Baaghi TV

Tag: کراچی انٹر بورڈ

  • کراچی انٹر بورڈ کا اسکروٹنی فیس میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

    کراچی انٹر بورڈ کا اسکروٹنی فیس میں 50 فیصد رعایت کا اعلان

    کراچی انٹر بورڈ نے رزلٹ کی اسکروٹنی کرانے والے طلبا کو فیس میں 50 فیصد رعایت دینے کا اعلان کردیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیئرمین سید شرف علی شاہ کی ہدایت پر طلبہ کی سہولت اور ان پر مالی بوجھ کم کرنے کیلئے انٹرمیڈیٹ حصہ اول کے سالانہ امتحانات برائے 2024 کے نتائج سے غیرمطمئن طلبہ کیلئے پرچوں کی اسکروٹنی فیس پچاس فیصد کم کردی گئی ہے۔طلبہ اس سے پہلے اسکروٹنی کیلئے فی پرچہ ایک ہزار روپے فیس جمع کرواتے تھے جسے کم کر کے 500 روپے کردیا گیا ہے، پچاس فیصد کم فیس کا اطلاق صرف انٹرمیڈیٹ حصہ اول کے سالانہ امتحانات برائے 2024 سائنس پری میڈیکل، پری انجینئرنگ، سائنس جنرل، ہوم اکنامکس، کامرس پرائیویٹ اور آرٹس پرائیویٹ گروپس پرچوں کی اسکروٹنی پر ہوگا۔اسکروٹنی فارم بروز پیر 3 فروری 2025 تک وصول کیے جائیں گے۔طلبا اسکروٹنی فارم اور فیس واچر انٹربورڈ کی ویب سائٹ www.biek.edu.pk سے ڈان لوڈ کرسکتے ہیں۔چیئرمین انٹربورڈ کراچی سید شرف علی شاہ کی ہدایت پر طلبہ کی آسانی کیلئے انٹربورڈ میں واقع سہولت مرکز پر خصوصی کانٹر قائم کردیئے گئے ہیں جہاں طلبہ اپنے اسکروٹنی فارم اور فیس جمع کروائیں گے۔انٹربورڈ نے طلبا کی مشکلات کے پیش نظر کراچی میں UBL کی تمام برانچوں میں فیس جمع کروانے کی سہولت بھی متعارف کروائی ہے۔طلبا اسکروٹنی فارم اور فیس واچر انٹربورڈ کی ویب سائٹ www.biek.edu.pk سے ڈان لوڈ کر کے UBL کی کسی بھی برانچ میں اکانٹ نمبر UBL-CMA-252536591 میں فی پرچہ 500 روپے فیس جمع کرواسکتے ہیں۔جبکہ جمع کرائی گئی فیس کا واچر اور اپنا فارم بروز پیر3 فروری سے قبل سہولت مرکز میں قائم خصوصی کانٹرز پر جمع کروانا ہوگا۔

    کرم امن معاہدے کے خلاف نفرت انگیز تقاریر پر 3 افراد کیخلاف مقدمہ درج

    پاکستان جنوبی افریقہ کے ہاتھوں وائٹ واش

    وزیراعلیٰ سندھ اور وفاقی وزیر رانا تنویر کی نیو سندھ سیکریٹریٹ میں ملاقات

  • سید ذوالفقارعلی شاہ کی بطور چیئرمین انٹربورڈ کراچی تعیناتی غیرقانونی قرار

    سید ذوالفقارعلی شاہ کی بطور چیئرمین انٹربورڈ کراچی تعیناتی غیرقانونی قرار

    سندھ ہائیکورٹ نے چیئرمین اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی کو غیر قانونی قرار دیدیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ سندھ حکومت اور متعلقہ اتھارٹی کے پاس کوئی مینڈیٹ نہیں تھا، جس کے تحت مدعا علیہ کو سروسز ڈپارٹمنٹ کی ریکوزیشن کے تحت اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی میں تعینات کیا گیا۔عدالت عالیہ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی بذریعہ ڈیپوٹیشن غیر قانونی ہے۔ عدالت عالیہ نے چیئرمین اعلی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی و میر پور خاص سید ذوالفقار علی شاہ کی تعیناتی غیر قانونی قرار دیتے ہوئے سروسز ڈپارٹمنٹ کے ریکوزیشن آرڈر کو کالعدم قرار دے دیا۔عدالت عالیہ نے سید ذوالفقار علی شاہ کو ان کے اصل محکمے میں واپس بھیجنے کا حکم دیا ہے۔

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس کی انکوائری رپورٹ منظر عام پر آگئی

    ہائیکورٹ نے تحریری فیصلے میں کہا ہے کہ کنٹرولنگ اتھارٹی کے پاس قانون کے تحت سرچ کمیٹی کی سفارشات جو مسابقتی طریقہ کار کے تحت کی گئی ہو چیئرمین، سیکریٹری اور کنٹرولر کو تعینات کرنے کا اختیار ہے، جبکہ 1972 کے آرڈیننس میں یہ نہیں کہا گیا کہ کنٹرولنگ اتھارٹی کے پاس وفاقی حکومت کے افسر کو براہ راست ریکوزیشن کے تحت تبادلہ کروا سکے۔واضح رہے کہ ذوالفقار علی شاہ بیک وقت چیئرمین انٹربورڈ کراچی اور میرپور خاص میں تعینات تھے۔