Baaghi TV

Tag: کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن

  • ای چالان قرارداد پر غلط فہمی، کے ایم سی کا وضاحتی بیان جاری

    ای چالان قرارداد پر غلط فہمی، کے ایم سی کا وضاحتی بیان جاری

    کراچی میں ٹریفک جرمانوں کے ای چالان سے متعلق قرارداد پر وضاحت دیتے ہوئے کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن (کے ایم سی) نے کہا ہے کہ حالیہ اجلاس میں قرارداد سے متعلق غلط فہمی پیدا ہوئی۔

    اعلامیے میں کہا گیا کہ قرارداد پر مناسب بحث یا غور و خوض نہیں کیا گیا اور انتظامی غلطی سے دستاویز پر دستخط ہو گئے، جسے منظور شدہ قرار دے دیا گیا۔کے ایم سی کے مطابق یہ قرارداد کونسل کے قواعد کے مطابق مطلوبہ کارروائی سے نہیں گزری تھی، اس لیے واضح کیا جاتا ہے کہ ٹریفک جرمانوں سے متعلق قرارداد تاحال منظور نہیں ہوئی۔ادارے نے بتایا کہ معاملہ آئندہ کونسل اجلاس میں باضابطہ طور پر دوبارہ پیش کیا جائے گا اور قواعد کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

    مرتضیٰ وہاب کو سندھ حکومت کے بجائے کراچی کے لیے کام کرنا چاہیے،اپوزیشن لیڈر

    دوسری جانب بلدیہ عظمیٰ کراچی میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ کے ترجمان نے موقف اختیار کیا کہ31 اکتوبر کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر نے قرارداد پیش کی تھی جس پر جماعت اسلامی، پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے گفتگو کی۔ترجمان نے کہا کہ مرتضیٰ وہاب کو سندھ حکومت کے بجائے کراچی کے لیے کام کرنا چاہیے.انہوں نے کہا کہ قرارداد کی اتفاقِ رائے سے منظوری کے بعد سندھ حکومت بوکھلاہٹ کا شکار ہے، سٹی کونسل کی کوئی قرارداد واپس نہیں لی جا سکتی، جبکہ "غلطی سے دستخط” کی اصطلاح پہلی بار سننے میں آئی ہے۔

    امریکا میں شٹ ڈاؤن، پروازوں میں تاخیر، کنٹرولرز بغیر تنخواہ کے کام کرنے پر مجبور

    تربت کے نواحی علاقے سے 4 نوجوانوں کی لاشیں برآمد

    روسی حملوں سے کیف تاریکی میں ڈوب گیا، 60 ہزار افراد بجلی سے محروم

  • کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے ٹیکسوں میں 100 فیصد اضافہ کردیا

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے ٹیکسوں میں 100 فیصد اضافہ کردیا

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن نے بجلی کے بلوں کے ذریعے وصول کیے جانےو الے میونسپل یوٹیلیٹی چارجز اینڈ ٹیکس (ایم یو سی ٹی) میں اس کے نفاذ کے صرف 8 ماہ بعد 100 فیصد تک اضافہ کرنے پر غور کیا ہے .

    باغی ٹی وی کے مطابق 21 اپریل کو ہونے والے اجلاس کے لیے کے ایم سی کی جانب سے جاری کیے گئے 6 نکاتی ایجنڈے میں کہا گیا ہے کہ سٹی کونسل ایم یو سی ٹی میں اضافے کے لیے ایوان سے منظوری طلب کرے گی اور اسے بجلی کی کھپت سے منسلک کرنے کے لیے نظر ثانی شدہ ڈھانچے کی تجویز پیش کرے گی مجوزہ منصوبے کے مطابق 50 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو میونسپل چارجز کی ادائیگی سے استثنیٰ دیا جائے گا تاہم 51 سے 200 یونٹ استعمال کرنے والوں کو 50 روپے میونسپل چارجز کا سامنا کرنا پڑے گا جو کہ گزشتہ نرخوں سے 30 روپے زیادہ ہے.

    کے ایم سی نے اگست 2024 میں ایم یو سی ٹی کو باضابطہ طور پر نافذ کیا تھا اور کے الیکٹرک کے بلوں کے ذریعے ٹیکس کی وصولی شروع کردی تھی کے ایم سی اور پاور یوٹیلٹی دونوں نے اصل میں جون 2022 میں ایک معاہدے پر دستخط کیے تھے جو آخر کار سٹی کونسل کی جانب سے چارجز کی وصولی کی منظوری کے بعد جولائی سے نافذ العمل ہوگیا تھا معاہدے کے مطابق کے الیکٹرک کے ایم سی کے دائرہ اختیار میں رہنے والے اپنے گھریلو اور غیر گھریلو صارفین سے بجلی کے ماہانہ بلوں کے ذریعے ایم یو سی ٹی وصول کر رہا ہے صارفین سے کیٹیگری کے مطابق فیس وصول کی جارہی ہے جس کا نوٹیفکیشن کے ایم سی نے جاری کیا تھا.

    201 سے 300 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کو 50 روپے اضافے کے بعد 100 روپے ادا کرنا ہوں گے اسی طرح 301 سے 400 یونٹ استعمال کرنے والوں سے 100 روپے اضافے کے بعد 200 روپے وصول کیے جائیں گے 401 سے 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کے لیے چارجز 100 روپے اضافے سے مجموعی طور پر 225 روپے ہوں گے، 501 سے 600 یونٹ کی کیٹیگری میں 125 روپے اضافے کے بعد فیس 275 روپے ہو جائے گی تجویز میں 601 سے 700 یونٹ استعمال کرنے والوں کے لیے بھی اضافہ شامل ہے جو 125 روپے اضافے کے بعد 300 روپے ادا کریں گے، 700 یونٹ سے زائد بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو 450 روپے اضافے کا سامنا کرنا پڑے گا جس کے بعد ان کے کل میونسپل چارجز 750 روپے تک پہنچ جائیں گے.

    تجویز میں رہائشی صارفین کے علاوہ مختلف کیٹیگریز کے لیے فکسڈ میونسپل چارجز کا خاکہ پیش کیا گیا ہے جن میں جنرل سروسز کے لیے 600 روپے، کمرشل صارفین کے لیے 550 روپے اور صنعتی صارفین کے لیے 750 روپے شامل ہیں اس تجویز پر سٹی کونسل میں حزب اختلاف کی جانب سے شدید رد عمل سامنے آیا ہے جس کا دعویٰ ہے کہ ایم یو سی ٹی کے بارے میں اس کا سابقہ انتباہ اب درست ثابت ہو رہا ہے .
    سٹی کونسل میں اپوزیشن لیڈر سیف الدین ایڈووکیٹ نے کہا کہ ایم یو سی ٹی پر ہمارا موقف ہمیشہ واضح رہا ہے.

    انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی اس معاملے کو عدالت میں لے جا رہے ہیں شروع سے ہی ہم نے کراچی کے عوام اور عدلیہ کو متنبہ کیا کہ ایم یو سی ٹی سلیب سسٹم ایک دھوکہ دہی کے ہتھکنڈے سے زیادہ کچھ نہیں ہے جو بالآخر چارجز میں اضافے کا باعث بنے گا بدقسمتی سے، ہمارے خدشات اب حقیقت بن رہے ہیں انہوں نے کہا کہ کراچی کے عوام پہلے ہی متعدد وفاقی اور صوبائی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں اور بدلے میں انہیں کیا ملتا ہے؟ ٹوٹا ہوا انفراسٹرکچر، پانی اور نکاسی آب کا ناکارہ نظام اور ویسٹ منیجمنٹ کا نظام نہ ہونے کے برابر ہے ہم واضح طور پر اس تجویز کو مسترد کرتے ہیں اور آئندہ سٹی کونسل اجلاس میں اس کی سخت مخالفت کریں گے.

    کوئی حکومت پانچ سال میں اتنے گھر نہیں بنا سکی جتنے 5 ماہ میں بن چکے: مریم نواز

    ڈیجیٹل روزگار پروگرام صلاحیت بڑھاؤ "اپنا کماؤ” یکم مئی سے شروع کر رہے ہیں، تابش قیوم

  • کے ایم سی کی تمام پارکنگ مفت کرنے کا فیصلہ

    کے ایم سی کی تمام پارکنگ مفت کرنے کا فیصلہ

    کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کی تمام پارکنگ سائٹس مفت کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

    باغی ٹی وی کو اس حوالے سے میئر کراچی بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے بتایا کہ یہ فیصلہ عوامی مفاد میں کیا گیا، کے ایم سی کی پارکنگ سائٹس سے اب کوئی فیس وصول نہیں کی جائے گی اور یہ فیصلہ جلد کیا جائے گا۔میئر کراچی نے کہا کہ کراچی کی 106 مرکزی سڑکوں پر قائم 46 پارکنگ سائٹس پر فیس نہیں لی جائے گی جبکہ 25 ٹاؤنز اور 6 کنٹونمنٹ بورڈز میں پارکنگ فیس برقرار رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ نوٹیفکیشن جاری کرکے شہریوں پر پارکنگ فیس کا بوجھ ختم کر دیا جائے گا، کے ایم سی کے نام پر غیرقانونی پیسے وصول کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کے ایم سی اب اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی ہے، کے ایم سی کے اکاؤنٹ میں 2 ارب روپے سے زائد موجود ہیں۔

    سندھ حکومت کا 30اضلاع میں سندھ پنک گیمزکرانے کا اعلان

    نیوزی لینڈ کے کھلاڑی رویندرا جنوبی افریقا کیخلاف میچ سے باہر

    ٹرمپ،پیوٹن ٹیلیفونک رابطہ، یوکرین جنگ خاتمے پر آمادگی