Baaghi TV

Tag: کراچی شہر

  • ملزمہ نتاشہ کی منشیات مقدمے میں ضمانت کا تحریری حکمنامہ جاری

    ملزمہ نتاشہ کی منشیات مقدمے میں ضمانت کا تحریری حکمنامہ جاری

    کارساز حادثے میں ملوث ملزمہ کی منشیات استعمال کرنے کے مقدمے میں بھی ضمانت منظور ہوگئی۔ سندھ ہائی کورٹ نے تحریری حکمنامے میں ملزمہ کو 10 لاکھ روپے کے مچلکے جمع کروانے کا حکم دے دیا۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق تحریری حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ حادثے میں ہلاک ہونے والے باپ بیٹی کے ورثاء 6 ستمبر کو ملزمہ کو معاف کرنے کا حلف نامہ جمع کرواچکے ہیں جس کی وجہ سے اقدام قتل کے کیس میں ملزمہ پہلے ہی ضمانت حاصل کرچکی ہے۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا وہ شراب نوشی سے متعلق ہیں، تاہم عدالت یہ معاملہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑتی ہے۔ملزمہ کے خلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا، ان کی زیادہ سے زیادہ سزا 3 سال ہے۔ مرکزی کیس میں ورثاء کی ملزمہ سے صلح ہوچکی ہے۔

    کیمیکل ایگزامنر کی رپورٹ میں بھی تضاد ہے لہٰذا کیس مزید انکوائری کا بنتا ہے۔ ملزمہ کے تین بچے ہیں جو اسکول جاتے ہیں۔ انہیں ماں کی ضرورت ہے۔ ملزمہ گزشتہ 6 ہفتوں سے جیل میں ہے۔ عدالت ملزمہ کی 10 لاکھ روپے میں ضمانت منظور کرتی ہے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ کار ساز حادثہ کیس کو میڈیا میں بہت زیادہ کوریج ملی، سول سوسائٹی نے بھی اس واقعے پر آواز بلند کی جو ملزمہ کے حق میں نہیں تھی، یہ واضح کر دیں عدالت کسی دباؤ میں آئے بغیر قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی، جن دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا عدالت نے ان کا جائزہ لیا ہے۔ٕٕ

    شام میں لاکھوں غیر ملکی جنگجو پاسدارن انقلاب کے زیر کمانڈ موجودگی کا انکشاف

    کیس میں ملزمہ کے خلاف لگائی دفعات شراب نوشی سے متعلق ہیں، ملزمہ کے خلاف امتناع منشیات ایکٹ 1979 کی سیکشن 11 کا اطلاق حیران کن ہے، یہ نشہ آوار مواد ہے جو مبینہ طور پر ملزمہ کے جسم سے الکحول کی جگہ ملا، تاہم عدالت یہ معاملہ ٹرائل کورٹ پر چھوڑتی ہے، ملزمہ کےخلاف جن دفعات کے تحت مقدمہ درج ہوا اس میں زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے، کیمیکل ایگزیمینر کی رپورٹ میں بھی تضاد ہے، کیس مزید انکوائری چاہتا ہے۔

    یو این یوٹیوب چینل پروزیراعظم شہبازشریف کا خطاب سب سے مقبول

    19 اگست کو حادثہ پیش آیا.یاد رہے کہ 19 اگست کو کراچی کے علاقے کارساز روڈ پر ایک تیز رفتار گاڑی نے موٹر سائیکل کو ٹکر مار دی تھی جس کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے تھے۔جاں بحق ہونے والے عمران عارف اور آمنہ عارف باپ اور بیٹی تھے۔ جاں بحق عمران عارف دکانوں پر پاپڑ فروخت کرتے تھے جبکہ خاتون آمنہ عارف نجی کمپنی میں ملازم تھی۔آمنہ عارف والد کے ساتھ موٹر سائیکل پر دفتر سے گھر جا رہی تھیں کہ یہ حادثہ پیش آ گیا۔

  • کے الیکٹرک کی کاروائی، لاکھوں یونٹس بجلی چوری کرنیوالے کنڈے ختم

    کے الیکٹرک کی کاروائی، لاکھوں یونٹس بجلی چوری کرنیوالے کنڈے ختم

    کے الیکٹرک نے کراچی کے علاقے ایف بی ایریا میں کارروائی کرتے ہوئے 2100 کلو گرام سے زائد وزن کے کنڈوں کو ہٹا دیا۔

    باغی ٹی وی کو موصول اطلاعات کے مطابق کے الیکٹرک کے ترجمان کنت بتایا کہ ہٹائے گئے کنڈوں سے ماہانہ 1 لاکھ 40 ہزار یونٹس بجلی چوری کی جا رہی تھی۔انہوں نے بتایا کہ کنڈوں سے پاور انفرااسٹرکچر اور شہریوں کے لیے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ترجمان کا کہنا ہے کہ پاور یوٹیلیٹی نقصانات میں کمی اور بجلی کے انفرااسٹرکچر کے تحفظ کے لیے مسلسل مہم چلا رہے ہیں۔
    واضح رہے کہ کراچی میں اربوں روپے کی بجلی چوری اس وقت جاری ہے جسکی سرپرستی کے الیکٹرک، پولیس سمیت کئی اداروں کے افراد کرتے ہیں ج کے باّعث عام صارفین کو زائد بلنگ اور طویل لوڈشیڈنگ جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے.

    کارساز حادثہ کیس کی ملزمہ نتاشا کے ریلیز آرڈر جاری

  • کرچی: مختلف حادثات میں بچے سمیت 7 افراد جان کی بازی ہار گئے

    کرچی: مختلف حادثات میں بچے سمیت 7 افراد جان کی بازی ہار گئے

    کراچی میں مختلف حادثات اور واقعات کے نتیجے میں بچے سمیت 7 افراد جاں بحق جبکہ 13 افراد زخمی ہوگئے۔

    باغی ٹی وی کو موصول ریسکیو حکام کی اطلاعات کے مطابق ٹریفک حادثات کے نتیجے میں ایک ہی روز میں 7 افراد جاں بحق ہوگئے جبکہ مختلف حادثات میں 13 افراد زخمی ہو گئے، زخمی افراد طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیے گئے۔کراچی کے ساحل کلفٹن پر نہاتے ہوئے 18 سالہ نوجوان ڈوب گیا جبکہ ڈوبنے والے شخص کی لاش کو نکال لیا گیا۔
    ریسکیو کے مطابق ڈوبنے والے شخص کی شناخت 18 سالہ وقاس احمد کے نام سے ہوئی، لاش کو اسپتال منتقل کردیا گیا۔شیر شاہ تھانے کے قریب ٹریفک حادثے میں نوجوان جاں بحق ہوگیا، جس کی شناخت تاحال نہ ہوسکی جبکہ کورنگی بلال چورنگی کے قریب تیز رفتار گاڑی کی ٹکر سے موٹر سائیکل سوار نوجوان جاں بحق ہوگیا، جس کی شناخت خدا بخش کے نام سے کر لی گئی۔ماڑی پور ٹرک اڈہ کے قریب ٹریفک حادثے میں 16 سالہ فیضان جاں بحق ہو گیا جبکہ اختر کالونی سگنل کے قریب تیز رفتار گاڑی نے ایک بچے کو روند ڈالا جس کے نتیجے میںکمسن بچہ جاں بحق ہوگیا جبکہ بچے سمیت 2 راہگیر شدید زخمی ہو گئے جنہیں طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔
    نیو کراچی سیکٹر فائیو ایف میں دو گروپوں میں سبزی کا ٹھیلہ لگانے پر تصادم ہوا جس میں ڈنڈوں اور تیز دھار آلے کے وار سے 10 افراد زخمی ہوگئے جبکہ زخمی ہونے والے افراد کو طبی امداد کے لیے اسپتال منتقل کردیا گیا۔ناظم آباد دو نمبر کے قریب ڈاکووں کی فائرنگ سے ایک نوجوان زخمی ہوا جبکہ سائٹ سپر ہائی وے کے قریب مبینہ پولیس مقابلے میں ایک ملزم زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا جبکہ ساتھی ملزم فرار ہوگیا۔جیل چورنگی پل پر ٹریفک حادثے میں 2 افراد جاں بحق ہوگئے، حادثہ تیز رفتار گاڑی سے ٹکر کے باعث حادثہ پیش آیا جبکہ لاشوں کو جناح اسپتال منتقل کردیا گیا۔

    قومی اسمبلی کے اجلاس میں تاخیر کی وجہ سامنے آگئی

  • کے ڈی اے میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل،19ملازمین جعلی قرار

    کے ڈی اے میں بھرتیوں کی تحقیقات مکمل،19ملازمین جعلی قرار

    کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی میں جعلی بھرتیوں کی تحقیقات مکمل ہو گئی۔تحقیقات کے بعد 19 ملازمین جعلی قرار دے دیئے گے۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق کراچی ڈویلپمنٹ اتھارٹی میں جعلی بھرتیوں پر بننے والی کمیٹی نے تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں، ذرائع نے بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ چند روز میں منظر عام پر لائی جائے گی ذرائع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے میں ابتدائی طور پر 53 ملازمین کے ریکارڈ کو چیک کیا گیا زرائع نے انکشاف کیا کہ 53 ملازمین میں سے 19 ملازمین ایسے ہیں جن کی بھرتی کا کوئی ریکارڈ کے ڈی اے کے پاس موجود نہیں ہے ذرائع نے مزید بتایا کہ یہ 19 ملازمین کے ڈی اے میں سال 2023-2024 میں بھرتی کئے گئے ذرائع کے مطابق 53 مبینہ جعلی بھرتیوں میں11 ملازمین کا ڈیٹا چیک کرنے پر معلوم چلا کہ یہ افراد ڈیزیز کوٹہ پر بھرتی کئے گئے ہیں جبکہ 23 ملازمین کا ریکارڈ ویریفیکیشن کے لئے کے ایم سی بھیجا گیا ہے.
    اگر لوگوں کی خدمت نہیں کرسکتے تو اسمبلی کی رکنیت کا کوئی فائدہ نہیں،مصطفیٰ کمال
    ذرائع کے مطابق جن 11 ملازمین کا ریکارڈ نہیں ہے ان کو شو کاز نوٹسز بھیج دئیے گئے ہیں آئندہ چند روز میں ان ملازمین کے حوالے سے باقاعدہ اخبارات میں اشتہار دے دیا جائے گا جبکہ اخبارات میں ناموں کے ساتھ اشتہار میں بتا دیا جائے گا کہ ان افراد کا کے ڈی اے میں کوئی ملازمت نہیں ذرائع نے بتایا کہ کے ڈی اے میں آیندہ سے ملازمین کی بھرتی کے وقت ڈی جی کے ڈی اے کی طرف سے میڈیکل رجسٹریشن (ایم آر) نمبر جاری کیا جائے گا واضح رہے کے ڈی اے میں وزیر بلدیات سندھ کے حکم پر جعلی بھرتیوں کے حوالے سے 22 اگست کو 3 رکنی کمیٹی تشکیل کی گئی تھی، جعلی بھرتیوں پر بننے والی کمیٹی کو 14 دنوں میں رپورٹ جمع کرانے کے احکامات دئیے گئے تھے۔

  • قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ  افسوسناک ہے؛ وزیراعلیٰ سندھ

    قلب کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ افسوسناک ہے؛ وزیراعلیٰ سندھ

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں قلب کے مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ افسوسناک ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے عالمی یوم قلب کے موقع پر پیغام میں کہا کہانسان کی سب سے قیمتی چیز اس کی اچھی صحت ہے،ہر سال ایک بڑی تعداد قلب کے مرض کا شکار ہوجاتی ہے.ہمیں اپنے کھانے کی عادتوں، اور کھانوں کا صحیح انتخاب کر کے ورزش کو زندگی میں شامل کرنا ہو گا.میرا عالمی یوم قلب پر یہی پیغام ہے کہ اپنے دل کی صحت کا خیال رکھیں اور اس کو امراض سے بچائیں.زندگی میں ہم سب کو سیکھنا ہے کہ علاج سے بہتر احتیاط ہے.ہم نے پاکستان خصوصاً سندھ کے عوام کو دل کی بیماریوں کے علاج کی ہر ممکن سہولت دے رہے ہیں، ہم نے بڑے پیمانے پر موبائل چیسٹ پین یونٹ دیہی اور شہری علاقوں میں قائم کیے ہیں.
    انہوں نے مزید کہا کہ عارضہ قلب ایک ایسی بیماری ہے جسے ہر مریض افورڈ نہیں کرپاتا، حکومت سندھ عارضہ قلب میں مبتلا مریضوں کو بالکل مفت اور قابل رسائی سروس دے رہی ہے.بچوں کے کارڈیک علاج پر پوری توجہ دے رہے ہیں اور اس کے لیے ایک نئی عمارت بھی زیر تعمیر ہے، علاج میں بہترین نتائج کے لیے ٹریکنگ سسٹم متعارف کرارہے ہیں.

    ڈاکٹر شاہنواز قتل کیس،گرفتار ملزمان 4 روزہ جسمانی ریمانڈ پرپولیس کے حوالے

    واضح رہے کہ دنیا بھرمیں امراض قلب کا عالمی دن 29 ستمبر کو منایا جا تاہے۔ اس دن کو منانے کا مقصد لوگوں میں دل کی بیماریوں کے متعلق مکمل آگاہی اور ان سے بچاو کے لیے شعور پیداکرناہے۔ دنیا میں لاکھوں افراد ہر سال دل کی بیماریوں کی وجہ سے موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال تقریباً دو لاکھ افراد دل کے امراض کے باعث ہلاک ہوجاتے ہیں۔ عالمی ادارہ برائے صحت(World Health Organisazion) نے خبردار کیا ہے کہ سن دو ہزار تیس تک دنیا بھر میں دل کے امراضِ کے سبب اموات کی شرح سترہ اعشاریہ تین ملین سے بڑھ کر تئیس اعشاریہ چھ ملین تک پہنچ سکتی ہے۔ دل کے امراض کی بڑی وجوہات میں تمباکو نوشی، غیر صحت مند غذا اور جسمانی سرگرمیوں کا فقدان ہے۔ دل کے امراض سے بچنے کے لیے تمباکو نوشی ترک کی جائے، روزانہ پھل اورسبزیوں کا استعمال کیا جائے اور دن بھر میں ایک چائے کے چمچ سے زیادہ نمک کے خوراک میں استعمال سے پرہیز کیا جائے۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کے لیے روزانہ کم از کم آدھا گھنٹہ جسمانی سرگرمیوں میں گزارا جائے یا ورزش کی جائے۔ دل کی صحت سے متعلق عوامی آگاہی کی بیداری کا عالمی دن اس دن کی مناسبت سے 29 ستمبرکوملک بھر میں سیمینارزاور آگاہی واک بھی منعقد کی جائیں گی۔

  • ایم کیو ایم نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے،سید امین الحق

    ایم کیو ایم نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے،سید امین الحق

    ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سید امین الحق نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم پر اس شہر کے لوگ اعتماد کرتے ہیں، ہم ہمیشہ امن کی بات کرتے ہیں.

    باغی ٹٰی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوسائٹی ٹاؤن کے تحت محفل زکر مصطفٰی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں شرکت کے بعد میڈیا سے خطاب کرتے ہوئے کیا انکا مزید کہنا تھا کہ اگر سب ساتھ ملکر چلیں گے تو صوبہ ترقی کرے گا، کشمیر میں مسلمانوں پر خون بہایا جا رہا ہے، فلسطین اور لبنان میں روزانہ کی بنیادوں سینکڑوں کی تعداد میں لوگوں کو شہید کیا جا رہا ہے، پاکستانی قوم ہمیشہ اپنے بھائیوں نے ساتھ کھڑی ہوتی ہے، ہم نے ہمیشہ فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دیا ہے۔ ایم کیو ایم سمجھتی ہے کراچی کے میئر کے ساتھ دیگر شہروں کے میئر بھی با اختیار ہونے چاہئیں، اس لیے قومی اسمبلی میں آئین میں ترمیم کا مسودہ پیش کیا ہے۔ ایم نے احتجاج کا راستہ اختیار کرنے اور صرف باتیں کرنے کے بجائے عملی خدمت کو ترجیح دی، ایم کیو ایم کی کاوشوں کی وجہ سے مردم شماری میں کراچی کی آبادی بڑھی نتیجتاً شہری سندھ میں قومی اسمبلی کی ایک اور صوبائی اسمبلی کی تین نشستوں کا اضافہ ہوا۔ آج ہماری کوششوں کی بدولت کے فور منصوبے پر پیش رفت ہو رہی ہے۔ ہم نے شہر کے انفراسٹرکچر کو بہتر کیا۔ شہر میں فلائی اوور اور انڈر پاسز کا جال بچھایا۔

    ایم کیو ایم کا 30ستمبر1988ءسانحہ حیدرآباد شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش

    انہوں نے مزید کہا کہ حیدرآباد میں 544 طلبہ و طالبات کا ایڈمیشن ہوا جبکہ کراچی میں 32 ارب کی لاگت سے آئی ٹی پارک بننے جا رہا ہے، طالب علموں کے مسائل پر خصوصی توجہ مرکوز ہے، ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں آؤٹ آف دی سلیبس سوالات پوچھے گئے جس پر انکے مسئلے کو ہر سطح پر اٹھائیں گے نیز صوبائی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ایم ڈی کیٹ کے طلبہ و طالبات امتحانی مراکز نہ پہنچ سکے۔ ایم ڈی کیٹ کے امتحانات میں طلبہ و طالبات کے لیے امتحانی مراکز بھی کم بنائے گئے تھے۔ اس صوبے پر جن لوگوں کی حکومت ہے وہ آپ لوگوں کا خیال نہیں رکھتے، ایم کیو ایم نے قومی اسمبلی میں سود کو ختم کرنے متعلق قرارداد جمع کروا دی ہے۔

  • ایم کیو ایم کا 30ستمبر1988ءسانحہ حیدرآباد شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش

    ایم کیو ایم کا 30ستمبر1988ءسانحہ حیدرآباد شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش

    متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی کا سانحہ حیدرآباد 30ستمبر1988 میں شہید ہونے والوں کی پینتیسویں برسی کے موقع پر شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سانحہ حیدرآباد کو بیتے گو کہ ایک طویل عرصہ ہو چکا ہے مگر اس کے اثرات آج بھی متاثرہ خاندانوں کے ذہن میں نقش ہیں.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ 30ستمبر1988ء کے دن جس طرح جدید اسلحے سے لیس تعصب اور نفرت زدہ ذہنیت نے پاکستان کی محبت سے لبریز افراد کو موت کے گھاٹ اتارا اُس کی نظیر مُلک تو کیا دُنیا کی تاریخ میں کہیں نہیں ملتی، انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کی پاداش میں مُلک بنانے والوں پر وُہ ظُلم کے پہاڑ توڑے گئے جن کے آگے ہلاکو اور چنگیز خان کی سفاکیت بھی ماند پڑ گئی، لطیف آباد گاڑی کھاتہ پریٹ آباد مارکیٹ چوک غرض پُورے حیدرآباد شہر کو بربریت کا نشانہ بنایا گیا ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ مجرموں کو تختہ دار تک لایا جاتا مگر افسوس کہ مُلک بنانے والے اور اُن کی اولادوں کو ہی تختہ مشق بنا کر اِس سفاک سلسلے کو جاری رہنے دیا گیا، مجرمان آج بھی دندناتے ہوئے گھوم رہے ہیں، 1971ء میں ملک کو دولخت کرنے والے عناصر ہی سانحہ حیدرآباد پکا قلعہ قصبہ علی گڑھ سہراب گوٹھ 12 مئی کے پسِ پردہ سہولت کار تھے کیوں کہ اُنھیں کہیں کوالٹی تو کہیں کوانٹٹی سے خطرہ لاحق تھا آج بھی وہی سازشی عناصر اپنے مذموم مقاصد کو پورا کرنے کے لئے زور لگا رہے ہیں، ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے مزید کہا کہ تمام شواھد کی موجودگی کے باوجود عدالتوں کا آنکھوں کو بند رکھنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اِس مُلک کا عدالتی نظام صرف فرزندان زمین کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے ہے۔

    کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم پر46 فیصد سے زائد کام مکمل

  • کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم پر46 فیصد سے زائد کام مکمل

    کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم پر46 فیصد سے زائد کام مکمل

    کراچی گریٹر واٹر سپلائی سکیم (کے فور) پر اب تک 46 فیصد سے زائد کام مکمل ہوچکا ہے۔

    باغی ٹی وی کو سرکاری ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کی تعمیر پر اب تک 59.5 ارب روپے کی رقم خرچ کی جا چکی ہے۔ 126 ارب روپے کے منظور شدہ پی سی ون منصوبے کا پہلا مرحلہ دسمبر 2025 میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ذرائع نے بتایا کہ منصوبے کے مختلف مقامات بشمول انٹیک ورکس، پمپنگ اسٹیشنز، پریشرڈ پائپ لائن، ایکسیس روڈ، پروجیکٹ آفسز اور پراجیکٹ کالونی پر تیزی سے تعمیراتی کام جاری ہے۔کے فور منصوبے کے تحت کراچی کو کینجھر جھیل سے روزانہ 650 ملین گیلن پانی فراہم کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ دو مرحلوں میں مکمل کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس وقت واپڈا کراچی کو 260 ایم جی ڈی پانی کی فراہمی کے منصوبے کے پہلے مرحلے کی تعمیر کر رہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں کراچی کو مزید 390 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جائے گا۔

    کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی

  • کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی

    کراچی کے حق اور وسائل پر قبضہ نہیں ہونے دیں گے ،ْ جماعت اسلامی

    امیرجماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی کے حق اور وسائل پر کسی کو سانپ نہیں بننے دیں گے ،پیپلزپارٹی کی سندھ حکومت نے کراچی کے اداروں اور وسائل پر قبضہ کیا ہوا ہے ،خود کام کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے.

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کو مقامی بینکویٹ میں جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن کے چیئرمینوں ،وائس چیئرمینوں اور بلدیاتی ذمہ داران کے ہمراہ بلدیاتی رپورٹر کے لیے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا .15 ماہ قبل قابض میئر نے زبردستی منتخب ہو کر حلف اٹھایا اس کے بعد کراچی کے شہری پہلے سے زیادہ اذیت اور کرب کا شکار ہوئے ،کراچی کے ساڑھے تین کروڑ عوام کے جائز اور قانونی حقوق کے حصول کے لیے ماضی میں بھی صرف جماعت اسلامی نے ہی کراچی کا مقدمہ لڑا اور آئندہ بھی لڑیں گے ،عوام کے حقوق اور بلدیاتی اداروں کے اختیارات لے کر رہیں گے ،جماعت اسلامی کے 9ٹاؤنز میں 10 ماہ کے دوران اختیارات و فنڈز کی کمی کے باوجود مثالی کام کیے گئے ۔

    حکومت کراچی کے مسائل پر بھرپور توجہ دے رہی ہے، وزیراعلیٰ سندھ

    100 سے زائد پارکوں کو بحال کر کے عوام کے لیے کھولا گیا ،بڑے پیمانے پر شجر کاری کی گئی اور اب اربن فاریسٹ بنارہے ہیں ،31 سرکاری سکولوں کی تعمیر نو اور تزئین و آرائش کی گئی ،38 ہزار سے زائد اسٹریٹ لائٹز نصب کی گئیں، 72 ہزار فٹ سے زائد سیوریج لائنوں کا کام کروایا گیا اور 100 ہزار فٹ پانی کی لائنیں ڈلوائی گئی جن سے 1200 گھرانوں نے پینے کے پانی کی سہولت حاصل کی ،ہمارے ٹاؤن چیئرمینوں نے نئی گاڑیاں خریدنے کے بجائے پرانی اور ناقص گاڑیوں کو قابل استعمال بنا کر کروڑوں روپے کی بچت کی ۔ہمارا عزم ہے کہ بقیہ 4سال میں اپنے 9ٹاؤنز کو شہر کے ماڈل ٹاؤن بنائیں گے ۔تقریب سے جماعت اسلامی کراچی کے نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈوکیٹ نے خطاب کیا۔
    جبکہ ڈپٹی پارلمانی لیڈر قاضی صدر الدین نے نظامت کے فرائض انجام دیے اور جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن اور 87 یو سیز میں 10 ماہ کے دوران کیے جانے والے تعمیر و ترقی اور عوامی مسائل کے حل کے کاموں پر مشتمل پریزنٹیشن پیش کی۔اس موقع پر بلدیاتی رپورٹرز ایسوسی ایشن کے عہدیداران نے ٹائون چیئر مینز کے ساتھ منعقدہ تقریب کو سراہا اور آئندہ بھی باہمی رابطوں پر زور دیا ۔
    منعم ظفر خان نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اپنے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے بنائے گئے 1973 کے آئین کے تحت اس دور میں بلدیاتی اداروں کو دیے گئے ،اختیارات بھی موجودہ بلدیاتی نظام میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کو دینے پر تیار نہیں ،اس کا واضح مطلب ہے کہ پیپلز پارٹی کو عوامی مسائل کے حل سے کوئی سروکار نہیں ہے یہ صرف مال بنانا چاہتی ہے اور اس نے کراچی کو سونے کی چڑیا سمجھ رکھا ہے ،16 سال میں کراچی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے ،اربوں روپے کا ترقیاتی بجٹ سندھ حکومت کی نااہلی اور کرپشن کی نذر ہو چکا ہے۔
    کراچی کے عوام بجلی و پانی کے بحران ،صفائی ستھرائی اور سیوریج کے ناقص انتظام ،سڑکوں کی خستہ حالی ،ٹوٹ پھوٹ اور ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی سمیت بے شمار مسائل کا شکار ہیں۔سڑکوں کی تعمیر و استرکاری میں نا اہلی اور کرپشن واضح طور پر کھل کر سامنے آگئی ہے۔حالیہ بارش سے قبل 4ارب روپے کی بنائی گئی سڑکیں بارش میں بہہ گئی۔ایک ماہ سے زائد وقت ہو گیا ہے 14 سڑکوں کی ناقص تعمیر اور ٹوٹ پھوٹ کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہیں آئی اور اس نااہلی و کرپشن کے کسی ذمہ دار کے خلاف عملا کوئی کاروائی نہیں کی گئی ،وزیر اعلی سندھ ،وزیر بلدیات اور قابض مئیر باتیں تو بہت کرتے ہیں لیکن کرتے کچھ نہیں، شرجیل میمن ہر دو ماہ بعد میڈیا پر ا ٓکر اعلان کرتے ہیں کہ ریڈ لائن پروجیکٹ مکمل ہونے والا ہے لیکن 20 کلومیٹر سے زائد سڑک کھود کر رکھ دی گئی ہے اور یونیورسٹی پر سفر عوام کے لیے ایک عذاب بن چکا ہے لیکن یہ منصوبہ مکمل ہوتا نظر نہیں آرہا۔
    منعم ظفر خان نے کہا ہے کہ کراچی کے ساتھ ہمیشہ زیادتی اور حق تلفی کی گئی ہے ،کراچی 42 فیصد ٹیکس ادا کرتا ہے قومی خزانے میں 67 فیصد اور صوبہ سندھ کے بجٹ کا 96 فیصد حصہ کراچی فراہم کرتا ہے لیکن کراچی کو اس حساب سے عملا کچھ نہیں کچھ نہیں دیا جاتا،شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ حال ہے اور کراچی کے عوام تاجر اور صنعت کار سب پریشان ہیں ۔جماعت اسلامی کے 9ٹاؤن چیئرمین سندھ حکومت کے دیے گئے اختیارات وسائل سے بڑھ کر کام کر رہے ہیں اور وہ کام بھی کروا رہے ہیں جو کہ ایم سی کی ذمہ داری ہے ۔
    ہمارے ٹاؤن چیئرمینوں نے اپنے بجٹ سے سرکاری ملازمین کے واجبات کی ادائیگی کو ممکن بنایا ،کے ایم سی کی ذمہ داری ہے کہ بارش کے فوری بعد جراثیم کش اسپرے کرائے ، کے ایم سی کے پاس گاڑیاں ،عملہ اور وسائل موجود ہیں ،شہر میں بیماریاں پھیل رہی ہیں لیکن کے ایم سی مجرمانہ غفلت و لاپرواہی کا مظاہرہ کررہی ہے ۔جماعت اسلامی نے الخدمت کے تعاون سے ٹاؤن کی سطح پر بلاتخصیص پورے شہر میں جراثیم کش اسپرے مہم شروع کی ہے اور ہم تمام ٹاؤنز میں فیومیگیشن کرائیں گے ۔
    منعم ظفر خان نے کہاکہ کراچی کے عوام کی بڑی بدقسمتی ہے کہ 19سال سے کے فور کا منصوبہ نا مکمل ہے ،نعمت اللہ خان ایڈوکیٹ نے اپنے دور میں کے تھری پروجیکٹ مکمل کیا اور کے فور شروع کیا لیکن ان کے بعد آنے والی کسی حکومت نے اسے مکمل نہیں کیا ۔سیف الدین ایڈوکیٹ نے کہاکہ بلدیاتی نظام اور اختیارات کی منتقلی کے حوالے سے میڈیا اپنا کردار اداکرے کیونکہ دنیا بھر کے ملکوں میں شہروںکو اختیارات اور وسائل دیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں تعمیر و ترقی کے کام ہوتے ہیںاور مسائل حل ہوئے ہیں۔
    2001 میں بلدیاتی اداروں کو اختیارات دیے گئے جس کے نتیجے میں تعمیر و ترقی کے کام کیے گئے لیکن موجودہ بلدیاتی قانون بدنیتی پر مبنی ہے۔ بلدیاتی قوانین میں ابہام پایا جاتا ہے اوریونین کمیٹی کے پاس صفر اختیارات ہیں۔ سندھ حکومت نے سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے تحت کوڑا اٹھانے کا نظام بنادیا جس میں یونین کمیٹی اور ٹاؤن چیئرمینز کے پاس کوئی اختیارات نہیں ہے۔
    پورا نظام بدنیتی پر مبنی ہے ۔ٹاؤن کے ایکسین کے پاس صرف 3 لاکھ روپے کی پاور ہے۔ شہر کے وہ تمام ادارے جو سروسز فراہم کرنے والے ہیں ان سب پر سندھ حکومت نے قبضہ کرلیا ہے جس میں صرف اور صرف کرپشن کی جارہی ہے۔ کراچی بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی سندھ حکومت ،سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی میں تبدیل کرچکی ہے ،ماسٹر پلان ڈیپارٹمنٹ کو بھی سندھ ماسٹر پلان اتھارٹی میں تبدیل کردیا گیا۔
    اندرون سندھ سے کرپٹ اور نااہل افسران بھارتی کردیے ہیں جو صرف اور صرف مال کمانے میں مصروف ہیں،وزیر بلدیات سعید غنی صرف اور صرف پوسٹنگ وٹرانسفر پر لگے ہوئے ہیں۔ وزارت بلدیات بدترین صورتحال پر ہے اور کرپشن کا اڈہ بنا ہوا ہے۔وزیر بلدیات سعید غنی کے بھائی زبردستی چیئرمین بنائے گئے ہیں جو اینٹی انکروچمنٹ کے ایم سی کے عملے کو اپنے علاقے میں آنے نہیں دیتے۔
    سعید غنی کے بھائی زبردستی پارکنگ کے پیسے جمع کرتے ہیں جس کا کے ایم سی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میگا پروجیکٹ اور کلک کے نام پر فنڈز فضول خرچ کیا جارہا ہے جس میں ٹاؤن چئیرمینز اور یونین کمیٹی کو اعتماد میں نہیں لیا جاتا۔ سسٹم کے نام پر ہر ادارے میں بدترین کرپشن کا نظام ہے۔ جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤنز کے علاؤہ باقی ٹاؤنز میں کوئی ڈویلپمنٹ کا کام نظر نہیں آرہا۔
    جماعت اسلامی کے منتخب نمائندے نہ خود کرپشن کرتے ہیں اور نہ کسی کو کرنے دیتے ہیں۔ کے ایم سی نے اربوں کھربوں روپے بغیر کسی ٹینڈر کے خرچ کردیے اور بل بنادیے گئے ہیں۔سسٹم کے نام پر کرپشن کا دھندا کراچی کو تباہ و برباد کردے گا۔آج تک سٹی کونسل کی کوئی کمیٹی نہیں بنائی گئی۔ سٹی کونسل میں کوئی بھی فیصلہ رائے شماری سے نہیں کیا جاتا۔کسی کو بولنے کی اجازت نہیں دی جاتی ،قابض مئیر آمرانہ سوچ کے تحت کام کررہے ہیں ۔

  • تنخواہوں کی عدم ادائیگی،جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹرز کا 3 دن کا الٹی میٹم

    تنخواہوں کی عدم ادائیگی،جناح ہسپتال کراچی کے ڈاکٹرز کا 3 دن کا الٹی میٹم

    جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹرز نے انتظامیہ و محکمہ صحت کو تین دن کا الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا ہے کہ تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں تو سروسز کا بائیکاٹ کریں گے۔

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق کے مطابق چار ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی پر جناح اسپتال کراچی کے ڈاکٹرز نے احتجاج کیا۔ڈاکٹرز نے انتظامیہ اور محکمہ صحت سندھ کو تین دن کا الٹی میٹم دے دیا اور کہا اگر بدھ تک تنخواہیں جاری نہیں کی گئیں تو اسپتال کی سروسز کا بائیکاٹ کریں گے۔
    مظاہرین نے کہا کہ ہمیں 4 ماہ سے تنخواہوں کی ادائیگی نہیں کی گئی، ہاؤس آفیسرز اور پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کو تنخواہیں نہیں دی گئی۔جناح اسپتال کے ینگ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ 4ماہ سے تنخواہیں نہیں مل رہی، سنگین ماہی بحران کا شکار ہیں گھر کے امور چلانا مشکل ہوگیا ہے، اس حوالے سے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کو صورتحال سے آگاہ کرچکے ہیں۔
    مظاہرین نے کہا اسپتال انتظامیہ مسائل حل کرنے کیلئے سنجیدہ نہیں ہے، دوپہر 12 بجے کے بعد او پی ڈی سروس بند کردیں گے۔ینگ ڈاکٹرز نے کہا کہ اسپتال میں آنیوالے مریضوں کے لئے ایکسرے ،الٹرا ساونڈ ،ایم آر آئی سمیت مختلف ٹیسٹ چیلنج بن چکے ہیں، مریضوں کواسپتال میں ادویات تک فراہم نہیں کی جاتیں، جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں بنیادی سہولتیں بھی نہیں۔

    پاک انڈونیشیا کے مابین گہرا رشتہ احترام اور اقدار پر مشتمل ہیں،گورنر سندھ