل لگتا ہے تو آؤٹ سورسنگ کی طرف جائیے۔ اسکے علاوہ کسی کو پارٹنر بنا کر یا اسٹیک آفر کیجیے اور اپنے کام میں ساتھ ملا لیجیے۔

    دھیرے دھیرے ٹیم ڈیویلپ کرنا، پراسسز کو delegate کرنا انتہائی ضروری ہے۔ اسکے بناء آپ بڑا کاروبار نہیں کھڑا کرسکتے۔

    یاد رکھئیے، چھوٹا بزنس delegation، مطلب کے دوسروں کو کام سونپنے سے ہی بڑا بنتا ہے یعنی کے ٹیک آف کرپاتا ہے۔ اگر آپ صرف پیسے بچانے کے لیے سارے کام خود سے کرنے پر لگے رہیں گے تو کئی سالوں بعد بھی رن وے پر ہی رینگ رہے ہوں گے۔۔۔!!!

    کام ، نام پھر مقام ، قطرے سے جہان —از —انعام الرحمن طاہر