Baaghi TV

Tag: کاکڑ

  • نگران وزیر اعظم  کی شام کے وزیر اعظم سے ملاقات

    نگران وزیر اعظم کی شام کے وزیر اعظم سے ملاقات

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے آج دوبئی میں COP 28 کی سائیڈ لائنز پر شام کے وزیراعظم حسین آرنوس سے ملاقات کی۔

    ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور دونوں ممالک کی قیادت اور برادر عوام کے درمیان تعلقات کو مزید فروغ دینے کے لیے دو طرفہ سیاسی تبادلوں کی تعدد کو بڑھانے پر اتفاق کیا۔ دونوں رہنماؤں نے اقتصادی، ثقافتی اور سیاحت سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے مشترکہ وزارتی کمیشن کو بحال کرنے پر بھی اتفاق کیا۔

    وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ اور وزیر اعظم ارنوس نے فلسطینی عوام کے خلاف جاری اسرائیلی تشدد پر بھی تبادلہ خیال کیا اور عالمی برادری سے صورتحال کا بامعنی نوٹس لینے کا مطالبہ کیا۔ دونوں رہنمائوں نے طاقت کے وحشیانہ استعمال کو روکنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ؛ل برھانے، جنگ بندی کو یقینی بنانے ؛ انسانی امداد کی سہولت فراہم کرنے اور مسئلہ فلسطین کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

    اسد قیصر مولانا سے کیوں ملے؟ بڑا سیاسی سیٹ اپ،ہلچل مچ گئی

    بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف

    لوٹوں کے سبب مجھے "استحکام پاکستان پارٹی” سے کوئی اُمید نہیں. مبشر لقمان

    لوگ لندن اور امریکہ سے پرتگال کیوں بھاگ رہے ہیں،مبشر لقمان کی پرتگال سے خصوصی ویڈیو

    مبشر لقمان کا کہنا تھا کہ بہت ہی اہم خبر لے کر آیا ہوں، 

    مبش لقمان کا کہنا تھا کہ ضیا الحق کی مدد کرنے والوں میں نواز شریف سب سے آگے تھے

    پاکستان پہلے نمبر پر،سفارتی تعلقات ختم،عمران خان غصے میں

  • انوارالحق کاکڑ کا لمز کا دورہ: ایک تنقیدی جائزہ

    انوارالحق کاکڑ کا لمز کا دورہ: ایک تنقیدی جائزہ

    سابق آئی جی پولیس پنجاب اور سابق وزیر داخلہ پنجاب شوکت جاوید نے 31 اکتوبر 2023 کو لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں آنیوالے مہمان نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کے حالیہ دورے کے دوران طلباء کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کے معیار کے حوالے سے اپنی مایوسی کا اظہار کیا۔ شوکت جاوید نے ٹویٹ میں طلباء کے سوالات کے انتخاب کو معمولی قرار دیتے ہوئے تنقید کی اور کہا کہ سوال طلباء کے متوقع معیار کے مطابق نہیں۔ انہوں نے آئینی بحرانوں کے بارے میں انکوائری کی عدم موجودگی، نگراں سیٹ اپ کا 90 دن سے زیادہ عرصہ تک کا جواز نہ ہونا، سیاسی کارکنوں کے ساتھ ناروا سلوک اور لاپتہ افراد کو انصاف نہ ملنے کی نشاندہی کی۔ تاہم، شوکت جاوید نے تسلیم کیا کہ وزیر اعظم نے پوچھے گئے سوالات کے اچھے جوابات دیئے۔

    لمزکے طلباء کی طرف سے پوچھے گئے سوالات کی نوعیت کے حوالے سے شوکت جاوید کی جانب سے اٹھائے گئے نکات پر بات ضروری ہے انکے درست نکات ہیں،یہ ضروری ہے کہ اس طرح کے دوروں اور ان کی اہمیت پر ایک وسیع تناظر پر غور کیا جائے۔

    سب سے پہلے، اس بات پر تشویش ہے کہ تقریب کے دوران پوائنٹ اسکورنگ پر وقت ضائع کیا گیا۔ ویڈیو میں، ہم اس سوال کو دیکھ سکتے ہیں کہ جب ملک کو شدید مسائل کا سامنا تھا تو انوارالحق کاکڑ نے LUMS کا دورہ کیوں کیا؟ یہ بات قابل غور ہے کہ صدور یا وزرائے اعظم کا نہ صرف اپنے ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی یونیورسٹیوں اور کالجوں کا دورہ کرنا کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے۔ مثال کے طور پر، یوکرین کے تیسرے صدر، مسٹر یوشچینکو، اور ان کی اہلیہ، کیتھرین، یوکرین میں جنگ پر بات کرنے کے لیے یونیورسٹی آف مانچسٹر گئے۔ LUMS کے طالب علم کے سوال کے بعد جو تالیاں بجیں وہ بدقسمتی سے اس بارے میں بنیادی آگاہی کی کمی کو ظاہر کرتی ہے کہ اس طرح کے تبادلے کس طرح کچھ بہترین ذہنوں کے ساتھ بات چیت کو آسان بناتے ہیں اور خیالات کے تبادلے کو فروغ دیتے ہیں۔ نگران وزیراعظم انوارلحق کاکڑ کے دورے پر سوال اٹھانے کے واقعے سے آگہی کی کمی اور تقریب کے دوران وقت ضائع ہونے پر تشویش پائی جاتی ہے۔ ایسے لمحات کو زیادہ اہمیت کے سوالات پوچھ کر بہتر طور پر استعمال کیا جا سکتا تھا۔

    لمز کی تقریب میں سوالات کو لے کر، کچھ تاریخی مثالوں کو یاد کرنا ضروری ہے۔ 2010 میں، سابق امریکی صدر براک اوباما ہاورڈ یونیورسٹی میں 45 منٹ لیٹ تھے، جہاں ان کی سیکرٹری دفاع سے ملاقات تھی۔ جارج ڈبلیو بش 2001 میں پرنسٹن یونیورسٹی میں 20 منٹ لیٹ تھے، جب وہ سعودی عرب کے ولی عہد سے ملاقات کر رہے تھے۔ اسی طرح ٹونی بلیئر 2002 میں کیمبرج یونین میں 30 منٹ لیٹ تھے کیونکہ وہ فرانس کے وزیر اعظم سے بات چیت کر رہے تھے۔ مارگریٹ تھیچر 1987 میں آکسفورڈ یونین میں ٹریفک کی وجہ سے 45 منٹ تاخیر سے پہنچی تھیں۔

    میڈیا کی ایک معروف شخصیت عمر آر قریشی نے 31 اکتوبر 2023 کو اس مسئلے پر بات کی، انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ "میں دنیا کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سے ایک کا طالب علم رہا ہوں۔ میں سمجھ گیا کہ سربراہان حکومت بعض اوقات تاخیر سے آ سکتے ہیں اور میرے پاس ہمیشہ تقریب کو چھوڑنے کا حق تھا، کوئی بھی مہمان سے یہ نہیں پوچھتا کہ وہ دیر سے کیوں آئے ،ایک طرف توہین جبکہ دوسرے تالیاں بجائی جاتی ہیں۔ یہ سلوک نہ صرف توہین آمیز ہے بلکہ نقصان دہ ہے۔”
    ان مشاہدات کی روشنی میں طلباء اور میزبانوں کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ ایسے مواقع سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں اور معزز مہمانوں کے ساتھ بامعنی گفتگو کریں یہ اس امر کو یقینی بناتا ہے کہ ان واقعات کے دوران گزارا ہوا وقت قیمتی اور نتیجہ خیز ہے

  • بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے،نگران وزیراعظم

    بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے،نگران وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ نے کہا ہے کہ ذخیرہ اندوزوں اور منافع خوروں کے گٹھ جوڑ کو توڑنا ہوگا، نگراں حکومت بلاخوف و خطر کارروائی کر رہی ہے کچے کے حوالے سے آپریشنل کمانڈ نے فیصلہ کرنا ہے ، 200 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کے بل قسطوں میں لینے کا فیصلہ جلد کریں گے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کے نظام کو بحال کیا ہے، روز گار کی فراہمی ریاست کی بنیادی ذمے داریوں میں شامل ہے ، غیر قانونی طور پر کسی کو بھی پاکستان میں قیام کی اجازت نہیں، غیر قانونی رہائشی غیر ملکیوں کو جلد ان کے ملکوں میں واپس بھیج دیا جائے گا

    ان خیالات کا اظہار انہوں نے بجلی چوری ،ذخیرہ اندوزی اور سمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے منعقدہ اجلاس کی صدارت کے دوران گفتگو،میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا،نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت گورننس کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں ادا کررہی ہے ذخیرہ اندوزی، مہنگائی اورسمگلنگ کے حوالے سے صوبوں اور متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کرحکمت عملی وضع کی گئی ہے لوگوں میں یہ تاثرتھا کہ یہ ایک ہفتے یا چند دن کی مہم ہے لیکن میں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ہفتے دو ہفتے کی بات نہیں ہے جو اقدامات کئے جارہے ہیں انہیں مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے متعلقہ اورقانون نافذ کرنے والے اداروں نے اپنا کام شروع کردیا ہے پہلے یہ معلوم ہی نہیں تھا کہ یہ کس کا کام ہے اس رجحان کوبدلنے کی ضرورت ہے بیورو کریسی ، پولیس اورمتعلقہ ادارے مل کرکام کریں گے اور گورننس کے لئے جہاں ضرورت ہوگی فوج کی خدمات بھی حاصل کی جائیں گی, سول اداروں کی کارکردگی کو بہتر بنایا جائے گا جو وقت کی ضرورت ہے سول اداروں کی استعداد کارمیں اضافے سے ان کی کارکردگی اور کردار میں بہتری آتی جائے گی

    دوسری جانب نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کی ہدایت پرملک بھرمیں بجلی چوری کے خاتمہ اورواجبات کی وصولی کے لئے مہم بھرپور طریقے سے جاری ہے اور8 دنوں میں بجلی چوروں کے خلاف 5 ہزارسے زائد ایف آئی آرزدرج کرکے گرفتاریاں کی گئی ہیں اورواجبات کی وصولی1 ارب 74 کروڑ80 لاکھ روپے تک پہنچ گئی ہے ،ترجمان پاور ڈویژن کے مطابق بجلی چوری اور واجبات کی وصولی کے لئے مہم کا آغاز 7 ستمبر سے کیا گیا اور پہلے 7 دنوں میں نادہندگان سے 80 کروڑ روپے کی وصولیاں ہوئیں جبکہ صرف پچھلے 2 دنوں میں یہ وصولیاں 90 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہیں ،اس سلسلے میں تمام ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو خصوصی ٹاسک دیا گیا ہے جس کے تحت وہ لائن لاسز میں کمی ، واجبات کی وصولی اوربجلی کی چوری میں ملوث عناصرکے خلاف دن رات کریک ڈائون کررہی ہیں

    مفتی عزیزالرحمان ویڈیو سیکنڈل کی حمایت کرنیوالا مفتی اسماعیل بھی گرفتار

    مفتی عزیز الرحمان کو دگنی سزا ملنی چاہئے، پاکستان کے معروف عالم دین کا مطالبہ

    انوار الحق کاکڑ پاکستان کے آٹھویں نگران وزیراعظم بن گئے 

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی کابینہ مختصر رکھیں گے

    عمران خان کی گرفتاری کے بعد کور کمانڈر ہاؤس لاہور میں ہونیوالے ہنگامہ آرائی میں پی ٹی آئی ملوث نکلی

     بشریٰ بی بی کی گرفتاری کے بھی امکانات

    نواز شریف کو سزا سنانے والے جج محمد بشیر کی عدالت میں عمران خان کی پیشی 

  • ٹیکس وصولی میں اضافے کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو گی،نگران وزیرِ اعظم

    ٹیکس وصولی میں اضافے کے بغیر معیشت بہتر نہیں ہو گی،نگران وزیرِ اعظم

    نگران وزیرِ اعظم انوار الحق کاکڑ سے اسلام آباد ایوانِ تجارت و صنعت کے وفد کی ملاقات ہوئی ہے

    اس موقع پر نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ کاروباری برادری کے مسائل کا حل حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے.آپکی تجاویز کا خیر مقدم کرتا ہوں، ان میں سے قابل عمل تجاویز پر عملدرآمد کی یقین دہانی کرواتا ہوں.وزارت عظمی کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی کاروباری برادری سے ملاقاتیں کیں اور انکے مسائل سنےکاروباری برادری موجودہ ملکی معاشی حالات کے باوجود ملکی معیشت کی ترقی میں اپنا اہم کردار ادا کرنے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کر رہے ہیں. حکومت ٹیکس کے نظام میں اصلاحات یقینی بنا رہی ہے جسکے لئے ٹیکس کا نظام ڈیجٹلائز کیا جا رہا ہے. جب تک پاکستان میں ٹیکس وصولی میں اضافہ نہیں ہوتا تب تک ملکی معیشت کی بہتری ممکن نہیں.

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے ملک بھر بالخصوص سرحدی علاقوں میں آپریشن شروع کر دیا گیا ہے. اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے گزشتہ 48 کے دوران کریک ڈاؤن کئے گئے ہیں جن کے مثبت نتائج موصول ہو رہے ہیں.ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارت کے فروغ کے حوالے سے مشاورت جاری ہے. اسمگلنگ کی روک تھام کا ہمسایہ ممالک کے حکام نے خیر مقدم کیا ہےتاجروں، صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرکے ملکی معیشت کو مزید مستحکم کریں گے.بجلی کے شعبے میں اصلاحات کا عمل تیزی سے جاری ہے، بجلی چوروں کے خلاف مؤثر کاروائی کی جائے گی. ملکی مسائل کے حل کیلئے تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے ہدایت کی کہ وزارت کامرس ملک بھر کے چیمبرز سے باقائدگی سے تجاویز و مشاورت کو یقینی بنائے.ایف ،بی،آر پوائنٹ آف سیلز کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کے حوالے سے جلد رپورٹ پیش کی جائے.پاکستانی سفارتخانوں میں تعینات کمرشل اتاشیوں کی کارکردگی کو بہتر کیا جائے.سی ڈی اے کے نظام میں بہتری لائی جائے اور کاروباری برادری کو مشاورتی عمل کا حصہ بنایا جائے.سی ڈی اے شہریوں کو فراہم کی جانے والی تمام سہولیات اور لینڈ ریکارڈ کو ڈیجٹلائز کرے.

    آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ روزانہ کی بنیاد پر جج جو کیس سن رہے ہیں وہ جانبداری ہے ؟

    آج پاکستان کی تاریخ کا اہم ترین دن ہے،

    عمران خان کی گرفتاری کو اعلیٰ عدالت میں چیلنج کرنے کا اعلان 

    عمران خان کی گرفتاری کیسے ہوئی؟ 

    چئیرمین پی ٹی آئی کا صادق اور امین ہونے کا سرٹیفیکیٹ جعلی ثابت ہوگیا

    پیپلز پارٹی کسی کی گرفتاری پر جشن نہیں مناتی

     عمران خان کی سزا معطلی کی درخواست پر سماعت ہوئی

  • عالمی برادری کو ہمیں ایک ذمہ دارملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے،وزیراعظم

    عالمی برادری کو ہمیں ایک ذمہ دارملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے،وزیراعظم

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے غیرملکی صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیرملکی میڈیا کیساتھ بطور نگران وزیراعظم پہلی باضابطہ گفتگو ہے،

    انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ نگران حکومت کی بنیادی آئینی ذمہ داری انتخابات میں معاونت فراہم کرنا ہے،آئینی طورپر حکومتی نظام میں بڑی تبدیلی نہیں لا سکتے،تمام شعبوں کیلئے بجٹ مختص کرنا پارلیمنٹ کا اختیار ہے،اپنے دائرہ کارمیں رہتے ہوئے معاشی اور مالی معاملات چلا رہے ہیں،خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل کوآگے بڑھانا اہم ترجیح ہے،کونسل کے تحت زراعت ،کان کنی اورمعدنیات جیسے شعبے اہم ترجیح ہیں،ملک میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات کی بہت ضرورت ہے،ایف بی آر اور توانائی کے شعبوں میں اصلاحات کی ضرورت ہے ہم اپنے آئینی مینڈیٹ سے آگے نہیں بڑھ سکتے،ہم مختصر مدتی اصلاحات کرسکتے ہیں ،جن کے مستقبل کا فیصلہ آئندہ منتخب حکومت کرے گی

    نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں کچھ تقسیم کارکمپنیاں نجکاری فہرست میں شامل ہیں،ہماری کوشش ہے کہ کان کنی اورمعدنیات میں بیرونی سرمایہ کاری لاسکیں،آئین کے تحت مردم شماری کے بعد انتخابی حلقہ بندیاں ضروری ہیں،امید ہے الیکشن کمیشن حلقہ بندیوں کاعمل مناسب وقت میں مکمل کرلے گا،پاکستان میں تمام رجسٹر سیاسی جماعتوں کو انتخابی عمل میں حصہ لینے کی آزادی ہے، ہماری مغربی سرحد سے ملک کے اندرحملے ہورہے ہیں افغانستان میں امریکا اوراتحادیوں کا چھوڑا گیا جدید اسلحہ بڑا چیلنج ہے،اتحادیوں کا چھوڑا گیا اسلحہ علاقائی سکیورٹی صورتحال پرگہرے اثرات مرتب کررہا ہے،اس چیلنج سے عالمی برادری کے ساتھ مل کر نمٹنا چاہتے ہیں،اتحادیوں کا چھوڑا ہوا جدید اسلحہ عسکریت پسندوں کے ہاتھ لگ چکا ہے،ہماراموقف تھا کہ اتحادی افواج کے انخلاء کے بعد منفی صورتحال کو ہمیں بھگتنا ہو گا، ہم اس چیلنج کےسامنے ہارنہیں مان سکتے،اپنی آبادی کے تحفظ کیلئے تمام مناسب اقدامات کررہے ہیں،عالمی برادری کو ہمیں ایک ذمہ دارملک کی حیثیت سے دیکھنا چاہیے

    بجلی کے بلوں میں اضافہ پرشہری سڑکوں پرنکل آئے

    بجلی کے نرخوں کے حوالے سے ہنگامی اجلاس طلب کرلیا

     عابد شیر علی پریس کانفرنس کرتے ہوئے بجلی کے بھاری بلوں پر پھٹ پڑے ،

     پاکستان چاہے تو ہم پاکستان کو سستی بجلی، گیس اور تیل دے سکتے ہیں

    حکومت نے پاک ایران، پاک روس بارٹر تجارت کی اجازت دے دی

     اپنی صنعتوں کو تالے لگا دیں گے اور چابیاں حکومت کے حوالے کردیں گے۔