Baaghi TV

Tag: کراچی شہر

  • کراچی میں پہلی اے آئی روبوٹ ٹیچر نے پڑھانا شروع کردیا

    کراچی میں پہلی اے آئی روبوٹ ٹیچر نے پڑھانا شروع کردیا

    کراچی کے نجی اسکول نے پہلی بار مصنوعی ذہانت سے لیس ٹیچر متعارف کرادی جو نہ صرف بچوں کے سوالوں کے بروقت جواب دیتی ہے بلکہ انہیں جدید ٹیکنالوجی سے بھی روشناس کروا رہی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں قائم ہیپی پیلس اسکول اصفہانی کیمپس نے پہلی اے آئی روبوٹک ٹیچر متعارف کروادی ہے، جن کی پہلی نومبر کو باقاعدہ تقرری کی گئی۔مصنوعی ذہانت سے لیس اس روبوٹک ٹیچر کا نام مس عینی رکھا گیا ہے۔اسکول میں اے آئی ٹیچر سے پڑھنے والے طلبا نے ایکسپریس نمائندہ سے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ جب بھی مس عینی سے سوال کرتے ہیں تو وہ بروقت ہمارے سوالوں کے جواب دیتی ہیں اور روبوٹک کلاسز میں پڑھنے کا مزہ ہی الگ ہے۔طلبا کا کہنا تھا کہ وہ اردو اور انگریزی کے علاوہ سندھی، فرنچ اور دیگر زبانوں میں بھی سوال کرتے ہیں۔اے آئی ٹیچر کو تخلیق کرنے والے انجینئر حسان صدیقی نے بتایا کہ انھیں اس روبوٹک ٹیچر کو بنانے میں ساتھ مہینے لگے ہیں۔ اس روبوٹ کو مکمل طور پر خود تیار کیا گیا ہے، اور اس کی چھوٹی وائرنگ سے لے کر فائبر گلاس، پلاسٹک سمیت مصنوعی بال تک کراچی کے عام بازار سے خرید کر بنایا گیا ہے۔ہیپی پیلیس اسکول کے سربراہ محمد آصف خان نے کہا کہ روبوٹ ٹیکنالوجی دنیا میں عام ہے، ہم نے طلبا کو ٹیکنالوجی سے آراستہ کرنے کیلیے اے آئی ٹیچر متعارف کروائی ہے تاکہ مختلف مضامین میں ملنے والے ٹاسک میں مس عینی مدد کرسکیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس روبوٹ کے مزید فیچرز کو بعد میں اپ گریڈ کیا جائے گا تاکہ طلبا زیادہ سے زیادہ مستفید ہوسکیں۔اس موقع پر اسکول پرنسپل مسز صدیقی نے دعوی کیا کہ اے آئی ٹیچر پاکستان میں پہلی بار متعارف کروائی گئی ہے اور ایک لاکھ کی تنخواہ پر ان کو باقاعدہ تقرری نامہ فراہم کیا گیا ہے۔ یہ اے آئی ٹیچر بیس سے زائد زبانوں میں جواب دینے کی اہلیت رکھتی ہے۔
    مس عینی کی خوراک صرف وائی فائی ہے اور وہ اس پر ہی انحصار کرتی ہیں۔اسکول کی وائس پرنسپل صدف بھٹی نے کہا کہ روبوٹک مس عینی کل وقتی ٹیچر ہیں جنھیں کسی بھی موسم یا تہوار پر چھٹی نہیں ملے گی۔ مس عینی اس وقت سات مضامین پڑھا رہی ہیں اور یہ روبوٹ بنانے میں تقریبا تین لاکھ سے زائد خرچہ آیا ہے۔ وائس پرنسپل کا یہ بھی کہنا تھا کہ اے آئی ٹیچر کسی بھی استاد کا متبادل نہیں ہوسکتی تاہم یہ معاون کے طور پر ایسے تمام سوالات کے جواب دیتی ہے جو طالب علموں کی جانب سے پوچھے جاتے ہیں۔روبوٹ میں وقت کے ساتھ مزید جدت لائی جائے گی اور موشن ڈیٹیکٹر اور سینسرز لگائے جائیں گے، جس کے بعد اے آئی ٹیچر آنکھیں جھپکانے اور اشارے کرنے کے ساتھ اپنی حرکت سے ہر طالب علم کو موثر رسپانس دے سکے گی۔واضح رہے کہ اے آئی ٹیچر کے پہلے پائلٹ پروجیکٹ پر مارچ میں کام شروع کیا گیا تھا اور اسے اگست میں فائنل شکل دی گئی تھی۔ نومبر کے مہینے میں اے آئی کلاسز کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

  • پاک بحریہ کی کورین نیوی کے ساتھ دوطرفہ مشق

    پاک بحریہ کی کورین نیوی کے ساتھ دوطرفہ مشق

    پاک بحریہ کے جہاز ذوالفقار نے بحیرہ عرب میں کورین نیوی کے جہاز وینگ جیون(WANG GEON) کے ساتھ مشترکہ مشق کی۔

    باغی ٹی وی کے مطابق دونوں جہاز کمبائنڈ میری ٹائم فورسز (CMF) کے تحت بالترتیب کمبائنڈ ٹاسک فورس 150 اور 151 کے تحت آپریٹ کر رہے تھے۔مشق میں آپریشنل حکمت عملی اور مواصلاتی مشقیں شامل تھیں جن کا مقصد مشترکہ آپریشنز کی صلاحیت کو بڑھانا اور دونوں بحری افواج کے درمیان پیشہ ورانہ روابط کو فروغ دینا تھا۔کمبائند ٹاسک فورس 150 اور 151 غیر قانونی سمندری سرگرمیوں، منشیات کی اسمگلنگ اور بحری قزاقی کو روکنے کیلئے میری ٹائم سیکیورٹی آپریشنز کرتی ہیں۔ یہ غیر قانونی سرگرمیاں بین الاقوامی پانیوں میں بحری سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔پاک بحریہ کے جہاز ذوالفقار اور کورین نیوی کے جہاز وانگ جیون کے درمیان اس مشترکہ مشق کا کامیاب انعقاد بحری افواج کے ساتھ ساتھ ان کی متعلقہ ٹاسک فورسز کے میری ٹائم سیکیورٹی کو برقرار رکھنے اور سمندر میں قانونی سرگرمیوں کو محفوظ ماحول فراہم کرنے کے عزم کو واضح کرتا ہے جس سے اس اہم خطے میں استحکام اور تعاون کو فروغ ملے گا۔پاکستان اور جمہوریہ کوریا کمبائنڈ میری ٹائم فورسز کے بینر تلے میری ٹائم سیکیورٹی کے لیے مسلسل جنگی بحری جہازوں اور ہوائی جہازوں کی تعیناتی کے ذریعے اپنا اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ تعاون باہمی افہام و تفہیم اور آپریشنل ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے خاص طور پر قابل قدر ہے۔

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    بانی کی ہدایت نہ ماننے پر پی ٹی آئی کمیٹی کا اظہار تشویش

    پر تشدد احتجاج،عمران،بشریٰ،گنڈاپور و دیگر پر اسلام آباد میں 8 مقدمے درج

  • کسٹمز کی کارروائیاں، کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ اشیا برآمد

    کسٹمز کی کارروائیاں، کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ اشیا برآمد

    سندھ رینجرزاورکسٹمز حکام نے 2 مختلف کارروائیوں کے دوران کروڑوں روپے مالیت کی نان کسٹم پیڈ اشیا برآمد کرکے 9 ملزمان کوگرفتارکرلیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ملک میں اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے سندھ رینجرزاورکسٹمز حکام کی جانب سے آپریشنز کا سلسلہ جاری ہے۔اسی حوالے سے خفیہ معلومات کی بنیاد پرمنگھو پیرروڈمیانوالی کالونی میں ایک مشکوک کنٹینرسے تلاشی کے دوران 16800کلو گرام نان کسٹم پیڈ چھالیہ کی141کارٹن، 3135کلو گرام راجنی کے 420کارٹن اور 38کارٹن پیپسی چھالیہ برآمد کر لی گئی جس کی مالیت لاکھوں روپے ہے۔کارروائی کے دوران 2ملزمان عجب لحان اورگل بدین کو بھی گرفتار کیا گیا۔دوسری مشترکہ کارروائی پیر آباد تھانے کے علاقے پختون مارکیٹ بنارس آریانا بس اڈے پر کی گئی ، جہاں بھاری مقدار میں نان کسٹم پیڈاشیا جن میں خشک دودھ، سگریٹ،چائنا نمک، گاڑیوں کے بال بیئرنگ اور بال بیئرنگ برش شامل ہیں برآمد کر لی گئی۔برآمد اشیا کی مالیت کروڑوں روپے بتائی جاتی ہے۔کارروائی کے دوران 7 ملزمان کو بھی گرفتار کیا گیا، جنہیں بمعہ برآمد شدہ نان کسٹم اشیا مزید قانونی کارروائی کے لیے کسٹمز حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔

    کرم:سیز فائر میں توسیع، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تعیناتی کا فیصلہ

    بانی کی ہدایت نہ ماننے پر پی ٹی آئی کمیٹی کا اظہار تشویش

    بیلاروس کے صدر کا قربانیوں پرپاک فوج کو خراج تحسین

    اٹک میں پی ٹی آئی رہنماوں وکارکنان کےخلاف 7 مقدمات درج

  • ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    ہم مستقبل کیلیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، مراد علی شاہ

    وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ ان کی حکومت موسمیاتی اثرات اور آفات سے بچاؤ کیلیے اقدامات کے ذریعے زرعی معیشت کے فروغ کیلیے پرعزم ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق وزیراعلیٰ ہاؤس میں محکمہ زراعت اور پیپلزہاؤسنگ پروجیکٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیر داخلہ ضیا لنجار، معاون خصوصی وزیراعلیٰ جبار خان، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف، ایڈووکیٹ جنرل حسن اکبر، سیکریٹری مالیات فیاض جتوئی، سی ای او پیپلزہاوسنگ خالد شیخ، سیکریٹری قانون علی احمد بلوچ اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ 24 ارب روپے سے سکھر بیراج کے دروازوں اور اسٹرکچر کی بحالی آبی وسائل اور انفرا اسٹرکچر کی حفاظت کا اہم منصوبہ ہے۔منصوبہ 20 جون 2024 کو سکھر بیراج کے ایک دروازے کے گرنے پر شروع کیا گیا۔ اب کینالوں سمیت تاریخی بیراج کے تمام دروازے تبدیل کیے جائیں گے۔ وزیر آبپاشی جام خان شورو نے وزیراعلیٰ سندھ کو بریف کیا کہ منصوبہ 3 سال میں مکمل ہوگا۔ اس وقت بھی بڑے پیمانے پر کام جاری ہے۔ بحالی کے جامع منصوبے میں ایک بڑے کوفرڈیم کی تعمیر بھی شامل ہے۔ بیراج کی تعمیر کے بعد پہلی بار، فرش، گھاٹ اور بنیادی پرزوں کا معائنہ اور مرمت کی جائے گی.پہلے مرحلے میں بائیں کنارے کی دیوار سے شروع ہونے والے 16 دروازوں کو تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔پہلے مرحلے کی پیش رفت کے بارے میں بتایا گیا کہ کوفرڈیم کی تعمیر 16 ستمبر 2024 کو شروع ہوئی۔ سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو نے 20 اکتوبر 2024 کو 16 دروازوں کی تبدیلی کے کام کی ذاتی طور پر نگرانی کی۔وزیر آبپاشی جام خان شوروکے مطابق، اپ اسٹریمکوفرڈیم کے لیے کل 510 شیٹ پائلز کامیابی کے ساتھ نصب کیے جاچکے ہیں، جبکہ 26 نومبر 2024 کو ڈائون اسٹریم شیٹ پائلز پر کام شروع کیا گیا، 594 میں سے 16 پائلز پہلے ہی نصب کیے جا چکے ہیں سامان پہنچانے کیلیے عارضی راستہ تیار کرلیا گیا ہے۔ اسٹیل شیٹ کے پائلز اور جیوممبرین کیلیے ریت کے بورے بھی سائٹ پر پہنچاد یے گئے ہیں۔ 24 ارب روپے کی لاگت سے شروع ہونے والے سکھر بیراج پراجیکٹ میں مرمت کے اضافی کاموں کو بھی ایڈجسٹ کیا جائے گا۔ منصوبہ 23 فروری 2027 تک مکمل ہوگا تاہم ایک سال کی اضافی ڈیفیکٹ لائبلیٹی مدت بھی دی گئی ہے۔ سی ای او سندھ پیپلز ہاؤسنگ خالد شیخ نے اجلاس کے دوران سیلاب سے متاثرہ خاندانوں کے لیے مکانات کی تعمیر کے بارے میں پیش رفت سے آگاہ کیا۔وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ مکانات کی تعمیر نو کے لیے براہ راست فنڈز کی منتقلی کے لیے 10 لاکھ سے زائد بینک اکاؤنٹس کھولے گئے ہیں۔ اب تک 8 لاکھ 10 ہزار مستحقین کو فنڈز تقسیم کیے جا چکے ہیں، جس کے نتیجے میں 4 لاکھ 75 ہزار مکانات مکمل ہو چکے ہیں، 3 لاکھ خاندان پہلے ہی اپنے نئے گھروں میں منتقل ہو چکے ہیں۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ سیلاب متاثرین کیلیے گھروں کی تعمیر کا منصوبہ آفات سے محفوظ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور سیلاب متاثرین کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کے لیے سندھ حکومت کے وسیع وژن کی عکاسی کرتا ہے۔وزیراعلیٰ نے منصوبے میں پیش رفت کی تعریف کی اور بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لیے ہاؤسنگ اور آبپاشی دونوں منصوبوں میں کام کی موجودہ رفتار برقرار رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ پائیدار ترقی کیلیے پرعزم ہے۔ سکھر بیراج کی بحالی اور پیپلز ہاؤسنگ جیسے منصوبوں کے ذریعے، ہم مستقبل کے لیے تیار سندھ تشکیل دے رہے ہیں، جو اپنے لوگوں کی بہتری کے ساتھ ساتھ موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے قابل ہوگا۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ سندھ حکومت وسیع پیمانے پر بیراجوں کی بحالی اور رہائش کے اقدامات میں مصروف عمل ہے جو کہ جامع ترقی کے ماڈل کی مثال ہے۔ ان کوششوں کا مقصد صوبے کے ضروری انفرا اسٹرکچر کی حفاظت اور کمزور طبقات کو بااختیار بنانا ہے۔

  • کراچی کی تاجر برادری نے نئی ائرلائن بنانے کا اعلان کردیا

    کراچی کی تاجر برادری نے نئی ائرلائن بنانے کا اعلان کردیا

    شہر قائد کی تاجر برادری کی جانب سے نئی ایئرلائن بنانے کا اعلان کردیا گیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ’’ایئر کراچی‘‘ کے نام سے نئی فضائی کمپنی کراچی کی تاجر برادری کی جانب سے بہت جلد متعارف کرائی جا رہی ہے۔ نئی ایئر لائن کے نام ’’ایئر کراچی‘‘ کو ایس ای سی پی نے بھی رجسٹرڈ کرلیا ہے۔ایف پی سی سی آئی کے سابق سینئر نائب صدرحنیف گوہر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایئر کراچی کے لائسنس کے لیے وفاقی حکومت کو درخواست ارسال کردی گئی ہے۔ایئر کراچی کے لیے پہلے مرحلے میں 3 طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ ائیر کراچی میں سی او کے منصب پر سدرن کمانڈر ائیر وائس مارشل عمران کو مقرر کیا گیا ہے جب کہ عقیل کریم ڈھیڈی، عارف حبیب، ایس ایم تنویر ایئر کراچی کے شئیر ہولڈرز ہیں۔حنیف گوہر نے بتایا کہ بشیر جان محمد ، خالد تواب، زبیر طفیل ،حمزہ تابانی بھی ائیر کراچی کے شیئر ہولڈرز ہیں۔ نئی فضائی کمپنی کا لائسنس چند دنوں میں حاصل ہونے کے قوی امکانات ہیں۔ ائیر کراچی 5 ارب روپے کی سرمایہ کاری سے شروع کی جارہی ہے، جس میں فی شیئر ہولڈرز کا حصہ 5 کروڑ روپے ہے۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

  • وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلیٰ سندھ نے کراچی کیلئے اضافی پانی مانگ لیا

    وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے کراچی کیلیے حب ڈیم سے 50 ملین گیلن یومیہ اضافی پانی مانگ لیا۔

    باغی ٹی وی کے مطابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) سجاد غنی سے وزیراعلی ہاس میں ملاقات کے دوروان کے فور منصوبے اور آر بی او ڈی سمیت کئی اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ملاقات میں وزیربلدیات سعید غنی، وزیر آبپاشی جام خان شورو، وزیراعلی کے پرنسپل سیکریٹری آغا واصف ، سیکریٹری آبپاشی ظریف کھیڑو اور کے فور منصوبے کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عامر مغل نے شرکت کی۔ملاقات کے ابتدا میں مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت سندھ کراچی کو پانی کی سپلائی بڑھانے کیلیے متوازی کینال بنا رہی ہے۔ انہوں نے کراچی کی ضروریات پوری کرنے کیلیے یومیہ 50 ملین گیلن اضافی پانی مختص کرنے پر زور دیا۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی کو تجویز دی کہ وہ واٹر بورڈ سے کہیں کہ اس سلسلے میں تحریری درخواست جمع کرائے جس پر میئر کراچی مرتضی وہاب نے کہا کہ تحریری درخواست پہلے ہی جمع کرائی جا چکی ہے۔چیئرمین واپڈا نے وزیراعلی سندھ کو بتایا کہ حب کینال کی مرمت کے سلسلے میں واٹر بورڈ پر واپڈا کے 1 ارب روپے واجب الادا ہیں، وزیراعلی نے جواب دیا کہ ان کی حکومت واپڈا کے واجبات کا معاملہ حل کرے گی۔ انہوں نے وزیر بلدیات سعید غنی کو سمری پیش کرنے کی ہدایت کی۔کراچی کو یومیہ 260 ملین گیلن پانی کی فراہمی کے میگا منصوبے کے 4 (فیز1) کے کینجھر جھیل سے کراچی میں تین اختتامی پوائنٹس ہیں جن میں پپری، نیک اور منگھوپیر شامل ہیں۔پروجیکٹ واپڈا بنا رہی ہے اور تکمیل کی تاریخ جون 2026 ہے۔واپڈا کی جانب سے جو تعمیرات کی جا رہی ہیں ان میں کینجھر جھیل پر 650 میلن گیلن یومیہ کا انٹیک اسٹرکچر، کینجھر پمپنگ کمپلیکس کو جانے والے 650 ملین گلین یومیہ گریویٹی چینل، کمپلیکس میں 130 ایم جی ڈی کی 2 پمپنگ اسٹیشنز ہوں گی۔ اس کے علاوہ 260 ایم جی ڈی کی پائپ لائن اور فلٹریشن پلانٹ کے ساتھ 3 آبی ذخائر کی تعمیر بھی منصوبے کا حصہ ہے۔دوسری جانب حکومت سندھ تقسیم اور توسیع کے نظام پر کام کر رہی ہے۔ 50 میگاواٹ پاور سپلائی کے انتظامات بھی کیے جا رہے ہیں اور راستے میں منصوبے کے لیے درکار زمینیں حاصل کی جا رہی ہیں۔چیئرمین واپڈ نے کے 4 منصوبے پر پیش رفت کے بارے میں آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ منصوبہ قومی اور بین الاقوامی کنٹریکٹرز کے ذریعے 8 مختلف ٹھیکوں کی صورت میں مکمل کیا جا رہا ہی. انٹیک اسٹرکچر، پمپنگ اسٹیشنز، واٹر سپلائی کے نظام، پانی کے ذخائر اور فلٹریشن پلانٹس سمیت تمام منصوبوں پر تیزی سے کام جاری ہے۔
    مجموعی طور پر منصوبے پر 53 فیصد کام مکمل ہو چکا ہے۔بات چیت میں حکومت سندھ کے حصے کے ساڑھے 8 ارب روپے کا اجرا بھی زیر بحث آیا جس پر وزیراعلی سندھ نے وزیربلدیات سعید غنی کو ہدایت کی کہ وہ سندھ حکومت کے حصے کے پیسے جاری کرنے کیلیے سمری تیار کریں۔راستے کی 5 کلومیٹر زمین اور عدالتی مقدمات کے سلسلے میں وزیراعلی سندھ نے میئر کراچی مرتضی وہاب کو ہدایت کی کہ اسٹے آرڈرز ختم کرائیں تاکہ منصوبے پر کام کو آگے بڑھایا جا سکے۔اس کے علاوہ آر ڈی 78 پر ایک اور زمین کے تنازعے پر وزیراعلی نے سینئر ممبر بورڈ آف ریوینیو کو ہدایت کی کہ معاوضے کی ادائیگی کا معاملہ حل کیا جائے۔وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈ نے وفاقی فنڈز سے بنائے گئے آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ آر بی او ڈی 1 منصوبہ لاڑکانہ ، دادو اور جامشورو سے سیم زدہ ، زرعی نکاسی اور سیلابی پانی کو نکالنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ آر بی او ڈی 3 منصوبہ قمبر شہدادکوٹ اور جیکب آباد کا پانی نکالتا ہے۔لوئر انڈس رائٹ بینک اریگیشن اینڈ ڈیرینیج پروجیکٹ ( ایل آئی آر بی پی) خصوصی طور پر آر بی او ڈی 1 منصوبہ 1994 میں سیم اور سیلابی پانی کو سہون کے مقام پر انڈس لنک کینال کے راستے دریائے سندھ میں چھوڑنے کی غرض سے تعمیر کیا گیا تھا۔آر بی او ڈی 1 اور آر بی او ڈی 3 منصوبے بالترتیب 2020 اور 2021 میں مکمل کیے گئے تھے اور محکمہ آبپاشی سندھ کے حوالے کیے جانے تھے تاہم واپڈ کی طرف سے نقصانات کی بحالی اور قرضے کے تنازعات کے باعث منصوبے حکومت سندھ کے حوالے نہیں کیے جاسکے۔وزیر آبپاشی جام خان شورو نے بتایا کہ 2022 کے سیلاب کے دوروان حکومت سندھ نے آر بی او ڈی کی بحالی اور مرمت پرکروڑوں روپے خرچ کیے جس پر وزیراعلی سندھ نے کہا کہ واپڈا یہ پیسے صوبائی حکومت کو ادا کرے۔ملاقات کے آخر میں وزیراعلی سندھ اور چیئرمین واپڈا نے محکمہ آبپاشی اور واپڈا کے اراکین پر مشتمل ماہرین کی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا۔ یہ کمیٹی آر بی او ڈی 1 اور آ ربی او ڈی 3 کے ایشوز کا جائزہ لے کر منصوبے حکومت سندھ کے حوالے کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

  • ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    ہتھنی مدھوبالا نے خود کو زخمی کر لیا، سفاری پارک منتقل

    کراچی چڑیا گھر سے ہتھنی مدھوبالا کو سفاری پارک منتقل کر دیا گیا ہے،ہتھنی کو کنٹینر کے ذریعے ٹرک پر لوڈ کر کے سفاری پارک لایا گیا، منتقلی کے دوران ہتھنی نے کنٹینر میں خود کو زخمی بھی کر لیا۔

    باغی ٹی وی کو سربراہ فورپاز ڈاکٹر عامر خلیل نے اس حوالے سے بتایاکہ دیکھنا ہے کہ مدھوبالا سفاری پارک میں موجود ہتھنیوں سے کتنے وقت میں مانوس ہوتی ہے۔چڑیا گھر میں موجود ہتھنی مدھوبالا کو سفاری پارک میں منتقل کرنے کے لیے صبح کنٹینر میں سوار کیا گیا تھا، بعد ازاں اس کنٹینر کو کرین کی مدد سے ٹرک پر لوڈ کیا گیا۔ہتھنی مدوھوبالا کا ٹرک لیاری ایکسپرے وے سے سہراب گوٹھ اور پھر ابوالحسن اصفہانی روڈ سے ہوتا ہوا سفاری پارک لایا گیا۔منتقلی کے دوران سٹی وارڈنز کی بھاری نفری تعینات رہی۔سربراہ فورپاز ڈاکٹر عامر خلیل کے مطابق ہتھنی بہت کوششوں کے بعد کنٹینر میں داخل ہوئی، کنٹینر میں ڈالنے کے بعد اسے نیم بیہوشی کی دوا دی گئی۔انہوں نے بتایا کہ ہتھنی کے لیے سفاری پارک میں 3 گنا بڑی جگہ بنائی گئی ہے، جس میں خصوصی انکلوژر، سوئمنگ پول اور دیگر سہولتوں کا انتظام کیا گیا ہے۔انعامر خلیل نے بتایا کہ اب یہ دیکھنا ہے کہ سفاری پارک میں موجود ہتھنیوں ملکہ اور سونیا سے یہ کتنے وقت میں مانوس ہوتی ہے۔ جانوروں کے حقوق کی کارکن عائشہ سحر نے کہا کہ مدھو بالا نے خود کو کنٹینر میں مارا ہے جس کے باعث وہ زخمی ہوئی ہے، خدشہ ہے کہ وہ بہت زیادہ زخمی ہو گئی ہے، پہلے ہی وہ بہت کمزور ہے، اب اس کی حالت مزید خراب ہو گئی ہے۔

    ہوا کی رفتار 110 کلومیٹر فی گھنٹہ ،نیدرلینڈز میں وارننگ جاری

    خالد مقبول کا رینجرز ،پولیس اہلکاروں کی شہادت پراظہار افسوس

    حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

  • حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

    حکومت اور پولیس عوام کی حفاظت میں ناکام ہو گئی ،ْ منعم ظفر خان

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے شہر میں اسٹریٹ کرائمز کی وارداتوں میں اضافے اور لوٹ مار کے دوران جانی نقصان پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت ، محکمہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی جان و مال کے تحفظ میں ناکام ہوچکے ہیں .

    باغی ٹی وی کے مطابق منعم ظفر خان نے اپنے بیان میں مزیدکہاکہ شہری ایک جانب ڈکیتی کی وارداتوں سے پریشان ہیں دوسری جانب شہر میں ایک بار پھر سے ٹارگٹ کلنگ کے وارداتیں شروع ہوچکی ہیں، پیسے اور موبائل فون چھین لینے کے باوجود لوگوں کو قتل کردیا جاتا ہے ، حکومت نام کی کوئی چیز نظر نہیں آرہی ،صوبائی وزیر داخلہ کہتے ہیں کہ اسٹریٹ کرائمز کے مسئلے کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے،بتایا جائے کہ آخر جرائم پیشہ عناصر ودہشت گرد وںکے نیٹ ورک کو توڑا کیوں نہیں جارہا ،کون سی طاقتیں ان کی سرپرستی کررہی ہیں ان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کب شروع ہوگی رواں سال ڈکیتی کی وارداتوں میںاب تک 102 شہری اپنی جان گنوابیٹھے ،شہری مسلح ڈاکوؤں اور دہشت گردوں کی دن دہاڑے اور بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے باعث نہ صرف پریشان ہیں بلکہ شدید عدم تحفظ کا بھی شکار ہیں ، سندھ حکومت نے سیف سٹی پروجیکٹ کے نام پر اربوں روپے کا بجٹ خرچ کیا لیکن اس کا حاصل اور نتیجہ صفر ہی رہا ہے ،پولیس کے محکمے میں نہ صرف جرائم پیشہ عناصر اورڈاکوؤں کی سرپرستی کرنے والے موجود ہیں بلکہ پولیس میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیوں اور کراچی کے مقامی باشندوں کی عدم موجودگی نے پولیس کی کارکردگی کو شدید متاثر کیا ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے محکمے میں اصلاحات کی جائیں ،جرائم پیشہ عناصر کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے اورکراچی کے مقامی باشندوں کی بھرتی کو یقینی بنایا جائے ۔

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    پولیس کو جدید خطوط پر استوار کر رہے ہیں، وزیراعلیٰ سندھ

    وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے سندھ پولیس کو ایک موثر، ٹیکنالوجی سے لیس فورس میں تبدیل کرنے کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا ہے تاکہ عوام کے تحفظ اور سندھ کے عوام میں قانون نافذ کرنے والے اداروں پر اعتماد کو فروغ دیا جاسکے۔

    وزیراعلیٰ ہاؤس میں 51ویں خصوصی تربیتی پروگرام اور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹس آف پولیس (اے ایس پیز) کے 27ویں ابتدائی کمانڈ کورس کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ 1843 میں قائم ہونے والی سندھ پولیس برصغیر کا سب سے قدیم پولیس ادارہ ہے اور عصر حاضر کے چیلنجز سے نمٹنے کےلیے اسے جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے۔ 1 لاکھ62 ہزار اہلکاروں پر مشتمل سندھ پولیس پاکستان کی دوسری بڑی فورس ہے جو جرائم کی روکتھام، سراغ رسانی اور قیام امن کےلیے پرعزم ہے۔ ۔ اجلاس میں چیف سیکرٹری آصف حیدر شاہ، سیکرٹری داخلہ اقبال میمن، پی ایس سی ایم آغا واصف، آئی جی پولیس غلام نبی میمن اور دیگر نے شرکت کی۔مراد علی شاہ نے پولیس کی کارکردگی اور صلاحیت بڑھانے کےلیے کئی اقدامات کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ان منصوبوں میں سے ایک اہم منصوبہ اسمارٹ سرویلئینس سسٹم ( ایس 4 منصوبہ ) ہے جس کے تحت سندھ بھر کے 40 ٹول پلازوں پر نگراں کیمرے نصب کیے گئے ہیں۔ اس سسٹم کی تنصیب کا مقصد اہم داخلی اور خارجی راستوں کی نگرانی ، بروقت کارروائی اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے پولیس آپریشنز کو یقینی بنانا ہے۔ وزیراعلیٰ کے مطابق، کراچی سیف سٹی پراجیکٹ سندھ پولیس کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، جس سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں عوامی تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔جرائم کے خاتمے کی حکومتی کوششوں پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے سندھ ہیبیچوئل آفنڈرز مانیٹرنگ ایکٹ 2022 کا ذکر کیا جس کے تحت ڈکیتی، بھتہ خوری اور گاڑیوں کی چوری میں ملوث عادی مجرموں کی الیکٹرانک ٹیگنگ کی جائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ جی پی ایس سے منسلک کڑے اور بریسلٹس مجرموں کی بروقت نگرانی کو یقینی بنائیں گے تاکہ صوبے میں محفوظ علاقوں کا قیام عمل میں لایا جائے۔ محکمہ پولیس کی بجٹ کے بارے میں بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے بتایا کہ اہم شعبوں کو مضبوط کرنے کےلیے خاطرخواہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔ سی ٹی ڈی کو 2 ارب 70 کروڑ روپے جاری کیے گئے ہیں۔ اسپیشل برانچ نے 1 ارب 20 کروڑ روپے وصول کیے ہیں جبکہ انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کو 60 کروڑ روپے دیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انویسٹی گیشن آفیسرز کےلیے بھی انعامات رکھے گئے ہیں۔ پولیس تھانوں کےلیے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایس ایچ اوز کو ڈی ڈی او کے اختیارات تفویض کیے گئے ہیں۔ سندھ پولیس کے اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی مدد کےلیے حکومت سندھ نے 4 ارب 96 کروڑ اور 10 لاکھ روپے مالیت کا انشورنس پروگرام متعارف کرایا ہے۔ شہدا پیکج میں اضافے پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے جس کے تحت معاوضے کی رقم ایک کروڑ سے بڑھا کر 2 کروڑ 30 لاکھ روپے کردی گئی ہے۔ شہید کے خاندان کو ریٹائرمنٹ کی عمر تک تنخواہ کی ادائیگی اور خاندان کے 2 افراد کو ملازمتوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے۔ مہارت میں اضافے پر بات کرتے ہوئے مراد علی شاہ نے کہا کہ حکومت پالیسیوں اور قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے کےلیے پولیس افسران، وکلا اور ججز کےلیے تربیتی پروگرام پر سرمایہ کاری کررہی ہے۔ اہلکاروں کو جدید چیلنجز اور قیام امن کے قابل بنانے کےلیے صلاحیتوں میں اضافے کے اقدامات جاری ہیں۔ سندھ حکومت کے جامع اقدامات سندھ پولیس کو جدید ، مستعد اور ٹیکنالوجی سے لیس فورس بنانے کے عزم کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان اقدامات سے عوام کے تحفظ اور قانون پر عوام کے اعتماد کو بحال کرنے میں مدد ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے سندھ پولیس پاکستان کی مثالی قانون نافذ کرنے والی ایجنسی بننے جا رہی ہے۔

    سانحہ پارا چنار فرقہ وارانہ فسادات کروانے کی سازش ہے ، ملی یکجہتی کونسل

  • کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    کشتی الٹنے سے ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے

    کشتی ڈوبنے کے واقعے میں ایک ہی خاندان کے 6 افراد ڈوب گئے۔

    اطلاعات کے مطابق ابراہیم حیدری کے قریب کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا، جس میں چھ افراد ڈوب گئے، جن میں سے ایک شخص جاں بحق جب کہ 2 کو ریسکیو کرلیا گیا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔ماہی گیروں کی تنظیم کے رہنما یونس خاصخیلی کے مطابق کشتی میں 6 افراد سوار تھے، جو حادثے کے نتیجے میں ڈوب گئے، جن میں سے 2 کو ریسکیو کرلیا گیا ہے جب کہ مقامی غوطہ خور ڈوبنے والے افراد کی تلاش میں مصروف ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کشتی میں سوار 6 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے۔ حادثے میں جاں بحق اور لاپتا شخص آپس میں بھائی ہیں۔ یہ تمام لوگ کشتی پرسوار ہوکر بھنڈار میں عرس میلہ دیکھنے جارہے تھے۔واقعہ گزشتہ شب 8 بجے بھنڈار کے مقام پر پیش آیا۔ انہوں نے بتایا کہ رات کے اندھیرے کی وجہ سے کشتی الٹ گئی۔

    ایشیائی ترقیاتی بینک کی کنٹری ڈائریکٹر کی وزیر اعلیٰ پنجاب سے ملاقات

    یو این مہم ’خواتین کے خلاف تشدد، کوئی جوازنہیں‘ کا افتتاح

    ایدھی فائونڈیشن کی ہیلپ لائن 36 گھنٹوں سے بند