Baaghi TV

Tag: کامران علی افضل

  • چیف سیکرٹری پنجاب نے مزید ایک ماہ کی چھٹی لے لی

    چیف سیکرٹری پنجاب نے مزید ایک ماہ کی چھٹی لے لی

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے مزید ایک ماہ کی چھٹی لے لی-

    باغی ٹی وی : چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے تحریری طور پر وفاقی حکومت سے درخواست کی تھی کہ وہ چیف سیکرٹری پنجاب کے عہدے پر مزید کام نہیں کرنا چاہتے اس لیے ان کی خدمات واپس لی جائیں مگر تا حال ان کی درخواست پر وفاق کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا جس کے باعث انہوں نے مزید ایک ماہ کی چھٹی لے لی ہے۔

    چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کر لی

    پنجاب حکومت نے کامران علی افضل کی چھٹی منظور کرتے ہوئے چیئرمین پی اینڈ ڈی عبداللہ خان سنبل کے بطور چیف سیکرٹری پنجاب اضافی چارج میں بھی 6 نومبرتک توسیع کردی ہے پنجاب حکومت نے کامران علی افضل کی 6 نومبر تک چھٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے-

    واضح رہے کہ قبل ازیں چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل اس سے قبل بھی دو بار چھٹی لے چکے ہیں چیف سیکریٹری کامران علی افضل 17 ستمبر کو دو ہفتے کی ‘احتجاجی رخصت’ پر چلے گئے تھے کیونکہ وہ اپنی مہر کے تحت ڈپٹی کمشنرز، کمشنرز اور انتظامی سیکریٹریوں کے تبادلوں اور تعیناتیوں کے احکامات جاری کرنے پر خوش نہیں تھے حالانکہ رولز آف بزنس وزیر اعلیٰ کو افسران کے تبادلوں اور تقرر کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیتے ہیں۔

    زبانی درخواستوں کے علاوہ کامران علی افضل نے ‘ذاتی وجوہات’ کا حوالہ دیتے ہوئے ایک رسمی خط لکھا تھا کہ پنجاب سے ان کی خدمات واپس لے لی جائیں، میرے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ میں اپنی موجودہ ذمہ داری کو جاری رکھوں۔

    ان کی غیر موجودگی میں چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈیولپمنٹ بورڈ عبداللہ خان سنبل کو 30 ستمبر تک چیف سیکریٹری کے دفتر کے معمول کے کام کی دیکھ بھال کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔

    خاتم النبیین حضرت محمد ﷺ کا یوم ولادت آج انتہائی مذہبی عقیدت سے منایا جائے گا

    باقاعدہ چیف سیکریٹری کی تعیناتی کے فیصلے کی وجہ سے کامران افضل کی لی گئی چھٹی میں مزید ایک ہفتے کی توسیع کردی گئی تھی اور عبداللہ سنبل کو 7 اکتوبر (آج) تک کا اضافی چارج دے دیا گیا تھا۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت پنجاب حکومت کے سفارش کردہ تین افسران میں سے کسی کو بھی تعینات کرنے سے گریزاں ہے۔

    ان کا دعویٰ ہے کہ وفاقی حکومت نے چیف سیکریٹری پنجاب کے عہدے پر تعیناتی کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کے تجویز کردہ افسران کے علاوہ چند دیگر افسران کے بھی انٹرویو کیے لیکن پھر مکمل خاموشی ہوگئی۔

    ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت بھی اس بات پر زور دے رہی ہے کہ چیف سیکریٹری کا انتخاب اس کے اپنے پینل سے کیا جائے۔

    وفاقی حکومت کو بھیجے گئے پنجاب حکومت کے پینل میں سیکریٹری کابینہ احمد نواز سکھیرا، پی اینڈ ڈی بورڈ کے چیئرمین عبداللہ خان سنبل اور سابق ایس ایم بی آر بابر حیات تارڑ شامل ہیں۔

    ذرائع کا دعویٰ ہے کہ احمد سکھیرا سیکریٹری کابینہ کے طور پر کام کرنے کے بعد پنجاب کے چیف سیکریٹری کا عہدہ سنبھالنے میں دلچسپی نہیں رکھتے، معلوم ہوا ہے کہ وہ پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس گروپ کے سب سے سینئر افسر ہیں اور آئندہ سال کے آغاز میں ریٹائرمنٹ کی عمر مکمل ہونے پر سروس سے ریٹائر ہو جائیں گے۔

    گوجرخان سج گیا عید میلاد النبیَ کی تیاریاں مکمل

    مبینہ طور پر بابر حیات تارڑ اور عبداللہ سنبل کے درمیان ٹائی ہے کیونکہ ذرائع کا خیال ہے کہ اس سے قبل کم از کم دو گریڈ 21 کے افسران کو پنجاب کے چیف سیکریٹری کے طور پر تعینات کیا گیا تھا، جنہیں بعد میں دفتر میں رہتے ہوئے گریڈ 22 میں ترقی دی گئی تھی-

  • چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل 14روز کی چھٹی پر چلے گئے

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل 14روز کی چھٹی پر چلے گئے

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل 14روز کی چھٹی پر چلے گئے۔

    باغی ٹی وی : حکومت کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل کی 17 سے 30 ستمبر تک چھٹی منظور ہوئی ہے۔

    نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ کامران علی افضل کی غیر موجودگی میں چیئرمین پی اینڈ ڈی عبد اللہ سنبل چیف سیکرٹری آفس کے معاملات دیکھیں گے۔

    پراپرٹی ٹرانسفر فیس میں بڑی کمی:رئیل اسٹیٹ اورکاروباری طبقہ خوش ہوگیا

    یاد رہے کہ گزشتہ ماہ چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے کام جاری رکھنے سے معذرت کرتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو مراسلہ بھی بھیجا تھا۔

    ذرائع کے مطابق مراسلے میں لکھا گیا تھا کہ تبادلے کارکردگی کی بنیاد پر ہونے چاہئیں نہ کہ سیاسی تبدیلی کی بنیاد پر، ٹرانسفر پوسٹنگ احکامات پر صرف دستخط کرنے والا ربڑ اسٹیمپ نہیں بن سکتا سیاسی تبدیلی اور فیصلوں سے پہلے ہی بیوروکریسی کا کام متاثر ہوا ہے۔

    کورونا وبا اپنے اختتام کے قریب ہے، ڈبلیو ایچ او

    چیف سیکرٹری کابینہ کے سیکرٹری کے طور پر کام کرتے ہیں، کابینہ اجلاس میں سیکرٹری کے فرائض سیکرٹری آئی اینڈ سی نے انجام دیے۔

    کامران علی افضل نے بطور چیف سیکرٹری پنجاب اپنے عہدے کا چارج گزشتہ برس نومبر میں سنبھالا تھا ان کا تعلق پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس کے 21ویں کامن سے ہے۔بطور چیف سیکرٹری پنجاب تعیناتی سے قبل وہ وفاقی سیکرٹر ی صنعت و پیداوار خدمات سر انجام دے رہے تھے۔

    ضروری غذائی اجناس کی ترسیل کے سلسلے میں نیشنل فلڈ رسپانس کوآرڈنیشن سنٹرکا بڑا فیصلہ

  • چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے  معذرت کر لی

    چیف سیکرٹری نے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کر لی

    چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے پنجاب حکومت کے ساتھ کام کرنے سے معذرت کر لی.کامران علی افضل نے اسٹیبلشمنٹ ڈویثرن کو مراسلہ لکھ دیا ،مرسلے میں چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل نے کہا کہ کہ وہ ذاتی وجوہات کی بنا پر چیف سیکرٹری کے عہدہ کی ذمہ داریاں سر انجام دینے سے قاصر ہیں،لہذا انہیں موجودہ ذمہ داری سے فوری طور پر سبکدوش کر دیا جائے.

    زرائع کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل اور پرویز الہی کے درمیان تناو چل رہا تھا ، کامران علی افضل نے عدالت کے احکامات کی روشنی میں پنجاب کے وزیر اعلی کے انتخاب کے دوران پنجاب اسمبلی میں پولیس کو تعینات کیا تھا جس کا اس وقت کے سپیکر پنجاب اسمبلی چوہدری پرویز الہیٰ کو شدید رنج تھا اور سپیکر چوہدری پرویز الہیٰ نے چیف سیکرٹری پنجاب کامران علی افضل اور آئی جی پنجاب کو پنجاب اسمبلی میں طلب کیا تھا اور ان سے معافی مانگنے کا کہا تھا ،تاہم چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی پنجاب اسمبلی میں پیش نہیں ہوئے تھے.

    پاغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق عدالتی حکم پر وزیراعلی پنجاب کا دوبارہ انتخاب عمل میں لایا گیا جس کے نتیجہ میں چوہدری پرویز الہیٰ پنجاب کے وزیراعلی منتخب ہو گئے اور اب پنجاب میں کابینہ بھی تشکیل دی جا چکی ہے .موجودہ صورتحال میں چیف سیکرٹری پنجاب نے پنجاب کی موجودہ حکومت اور پنجاب کے نئے وزیراعلی چوہدری پرویز الہیٰ کے ساتھ کام کرنے سے معزرت کر لی ہے.

    یاد رہے کہ وزیراعلی کے انتخاب کے دوران پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی بھی ہوئی تھی جس میں اس وقت کے سپیکر چوہدری پرویز الہی کو بازو پر چوٹ لگی جس کا الزام انہوں نے مسلم لیگ ن ، چیف سیکر ٹری پنجاب اور آئی جی پنجاب پر عائد کیا تھا اور حمزہ شہباز کے وزیراعلی پنجاب بننے کے بعد بھی چوہدری پرویز الہی ،ن لیگ کی حکومت سے مطالبہ کرتے رہے کہ چیف سیکرٰٹری پنجاب کامران علی افضل اور آئی جی کو پنجاب کے ایوان میں بلوایا جائے اور ان سے معافی منگوائی جائے.مگر مسلم لیگ ن کی حکومت نے چیف سیکرٹری پنجاب اور آئی پنجاب کو پنجاب اسمبلی کے ایوان میں پیش ہونے نہیں دیا، ن لیگ کی حکومت کا موقف تھا کہ چیف سیکرٹری اور آئی جی نے عدالت کے حکم پر عملدرآمد کیا ہے انہیں اسمبلی میں ہیش نہیں کیا جائے گا.

    خیال رہے کہ پنجاب کے آئی جی اور گئی انتظامی افسروں کا تبادلہ پہلے ہی کیا جا چکا ہے