ہومیو پیتھک کی نادر اور نایاب کتاب ”ابجد ہومیو پیتھی” برسوں بعد دوبارہ منظر عام پر آ گئی۔ بالمثل معالج پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد کی طرف سے لکھی گئی مذکورہ کتاب کو اسی اور نوے کی دہائی میں خاص طور پر مقبولیت حاصل رہی ہے۔ اب ایک مرتبہ پھر اس کے ترمیم شدہ نسخہ جات ہومیو پیتھک سے کسی بھی حوالے سے وابستہ احباب کے لیے پیش کیے گئے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی میں صرف علاج معالجہ ہی نہیں صحت قائم رکھنے کے اصول و ضوابط بھی درج ہیں۔ یہ کتاب اس لحاظ سے بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے کہ اس میں پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد مرحوم کی جانب سے وہ راز بھی افشاء کیے گئے ہیں جو اطباء اپنے سینوں میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ ابجد ہومیو پیتھی نہ صرف مبتدی معالجین کے لیے بہترین گائیڈ ہے بلکہ ہر معالج کے لیے ایک بہترین معاون کا کام بھی دے سکتی ہے۔ اس میں فن ہومیو پیتھی کے حوالے سے مکمل معلومات اور کلینک پر پیش آنے والے واقعات کا مکمل نچوڑ بیان کیا گیا ہے۔ مذکورہ کتاب حاصل کرنے کے لیے واٹس ایپ نمبر 03153242517 اور 03334289005پر رابطہ کیا جا سکتا ہے
Tag: کتاب

تبصرہ کتب: بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات
نام کتاب : بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات
مولف : عبدالمالک مجاہد
صفحات : 255۔۔۔4کلر آرٹ پیپر
قیمت : 3250روپے
ناشر : دارالسلام انٹرنیشل ، نزد سیکرٹریٹ سٹاپ ، لوئر مال لاہور
رسالت ماٰ ب ﷺ بچوں کے بھی رسول ہیں ۔ آپ ﷺ بچوں کے ساتھ بے انتہا محبت فرمایا کرتے تھے ۔ جبکہ بچے بھی نبی رحمت ﷺ سے محبت کرتے اور آپ ﷺ پرجان قربان کرنے کےلئے تیار رہتے تھے ۔ معوذ ومعاذ دو ننھے منے بچوں کی رسالت ماٰ ب کے ساتھ محبت اور جانثاری تاریخ اسلام کاایک روشن باب اور ہمارے بچوں کےلئے مشعل راہ ہے ۔ آج ہم پر بھی بطور والدین فرض ہے کہ اپنے بچوں کے دل ودماغ میں نبی رحمت ،رسول معظم ﷺ کی اس طرح کی محبت وعقیدت راسخ کریں جو محبت معوذ ومعاذ رضی اللہ عنھما کے والدین نے اپنے بچوں کے دلوں میں پیدا کی تھی ۔ اس کےلئے ضروری ہے کہ بچوں کو رسول پاک ﷺ کے واقعات سنائے جائیں اور ایسی کتابیں پڑھنے کےلئے دی جائیں جن میں نبی مکرم رسول رحمت ﷺ کی سیرت بیان کی گئی ہو ۔ زیر نظر کتاب ” بچوں کےلئے سنہری سیرت سے منتخب واقعات “ اسی پس منظر میں لکھی گئی ہے ۔کتاب کے مﺅلف عبدالمالک مجاہد ہیں ۔ دارالسلام انٹرنیشنل بچوں کےلئے اسلامی ، اصلاحی ، تربیتی کتابیں شائع کرنے میں عالمی شہرت کاحامل ہے جبکہ عبدالمالک مجاہدسیرت النبی ﷺ پر بہت سی کتابیں لکھ چکے ہیں ان میں بہت سی کتابیں ایسی ہیں جو بطور خاص بچوں کےلئے لکھی گئی ہیں ۔” بچوں کے لیے سنہری سیرت کے منتخب واقعا ت “ میں دلچسپ اور دیدہ زیب پیرائے میں سیرت النبی ﷺ بیان کی گئی ہے تاکہ بچے بچیاں نبی ﷺ کی پاکیزہ سیرت سے آگاہ ہوکر اسلامی اخلاق و کردار اپنا سکیں اور مروجہ لٹریچر کی آلودگی اور قباحتوں سے بچے رہیں جو انھیں افسانوی اور دیومالائی کہانیوں کی لت میں مبتلا کرکے اسلامی اخلاق سے آراستہ نہیں ہونے دیتا ۔ اسی ضرورت کے پیش نظر یہ کتاب شائع کی گئی ہے۔ اس پاکیزہ مجموعے کو شرعی حدود کا خیال رکھتے ہوئے چہار رنگ تصویروں اور خاکوں سے مزین کیا گیا ہے تاکہ بچے تصاویر کے ذریعے سے واقعات کو سمجھیں اور اللہ کے رسول ﷺ کی سیرت سے واقف ہو سکیں ۔تاہم کتاب میں اللہ کے نبی ﷺ یا کسی صحابی کو تصویر یا خاکے میں نہیں دکھایاگیا ۔ یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ یہ خوبصورت اور دیدہ زیب کتاب بچوں بچیوں کو بے حد پسند آئے گی اوراس کے مطالعہ سے ہمارے بچوں کےلئے سیرت مقدسہ کو سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بہت آسان ہوجائے گا۔یہ کتاب 81عنوانات پر مشتمل ہے اس کی ایک اہم خوبی یہ ہے کہ آسان فہم کےلئے ہر عنوان کے آخر میں سوال و جواب بھی دیے گیے ہیں تاکہ بچے غور سے پڑھیں اور سوالات کے ذریعے ان واقعات کو یاد رکھ سکیں ۔ آرٹ پیپر پر شائع کردہ یہ کتاب مضمون کے اعتبار سے جتنی خوبصورت ہے طباعت کے اعتبار سے بھی بہت دلکش اور دیدہ زیب ہے ۔
دارالسلام نے انگریزی ترجمہ کے ساتھ” سٹڈی دی نوبل قرآن “ شائع کردیا
خطاطی کی خدمت کے پانچ سال کی تکمیل، دارالسلام میں تقریب
نوجوان نسل کے لیے پیارے رسول ﷺ کی سنہری سیرت

عمران خان پر ایک اور کتاب،اداکارہ نے لگائے شرمناک الزامات
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لئے ایک اور مشکل،ریحام خان کی کتاب، خاور مانیکا کا انٹرویو، اب ماضی کی اداکارہ حاجر ہ خان نے بھی اپنی کتاب میں عمران خان پر انتہائی شرمناک الزامات لگائے ہیں
پاکستانی انڈسٹری کی ایک نامور اداکارہ حاجرہ خان جو کئی عرصے سے پردے سے غائب تھیں اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ وہ کہاں چلی گئی ہیں ، کافی عرصے بعد جب وہ دانیال شیخ کی پوڈ کاسٹ میں نظر آئی تو انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے غیر حاضری کی وجہ صرف اور صرف ذہنی ٹارچر اور ڈپریشن تھا۔حاجرہ خان کا کہنا تھا کہ شوبز سے بریک لے کر لندن جا کر انہوں نے کتاب لکھی تھی،حاجرہ خان کا کہنا تھا کہ عمران خا ن نے ان کا بھر پور طریقے سے غلط استعمال کیا اور جب انہیں ڈر لگا کہ میں کچھ بول نہ دوں تو پھر مجھ پر پاکستان کی زمین تنگ کرتے ہوئے ملک سے بھی نکلوا دیا ، انہوں نے عمران خان کیلئے مبینہ طور پر ’ دجال ‘ کا لفظ بھی استعمال کیا اور انہیں رانگ نمبر بھی قرار دیا ،اداکارہ کا کہنا تھا کہ میں ایک رائیٹر نہیں تھی لیکن میں نے کتاب لکھی،میرا تعلق کوئٹہ سے ہے،مجھے نہیں پتہ تھا میں نے ان بارے بات نہیں کرنی میں نے کسی سیاسی ایجنڈۃ کو لے کر کتاب نہیں لکھی بلکہ عمران کے وزیراعظم بننے سے پہلے لکھی تھی.
اینکر پرسن زنیرا ماہم نے اپنے یوٹیوب چینل پر اداکارہ حاجرہ خان کی کتاب کا احوال بیان کیا اورساتھ ہی ان کی پوڈ کاسٹ کے دوران کی گئی گفتگو کے کلپس بھی چلائے ،اب اداکارہ حاجرہ خان اس کتاب کو دوبارہ مکمل تفصیل کے ساتھ پاکستان میں شائع کرنے جارہی ہیں جبکہ اس سے قبل امریکہ میں جب یہ کتاب 2014 میں شائع کی تھی تو اس میں سے بہت سار ی چیزیں نکال دی گئیں تھیں،
اداکارہ حاجرہ خان کا کہناتھا کہ عمران خان کو پتا چل گیا کہ یہ باتیں باہر نہ نکل جائیں تو انہوں نے میرا جینا مشکل کر دیا اور مجھے ملک سے بھی نکلوا دیا جب میں واپس آئی تو انہوں نے اپنے لوگوں کے ذریعے میرے سوشل میڈیا اکائونٹس ہیک کروا دیے عمران خان کے ایک قریبی شخص جس کا نام نعیم الحق تھا نے میری ساتھ بہت نیکی کی،نعیم الحق میرےبھائی جیسے تھے، میں ان کی بہت عز ت کرتی ہوں میں نے فیصلہ کیا کہ میں اب اس پر کبھی بات نہیں کروں گی، جب میں واپس آئی تو عمران خان کے لوگوں نے میرے ای میلز تک بھی ہیک کر دیئے ،مجھے پتا نہیں چلتا تھا کہ میری کتاب کہاں پر فروخت کیلئے پڑی ہوئی ہے ،جب آپ کسی کو عوامی سطح پر جانتے ہیں تو آپ کو بہت سے گمان ہوتے ہیں اور انہین رول ماڈل کہتے ہیں، آپ ہنس رہے ہوتے ہیں لیکن جب آپ انہیں ذاتی حیثیت جانتے ہیں تو وہ بہت بدقسمت ہوتی ہے ۔
پوڈ کاسٹ کے دوران اینکر نے اداکارہ حاجرہ سے سوال کیا کہ آپ ایک سٹوری رائٹر اور ایکٹریس بھی ہیں تو آپ نے بھی اپنی کتاب میں ایک کہانی لکھی ہے ، یہاں پر اداکارہ نے اینکر کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا کہ میں نے اپنی کتاب میں کوئی کہانی نہیں لکھی بلکہ یہ حقیقت ہے جس طرح عمران خان نے زندگی اور کیریئر تباہ کیا ، مجھے پاکستان سے بھی نکلوا دیا ،انہوں نے کہا کہ جب میں نے یہ کتاب 2014 میں شائع کی تو یہ ایمازون اور کہیں اور فروخت کیلئے موجود ہو گی ،تو اس میں اس وقت ایڈیٹنگ کے دوران بہت سی چیزیں نکال دی گئیں، اس وقت میں بہت ڈری بھی ہوئی تھی ، مجھے اپنے والد کا بھی ڈر تھا ، اس وقت وہ زندہ تھے اگر انہیں پتا لگتا کہ میں اس طرح کی سیاہ زندگی گزار رہی ہوں تو میرے گھر والوں نے میرا ہی جینا محال کر دینا تھا ، اب میرے والد دنیا میں نہیں رہے تو میں نے فیصلہ کیا ہے جس طرح میں نے وہ کتاب حقیقت میں لکھی تھی اب اسے ویسے ہی شائع کروں ،
عمران خان پر ایک اور آفت آنے والی ہے،ہاجرہ خان بھی 24نومبر کو اپنی کتاب پاکستان میں لانچ کررہی ہیں، اس کتاب میں خاور مانیکا اور ریحام خان کی کتاب سے زیادہ ہوشربا انکشافات ہیں pic.twitter.com/isuRHfE207
— Pervaiz Sandhila (@chsandhilaa) November 21, 2023
واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کے سابق شوہر خاور فرید مانیکا عمران خان اور بشری بی بی پر پھٹ پڑے، خاور مانیکا رہائی کے بعد اہم انکشافات سامنے لے آئے، بشریٰ بی بی کے کرتوت عیاں کر دیئے تو وہیں ریاست مدینہ کا نام لے کر پاکستان میں حکومت کرنیوالے عمران خان کا کچہ چٹھہ بھی کھول دیا،
جیو ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے خاور مانیکا کا کہنا تھاکہ عمران خان میری مرضی کے بغیر میرے گھر آتا تھا، پنکی کی اس سے ملاقاتوں پر میں ناراض تھا، ایک بار عمران میرے گھر آیا تو میں نے نوکر کی مدد سے اسے گھر سے نکلوا دیا، عمران خان کے اسلام آباد میں دھرنوں کے دوران بشریٰ کی بہن مریم وٹو نے بشریٰ کی ملاقات عمران خان سے کرائی، ہماری شادی 28 سال چلی، ہماری بہت خوش گوار زندگی تھی لیکن عمران نے پیری مریدی کی آڑ میں ہمارا ہنستا بستا گھر برباد کر دیا اسلام آباد میں عمران خان اور بشریٰ بی بی کی ملاقاتیں شروع ہو گئیں. میری والدہ کہتی تھیں کہ عمران خان اچھا آدمی نہیں، اسے گھر میں نہ آنے دیا کرو، رات کے وقت دونوں کی فون پر لمبی لمبی باتیں ہونے لگیں،
بشری نے بچوں سے نہ ملنےدیا، کیا شرط رکھی؟ خان کیسے انگلیوں پر ناچا؟
ہوشیار،بشری بی بی،عمران خان ،شرمناک خبرآ گئی ،مونس مال لے کر فرار
بشریٰ بی بی، بزدار، حریم شاہ گینگ بے نقاب،مبشر لقمان کو کیسے پھنسایا؟ تہلکہ خیز انکشاف
تحریک انصاف میں پھوٹ پڑ گئی، فرح گوگی کی کرپشن کی فیکٹریاں بحال
عمران خان، تمہارے لئے میں اکیلا ہی کافی ہوں، مبشر لقمان
ریحام خان جب تک عمران خان کی بیوی تھی تو قوم کی ماں تھیں
جن لوگوں کو میری کتاب سے تکلیف ہے وہ مزید برداشت کیلیے تیار رہیں ۔ریحام خان
واضح رہے کہ ریحام خان وزیراعظم پاکستان عمران خان کی سابقہ بیوی ہیں جسے عمران خان طلاق دے چکے ہیں، طلاق ملنے کے بعد ریحام خان نے ایک کتاب لکھی جس میں عمران خان سے شادی سے لے کر طلاق تک حالات و واقعات لکھے ،کتاب برطانیہ کے ہی ایک طباعتی ادارے نے شائع کی ہے جس کی کل صفحات 563 ہیں جبکہ اشاعت کی تاریخ 10 جولائی 2018 لکھی گئی ہے۔کتاب کے متن میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں کو بے نقاب کیا گیا تھا۔ اپنی کتاب میں ریحام خان نے عمران خان پر اقرباپروری اور جنسی ہراسگی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔

مولانا وحیدالدین خاں کا یوم وفات
مولانا وحیدالدین خاں: یکم جنوری، 1925ء کو بڈھریا اعظم گڑھ، اتر پردیش بھارت میں ولادت ہوئی۔ مدرسۃ الاصلاح اعظم گڑھ کے فارغ التحصیل عالم دین، مصنف، مقرر اورمفکر جو اسلامی مرکز نئی دہلی کے چیرمین، ماہ نامہ الرسالہ کے مدیر ہیں اور1967ء سے 1974ء تک الجمعیۃ ویکلی(دہلی) کے مدیر رہ چکے ہیں۔
On April 21, 2021, the world not only lost an eminent thinker&scholar but one of the most ardent advocates of peace and peaceful coexistence. @WahiduddinKhan was an intellectual giant and an erudite scholar who devoted his life to pursuance of principles of peace. #anniversary pic.twitter.com/CppyIVnHD5
— Malik Ramzan Isra (@MalikRamzanIsra) April 21, 2023
آپ کی تحریریں بلا تفریق مذہب و نسل مطالعہ کی جاتی ہیں۔ خان صاحب، پانچ زبانیں جانتے ہیں، (اردو، ہندی، عربی، فارسی اور انگریزی) ان زبانوں میں لکھتے اور بیان بھی دیتے ہیں، ٹی وی چینلوں میں آپ کے پروگرام نشر ہوتے ہیں۔ مولانا وحیدالدین خاں، عام طور پر دانشور طبقہ میں امن پسند مانے جاتے ہیں۔ ان کا مشن ہے مسلمان اور دیگر مذاہب کے لوگوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا۔ اسلام کے متعلق غیر مسلموں میں جو غلط فہمیاں ہیں انہیں دور کرنا۔ مسلمانوں میں مدعو قوم (غیر مسلموں) کی ایذا وتکلیف پر یک طرفہ طور پرصبر اور اعراض کی تعلیم کو عام کرنا ہے جو ان کی رائے میں دعوت دین کے لیے ضروری ہے۔
ماہ نامہ الرسالہ
۔۔۔۔۔۔۔
الرسالہ نامی ایک ماہ نامہ جو اردو اور انگریزی زبان میں شائع کیا جاتا ہے۔ الرسالہ (اردو) کا مقصد مسلمانوں کی اصلاح اور ذہنی تعمیر ہے اور الرسالہ (انگریزی) کا خاص مقصد اسلام کی دعوت کو عام انسانوں تک پہنچانا ہے، دور جدید میں الرسالہ کی تحریک، ایک ایسی اسلامی تحریک ہے جو مسلمانوں کو منفی کاروائیوں سے بچ کر مثبت راہ پر ڈالنے کی کوششیں جاری رکھی ہوئی ہے۔ مولانا لکھتے ہیں کہ
1976ء میں الرسالہ کے اجراء کے بعد سے جو کام میں کررہاہوں،اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ میں مسلمانوں کو یہ سبق دے رہاہوں،کہ وہ منفی سوچ سے اوپر اٹھیں اور مثبت سوچ کا طریقہ اختیار کریں۔
الرسالہ کا انگریزی ایڈیشن مولانا کی دختر محترمہ ڈاکٹر فریدہ خانم کی تنہا کوششوں سے 1984ء میں جاری ہوا اور اب تک جاری ہے،مولانا کی اردو کتب کے جو انگریزی ترجمے شائع ہوئے ہیں وہ تمام تر ڈاکٹر فریدہ خانم کی تنہا کوششوں کا نتیجہ ہے۔ جس کا اعتراف مولانا نے اپنی ڈائری (1990ء – 1989ء) کے صفحہ 85 میں کیاہے۔
سفرنامے
۔۔۔۔۔
آپ کے سفر نامے کافی مشہور ہیں۔ جیسے سفرنامہ غیر ملکی اسفار جلد اول ودوم، سفرنامہ اسپین وفلسطین، اسفار ہند وغیرہ۔
افکار ونظریات
۔۔۔۔۔۔۔
خان صاحب لکھتے ہیں کہ:(میری پوری زندگی پڑھنے،سوچنے اور مشاہدہ کرنے میں گزری ہے۔ فطرت کا بھی اور انسانی تاریخ کا بھی۔ مجھے کوئی شخص تفکیری حیوان کہہ سکتاہے۔ میری اس تفکیری زندگی کا ایک حصہ وہ ہے جو الرسالہ یا کتب میں شائع ہوتا رہاہے۔ اس کا دوسرا،نسبتاً غیر منظم حصہ ڈائریوں کے صفحات میں اکھٹا ہوتا رہاہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ میری تمام تحریریں حقیقتاً میری ڈائری کے صفحات ہیں۔ اس فرق کے ساتھ کہ لمبی تحریروں نے مضمون یا کتاب کی صورت اختیار کرلی۔ اور چھوٹی تحریریں ڈائریوں کا جزء بن گئیں۔)
ان سب کے باوجود مولانا کی کچھ تحریریں اور ونظریات ایسے ہیں جن کی وجہ سے اہل علم ان سے اختلاف رکھتے ہیں۔ اختلاف معمولی نہیں ہے بہت سی باتوں میں یہ جمہور علما اسلام سے الگ رائے رکھتے ہیں۔ جیسے انسان کامل، جہاد، دجال، مہدی، ختم نبوت کا مفہوم، ظلم کو برداشت کرنا اور جوابی کارروائی سے گریز کی تلقین، تقلید شخصی، وغیرہ
اوراق حیات
۔۔۔۔۔۔۔
خود نوشت سوانح حیات
۔۔۔۔۔۔۔
مولانا وحید الدین خاں کی خودنوشت تحریروں پر مبنی سوانح عمری "اوراق حیات” شائع ہوگئ ہے، جو ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے. اس کتاب کو اردو زبان معروف سوانح نگار شاہ عمران حسن نے دس سال کی طویل محنت کے بعد مرتب کیا ہے . اس جاں گسل کام پر تبصرہ کرتے ہویے مولانا وحید الدین خاں نے ایک بار کہا کہ جو کام میں پوری زندگی نہ کر سکا اسے شاہ عمران حسن صاحب نے کیا ہے۔
کتب و رساہل
۔۔۔۔۔۔۔
اردو کتب
۔۔۔۔۔
خاں صاحب نے عصری اسلوب میں 200 سے زائد اسلامی کتب تصنیف کی ہیں۔ جو آپ کی علمی قابلیت کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ ان میں سے چند قابل ذکر تصانیف مندرجہ ذیل ہیں۔
تذکیر القرآن
اللہ اکبر
الاسلام
الرّبانیہ
حقیقت حج (اردو اورعربی)
پیغمبر انقلاب
رازِ حیات
مذہب اور سائنس
مذہب اور جدید چیلنج
ہند۔ پاک ڈائری (2006)
اسلام دور جدید کا خالق
عقلیات اسلام
علما اور دور جدید
تجدید دین
سفرنامہ غیر ملکی اسفار جلد اول
سفرنامہ غیر ملکی اسفار،جلد دوم
سفرنامہ اسپین وفلسطین
اسفار ہند
خلیج ڈائری
ڈائری جلد اول(1983-1984)
ڈائری( 1989- 1990)
ڈائری(1991-1992)
فسادات کا مسئلہ
سوشلزم اور اسلام
مطالعہ قرآن
تعبیر کی غلطی
دین کی سیاسی تعبیر
اظہارِ دین
عربی کتب و تراجم[ترمیم]
القضیۃ الکبری
قضیۃ البعث الإسلامۃ
واقعنا ومستقبلنا فۃ ضوء الإسلام
الإسلام يتحدی
من نحن
عليکم بسنتی
إمکانات جديدۃ للدعوۃ الإسلاميۃ
التفسير السياسی للدين
تاريخ الدعوۃ إلي الإسلام
خطأ في التفسير
مأساۃکربلاء الحسن والحسين
نوٹ:الاسلام یتحدی:(مذہب اور جدید چیلنج) پانچ عرب ملکوں:(قطر، قاہرہ ،طرابلس، خرطوم اورتیونس) کی جامعات میں داخل نصاب ہے۔
وزارت اطلاعات کے زیراہتمام ڈائمنڈ جوبلی ادبی کتاب میلہ
انفارمیشن سروس اکیڈمی اور ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنزوزارت اطلاعات کے زیراہتمام ڈائمنڈ جوبلی ادبی کتاب میلہ منعقد کیا گیا جسے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد باالخصوص نوجوانوں، میڈیا ، سینئر حکام اور سماجی و ادبی حلقوں کی طرف سے زبردست پذیرائی ملی۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات ونشریات شاہیرہ شاہد نے اس موقع پر ایک روزہ نمائش کا افتتاح کیا اور مختلف سٹالز کا دورہ کیا۔
پاکستان کی تاریخ ، ثقافت، کھیل، سیاحت اور ادب سے متعلق دو ہزار سے زائد کتب نمائش کے لئے رکھی گئی تھیں جو’’ مسٹر بکس ‘‘ اسلام آباد کی طرف سے مہیا کی گئی تھیں جس کے منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ یوسف بھی تقریب میں موجود تھے۔ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنزوزارت اطلاعات نے بھی اپنی تازہ ترین مطبوعات اور ڈیجیٹل تصویری مجموعوں کا خصوصی سٹال لگایا۔ ڈائریکٹوریٹ نے یوم آزادی کی مناسبت سے تیار کی گئی دستاویزی فلمیں اور قومی نغمے بھی دکھائے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی سیکرٹری اطلاعات ونشریات شاہیرہ شاہد نے کہا کہ کتاب میلہ پاکستان کی ڈائمنڈ جوبلی تقریبات کا حصہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کتاب ہماراورثہ ہے، اسے نظر انداز نہیں کیاجاسکتا ،باالخصوص نوجوانوں اور تعلیمی اداروں میں کتب بینی کافروغ وقت کی اہم ضرورت ہے، اس کےلئے ہم سب کو اپنا کرداراداکرناہو گا۔انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کا قومی تعمیر میں اہم کردار ہے لہٰذا انہیں علم پر دسترس کی ضرورت ہے اور کتب علم کے حصول کا بہترین ذریعہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 75 ویں سالگرہ منانے کاسلسلہ بھرپور انداز میں جاری ہے۔ وزارت اطلاعات کے تمام ادارے اس میں اپنا اپنا کردارادا کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کتاب میلے کے انعقاد کامقصد لوگوں میں کتب بینی کو فروغ دینا ہے۔ ہم کتب بینی کی جانب لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہماری پوری کوشش ہوگی کہ اس کتاب میلہ سے لوگ زیادہ سے زیادہ مستفیدہوں۔
وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے کہا کہ پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ڈیجیٹل فوٹو گرافی کی نمائش میں پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کو ڈیجیٹل طریقے سےپیش کیاجائےگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی اور پاکستان براڈ کاسٹنگ کارپوریشن نے اپنے پرانے فنکاروں کو سراہنے کےلئے تقریبات کااہتمام کیا ہے۔ وفاقی سیکرٹری اطلاعات نے کہاکہ ہم نےقومی ترانے کی جدید طریقے سے ری ریکارڈ نگ کی ہے ،ترانے کے الفاظ میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی صرف اس کی ریکارڈنگ میں جدت لائی گئی ہے۔ ہم قوم کو 75 ویں سالگرہ پر قومی ترانے کا یہ تحفہ پیش کریں گے۔ اس موقع پرانہوں نے مسٹر بکس کا سٹالز لگانے ، تقریب کے شرکا اور میڈیا کاشکریہ ادا کیا
۔ تقریب سے ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن سروس اکیڈمی سعید جاوید اور ڈائریکٹر جنرل ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلیکیشنز عمرانہ وزیر نےکتب میلے کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ نمائش پاکستان کی 75 ویں سالگرہ کی تقریبات کے سلسلہ میں ہے اور اس کا مقصد نوجوانوں میں کتب بینی کو فروغ دینا ہے یہی وجہ ہے کہ تقریب میں نوجوانوں کو بڑی تعداد میں مدعو کیا گیا ہے ۔
مسٹر بکس کے منیجنگ ڈائریکٹر عبداللہ یوسف نے اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انفارمیشن سروس اکیڈمی اور ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ ان کے بک ہائوس سے اس خصوصی نمائش کے لئے کتب کی فراہمی سے بے حد خوشی ہوئی ہے۔ بعدازاں ایوارڈ کی تقریب میں انفارمیشن سروس اکیڈمی اور ڈائریکٹوریٹ آف الیکٹرانک میڈیا اینڈ پبلی کیشنز کے ڈائریکٹر جنرلز نے مہمان خصوصی وفاقی سیکرٹری اطلاعات ونشریات شاہیرہ شاہد اور مسٹر بکس کے مالک عبداللہ یوسف کو خصوصی یادگاریں پیش کیں۔
شرکاء نے نمائش کے لئے رکھی گئی کتب میں بے حد دلچسپی کا اظہار کیا اور اپنی پسند کی کتب خریدیں جن میں زیادہ ترکتب تاریخ ، کھیلوں اور پاکستانی ثقافت بارے تھیں۔شرکاء نے ادب اور دیگر موضوعات پر کتب بھی خریدیں۔ تمام کتب پر دس فیصد کی خصوصی رعایت دی گئی تھی اور شرکاء نے اس رعایت کا زبردست فائدہ اٹھایا۔

لائبریری کو 50 برس بعد ایک خط کیساتھ کتاب واپس مل گئی
برطانیہ میں لائبریری کو ایک قدیم "لاطینی” کتاب 50 برس بعد واپس مل گئی-
باغی ٹی وی : کتابوں کے شوقین افراد لائبریریوں میں جاکر مطالعہ کرتے ہیں علاوہ وہاں سے کتاب ایشو کرا کے گھر بھی لے جاتے ہیں، جو ایک خاص مدت کے لیے ہی دی جاتی ہے۔اس کے بعد جرمانہ ادا کرنا ہوتا ہے تاہم برطانیہ میں اس کے طرعکس ایک عجیب و غریب کہانی سامنے آئی ہے-
عقابوں کا جدید ترین ٹیکنالوجی سے لیس وی آئی پی اسپتال
برطانوی میڈیا کے مطابق برطانیہ میں ایک نامعلوم شخص نے یونیورسٹی کالج لندن کی لائبریری کو 50 برس کے بعد ڈاک کے ذریعے کتاب واپس بھجوائی، اور ساتھ ایک خط بھی بھیجا۔
“Dear Librarian, I fear this book is some 50 years overdue!”: Anonymous borrower finally returns their book to @UCLLibraries which was due in 1974 and could have racked up fines of £1,254 – alongside a hand-written note https://t.co/kakSnu9oER
— UCL News (@uclnews) March 30, 2022
جسے لائبریری کے آفیشل آکاونٹ پر شئیر کیا گیا ہے، شہری نے خط میں لکھا ہے کہ ’ڈیئر لائبریرین، یہ کتاب 50 برس تک واپس نہیں کی گئی مہربانی فرما کر اسے ردی کی ٹوکری میں نہ پھینک دینا، کیونکہ اب یہ نوادرات میں شامل ہو چکی ہے۔لائبریری کے مطابق ’10 پینس فی دن کے حساب سے اس کتاب پر ایک ہزار 254 برطانوی پاؤنڈز جرمانہ بنتا ہے۔
بھارت میں دو سر اور تین ہاتھوں والے بچے کی پیدائش
برطانوی اخبار کے مطابق یہ کتاب ایک ڈرامے ’کیورولس‘ کا 1875 کا ایڈیشن ہے جسے 1974 کے موسم گرما میں یونیورسٹی کالج لندن لائبریری کو واپس کیا جانا تھا۔
لائبریرین سوزین ٹراؤ نے گھر سے 18 ماہ کام کرنے کے بعد لائبریری واپس آنے پر یہ کتاب دریافت کی، جسے گمنام طور پر واپس پوسٹ کیا گیا تھا انہوں نے بتایا کہ انہیں اپنی میز پر بہت سی کتابیں ملی ہیں جن میں کوئی نوٹ نہیں ہے کہ یہ بتانے کے لیے کہ وہ کون ہیں یا انہیں کیوں بھیجی گئی ہیں۔
یہ کتاب پانچویں صدی کی ایک مزاحیہ کہانی پر مشتمل ہے اور اس میں ایک جادوگر کی کہانی ہے جو اپنی وراثت کے ایک غریب آدمی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے لائبریری میں اس کے اور بھی کئی ایڈیشن موجود تھے، لیکن واپس کی گئی کتاب اصل 1875 کے ایڈیشن کی ہارڈ کاپی تھی۔
یونانی اور لاطینی شعبے کے سربراہ پروفیسر گیسین مانوالڈ نے کہا: "”یہ حیرت انگیز ہے کہ UCL لائبریری کے ایک سابق صارف کی طرف سے اتنی وفاداری دیکھ کر کہ انہوں نے تقریباً 50 سال بعد ایک کتاب واپس لوٹائی-

اور تبدیلی الٹی پڑ گئی، سلیم صافی کی کتاب کی بھر پور پذیرائی
اور تبدیلی الٹی پڑ گئی، سلیم صافی کی کتاب کی بھر پور پذیرائی
باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سینئر صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی کی نئی کتاب کی بھرپور پذیرائی ہو رہی ہے ، سلیم صافی کی نئی کتاب کا ٹائٹل اور تبدیلی الٹی پڑ گئی ہے،سلیم صافی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اپنی کتاب کے بارے میں بتایا کہ الحمدللہ میری کتاب "اور تبدیلی الٹی پڑگئی” کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے ۔زندگی رہی تو اگلی کتاب کا ٹائٹل ہوگا۔۔”اور تبدیلی الٹا دی گئی” ۔۔ گندی تبدیلی نے اتنا گند پھیلا دیا ہے کہ اب سب کو احساس ہونے لگا ہے گندی تبدیلی اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
الحمدللہ میری کتاب "اور تبدیلی الٹی پڑگئی" کو بھرپور پذیرائی مل رہی ہے ۔زندگی رہی تو اگلی کتاب کا ٹائٹل ہوگا۔۔"اور تبدیلی الٹا دی گئی" ۔۔ گندی تبدیلی نے اتنا گند پھیلا دیا ہے کہ اب سب کو احساس ہونے لگا ہے گندی تبدیلی اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ pic.twitter.com/7pQfzxgydb
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) March 14, 2022
تبدیلی کے تین سال کے جائزے پرمشتمل نئی کتاب”اورتبدیلی الٹی پڑگئی”مارکیٹ میں گزشتہ برس اکتوبر میں آئی تھی، سلیم صافی کا کہنا تھا کہ واضح رہے کہ حالات حاظرہ سےاس کی موافقت اتفاقی ہے ۔پبلشرگواہ ہے کہ میں نےمسودے کواس ٹائٹل ک ےساتھ ۲ماہ قبل اشاعت کے لئے حوالے کیا تھا۔
سلیم صافی نے اپنی یہ کتاب تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کو بھی دی تھی اور ٹویٹ کرتے ہوئے کہا تھا کہ لندن روانگی سے قبل جہانگیرترین سےملاقات ہوئی۔انہیں اپنی نئی کتاب”اورتبدیلی الٹی پڑگئی” پیش کی۔جب انہیں سونامی سرکارسے متعلق اپنی پہلی کتاب”اور تبدیلی لائی گئی”پیش کی تھی توتب نہایت ناگواری کے ساتھ وصول کیا تھا لیکن اب کے بارٹائٹل کی تعریف کے ساتھ خوشی خوشی وصول کی ۔گویا تبدیلی آگئی ہے۔
سلیم صافی نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی جنہیں میں شہد کی دلدل کہتا ہوں، سے تفصیلی گپ شپ ہوئی باقی "باپ” پارٹی کے برعکس وہ ڈٹ کےعمران خان کےساتھ کھڑے ہیں لیکن محسوس ہوتاہےکہ اب کے بارشہد کی دلدل بھی عمران خان کودلدل سے نہیں نکال سکتے کیونکہ ایمپائر نیوٹرل ہوگیا ہے جبکہ اسد قیصر، صادق سنجرانی نہیں۔
چیرمین سینیٹ صادق سنجرانی جنہیں میں شہد کی دلدل کہتا ہوں، سے تفصیلی گپ شپ ہوئی باقی "باپ" پارٹی کےبرعکس وہ ڈٹ کےعمران خان کےساتھ کھڑےہیں لیکن محسوس ہوتاہےکہ اب کےبارشہد کی دلدل بھی عمران خان کودلدل سےنہیں نکال سکتےکیونکہ ایمپائر نیوٹرل ہوگیا ہےجبکہ اسد قیصر، صادق سنجرانی نہیں۔ pic.twitter.com/DkIayatbMj
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) March 14, 2022
ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ سونامی سرکار کے خلاف عدم اعتماد کے عمل کے اہم کردار ، باکمال سیاستدان اور مستقبل کے (شاید) سپیکر سید خورشید شاہ کے ساتھ عشائیہ پر گپ شپ۔۔ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ عمران خان کا مزید اقتدار میں رہنا اس قدر ناممکن ہے جس قدر عمران خان صاحب کا شائستہ گفتگو کرنا ناممکن ہے۔
سونامی سرکار کے خلاف عدم اعتماد کے عمل کے اہم کردار ، باکمال سیاستدان اور مستقبل کے (شاید) سپیکر سید خورشید شاہ کے ساتھ عشائیہ پر گپ شپ۔۔ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ عمران خان کا مزید اقتدار میں رہنا اس قدر ناممکن ہے جس قدر عمران خان صاحب کا شائستہ گفتگو کرنا ناممکن ہے۔ pic.twitter.com/mArODxI9bu
— Saleem Safi (@SaleemKhanSafi) March 13, 2022
ایک اور ٹویٹ میں سلیم صافی کا کہنا تھا کہ آج میاں شہباز شریف سے ایک گھنٹے بالمشافہ ملاقات میں اور مولانا فضل الرحمان سے بذریعہ فون گپ شپ ہوئی۔ اندازہ ہوا کہ نہ صرف اپوزیشن کا معاملہ صحیح ٹریک پر چل رہا ہے بلکہ اگلے 48 گھنٹوں میں عمران خان کو ایسا سرپرائز ملنے والا ہے کہ جس کے بعد شاید ووٹنگ کی ضرورت ہی نہ پڑے۔

جن لوگوں کو میری کتاب سے تکلیف ہے وہ مزید برداشت کیلیے تیار رہیں ۔ریحام خان
لاہور:جن لوگوں کو میری کتاب سے تکلیف ہے وہ مزید برداشت کیلیے تیار رہیں ۔ریحام خان اپنی اصلیت سے باز نہ آئیں اور ایک اور دھمکی دے کر معاملات میں پھر گرمی پیدا کردی ہے ، اطلاعات کے مطابق ریحام خان نے اپنے سابق خاوند وزیراعظم پاکستان اور ان کے ساتھیوں کے خلاف سازشوں کا بازار ایک بار پھر گرم کردیا ہے
اس حوالے سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر دھمکی دیتے ہوئے ریحام خان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں کو میری کتاب سے تکلیف ہے وہ مزید برداشت کیلیے تیار رہیں ۔ریحام خان نے یہ دھمکی اس ڈویلوپمنٹ کے بعد دی ہے جس میں ایک پروگرام میں محسن بیک اور ان کے دیگر ساتھیوں نے وزیراعظم کی طرف سے بہترین کارکردگی کا ایوارڈ مراد سعید کو دینے پر کردار کشی کی تھی
https://twitter.com/TeamLucmanML/status/1494032407955189772?t=Rfjlz-JPrGksmCZQOS5QMw&s=19
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وہ کہتی ہیں کہ جن لوگوں کو میری کتاب سے بہت تکلیف ہوتی ہے وہ مزید تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ آپ جتنے مرضی اوچھے ہتھکنڈے استعمال کر لیں آپ سچ کو کبھی نہیں دبا سکتے
ادھر اس کردار کُشی کے خلاف سخت ردعمل کے نتیجے میں جب ایف ائی اے نے مراد سعید کی درخواست پر محسن بیگ کے خلاف کارروائی کی تو اس دوران ہونے والی بدمزگی پر ریحام خان بھی غصے میں اگئیں اور کہا کہ وہ بہت جلد بہت کچھ سامنے لانے والی ہیں
انتخابات 2018 ء پس منظر سے پیش منظر ۔۔۔ خنیس الرحمان
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں الرباط ویب سائٹ چلایا کرتا تھا. ندیم اعوان بھائی معروف ٹورسٹ ہیں ان کے توسط سے فاروق اعظم بھائی نے مجھ سے رابطہ کیا کہ میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے گیا تھا وہاں کی یادوں کو میں نے قلمبند کیا ہے تو آپ اس سفر نامے کو اپنی ویب سائٹ پر لگادیں میں نے بخوشی لگانے کی حامی بھر لی اور وقفے وقفے کے ساتھ 7 قسطوں پر مشتمل ان کا سفر نامہ حرمین ویب سائٹ پر لگا دیا. فاروق بھائی کا لکھنے کا انداز اور ضبط تحریر انتہائی شاندار تھا. گزشتہ چند ہفتے قبل انہوں نے فیس بک پر ایک کتاب کی تصویر لگائی انتخابات 2018ء پس منظر سے پیش منظر تک جب میں نے نیچے مصنف کا نام دیکھا تو وہ فاروق بھائی ہی کی تصنیف تھی. میں نے فوری فاروق بھائی سے ایک کتاب بھیجنے کا کہا, تقریباََ تین دن بعد کتاب خوبصورت سرورق میں میرے ہاتھوں میں تھی اور کتاب پہنچنے کی ان کو اطلاع دی ساتھ ہی شکریہ بھی ادا کیا. کتاب تو میں نے ایک ہی دن میں پڑھ ڈالی.کتاب کے حوالے سے بات کرنے سے قبل میں فاروق بھائی کے حوالے سے بتاتا چلوں.فاروق اعظم بھائی کا تعلق کراچی سے ہے اور سیاسیات کے طالب علم ہیں, انہوں نے 2014ء میں جامعہ کراچی سے سیاسیات میں بی اے آنر کیا اور 2015 ء میں ایم اے سیاسیات مکمل کیا.اس کے ساتھ ساتھ صحافت کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا ممنواتے رہے. فاروق اعظم بھائی آج کل جامعہ کراچی میں شعبہ سیاسیات میں بطور تحقیق کار وابستہ ہیں.
اب چلتے ہیں فاروق بھائی کی تصنیف کی طرف انہوں نے اس کتاب کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے .کتاب کا مقدمہ پاکستان کی سیاسی تاریخ پر مشتمل ہے یعنی انہوں نے مختصر مگر جامع انداز میں پاکستان کے 1947 ء سے 2013 ء تک کے انتخابات کے حوالے سے لکھا. انہوں نے کتاب کا پہلا حصہ انتخابات کا پس منظر کے عنوان سے ترتیب دیا ہے اس میں انہوں نے سب سے پہلے انتخابات کا پس منظر کہ کون کون سی جماعت مد مقابل تھی, کونسی نئی جماعت اور چہروں نے انتخابات میں حصہ لیا, جو مذہبی جماعتیں الیکشن کو درست نہیں سمجھتی تھیں ان کا انتخابات میں حصہ لینا اور نمائندگان کو درپیش مسائل اور جو نااہل ہوئے کس بنیاد پر ہوئے ان وجوہات پر روشنی ڈالی اس کے علاوہ جو انتخابات کے دوران خونریزی دھماکے ہوئے اور کون کون سے سیاستدان شکار ہوئے اس حوالے سے اپنا تجزیہ پیش کیا .جو کتاب کا دوسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے نتائج کے حوالے سے لکھا کہ 2018ء کے انتخابات کے نتائج میں کن جماعتوں نے اپنی بہتر کارگردگی دکھائی, کون کون سے بڑے برج الٹے اور کون سے نئے چہرے سامنے آئے, انہوں نے ہر صوبے کے حوالے سے الگ الگ نتائج اور کارگردگی کو سامنے رکھ کر زبردست رپورٹ مرتب کی, اس میں انہوں نے ووٹوں کی تعداد اور جماعتوں کے ووٹ بنک کا خاکہ الیکشن کمیشن اور دیگر ذرائع کی رپورٹ کے مطابق ترتیب دیا. جو کتاب کا تیسرا حصہ ہے اس میں انہوں نے حکومت سازی کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح سے کلین سویپ کرنے والی جماعت نے وفاق میں اپنی حکومت قائم کی اور دیگر صوبوں میں کس طرح کن جماعتوں نے اپنی حکومت قائم کی, وزیر اعظم, وزرائے اعلی کے انتخابات کے حوالے سے بتایا اس کے علاوہ ممبران کابینہ وفاق اور صوبائی اسمبلیوں کے نام بمع وزارت لکھے . اس میں ایک بات واضح کرتا چلوں کہ فاروق بھائی نے کتاب پہلے ترتیب دی اس لیے 9 ماہ کے اندر حکومت نے وفاق اور صوبائی اسمبلیوں میں کئی چہروں کو ان کی غیر مناسب کارگردگی کی بنیاد پر ہٹا کر نئے چہرے سامنے لائے کچھ کی وزارت تبدیل کی گئی, اس کے بعد اس حصہ کہ آخر میں انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کے خطاب پر روشنی ڈالی. اب کتاب کا جو چوتھا حصہ ہے اس میں انہوں نے صدارتی انتخابات کے حوالے سے بتایا کہ کس طرح کن جماعتوں نے کس لیڈر کو چنا اور اپوزیشن کا صدر کے انتخاب کے لئے نمائندہ منتخب کرنے میں اختلاف کے حوالے سے بتایا اور صدارتی انتخابات کے نتائج پر نظر ڈالی اس کے بعد صدر عارف علوی کے خطاب پر روشنی ڈالی اور انہوں نے صدر صاحب کے خطاب سے متعلق کہا کہ اگر اس کا موازنہ وزیراعظم کے خطاب سے کیا جائےتو غلط نہ ہوگا. اس کے علاوہ صدارتی اختیارات کے حوالے سے انہوں نے پرانے صدور اور حال پر نظر ڈالی. جو کتاب کا آخری حصہ ہے اس میں انہوں نے ضمنی انتخابات کو سامنے رکھا.
اس کتاب سے متعلق میں نے کچھ ساتھیوں سے تذکرہ کیا تو وہ کہنے لگے انٹر نیٹ کے دور میں اس کتاب کی ضرورت نہیں تھی میں سمجھتا ہوں جو کچھ فاروق بھائی نے لکھا وہ آسانی سے کسی بھی ویب سائٹ سے نہیں مل سکتا کیونکہ انہوں نے خود انتخابات کے دوران کوریج میں حصہ لیا اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور سارا احوال لکھا جو کہ ایک سیاسیات کے طالب علم کا بہت بڑا کارنامہ ہے. میں حکومت اور تعلیمی اداروں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اس کتاب کو تاریخ پاکستان کے حوالے سے نصاب میں شامل کیا جائے اور تمام لائبریرین اس کو اپنی لائبریری کی زینت بنائیں کیونکہ نا اس میں کسی کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا نا کوئی انکشافات کیے گئے بلکہ انہوں نے تاریخ پاکستان کی ایک ضرورت کو مکمل کیا۔









