Baaghi TV

Tag: کراچی پورٹ

  • کراچی بندرگاہ پر پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

    کراچی بندرگاہ پر پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں پہنچ گئیں

    وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی کاوشیں رنگ لے آئیں،پاکستان کی پہلی رورو شپمنٹ سے 2 ہزار سے زائد الیکٹرک گاڑیاں کراچی پہنچ گئیں-

    وزارتِ بحری امور کے مطابق، الیکٹرک گاڑیوں سے لدا ہوا مخصوص بحری جہاز ‘ایم وی گرینڈے شنگھائی’ کراچی پورٹ کے کے جی ٹی ایم ایل ٹرمینل پر کامیابی سے لنگرانداز ہو گیا ہے۔

    اس تاریخی موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ بحری امور جنید انوار چوہدری نے کہا کہ رورو (Ro-Ro) جہاز کے ذریعے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پاکستان کی بحری اور تجارتی تاریخ میں ایک انقلابی قدم ہے کراچی پورٹ پر پہلی رورو ای وی شپمنٹ کا پہنچنا ہماری بحری تجارت کی ترقی اور جدید خطوط پر استواری کی واضح دلیل ہےرورو جہاز کے ذریعے پہلی بار الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد تاریخی سنگ میل ہے –

    انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ رورو (Roll-on/Roll-off) ایسے جدید ترین بحری جہاز ہوتے ہیں جن پر گاڑیوں کو روایتی کرینوں کے ذریعے اٹھانے کے بجائے ریمپ کی مدد سے براہِ راست چلا کر لوڈ اور ان لوڈ کیا جاتا ہے اس ٹیکنالوجی سے نہ صرف وقت کی بڑی بچت ہوتی ہے بلکہ قیمتی گاڑیوں کے محفوظ ترین طریقے سے بندرگاہ پر اترنے کی ضمانت بھی ملتی ہے۔

    وفاقی وزیر نے عزم کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومت بندرگاہوں کو جدید ترین سہولیات سے آراستہ کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے ان جدید سفارتی و تجارتی کوششوں سے پاکستان کی مجموعی تجارتی صلاحیت مزید مستحکم ہوگی اور کراچی پورٹ دنیا بھر کے جدید ترین شپنگ نیٹ ورک کا اہم مرکز بن کر ابھرے گا۔

  • کراچی پورٹ نے 8 سال کے بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کرلیا

    کراچی پورٹ نے 8 سال کے بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کرلیا

    وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری نے بتایا ہے کہ کراچی پورٹ نے 8 سال بعد 2 ہزار جہازوں کی آمد کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔

    وفاقی وزیر بحری امورجنید انوار چوہدری نے کہا کہ ایک سال کے دوران کراچی پورٹ پر مجموعی طور پر 2 ہزار 3 جہاز لنگر انداز ہوئے، جو بندرگاہ کی سرگرمیوں میں نمایاں اضافے کی عکاسی کرتا ہے کراچی پورٹ پر جہازوں کی آمد میں گزشتہ سال کے مقابلے 7.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بندرگاہ پر آنے والے جہازوں کا مجموعی ٹنیج 8 کروڑ 44 لاکھ ٹن سے تجاوز کر گیا، جبکہ گراس رجسٹرڈ ٹنیج میں بھی 3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے بحری تجارت میں یہ اضافہ ملکی معیشت کے لیے ایک مثبت اشارہ ہے اور اس سے تجارتی سرگرمیوں کے فروغ کی عکاسی ہوتی ہے –

    دوسری جانب چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ شاہد احد نے اس کامیابی کو شپنگ سرگرمیوں اور آپریشنل کارکردگی میں بہتری کا نتیجہ قرار دیا انہوں نے کہا کہ بہتر انتظامی اقدامات اور بندرگاہی آپریشنز میں بہتری کے باعث کراچی پورٹ یہ تاریخی کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی ہے 1887 میں قائم ہونے والا کراچی پورٹ آج بھی ملک کا سب سے اہم بحری تجارتی گیٹ وے ہے اور قومی و بین الاقوامی تجارتی سرگرمیوں میں مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔

  • کراچی بندرگاہ پر پھنسے پرانے کنٹینرز ہٹانے کے لیے 30 دن کی مہلت

    کراچی بندرگاہ پر پھنسے پرانے کنٹینرز ہٹانے کے لیے 30 دن کی مہلت

    کراچی بندرگاہ پر پھنسے ہوئے پرانے کنٹینرز ہٹانے کے لیے 30 دن کی مہلت دے دی گئی۔

    وفاقی وزیر بحری امور جنید انوار چوہدری کی زیرصدارت کراچی بندر گاہ پر پھنسے پرانے کنٹینرز سے متعلق اہم اجلاس ہوا، اجلاس میں وفاقی وزیر نے کہا کہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر بندرگاہوں پر ٹرانس شپمنٹ کارگو میں اضافہ ہوا ہے بندرگاہوں پر رش کم کرنے کے لیے جامع حکمت عملی ناگزیر قرار ہے۔

    انہوں نے کنٹینرز کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کے پی ٹی اور ٹرمینل آپریٹرز سے شفٹنگ پلان بھی طلب کرلیا کہا کہ آف ڈاک ٹرمینلز پر کارگو منتقلی کے لیے واضح کمرشل میکنزم بنائیں گے انہوں نے آف ڈاک سہولیات اور ٹرانس شپمنٹ کارگو کا مکمل ریکارڈ رکھنے کی ہدایت بھی جاری کی، جنید انوار چوہدری نے کہا کہ اضافی سامان، لکڑی کے پیلیٹس اور غیر استعمال شدہ آلات جلد ہٹائے جائیں ان اقدامات سے بندرگاہوں پر رش کم، تجارت میں آسانی اور لاجسٹکس نظام بہتر ہوگا۔

  • غیرملکی کمپنی کی کراچی پورٹس پر ڈھائی کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری

    غیرملکی کمپنی کی کراچی پورٹس پر ڈھائی کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری

    ڈنمارک کی کمپنی نے کراچی پورٹ اور پورٹ قاسم پر آف ڈاک ٹرمینل میں ڈھائی کروڑ ڈالرز کی سرمایہ کاری کی ہے۔

    باغی ٹی وی کے مطابق ڈنمارک کی کمپنی کے پاکستان میں سی ای او عاصم سعید نے کہا ہے کہ ڈینش کمپنی ڈیزل اور پیٹرول کے بغیر چلنے والا پہلا ٹرمنل بنا رہی ہے۔عاصم سعید نے کہا ہے کہ دونوں ٹرمنل 100 فیصد سولر بجلی اور الیکٹرک لفٹرز سے چلیں گے، ایس آئی ایف سی کے تعاون سے لائسنس ملا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اس حوالے سے رواں ماہ کام شروع کریں گے۔عاصم سعید نے یہ بھی بتایا ہے کہ جلد کسٹمز کلیئرنس اور کنٹینرز رکھنے کی معیاد میں لچک دکھائیں گے۔ واضح رہے کہ وفاقی وزیر بحری امور قیصراحمد شیخ کا کہناہے کہ ڈنمارک کے ساتھ میری ٹائم سیکٹر میں 2ارب ڈالرز سرمایہ کاری کا معاہدہ آئندہ ایک دو روز میں متوقع ہے۔ وفاقی وزیر بحری امور قیصراحمد شیخ سے پیر کو ڈنمارک کے وزیر خارجہ کے دورہ پاکستان سے قبل ڈنمارک کی شپنگ کمپنی میرسک لائن کے سینئرحکام نے اہم ملاقات کی۔ وفاقی وزیر نے میرسک لائن کے حکام سے کہاکہ ملک کے بحری شعبے میں 2 ارب ڈالر ز(5 کھرب 55ارب روپے )کی تاریخی سرمایہ کاری آنا بڑی کامیابی ہے۔

    جمعیت کے وفد کی مرکزی مسلم لیگ کے دفتر آمد، فیصل ندیم سے ملاقات