Baaghi TV

Tag: کانفرنس

  • میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،تجزیہ :شہزاد قریشی

    تجزیہ شہزاد قریشی۔میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ

    جرمنی کے شہر میونخ میں منعقدہ میونخ سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کر گئی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے۔ یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے۔ اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی جب روس۔یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین۔امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔

    کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیا کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے۔ امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا۔ اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے۔

    پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی۔جرنل عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکیات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے۔ جنوبی ایشیا کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت، اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے۔

    یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے۔ عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا۔

    پاکستان کے لیے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے۔ سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں۔

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس،توازن کا آئینہ دار فورم!

    بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ،دنیا کو پرامن بنا دیں گی؟
    کانفرنس میں فیلڈ مارشل کی موجودگی،پاکستان عالمی اتحادکیلئے ناگزیر
    دنیا تیزی سے بدل رہی،اسلام آباد محض مبصر نہیں،فعال فریق ہے

    میونخ سیکیورٹی کانفرنس اور بدلتا ہوا عالمی منظرنامہ،جرمنی کے شہر میونخ میں سیکیورٹی کانفرنس ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرہی ہے کہ دنیا ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دوراہے پر کھڑی ہے،یہ محض ایک سالانہ اجلاس نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے درمیان اعتماد، تصادم اور تعاون کے بدلتے ہوئے توازن کا آئینہ دار فورم ہے،اس سال کی کانفرنس ایسے وقت میں منعقد ہوئی،جب روس،یوکرین جنگ، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، چین،امریکہ رقابت اور یورپ کے داخلی سیکیورٹی خدشات عالمی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں،کانفرنس میں امریکہ، یورپی یونین، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیاء کے اعلیٰ سطحی وفود کی شرکت نے اس امر کو واضح کیا کہ عالمی سلامتی اب علاقائی حدود سے نکل کر مکمل طور پر باہم جڑی ہوئی حقیقت بن چکی ہے،امریکہ کی نمائندگی نے ٹرانس اٹلانٹک اتحاد کی اہمیت پر زور دیا جبکہ یورپی قیادت نے دفاعی خودمختاری اور مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت کو اجاگر کیا،اس مباحثے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ مغربی اتحاد بھی نئے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت کا تعین کر رہا ہے،پاکستان کی شرکت اس تناظر میں خاص اہمیت کی حامل رہی،فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی موجودگی اور اعلیٰ سطحی سفارتی روابط نے یہ پیغام دیا کہ پاکستان خطے کی سیکیورٹی حرکات میں محض ایک مبصر نہیں بلکہ ایک فعال فریق ہے،جنوبی ایشیاء کی اسٹریٹجک صورتحال، افغانستان کی غیر یقینی کیفیت اور دہشت گردی کے خلاف جاری کوششوں کے تناظر میں پاکستان کا کردار عالمی برادری کے لئے اہمیت رکھتا ہے،پاکستان کو اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی سفارتی اور دفاعی حکمت عملی کو مزید متوازن اور مؤثر بنانا چاہیے،یہ امر بھی قابل غور ہے کہ کانفرنس کے مباحثوں میں اب طاقت کے یک قطبی تصور کی جگہ کثیر قطبی نظام کی بات زیادہ سنائی دے رہی ہے،عالمی اداروں کی ساکھ، بین الاقوامی قانون کی عملداری اور علاقائی اتحادوں کی افادیت پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں،ایسے میں میونخ کانفرنس جیسے فورمز کا کردار محض بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ انہیں عملی پیش رفت کی بنیاد بننا ہوگا،پاکستان کے لئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ عالمی فورمز پر اپنی موجودگی کو داخلی استحکام، معاشی مضبوطی اور علاقائی امن کے ساتھ جوڑے،سفارتی کامیابی اسی وقت پائیدار ثابت ہوتی ہے جب اس کے پیچھے قومی اتحاد اور معاشی خود کفالت موجود ہو،میونخ سیکیورٹی کانفرنس نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے،اب وہی ممالک مؤثر کردار ادا کر سکیں گے جو نہ صرف عالمی سیاست کو سمجھیں بلکہ اپنے قومی مفادات کو عالمی ذمہ داریوں کے ساتھ ہم آہنگ بھی کریں گے

  • خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن کیلئے گورنر ہاؤس میں آل پارٹیز کانفرنس

    خیبرپختونخوا میں قیام امن، صوبائی حقوق کے حصول اور درپیش چیلنجز پر تبادلہ خیال کے لیے آل پارٹی کانفرنس گورنر ہاوس پشاور میں جاری ہے

    کانفرنس کی صدارت و میزبانی گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کر رہے ہیں۔کانفرنس میں مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنما شریک ہیں جن میں آفتاب شیر پاؤ، میاں افتخار حسین، انجنیئر امیر مقام، مولانا لطف الرحمان، پروفیسر ابراہیم، محمد علی شاہ باچا، محسن داوڑ، سکندر شیر پاؤسمیت دیگر قائدین شامل ہیں۔۔افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ کل جماعتی کانفرنس کا مقصد صوبے میں امن و امان اور اس کے وسائل کے بارے بات چیت کرنی ہے۔ صوبے کو بد امنی نے اپنے لپٹ میں لے رکھا ہے۔صوبائی حکومت کو کل جماعتی کانفرنس بلانی چاہیے تھی۔مجبور ہو کر ہم نے یہ اقدام اٹھایا۔ چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں مسائل کے حل کیلئے اپنی تجاویز   پیش کر سکیں ۔گورنر نے کہا جنوبی اضلاع اور کرم کے حالات ہمارے سامنے ہیں۔انھوں نےُ کہا کہ تمام سیاسی جماعتوں کے تجاویز پر غور کیا جائے گا اور آخر میں ایک اعلامیہ جاری کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانفرنس صوبے میں امن و استحکام اور سیاسی یکجہتی میں معاون ثابت ہوگی۔

    گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کی جانب سے تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانا خیبرپختونخوا میں حقیقی مسائل کے حل کی جانب پہلا قدم ہے۔ وزیر اعلیٰ کی غیرفعالیت اس کے برعکس عوام کے لیے مایوسی کا سبب بنی ہے،گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی قیادت نے صوبے میں امن و امان اور مسائل کے حل کے لیے ایک نئی امید پیدا کی ہے۔ آل پارٹیز کانفرنس میں 16 سے زائد جماعتوں کو یکجا کرنا اتحاد کی جانب بڑا قدم ہے

    خیبر پختونخوا حکومت، پی ٹی آئی رہنما عاطف خان کو دوسرے کیس میں نوٹس جاری

    عاطف خان کی طلبی، پی ٹی آئی میں اختلافات

    اینٹی کرپشن میں طلبی،عاطف خان بولے،اب کھل کو بولوں گا

    فیض حمید کو میرے خلاف وعدہ معاف گواہ بنائیں گے،عمران خان

  • اسلام آباد میں علماء و مشائخ کانفرنس،وزیراعظم،آرمی چیف بھی شریک

    اسلام آباد میں علماء و مشائخ کانفرنس،وزیراعظم،آرمی چیف بھی شریک

    وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں علماء و مشائخ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا ہے
    وزیراعظم محمد شہبازشریف بطور مہمان خصوصی کانفرنس میں شریک ہیں ملک بھر سے علما اور مشائخ نے کانفرنس میں شرکت کی ہے،آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر بھی علماو مشائخ کانفرنس میں بطور مہمان خصوصی شریک ہیں.

    آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تقریر سب کے لیے مشعل راہ ہے،وزیراعظم
    علماء و مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبا زشریف کا کہنا تھا کہ سپہ سالار کی پرجوش، ایمان افروز اور دلوں کو گرما دینے والی تقریر کے بعد مزید کسی اضافے کی ضرورت نہیں کہ انہوں نے قرآن کریم اور احادیث کی روشنی میں جامع گفتگو کی، وہ ہمارے لیے مشعل راہ ہے، علمائے کرام کی رہنمائی پر چلنے والا انسان ہوں، سپہ سالار نے جو آج گفتگو کی، وہ اسی کی عکاسی ہے، اسی کا بتایا ہوا راستہ ہے جو دنیا کا خالق و مالک ہے،آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی تقریر سب کے لیے مشعل راہ ہے، سپہ سالار نہ صرف حافظ قرآن ہیں بلکہ قرآن کا نور اُنکے دماغ اور دل میں رچا بسا ہوا ہے، اُنہوں نے قرآن کی روشنی میں جو جامع گفتگو فرمائی ، وہ یقیناً ہم سب کیلئے مشعل راہ ہے، پاکستان کے لیے قائداعظم کی قیادت میں تحریک چلائی گئی، 14 اگست کو 77 واں یوم آزادی ہم بھرپور جوش و خروش سے منائیں گے، لاکھوں اور کروڑوں لوگوں نے جان کی قربانی دی، اس ملک کے لیے ہمارے آباؤ اجداد نے بہت قربانیاں دیں، ہمیں آج جتنا متحد ہونے کی ضرورت ہے پہلے نہ تھی، پاکستان کو آج سنگین معاشی حالات درپیش ہیں، جتنا تعاون سیاسی حکومت اور آئینی اداروں میں آج ہے پہلے کبھی نہیں تھا، آج کسی سیاسی حکومت کا ذکر نہیں کروں گا، بدقسمتی سے ہم وہ مقام حاصل نہ کرسکے جو حاصل کرنا چاہیئے تھا، 2018 کے بعد عوامی خدمت کی کوئی پذیرائی نہیں،ملکی مسائل کےحل کے لیے صدر آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری اور سپہ سالار بھی مشاورت میں شامل ہیں، تمام امور پر سیاسی حکومت اور ہمارے ادارے یکسو ہیں۔

    غریب کو مہنگائی اور مہنگی بجلی سے فوری آزاد نہیں کرسکتے،وزیراعظم
    وزیراعظم شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ملک کے لیے عظیم قربانیاں دی، سوشل میڈیا پرگالم گلوچ کا بازار گرم ہے، سوشل میڈیا پر جھوٹ اور گالیوں کا طوفان ہے، ملک میں تقسیم در تقسیم کی جارہی ہے، ملک میں تقسیم کے خاتمے کے لیے علما سے زیادہ معتبر کوئی آواز نہیں، 9 مئی سے زیادہ دلخراش واقعہ پاکستان کی تاریخ میں نہیں ہوا، علما سے لائق طبقہ کوئی نہیں جو امن کا پیغام لے کر چلے، آج یہ سیاسی حکومت جس لائق بھی ہے، ہماری دن رات، بھرپور کوشش ہے کہ ملک کی معاشی مشکلات سے جان چھڑائی جا سکے، خدا کرے کہ آئندہ کا آئی ایم ایف پروگرام آخری ثابت ہو لیکن عام آدمی، غریب آدمی پچھلے کئی سال میں مہنگائی میں پس گیا ہے لیکن غریب کو مہنگائی اور مہنگی بجلی سے فوری آزاد نہیں کرسکتے،ہم نے ترقیاتی کاموں سے کاٹ کر 200 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے والے بجلی صارفین کو ریلیف دینے کے لیے 50 ارب روپے رکھے، لیکن 200 سے 500 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین پر بھی بہت بڑا بوجھ ہے، اس سلسلے میں پوری اتحادی حکومت اور سپہ سالار کی مشاورت ہو رہی ہے کہ یہ سب کافی نہیں ہے، اس کے لیے جامع منصوبہ بنایا جا رہا ہے، کل بھی صدر مملکت سے اس معاملے پر بات ہوئی، سپہ سالار خود اس سلسلے میں ہونے والی مشاورت میں شامل ہیں، آج اور کل میں یہ فرق ہے کہ اب مکمل مشاورت ہے تاکہ ملک آگے چلے، پوری امید ہے کہ اس معاملے میں غریب آدمی کو مکمل طور پر مہنگائی، بجلی کی قیمت کے بوجھ سے تو شاید ابھی فی الفور آزاد نہ کیا جاسکے لیکن اس میں مزید کمی لانے کے لیے دن رات کاوشیں ہو رہی ہیں

    وفاقی وزیرمذہبی و بین المذاہب ہم آہنگی چودھری سالک حسین نے علما مشائخ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ علما کرام منبر و محراب کے وارث ہیں۔ علماء اور مدارس نے ہمیشہ ریاست اور سلامتی کے اداروں کے ساتھ مل کر انتہا پسندی کیخلاف اہم کردار ادا کیا ہے ۔ ہمیں ہر قسم کی دہشت گردی کیخلاف متحد ہو کر کھڑا ہونا چاہئے۔پاکستان میں رہنے والی مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی پاسداری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ہمیں ایک پرامن،متحد اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کیلئے مل کر کام کرنا ہوگا۔

    نوٹ، اس خبر کو اپڈیٹ کیا جا رہا ہے

    بشریٰ بی بی بھارتی اثاثہ،عادل راجہ کی ٹویٹ کو پی ٹی آئی والے بھی "لائک”دینے لگے

    القادر ٹرسٹ کیس،عمران ،بشریٰ اراضی کی فروخت کے ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے

    جیل میں دھکے،بشریٰ بی بی عدالت پہنچ گئیں

    نومئی واقعہ، بشریٰ بی بی 12 مقدمات میں نامزد

    نومئی مقدمے، عمران خان کا پنجاب فارنزک ٹیم کو ٹیسٹ دینے سے انکار

    نو مئی واقعات کی چیف جسٹس عمر عطا بندیال کے سامنے مذمت کی تھی،عمران خان

  • دبئی میں ورلڈ ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس،وزیرکی غلفت،پاکستان کو شرمندگی کا سامنا

    دبئی میں ورلڈ ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس،وزیرکی غلفت،پاکستان کو شرمندگی کا سامنا

    پاکستانی حکام کی غفلت ، دبئی میں دنیا کے سامنے رسوائی اٹھانا پڑ گئی، وفد کانفرنس میں تو پہنچ گیا مگر خط نہ لے کر گیا، واجبات کی بھی عدم ادائیگی کی وجہ سے پاکستانی وفد کو ذلت اٹھانا پڑی، دبئی میں کانفرنس میں پاکستانی وفدنے صرف "سامعین” کی حد تک شرکت کی، نہ بولنے کا موقع ملا، نہ ڈائس پر بنے سٹیج پر پاکستانی پرچم لگایا گیا،وزیر آئی ٹی کی مبینہ غفلت،نااہلی کی وجہ سے پاکستان کو نہ صرف کانفرنس میں شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا بلکہ کانفرنس میں جانے کے اخراجات ،وہ بھی قومی خزانے سے ضیاع ہوا،

    دبئی میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین، ورلڈریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس کا آغاز 20 نومبر سے ہوا تھا جو 15 دسمبر تک جاری رہی، کانفرنس میں پاکستان نے بھی شرکت کی تا ہم پاکستان کو دوران کانفرنس شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا، کانفرنس میں شرکت کے لئے پاکستان کے وزیر آئی ٹی نے وفد کو ایک خط دینا تھا ، وفد نے شرکت سے قبل وزیر آئی ٹی کو خط دیا تا ہم وہ خط ان کی میز پر ہی پڑا ر ہ گیا، خط پر دستخط نہ ہو سکے جس کی وجہ سے کانفرنس کے آخری روز کانفرنس میں شریک ممالک کے پرچم سٹیج پر لگائے گئے تاہم پاکستان کا پرچم نہیں لگایا گیا، پاکستان نے واجبات کی ادائیگی بھی نہیں کی تھی ، کانفرنس میں شریک پاکستانی وفد کانفرنس کے دوران تماشائی کا کردار ادا کرتے رہے،
    pakistani

    دبئی میں ہونے والی کانفرنس میں آخری روز شریک تمام ممالک کو بین الاقوامی دستاویز پر دستخط کرنے اور وصول کرنے کے لئے ڈائس پر بلایا گیا تا ہم پاکستان کو ڈائس پر نہیں بلایا گیا،پاکستانی مندوبین دیگر ممالک کے مندوبین کو ڈائس پر جاتا دیکھتے رہے،تاہم انہیں نہیں بلایا گیا ،اس کانفرنس میں پاکستان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اسکی میڈیا میں کوئی خبر سامنے نہیں آئی ،حالانکہ یہ کانفرنس دنیا میں ٹیلی کام کے لئے اہم ترین کانفرنس تھی، آئی ٹی یو بھی دنیا کی اہم ترین اور پرانی تنظیم ہے ،پاکستان ماضی میں اس تنظیم کی کانفرنسز میں شریک ہو چکا ہے،یہ کانفرنس چار ہفتے جاری رہتی ہے اور دنیا میں ٹیلی کام تبدیلیوں پر بات چیت کی جاتی ہے .
    it

    رواں برس دبئی میں ہونیوالی کانفرنس چار ہفتے جاری رہی، ان چار ہفتوں میں ایک بار بھی پاکستانی وفد کے موجود ہونے کے باوجود پاکستانی پرچم ڈائس پر نمایاں نہیں کیا گیا بلکہ واجبات ادا نہ ہونے کی وجہ سے پہلے روز پاکستان کا نام سکرین پر "ڈیفالٹر” کے طور پر دکھایا گیا،اگر واجبات ادا نہ کئے ہوں تا کانفرنس میں شرکت کی جاسکتی ہے لیکن اس میں نہ تو گفتگو کا موقع دیا جاتا ہے اور نہ ہی ووٹنگ کا،کانفرنس کے لئے پاکستانی وفد نے خاص طور پر سپارکو سے پاکستان کے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بہترین کام کیا گیا تا ہم حکومت کی غفلت کی وجہ سے پاکستانی مندوب کو شرمندگی اٹھانا پڑی،حکومت نے سرکاری خط کے ساتھ وفد کو نہیں بھیجا تھا،جسے "اسناد” کہاجاتا ہے،پاکستانی وفد نے وزیر آئی ٹی کو کئی بار یاددہانی کروائی کہ خط پر دستخط کر دیں تا ہم انہوں نے ایک ماہ تک خط پاس رکھا اور جب کانفرنس اپنے اختتام کو پہنچ رہی تھی ،تیس منٹ قبل وزیر آئی ٹی نے خط پر دستخط کئے،چار ہفتے تک خط پر دستخط نہ ہونے کی وجہ سے پاکستان کا جھنڈا کانفرنس میں نہیں لگایا گیا،

    عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنسز ہر تین سے چار سال بعد منعقد کی جاتی ہیں، عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنسوں کے ایجنڈے کا عمومی دائرہ کار چار سے چھ سال پہلے قائم کیا جاتا ہے، جس کا حتمی ایجنڈا ITU کونسل نے کانفرنس سے دو سال پہلے، رکن ممالک کی اکثریت کی رضامندی سے طے کیا تھا.

    دبئی میں انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین، ورلڈریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس کے اختتام پر جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس سپیکٹرم شیئرنگ اور تکنیکی جدت طرازی کو سپورٹ کرنے کے لیے ITU ریڈیو ریگولیشنز پر نظر ثانی کرتی ہے۔اپ ڈیٹ شدہ معاہدہ براڈ بینڈ کنیکٹیویٹی، زندگی کی حفاظت، خلا اور زمین کے مشاہدے کے لیے نیا سپیکٹرم مختص کرتا ہے۔انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین کے رکن ممالک نے دبئی میں عالمی ریڈیو کمیونیکیشن کانفرنس 2023 (WRC-23) کے اختتام پر، زمین اور خلا دونوں پر ریڈیو فریکوئنسی سپیکٹرم کے استعمال کو کنٹرول کرنے والے عالمی معاہدے پر نظرثانی پر اتفاق کیا۔ریڈیو ریگولیشنز کو اپ ڈیٹ کرنے کا معاہدہ تکنیکی جدت، عالمی رابطے کو گہرا کرنے، خلا پر مبنی ریڈیو وسائل تک رسائی اور ان کے مساوی استعمال کو بڑھانے اور سمندر، ہوا اور زمین پر حفاظت کو بڑھانے کے لیے نئے سپیکٹرم وسائل کی نشاندہی کرتا ہے۔

    آئی ٹی یو کے سیکرٹری جنرل ڈورین بوگڈن مارٹن نے کہا، "WRC-23 دنیا کو سب کے لیے زیادہ مربوط، پائیدار، مساوی اور جامع ڈیجیٹل مستقبل کی طرف ایک ٹھوس راستے پر ڈالتا ہے۔ ریڈیو سروسز عالمگیر رابطے اور پائیدار ڈیجیٹل تبدیلی کے حصول کے لیے آئی ٹی یو کے جاری کام کی رفتار پر استوار ہیں۔”کل 151 رکن ممالک نے WRC-23 فائنل ایکٹس پر دستخط کیے ہیں،

    انٹرنیشنل ٹیلی کمیونیکیشن یونین ، اقوام متحدہ کی معلومات اور کمیونیکیشن ٹیکنالوجیز کے لیے خصوصی ایجنسی ہے، جو 193 رکن ممالک اور 900 سے زیادہ کمپنیوں، یونیورسٹیوں، اور بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے ساتھ مل کر ICTs میں جدت طرازی کرتی ہے۔ یہ 150 سال پہلے قائم کی گئی،

    نوٹ، اس خبر پر وزیر آئی ٹی اگر موقف دینا چاہیں گے تو اسے باغی ٹی وی پر من و عن شائع کیا جائے گا

  • آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے؟مولانا فضل الرحمان

    آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے؟مولانا فضل الرحمان

    جے یو آئی سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ علما کی لاشیں گر رہے ہیں، ہم ہر پاکستانی کے خون کو روئے ہیں،آخر کس جرم کی پاداش میں ہمارا خون بہایا جا رہا ہے،کہاں ہے امن و امان جس کے لئے قربانیاں دیں، قبائل نے گھر بار چھوڑے، میرا قبائلی علاقہ اور صوبہ جل رہا ہے، باجوڑ میں ایک ہی جلسے میں میرے73 ساتھی شہید ہوئے اور پھر حافظ حمداللہ پر مستونگ میں حملہ کر دیا گیا،

    لیاقت باغ راولپنڈی میں قائد جمعیت مولانا فضل الرحمان سالانہ تحفظ ختم نبوت و دفاع پاکستان کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف بارہ آپریشن کیے گئے قبائل نے گھربار چھوڑے، کہاں ہے امن و امان ؟ ہم نے کوئی فرقہ وارانہ جنگ نہیں لڑی، نہ کسی کا خون بہانا جائز قرار دیا ،مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ سیاسی محاذ پر اپنی لڑائی جاری رکھیں گے عوام نے بھی اپنی سمت ٹھیک رکھنی ہے عوام جن سے امید لگائے بیٹھے ہیں ان کے پاس حالات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں

    مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی معیشت کو ایک منصوبہ بندی کے تحت دلدل میں دھکیلا گیا ،آج سٹیٹ بینک پاکستان کی کابینہ کو جوابدہ نہیں، پارلیمنٹ کو جواب دہ نہیں،کسی کمیٹی کو جواب دہ نہیں، اس ملک میں ایسے فیصلے کئے گئے، سٹیٹ بینک آئی ایم ایف کے حوالے کر دیا گیا، قیمتوں کے اتار چڑھاؤ کا اختیار حکومت کے پاس نہیں رہا، وہ کہتے ہیں ٹیکس لگاؤ،دنیا کا کوئی ملک مدد کو تیار نہیں اگر انکی مرضی کے مطابق کام نہ کیا، انکی مرضی کے مطابق بجٹ تیار کرنا ہوتا ہے، کہاں ہے آذادی،ہم شکنجے میں آ چکے ہیں پاکستان کا مذہبی تشخص ختم کر دیا گیا ہے ان حالات سے نکلنا ہے کہ نہیں یہ سوال اہم ہے.

    بنی گالہ کے کتوں سے کھیلنے والی "فرح”رات کے اندھیرے میں برقع پہن کر ہوئی فرار

    ہمیں چائے کے ساتھ کبھی بسکٹ بھی نہ کھلائے اورفرح گجر کو جو دل چاہا

    فرح خان کتنی جائیدادوں کی مالک ہیں؟ تہلکہ خیز تفصیلات سامنے آ گئیں

    بنی گالہ میں کتے سے کھیلنے والی فرح کا اصل نام کیا؟ بھاگنے کی تصویر بھی وائرل

    بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح نے خاموشی توڑ دی

    فرح خان کیسے کرپشن کر سکتی ؟ عمران خان بھی بول پڑے

    سینیٹ اجلاس میں "فرح گوگی” کے تذکرے،ہائے میری انگوٹھی کے نعرے

  • 6 ملکی خارجہ اجلاس:مغربی ممالک پرافغانستان کے منجمد فنڈزبحال کرنے کا مطالبہ

    6 ملکی خارجہ اجلاس:مغربی ممالک پرافغانستان کے منجمد فنڈزبحال کرنے کا مطالبہ

    تاشقند: ازبکستان میں 6 ممالک کے خارجہ کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں مغربی ممالک پر افغانستان کے منجمد فنڈز کو فی الفور بحال کرنے پر زور دیا گیا ہے-

    باغی ٹی وی :عالمی خبر رساں ادارے کےمطابق اس اجلاس میں ترکمانستان کےنائب وزیرخارجہ ویپاحاجیئیف، تاجکستان کی وزارت خارجہ کےاہلکار وافو نیات بیک زودا، روس کےضمیر کابلوف، ازبکستان کےعصمت اللہ ارگاشیف، چینی اہلکاریو ژیاؤونگ، ایران کےحسن کاظمی قومی اور پاکستان کے نائب وزیر خارجہ سید رضا شاہ سید شاہ رضا شاہ نے شرکت کی۔

    تنخواہوں میں کٹوتی اور کپتانوں کےاستعفی کا معاملہ،پالپا کا موقف سامنے آ گیا

    اجلاس میں مغربی ممالک پرزور دیا گیا کہ جنگ زدہ ملک میں غربت کے خاتمے، اساتذہ اور ڈاکٹروں کی تنخواہوں کی ادائیگی، قدرتی آفات سے نمٹنے اور تعمیر و ترقی کے لیے افغانستان کے منجمد فنڈز کو فی الفور بحال کریں۔

    یہ اجلاس روس اورافغانستان کی سرحد سےمتصل چھ ممالک روس، چین، ایران، پاکستان، ازبکستان، تاجکستان اور ترکمانستان کے افغانستان کے لیے قائم کیے گئے ایک کلب کی جانب سے کیا گیا-

    افتتاحی اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے میزبان ملک ازبکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں تقریباً 25 ملین لوگ بھوک سے مر رہے ہیں۔ اساتذہ اور ڈاکٹرز کی تنخواہیں تک پیسے نہیں۔

    پہلےعمران خان کو لیکرعدالت پہنچیں پھر سماعت ہو گی،ایڈیشنل رجسٹرارلاہورہائیکورٹ

    اجلاس کا شرکا کا کہنا تھا کہ غربت کے شکار ملک میں مسائل زیادہ اور وسائل نہ ہونے کے برابر ہیں۔ دہائیوں سے جنگ زدہ ملک کی حالت فنڈز جاری نہ ہونے کی وجہ سے مزید ابتر ہوگئی ہے۔

    شرکا نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے 7 ارب ڈالرز کے اثاثہ جات کو فوری طور پر بحال کیا جائے۔

    واضح رہے کہ امریکی صدر جوبائیڈن نے افغانستان کے سات ارب ڈالر کے اثاثہ جات میں سے ساڑھے تین ارب ڈالر نائن الیون کے لواحقین و متاثرین کو دینے کا اعلان کیا ہے جس پر طالبان حکومت سمیت عالمی تنظیموں نے احتجاج کیا ہے۔

    امریکی عدالت نے بھی صدر جوبائیڈن کے اس فیصلے کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے فیصلہ دیا ہے کہ وائٹ ہاؤس انتظامیہ کو ایسا کرنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔

    اسلام آباد اورکوئٹہ میں مقدمات درج: عمران خان کا حفاظتی ضمانت کیلئےہائیکورٹ سے رجوع

  • آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 18ویں عالمی الیکٹرو فزیالوجی کانفرنس

    آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 18ویں عالمی الیکٹرو فزیالوجی کانفرنس

    آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی میں 3 روزہ 18ویں عالمی الیکٹرو فزیالوجی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا

    ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہرریدم فار لائف 2022 کانفرنس کی مہمان خصوصی تھیں،کانفرنس میں سول ملٹری ڈیپارٹمنٹس کے کارڈیک الیکٹرو فزیالوجسٹ نے شرکت کی،امریکہ،برطانیہ، سعودی عرب،ترکی، آذربائیجان اور قطر سے بھی سبجیکٹ اسپیشلسٹ نے شرکت کی

    کانفرنس کے کنوینر بریگیڈیئر پروفیسر عظمت حیات، ہیڈ آف کارڈیک الیکٹرو فزیالوجی ڈیپارٹمنٹ اے ایف آئی سی نے شرکاء کا خیر مقدم کیا۔ انہوں نے کارڈیک الیکٹرو فزیالوجی، دل کی تال کی خرابیوں کی پیچیدگیوں اور علاج کے آپشنز کے بارے میں بتایا جو دستیاب ہیں اور روز بروز بہتر ہو رہے ہیں۔ بریگیڈیئر عظمت حیات نے نشاندہی کی کہ کارڈیالوجی کی یہ پیچیدہ نئی ذیلی خصوصیت تیزی سے ترقی کر رہی ہے اور اے ایف آئی سی ملک کا صف اول کا ادارہ ہے اور تمام نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرانے میں سب سے آگے رہا ہے۔ االیکٹرو فزیالوجی کے کچھ طریقہ کار میں کامیابی کی شرح 97 فیصد سے زیادہ ہے،

    کانفرنس کی کارروائی کو آن لائن دکھانے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ ماہر اس سے مستفید ہو سکیں اور بہترین طریقے سیکھ سکیں۔

    2000 سے زیادہ مریض AFIC میں اریتھمیا کے خاتمے کی وجہ سے کامیاب علاج کے بعد صحت یاب ہوئے۔ افتتاحی تقریب سے پروفیسر جسوندر سنگھ گل، سینٹ تھامس ہسپتال لندن یو کے نے بھی خطاب کیا ،انہوں نے کانفرنس میں شرکت کی دعوت ملنے پر ر منتظمین کا شکریہ ادا کیا اور کہا وہ گزشتہ 18 سالوں سے کانفرنس میں شرکت کر رہے ہیں۔ انہوں نے الیکٹرو فزیالوجی کی اہمیت کے بارے میں بھی بات کی۔

    کانفرنس سے پروفیسر محمود عادل، پبلک ہیلتھ سکاٹ لینڈ نے بھی خطاب کیا جنہوں نے طب کے شعبے میں صحت عامہ اور ڈیجیٹل ہیلتھ کے کردار کے بارے میں بتایا۔

    افتتاحی تقریب سے پاکستان کارڈیک الیکٹرو فزیالوجی سوسائٹی کے سربراہ پروفیسر اعظم شفقت نے بھی خطاب کیا۔ سرجن جنرل لیفٹیننٹ جنرل نگار جوہر نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کیا۔ انہو‌ں نے الیکٹرو فزیالوجی کی اہمیت، اس خاصیت کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور تقاضوں اور پورے ملک میں اور خاص طور پر فوج میں الیکٹرو فزیالوجی کی پرجوش شرکت اور شراکت پر بھی زور دیا۔

  • چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی

    سرینگر: چیئرمین حریت کانفرنس مسرت عالم نے کل جامع مسجد سری نگر کی طرف مارچ کی کال دیدی ،اطلاعات کے مطابق بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے غیر قانونی طور پر نظر بند چیئرمین مسرت عالم بٹ نے گزشتہ ایک برس سے سرینگرکی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ کی ادائیگی کی اجازت نہ دینے پر قابض حکام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے کشمیریوں کے مذہبی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔

    کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق مسرت عالم بٹ نے نئی دہلی کی تہاڑ جیل سے ایک پیغام میں کشمیری عوام پر زور دیا کہ وہ حکام کی کارروائی کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے کل جامع مسجد کی طرف مارچ کریں۔انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموںوکشمیر کے لوگ جنہوں نے ہمیشہ اس طرح کی کارروائیوں کی مزاحمت کی ہے جامع مسجد سرینگر کی طرف مارچ کریں گے تاکہ وہ وہاں جمعہ کی نماز ادا کریں۔

    انہوں نے کہا کہ لوگ نریندر مودی کی فسطائی حکومت کیطرف سے کشمیریوں کی زمین اور قدرتی وسائل کو غیر مقامی لوگوں کو فروخت کر کے علاقے کی آبادی پر حالیہ حملے کے خلاف بھی بھرپور احتجاج کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطیب اور آئمہ خضرات مساجد میں خطاب کے دوران لوگوں کو مقبوضہ علاقے کی آبادی کو تبدیل کرنے کے بھارت کے مذموم عزائم سے آگاہ کریں گے۔

    یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ علاقے کی انتظامیہ نے پیر کو بھارت کے رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاروں کے ساتھ علاقے میں ہاو¿سنگ اور تجارتی منصوبوں کی ترقی کے نام پر 18ہزار 3سو کروڑ روپے کے 39 مفا ہمت کی یاداشتوں پردستخط کیے ہیں۔کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین نے کہا کہ نوآبادیاتی اقدامات کا مقصد کشمیریوں کی زمین پر قبضہ بھارتی شہریوں کو علاقے میں آباد کرنا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور اسلامی تعاون تنظیم سمیت بین الاقوامی اداروں سے اپیل کی کہ وہ بھارت کو مقبوضہ جموںوکشمیر میں آبادی کے تناسب میں تبدیلی سے روکیں۔

  • نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن فارمنارٹی رائٹس کے وفد نے لاہور پریس کلب کا دورہ

    نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن فارمنارٹی رائٹس کے وفد نے لاہور پریس کلب کا دورہ

    نیشنل لابنگ ڈیلیگیشن فارمنارٹی رائٹس کے وفد نے لاہور پریس کلب کی نومنتخب گورننگ باڈی کو مبارکباد پیش کرنے کے لئے لاہور پریس کلب کا دورہ کیا ۔ اس موقع پر صدر ارشد انصاری ، سینئرنائب صدر جاوید فاروقی ، سیکرٹری زاہد چوہدری اور جوائنٹ سیکرٹری خواجہ نصیر نے معززمہمانوںکاکلب آمد پر شکریہ اداکرتے ہوئے کہاکہ مینارٹیزکوپاکستان میں برابر کے حقوق حاصل ہیں اور وہ بطورپاکستانی شہری ملک وقوم کی ترقی میں اپنابھرپورکردار ادا کر رہے ہیں۔ مینارٹیزوفد میںشامل خالد شہزاد ، آصف عقیل ، ڈاکٹر آئرہ اندریاس ، شہزاد فرانسس ، حبقوق گل اور ایڈوکیٹ عاطف نے کہاکہ کرسچئن میرج اور طلاق کے قانون پر حکومت نظرثانی کرے تاکہ مسیحیوں کو طلاق کی خاندانی پیچیدگیوں سے آزادی ملے۔ انھوں نے مزید کہاکہ سرکاری ملازمتوںمیں 5 فیصدجاب کوٹہ کو ابھی تک عملی جامہ نہیں پہنایاجارہا اس پر بھی توجہ کی ضرورت ہے ۔ وفد نے نومنتخب گورننگ باڈی کی کامیابی پر نیک تمناﺅں کا اظہارکیااور پھول پیش کئے۔

  • ایل سی ڈبلیو یو  میں کشمیر یکجہتی کانفرنس کا انعقاد!!

    ایل سی ڈبلیو یو میں کشمیر یکجہتی کانفرنس کا انعقاد!!

    ڈپارٹمنٹ آف ماس کمیونیکشن اورفریڈم فار آل کے اشتراک سےکشمیر یکجہتی کانفرنس کاانعقاد کیاگیا
    وفاقی وزیر،چیئرمین کشمیر کمیٹی شہریار خان آفریدی کی بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔
    کانفرنس میں وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشری نے شرکت کی۔کشمیر یکجہتی کانفرنس میں ہیڈآف ڈپارٹمنٹ ماس کمیونیکشن پروفیسرڈاکٹر نجم ضیاء، ایگزیکٹو ڈائریکٹر فریڈم فار آل منظر الہی، چیئرمین کشمیر کمیٹی رائے نواز کھرل نے شرکت کی۔
    سینئر وائس پریذیڈنٹ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریچیئرپرسن پنجاب ویمن پروٹیکشن کنیز فاطمہ ،سینٹر جرنلسٹ اینڈ اینالیسٹ سلمان عابد نے شرکت کی۔
    چیئرمین کشمیر کمیشن آف پاکستان اور چیئرمین متحدہ کسان محاذ پنجاب نے شرکت کی۔
    کانفرس میں شعبہ ماس کمیونیکشن کے فکیلٹی ممبران اور طالبات کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور "لہو لہو بہشت”کے عنوان سے ایک ڈرامہ پیش کیا گیا۔ فائن آرٹس کی پینٹینگز کی نمائش کی گئی۔
    نمائش کا افتتاح وفاقی وزیر شہریار خان آفریدی اور وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر بشری مرزا نے کیا۔پروفیسر ڈاکٹر بشری مرزا نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں کشمیر یکجہتی کانفرنس کا انعقاد خوش آئند ہے، بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ڈیرھ سال سے زائد عرصے کرفیو نافذ کر رکھا ہے، عالمی برادری اور یو این کو مقبوضہ کشمیر میں ہونے والی بربریت اور ظلم و ستم پر نوٹس لینا چاہیے،ایل سی ڈبلیو یو نہتے کشمیری بہن ،بھائیوں کی آواز بلند کرتی رہے گی۔