Baaghi TV

Tag: کانگو وائرس

  • عید الاضحیٰ سے قبل کانگو وائرس کے کیسز بڑھنے کا خطرہ منڈلانے لگا

    عید الاضحیٰ سے قبل کانگو وائرس کے کیسز بڑھنے کا خطرہ منڈلانے لگا

    لاہور: پنجاب میں عید الاضحیٰ سے قبل کانگو وائرس کے کیسز بڑھنے کا خطرہ منڈلانے لگا ،محکمہ صحت نے الرٹ جاری کردیا۔

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کی جانب سے جاری مراسلے کے مطابق پنجاب میں عید الاضحیٰ سے قبل کانگو وائرس کے کیسز بڑھنے کا خطرہ منڈلانے لگا ہے جس کے پیش نظر تمام اضلاع کےسی ای اوز ہیلتھ کو مشتبہ کیسز فوری رپورٹ کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، اپریل سے جولائی تک کانگو وائرس کے کیسز سامنے آنے کا اب زیادہ خدشہ ہے ، حالیہ سیزن میں کانگو وائرس سے بچاؤ کیلئے اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہےلائیو سٹاک حکام کو بھی مویشی منڈیوں آبادی سے باہر لگانے کی ہدایت کی گئی۔

    محکمہ صحت کی جانب سے جاری مراسلے میں مزید کہا گیا ہے کہ عید قربان پر عارضی مویشی منڈیوں کو بھی شہر سے باہر رکھا جائے ،مویشیوں کو انفیکشن سے بچانے کیلئے اقدامات کئے جائیں ۔

    واضح رہے کہ مصر کے فلکیاتی ادارے جیو فزیکل ریسرچ نے پیشگوئی کی ہے کہ ذی الحج کا چاند 6 جون بروز جمعرات کو دیکھا جاسکے گاجیو فزیکل ریسرچ کی جانب سے جاری رپورٹ کے مطابق مصر میں ذی الحج کے مہینے کا آغاز جمعہ 7 جون 2024 کو ہوگا، اس حساب سے عید الاضحیٰ 2024 کا پہلا دن اتوار 16 جون 2024 کو ہوگا جب کہ وقوف عرفہ 15 جون کو ہوگا حتمی رائے سعودی عرب کی طرف سے عید الاضحی کی تاریخ کا تعین کرنے کے بعد ہی قائم کی جا سکے گی، دوسری جانب پاکستان میں عید الاضحٰی کی تاریخ کا حتمی اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی ذی الحج کا چاند نظر آنے کے بعد کرے گی۔

  • کراچی میں کانگو وائرس میں مبتلا مریض انتقال کر گیا

    کراچی میں کانگو وائرس میں مبتلا مریض انتقال کر گیا

    کراچی میں کانگو وائرس میں مبتلا مریض انتقال کرگیا۔

    باغی ٹی وی: سپتال انتظامیہ کے مطابق تنولی کالونی اورنگی ٹاؤن کے رہائشی متاثرہ شہری کو دو روز قبل جناح اسپتال منتقل کیا گیاتھا اور اس کی حالت اسپتال لانے سے قبل خراب تھی،کانگو سے متاثرہ 55 سالہ شخص کی حالت گزشتہ روز سے تشویشناک تھی۔

    ترجمان محکمہ صحت سندھ کے مطابق مریض کو فوری طبی امداد فراہم کی گئیں جس کے بعد حالت میں بہتری آرہی تھی، طبی امداد کے باوجود مریض جانبر نہ ہوسکا اور انتقال کرگیا۔

    کانگو وائرس مویشیوں میں پایا جاتا ہے اور اس وائرس کے پھیلنے کی سب سے اہم وجہ جانور ہی ہیں، جن میں گائے، بھینس اوربھیڑ، بکریاں شامل ہیں، دراصل کانگو وائرس کو کریمین کانگو ہیمورہیجک فیور (سی سی ایچ ایف) بھی کہا جاتا ہے۔ یہ وائرس کریمیا میں 1944 میں سامنے آیا تھا اور اس وقت اس وائرس کی موجودگی بر اعظم افریقہ کے ملک کانگو میں بھی نظر آئی تھی جس کی بنیاد پر اس کا نام (سی سی ایچ ایف) رکھا گیا تھا اس وائرس سے لگنے والی بیماری ایشیا کے کئی ممالک میں بھی پائی جاتی ہے جس میں پاکستان سمیت، ایران، عراق، ترکی اور دیگر شامل ہیں۔

    کانگو وائرس کی انسانوں میں منتقلی کے دو طریقے ہو سکتے ہیں پہلا یہ کہ جانوروں کے جسم میں ایک چھوٹا سا کیڑا جسے (ٹک) کہتے ہیں وہ اگر کسی انسان کو کاٹ لے تو اس سے یہ بیماری لگ سکتی ہے کسی جانور کو یہ بیماری لاحق ہو اور یہ کیڑا اس کا خون چوس رہا ہو تو وہ انسان کوکاٹنے کے بعد اس وائرس کو خون میں منتقل کردیتا ہے،دوسری صورت میں یہ جانوروں کے خون سے بھی براہ راست منتقل ہوسکتا ہے خاص کر قربانی کرتے وقت جب جانور کے جسم سے خون نکلتا ہے۔ اس کا کوئی قطرہ انسان کے ناک، منہ یا آنکھ میں چلا جائے تو یہ وائرس پھیل سکتا ہے۔

    کانگو وائرس کی علامات میں تیز بخار کے ساتھ ساتھ گلے میں درد، نزلہ، جوڑوں اور ریڑھ کی ہڈی میں درد ہوناشامل ہے۔ اس کے علاوہ چہرے اور آنکھوں کا سرخ ہوجانا، جسم پر سرخ دھبے نمودار ہونا بھی کانگو وائرس کی علامات ہیں، کانگو وائرس ہوتے ہی مریض کے پلیٹیلٹس میں واضح کمی ہونے لگتی ہے اور جب یہ وائرس مریض کے بدن میں پھیل جائے تو پھر قوتِ مدافعت کم ہو جانے کے بعد ہونے والا بخار ہیمورجک فیور کی شکل اختیار کرجاتا ہے جس میں انسانی جسم کے کسی بھی حصے (ناک، منہ، پیشاب کی جگہ)سے خون آنے لگتا ہے۔

    کانگو وائرس سے متاثرہ مریض کا خون پتلا ہونے لگتا ہے جس سے خون کے بہنے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ وائرس جگر اور گردوں کو بھی متاثر کرتا ہے کانگو وائرس کا آغاز تیز بخار سے ہوتا ہے تو اسی لیے وائرس کی بروقت تشخیص کرنا تھوڑا مشکل ہو سکتا ہے تاہم اس بیماری کی تشخیص کے لیے کرونا کی طرح کا ایک پی سی آر ٹیسٹ ہی ہوتا ہے لیکن اس میں خون کے نمونے لیے جاتے ہیں۔

  • خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد چار ہو گئی

    خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس سے جاں بحق افراد کی تعداد چار ہو گئی

    خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس کے نتیجے میں چار افراد جاں بحق ہوگئے۔ رواں سال کے ابتدائی 7 ماہ میں کانگو وائرس کے 14 کیسز رپورٹ ہوئے۔بلوچستان کے بعد جانوروں میں پائی جانے والا خطرناک وائرس کانگو خیبر پختونخوا بھی پہنچ گیا ہے، اور اس بیماری سے صوبے میں رواں سال چار افراد جاں بحق ہوگئے ہیں۔محکمہ صحت کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق جاں بحق افراد میں سے 2 کا تعلق خیبرپختونخوا اور 2 کا تعلق افغانستان سے ہے، جب کہ کانگو سے متاثرہ 9 مریض صحت یاب بھی ہوئے ہیں۔
    محکمہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں ایک مریض صحت یاب ہوکر اسپتال سے ڈسچارج ہوگیا ہے، اور اس وقت حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کانگو سے متاثرہ ایک مریض زیرعلاج ہے۔

  • خیبر پختونخوا میں  کانگو وائرس سے تین افراد متاثر

    خیبر پختونخوا میں کانگو وائرس سے تین افراد متاثر

    خیبر پختونخوا میں گانگو وائرس کے تین کیسز سامنے آئے ہے تینوں مریضوں کو حیات آباد میڈیکل کمپلکس منتقل کر دئے گئے ہے،حیات اباد میڈیکل کمپلکس نے اپنی رپورٹ جاری کرتے ہوئے تین افراد میں گانگو وائرس کی موجودگی کی تصدید کر دی ہے، ہسپتال انتظامیہ کے مطابق گانگو وائرس سے متاثر مریضوں کو آئسولیشن وارڈ میں داخل کیا گیا،ہسپتال انتظامیہ کے گانگو ایک خطرناک وائرس ہے،جو دوسرے مریضوں تک منتقل ہو سکتا ہے،

  • کراچی میں کانگو وائرس سے پہلی  ہلاکت رپورٹ، الرٹ جاری

    کراچی میں کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ، الرٹ جاری

    کراچی میں کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت ،محکمہ صحت نے الرٹ جاری کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی : محکمہ صحت کے مطابق کراچی میں رواں سال کانگو وائرس سے پہلی ہلاکت رپورٹ ہوئی ہے 28 سال کے محمد عادل کو 30اپریل کو بخار ہوا تھا، جس کے بعد4 مئی کو انہیں نجی اسپتال لایا گیا تھا۔

    سمندری طوفان ’موچا‘ بنگلادیش اورمیانمار کے ساحلوں سے ٹکرا گیا

    محکمہ صحت کے مطابق مریض کےنمونے تصدیق کے لیے آغا خان لیبارٹری بھیجے گئے تھے جس کے بعد ان میں کانگو وائرس کی تصدیق ہوئی تھی مریض میں کانگو کی رپورٹ مثبت آئی تھی جس کے بعد محمد عادل کا انتقال 5 مئی کو ہوا تھا۔

    دوسری جانب عیدالاضحیٰ پر کانگو وائرس پھیلنے کا خدشہ ہے، محکمہ صحت نے احتیاطی تدابیر کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کردی ایڈوائرزی کے مطابق کانگو وائرس کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں، عید الاضحیٰ پر جانوروں کے ساتھ رابطہ بڑھ جاتا ہے، کانگو وائرس متاثرہ جانور سے انسانوں میں منتقل ہونے کے خدشات ہیں۔

    ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ ذبح کے دوران ہاتھ میں کٹ لگ جانے سے وائرس انسانی خون میں شامل ہوجاتا ہے، یہ ایک مہلک وائرل بیماری ہے جو نائیرو وائرس کے ذریعے پھیلتی ہے، مویشی، بکری اور بھیڑ بنیادی طور پر وائرس کے پھیلاؤ کا سبب بنتے ہیں محکمہ صحت نے اسپتالوں میں آئسولیشن وارڈ قائم کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

    عمران خان اپنے پسندیدہ چیف جسٹس کی چھتری کے نیچے چھپ نہیں سکیں گے،احسن اقبال

    ایڈوائرزی میں ہدایت کی گئی ہے کہ آئسولیشن وارڈ میں تعینات ڈاکٹرز اور ہیلتھ ورکرز احتیاطی تدابیر اختیار کریں، مویشی منڈی میں کانگو وائرس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی بینر آویزاں کیے جائیں۔

    کانگو وائرس کیا ہے؟

    کانگو وائرس مویشی گائے، بیل، بکری، بکرا، بھینس اور اونٹ، دنبوں اور بھیڑ کی کھال سے چپکی چیچڑوں میں پایا جاتا ہے، چیچڑی کے کاٹنے سے وائرس انسان میں منتقل ہو جاتا ہے، قومی ادارۂ صحت کے مطابق نیرو نامی وائرس انسانی خون، تھوک اور فضلات میں پایا جاتا ہے جو انسانوں میں گانگو بخار پھیلاتا ہے، متاثرہ شخص ایک ہفتے کے اندر زندگی کی بازی ہار سکتا ہے۔

    ماہرین کے مطابق کانگو وائرس گزشتہ بیس سالوں سے پاکستان میں موجود ہے، یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہوتا ہے۔ عید الاضحیٰ میں لگنے والی منڈیوں اور شہریوں کی آمد و رفت کی وجہ سے ماہِ قرباں میں اس کے کیسز بڑھ جاتے ہیں۔

    اوچ شریف: پنجاب فوڈ اتھارٹی کی فرضی کاروائیاں جاری ،ملاوٹ مافیا کو چھوٹ

    ماہرین کے مطابق چیچڑ اگر کسی انسان کو کاٹ لے یا متاثرہ جانور ذبیحہ کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہوجاتا ہے اور پھر چھوت کے مرض کی طرح ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے، ماہرین اس وائرس کو کینسر سے بھی زیادہ خطرناک قرار دیتے ہیں۔

    متاثرہ شخص کو تیز بخار، کمر، پٹھوں، گردن میں درد، قے، متلی، گلے کی سوزش اور جسم پر سرخ دھبے کانگو کی علامات ہیں جانوروں کے پاس جانے سے گریز کیا جائے، مویشیوں کے پاس جانے کی ضرورت پیش آئے تو دستانوں کا استعمال ضرور کیا جائے۔

    یاد رہے کہ کانگو وائرس کے خاتمے کے لیے تا حال کوئی ویکسین ایجاد نہیں ہوئی ہے لہٰذا قبل از وقت احتیاط اور مرض ظاہر ہو جانے کی صورت میں فوری اور بر وقت علاج ضروری ہے-

    باجوڑ میں بھی پاک فوج کے ساتھ اظہار یکجہتی کیلئے ریلی کا انعقاد

  • رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

    رحیم یارخان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض جاں بحق

    رحیم یار خان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض دم توڑ گیا۔

    باغی ٹی وی : شیخ زید اسپتال رحیم یار خان میں کانگو وائرس کا ایک مشتبہ مریض دم توڑ گیا اسپتال ترجمان کا کہنا ہےکہ اسپتال میں کانگو وائرس کے3 مزید مشتبہ مریض زیر علاج ہیں دوسری جانب محکمہ صحت نے بتایا ہےکہ وائرس کی تصدیق کے لیے مریضوں کےنمونے قومی ادارہ صحت کوبھیج دیئےگئے ہیں۔

    کانگو وائرس جس کا سائنسی نام کریمین ہیمریجک کانگو فیور یا کریمین ہیمریجک کانگو بخار ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیزی سے پھیلنے والی بیماری ہے یہ جانوروں سے انسانوں میں منتقل ہونے والا مرض ہے ،کانگو وائرس مختلف جانوروں مثلاً بھیڑ، بکری، گائے، بھینس اور اونٹ کی جلد میں پایا جاتا ہے کانگو وائرس سے متاثرہ جانور ذبح کرنے کے دوران کسی شخص کے ہاتھ میں کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔

    اسلام آباد سمیت پنجاب بھر میں مارکیٹوں سے متعلق دفعہ 144 کےتحت پابندیوں کا اطلاق

    اس وائرس کی چار اقسام ہیں –

    ڈینگی وائرس(Dengue)، ایبولا وائرس(Ebola)، لیسا وائرس(LASSA)، ریفٹی ویلی وائرسRiftVally)

    اگر کسی کو کانگو وائرس لگ جائے تو اس سے انفیکشن کے بعد جسم سے خون نکلنا شروع ہوجاتا ہے۔ خون بہنے کے سبب ہی مریض کی موت واقع ہو سکتی ہے۔ یہ وائرس زیادہ تر افریقی اور جنوبی امریکا ‘مشرقی یورپ‘ایشاء اورمشرقی وسطی میں پایا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سب سے پہلے کانگو سے متاثرہ مریض کا پتہ انہی علاقوں سے چلا اسی وجہ سے اس بیماری کو افریقی ممالک کی بیماری بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے1944کو کریمیا میں سامنے آنے کی وجہ سے اس کا نام کریمین ہیمرج رکھا گیا۔

    ماہرین صحت اور معالجین کا کہنا ہے کہ کانگو وائرس کے ٹکسTick ( ایک قسم کا کیڑا)مختلف جانوروں مثلاًبھیڑ، بکریوں، بکرے، گائے، بھینسوں اور اونٹ کی جلد پر پائے جاتے ہیں۔ ٹکس جانور کی کھال سے چپک کر اس کا خون چوستا رہتا ہے۔ اور یہ کیڑا ہی اس بیماری کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ کیڑا اگر انسان کو کاٹ لے یا پسو سے متاثرہ جانور ذبح کرتے ہوئے بے احتیاطی کی وجہ سے قصائی کے ہاتھ پر کٹ لگ جائے تو یہ وائرس انسانی خون میں شامل ہو جاتا ہے۔ اور یوں کانگو وائرس جانور سے انسانوں اور ایک انسان سے دوسرے جانور میں منتقل ہوجاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے چھوت کا مرض بھی خیال کیا جاتا ہے اور یہ کینسر سے بھی زیادہ خطرناک ہے۔ کانگو میں مبتلا ہونے والا مریض ایک ہفتہ کے اندر اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے-

    سابق صدر جنرل پرویز مشرف کو ڈاکٹروں نے سفر سے منع کردیا

    عللامات:
    کانگووائرس کامریض تیزبخارمیں مبتلا ہو جاتا ہےاسےسردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اورغنودگی، منہ میں چھالے ،اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہےتیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعدادانتہائی کم ہوجاتی ہےجس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

    کانگو وائرس کا مریض تیز بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اسے سردرد، متلی، قے، بھوک میں کمی، نقاہت، کمزوری اور غنودگی، منہ میں چھالے، اورآنکھوں میں سوجن ہوجاتی ہے۔۔ تیز بخار سے جسم میں وائٹ سیلز کی تعداد انتہائی کم ہوجاتی ہے جس سے خون جمنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ متاثرہ مریض کے جسم سے خون نکلنے لگتا ہے اورکچھ ہی عرصے میں اس کے پھیپھڑے تک متاثر ہوجاتے ہیں، جبکہ جگر اور گردے بھی کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور یوں مریض موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔

    احتیاطی تدابیر:

    کانگو سے بچاؤ اور اس پر قابو پانا تھوڑ ا مشکل ہے کیوںکہ جانوروں میں اس کی علامات بظاہر نظر نہیں آتیں تاہم ان میں چیچڑیوں کو ختم کرنے کے لیے کیمیائی دوا کا اسپرے کیا جائے کانگو سے متاثرہ مریض سے ہاتھ نہ ملائیں مریض کی دیکھ بھال کرتے وقت دستانے پہنیں۔
    مریض کی عیادت کے بعد ہاتھ اچھی طرح دھوئیں لمبی آستینوں والی قمیض پہنیں جانورمنڈی میں بچوں کوتفریحی کرانے کی غرض سے بھی نہ لے جایا جائے مویشی منڈی میں جانوروں کے فضلے کے اٹھنے والا تعفن بھی اس مرض میں مبتلا کر سکتا ہے کپڑوں اور جلد پر چیچڑیوں سے بچاؤ کا لوشن لگائیں۔

    جانوروں کی خریداری کے لیے فل آستیں والے کپٹرے پہن کر جائیں کیونکہ بیمار جانوروں کی کھال اورمنہ سے مختلف اقسام کے *حشرت الارض چپکے ہوئے ہوتے ہیں جو انسان کوکاٹنے سے مختلف امراض میں مبتلا کرسکتے ہیں جانوروں کی نقل وحمل کرتے وقت دستانے اور دیگر حفاظتی لباس پہنیں، خصوصاً مذبح خانوں ،قصائی اور گھر میں ذبیحہ کرنے والے افراد لازمی احتیاطی تدابیراختیار کریں مذبح میں جانوروں کے طبی معائنہ کے لیے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کا ہونا بہت ضروری ہے جو ایسے جانوروں کی نشان دہی کر سکیں مذبح خانوں کی صفائی کاخاص خیال رکھیں۔

    نیو جرسی: امریکی پاکستانی نے ڈسٹرکٹ جج کا منصب سنبھال لیا