Baaghi TV

Tag: کراچی بارش

  • ایک مہینہ پہلے نالے کیوں صاف نہیں کیے گئے؟ وسیم اختر

    ایک مہینہ پہلے نالے کیوں صاف نہیں کیے گئے؟ وسیم اختر

    ایم کیو ایم کے رہنما، سابق میئر کراچی سید وسیم اختر نے کہا ہے کہ 15 سال سے سندھ حکومت سارے وسائل پر قابض ہے،

    سید وسیم اختر کا کہنا تھا کہ ایک مہینہ پہلے نالے کیوں صاف نہیں کیے پی ڈی ایم اے کہاں تھا،سارا نظام ڈی سیز کے دفتر چلا رہے تھے ایڈمنسٹریٹر کراچی نے اپنی نااہلی کا اعتراف کیا، کراچی کے ساتھ کیوں کھلواڑ کیا جارہا ہے، ہمارے دور میں بھی بارش ہوئی لیکن کبھی انڈر پاسز بند نہیں ہوئے آپ نے سارے وسائل فنڈز سمیت اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں، سندھ حکومت مکمل طو رپر ناکام ہو گئی ہے،اگر نچلی سطح پر اختیارات دیتے تو یہاں کے مسائل حل ہو رہے ہوتے،کراچی کا مینڈیٹ ایم کیو ایم کے پاس ہے،حکومت ایک ماہ قبل پلاننگ کرتے تو کراچی کا یہ حال نہ ہوتا، یہ سارا پیسہ کہاں جاتا ہے کہیں دکھائی نہیں دے رہا،کراچی کےلوگ سوال کر رہےہیں ٹیکس کہاں جاتاہے،

    عمران ریاض کو واقعی خطرہ ہے ؟ عارف علوی شہباز شریف پر بم گرانے والے ہیں

    الیکشن کیلیے تیار،تحریک انصاف کا مستقبل تاریک،حافظ سعد رضوی کا مبشر لقمان کوتہلکہ خیز انٹرویو

    سید وسیم اختر کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت نے یہ پیسہ پی ایف سی کے ذریعے نچلی سطح تک منتقل نہیں کیا وفاق سے این ایف سی کی مد میں صوبے کو 1200 ارب روپے ملتے ہیں کراچی کا ٹیکس کراچی پر ہی لگنا چاہیے، 2سال سے ایڈمنسٹریٹر کے پاس تمام نظام موجود ہے جعلی ڈومسائل پر لوگوں کو نوکریاں دیں گے تو ایسا ہی ہوگا، افسران عید منانے کے لیے اندرون سندھ چلے گئے،کیا حکومت کو معلوم نہیں تھا کہ عید پر آلائشیں پڑی ہوں گے،

  • عمران خان صاحب ،آپ کے لوگوں نے بھی کراچی کیلئے کچھ نہیں کیا،حافظ نعیم

    عمران خان صاحب ،آپ کے لوگوں نے بھی کراچی کیلئے کچھ نہیں کیا،حافظ نعیم

    عمران خان صاحب ،آپ کے لوگوں نے بھی کراچی کیلئے کچھ نہیں کیا،حافظ نعیم

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق جماعت اسلامی کراچی کے امیر حافظ نعیم نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کے پاس سب سے زیادہ طاقت ہے لیکن کراچی ڈوب رہا ہے

    حافظ نعیم کا کہنا تھا کہ جہاں جہاں سے لوگوں کو نکالا ہے ان کیلئے رہائش کا منصوبہ ہی نہیں بنایا،سیاسی اور علاقائی بنیادوں پر بھرتیاں کی گئیں ہیں اعداد و شمار چیک کریں کہ کے ایم سی اور دیگر اداروں میں کتنے لوگ موجود ہیں،ایم کیو ایم کی پوری کوشش ہے کہ ان کا گورنر لگ جائے،ایم کیو ایم وزارتوں کے پیچھے لگی ہوئی ہے،مرتضیٰ وہاب کو کراچی سے متعلق معلومات ہی نہیں ہیں،وزیر اعلیٰ کہتے ہیں کہ بارش کے دوران ریلیف کا کام نہیں کرسکتے،جہاں پانی خشک ہو جاتا ہے وہاں مرتضیٰ وہاب پہنچ جاتے ہیں

    حافظ نعیم کا مزید کہنا تھا کہ عمران خان صاحب ،آپ کے لوگوں نے بھی کراچی کیلئے کچھ نہیں کیا،وزیر اعلی ٰبتائیں بارش اور گھر میں پانی داخل ہو تو کیا آپ بارش رکنے کا انتظار کریں گے،پی ٹی آئی کے کراچی کے رہنما اپنے ایونٹ کرکے اپنی قیادت سے جھوٹ بولتے ہیں خان صاحب ، بتائیں کوٹہ سسٹم میں غیر معینہ مدت تک اضافہ، اس کی کیا تک بنتی تھی،کے فور میں جو ماضی میں 18 ارب روپے رکھے گئے وہ استعمال نہیں ہوئے،آپ کراچی والوں کے ساتھ کیا کرنا چاہتے ہیں خان صاحب نے کے سی آر کا اعلان کیا،کے سی آر کون بنائے گا کس کمپنی کے ساتھ بات ہوئی ہے کچھ نہیں معلوم،کسی بھی حکومت نے کچھ بھی نہیں کیا ،کراچی کو بچانا ہے تو 24 جولائی کو ترازو پر مہر لگائیں،

    امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمان نے دیئے امبر دانش کے تلخ سوالات کے جواب

    سیاسی ایڈمنسٹریٹر نے کراچی کو ڈبو دیا،جماعت اسلامی

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

  • سیاسی ایڈمنسٹریٹر نے کراچی کو ڈبو دیا،جماعت اسلامی

    سیاسی ایڈمنسٹریٹر نے کراچی کو ڈبو دیا،جماعت اسلامی

    سیاسی ایڈمنسٹریٹر نے کراچی کو ڈبو دیا،جماعت اسلامی
    جماعت اسلامی کراچی کے رہنما حافظ نعیم کا کہنا ہے کہ کراچی ٹرانسفورمیشن پلان کہاں گیا؟دو سال کی پرفامنس صفر ہے،ایم پی اے 50کروڑ کی سیاسی رشوت لے رہے ہیں، ایم کیو ایم اس وقت کہاں کھڑی ہے ؟روڈ کارپیٹنگ کا کام بارش کے دنوں میں شروع کیا گیا،الیکشن کے اعلان کے بعد کام شروع کیا گیا،سیاسی ایڈمنسٹریٹر نے کراچی کو ڈبو دیا،نالوں کی صفائی نہیں کی گئی،کراچی میں پانی کی بدترین صورتحال ہے، پچھلے سال بجٹ میں ایک ارب 20 کروڑ روپے رکھے گئے، سندھ حکومت نے تمام اداروں پر قبضہ کر رکھا ہے، ہر محکمے میں کرپشن کی داستانیں پڑی ہیں،2020 میں زیادہ بارشیں ہوئی تھیں

    دوسری جانب کراچی میں آج بھی بارش کا امکان ہے محکمہ موسمیات کے مطابق ہوا کا کم دباؤ اس وقت بھارتی علاقے کچھ پر ہے جسکی وجہ سے مون سون ہواؤں میں شدت آئی ہے۔ آج دوپہر 2 بجے کے بعد شہر میں گرج چمک کے ساتھ تیز موسلادھار اسپیل ہوسکتا ہے۔ بارش کا سلسلہ وقفے وقفے سے کل تک جاری رہے گا،

    قبل ازیں موسلادھار بارشوں نے شہر قائد کا حلیہ بگاڑ دیا، کراچی کے مختلف علاقوں میں بارش کا پانی ابھی تک موجود ہے۔ لٹھ ندی میں 3 افراد بہہ گئے، ملیرندی میں پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جبکہ ریسکیوٹیموں نے ندی میں پھنسے چار افراد کو بچا لیا۔

    بارش سے یوسف گوٹھ جانے والی سڑک متاثر ہوئی ہے شہریوں کو گاڑیاں گزارنے میں دشواری کا سامنا ہے ناگن چورنگی اور فائیو اسٹار چورنگی پر کھڑا پانی کلیئر کروا دیا گیا،بفرزون میں بارش کا پانی اب بھی موجود ہے کراچی کے کئی علاقوں میں دھوپ اور حبس کی کیفیت برقرار ہے شارع فیصل سے متصل نرسری فرنیچر مارکیٹ بھی برساتی پانی سے متاثر ہے

    گزشتہ روز دوپہر 3 بجے سے اب تک ہونے والی بارش کے اعداد و شمار جاری کر دیئے گئے، سب سے زیادہ بارش سرجانی ٹاؤن میں 68.2ملی میٹر ریکارڈ، گلشن حدید 60 ملی میٹر،نارتھ کراچی 52.4ملی میٹربارش ریکارڈ، قائد آباد میں 48.5 ملی میٹربارش ریکارڈ، فیصل بیس 42ملی میٹر،اورنگی ٹاؤن میں 25.7 ملی میٹرریکارڈ ہوئی، سعدی ٹاون میں 23.5ملی میٹر بارش ریکارڈ، گڈاپ 20.6 ملی میٹر،ناظم آباد میں 19.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ، پی اے ایف مسرور بیس میں 15.8ملی میٹربارش ریکارڈ ، ،ائیرپورٹ 14،یونیورسٹی روڈ میں12.4 ملی میٹربارش ریکارڈ کی گئی

    بلوچستان میں بارشوں سے زمینی رابطے منقطع،بچہ ڈوب کا جاں بحق،9 اضلاع میں ایمرجنسی نافذ

    حکومت بارش سے متاثرہ افراد کو معاوضہ دینے کا اعلان کرے،سربراہ پاکستان سنی تحریک

    بارش کے بعد کی صورتحال ، میئر کراچی نے گورنر سندھ سے ملاقات میں وفاق سے مدد مانگ لی

    اکثر ارکان اسمبلی ڈیفنس اور کلفٹن کے رہائشی ہیں انہیں پتا ہی نہیں کہ کراچی کے عوام کے مسائل کیا ہیں،حافظ نعیم الرحمان

    شہر قائد میں بارش نے شہریوں کی زندگی اجیرن بنا دی، نکاسی آب کا انتظام نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے,کراچی ملیر ناد علی لیاقت اسکوائر جناح اسکوائر۔لیاقت مارکیٹ اردو نگر اور سعوداباد کھوکھراپار جانے والے روڈ پانی سے بھر گئے مختلف علاقوں میں موسلا دھار بارش کے بعد روڈوں پر پانی جمع ہو گیا،

    موسلا دھار بارش کے بعد فیڈرل بی ایریا میں بھی تباہی ہوئی ہے،گجر نالہ بپھر جانے سے رحمان آباد واطراف کی آبادی میں پانی داخل ہو چکا ہے،ایف بی ایریا بلاک 5 گلیوں اور مکانات میں کئی کئی فٹ پانی داخل ہو چکا ہے،گجر نالے کا پانی مسجد میں بھی داخل ، علاقہ مکینوں کو مشکلات کا سامنا ہے،

    بارش کے بعدکنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن نے ایمرجنسی نافذ کی ہے ترجمان کے مطابق عملہ اوربھاری مشینری علاقوں میں موجو دہے،کنٹونمنٹ بورڈ کلفٹن کا علا قہ سمندر کے قریب ہے،پانی کی نکاسی ممکن نہیں،علاقہ مکینوں سے احتیاط اور گھر میں رہنے کی درخواست ہے،کسی بھی صورت حال سے نمٹنے کے لیے تیاریاں مکمل ہیں،